3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 3:40–41

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا مالک میرا لڑکا کہاں سے ہوگا بڑھاپے نے تو مجھ کو لو ڈالا ہے اور میری عورت بانچھ فرمایا اللہ تعالیٰ اسی طرح جو چاہے سو کرتا ہے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا وہ مالک میرے لیے ایک نشانی مقرر کر دے جس سے میں پہچان لوں کہ حکم رہ گیا فرمایا نشانی ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے دنیا کی بات نہ کرے گا مگر اشارے سے ہاتھ کے یا ابرو کے اور ان دنوں میں اللہ کی یاد بہت کر اور صبح شام نماز پڑھتا رہ1

ف 1 یعنی تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باجود ہاتھ یا ابرو کے اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے۔ اس حال میں تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اورے پیمبر وہ وقت یاد کر جب فرشتوں نے کہا اے مریم نبے شک اللہ نے تجھ کو پسند کیا اور تجھ کو پاک یا اور سارے جہان کی عورتوں میں تجھ کو چن لیا خاص کیا عیسیٰ ٰ کی پیدائش کے لیے2

ف 2 اس آیت میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کے بر گزیدہ ہونے کا دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض تاکید کے لیے ہو یا پہلی برگیزیدہ گی سے مراد بچپن میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کو سرف قبولیت بخشنا ہو جو آیت : فتقبلھا ربھا بقبول حسن میں مذکور ہے اور دوسری برگزیدگی سے مراد اللہ تعالیٰ کا نہیں انہیں حضرت ﷺ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدا ئش کے لیے منتخب فرماتا اور خصوصی فضیلت عطا کرتا ہو۔ نسا العالمین۔ سے صرف اس زمانہ کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ احادیث میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کی طرح حضرت خدیجہ ؓ ۔ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ‘ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، دنیا کی بہترین عورت خدیجہ ؓ بنت خویلید ہے۔ بخاری ومسلم) دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل ہوئے مگر عورتوں میں صرف حضرت مریم ( علیہ السلام) بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون ہیں اور عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسی ثرمد کی بقیہ کھانوں پر۔ (بخاری ومسلم )
Ayahs 3:43–44

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم اپنے پر ودگار کے سامنے دیرتک کھڑی رہ اور سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تجھ کو بھیجتے ہیں یعنی وحی سے تجھ کو یہ خبریں معلوم ہوتی ہیں) اور تو ان کے پاس اس وقت نہ تھا جب وہ اپنے اپنے قلم ڈال رہے تھے کون مریم کو پالے پوسے نہ تو اس وقت تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے4

ف 3 یعنی یہ غیب کی باتیں ہیں جن کا علم آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتا تھا لہذا ان باتوں کا صحیح صحیح بیان کرنا آپ ﷺ کو رسول ہونے کے صریح دلیل ہے۔ (ابن کثیر۔ کبیر)4 اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمراب کی بیٹی تھیں۔ جن ان کی والدہ نے انہیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے مجاوروں میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، آ خر کار انہوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(اے بیغمبر وہ وقت یاد کر جب فرشتوں کہا اے مریم اللہ تجھ کو خو شخبری دیتا ہے اپنے ایک کلمہ کی اس کا نام مسیح ہوگا عیسیٰ ٰ بن مریم بڑے مرتبے ولا دنیا اور آخرت میں اور مقرب بندوں میں سے5

ف 5 اس آیت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے جس کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھئے آیت 38، ص 2) مسیح کا لفظ مسح سے مشتق ہے جس کے معنی ہاتھ پھیر نے یا زمین کی مساحت کرنے کے ہیں لہذا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں اور کر ڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تند رست ہوجائے تے تھے۔ یا اس بنا پر کہ آپ زمین میں ہر وقت سفر کر تھے رہتے تھے ، (ابن کثیر )
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ( دودھ پینے میں کی گود یا نہالچہ اور بڑا ہو کر لوگوں سے بات کر گے اور نیک بندوں میں سے ہوگا6

ف 6 سورت مریم آیت 30 ۔ 33، میں وہ باتیں بھی مذکور ہیں جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی پیدا ئش کے بعد مہد میں کیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ماں کی گود میں چار بچوں نے کلام کیا۔ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) شاہد یوسف م، صاحب جریج اور فرعون کی ماشطہ کے لڑکے نے (فتح البیان )
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے عرض کیا مالک میرا بچہ کیسے ہوگا مجھ کو تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا فرمایا اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کا حکم دیتا ہے ہے تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتا ہےف 7 ۔

ف 7 حضرت مریم ( علیہ السلام) کو جب لڑکے کی خوشبری دی گئی تو انہوں نے تعجب کا اظہار کیا (انی یکون لی ولد) کہ مجھے تو آج تک کسی مردنے ہاتھ تک نہیں لگا یا پھر میرے ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟ اللہ تعالیٰ نے کذالک اللہ الخ فرماکر انہیں تسلی دی یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ مزید دیکھئے (سورت مریم آیت 20 ۔ 21)
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ اس کو یعنی حضرت عیسیٰ کو) لکھنا یا آسمانی کتابیں اور حکمت عقل و فہم) اور تورات اور انجیل سکھلادے گا

ف 1 یعنی جب وہ رسول بن کر آئیں گے تو ان کی عوت یہ ہوگی۔۔۔۔ الخ
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

وہ رسول بنی اسرائیل کی طرف میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف نشانی لے کر آیا ہوں1 میں مٹی کا یاک پتلہ چڑیا کی شکل پر بناتا ہوں2 پھر اس پر چھونک پر تا ہوں وہ خدا کی قدرت سے اڑنے لگتا ہے اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھلا چنگا کردیتا ہوں مردو کو چلا دیتا ہوں خدا کے حکم سے3 اور جو کھاکر آؤ اور جو اپنے گھروں میں رکھ چھوڑو وہ سب میں تم کو بتلا دیتا ہوں اگر تم میں ایمان ہے تو یہ بڑی نشانی ہے تمہا رے لیے4

ف 2 یہاں خلق کا لفظ ظاہر شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا احیو اما خلقتم (کہ تم نے جو خلق کیا اسے زندہ کرو) پیدا کرنے اور ندگی دینے کے معنی ہیں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔3 یہاں باذن اللہ لا لفظ مکر ذکر کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یہ معجزات نہ کھا سکتے۔۔ اور یہی ہر نبی کے معجزات کا حال ہے۔ (شو کانی۔ ابن کثیر)4 اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی ( علیہ السلام) کو اس کے زمانے کے منا سب حال معجزات عطا فرمائے ہیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں جا دو اور جا دو گروں کا دور تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ معجزات دے کر بھیجا جن سے تمام جاد وگر دنگ رہ گئے اور ان کی عقل چکرا گئی۔ بآلا آخر از خود مسلمان ہوئے اور اسلام کی راہ میں پھا نسی تک کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں طیب اور علوم طبیعہ (سائنس) کا چرچہ تھا۔ سوا للہ تعالیٰ نے انہیں وہ معجزات عنایت فرمائے جن کے سامنے تمام اطبا اور سائنسدان اپنے عاجز اور درماندہ ہونے کا اعتراف کیے بغیر نہ وہ سکے ہمارے رسول ﷺ کے زمانے میں فصاحت وطلا غت اور شعر و ادب کا ڈنکا بجتا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے نے ان پر وہ کتاب نازل فرمائی جس نے تمام فصحا اور بلغا کی گردنیں خم کردیں اور وہ بار بار چیلنج سننے کے باوجود اس جیسی دس سورتیں تو کجا ایک سورت بلکہ ایک آیت تک پیش نہ کرسکے کیوں اس لیے کہ پروردگار کا کلام مخلوق کے کلام سے مما ثلث نہیں رکھتا، (ابن کثیر۔ کبیر
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور سچ بتاتا ہو تورات کو جو مجھ سے پہلے اتری تھی اور میں اس لیے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو تمہاری شرارت کی وجہ سے تم پر حرام ہوگئی تھیں ان کو حلال کردو خدا کے حکم سے اور میں نشادنی لے کر آیا ہوں تمہارے پاس تمہارے مالک کی طرف سے میرا دعوی ٰ بید لیل نہیں ہے تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

ف 5 حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے وقت تورات میں سے کئی حکم جو مشکل تھے موقوف ہوئے باقی وہی تورات کا حکم تھا۔ (موضح) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اپنی کوئی الگ مستقل شریعت لیکر مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ مسوی شریعت کی تائید و تصدیق کرنے اور بنی اسرائیل کو اقامت تورات کی دعوت دینے کے لیے آئے تھے۔ ، البتہ تورات میں بعض چیزیں جو بطور تشدید ان پر حرام کردی گئی تھیں ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حلال قرار دینا بھی ان کے مشن میں شامل تھا۔ جیسے اونٹ کا گوشت اور حلال جا نوروں کی چربی وغیرہ بعض علما نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے صرف ان چیزوں کو حلال قرار دیا جنہیں یہود نے آپس کے اختلا فات اور مو شگافیوں کی رج سے حرام قرار دے لیا تھا۔ لیکن زیادہ ص صحیح یہی ہے کہ انہوں نے بعض چیزوں کی حرمت کو منسوخ کیا ہے۔۔ (ابن کثیر )
Ayahs 3:51–52

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بع شک اللہ میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی پوچاکرو یہی سیدھا رستہ ہے

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ ٰ نے دیکھا یہودی نہیں مانتے اور ان کے قتل پر مستعدد ہیں تو کہا اللہ راہ میں کون میرا مددگار ہوتا ہے6 حواری کہنے لگے ہم اللہ کے مددگار ہیں7 اللہ پر ایمان لائے اور تو گواہ رہو کہ ہم اس کے تابعدار ہیں

ف 6 یعنی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں میرا مددگار بنے۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے زمانہ حج میں مختلف عرب قبائل سے فرمایا کرتے تھے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں۔ اس لیے کہ قریش نے مجھے پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے تاآنکہ آپ ﷺ کی انصار ؓ مل گئے جنہوں نے آپ ﷺ کو پناہ دی اور اپنے جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی۔ (ابن کثیر)7 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار ؓ کے ہیں۔ اور یہ بنی اسرائیل کا وہ طائفہ ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی تھی، ان کی کی کل تعداد بارہ تھی۔ بائیبل میں ان کے لیے شاگردوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:53–54

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

مالک ہمارے جو تو نے اتارا یعی نجیل شریف اس پر ہم ایمان لائے اور تیرے رسول یعنی حضرت عیسیٰ ٰ کے ہم تابع ہوئے تو ہم کو ان لوگوں میں لکھ لے جو گواہ ہیں

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور انہوں نے یعنی یہودیوں نے جو حضرت عیدی کے دشمن تھے خفیہ داو کیا اور اللہ نے ان سے داؤ کیا اور اللہ سب سے بہتر داؤ کرنے والا ہے

ف 1 یہود کے علما نے اس وقت باشاہ کو بہکا یا کہ یہ شخص ملحد اور تو رات کے احکام کو بد لنا چاہتا ہے اور ان پر اتہام لگائے تو اس بادشاہ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے کچھ آدمی مقرر کردیئے۔ انہوں نے ایک مکان کے اند حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ہیں : اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھا دیا۔ (موضح)
Ayah 3:55

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے وقت پر اپنی موت سے ماروں گا یہ یہودی تجھ کو نہیں مار سکتے اور اپنی طرف تجھ کا اٹھالوں گا اور کافروں کی گندی صحبت پاک کروں گا اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے میں ان کو تیرے ناماننے والوں یعنی یہود پر قیامت غالب رکھوں3 پھر تم سب کو ہمارے پاس لوٹ آنا ہے خواہ عیسیٰ کے پیروہوں یا ان کے منکر جن باتوں میں تم دنیا میں اختلاف کرتے تھے ان کا فیصلہ کردوں کا

ف 2 التوفی کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لینے اور وصول کرلینے کے ہیں، اور یہ اس لفظ کے اصل معنی ہیں۔ اس بنا پر آیت میں متوفیک کے معنی ہیں میں تمہیں پورا پورا لینے والا ہوں۔ اور یہ اس صوت میں ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے روح مع البدن اٹھا لیا جاتا۔ دہلوی متراجم ثلاثہ میں بھی توفی کے اس مفہوم کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کی ایک توجیہ وہ ہے جو متراجم (رح) نے اختیار کی ہے یوں تو قرآن میں اس کے معنی سلادینا بھی آئے ہیں۔ جیسا کہ آیت وھو الذی یتو فٰفکم بالفبل (الف م آیت 60) اور آیت والتی لم تمت فی منا مہا (الذمر 42) میں مذ کور ہے شیخ الا سلام ابن تیمہ نے الجواب الصحیح میں لکھا ہے کہ لغت عرب توفی کے معنی استیفا اور قبض کے آئے ہیں اور یہ نیند کی صورت میں ہوسکتا ہے اور موت کی صورت میں بھی۔ اور یہ توفی الروح مع البدب جمیعا کے لیے بی آتا ہے۔ اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں حضرت ابن عباس سے بھی اصح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) آّسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔ روح) پھر قریب قیامت کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ السلام کا نزول اور دجال کو باب لد میں قتل کرنا متواتر احادیث سے ثابت ہے اور امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ (ابن کثیر) تخصیص) آج تک کوئی مسلمان اس کا قاتل نہیں ہوا کہ عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) مرگئے ہیں اور دوبارہ آسمان سے نزول نہیں فرمائیں گے۔ (وحیدی) اور آنحضرت ﷺ نے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم۔ کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے وفات نہیں پائی اور وہ لوٹ کر آئیں گے۔ (ابن کثیر، ابن جریر) بقیہ بحث کے لیے دیکھئے۔ (النسا آیت 58)
Ayahs 3:56–57

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے تجھ کو نہ نانا ان کو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب کروں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو ہمارے عذاب سے ان کو بچا سکے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے ان کو قیامت کے دن پورا اجر ملے گا اور الہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا تو خود کا ہے کو ظلم کرنے لگا

ف 3 حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے اول تابع نصاری ٰ تھے پیچھے سو ہمیشہ غالب رہے۔ ( موضح) حافظ ابن تیمہ لکھتے ہیں ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہوسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح ( علیہ السلام) کے منکر ہیں ان پر عیسائی ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (تفسیر ابن کثیر )
Ayahs 3:58–59

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیتیں اور چیخ ہوئی باتیں ہم تجھ کو پڑھ کر سناتے ہیں

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک عیسیٰ ٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسے ہے جیسے آدم کی بلکہ اس سے بھی کم اللہ نے آدم کو پتلا مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا آدم ہوجا وہ آدم بن گیا4

ف 4 یہ سورت شروع سے لے کر یہاں تک وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وفد نے آنحضرت ﷺ سے بحث کے دوران میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی بنوہ (بیٹا ہونا) پر اس سے استدلال کیا کیا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تر دید فرمائی کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہو با بنوہ کی دلیل ہوسکتا ہے تو آدم ( علیہ السلام) جو ماں باپ کے بغیر پیدا ہوئے وہ بالا ولیٰ اللہ کا بیٹا کہلا نے کے حقدار ہیں مگر نہ یہ صراحتاباطل ہے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ ( علیہ السلام) کی طرح حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو بھی کن سے پیدا کر کے اپن قدرت کاملہ کو ظاہر فرمادیا ہے۔ (اب ن کثیر )
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ بات حق ہے تیرے رب کی طرف سے یعنی عیسیٰ ٰ کا بن باپ کے بحکم خداوند پیدا ہونا) تو شک کرنے والوں میں مت ہونا5

ف 5 یعنی حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے سامنے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ہے اور اس میں شک وشبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظا ہر نبی ﷺ سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ رازی)
Ayah 3:61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر جب تجھ کو عیسیٰ کا حال معلوم ہوچکا اب بھی کوئی تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑے تو کہ دے آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلادیں تم اپنے بیٹوں کو اروہم اپنی عورتوں کو تم اپنی عورتوں کو ہم اپنی ذاتوں سے شریک ہوں تم انپی ذاتوں سے پھر خداوند کے ساتھ گڑگڑائیں ( روئیں اور عاجزی سے دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعبت بھجیں1

ف 1 جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں اظہار حق اور دلائل کے کے باوجود وفد نجران نے عناد کی راہ اختیار کی تو آخری فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان سے مباہلہ کا حکم دی اجس کی صورت یہ تجویز ہوئی (جیسا کہ آیت میں مذکور ہے) کہ فریقین اپنی جان اور اولاد کے ساتھ ایک جگہ حاضر ہوں ارجو فریق چھوٹا ہے نہایت عجزوانکسار کے ساتھ اس کے حق میں بد دعا کریں کہ اس پر خدا کی لعنت ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ مباہلہ کے لیے حضرت فا طمہ ؓ ، امام حسن ؓ ، امام حسین ؓ اور حضرت علی ؓ کو لے کر نکل آئے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ خلفائے اربعہ اور ان کی اولاد بھی ساتھ تھی۔ یہ منظر دیکھ کر نصارےٰ نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم ان سے ملا عنہ نہ کریں۔ خدا کی قسم اگر یہ اللہ کے نبی ہوئے اور اس کے باوجود ہم نے ملا عنہ کرلیا توس ہما ری اور ہماری اولاد کی خیر نہیں ہوگی، چناچہ انہوں نے آنحضرت سے عرض کی آپ ﷺ جو چاہتے ہیں ہم آپ ﷺ کو دیں گے۔ لہذا آُپ ﷺ ہمارے ساتھ کوئی امانتدار آدمی بھیج دیجئے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ کو کھڑے ہونے کا حکم دیا اور فرمایا : ھذا آمین ھذہ الا متہ۔ کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔ ، یہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) اس آیت سے علما نے استدلال کیا ہے کہ معاند عن الحق سے مباہلہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 3:62–63

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک یہی قصے جو اللہ نے حضرت مریم اور عیسیٰ کے بیان کئے ہیں سچ ہیں اور اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی زبر دست ہے حکمت والا ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

اس پر بھی اگر یہ نہ مانیں ج اور توحید الیہ کو تسلیم نہ کریں تو اللہ خوب جانتا ہے دین بگاڑنے والوں کو2

ف 2 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ وفد نجران والوں نے مباہلہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ لوگ محض دینا کی خاطر آنحضرت ﷺ کی اتباع اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہیں ورنہ ان کے پاس اپنی ضد پر اڑے رہنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ لوگ مباہلہ کرلیتے تو یہ وادی ان پر آگ برساتی۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ مباہلے کے لئے نکلتے تو اپنے گھروں کو اس طرح لوٹتے کہ نہ کوئی مال پاتے اور نہ اہل و عیال۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

ان سے کہ اے کتاب والو یہود اور نصایٰ ایسی بات پر آجاؤ جو برابر مانی جاتی ہے ہم میں اور تم میں یعنی ہم سوا خدا کے کسی اور کو نہ پوجیں ج اور للہ کا شریک کی چیز کو نہ بنائیں اور ہم آپس میں ایک دوسرے کر رب نہ بنائیں اللہ ہی کو رب سمجھیں پھر اگر وہ اتنا سمجھا نے پر بھی3 نہ مانیں تو تم اے مسلمانو اور پیمبر کہ دو تم گواہ ہو ہم تو ایک خدا کے تابعدار ہیں4

ف 3 یعنی اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی طرف دعوت دو ۔ ، چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب ہرقل (شاہ روم) کو خط لکھا تو یہی آیت لکھ کر اس کے سامنے دعوت اسلام پیش کی جیسا کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ اور مدینہ کے یہود کے سامنے بی اسی کلمہ سوائ کی دعوت پیش کی اور آپس میں ایک دوسرے کو رب بنانے کے مفہوم میں سجدہ کرنا بھی شامل ہے۔ ، اور یہ بھی کہ کسی کے قول کو بلاد لیل اسی طرح مان لینا کہ جس چیز کو حلال کہے اسے حلال سمجھا جائے اور جس چیز کو حرام کہے اسے حرام خیال کیا جائے اور کتاب وسنت سے صرف نظر کرلی جائے۔ مزید دیکھئے۔ التو بہ آیت :31 ۔ (شوکانی۔ وحیدی بتصرف) حاٖفظ ابن کثیر (رح) نے اس آیت پر ایک اشکال پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ محمد بن اسحاق نے اس آیت کے مطابق اگر آل عمران کی ابتدائی 83 آیتوں کا سبب نزول وفد نجران کی آمد کو قرار دیا جائے جو بالا تفاق 5 ھ میں مدینہ آیا تو پھر آپ ﷺ نے ہرقل کی طرف یہ آیت کیسے لکھ کر بھیج دی جو 7 ھ کا واقعہ ہے۔ پھر اس کے چار حل پیش کیے ہیں۔ فی الجملہ یہ کہ آیت 1 کا نزول دو مرتبہ تسلیم کیا جائے یا 2 38 آیتوں کی تعین کو محمد بن اسحاق کا وہم قرار دیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے دعوت اسلام کے لیے یہ جملے اپنے طور پر لکھ کر بھیجے ہوں۔ بعد میں یہ آیت اس کے مطابق نازل ہوئی ہوجیسا کہ بہت سے آیات حضرت عمر ؓ کے موافق نازل ہوئیں۔ ہوسکتا ہے کہ وفد نجران کی آمد صلح حدیبیہ سے قبل ہو۔ (ابن کثیر)4 یعنی اگر اہل کتاب اس عقیدہ کے ماننے سے انحراف کریں تو تم اپنی طرف سے عقیدہ پر قائم رہنے کا اعلان کردو۔ اس میں متتبہ کیا ہے کہ اہل کتاب اس عقیدہ سے منحرف ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرردے لیا تھا۔ (ابن کثیر۔ )
Ayah 3:65

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے کتاب والو ابراہیم کے بارئے میں کیوں جھگڑاتے ہو او تورات جس سے یہود کی ابتدا ہے اور انجیل جس سے انصاریٰ ابتدا ہے دونوں ابراہیم کے بعد اتریں کیا تم کو عقل نہیں5

ف 5 یہود حضرت ابراہم ( علیہ السلام) کو یہودی ہونے کے دعوے دار تھے اور نصاریٰ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے نصرانی ہونے کے مدعی تھے اور یہ بات ایسی تھی جو بد ہتہ غلط تھی۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) سے تقریبا ڈھائی ہزار برس پہلے کا ہے پھر وہ یہو دی یا نصرانی کیسے ہوسکتے تھے چناچہ اس آیت میں ان کے اس دعویٰ کی تردید فرمائی ہے۔ (ابن کثیر۔ ابن جریر ) 6 اس آیت میں زصرف غلط پر جھگڑا کرنے سے منع کیا گیا ہے بلکہ مطلقا مجادلہ سے گریز کی نصحیت بھی کی ہے۔ ابن کثیر، فتح القدیر)
Ayahs 3:66–67

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

سنو بیوقوف لوگوتم نے ان باتوں میں جھگڑا کیا جن کو صحیح یا غلط کچھ نہ کچھ جانتے تھے جیسے تورات انجیل کے مضمون اب ان باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں جیسے ابراہیم کا مدعاملہ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم تو نہ یہودی تھا نہ نصرانی تھا وہ تو ایک یکسو مسلمان تھا یعنی اک طرف والا اللہ کا تابعدار اور مشرک نہ تھا1

ف 1 اس آیت اشارہ ہے کہ یہود ونصایٰ اپنے آپ کو اہل کتاب کہلواتے ہیں مگر درحقیقت وہ مشرک ہیں۔ انہوں نے اپنے مشائخ اور علما کو خدا بنا رکھا ہے اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ (وحیدی) مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو یہود یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت سے ملتی چلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ شریعت محمدی کو شریعت ابراہیمی سے زیادہ منا سب ہے۔ تو اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا تم سے زیادہ حق پہنچتا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ہمارے اسے طریق پر تھے۔ (وحیدی)
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

سب لوگوں میں ابرہیم سے زیادہ خصوصیت رکھنے والے یعی زیادہ ماشابہ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی پیروی کی یعنی انکی امت میں تھے اور پھر یہ پیغمبر اور ایمان اوالے مسلمان اور اللہ مسلمانوں کو مدد پر ہے2

ایک حیدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لکلی نبی ولا ۃ من النبین وان ولی منھم ابی واخلینلی کہ ابنیا سے ہر نبی کا کوئی تعلق ہے اور میرا تعلق میرے باپ اور خلیل حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر۔ ترمذی)
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

کتاب والوں کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو گمراہ کردیں حالانکہ وہ اپنے تئیں آپ گمراہ خراب کرتے ہیں مگر سمجھتے نہیں3

ف 3 یہاں طائفہ اہل کتاب سے مراد بنو نضیر اور بنو قریظہ ہیں جو بعض مسلمانوں کو یہودی بنانے میں کو شاں رہتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا مسلمانوں تو ان کے بہکانے میں کیا آئیں گے۔ (شوکانی۔ وحیدی )
Ayah 3:70

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے کتاب والوں اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو اور تم دل سے قائل ہو4

ف 4 آیات اللہ سے مراد نبوت محمد ﷺ یہ کے بارے میں وہ بشارتیں ہیں جو اگلے انبیا ( علیہ السلام) سے منقول تھیں۔ یہود ان کے اپنے طور پر صحیح سمجھتے تھے مگر آیات علی العموم بھی مرادہو سکتی ہیں۔ (شوکان وحیدی)
Ayahs 3:71–72

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے کتاب والوں تم حق کو ناحق کے ساتھ کڈ مڈکیوں کرتے ہو اور جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

حضرت محمد کی بشارتوں کو) اور کتاب والوں میں سے ایک گروہ نے اپنے لوگوں سے کہا صبح کو تم جاکر مسلمان پر جو کتاب اتری ہے یعنی قر ان لا و مکر اور فریب سے اور شام کے وقت منکر ہوجاؤ پھر اپنے دین میں آجاؤ اسلام سے پھر جاؤ شاید اس تدبیر سے6

ف 5 اہل کتاب کی مذہبی شقاوتوں کی طرف اشارہ ہے اوپر کی آیت میں علمائے یہود کی یہ شقاوت بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضر ﷺ کی صداقت کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں۔ اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی گمراہی کا بیان تھا اور اس آیت میں دسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔ ، دیکھئے سورت بقرہ آیت 42، (کبیر، ترجمان) یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے تجدد زدہ حضرات بھی دینوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو یہود و نصاری ٰ تو رات وانجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے بالکل صحیح فرمایا ہے لتتعن سنن من کان قبلکم۔ کہ تم لاز ما پہلی امتوں کے نقش قدم چلے گے۔ (م۔ ع)6 کمزور دل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے متعلق شکوک وشہبات پیدا کرنے کے لیے یہود مختلف سازشیں کرتے رہتے تھے یہ بھی اسی سلسلہ کی ان کی ایک سازش کا بیان ہے کہ صبح کے وقت قرآان اور پیغمبر پر ایمان کا اظہار کرو اور شام کو کفر و انحراف کا اعلان کردو۔ ممکن ہے اس طریقہ کے اختیار کرنے سے بعض مسلمان بھی سوچنے لگیں کہ آخر یہ پڑھے لکھے مسلمان ہونے کے بعد اس تحریک سے الگ ہوگئے ہیں تو آخر انہوں نے کوئی خرابی یا کمزور پہلو ضرور دیکھا ہوگا َ ؟۔ ( ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

مسلمان بھی اپنے دین سے پھرجائیں اور سو اپنے دین والوں کے دوسرے کسی کی بات نہ مانو کیونکہ سوا تمہارا کوئی دوسرا ہدایت پر نہیں اے پیمبر کہہ دے ہدایت تو وہی ہے اللہ کی ہدایت ایسا نہ ہو کہ دوسرے کسی کو بھی وہ بات حاصل ہوجائے جو تم کو حاصل ہے یا وہ قیامت کے دن تمہارے رب کے پاس تم سے بحث کریں اے پیمبر کہہ دے فضل کرنا اللہ کے اختیار میں ہے جس پر وہ چاہتا فضل کرتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے اور علم فرماتا ہے تمہارے مکر سے کیا ہوتا ہے اللہ کشائش والا ہے

ف 7 یہ بھی ان ظائفوں کا کلام ہے جن کا اوپر سے ذکر چلا آرہا ہے اور اس سے ان کا مذہبی تعصب اور حسد ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے متبعین کو تاکید کرتے رہتے ہیں۔ الخ مترجم (رح) توضیحات سے آیت کو جو مفہوم ظاہر ہوتا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جملہ ان یئوتی ٰ اور او یحاجو کم کا تعلق لاتومنوا سے ہے ای لئلایوتی اولئلا یحاجو کم مگر امام طبری (رح) نے ایک دوسری توجیہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ دونوں جملے لا تومنوا کے تحت ہیں اور معنی یہ ہیں کہ اپنے مشروب کے سوا کسی کی بات پر یقین نہ کرو نہ یہ تسلیم کرو کہ تمہاری طرح کسی کو علم وفضل ملا ہے اور نہ یہ مانو کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے بایں صورت قل ان الھدی الخ جملہ معترضہ او اس کا ربط قل ان الفضل بید اللہ کے ساتھ ہوگا۔ (ابن کثیر۔ ابن جریر) یہاں تک ان کی خیانت دینی اور مذہبی تعصب کا بیان تھا۔ اب اگلی آیت میں ان کی خیانت عالی اور مسلمانوں سے بغض کا بیان ہے۔ (کبیر )
Ayahs 3:74–75

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

خبردار جس کو چاہتا ہے اپنی مہربارنی کے لیے خاص کرتا ہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور کتاب والوں میں کوئی تو ایسا ہے کہا گر چاندی سونے کے ڈھیر اس کے پاس امانت دکھادے تو وہ مانگنے کے ساتھ ہی ادا کردے اور کوئی ان میں ایسا ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھا دے تو پھر تجھ کو نہ دے مگر جب سدا اس کے سر کھڑا رہے یہ بےایمانی اس لیے کرے ت ہیں وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ جاہلوں کا عرب کے لوگوں کا جو اہل کتاب نہ تھے مال مار لیں تو ہم پر کوئی گناہ نہ ہوگا اور جان بوجھ کر الہ پر جھوٹ باندھتے ہیں1

ف 1 یعنی خدائے تعالیٰ پر جان بوجھ کر الزام رکھ رہے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کی امانت میں خیانت کا حکم نہیں دیا خواہ وہ اسرائیل ہو یا عرب بلکہ اسلام نے تو کسی ذمی کے مال کو بھی بلا اجازت لینا جائز قرار نہیں دیا اور کسی حربی کے مال کو خیانت سے کھانے کی اجازت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : کذب اعدا اللہ مامن شئی کان فی الجاھلیتہ الا وھو تحت قد منی ھاتین الا الا ما نتہ فانھا مئو داۃ الی البروالفاجر کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا زمانہ جاہلیت کی سب چیزیں میرے پاوں تلے آگئیں (یعنی باطل قرار دے دی گئیں مگر امانت کہ اسے بہر حال ادا کیا جائیگا خواہ وہ امانت نیک کی ہو یا بد کی۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:76

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

کیوں نہیں ان پر ضرور گناہ ہے جو شخص اپنا قرار پو را کرے اور شرک اور بد معاملگی سے پرہیز کر تو اللہ محبت رکھتا ہے پر پیز گارو سے2

ف 2 بلی ٰ کیوں نہیں یعنی اس کی بد عہدی اور خیانت پر ضرور مئو خذہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے۔ (اس میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہو معالہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے او اس شریعت کی اتباع کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ لے کر مبعوث ہوئے۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ اپنے قرار کے بدلے جوانوں نے اللہ سے کیا تھا کہ اس کے سبب پیمبروں پر ایمان لائیں گے او اپنی قسموں کے بدلے قسم کھائی تھی کہ جب آخرالزمان ظاہر ہوں گے توانکے شریک ہوں گے ایک ذرہ سامول لیتے ہیں یعنی دنیا کا مال ومتاع ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں الہ ان سے بات تک نہیں کرے نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا نہ3 گناہوں سے ان کو پاک کرے گا اور ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا

ف 3 عبد اللہ بن ابی اوفیٰ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں سامان لگا یا اور جھوٹی قسمیں کھا کر بیجنے لگا تاکہ کوئی مسلمان خریدے اور اسے دھوکادے سکے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو لوگ بد عہدی خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں کا مال ہضم کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی قیامت دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال سے ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کریں گے ان میں سے ایک وہ ہے جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے ، (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور کتاب والوں میں یاک فرقہ ہے جو توریت کو زبان کر پڑھتا ہے اس لیے کہ تم سمجھو تورات پڑھ رہا ہے حالا ن کہ وہ ترات کی عبادت نہیں ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس اترا ہے حالانکہ وہ اللہ کے پاس نہیں اترا ہے بلکہ ان کا بٹا ہوا ہے اور جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں4

ف 4 اس کا عطف پہلی آیت جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت بھی یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے (کبیر) آیت کے معنی یہ ہیں کہ تورات وانجیل میں تحریف کرتے ہیں اور اس میں خصوصا ان آیات میں جن میں آنحضرت ﷺ کی نعمت مذکور ہے) کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا کر اس انداز اور لہجہ سے پڑھتے ہیں کہ سننے والا ان کو منزل من اللہ سمجھ لیتا ہے حالا ن کہ وہ منزل نہیں ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ ان کی خدا سے بےخوفی اور ڈھٹائی کی حد ہے ان چیزوں کے خدا کی طرف سے ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجود تورات وانجیل محرف ہیں اور اپنی آصلی شکل میں موجود نہیں ہیں۔ علما نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ (روح المعانی۔ ابن کثیر )
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کوئی آدمی ایسا نہیں کرنے کا کہ اللہ اس کو کتاب اور حکم اور پیمبری سے سرفراز کرے پھر وہ اللہ کے یہ سب احسان اور سرفراز یاں فراموش کر کے لوگوں سے کہنے لگے خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہاں یوں کہے گا اللہ والے بن جاؤ یعنی خدا پرست یا لوگوں کو تعلیم و تربیت کرنے والے یا عالم باعمل کیونکہ تم اللہ کی کتاب کو پڑھاتے اور خد بھی پڑھتے رہے ہو1

ف 1 توراۃ وانجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی الوہیت کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان سے اپنی الوہیت کا دعویٰ محال ہے۔ (کبیر) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے عیسائی اور مدینہ کے چند یہود علما آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) کی بنوۃ خدا کا بیٹا ہونے) کا رد کیا او ان مسلمان ہونے کی دعوت دی۔ اس پر ایک یہود عالم نے ابو رافع القرضی کہنے لگا اے محمد ﷺ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کی عبادت کرنے لگیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا معاذ اللہ کہ ہم غیر اللہ کی عبادت کریں یا کسی کو اس کا حکم دیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لیے نہیں بھیجا ہے او نہ مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ایضا کبیر) پھر جب نبی اس کا مجاز نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور اٗئمہ اس مرتبہ پر کیسے فائز ہوسکتے ہیں۔ انبیا کی بحیثیت نبی ہونے کی اتباع واجب ہوتی ہے مشائخ اور ائمہ تو واجب الا تباع بھی نہیں ہوسکتے۔ (ابن کثیر بتصرف، شوکانی) الربنی۔ رب پر الف نون بڑھا کر یا نسبت لگا دی گئی ہے اور اس کے معنی عالم باعمل کے ہیں۔ مبرو فرماتے ہیں کہ یہ ربہ یر بہ فھو ربان ہے۔ یعنی صیغہ صفت ربان کے ساتھ یا نسبت ملحق ہے۔ (فتح البیان) بما کنتم میں با برائے مصیبت ہے یعنی چونکہ تم تعلیم ودراست کا مشغلہ رکھتے ہو اس لیے تمہیں عالم باعمل اور خدا پرست بننا چاہیے (بضاوی) حضرت شاہ صا حب لکھتے ہیں : ہاں تم کو ( اے اہل کتاب) یہ کہتا ہے کہ تم میں جو آگے دینداری تھی کتاب کا پڑھنا اور سکھا نا وہ نہیں رہی۔ اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔ اور یہ بات اب قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور سکھنے سکھانے سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ فائدہ کسی شخص میں اگر علم اوکتب الہٰیہ کی دراست سے خد اپرستی کی خصلت پیدا نہیں ہوتی تو یہ مشغلہ تحضیع اوقات ہے اور آنحضرت ﷺ نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے لا ینفع ( اے للہ ! میں ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں و غیر نافع ہو) (رازی۔ فتح البیان ) مضمون اور نزول کے اعبتار سے آیت سابق سے متعلق ہے۔ یہود و نصاریٰ میں نبیوں اور فرشتوں کی پرستش کی جاتی تھی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ نصاریٰ نے انبیا ( علیہ السلام) اور فرشتوں کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ ان کو الو ہیت کے مقام پر کھڑکر دیا۔ (جامع البیان) حدیث اتخذوا قبور انبیا ھم مساجد او صورو فیھم تیک الصور (کہ انہوں نے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا اور انمیں ان کی تصویریں لٹکا دیں) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نبی ( علیہ السلام) یا فرشتے کی پرستش صریح کفر ہے اور کوئی ایسی تعلیم یا فلسفہ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھائے یا اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی ( علیہ السلام) کی تعلیم نہیں ہوسکتی۔ ایا مر کم میں استفہام انکاری ہے یعنی یہ ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ انبیا تو لوگوں کی عبادت الہی کی تعلیم دینے اور مسلمان بنانے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں نہ کہ الٹا کافر بنانے کے لیے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) ان آیات سے مقصود ایسے دلائل کی وضاحت ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر دال ہوں۔ (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کے بعد ہر نبی ( علیہ السلام) سے عہد لیا ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی ( علیہ السلام) کی تصدیق اور اس کی مدد کریگا اور اس بارے میں کسی کی گروہ بندی اور عصیت اس کے راستے رکا وٹ نہیں بنے گی۔ اگر وہ نبی ( علیہ السلام) اس کی زندگی میں آجائے تو بذات خود اس پر ایمان لائے کا ار اگر اس کی وفات کے بعد آئے تو وہ اپنی امت کو بعد میں آنے والے نبی ( علیہ السلام) پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم سے جائے گا۔ اساعتبار سے گو یا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) پر اور حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) سے آّنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ہے، بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے تمام انبیا ( علیہ السلام) سے فروادایہ عہدلیا گیا تھا کہ اگر ان کے زمانے میں نبی آخرالز مان ظاہر ہوجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ہوگا۔ (وحیدی) بہر حال آنحضر ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور واجب الا تباع ہیں۔ اب آپ ﷺ کے سوا کسی اور نبی کی اتباع جائز نہیں ہے۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں چند اوراق تھے جو ان کی کسی یہودی نے تورات سے لکھ کردیئے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے وہ اوراق پیش کرنے کی اجا ازت مانگی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میر جان ہے اگر تم میں موسیٰ ( علیہ السلام) بھی آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو گمراہ ہوجا و گے۔ (س دارمی )