3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا کوئی سچا معبود وہ زندہ ہے سب کا سنبھا لنے والاف 4

ف 4 الحیی القیوم یہ اسماء حسنی صفات باری تعالیٰ ہیں۔ حیات اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے کہ دو آیتوں میں اسم اعظم ہے جس کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا رد نہیں فرماتے۔ شروع آیتہ الکرسی اللہ لا الہ الا ھو الحیی القیوم وشروع آیتہ آل عمران۔ بعض ورایات میں تین آیتیں مذکو رہیں اور تیسری آیت سورت طہ کی ہے یسعنت الوجوہ اللحی القیوم۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تھوڑ تھوڑا کرکے تجھ پر سچی کتاب اتاری (قرآن) جو اگلی کتابوں کو سچ بتاتی ہے5 اور اسی نے تورات شریف اور انجیل مقدس6

ف 5 یہاں الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور بالحق سے اس کے سچا اور منزل من اللہ ہونے پر دلالت ہے اور اس سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کتب سابقہ میں جو خبریں اور بشارتیں مذکور ہیں اس میں بھی وہی خبریں اور بشارتیں ہیں۔ ایک خبر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کو آخری رسول ﷺ بنا یر بھیجے گا اور بشارت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان پر قرآن نازل فرمائے گا۔ (ابن کثیر۔ کبیر)6 تورات سے مراد وہ کتاب ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ک پر نازل ہو کی گئی اور انجیل سے مراد وہ کتاب ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اس وقت یہ دنوں کتابیں اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ تورات بائبل کے عہد قدیم کی پہلی پانچ کتابوں کا نام ہے اور انجیل بیئبل کے عہد جدید کی پہلی چار کتابوں میں متفرق طور پر درج ہے۔ یہود و نصاری نے انہیں بڑی حد تک بدل ڈلا ہے اور ان میں کچھ تشریحات اپنی طرف سے ملا کر خلط ملط کردیا ہے الفرقان سے مراد قرآن مجید ہے جس سے تورات وانجیل کے صحیح اور غلط اجزائے کے مابین فرق کیا جاسکتا ہے۔ (کبیروغیرہ )
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(قرآن مجید اتر نے سے پہلے اتاریں لوگوں کی ہدایت کے لیے اور اسی نے فیصلہ اتارا جن لوگوں نے خدا کی آیتوں کا انکار کیا7 ان کو سخت عذاب ہوگا اور اللہ زبر دست بدلی لینے والا

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے سے انکار کردیا۔ (شوکانی )
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

اس سے جو کوئی اس کی کتاب اور پیغمبر کہ نہ مانے بیشک اللہ سے کوئی چیز چھپی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

ف 8 اس آیت میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے حالا ن کہ وہ عرش معلی پر ہے۔ (وحیدی) اور پھر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک بندہ مخلوق ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا۔ پھر وہ خدا یا خدا کا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جیسے عیسائیوں کا غلط عقیدہ ہے۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی (ماں) کے پیٹ میں جس طراح چاہتا ہے تمہاری تصویر بناتا ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں زبر دست ہے حکمت والا 7

کیف یشاء۔ یعنی مذکر یا مؤنث اسود احمر تام ناقص وغیرہ اور انسان کی سعادت و شفاعت عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

اسی نے تجھ پر یہ کتاب اتاری یعنی قرآن شریف اس میں سے سے بعض آیتیں کھلی صاف مضمون کی ہیں وہ تو قرآن شریف کی جڑ ہیں جن کو محکم کہتے ہیں اور بعض آیتیں گول گول مضمون کی ہیں کئی پہل و رکھتی ہیں پھر جن کے دل پھرے ہو ہیں یعنی کج ہیں باطل کی طرف جھکے ہوئے وہ لوگو کو گمراہ کرنے اور اصلی حقیقت دریافت کرنے کی نیت سے گو گول آیتوں نے پیچھے پڑجاتے ہیں حالانکہ اصلی حقیقت ان کی اللہ کے سوا کئی نہیں جانتا اور جو پکے عالم ہیں نہ کٹھ ملا وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے ان پر یہ سب آیتیں محکم ہوں ہمارے پروردگار کی طرف سے اتری ہیں اور جن عقل ہے وہی سمجھائے سمجھتے ہیں2

ف 1 محکمات وہ آیات ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح اور صریح ہے اور ان میں کسی قسم کی تاویل کی کنجائش نہیں ان کو ام الکتاب قرار دیا ہے۔۔ یعنی میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی گئی ہے اور انہی میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کے نصائح عبر اور انسانی گمراہیوں کی نشانی دہی بھی انہی آیات میں لی گئی ہے۔ متشابہات جن کا مفہوم سمجھنے میں اکثر لوگوں کی اشتباہ ہوجاتا ہے ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جب پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جا ننا انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقل استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔ جیسے حروف مقطعات مرنے کے بعد برزخی اور اخری زندگی کی مختلف کیفیات وغیرہ۔ تفسیر وحیدی میں لکھا ہے کہ صفات الہیہ کے منکرین تو استوئے ید اور نزول وغیرہ کو متشابہات قرار دیتے ہیں مگر اہل حدیث ان کو محکم مانتے ہیں۔ نیز اس میں نصاری کو بھی تنبیہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کلمتہ وروح منہ وغیرہ آیات سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت اور انبیت پر تو استد الال کرتے ہیں مگر دوسری آیات ان ھو الا عبد ان مثل عیسیٰ کمثل ادم، الخ پر دھیان نہیں دیتے۔ (ابن کثیر) متشابہا کے معنی کے لیے دیکھئے (الزمر آیت 23) یعنی جو لوگ مخلص ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ علم وفہم بھی رکھتے ہیں وہ محکمات کو اصل سمجھتے ہیں اور متشابہات کے من عند اللہ ہونے پر وہ ایمان تو رکھتے ہیں لیکن ان کی تفصیلات سمجھنے اور متعین کرنے کے درپے نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس جو لوگ اہل زیغ ہیں جن کا مشغلہ ہی محض فتنہ جوئی ہو تو ہے وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کی عقلی تاویل کے چکر میں سرگردان رہتے ہیں حضرت عا ئشہ ؓ سے ورایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو الوالالباب تک پڑھا اور پھر فرمایا جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے نشاندہی فرمائی ہے سو تم ان سے بچو۔ (بخاری) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (ابو داؤد) پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان۔ ابن کثیر)
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

یہ دعا مانگتے ہیں اے رب پر لگانے کے بعد پھر ہمارے دوں کو ڈانو اں ڈول مت کر اور اپنی رحمت ہم کو عنایت فرما بیشک تو بڑا دینے والا ہے3

ف 3 یہ وہ دعا ہے جو علم میں راسخ حضرت اللہ کے حضور کرتے رہتے ہیں۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ) ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر )
Ayahs 3:9–11

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے رب ہمارے جس دن کے ہونے میں شک نہیں اس دن تولوتوں کو اکٹھا کرے گا یعنی قیامت کے دن بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک کافروں کے مالی اور اولاد اللہ کے عذاب سے ان کو کچھ بچانہ سکیں گے یاللہ کے پاس کچھ کام نہ آئیں گے اور وہ دوزخ ایندھن بنیں گے

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کی گت بھی وہی ہونے والی ہے جو فرعون والوں اور ان سے پہلو لوگوں کی ہوئی ہماری آیتوں کو جھٹلا یا آخر نے ان کے گنا ہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لا اور اللہ کا عذاب سخت4

ف 4 یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور امم سابقہ کو ان کے رسولوں کو جھٹلا نے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب مالدار کفار کو بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران یہودی مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کبیر۔ شوکانی )
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

( سے پیغمبر) کافروں سے کہہ دے اب کوئی دن میں تم مغلوب ہوتے ہو ( یعنی دنیا میں مسلما نوں کے ہاتھ سے ارودوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے قیامت کے دن اور وہ برا ٹھکانا ہے1

ف 1 عاصم بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ عزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہود کو سوق بنی قینقاع میں جمع کر کے فرمایا۔ اے گروہ یہود تم مسلمان ہوجاؤ اس سے قبل کہ تمہا را بھی وہی حشر ہو جو قریش بدر میں ہوا ہے۔ وہ بولے محمد ﷺ ! تم اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ تم نے قریش کے ایک ناتجربہ کار گروہ کو جو لڑنا نہیں جانتا تھا۔ مار ڈالا ہے۔ جب تمہارا ہم سے مقابلہ ہوگا تو معلوم ہوجائے گا اصل آدمی یعنی ماہرین جنگ تو ہم ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اور اس سے اگلی آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر) اس کے نزول کے بعد بنو قریظہ کے قتل۔ بنی نضیر کے جلا وطن اور خیبر کے فتح ہوجانے سے قرآن کی یہ پیش گوئی بحمداللہ حروف بحروف سچی ثابت ہوئی۔ (شوکانی)
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

بیشک (سے یہودیو اے مشرکو یا اے مسلمانو) ایک بڑی نشانی خدا کی قدرت کی تمہارے سمجھنے کے لیے ہوچکی ہے ان دو فوجوں میں جو بھڑ گئیں ( بدر کے دن) ایک فوج تو اللہ کی راہ میں اس کی رضامندی کے لیے لڑتی تھی اور دوسری منکروں کی تھی وہ آنکھوں سے ان کو اپنے سے دوناد دیکھے تھے آیا ان سے اور اللہ جس کو چاہے اپنی مدد سے زور دیتا ہے جو لوگ عقل کی آنکھ رکھتے ہیں ان کو اس میں واقعہ میں بیشک بڑی عبرت ہے2

ف 2 یعنی متذکرہ بالا پیش گوئی کے مبنی پر صداقت ہونے کے لیے معرکہ بدر میں بہت بڑی آیت (دلیل موجود ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) یرو نھم مثلھم صیغہ غائب یا کے ساتھ پڑ ھا جائے تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ مسلمان کفار کو اپنے سے صرف دو چند دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ سہ چند تھے تاکہ مسلمانوں کو ثبات حاصل ہو چناچہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ دوم یہ کہ کفار مسلمانوں کے اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے حالا ن کہ ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور مسلمان کل 313 مگر مسلمان دوچند اس لیے نظر آتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کے لیے فرشتے بھیج دیئے تھے۔ اکثر مفسرین نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے دوسرے کو۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) اور ترونھم پڑھیں تو معنی اور بن سکتے ہیں۔ (شوکانی) واضح رہے کہ دوچند دکھلا نا لڑائی سے قبل تھا ورنہ لڑائی کے وقت تو ہر گروہ دوسروں کو اپنے سے کم خیال کر رہا تھا۔ دیکھئے سورت برات آیت 130 (وحیدی )
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگ رجھائے گئے ہیں مزوں کی محبت پر جیسے بی بیاں اور بیٹے اور سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے اور گھوڑے پورے بدن کے یا نشان لگے ہوئے یا مو ٹے تازے یا جنگل میں چرتے ہوئے یا تیار کیے ہوئے اور میویشی گائے بیل بھینس بکریاں اور کھیت یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے ہیں اور اچھا ٹھکانا تو اللہ کے پاس ہے3

ف 3 اشھوات۔ یہ شہوت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں (کسی مرغوب چیز کی طرف نفس کا کھینچ جانا) یہاں کا الشہوات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبعیت کو مرغوب ہیں اور من النساء میں من بیانیہ ہے یعنی وہ چیزیں یہ ہیں۔ القناطیر کا واحد قنطار ہے۔ اس کی مقدار میں مختلف اقوال ہیں مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ مال کثیر کو قنطار کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) ہماری زبان میں اس کا ترجمہ خزانے ہوسکتا ہے اور متاع اس سامان کو کہا جاتا ہے جس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ مزے کا لفظ اس کا تعبیری ترجمہ ہے۔ حاصل یہ کہ انسان ان چیزوں کی محبت میں پھنس کر خدا اور اس کے دین سے غافل ہوجائے اور انہیں تفاخر اور زینت کا ذریعہ سمجھے اور غرور وتکبر پر اتر آئے تو یہ تما چیزیں مذموم۔ ورنہ اگر ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت خیال کرتے ہوئے ذریعہ آخرت بنایا جائے اور شریعت کی حدود میں رہ کر ان سے فائدہ اٹھا یا جائے تو یہ مذموم اور مبغوض نہیں بلکہ نہایت مرغوب اور محمود ہیں۔ اصل چیز نیت اور عمل ہے۔ اس لیے حدیث میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ میرے بعد مردوں کے لیے کوئی ضرر رساں فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔ بخاری) اور دوسری طرف آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ دنیا متاع ہے اور اس کی بہترین متاع عورت ہے۔ اور یہ کہ دنیا میں میرے لیے عورت اور خوشبو پسندید بنادی گئی ہیں۔ بخاری وغیرہ یہی حال باقی تمام نعمتوں کا ہے۔ آیت کے آخر میں ان کو دنیاوی زندگی کا سامان قرار دیکر دنیاوی زندگی میں زہد اور آخرت میں رغبت پر زور دیا ہے۔ (ماخوذازابن کثیر وشوکانی )
Ayahs 3:15–16

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے کہ میں تم کو ان دنیاوی فانی مزوں سے4 مزہ بتلاؤں جو لوگ پرہیز گار ہیں یعنی شرک سے بچتے ہیں ان کو اپنے پروردگار کے پاس باغ ملیں گے جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں اور ستھری بی بیاں اور سب سے بڑی نعمت اللہ جل جلالہ کی رضامندی ملے گی اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

وہ و کہتے ہیں مالک ہمارے ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا دے6

ف 4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت زین اللناس نازل ہوئی تو میں نے کہا یا للہ ! اب جب کہ تو نے خود ہے ان چیزوں کو ہمارے لے پسند یدہ بنادیا ہے تو ہم اس فتنہ سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جنہیں آخرت میں مذکورہ نعمتیں حاصل ہوں گی وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں اور جن میں وہ صفات پائی جاتی ہیں جن کا اگلی آیت میں ذکر آرہا ہے۔
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ صبر کرنے والے ہیں1 مصیبت پر اور سچ بولنے والے گو کوئی خفا ہوجائے یا نقصان ہو اور عا جزی کرنے والے یا فرمانبر دار اور اللہ کی راہ میں2 خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو استغفار بخشش کی دعا میں کرنے والے

ف 1 یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور اس کے محرمات سے پرہیز مشقت اٹھانے والے۔2 اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ کتب احادیث میں متعدد صحابی سے یہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : جب رات کا یک تہائی یا نصف باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان سے پر اتر کر یہ فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو دوں ؟ ہے کو دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کی مغفرت کروں ؟ اور ہر رات پکار کر یہی پوچھا جاتا ہے۔ ابن کثیر )
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے بھی گواہ ہیں3 انصاف کے ساتھ حکومت کر رہا ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں زبردست ہے حکمت والا

ف 3 قائما القسط حال من الا وم الشرد یعنی قا ٗم بالقسط حال من الا الشر یفتد اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا خالق رازق اور مدتبر ہے وہ خود یہ گواہی دے رہا ہے اور اس کی گواہی سے بڑھ کر سچی اور منبی بر حقیت کسی کی گواہی ہوسکتی ہے کہ اپنی مخلوقات کا صرف وہی معبود ہے اور اس کا ہر کام اس کا ئنات میں جو بھی ہو ہستی ہے وہ اسی کی پیدا کردہ اسی کی متحاج اور اس کے رزق پر جینے وا لی ہے اور پھر یہی گواہی فرشتے اور وہ تمام اہل علم بھی دے ر ہے رہیں جو کتاب وسنت کے ماہر ہیں اور جن ہو نوں نے اس کا ئنات کی حقیقت اور اس کے مبدائ اور معاد پر خوب غور کیا ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

جو دین خدا کو پسند ہے وہ اسلام ہے4 اور اہل کتاب ( یہود اور نصاری نے جو اس دین سے مخالفت کی ( یعنی اسلام کو قبول نہیں کیا) تو یہ نہیں کہ اس دین کی سچائی ان کو معلوم نہیں ہوئی بلکہ حق بات معلوم ہوجانے کے بعد آپس کی ضدم ضدا سے5 اور جو کوئی اللہ کی آیتوں کا انکار کرے تو اللہ جلد حساب لینے ولا ہے6

ف 4 دین اسلام کا نام ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہو ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کی عبادت کرنے اور اسی کے احکام کے مطابق اپنی پوری زندگی گزارنے کا۔ اس آیت میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جس دین کا اعتبار ہے وہ صرف یہی اسلام ہے۔ نیز جو شخص آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی رسالت کا قائل نہیں ہے اور نہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنا عمل اور عقیدہ ہی درست کرتا ہے اس کا دین اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں ہے خواہ وہ توحید کا قائل ہو اور دوسرے ایمانیات کا قرار کرتا ہو۔ (م۔ ع) اسلام۔ ایمان اور دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے تینوں ایک ہیں۔ (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیا بھیجے ان سب کا دین یہی اسلام تھا۔ اہل کتاب نے اس حقیت کو جان لینے کے بعد کے اسلام دین حق ہے، محض وعناد کی بنا پر اسلام سے انحراف کیا ہے۔ آج بھی ان کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لیے آئیں اور دین اسلام کو اختیار کرلیں۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر وہ کٹ حجتی کرین اور اسلام کو نہ مانیں اور تکرار انکار تو صاف کہ دے میں نے اپنا رخ اللہ کے لیے رکھ دیا اور جس نے میرا ساتھ دیا اور اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں سے پو چھ تم بھی اسلام لاتے ہو یا نہیں اگر مسلمان ہوجاویں تو راہ لگ گئے اور نہ مانیں تو تیرا کام اللہ کا حکم) پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے7

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیت الہیٰ سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔7 اوتوا اہل کتاب اور مشرکین عرب سب کو مالعموم اسلام کی دعوت دو ۔ جنا نچہ آنحضرت ﷺ نے اس آّیت کے مطابق عرب وعجم کے تمام ملوک وامر گو دعوت خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ایک حدیث میں ہے بعث الی الا حمر ولا اسود۔ کہ عرب و عجم کی طرف معبوث کیا گیا ہوں۔۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : والذی نفس محمد بیدہ ولا یسمع بی احدمن ھذہ الا متہ یھوددی ولا نصر انی ومات ولم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اھل النار کہ قسم ہے اس ذات پاکی کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اس امت میں سے کوئی بھی یہودی یا نصرانی اگر میرا نام سن کر میری رسالت پر ایمان نہیں لائے گا تو وہ دوزخ میں جائے گا اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے عالگیر اور تا قیامت ہونے پر کتاب و سنت میں بکثر دلائل موجود ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی )
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور جو لگ انصاف کی بات کا حکم دیں ان کو قتل کرتے ہیں ان خو شخبری سنا تکلیف والے عذاب کی

8 اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انہوں نے نہ صرف احکام الہیٰ پر عمل کرن سے انکار کیا بلکہ انبیا اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہم میں جنہوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ انہتائی تکبر ہے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ بن جراح نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب کس شخص کو دیا جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو جس نے کسی نبی یا امر المعروف ونہی عن المنکر کرنے والے شخص کو قتل کیا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر۔ْ ابن کثیر )
Ayahs 3:22–23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن نیک اعمال اکارت ہوئے دنیا اور آخرت میں اور ان کے کوئی مددگار نہیں ہیں جو عذاب سے انک بچا دیں

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

اے پیغمبر تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو اللہ کی کتاب کا کچھ علم دیا گیا تھا یا بہت علم دیا گیا تھا ان کو اللہ کی کتاب کی طرف فیصلہ کے لیے بیالا جاتا ہے تو یاک فرقہ ان میں کا پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے اور وہ جان بوجھ کر تفاغل کرتے ہیں1

ف 1 ۔ اس آیت میں کتاب اللہ سے مراد تو رات وانجیل ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن انھیں خود ان کی کتاب کو طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انہی کو حکم مان لو اور بتا و کہ ان میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کو کسی چیز کا علم ہی نہیں ہے۔
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ حرکتیں وہ اسلیے کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہم کو ہرگز دوزخ کی آگ نہ لگے گی مگر گنتی کے کئی دن اور جو باتیں انہوں نے دین میں بنارکھی ہیں ( جھوٹی) ان پر پھول گئے ہیں2

ف 2 یعنی جس چیز نے حق سے کھلم کھلا انحراف اور بڑے بڑے گناہ کا بےشرمی سے ارتکاب پر دلیر جری بنادیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں خدا کی پکڑ اور سزا کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کو آبا و اجداد انہیں طرح طرح کی خام خیالوں اور جھوٹی اور چہتیے ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ مائدہ آیت 18) اور کہتے ہیں کہ جنت بنی ہی ہمارے لیے ہے۔ ( بقرہ : آیت 111) اور کبھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں تھوڑی بہت سزا ہوئی بھی تو چند دن سے زیادہ نہ ہوگی۔ ہمارے بزرگوں کا جن کے ہم نام لیو اور دامن گرفتہ ہیں، خدا پر اینا زور ہے کہ وہ چاہے بھی توہ میں سزانہ دے سکے گا (مزید دیکھئے بقرہ آیت :80) اور نصاری ٰ نے تو کفارہ کا مسئلہ گھڑکے ؛ ؛ معا صی پر سزا کا سارا معاملی ہی ختم کردیا ہے۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پھر جس دن کے آنے میں شک نہیں ( یعنی قیامت کا دن جب اس دن ہم ان کو اکٹھا کریں گے ان کا کیا حال ہوگا اور آدمی کو اس کے کیے کا پو را بدلہ ملے گا اور کسی کا حق نہ مارا جائے گا3

ف 3 ینعی انہیں جان لینا چاہیے کہ قیامت کے روز جب ہمارے حضور جمع ہوں گے تو ان کا بہت براحال ہوگا ان کے یہ من گھڑت عقیدے انہیں بزرگوں سے جھو ٹی محبت اور دامن گیری خدا کے عذاب سے بچا سکے گی۔ کوئی نبی یا ولی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے غیر سفارش کا بھی مجاز نہ ہوگا۔ (ترجمان۔ وحیدی)
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

( اے پیمبر ( علیہ السلام) کہہ سے اے میرے خدا سارے ملک کے مالک تو جس کر چا ہے بادشاہ بنا دے اور جسے چاہے پادشات چھین لیوے اور تو جس کو چاہے عزت دیوے اور تو جس کو چاہے ذلت دیوے ساری بھلائی تیرے ہی مبارک ہاتھ میں بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے4

ف 4 یہود اس غلط فہمی مبتلا تے کہ حکم و نبوت کا یہ سلسلہ ہمشہ ان میں رہے گا۔ دوسری قوم اس کا استحقاق نہیں رکھتی مگر جب نبی آخرالزمان ﷺ ایک متی قوم بنی اسمعیل سے مبعوث ہوگئے تو ان کے غیظ وغضب اور حسد کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی کودو کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود مختار اور مالک الملک ہے۔ وہ جس قوم کو چاہتا ہے دنیا میں عزت و سلطنت سے نوازا دیتا ہے۔ لہذا نبوت جو بہت بڑی عزت ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا پسند فرما لیا اللہ تعالیٰ پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ یہاں دعا کے انداز میں مسلمانوں کو بشارت بھی دے دی کہ تمہیں اس دنیا میں غلبہ واقتدار حاصل ہوگا اور آنحضرت خاتم الا نبیا ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے ْ لہذا تمہیں چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاو
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تورات کو کم کر کے دن میں ملا دیتا ہے اور دن کو کم کر کے رات میں ملا دیتا ہے5 اور جیتا مردے سے نکا لتا ہے ( مثلا نطفے اور انڈے سے جاندار اور مردہ چیتے سے نکلاتا ہے مثلا نطفہ اور انڈا جاندار سے اور تو جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے6

ف 5 اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے۔6 حاٖفظ طبرانی (رح) نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ قل اللھم تابغیر حساب میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے جس کی تلاوت کر کے دعا کی جائے تو اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت معاز ؓ نے اپنے اوپر قرض بڑھ جانے کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے انہیں اس آیت کے تلاوت کرنے اور اس کے ساتھ یہ دعا پڑ ھنے کی ہدایت فرمائی : رحمان الدنیا والا خرۃ رحیمھما تعطی متشا منھماوتمنع من تشا ارحمنی رحمۃ تغنینی مھا رحمۃ من سواک اللھم اغنی من الفقرواقض عنی الدنیا : اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے تو جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے مجھ پر ایسی رحمت فرماکر اس کے بعد دوسروں کی رحمت سے بےنیاز ہوجاوں۔ اے اللہ مجھے فقر سے غنی کر دے اور میرا قرض ادا فرمادے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نبہ بناویں اور جو کوئی ایسا کرے یعنی کافر سے دوستی جو ڑے تو اسکو اللہ سے کچھ تعلق نہیں رہا ( کیونکہ اللہ کے دشمن ہیں ان سے دوستی کرنا اللہ سے دشمنی کرنا ہے مگر ہاں جب ایسے امر کا ڈر ہو جس سے بچنا ضروری ہے اور اللہ اپنی ذات سے مقدس میں سے تم کو ڈراتا ہے اور اللہ ہی کے پاس جانا ہے1

ف 1 اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات اور دستی رکھنے سے منع فرمایا ہے اس پر سخت وعید سنائی ہے۔ صرف بچاو اور تدبیر سلطنت کی حد تک ظاہری طور پر موالاۃ کی اجا زت دی ہے بشر طی کہ یہ اظہار رول میں نفرت کے ساتھ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لقیہ صرف زبان سے اظہار کی حد تک جائز ہے نہ کہ عمل سے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بعض یہودی روسا نے انصار کے ایک گروہ سے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی موقع پر ہم ان کو دین اسلام سے پھیر نے میں کا میاب ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) دراصل یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اصل کی حثیت رکھتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے ما ئدہ آیت 51 ۔ 56 اور مسئلہ تتقیتہ کی تفصیل کے لیے سورت نحل آیت 106 ملا حظہ فرمائیں۔
Ayahs 3:29–31

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے جو کچھ تمہارے جی میں ہے اس کو چھپاؤ یاد رکھو اللہ کو معلوم ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص جو بھلائی یا برائی اس نے کی ہے اپنے سامنے موجود پائے گا یا پوری نہ کم نہ زیادہ آرزو کرے گا کاش یہ دن اس سے بہت دور ہوتا اور اللہ تم کو اپنی ذات مقدس سے ڈراتا ہے اور اللہ اپنے بندون پر سفقت رکھتا ہے

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

جب تو نے انکو خبردار کر یدا) اے پیغمبر کہ دے سن مشرکوں یا یہود یا نصاریٰ یا مسلمان سے اگر تم کو اللہ کی محبت ہے تو میری راہ پر چلو اللہ بھی تم سے سے محبت رکھے گا اور تمہارے گناہ بخشنے والا مہربان ہے2

ف 2 یہود نصایٰ اور مشرکین سبھی یہ دعو یٰ کرتے ہیں تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ تم ان سے کہہ دو کہ اب اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا نبی مان کر میری اتباع اختیار کرلو۔ (وحیدی) اور اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے بلکہ جمع اقوال وافعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : شرک غلط محبت کی راہ سے سرایت کرتا ہے۔ اور الدین نام ہے اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دشمنی کرنے کا۔ (شوکانی۔ ابن کثیر )
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

( اے پیغمبر کہ دے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانوں ہر معاملے میں دن کا ہو یا دنیا کا پھر اگر وہ نامانیں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا3

ف 3 اس آیت میں اطاعت الہیٰ کے ساتھ الر سول محمد ﷺ ۔ کی اطاعت کا مستقبل حثیت سے حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد الرسول۔ ﷺ ۔ کی اطاعت سنت کی پیروی سے ہی ہوسکتی ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں کہ حدیث وہی حجت ہوگی جو قرآن کے مطابق ہو حالا ن کہ قرآن نے متعدد موقعوں پر حدیث کو مستقل دلیل اور ما خذ شریعت کی حثیت دی ہے۔ لہذا قانون کا ماخذ قرآن سے زائد حکم تو ہوسکتے ہیں مگر کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے تو یہ اس کے عقل وفہم کا قصور ہے یا اس کی نیت کا فتور۔ (سلسلہ کلام کے لیے دیکھئے سورت النجم 4)
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے سارے جہان کے لوگوں میں آدم اور نوح کو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اور عمران کی اولاد کو پسند کرلیا ہے4

ف 4 اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے اور اب اس آیت میں آپ کی رسالت کے اثبات کے سلسلہ میں فرمایا رہا ہے کہ آّنحضرت ﷺ کا تعلق بھی اس خاندان نبوت سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے۔ (شوکانی) عمران نام کی دو سخصتیں گذری ہیں ایک موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارو ( علیہ السلام) کے والد اور دسرے حضرت مریم ؓ کے والد اکثر مفسرین (رح) نے یہاں عمران ثانی مراد لیا ہے کیونکہ انہی کی آل۔ حضڑت مریم ( علیہ السلام) و عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ کا قصہ بیان کیا جا ہا ہے۔ (ابن کثیر۔ کثیر) غالبا اس سورة کا نام آل عمران اسی قصہ پر رکھا گیا ہے۔
Ayahs 3:34–35

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ایک خاندان دوسرے خاندان کی نسل سے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب عمران کی بی بی) حنہ بنت افاتحوذام) نے پروردگار سے عرض کیا اے میرے مالک جو میرے و میرے پیٹ میں ہے آزاد کر اس کو تیری نذر کرچکی اب قریب کو میری طرف سے بیشک تو سنتا جانتا ہے5

ف 5 تفاسیر امئر ۃ عمران کا نام حنتہ مذکور ہے اور ظاہر دمشق میں ان کی قبر ہے۔ (ابن کثیر، بحر) اس زمانہ میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کے نذر کردیتے ہیں اور عبادت خانے کے سپرد کردیتے۔ عمرانن کی بیوی حاملہ تھیں انہوں نے بھی یہی نذر مانی۔ اور محررا کے معنی ہیں ہے کہ خالصہ کنیسہ کی خدمت کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی )
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب انہوں نے بیٹی جنی تو کہنے لگیں اے رب یہ تو میں نے بیٹی جنی اور اللہ خوب جانتا تھا جو وہ جنی تھیں1 اور نیٹا ( جو ان کی مراد تھا) اس بیٹی کے برابر نہ تھا اور میں اس کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اس کی اولاد کو مردود شیطان کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوںف 2

ف 1 یہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور فرمان باری تعالیٰ ہے۔ (قرطبی) چناچہ یہ دعا قبول ہوئی۔ حدیث میں ہے آنحضرت ، ﷺ نے فرمایا ؛ مامن مولود یولد الامسہ الشیطان حین یولد جفستھل صارخامن مسہ ایاہ ال امرکم دانبھا۔ کوئی بچہ ایسا نہیں جس کو ولادت کے وقت شیطان مس نہ کرتا ہو مگر مریم ( علیہ السلام) اور اس کا بیٹا ( علیہ السلام) ۔ ( بخا ری۔ مسلم )
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے مریم کو اچھی طرح (خو شبی سے) قبول کرلیا اور اچھے طور پر اس کو بڑھایا اور زکریا کے سپرد کیا3 جب زکریا مریم کے پاس حجرے میں جاتا تو وہاں کھنا موجود پاتا) بےفصل کا میوہ) پوچھا اے مریم یہ کھانا تیرے پاس کہاں سے آتا ہے مریم جے جواب دیا للہ کے پاس سے آتا ہے5 بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے

ف 3 ابن اسحاق نے اس کی وجہ حضرت مریم ( علیہ السلام) کی یتیمی بیان کی ہے اور دوسرے مئو رخین نے بنی اسرئیل میں قحط سالی کو سبب کفالت قرار دیا ہے۔ حضرت زکرریا ( علیہ السلام) مریم ( علیہ السلام) کے خالو تھے اور بعض نے بہنوئی بھی لکھا ہے۔ چناچہ حدیث معراج میں آنحضرت ﷺ نے یحییٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کو ابنا خالتہ قرار دیا ہے لیکن شار حین نے اسے مجاز پر محمول کیا ہے۔ (ابن کثیر)4 لفظ محراب سے مرادمعروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنائی جاتی ہے۔ اس کے معنی تو اس چھوٹے سے کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے یہود اور نصاریٰ عبادت خانہ سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے جس میں کنیسہ کے مج اور رہتے تھے۔5 اسلوب کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رزق خرق عادت کے طو پر حضرت مریم ( علیہ السلام) کے پاس پہنچ رہا تھا۔ اکثر تابعین (رح) سے منقول ہے کہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) جب بھی مریم ( علیہ السلام) کے حجرہ میں جاتے تو ان کے ہاں بےموسم کے تازہ پھل پاتے۔ اور رزق سے علم مرادلینا صحیح نہیں ہے۔ (ابن جریر۔ ابن کثیر )
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اسی جگہ ( یا اسی وقت جب حضرت زکریا نے یہ کرامت دیکھی زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی مالک میرے مجھ کو بھی اپنی در گاہ سے نیک اور پاکیزہ اولاد عنایت کر جیسے تو نے مریم کو اپنے ہاں سے خاص رزق پہنچا یا بن بیشک تو دعا سنتا ہے اور قبول کرتا ہے6

ف 6 حضرت زکریا ( علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور ابھی تک بےاولاد تھے۔ بظاہر انہیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح حضرت مریم ( علیہ السلام) کو خرق عادت کے طور بےموسم کا رزق پہنچ رہا ہے ان کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بےموسم کا رزق پہنچا نے ولا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی فرما سکتا ہے۔ چناچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی بعض علما نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں مگر حضرت زکریا ( علیہ السلام) کا اس حالت کو دیکھ کر اظہار تعجب اور دعا کرنا بتارہا ہے کہ یہ رزق خرق عادت ہی مل رہا تھا۔ (م۔ ، ع )
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر فرشوں نے زکریا کو آواز دی وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا بیشک خدا تعالیٰ تجھ کو ایک فرزند یحییٰ کو خوشخبری دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرے گا اور اپنی قوم کا پیشوا ہوگا زکریا حلیم اور بردبار اور عورتوں سے کچھ سرد کارنہ رکھے گا اور پیغمبر ہوگا نیک بندوں میں سے

ف 7 کلمتہ اللہ یہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا لقب ہے جیسے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کا لقب روح القدس ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے۔ جمہور مفسرین نے یہی منعی کیے ہیں، ّ (کبیر شوکانی) حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور سب سے پہلے انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تصدیق کی تھی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)8 حصو رسے مراد ایسا شخص ہے جسے اپنی جنسی خواہش پر پوری طرح حاصل ہو۔ (فتح البیان )