2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:200

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب حج کے کام پورے کر چکو تو جس طرح ( جاہلیت کے زمانہ میں) اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے تھے اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ اللہ کی یاد کرو11 تو بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے پروردگار ہمارے ہم کو جو دینا ہے ہی میں دے دے ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہ رہا

ف 11 اسلام سے پہلے اہل عرب لوگ حج سے فارغ ہوتے تو منی میں میلہ لگاتے اور اپنے آباؤ اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس طرح ذکر الہی کیا کرو۔ (شوکانی)
Ayahs 2:201–202

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے پروردگار ہمارے ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن ان کی کمائی میں سے کچھ حصہ ملے گا اور اللہ بہت جلد حساب لیتے والا ہے1

ف 1 (یعنی بہت جلد اور لامحاسبہ ہونے ولا ہے) ذکر الی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ایک وہ صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخروی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے۔ (دیکھئے الشوری آیت 20) اور دوسرے وہ جو دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں۔ اصل کامیابی انہی لوگوں کی ہے۔ (رازی۔ شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں صحت، دسعت رزق، علم دین اور عبادت الہی کی توفیق۔ الغرض سب نیک اعمال شام ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات جنت اور رضا الہی کا حصول حساب میں آسانی وغیرہ داخل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نماز اور عام اوقات میں بھی یہ دعا بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ فر الجملہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے متعدد احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین یہ دعا مسنون ہے (ابن کثیر۔ روح المعانی)
Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

ور اگر گنتی کے چند دنوں میں اللہ کی یاد کرو2 پھر جو شخص جلدی کر کے دو ہی دن میں ( منا سے) چل دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو تیرہ تاریخ تک ٹھہرا رہے اس پر کچھ بھی گناہ نہیں بشر طی کہ پرہیز گار ہو3 اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو اور کہ تم اس کے پاس قیامت کے دن اکٹھا ہو گے

ان ایام سے ایام تشریق یعنی 11 ۔ 12 ۔ 13، ذی الحجہ کے دن مراد ہیں ان ایام میں ذکر الہی یہ ہے کہ رمی کے وقت ہر کنکر کے ساتھ بآواز بلند تکبیر کہی جائے۔ نیر عام اوقات خصو صافرض نماوں کے بعد تکبیرات اور ذکر الہی میں مشغول رہا جائے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنے خیمہ میں اور چلتے پھر تے اور نما زوں کے بعد بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے۔ ، حدیث میں ہے۔ ایاما التشریق ایام اکل وشرب وذکر اللہ۔ کہ تشریق کے دن کھا نے پینے اور ذکر الہی کے دن میں تکبیر ات کی ابتدا اور انتہا میں گو اختلاف ہے مگر صحیح یہ ہے کہ عرفہ کے دن صبح کی نماز سے شروع کی جائیں اور تشریق کے آخری دن یعنی 13 تاریخ کا نماز عصرتک تیئس نمازوں کے بعد کہی جاتیں۔ یہی مسلک اکا بر صحابہ کا ہے اور حدیث سے بھی مرفوعا ثابت ہے ارتکبیر کے الفاظ یہ ہیں اللہ اکبر (تین مرتبہ) کہ کر پھر کہے الا لہ اللہ الا للہ واللہ اکبر اللہ اکبر واللہ الحمد (اللہ تعالیٰ ہی بڑا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے کے لیے تعریف ہے۔ (فتح البیان، رازی) نیز دیکھئے سورت الحج آیت 28)3 یعنی گیا رہ اور بارہ کو دو دن میں رمی حجار بھی جائز ہے اور اگر تا خیر کرے یعنی پورے تین دن منی میں ٹھہر ارہے تو بھی جائز ہے بشرطیکہ انسان کے دل میں تقوی ہو اور جملہ مناسک حج خلوص سے ادا کرے۔ (ابن کثیر )
Ayahs 2:204–206

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

بعضا آدمی ایسا ہے جس کی باتیں تجھ کو دنیا کی زندگی میں بھلی لگتی ہیں اور وہ اپنے دل کی سچائی اللہ کو گواہ کرتا ہے حقیقت میں وہ سخت جھگڑ الو ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

جب جب لوٹ کرجاتا ہے ( یا اس کو حکومت ملتی ہے تو زمین میں دھند مچانے کی کوشش کرتا ہے ( یعینی فساد کرنے کی) او کھیتیاں اور جانیں بر باد کرتا ہے اور اللہ فساد کر پسند نہیں کرتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہو خدا سے ڈر تو شیخی میں آکر اور گناہ گرے تو جہنم اس کے لیے بس ہے اور وہ بیشک برا مقام ہے4

ف 4 اوپر کی آیتوں میں جمن الناس سے لے کردو قسم کے لوگ ذکر کیے یعنی طالب دنیا اور طالب آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں چند ایسے چالباز لوگ تھے ان آیات میں ان کی صفات بیان فرماک ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (اقرطبی۔ فتح اقدیر) علماء تفیسر کے بیان کے مطابق یہ آیت گو اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر اپنے معنی کے اعتبار سے ہر اس شخص کو شامل ہے جو ان صفات خمسہ کے ساتھ متصف ہو۔ (رازی) الدالخصام (سخت جھگڑالو) ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا وہ شخص ہے جو بخٹ جھگڑالو ہو۔ ( فتح البیان بحوالہ صحیح بخاری) اور حدیث میں ہے کہ منافق آدمی جب جھگڑا تا ہے تو بد کلامی پر اترآتا ہے۔ اخذتہ العذہ بلا ثم۔ ( تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑے گناہوں میں داخل ہے کہ جب اس کہا جائے اللہ تعا سے ڈرر تو الٹا نصیحت کر والے کو ڈانٹ دے اور کہے تم ہوتے کون ہو نصحیت کرنے والے تم اپنی نبی ڑو۔ ( فتح القدیر) یعجبک قو لہ فی الحیوہ الد نیاء یعنی دنیاوی زندگی اور اسباب معاش کے بارے میں حیرت انگیز معلومات رکھنے ولا۔ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان واخلاص کا یقین دلانے والے۔ مگر عملا تخریبی کاروائیوں میں مشغول رہ کر لوگوں کے جان و مال کو تباہ کرنے والا فھدہ خستہ خصال۔ (المنار)
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

بعضا آدمی ایسا ہے جو اللہ کی راضی رکھنے کے لیے اپنی جان تک بیچ ڈالتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے5

ف 5 اوپر کی آیات میں اس شخص کا بیان ہوا ہے جو طلب دنیا کی خاطر دین و ایمان کو بیچ ڈالتا ہے۔ اب اس آتی میں اس شخص کا بیان ہے جو طلب دین کے لیے دنیا کو قربان کردیتا ہے۔ ( رازی) یہ آیت صہبیب عمار بلال اور دیگر صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو کفار نے سخت سزائیں دیں مگر وہ اسلام و ایمان پر ثابت قدم رہے، حضرت صہیب ؓ کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ ہجرت کرنے لگے تو مشرکین نے کہا کہ تم اپنا مال لے کر نہیں جاسکتے چناچہ وہ سارا مال ومتاع چھوڑ کر مدینہ چلے آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آنحضرت ﷺ نے فرمایا صہیب ؓ کو سودے میں نفع ہوا ہے۔ (ابن کثیر۔ رازی )
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مسلمانو پوری مسلمانی میں آجاؤ یا سب مسلمان مسلمان مل کر ایک ہوجاؤ6 اور شیطان کے راہوں پر مت چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

ف 6 مومن مخلص کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو۔ اس آتی کا نزر ان اہل کتاب کے بارے میں ہوا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد بھی خود ساختہ بد عات اومحد ثات پر عمل پیرا رہنا چاہتے تھے۔ (شوکانی۔ ترجمان) ان کو متنبہ کیا کہ اسلام قبول کرلینے کے بع اب زندگی کے دوسرے فلسفوں کو چھوڑ کر عقائد و اعمال اور اخلاق و معاشرت کے باب میں السلم یعنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا پڑے گا اور اس سے کسی طور انحراف بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ گمراہی کا سر چشمہ یا تو روشن خیالی اور جدت پسندی ہے اور یا پھر توہم پرستی اور اہل تصوف کی بد عات ہیں۔
Ayahs 2:209–210

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

اور اگر کھلی نشانیا آنے کے بعد بھی تم پھسل جاؤ ( اور شیطان کے پھندے میں پھنس جاؤ) تو سمجھ رکھو بع شک اللہ تعالیٰ زبر دست ہے حکمت والا

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے چھتر لگائے ہوئے فرشتو کو ساتھ لیے ہوئے ان کے پاس آجائے اور جو ہونا ہے وہ ہوجائے اور سب کام اللہ ہی کے سامنے پیش ہوں گے1

ف 1 رجز وتہدید ہے یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی تاکہ جو کچھ قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی ہوجائے۔ (قرطبی) قیامت کے دن مذکورہ صورت میں اللہ تعالیٰ کا نزول احادیث سے ثابت ہوتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفات و افعال اور شوؤن کی طرح اس پر بھی بلا کیف اور بغیر تاویل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ سلف صالح کا یہی مسلک ہے متکلمین اور عقل پر ستوں کی تاویلات مذہب اہل حدیث اور سلف امت کے خلاف میں۔ (روح۔ ترجمان) اور بقول اما رازی اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس آیت میں یہود کے عقیدہ کی حکایت اور ان کے خیال کی ترجمانی ہے قطع نظر اس سے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے یا صحیح اور یہود چونکہ تشبیہ کے قائل تھے لہذا آیت سے اپنے ظاہر معنی پر محمول ہے اور تاویل کی ضرورت نہیں تو بالکل بجا ہے۔ (کبیر)
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

( اے پیغمبر بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمت پہنچ جا نے کے بعد بدل ڈالے تو اللہ کا عذاب سخت ہے2

ف 2 یہ سوال بطور زجر توبخ ہے اور توجہ دلائی ہے کہ مسلمانوں کا چاہیے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ سے عبرت حاصل کریں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اودوسرے انبیاء کے ذریعہ ان کے پاس کس قدر دلائل بھیجے گئے لیکن وہ ان دلائل وآیات سے ہدایت اور راہ نجات حاصل کرنے کی بجائے ان میں تحریف و تاویل کر کے ضلالت و ہلاکت میں پڑگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں دنیا میں بھی سزا ملی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے گے۔ (رازی۔ ابن کثیر)
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

کافروں کو دنیا زندگی بھلی معلوم ہوتی ہے اور مسلمانوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں اور جو لوگ شرک سے بچے ہیں ( یعنی مسلمان) وہ قیامت کے دن ان کے اوپر ہوں گے اور اللہ جس کا چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے3

ف 3 یعنی ان کے اعراض اوکفر کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے چند روز عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں بد مست ہو کر رہ گئے ہیں اور اہل حق کی تذلیل اور ان کی سادہ زندگی مذاق اڑانے کو انہوں ن مشغلہ بنا رکھا ہے مگر قیامت کے دن اہل تقوی ہر اعتبار سے ان پر فائق ہوں گے کیونکہ مومن علی علیین میں ہوں گے اور کفار اسفل السافلین میں۔ بیضاوی) جنت میں رزق کا بغیر حساب ہونا یا تو دائمی اور غیر فانی ہونے کے اعتبار سے ہے۔ (دیکھئے ہود آیت 108) یا اس اعتبار سے کہ انہیں مزید اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نوازا جائے گا۔ (دیکھئے غافر آیت :40) لہذا یہ عطاء حسابا ( النساء 36) کے منافی نہیں ہے۔ رازی)
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

( پہلے لوگ ایک ہی طریق ( دین پر تھے پھر لگے اختلاف کرنے تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا مومنوں کو) خو شخبری سناتے ہوئے اور کافروں اور بدکاروں کو ڈراتے ہوئے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری اس لیے کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہیں ان کا فیصلہ کر دے4 اور صاٖف صاف حکم پہنچنے کے بعد آپس کی ضد سے لوگوں نے اختلاف کیا جن کو یہ کتاب مٹانے اور دور کرنے کے لے دی گئی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے ایمان ولوں کو ان باتوں میں جن کو یہ کتاب ( اختلاف مٹانے اور دور کرنے کے لیے دی گئی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رحم سے ایمان والوں کو ان با توں میں جن میں وہ اختلاف کر رہے تھے سچی بات کی راہ بتلادی اور اللہ جس کو چاہتا ہے سچی راہ بتلاتا ہے1

ف 4 اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسان یت کی ابتدا کفرو شرک اور بظاہر پرستی سے نہیں بلکہ خالص دین توحید سے ہوتی ہے ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حسب تصریح ابن عباس دس قرنوں (ایک ہزار سال) تک تمام لوگ موجود تھے اس کے بعد شیطان کے بیکانے ان میں شرک آیا اور اختلاف پیدا ہوئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الہی کی طرف لایا جائے پس آیت میں فبعث اللہ الخ۔ ا کا عطف مخذف پر ہے یعنی فاختلفو افبعث اللہ۔ (کبی ابن جریر دیکھئے سورت یو نس آیت 19 ۔ ) 1 یعنی پہلی امتوں میں ضد اور سرکشی کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوئے اور اس کی بدولت وہ گمراہو گئیں اب اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بھیج کر اور ان پر اپنی آخری کتاب نازل فرماکر تما اختلاف کا فیصلہ کردیا اور اپنی توفیق خاص (باذنہ) سے مومنوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کردی ہے ( بیضاوی۔ فتح البیان) واضح رہے کہ امت محمد یہ میں بھی تمام کے تمام قرآن و حدیث کی بلا واسطہ اتباع کرتے رہے پھر جب دین میں غلط رائے کے خام اجتہاد اور تقلید پر جمود پیداہو گیا لوگ آراء اور اہوا پرستی کو دین سمجھنے لگ گئے تو امتفرقوں میں بٹ کر تباہ ہوگئی۔ اس سے صرف متبع سلف (اہل حدیث) ہی محفوظ رہے۔ (للہ الحمد) ، ( تبصرہ) صحیحین میں برایت حضرت عائشہ ؓ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ تہجد میں دعا استفتاح میں یہ پڑھا کرتے۔ اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک تھدی من تشآء الی صراط مستقیم ( ابن کثیر)
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

( مسلمانوں کیا تم سمجھتے ہو ہو بےکھٹکے او بےتکلیف اٹھائے جنت میں چل دو گے اور ابھی تک تو تمہاری وہ حالت نہیں ہوئی جو اگلے لوگوں کی ہوئی تھی مصیبت اور تکلیف ان کو لگ گئی ( یعنی مفلسی اور بیماری نے گھیر لیا) اور اس درجہ تک جھڑجھڑائے گئے کہ ج خو پیغمبر اور ان کے ساتھ کے ایمان والے گھبرا کر بول اٹھے اللہ کی مدد کب آئے گی سن لو اللہ کی مدد نزدیک ہے2

ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو (مشرکین منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (رازی) اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصائب وشدائد کچھ تم پر ہی نہیں آرہے ہیں بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقرفاقہ۔ جانی ومالی نقصان اور سخت قسم کے خوف وہراس میں مبتا کردیے گئے تھے حتی کہ الرسول یعنی اس زمانے کا پیغمبر) اور اس کے متبعین متی نصر اللہ) پکار اٹھے تھے پھر جیسے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمہاری بھی مدد کی جائے گی۔ چناچہ غزؤہ احراب میں جب یہ مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ (دیکھئے سورت احرزاب آیت 10 تا 20) ان کا متی نصر اللہ " کہنا اعتراض و شکوہ کے طور پر نہ تھا بلکہ عالم اضطرار میں الحاح وزاری کی ایک کیفیت کا اظہار تھا اور نصر اللہ قریب فرماکر مومنوں کو بشارت دی ہے، (رازی، ابن کثیر) حضرت خباب بن ارت سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : پہلے لوگوں کے سروں پر آرہ چلا کر ان کو چیر دیا گیا اور لوہے کی کنگھی سے ان کے گوشت اور پوست کر نوچا گیا مگر یہ چیز ان کو دین سے نہ پھیر سکی۔ (بخاری )
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

( اے پیمبر لوگ تجھ سے پو چھتے ہیں کیا خرچ کریں اور کن لوگوں پر خرچ کریں تو کہ دے جو کچھ خیر خیرات کے طور پر تم خرچ کرو تو ماں باپ اور ناتے والوں اور یتمیوں اور محتاجوں اور مسافروں پر اور جو بھلائی تم کرو اللہ اس کو جانتا ہے3

ف 3 ایک شخص عمر و بن جمبوح بہت مالدار تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کن لوگوں پر خرز کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا کہ خرچ تو ہر آدمی اپنی طاقت کے مطابق کرے مگر ترتیب کے ساتھ خرچ کے مصارف بتا دیئے۔ میمون مہران اس آیت کو پڑھ کر کہنے لگے یہ ہیں مسلمان کے خرچ کرنے کی جگہیں۔ ان میں طلبہ۔ سارنگی۔ ، چوبی تصویروں اور گھر کی آرائش کا ذکر نہیں ہے ، (ابن کثیر، رازی) معلوم ہوا کہ اس قسم کے تمام فضول مصارف باطل اور اسراف میں داخل ہیں۔ آخر میں بتایا کہ جو خرچ نیک راہ میں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی قدر دانی ضرور فرمائے گا اور اس کا پورا بدلہ دے گا۔ مسئلہ آیت میں صدقہ تطوع کا بیان ہے ورنہ ماں باپ کو زکوہ دینا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے سورت توبہ آیت 60)
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

( مسلمانو) تم پر کافروں سے لڑ نا (جہاد فرض کیا گیا اور وہ تم کو برا لگے اور ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو بری لیکن وہ تمہاری حق میں بہتر ہو اور ایک چیز تم کو بھلی لگے لیکن وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے4

ف 4 آیت میں اتصتال سے مراد قتل نوع انسانی نہیں بلکہ جہاد ہے اور اسلام میں جہاد سے مقصود اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلندی کرنا کفر وشرک کی بیخ کنی کرنا اور مسلمانوں کی کفار کے شر سے بجانا ہے اور امت مسلمہ پر یہ فریضہ قیامت تک عائد رہے گا، حدیث میں ہے کہ میری امت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی یہاں تک کہ خیر امت دجال سے جنگ کردے گی اور فتح کے روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب فتح مکہ کے بعد مدینہ ہجرت کی ضرورت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ (ابن کثیر، وحیدی)
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

( سے پیمبر) تجھ سے ( مسلمان یا مشر ک) پو چھتے ہیں ماہ حرام میں لڑ نا کیسا ہے تو کہہ ماہ حرام میں لڑ نا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور خدا کو نہ ماننا ( یا حج اور عمرے کو) اور ادب والی مسجد سے روکنا وہاں کے لوگوں کو اس میں سے نکال دینا اس سے بھی بڑھ کر اللہ کے نزیک گنا ہے او دین کی خرابی کرنا قتل سے بھی زیادی ہے1 اور یہ کافرتو ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں کے اس غرض سے کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو تمہارے دین سے پھر الیں ( یعنی پھر کافربنالیں) اور جو کوئی تم میں اپنے دین (اسلام) سے پھرجائے اور کافر بن جائے) اور کفر ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کا کیا کرایا دنیا اور آخرت دونوں میں برباد2 اور وہ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

ف 1 ذوالقعدہ، ذولحجہ، محرم اور رجب، یہ چارمہینے حرمت والے ہیں۔ عہد جاہلیت سے ہی ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش کی سر کردی میں ایک دستہ فوج جہاد پر روانہ کیا۔ انہوں نے کافروں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا جس سے ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو ان کے مال سمیت گرفتار کر کے مدنیہ میں لے آئے۔ یہ واقعہ ماہ رجب میں پیش آیا کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کر کے اس کی حرمت کو توڑا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مارہ رجب میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی گناہ ہے مگر تم اس سے بھی برے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو ( جو آیت میں مذکور ہیں) لہذا اگر مسلمانوں نے تلوار اٹھالی ہے تو قابل مواخزہ نہیں۔ ، (ابن کثیر، شوکانی) شہر حرام میں لڑائی کی حرمت سورت برات کی آیت : فاقتلوا المشرکین الخ سے منسوخ ہوچکی ہے جمہو فقہا کا یہی مسلک ہے۔ (ابن العربی۔ الجصاص) قتال فیہ بدل اشتمال من الشھر الحرام وصد عطف علی کبیر والمسجد الحرام عطف علی سبیل اللہ واخرج اھلہ عطف علی صد واکبر عنداللہ خیر صدوماعبف علیلہ۔ ( شوکانی) یہاں الفتنہ سے مراد ہے مسلمانوں کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے ظلم وستم کا نشانہ بنانا۔2 اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص نعوذباللہ) مرتد ہوجائے تو اس کے تمام عمل ضائع ہوجاتے ہیں لیکن اگر پھر سچے دل سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلے تو ارتداد سے قبل کے اعمال ضائع نہیں جاتے بلکہ ان کا ثواب کا مل جاتا ہے۔ (فتح البیان )
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایما لائے اور اللہ کے لیے اپنا ملک چھوڑا ہجرت کی اور خدا کی راہ میں لڑے انہی کو الہ کی رحمت کی امید ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے3

ف 3 ہجرت کے معنی ہیں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ سکونت پذیر ہونا مگر اس ہجرت سے مراد ہے دارالکفر کو چھوڑ کر دارالاسلام میں چلے جانا۔ مفردات راغب) عبد اللہ بن جحش ؓ اور انکے ساتھیوں کے بارے میں جب گزشتہ آیت اتری اور وہ لوگ ڈرنے لگے کہ شاید ہمیں کوئی ثواب بھی نہ ملے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فتح البیان۔ ابن کثیر )
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

( اے پیمبر) مسلمان تجھ سے پوچھتے ہیں شراب پینا اور جوا کھیلنا کیسا ہے تو کہ ان دونوں چیزوں میں بڑا نقصان ہے اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کو مگر ان کا نقصان فائدے سے بڑھ کر ہے4 اور تجھ سے پوچھتے ہیں الہ کی راہ میں کتنا خرچ کریں تو کہہ جو بچ رہے5 اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے حکم تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت میں غور کرو6

ف 4 اس آیت میں گو شراب اور جوئے کی حرمت کی تصریح نہیں ہے مگر قطعی طور پر ان کی تحریم کے لیے تمہیدہ ضرور ہے۔ آخر کار سورت مائدہ آیت 9 ۔ 19) میں ان کو قطعی اور صاف طور پر " حرام کردیا گیا۔ (ابن کثیر) حدیث میں ہے : کل مسکر حرام (صحیحین) یعنی ہر نشہ آور چیز خمر ہے لہذا ہر نشہ آور شراب اس کے تحت حرام ہے خواہ وہ انگور سے کشید کی گئی ہو یا کسی اور چیز سے۔ اور احادیث میں شراب نوشی کی سخت مذمت آئی ہے اور پینے پلانے والوں کے علاوہ خریدو فروخت اور بنانے بنوانے اور حمالہ یعنی مزدوری کرنے والوں پر بھی لعنت کی گئی ہے۔ ابو داؤد) اور ایسے دسترخوان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا جس پر شراب موجود ہو۔ (ترغیب) اور میسر قمار (جوئے) کو کہتے ہیں اور آجکل پانسے لاٹری اور سٹے وغیرہ کے نام کسے جو کاروبار ہو رہے ہیں سب قماری بازی کے شعبے ہیں اور علمائے سلف نے جوئے اور شطرنج کو بھی قمار میں شامل کیا ہے۔ (ترجمان وحیدی) سلسلئہ بیان دیکھئے سورت مائدہ آیت 90)5 عفو سے مراد وہ مال ہے جو اہل عیال اور لازمی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد بچہ رہے اور جس کے خرچ کرنے کے بعد انسان خود اتنا محتاج نہ ہوجائے کہ دوسروں سے سوال کرنے لگے۔ حدیث میں ہے بہتر صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے ساتھ ہو اور تم پہلے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو (بخاری) یہ حکم زکوہ کے علاوہ نفلی صدقہ کا ہے اور حدیث میں ہے کہ مال میں زکوہ کے علا وہ بھی حق ہے (فتح القدیر)6 یعنی دنیا اور آخرت دونوں کی فکر رکھو مگر دنیا چند روزہ ہے اوآخرت ہمیشہ رہنے والی ہے لہذا بنیادی ضروریات کے بعد جو مال بچ رہے اس کا آخرت ہی کے لیے جمع کرنا بہتر ہے۔ کذافی حدیث۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

اور ( پیمبر) تجھ سے پوچھے ہیں یتیموں کے بارے میں تو کہہ ان کا سن وانا اچھا ہے اور اگر ان سے مل جل کر رہو (ایک ساتھ کھاؤ پیو رتو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے کو سنوارنا چاہتا ہے کون بگاڑنا اور اللہ چاہتا تو تم کو مشکل میں پھانس دیتا اور بالکل الگ رہنے کا حکم دیتا بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے1

ف 1 ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما۔ نازل ہوئی تو تو جو لوگ یتیموں کے کفیل تھے وہ بہت ڈر گئے اور ان کے کھانے پینے کا نتظام بھی الگ کردیا پھر بعض اوقات یتیم کے لیے تیار کی ہوئی چیز اس کے کام نہ آتی تو ضائع ہوجاتی اس طرح کئی مشکلات پیش آنے لگیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اصل یتیموں کی بہتری اور ان کے مال کی اصلاح ہے لہذا اگر ان کے اموال کو ساتھ ملانے میں ان کی بہتری ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر یہ یتیم بچے تمہارے بھائی ہیں اگر کبھی تم نے ان کا اور انہوں نے تمہارا کچھ کھا پی لیا تو بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان ایسا ہوتا ہی ہے اس پر لوگوں نے یتیموں کی کھانے پینے کی چیزوں کو پھر اپنے طعام و شراب کے ساتھ جمع کرلیا۔ (ابن جریر۔ ابن کثیر) نیز دیکھئے۔ (سورت اسرائیل آیت 34، الا نعام آیت 152)
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مشرک عورتوں سے نکاح کرنا جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور شرک کرنے والی عورت گوتم کو بھلی گلے اس سے مسلمان باندی بہتر ہے اور مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مسلمان عورتوں سے ان کا نکاح نہ کرو او مشرک مرد گوتم کو بھلالگے اس سے مسلمان غلام بہتر ہے یہ مشرک مرد اور عورتیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جس کی قسمت میں ہے اس کو بہشت اور بخشش کی طرف بلا تا ہے اور اپنے حکم لوگوں سے اس لیے بیان کرتا ہے کہ وہ یادر کھیں2

ف 2 حضرت حذیفہ یا عبداللہ بن رواحہ کے گھر میں ایک سیاہ فام لونڈی تھی۔ انہوں نے اسے آزاد کر کے نکاح کرلیا ان کے دوستوں نے اس نکاح کر پسند کہ کیا اور ایک مشرکہ کا نام لے کر انہیں پیش کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (شو کانی۔ ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کہ ابو مرثد الغنوی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس نے مکہ کی ایک مشرکہ عورت " غناق " سے نکاح کا ارادہ کیا جس سے جاہلیت میں اس کے تعلقات تھے چناچہ اس نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی) آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرک عورت سے مسلمان مرد نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح مومن عورت کا مشرک مرد سے نکاح حرام ہے۔ ہاں کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے۔ دیکھئے سورت المائدہ آیت 5) حدیث میں ہے کہ عورت سے نکاح کے وقت چار باتیں مد نظر ہوتی ہیں مال دار حسب خوبصورتی اور دینداری کو دوسری باتوں پر ترجیح دو (صحیحین )
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

( اے پیمبر ( علیہ السلام) لوگ تھ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دے وہ گندگی ہے تو حیض کے دونوں میں عورتوں سے سے الگ ہر ( ان سے جماع نہ کرو3 اور جب تک پاک نہ ہو لیں ان کے پاس نہ جاؤ ( یعنی جماع نہ کرو)4 پھر جب ستھرائی کرلیں تو جدھر سے اللہ نے حکم دیا ہے ( یعنی فرج کی طرف سے5 ان کے پاس آؤ بیشک اللہ کو توبہ کرنے والوں سے محبت ہے اور ستھرائی کرنے والوں سے بھی محبت ہے

ف 3 حیض کہتے ہیں خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اور عادت کے خلاف جو خون آوے وہ استحاضہ (بیماری) ہے حیض کے دونوں میں عورت سے مجامعت کرنا اور عورت کے لیے نماز روزہ سب حرام ہیں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ یہوں حالت حیض میں عورت کے ساتھ کھانے پینے اور گھر میں اس کے ساتھ اختلاط کو جائز نہیں سمجھتے تھے، صحابہ نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو یہ آیت اتری۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : حالت حیض میں جماع کر علاوہ ہر طرح سے عورت کے ساتھ اختلاط جائز ہے اور اس حالت میں الگ رہنے کا مطلب صرف ترک مجامعت ہے۔ ( ابن کثیر بحوالہ مسلم وغیرہ)4 یعنی جب تک پاک ہو کر غسل نہ کرلیں اس پر جمیع علماء کا اتفاق ہے۔ صرف امام ابوحنیفہ اس مسئلہ میں دوسروں سے منفرد ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر حیض اپنی پوری مدت میں یعنی دس دن پر موقوف ہو تو غسل سے پہلے ہی مجامعت درست ہے مگر یہ قول تطھرون کے خلاف ہے جس معنی اچھی طرح پاک ہوجانا کے ہیں۔ (ابن کثیر۔ ، ابن العربی)5 یعنی عورت سے اس کی آگے کی جانب شرم گاہ میں مجا معت کرو۔ اس سے ثاتب ہوتا ہے کہ عورت سے غیر فطری مجامعت حرام ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

عورتیں تمہاری کھیتی ہیں اپنی کھیتی جس طرح سے) جہاں سے چاہو آؤ6 اور اپنے لیے کچھ آگے بھیجو ( یعنی نیک عمل) اور للہ سے ڈرتے رہو اور سمجھ رکھو ایک دن تم کو اس سے ملنا ہے اور اے پیمبر) ایمان والوں کو خو شخبری سنا

ف 6 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ یہوس کہا کرتے تھے اگر عورت کو پیٹ کے بل کر کے مجامعت کی جائے تو احول (بھینگا) پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت اتری کہ عورتیں کھیتی ہیں جماع کے لیے کوئی سن مقرر نہیں ہے ہر آسن پر جماع کرسکتے ہو مگر اولاد پیدا ہونے کی جگہ میں ہو۔ بعض لوگ غصہ میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے ،
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

( مسلمان قسمیں کھا کر اللہ کی نیکی اور پرہیز گاری اور لوگوں میں پلاپ کرنے کی روک نہ بناؤ تمہاری قسموں کو سنتا ہے تمہاری نیت مقصود کو جانتا ہے7

اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی پرہیز گاری لوگوں میں صلح کرانے نیک کاموں سے باز رہنے بہانہ ہاتھ آجائے کیونکہ ایک غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے عبدالر حمن بن سمرہ سے فرمایا اگر تم قسم کھالو اور پھر دیکھو کہ غیر قسم بہتر ہے تو تم اس بہتر کام کو کرو اور اپنی قسم توڑنے کا کفارہ دو ۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا نہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے اس کے لیے تین روزے رکھنا ہے۔ (دیکھئے سورت المائدہ آیت 89)
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم کو لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا لیکن اس قسم پر پکڑے گا جو جان بوجھ کر دل سے کھا أؤ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے تحمل کرنے والا ہے1

ف 1 لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو بےساختہ عادت کے طور پر یو نہی زبان سے نکل جاتی ہیں، نہیں پکڑے گا۔ یعنی ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے ہاں جو قسمیں دل کے ارادہ کے ساتھ کھائی جائیں اور پھر ان کی خلاف روزی کی جائے تو ان پر کفارہ یا سزا ہے۔ فقہ کی زبان میں ایسی قسم کو منعقدہ کہتے ہیں مگر کوئی شخص عمداجھوٹی قسم کھائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اس کا کفارہ نہیں ہے ایسی قسم کو یین غموس کہا جاتا ہے۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاکریں ان کو چار مہینے کی مہلت ہے پھر اگر اس مدت میں اپنی قسم سے پھرجائیں اور اپنی عورتوں سے صحبت کریں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ج 6 ان دو آیتوں میں " ایلاء " کا مسئلہ بیان ہوا ہے ایلاء کے لفظی معنی قسم کھانے کے ہیں اور اپنی عورتوں سے ایلاء کے معنی یہ ہیں کہ مر دقسم کھالے کہ وہ اپنی عورت سے جنسی خواہش پوری نہیں کرے گا پھر اگر قسم چار ماہ اس سے کم مدت کے لیے کھائی ہو تو اسے اپنی قسم پورا کرنے کا اختیار ہے۔ اگر وہ مدت پوری کر کے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے گا تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر اس مدت سے پہلے تعلق بحال کرلے گا تو کفارہ دینا ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تھی جب مدت گذر گئی تو آپ نے ان سے تعلق قائم فرمالیا اور کوئی کفارہ ادا نہیں کیا۔ (شوکانی) اور اگر چا رماہ سے زیادہ مدت کے لیے یا مدت تعین کے بغیر قسم کھائے تو ایسے شخص کیلے اس آیت میں چار ماہ کی مدت مقرر کردی ہے کہ یا تو اس مدت کے پورا ہوتے ہیں اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے اور یا پھر سیدھی طرح سے طلاق دیدے۔ پہلی صورت اختیار نہ کرے تو حاکم وقت کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے کسی ایک کے اختیار کرنے پر مجبور کرے اکثر صحابہ اور جمہور ائمہ کا یہی قول ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 2:227–228

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کی ٹھان لیں تو اللہ سنتا اور جانتا ہے2

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور جب عور توں کو طلاق دی جائے وہ تین طہر یاتین حیض تک اپنے تنیں روک رکھیں3 اور اگر انو کو اللہ اور آخرت پر ایمان ہے تو جو کچھ اللہ نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا ہو اس کا چھپانا ان کو درست نہیں اور ان کے خاوند کو اس مدت کے اندر اپنی عو رتوں کے پھر الینے کا زیادہ حق ہے اگر وہ ملاپ کرنا چاہیں اور جیسے مردوں کو حق عورتوں پر ہے ویسے ہی رواج کے موافق عورتوں کا بھی حق مردوں پر ہے او مردوں کا مرتبہ عورتوں سے زیادہ ہے اور اللہ زبر دست حکمت والاف 5

ف 3 مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہو تو وضح حمل۔ (دیکھئے سورت الطلاق آیت 4) اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ (دیکھئے آیت 237) پس اس آیت میں المطلقات سے ان عورتوں کو عدت کا بیان کرنا مقصو ہے جن سے خاوند صحبت کرچکے ہیں اور ہو حاملہ نہ ہوں اور ان کو حیض بھی آتا ہو تو ان کی عدت تین طہر یا تین حیض ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی) قردء کا لفظ جمع ہے اور اس کا واحد قوء ہے اور یہ طہر اور حیض دونوں پر بو لا جاتا ہے گو از روئے دلائل اول حج ہیں مگر فتوی دونوں پر صحیح ہے۔ (سلسلئہ بیان لیے دیکھئے سوررت الطلاق آیت 1) حضرت اسماء بنت عتت مقرر نہ تھی جب مجھے طلاق ہوئی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر)4 یعنی حمل یاحیض کے بارے میں عورت غلط بیانی سے کام نہ لے اور یاد رکھو باہمی حقوق ادا کرنے میں میاں بیوی دونوں برابر ہیں مگر مردکو عورت پر فضیلت حاصل ہے۔ (دیکھئے سورت النساء آیت 34) اس لیے عدت کے اندر اگر خاوند رجوع کرنا چاہیے تو عورت کا لا زما ماننا ہوگا۔ (ابن کثیر)حضرت عائشہ ؓ اور دیگر صحابہ کی روایات کے بموجب ابتدائے ہجرت میں جا ہلی دستور کے مطابق مرد عورتوں کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور عدت کر اندر رجوع کرتے رہتے تھے۔ مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہو تو تھا اس صورت حال کو روکنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ رجعی طلاق زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ہے اس کے بعد امساک بمعور یا تو عدت کے اندر رجوع کرنا ہے اور یا تسر یح با حسان یعنی حسن سلوک کے ساتھ تیسری طلاق دینا ہے۔ یہ تفسیر مر فوعا ثابت ہے اور ابن جریر نے اس کو ترجیح دی ہے۔ بعض نے اوا تسریح باحسان سے یہ مراد لیے ہے کہ دو طلاق کے بعد رجوع نہ کرے حتی کہ عدت گزارنے کے بعد وہ عورت خود بخود اس سے الگ ہوجائے (ابن جریر۔ ابن کثیر )
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

اور جو تم اپنی بی بیوں کو دے چکے ہو اس کا پھیرنا تم کو درست نہیں یعنی جو حصہ مہر یا تم عورت کو دے چکے ہو مگر جب میاں بی بی دونوں کو ڈر ہو کہ اللہ کے حکموں پر نہی چل سکیں گے پھر اے حاکمو یا مسلمانوں اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ میاں بی بی اللہ کے حکموں اور قاعدوں پر نہیں چل سکیں گے تو اگر عورت اپنا پیچھا چھوڑ انے کو کچھ دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا6 یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے آگے مت بڑھو یعنی ان کا خلاف نہ کرو) اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے بڑھ جائے تو ایسے ہی لوگ گنہگار ہیں

ف 6 عورت اگر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے اور خاوند طلاق دیدے تو اسے طلاق خلع کہتے ہیں یوں تو خاوند کے لیے عورت کو تنگ کر کے حق مہر واپس لینا جائز نہیں ہے مگر خلع کی صورت میں خاوند معاوضہ لے کر طلاق پر راضی ہو تو یہ واپسی جائز ہے۔ مسئلہ طلاق خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ (ترمذی )
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

اب اگر پھر تیسرے بار اس کو ظلاق دیدے تو وہ عورت اس پر حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے1 اب اگر دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دے تو پہلا میاں اور یہ بی بی پھر ملاپ کرسکتے ہیں ( یعنی نکاح پڑھا کر) اگر دونوں یہ سمجھیں کہ اللہ کے حکموں پر چل سکیں گے2 یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جن کو سمجھ والوں کے لے بیان کرتا ہے

ف 1 یعنی تیسری طلاق کے بعد اب جب تک عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مجامعت سے لذت اندوز نہ ہو لے اور پھر دوسرا خاوند اسے از خود طلاق نہ دے تو پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح حلال نہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے خاوند سے اس غرض سے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے کیونکہ ایسے نکاح پر تو احادیث میں لعنت آئی ہے بلکہ دوسرے خاوند سے مستقل طور پر اس کی بیوی بن کر رہنے کے لیے نکاح کرے اور پھر کسی وجہ سے طلاق ہوجائے یا دوسرا خاوند فوت ہوجائے تو اب سابقہ خاوند کے لیے اس سے نکاح جائز ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) مسئلہ ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاق دی جائیں تو وہ ایک ہی شمار ہوگی جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک مرفوع روایت میں ثابت ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ رکا نتہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو رجوع کرسکتے ہو۔ (ج 5 ص 163) نیز دیکھئے فتاوی ابن تیمیہ (ج 3 ص 13 ۔ 25 ۔ 36 ۔ 43) اغائتہ اللہ بضان 183 ۔ 338) 2 یعنی دوسرا خاوند از خود طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو عدت کے بعد وہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے لیکن حلالہ کی شرط سے جو نکاح ہوگا وہ باطل ہے۔ حلالہ کرنے او کروانے والے پر آنحضرت ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ (مسند احمد وغیرہ )
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طالق دو ( یعنی ایک یا دو اور عدت پو ری ہونے لگے ( یعنی قریب ختم کے ہو) تو دستور کے موافق ان کو رکھ لو ( یعنی ملاپ کرلو ( یا دستو کے موافق رخصت کردو اور تنگ کرنے کے لیے ظلم کی نیت سے ان کا لٹکائے نہ رکھو اور جو کوئی ایسا کرے اس نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا اور اللہ کے حکموں سے ٹھٹھا نہ کرو3 اور اللہ نے جو تم پر احسان کیا اس کو یاد کرو اور جو تم پر کتاب اور سنت ( یعنی حدیث شریف تمہارے سمجھانے کے لیے اتاری (4 اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے

ف 3 ایعنی اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق رجعی دو ، ان کی عدت پوری ہونے سے پہلے تمہیں رجوع کا حق پہنچتا ہے مگر یہ رجوع محض ان ستانے اور نقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو کیونکہ ایسا کر ناظلم و زیادتی اور احکام الہی سے مذاق کرنا ہے ،۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مذاق مذاق میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ای لا تتخذو الخ مگر آنحضرت ﷺ نے اس طلاق کا نافذ فرمادیا۔ (ابن کثیر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تین چیزوں میں مذاق بھی سنجیدگی قرار پائیگی یعنی نکاح، طلاق۔ اور رجوع، (ابن کثیر بحوالہ جامع ترمذی)4 یہاں الحکمت سے مراد سنت ہے یعنی کتاب وسنت کی جو نعمت تم پر نازل کی ہے اسے مت بھو لو، یہ دونوں وحی الہی میں اور دلیل ہونے میں دونوں برابر ہیں لہذا منکر حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو منکر قرآن کا ہے۔ ) ترجمان) مطلب یہ ہے کہ ان آیات میں بیان کردہ عائلی مسائل کو حدیث پاکی روشنی میں زیر عمل لانا ضروری ہے۔ (م، ع) حضرت معقل بن یسار کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ میری بہن کو اس کے شوہر نے ایک طلاق دیدی اور جوع نہ کیا حتی کی عدت گزر گئی پھر دونوں نے باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہا۔ جب وہ میرے پاس پیغام لے کر آیا تو میں نے اسے خوب برا بھلا کہا اور قسم کھائی کہ اب تم دونوں کا دوبارہ نکاح ہونے دوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لہذا میں نے نکاح کی اجازت دے دی اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ (صحیح بخاری) اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت خود بخود اپنا نکاح نہیں کرسکتی بلکہ ولی کی اجا زت ضروری ہے۔ حدیث میں ہے : لا تروج الموء ہ المرءہ ولا تزوج المرء ہ نفسھا فان الزنیتہھی التی تزوج نفسھا۔ یعنی کوئی عورت نہ خود اپنا نکاح کرسکتی ہے اور نہ کسی دوسری عورت کا نکاح کرسکتی ہے جو عورت ولی کے بغیر ازخود اپنا نکاح کر التی ہے وہ زانیہ ہے۔ (ابن کثیر) اگر عورت خود اپنا نکاح کرسکتی تو عورت کے اولیاء کو قرآن مخاطب نہ کرتا تم ان کو مت روکو۔ (معالم )
Ayahs 2:232–233

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو ( اگلے جاوندوں کے ساتھ نکاح کرلینے سے مت روکو اگر دستور کے موافق آپس میں رضامندی ہوجائے5 ان حکموں سے اسی کو نصیحت ہوگی ( وہی خاوند پاوے گا جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے یہ حکم تمہارے لیے بہت پاکیزہ اور بہت ستھرے ہیں اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلادیں جو کوئی دودھ کی مدت پو ری کرنا چاہے1 اور بچے کے باپ کر ان کا کھانا کپڑا ہے دستور کے موافق2 کسی شخص کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہ دی جاوے گی نہ ماں کا اس کے بچے کی وجہ سے نقصان دیا جا وے گا نہ باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے3 اور اگر بچہ کا باپ نہ ہو تو باپ کے4 وارث پر ایسا ہی کھانا کپڑا ہے پھر اگر ماں باپ دونوں اپنی اصلاح اور رضا مندی سے ( دو برس سے پہلے (دودھ چھڑا نا چاہیں تو کچھ گناہ ان پر نہ ہوگا اگر تم اپنی اولاد کو ماں کے سوا دوسری جگہ دودھ پلوانا چاہو تب بھی کچھ گناہ نہیں تم پر بشر طی کہ جو دینا چاہا تھا5 وہ دستور کے مطابق دے دو اور اللہ سے ڈرتے ہو اور یہ سمجھ رکھو کہ اللہ جو تم کروگے اس کو دیکھ رہا ہے

ف 1 نکاح و طلاق کے بعد اس آیت میں رضاعتہ (بچے کو دودھ پلانے) کے مسائل کا بیان ہے کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس کی گود میں دودھ پیتا بچا ہو اس سلسلے میں معمول رہا ہے کہ وہ بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو دودھ پلانا ماں پر فرض ہے خصوصا جب بچہ اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہو۔ (دیکھئے سورت طلاق) نیز اس سے دو باتیں اور بھی معلوم ہوئیں، ایک یہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے لہذا اس دو سال کی عمر کے بعد اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے۔ انما الر ضاعتہ منالجھجا عتہ۔ یہی قول جمہور ائمہ کا ہے۔ ان جمہور میں ائمہ اربعہ فقہا سبعہ اور اکابر صحابہ بھی شامل ہیں۔ ازواج مطہرات میں صرف حضرت عائشہ ؓ رضاعت کبیر کی قائل تھیں ، (نیز دیکھئے سورت النساء آیت 23) دوم یہ کہ اس عدت کی تکمیل ضروری نہیں ہے اس سے پہلے بھی بچہ کا دودھ چھڑایا جاسکتا ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی)2 اس معلوم ہوا کہ دودھ پلانے والی ماں کو۔ جب کہ اسے طلاق ہوچکی ہو۔ عام معروف طریقہ کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرنا بچے کے والد پر فرض ہے۔ عام حالات میں جبکہ طلاق نہ ہوئی ہو بیوی کا کھانا اور لباس اس کے شوہر پر ویسے ہی فرض ہے جیسے (نیز دیکھئے سورت الطلاق آیت 6) ماں کو تکلیف دینا یہ ہے کہ وہ مثلا بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہے مگر باپ اس سے زبر دستی چھین لے یا اسے دودھ پلانے پر مجبور کرے اور باپ کو تکلیف دینا یہ ہے کہ ماں بچے کا سارا بوجھ اس پر ڈال دے یا دودھ پلانے سے انکار کردے یا بھاری اخرجات کا مطالبہ کرے جو باپ کی وسعت سے باہر ہوں اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ ماں ضررپہنچاکر باپ کو تکلیف دے اور نہ باپ بچہ کو چھین کر ماں ضرر پہنچائے۔ پہلی صورت میں لا تضار صیغہ فعل مجہول ہوگا اور دوسرے ترجمہ کے اعتبار سے صیغہ معروف واکمال واحد۔ (ابن کثیر۔ رازی)4 یعنی اگر باپ مرجائے تو جو بھی اس کا وارث ہو اس پر فرض ہے کہ وہ بچتے کو دودھ پلانے والی ماں کے یہ حقوق ادا کرے جمہور نے یہی تفسیر کی ہے۔ (ابن کثیر ) 5 یعنی اگر تم بچہ کو اس کی ماں کے ماسو اکسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ جو معاوضہ تم دینا چاہتے ہو وہ معروف طریقہ سے پورا پورا ادا کردو۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں تو وہ یعنی بی بیاں چار مہینے دس دن تک اپنے تئیں روک رکھیں6 پھر جب اپنی عدت پوری کرلیں تو دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اے مسلمانو یا عورت کے وارثو اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے

ف 6 یہ عدت وفات تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے عام اس سے کہ انہیں اپنے شوہروں سے مساس ہوچکا ہو یا نہ ہو اہو۔ وہ جوان ہوں یا بوڑھی جیسا کہ آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے اور ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور بھی ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ جامع ترمذی) البتہ حاملہ عورت کی عدت وفات وضع حمل ہے۔ (سورت الطلاق آیت 4) اس عدت کے دوران میں عورت کے لیے نہ صرف نکاح کرنا حرام ہے بلکہ سوگ منانا یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کر نا بھی ضروری ہے صحیحین میں حضرت زینب بن جحش ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا : عورت اپنے شوہر کی موت پر چار ماہ دس دن تک سوگ منائے گی۔ نیز فرمایا : اور وہ شوخ رنگ کا کپڑا پہنے گی سوائے یمنی چادر کے نہ سرمہ لگائیگی اور نہ خوشبو استعمال کرے گی۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور اگر سوگ یا طلاق بائن کی عدت میں) تم ایک دوسری بات کی آڑ میں پیامر کا اشارہ کرو یا اپنے دل میں چھپا رکھو تو کچھ گناہ نہیں1 اللہ کو معلوم ہے کہ تم کو ان عورتوں کا خیال پیدا ہوگا لیکن اندر ہی اند ان سے وعدہ مت لو البتہ رواج کی بات کہہ سکتے ہو2 اور نکاح کی گرہ با ند ھنے کا قصد مت کرو جب تک عدت نہ گزر نہ جا سے3 اور یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی بات جانتا ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا بر دبار ہے4

ف 1 یعنی عدت کے دوران میں عورت کو صاف الفاظ کے ساتھ پیغام نکاح دینا جائز نہیں ہے البتہ مناسب طریقے سے یعنی اشارہ کہا یہ سے کوئی بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ حکم اس عورت کا ہے جس کے شوہر کے وفات ہوگئی ہو اور مطلقہ ثلاث کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فاطمہ بنت قیس سے فرمادیا تھا کہ جب تمہاری عدت گزر جائے تو اطلاع دینا مگر وہ عورت رجعی طلاق دی گئی ہو تو اس کے شوہر کے سوا کسی دوسرے شخص کے لیے اشارہ کنایہ سے بھی بات کرنا جائز نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)2 یعنی ان سے خفیہ معاہدے نہ کرو ؛ ہاں معروف طریقہ سے نکاح کا تذکرہ کرسکتے ہو مثلا یہ کہ تم تو ابھی جوان ہو یا میں بھی شادی کا خواہشمند ہوں وغیرہ (ابن کثیر)3 یعنی جب تک عدت پوری نہ ہوجائے نکاح کا عزم نہ کرو۔ اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں ہے۔ ( ابن کثیر۔ فتح القدیر)4 اس میں نکاح کے سلسلہ میں شرعی احکام کے خلاف حیلے نکالنے پر وعید اور توبہ کی ترغیب ہے۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اگر تم عور توں کو ہاتھ لگانے ( یعنی جماع کرنے اور مہر ٹھہر ناے کے آگے ہی طلاق دے دو رو کچھ گناہ تم پر نہ ہوگا انکو کچھ تحفہ دو امیر اپنے موافق غریب اپنے موافق جیسا کہ رواج ہو نیک لوگوں پر اس کا دینا ضرور ہے ط5

ف 4 یعنی جس عورت کا عقد کے وقت کوئی مہر مقرر نہ ہو اہو اگر شوہر اسے قبل از مسیلس (نجامعت یا خلوت صحیحہ) طلاق دے دے تو شوہر پر مہر وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا مالی تاوان نہیں ہے۔ آیت میں لا جناح فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ شوہر اپنی مالی حالت کے مطابق اسے کچھ دے کر رخصت کرے اس احانت کو متعہ طلاق کہا جاتا ہے۔ سورت احزاب آیت 49 ۔ میں مزید بتایا کہ قبل از مسیس طلاق کی صورت میں عورت پر عدت بھی نہیں ہے بلکہ وہ شو ہر سے خصت ہو کر فورا نکاح کرسکتی ہے۔ ( شو کانی )
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر جماع کرنے سے پہلے ان کو طلاق دو اور مہر ٹھہرا چکے تے تو جو ٹھہر تھا اس کا آدھا دینا ہوگا ( تحفہ لازم نہیں مگر جب عورتیں خود معاف کردیں یا وہ شخص معاف کردے جس کے اختیار میں ہے ج نکاح باندھنا6 اور معاف کردیان پرہیز گاری ہے بہت نزدیک ہے اور آپس میں ایکدوسرے پر احسان کرنے میں مت چوکو ( عورت آدھا مہر چھوڑ دے اور مرد پورا مہر دے دے بیشک اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 6 یہ دسری صورت ہے کہ مہر مقرر کیا جا چکا ہو اور شو ہر نے قبل از مسیس (مجامعت یا خلوت صحیحہ) طلاق دے دی اس صورت میں عورت نصف مہر کی حقدار ہوگی ہاں اگر وہ عورت خود یا اس کے اولیا معاف کردیں تو دوسری بات ہے بعض نے پیدہ عقدہ النکاح سے شوہر مراد لیا ہے اور اس کی طرح عفویہ ہے کہ وہ اپنی خوشی سے پورا مہر دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور پھر، ان تعفوا اقرب اللتقوی فرمایا شوہر کی تر غیب دی ہے کہ پورا مہر دے دینا ہی اقرب الی التقوی ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) مسئلہ اگر اس صورت میں شوہر قبل از مسیس وفات پاجائے تو بیوی پورے مہر کی حقدار ہوگی اسے ورثہ بھی ملے گا اور پر عدت بھی ہوگی جیسا کہ بروع بنت واشق کی حدیث میں ہے۔ (شوکانی) واضح رہے کہ مطلقہ عورت کی دو قسمیں اور ہیں (1) مہر مقرر ہوچکا تھا اور خاوند نے بعد ازمسیس طلاق دے دی۔ دیکھئے آیت 229 ۔ (2) عقد کے وقت مہر مقرر نہ تھا مگر بعد ازمسیس طلاق دی اس صورت میں عورت مہر مشل کی حقدار ہوگی یعنی جتنا مہر عموما اس کے خا اندان کی عورتوں کا مقرر ہوتا ہے اس کے مطابق اسے مہر دلوایا جائے گا جیسا کہ سورت نسا آیت 24 کے تحت مذکور ہوگا۔ (شوکانی)
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

تمام نمازوں کا بیچ والی نما کا خیال رکھو7 اور للہ کے سامنے چپکے ادب سے کھڑے رہو8

ف 7 الصلوہ الوسطی۔ بیچ والی نماز اس کی تعیین میں گواہل علم کے مابین اختلاف ہے مگر جمہو علمائے کے نزدیک اس سے عصر کی نماز مراد ہے یہی اضح اور ارجح ہے۔ متعدد احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ صحیحین اور سنن کی کتابوں میں متعدد صحابہ سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقعہ پر فرمایا : شغلو ناعم الصلوہ الو سطی صلوہ العصر مالاء اللہ ج قبرھم واجوافھم نارا۔ کہ انہوں نے ہمیں صواہ وسطی یعنی عصر کی نما سے غافلک کردیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی قبروں ارگھروں کو آگ سے بھر دے نیز بہت سے آثار صحابہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)8 اور ادب سے کھڑے رہو۔ یعنی نماز میں کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو نماز کی حالت کے منافی ہو جیسے کھانا پینا اور کلام وغیرہ۔ عر بی زبان میں قنوت کے کئی معنی آئے ہیں مگر یہاں سکوت کے معنی میں ہے۔ صحیحین میں زید بن ارقم سے روایت ہے کہ ہم نماز میں گفتگو کرلیتے تھے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو کلام کرنا منسوخ ہوگیا اور ہمیں سکوت کا حکم دیا گیا۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو دشمن کایا اور کسی کا) ڈرہو تو پیدل یا سوار رہ کر جس طرح ہو سکے گو منہ قبلہ کی طرف نہ ہو پڑھ لو) اور جب ڈرنہ رہے تو جس طرح اللہ نے تم سکھایا ہے جس کو تم پہلے نہیں جانتے تھے اللہ کی یاد کرو1

ف 1 اس آیت میں نماز کی حفاظت کی مزید تاکید کی ہے کہ خوف اور ہنگامی حالت میں بھی نماز معاف نہیں ہے۔ بلکہ پیدل سوار جس حالت میں بھی ممکن ہو خوف کے وقت نماز ادا کرلو۔ ہاں خوف زائل ہونے کے بعد نماز کو ان پورے ارکان و شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کرو جن کی تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے تعلیم دی ہے۔ صلواہ خوف کے احکام کے لیے دیکھئے سورت النساء آیت 102 ۔ (شوکانی، ابن کثیر )