3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 3:120

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہارا فائدہ ہو تو ان کو برا لگے اور جو نقصان ہو تو خوش ہوں۔ اور اگر تم صبر اختیار کرلو اور ان کی دوستی سے بچے رہو تو ان کے فریب سے تمہارا کچھ بھی نہیں بگڑ نے کا اس لیے وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کو سب معلوم ہے6

ف 6 اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے دشمنوں کے مکرو فریب اور ان کی چالوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ تم صبر و استقلال اور تقوی سے کام لو اگر یہ اصول اپنا لوگے تو وہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (مدارک) شاہ صاحب فرماتے ہیں یکہ اکثر منا فق بھی یہودی میں تھے اس واسطے ان کے ذ کر کے ساتھ یہود کا ذکر بھی فرما دیا ابآگے جنگ احد کی باتیں مذکو رہیں کیونکہ اس میں بھی مسلما نوں اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں (موضح )
Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور اے پیمبر وہ وقت یاد کر جب تو اپنے گھر حضرت عائشہ ؓ کے پاس) سے نکل کر مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر بٹھانے لگا اور اللہ جو کہو اس کو) سنتا ہے اور جو دلوں میں ہو جانتا ہے7

ف 7 اب یہاں سے جنگ احد کا بیان ہے۔ جنگ بدر میں میں ذلت آمیز شکست کے بعد مشرکین نے جوش انتقام میں مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا اور اردگر سے مختلف قبائل کو جمع کر کے تین ہزار کا مسلح لشکر لیا اور جبل احد کے قریب آکر ٹھہر گئے آنحضرت ﷺ بھی صحابہ ؓ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک ہزار کی جمعیت لے کر باہر نکلے۔ مقام شوط پر عبد اللہ بن ابی نے دھوکا دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا اس بعض مسلمانوں کے حوصلے بھی پست ہوگئے جیسا کہ آگے آرہا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ثا بت قدمی بخشی آنحضرت ﷺ سات سو صحانہ ؓ کی یہ جمعت لے کر آگے بڑھے اور احد کی قریب وادی میں فوج کو آراستہ کیا جس کی طرف قرآن کی طرف قرآن نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔ اسلامی فوج کی پشت پر جبل احد تھا اور ایک جانب ٹیلے پر عبد اللہ بن جبیر کی سرگردگی میں پچاس تیز اندازوں کا دستہ متعین تھا اور آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا تھا کہ کہ جگہ کسی بھی صورت میں چھوڑ کرم مت آنا مگر وہ کفار کو پسیا ہوتے دیکھ کر نیچے اتر آئے اور اس گھاٹی کو چھوڑ دیا جس سے مشرکین کو عقب سے حملہ کرنے کا موقعہ مل گیا اس اچانک حملہ سے مسلمانوں کے پاوں اکھڑ گئے۔ آنحضرت ﷺ اور چند صحابہ ؓ آپ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ آنحضرت ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور پیشانی مبارک بھی زخمی ہوگئی آخرکار صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ کے گرد دوبارہ جمع ہوئے جس سے میدان جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دشمن کا نا کام ہو کر لوٹ جانا پڑا۔ ان آیات میں بعض وقعات کی طرف اشارے آگے آرہے ہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم سے دو ٹکڑیو ﷺ ں نے ہمت ہار دینی چاہی اور نامردی ان کے دل میں سمائی اور اللہ ان کا مددگار تھا (اس نے ان کو سنبھال لیا اور مضبوط کردیا) اور مسلمانوں کو چاہیے اللہ پر بھروسا رکھوف 8

ف 8 ان دو گروہوں سے مراد انصار ؓ کے دو قبیلے۔ بنو سلمہ اور بنو حارثہ۔ ہیں جو عبد اللہ ابن ابی کی جماعت کی واپسی دیکھ کر دل شکشتہ ہوگئے تھے۔ اور نھوں نے واپس آنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ (قربطی )
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور البتہ اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے بدر میں تمہاری مدد کرچکا تھا اس وقت تم تھو ڑے سے تھے1 یا بےسامان تھے پس ڈرو اللہ سے تو نہ تم احسان مانو

ف 1 اذلتہ کے لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعف حال کی طرف اشارہ ہے مقام بدر مدینہ سے قریبا 60 میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔ یہ وقعہ بروز جمعہ 27 رمضان المبارک 2 ھ ( مارچ 624) کو پیش آیا، اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معر کہ بدر کے وقعات پر غور وفکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقوی یٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگ بدر کی تفصیل کے لیے سورة انفال آیت 41 دیکھئے (شوکانی، ابن کثیر )
Ayahs 3:124–125

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تو مسلمانوں سے کہہ رہا تھا کیا تم کو بس نہیں اللہ تین ہزار فرشتوں کو تمہاری مدد کے لیے بھیج دے وہ آسمان سے اتریں

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

کیوں نہیں یہ تم کو بس ہیں اگر تم میدا جنگ میں جمے رہو اور میری بات نہ سننے اور بھاگنے سے بچے رہو اور دشمن اسی دم تم پر چڑھ آئیں تو تمہار امالک پا نچ ہزار فرشتوں سے جب پر نشان ہوگا تمہا ری مدد کرے گا 2

ف 2 اذ تقول للمئو منین میں ظرف کا تعلق یا تو ولقد نصر کم اللہ ببدر سے ہے اور جنگ احد سے۔ امام طبری نے اول کو ترجیع دی ہے۔ یعنی جب کفارہ کی تیاری اور کثرت تعداد کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں تسویش دی۔ چن نچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے (ابن کثیر۔ شو کانی) اور مسومین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ بدر کے میدان فرشتوں کی تعداد ایک ہزار اور تین ہزار بھی منقول ہے جو منقول ہے جو بظاہر تعارض ہے۔ اس کا حل سورة انفال آیت 9 میں ملا حظہ ہو، ابن کثیر۔ قرطبی) بعض کے نزدیک اس وعدہ کا تعلق جنگ احد سے ہے اور انہیں نے کہا ہے چونکہ مسلمانوں نے توکل اور صبر سے کام نہ لیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدد کو روک لیا ورنہ ظاہر ہے کہ فرشتے نازل ہوتے تو مسلمان شکست نہ کھاتے۔ (ابن جریر )
Ayahs 3:126–128

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور الہ تعالیٰ نے یہ مدد اس لیے بھیجی یہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہاری دلون کو اس سے تسلی ہو ورنہ فتح تو خدا ہی کی طرف سے ہے جو زبر دست ہے حکمت والا

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

دوسرا مطلب یہ تھا کہ کافروں کے ایک گروہ کو کاٹ ڈالے یا ان کو ذلیل کرے وہ نامراد لوٹ جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

( اور پیمبر) تجھے اس کام میں کوئی دخل نہیں یا ان کو تو نہ نصیب کرے وہ مسلمان ہوجائیں یا ان کو عذاب کرے اس لیے کہ وہ ناحق پر ہیں3

ف 3 اس آیت میں پیغمبر سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں ہر قسم کے اختیار رات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ازموضح) تفاسیر میں ہے کہ احد کے دن جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ ﷺ کی چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیف یفلح قوم شجو ابیتھم اور بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے نمازوں میں قنوت بھی شروع کردی جس میں نام لے کر مشرکین پر لعنت بھجتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دعاقنوت ترک کردی اور یہ وقعہ ہے کہ جب کے نام لے کر آپ ﷺ بدعا کرتے تھے وہی قبلیے بعد میں مسلمانوں ہوگئے۔ اسی طرح ا او یتوب علیھم کا منظر سامنے آگیا ابن کثیر ،۔ قرطبی) جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی حرمت کی حکم بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے مگر علما نے لکھا ہے کہ اوپر جہاد میں فشل نامردی کا ذکر ہوا ہے اور سود خواری سے قوم میں دھن اور بزدلی پیدا ہوتی ہے خود غرضی اور بخل کا جذبہ فروغ پا جاتا ہے۔ اور سود خوار قوم جہاد کے قابل نہیں رہتی اور پھر انصار کے یہود کے ساتھ سودی لین دین کے تعلقات تھے اور احد میں منافقین یہود کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا گویا اس کو حرام قرار دیکر ان تعلقات کو ختم کردیا۔ ( حواشی مختلفہ) زمانہ جاہلیت میں بہت سے لوگ دوسروں کو سودی قرضے دیا کرتے جب قرضہ کی میعاد ختم ہوجاتی تو مقروض سے کہتے قرض اد اکر و ورنہ سو میں اضافہ کرو۔ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں میعاد میں توسیع کردی جاتی اور سود کی مقدار اصل زر سے بھی کئی گنا زیادہ ہوجاتی اور یہ سود تجارتی اور غیر تجارتی دونوں طرح کا ہوتا تھا۔ جیسا کہ آیت کی تفسیر کے تحت تابعین نے تصریح کی ہے سودی کاروبار کی اس بھانک صورت حال کی طرف قرآن نے اضعافا مضا فعتہ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے ورنہ یہ ملطب نہیں ہے کہ مرکب سود حرام ہے اور سادہ جائز ہے۔ اسلام میں ہر قسم کا سود حرام ہے اور اس کا ادنی ترین گناہ ماں سے بدکاری کے برابر ہے۔ باقی دیکھئے بقرہ آیت 275 شوکانی ،۔ ابن کثیر )
Ayahs 3:129–131

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسب اللہ ہی کا ہے اسی کے ملک ہے اور اسی کا ختیار ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب کرے اور الہ بخشنے مہر بان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

مسلمانو سود مت کھاؤ دونے پر دونا4 اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے بچے جو کافروں کے لیے طیار ہوئی ہے5

ف 5 اس میں اشارہ ہے کہ سود کھانا ارکھلا نا مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا جو شخص یہ کام کرتا ہے وہ صریحا کافر ہے اور اسے اپنے آپ کو جہنم کی آگ کے لیے تیارکھنا چاہیے۔ قر طبی )
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کہا مانو اس لیے کہ تم پر اللہ کا رحم ہو1

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار تو وہی شخص ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمانبردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں اس میں ہر نافرمان کے لیے عتاب ہ وسکتا ہے۔ کبیر )
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کو چوڑاؤ آسمان اور زمین کے برابر ہے تو لنباؤ کا کیا کہنا) ان پرہیز گارون کے لیے تیار ہوئی ہے2

ف 2 یعنی جس طرح سود خوار کافر کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے اسی طرح تابعدار متقی کے لیے جنت تیار کی گئی ہے اور پھر جنت کے متعلق عر ضھا السموات والا رض فرماکر اس کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ اگر جنت کا عرض آسمان کے برابر ہے تو دوزخ کہاں ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات چھا جائے تو دن کہا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو آپ ﷺ نے فرمایا یہی حال دوزخ کا ہے۔ یعنی تکون حیث شاہ اللہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح ایک جانب رات ہوتی ہے اور دوسری جانب دن ہوتا ہے یہی حال جنت دوزخ کا ہے اس سوال کا یہی جواب حضرت عمر ؓ اور عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر) جنت اور جہنم کے جو اوصاف قرآن و حدیث میں مذکور ہیں ان پر بلا کیف ایمان رکھان ضروری ہے خواہ ہمارے عقل وذہن کی رسائی ان تک نہ ہو اور یہی نہیں بلکہ جملہ امور آخرت کا یہی حال ہے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو فراغت اور تنگی دونوں حالوں میں خرچ کیے جاتے ہیں اور غصہ پی جاتے ہیں4 کس کو تکلیف نہیں دیتے باوجود قدرت کے اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں5 ان کا قصہ معاکر ستے ہیں اور اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والو کو

ف 3 اب ان آیات میں اہل کتاب میں اہل جنت کی صفات کا ذکر ہے چناچہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ خوشحالی اور تنگدستی ہر حالت میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کا موں اور رضائے الہٰی کے لیے مال صرف کرنے سے انہیں کوئی چیز غافل نہیں کرتے3 اب ان آیات میں اہل جنت کی صفات کا ذر کر ہے چناچہ ان کی پہلی صفات یہ ہے کہ خوشحالی اور تنگدستی ہر حالت میں وہ اپنی استعاعت کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں اور نیک کاموں اور رضائے الہٰی کے لیے مال صرف کرنے سے انہیں کوئی چیز غافل نہیں کرتی۔ (ابن کثیر ) 4 ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کی بجائے اس پر قابو پالیتے ہیں کہ۔۔ ایک روایت میں ہے پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو پر قابو رکھے۔ (بخاری۔ مسلم) حضرت ابن عباس ؓ سے راویت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسند یدہ گھونٹ غصہ کا گھونٹ ہے جسے بندہ پہ لیتا ہے۔ جو شخص اپنا غصہ پی لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان بھردیتا ہے۔ مسند احمد)5 یہ دراصل غصہ پی جانے کا لازمی تقاضا ہے۔ ایک حد یث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا جو کوئی عفودودر گزر کام لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت افزائی فرماتے ہیں اس باب متعدد احادیث وارد ہیں۔ (ملا حظہ ہو ابن کثیر )
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ جو کوئی براکام کر بیٹھتے ہیں یعنی کبیرہ گناہ یا اپنے تئیں نقصان پہنچاتے ہیں یعنی صغیرہ گناہ تو خدا کو یاد کر کے اس سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں6 اور خدا کے سوا بخشنے والا اوکون ہے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کے ہٹ نہیں کرتے7

ف 6 یعنی اگر بشر تقاضے کے تحت ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا تو وہ فورا اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ معافی چاہتے ہیں۔ صحیحین کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نے فرمایا جب کوئی بندہ گناہ کر کے توبہ استغفار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے میرے بندے کو معاف کردیا۔ ابن کثیر)7 اصرار کے معنی ہیں اڑجانا اور لا پر وائی سے گناہ کرتے جانا اور ان پر ندامت کا اظہار نہ کرنا ارونہ تو بہ ہی کرنا ورنہ اگر کسی شخص سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہ سرزد بھی ہوجاتا ہے تو اسے اصرار نہیں کہتے۔ چناچہ ایک حدیث میں ہے ما اصر من استغفر وان عادفی الیوم اسبعین مرہ کے سچے دل سے توبہ و استغفار کے بعد اگر کسی شخص سے ایک دم میں ستر مرتبہ بھی گناہ سرزد ہوجائے تو اسے مٖصر نہیں کہا جائے گا۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) وھم یعلمون یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو شخص توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔ ابن کثیر
Ayahs 3:136–137

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

انہیں لوگوں کا بدلہ بخشش ہے انکے مالک کی طرف سے اور باغ ک کے تلے نہرین بہہ رہی ہیں ہمشہ ان میں رہیں گے اور نیک کام کرنے والوں کی مزدوری کیسی عمدہ ہے

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم سے پہلے بہت سے واقع گزر چکے ہیں تو زمین کی سیر کرو دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا8

ف 8 اوپر کی آیات میں طاعت اور معصیت سے توبہ پر غفران اور جنت کا وعدہ فرمایا۔ اب یہاں طاعت اور توبہ کی ترغیب کے لیے پہلی امتوں کی تاریخ پر غور فکر کا حکم دیا ہے تاکہ ان مطیع اور عاصی کے احوال پر غور کر کے انسان اپنے لیے سامان عبرت حاصل کرے۔ (کبیر۔ ابن کثیر) سنت کے معنی طریق مستقیم اور اس نمونے کے ہیں جس کی اتباع کے لیے نمونہ اور طریق مستقیم ہوتا ہے اس لیے اسے سنت کہا جاتا ہے۔ ّ (کبیر) جنگ احد میں جب ستر مسلمان شہید ہوگئے اور کچھ زخمی ہوئے تو اس شکست سے مسلمانوں کو قدرتی طو پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تسلی کہ اس شکست اسے افسردہ خاطر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ بات تو امم سابقہ اور اور نبیا ﷺ کے متبعین میں ہوتی چلی آئی ہے کہ ابتدا میں ان کو تکالیف سے دوچار ہوتا ہے اور بآلا خر جھٹلانے والے ذلیل و خوار ہوئے۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

عام لوگوں کے واسظے تو یہ9 تاریخی بیان ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے ہدایت اور نصحیت ہے

ف 9 یعنی قرآن میں اس کا واضح ثبوت موجود ہے کہ پہلی امتوں کا ان کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ میں کیا حال ہوا۔ چناچہ قرآن جابجا متقین کے نیک انجام اور مکذبین کی ہلاتک کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (کبیر، ابن کثیر )
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور ہمت مت ہارو نہ آرزو وہ ہو اور اگر تم ایمان دار ہو تو خیر میں تم ہی غالب ہو گے1

ف 10 اوپر کی آیت : قد خلت الخ اس بشارت کی تمہید تھی اور انتم الا علون کے لیے بمنزلہ دلیل کی امم سابقہ کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو گو عارضی غلبہ حاصل ہو امگر آخر کار وہ تباہ برباد ہوگئے یہی حال تمہار ہے اس لیے کسی قسم کے دھن اور ضعف سے کام نہ لو۔ آخرکار غلب رہوگے چناچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے کبیر، وحیدی)
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اور یہ جو کافروں کو اب کی فتح ہوئی اس لیے بھی تھی کہ اللہ ایمان الگ کر کے دیکھ لے اور چند لوگوں کو تم میں سے شہادت کا درجہ عطا فرمائے اور اللہ ظالموں کو یعنی کافروں کو پسند نہیں کرتا

ف 1 یعنی اگر احد کے دن تمہیں ان مشرکین کے ہا تھوں نقصان پہنچا ہے تو تم بدر کے دن انہیں اسی قسم کا نقصان پہنچا چکے ہو اور یہ کچھ پریشانی کی بات نہیں الحرب سجال جب بھی دو گروہوں میں جنگ ہوئی ہے تو کبھی ایک کا پلڑا بھارہا ہے اور کبھی دوسرے کا۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس لیے کہ اللہ پر کھ لے ایمان والوں کو اور کافروں کو بالکل ستیناس کردے2

ف 2 جنگ احد میں امسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا اور یہود ومنا فقین کے مطا عن مزید دل آزاری کا با عث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور بزمیت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ فتح وشکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے یہ حق ونا حق کا معیار نہیں ہے۔ آج اگر تم نے زخم کھا یا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمہارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھاچکے ہیں اور خود اس جنگ میں اتبدا ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں جیسا کہ اذتخسو نھم باذنہ سے معلوم ہوتا ہے۔ تمہارے شکست کھانے کا فائدہ یہ ہوا کہ ایمان واخلاص اور کفر ونفاق میں تمیز ہوگئی مومن اور منافق الگ الگ ہو گے مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی جو عند اللہ بہت بڑا شرف ہے ورنہ اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے بلکہ فتح وشکست کے اس چکر سے مومنوں کو تمحیص اور کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصو ہے اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرورر ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہوگی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لے گے چناچہ غزوہ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفا رن دفاعی جنگیں تو لڑی ہیں مگر خود حملہ کی جرات نہ کرسکے۔ (ماخوذ از کبیر وشوکانی وغیرہ)
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھے کہ جنت میں چل دیں گے اور ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں دیکھا کو کون تم میں جہاد کرتے ہیں اور نہ یہ دیکھا کہ کون ثابت قدم رہتے ہیں3

ف 3 یہاں ام بمعنی بل ہے (قرطبی) ابھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں جو کچھ تھا اسے ظاہر نہیں کیا اور کھول کر انہیں دکھا یا کہ کون جہاد کرتے اور لڑائی میں ثا بت قدم رہتے ہیں کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسی آزمائش سے پہلے تم کو جنت میں لعلی ٰ مراتب مل جائیں گے مطلب یہ ہے کہ جب تک اس قسم کی آزمائشوں میں پورے نہیں اترو گے جنت میں اعلی ٰ مرابت حاصل نہیں ہوسکتے۔ (وحیدی بتصرف )
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم و خود موت آنے سے بیشتر اس کی آروز کیا کرتے تھے اب تو تم نے آنکھوں سے اس کو دیکھ لیا4

ف 4 الموت جنگ یا شہادت۔ (معالم) جن لوگوں کو جنگ بدر میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ دشمن سے مقا بلہ کا موقع ملے تو ہم بھی شہدا بدر کا درجہ حاصل کرلیں مگر جب جنگ احد میں یہ موقع ملا تو ثابت قدم ہ رہے اور مقابلہ سے بھاگ نکلے۔ْ اس آیت میں صحابہ ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تمہاری تمنا کہ مطابق اب یہ موقع آیا ہے تو تمہیں چاہیے تھا کہ پوری جوانمردی سے دشمن کا مقابلہ کرتے اور پا مردی کا ثبوت دیتے۔ حدیث میں ہے کہ دشمن سے مڈ بھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کر ور لیکن اگر مڈبھیٹ ہو تو ثابت قد رہو اور جان لو جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ ( ابن کثیر از صحیحین )
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد تو صرف رسول ہے یعنی اللہ کا بھیجا ہو بندہ اس سے پہلے اور کئی رسول ہو گزرے ہیں کیا اگر وہ مارا جائے تو تم الٹے پاؤں اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ گے اور جو کوئی الٹے پیروں پر کفر کی طرف پھرجائے تو خدا کا کچھ بگاڑے گا اپنا ہی بگاڑ کرے گا اور اللہ جلد بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو5

ف 5 جن گا احد میں بعض صحابہ ؓ نے تو مرتبہ شہادت حاصل کیا اور بعض میدان چھوڑ کر فرار ہونے گلے آنحضر ﷺ بھی زخمی ہوگئے او کسی شیطان نے آپ ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی صحابہ ؓ اس افواہ سے انتہائی شکستہ خاطر ہوگئے اور ہمت ہار بیٹھے اور منافقین نے طعن طنز کے نشتر حپھبو نے شروح کردیئے کہ اگر محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو قتل کیوں ہوتے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ کیا پیغمبر کے قتل ہونے یا طبعی موت مرجانے سے اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑ بیٹھو گے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہو (ابن کثیر قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور اشارات نکلتی ہے کہ حضرت ﷺ کی وفات پر بعض لوگ پھر جاویں گے۔ اسی طرح ہوا کہ بہت سے لوگ حضرت ﷺ کے بعد مرتد ہوئے اور حضرت صدیق ؓ نے ان کے پھر مسلمان کیا اور بعض کو مارا۔ (مو ضح) احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہو یہ تو حضرت عمر ؓ اپنا ذہنی توازن بر قرار نہ رکھ سکتے اور لوگوں سے خطاب کیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے اس کا سر تلوار سے قلم کر دوں گا۔ اتنے میں حضرت صدیق ؓ اکبر تشریف لے آئے اور تقریر فرمائی کہ جو شخص محمد ﷺ پرستش کرتا تھا اسے جان لینا چاہیے کہ محمد ﷺ کی وفات ہوگئی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کے آپ ؓ یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ اس موقعہ کے لئے ہی یہ آیت اتری ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کوئی شخص مر نہیں سکتا جب تک خدا کا حکم نہ وہ اس نے لکھ رکھا ہے ہے مقر وقت پر موت کو وار جو کوئی دنیا میں اپنے نیک اعمال کا بدلہ چا ہے تو ہم میں سے اس کو دیں گے اور جو کوئی آخرت کا ثواب چاہے تو اس کو اسی میں سے دیں گے اور شکر کرنے والوں کو ہم جلد بدلہ دیں گے1

ف 1 جب منافقین نے یہ افواہ اڑائی کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے اب اپنا آبائی دین اختیار کرلو یا صحابہ ؓ کرام جب جنگ احد سے واپس آئے اور ان میں سے کچھ صحابہ شہید ہوچکے تھے تو منافقین نے کہا لو کانوا عندنا ماماتوا وما قتلوا کہ اگر ہو مدینہ میں رہتے قتل نہ ہوتے۔ پس اس قسم کے شبہات کو رفع کرنے کے لئے یہ بات نازل ہوئی (کبیر) اس سے مقصود مسلمانوں کو جہاد پر ابھار نا اور ان کے زہن میں یہ بات بٹھا نا ہے کہ موت سے فرار کی راہ اختیار کرنے سے انسان موت کے پنچہ سے نجات نہیں پاسکتا، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو موت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے جس میں تقدم تاخر نہیں ہوسکتا۔ پس اذن بمعنی علم ہے یعنی ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں مقدر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اذن معنی قضا وقدر کے ہو۔ الغرض تمہیں چاہیے کو موت سے بھاگنے کی فکر چھوڑ کر بےجگری سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو اور اس جہاد سے تمہارا مقصود آخرت کا ثواب ہونا چاہیے ورنہ اگر تم صر دنیا کا ثواب شیرت اور مان غنیمت وغیرہ۔ ہی چاہو گے تو تمہیں صرف وہی ملے گا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر۔ اور آخرت سے محروم رہو گے۔ یہاں کتابا موجلا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر۔ اور آخرت سے محرور رہو گے یہاں کتابا موجلا سے مراد وہ کتاب ہے جو آجالج پر مشتمل ہے بعض نے لوح محفوظ مراد لیا ہے احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قلم سے فرمایا : اکتب فکتب ما ھو کا ئن کہ لکھ دے پس قلم نے جو کچھ ہونے والا تھا سب لکھ دیا۔ ، آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ احد میں حاضر ہونے والے لوگ اپنی نیتوں کے اعبتار سے دو قسم کے تھے۔ بعض غنیمت کے طالب تھے اور بعض آخرت کے، یہ آیت گو خاص طور پر جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر حکم کے اعتبار سے خام ہے اور تمام اعمال صالحہ کا مدار انسان کے ارادے اور نیت پر ہے (کبیر) معلوم ہوا ہے کہ مقتول بھی اپنی اجل سے مرتا ہے اور احبل میں ممتنع ہے۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور کئی پیغمبروں کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والے لڑے ہیں پھر جو تکلیف ان کو اللہ کی راہ میں پہنچی اس سے وہ ہمت نہیں ہارے نہ سست ہوئے نہ دب گئے اپنے دشمن سے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے

ف 6 ربییون یہ ربہ کی طرف ہے جس کے معنی جماعت کے ہیں اور یہ جملہ حالیہ ہے ای دمعہ ربییون کثیر استکا نوا۔ یہ سکون سے باب افتعال ہے کاف کے بعد الف بر ائے اشباع ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کون سے استفعال ہو لیکن پہلے اشتقاق کی آیت کے معنی سے زیادہ منا سبت ہے۔ (قرطبی۔ ) ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب ق اور تنبیہ جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور آنحضرت ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر بالکک ہی پست ہوگئے پس فرمایا تم سے پہلے انبیا کے متبعین گزر چکے ہیں ان کی اتباع کرو اور اس قسم کی کمزوری نہ دکھا و (قرطبی ابن کثیر) یعنی ان لوگوں میں بہت سے رتیون اپنے انبیائ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے لیکن انہوں نے اپنی قلت تعداد اور بےسرو سا مانیے باوجود کبھی ہمت نہ ہاری اور نہ کبھی اپنے انبیا کے وفات پا جانے یا شہید ہوجا نے کے بعد کی صورت میں وساوس میں مبتلا ہوئے ہمیشہ اور ہرحال میں صبر و استقلال سے کام لیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب سے نواز دیا۔
Ayahs 3:147–149

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور انہوں جب کہا یہی کہا مالک ہمارے بخش دے ہمارے گناہ کبیرہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام ہیں یعنی صغیرہ اور ہمارے پاؤں جمادے دشمنوں کے مقابلے میں کافر لوگوں پر ہم کو فتح دے

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پھر اللہ نے دینا میں ان کا فائدہ کیا اور آخرت میں اچھا خاصا ثواب دیا اور اللہ نیکوں سے محبت رکھتا ہے2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مسلمانوں اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں کفر کی طرف پھیر دیں گے پھر تم گھاٹے میں جا پڑوگے3

ف 3 احد کی شکست کے بعد کفار نے جن میں منافقین یہود و نصاری اور مشرکین سبھی شامل تھے۔ مسلمانوں کے دلوں میں مختلف قسم کے شکو کو شبہاے پیدا کر کے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی متنبہ کیا کفار کے فریب میں مت آنا ورنہ تم خسارے میمن پڑجا و گے پس یہ آیت بھی آیات کا تتمہ ہے یادر رہے کہ دنیا میں سب سے بڑ اخسارہ یہ ہے یہ کہ کوئی انسان اپنے دشمن کے سامنے سپر انداز ہوجائے اور آخرت کا خسارہ ثواب سے محرومی اور عذاب میں گرفتاری ہے پس خسارہ عام ہے۔ (کبیر)
Ayah 3:150

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

کافر تمہارے دوست نہیں ہوسکتے بلکہ اللہ تمہارے کار ساز ہے اور اس کی مدد سب سے بہتر ہے4

ف 4 یعنی تم کفار کی اطاعت تو اس لیے کرو گے کہ وہ تمہاری کچھ مدد کریں مگر یہ سراسرجہالت ہے۔ دراصل تمہارا حامی وناصر اللہ تعالیٰ ہے اس پر بھروسہ رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہار بال بیکا نہیں کرسکتی یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خیر الناصرین محاورہ کلام کے اعتبار سے فرمایا ہے ورنہ یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ بھی ان ناصرین کی جنس سے ہے۔ کبیر)
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

اب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کا شریک بنایا اس کو جس کے شریک ہونے کیا اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا برا ٹھکانا ہے5

ف 5 آیت اپنے سیاق کے اعتبار سے اوپر کے بیان کا تتمہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مختلف وجوہ سے جہاد کی ترغیب دی ہے اور کفار کے خوف کو دلوں سے نکا لا یہاں فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھوگے اور اسی مدد مانگو گے تو اللہ تعالیٰ کفار کی دلوں میں تمہارا خوف ڈال دتے گا اس طرح تمہیں ان پر غلبہ حاصل ہوجائے گا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ پس مبا اشر کوا میں با براے سببیب ہے۔ (قرطبی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں مشرک چور میں اللہ تعالیٰ کے اور چور کے دل میں ڈرہو تا ہے کہ (موضح) چناچہ اللہ تعالیٰ یہ وعدہ سچ ہوا اور احد میں باوجود غالب ہونے کے چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے عمائے تفسیر کا بیان ہے کہ راستہ میں انہوں نے دوبارہ مدینہ پر حملہ کا ارادہ کا ارادہ کیا مگر مرعوب ہوگئے صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزوں میں مجھے پہلے انبیا پر فضیلت دی گئی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال دیا گیا ہے۔ (قرطبی ابن کثیر) حدیث سے معلوم ہوتا ہوا کہ اس وعدہ یا تعلق خاص احد ہی سے نہیں ہے بلکہ عام ہے۔ ( کبیر )
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور اللہ نے تو اپنا وعدہ سچا کر دکھا یا جب تم اس کے حکم سے کافروں کو بےدم کرو ہے تھے جب تم نے بو دا پن کیا اور حکم میں جھگڑا نکالا اور نافرمانی کی جو چاہتے تھے یعنی فتح اس کو دیکھ لینے کے بعد کوئی تم میں سے دنیا چاہتا تھا اور کوئی تم میں سے آخرت کا طالب تھا1 پھر خدا نے تم کو کافروں کی طرف سے پھیر دیا تم کو آزمانے کے لیے2 البتہ تم کو معاف کردیا ورنہ اس نافرمانی کا تم پر عذاب اتر تا اور اللہ ایمان والوں پر فضل کرتا ہے3

ف 1 جنگ احد میں ج پہلے پہل اللہ تعالیٰ کی مدد مسلما نوں کے شامل حال رہی اور وہ مشرکین کے سر قلم کرتے رہے حتی کہ جب فتح کے آثار نظر آنے لگے اور مشرکین نے بھاگنا شروع کیا تو پچاس سوار جن کو آنحضرت ﷺ نے عبدا للہ بن جبیر ؓ کی سرکردی میں متعین کیا تھا کہ ادھر سے مشرک حملہ آور نہ ہوں انہوں نے مال غنیمت دیکھ کر با ہم جھگڑا شروع کردیا اور ان میں سے اکثر آنحضرت کے حکم کی نافرمانی کر کے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غمیت کی طرف دوڑ پڑے۔ اس سبب سے مشرکین کو عقب سے حملہ آور ہونے کا موقع مل گیا اور مسلما نوں کو بہت بڑا نقصان اٹھا نا پڑا اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ّابن کثیر۔ کبیر) جنگ کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ آئے تو بعض لو کہ نے لگے کہ یہ مصیبت ہم پر کیسے آگئی حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی)2 یعنی غلبہ کے بعد ان کے مقابلہ میں تمہیں پسپائی دلائی تاکہ تمہا ری آزمائش ہو کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کمزر ایمان اور جھوٹا، (قرطبی)3 یعنی گو تم آنحضرت ﷺ کی نافرمانی اور جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے نہا یت جرم کا ارتکاب کیا تھا جس کی تمہیں سخت سزادی جاسکتی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارا سارا قصور معاف فرمادیا۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

اس وقت جب تم بھا گے چلے جاتے تھے یا چڑھے چلے جاتے تھے پہاڑ پر اور مڑکر کسی کو نہیں دیکھتے یا کہیں ٹھیرتے نہ تھے اور پیغمبر تم کو پچھے کھڑا بلا رہا تھاف 4 آخر خدا نے تم کو دوہرے غم میں مبتلا کیا5 اس میں یہ حکمت تھی تاکہ جو چیز ہاتھ سے جاتی رہی اس پر رنج نہ کرو6 اور نہ اس پر جو تم کو پیش آئے یعنی اور مصیبت پر اور جو تم کو اللہ کو اس کی خبر ہے

ف 4 یہ شکست کھائے ہوئے مسلمان کی کیفیت کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ میدان جنگ تمہیں پکا رہے تھے الی عباد اللہ مگر تم پہاڑ پر چڑھے چلے رہے تھے اور کسی کی بات پر دھیان نہیں دے رہے تھے۔ یعنی ایک شکست کا غم سے سخت تر تھا۔ پس بغم کے معنی علیٰ غم ہیں اور بعض نے با کو سببیت کے لیے مانا ہے یعنی آنحضرت ﷺ کو مغموم کرنے کی وجہ سے تمہیں غم پہنچا۔ مگر پہلے معنی زیادہ صحیح ہیں۔ ( ابن کثیر۔ شوکانی)6 یعنی تمہیں دوہرے غم میں مبتلا کردیا تاکہ تمہیں نہ تو مال غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے رانج ہو اور نہ شکست ہی پر کببدہ خاطر ہو۔ کیونکہ متواتر سختیوں سے انسان تحمل مشاق کا عادی ہوجاتا ہے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر غم کے بعد اللہ تعال نے تم کو اطمیان دیا تم میں سے بعضود کو اونگ آنے لگی7 اور بعضوں کو جان کی فکر لگ گئی وہ اللہ کی نسبت جھوٹے جاہلوں کے سے خیال کر رہے تھے8 کہہ رہے تھے کیا اب ب بھی کچھ ہم کو ملنا ہے9 اے پیغمبر کہہ دے کام سب اللہ کے اختیار میں ہیں وہی فتح دیتا ہے وہ شکست اپنے د لوں میں وہ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جن کو تجھ پر نہیں کھولتے1 0 کہتے ہیں اگرچہ ہم کو کچھ ملنے والا ہوتا جیسے پیغمبر نے وعدہ کیا تھا کہ اللہ تم تم کو فتح دے گا تو ہم یہاں مارے کیوں جاتے1 اے پیمبر کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی قسمت میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنے گرنے کی جگہوں میں نکل کر آجا تے12 اور اس شکست میں ایک حکمت یہ تھی تاکہ اللہ جو کچھ تمہارے قسمت میں مارا جانا لکھا تھا توہ اپنے گرنے کی جگہوں میں نکل کر آجاتے12 اور اس شکست میں ایک حکمت یہ تھی کہ اللہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اس کو تمہارے دل کی باتو کی آزمائے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کو صاف کردے1 اور اللہ کو تو دل کی سب باتیں معلوم ہیں

ف 7 اس طائفہ سے مراد پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ یعنی ان پر امن و اطمینان کی کیفیت طاری کردی اور ان کو اونگھ آنے لگی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ اونگھ سے میری کیفیت یہ تھی کہ باربار تلوار مرے ہاتھ گرتی اور بڑی مشکل سے اس پر قابو پاتا۔ ( ابن کثیر)7 اس طائفہ سے منا فق اور ضعیف ال ایمان کے لوگ مراد ہیں جو محض مال غنیمت کے لالچ میں لٹرنکلے تھے۔ (قرطبی) ظن الجا ھلیہ یہ غیر الحق سے بدل ہے ینی وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ دین اوسلام اور اس کے حا ملین بس اب ہلاک ہوگئے۔ مسلمانوں کی کبھی مدد نہ ہوگی اور نہ یہ دعوت حق پر وان پڑھیگی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) یہ جملہ نظینون سے بدل ہے اور من الا مر سے مراد فتح اور نصرت ہے یعنی بالکل مایو سی کا اظہار کرنے لگے اور یہ کہنا شروع کردیا کی ہمیں کبھی فتح بھی نصیب ہوگی اور کچھ ملے گا بھی ؟ یا یہ کہ ہمیں تو مجبورا ساتھ دینا پڑا اور نہ ہم تو باہر نکل کر لڑنے کے حق میں نہ تھے۔ بعض نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو چاہا سو کیا ہمارا اس میں کیا اختیار ہے۔ (فتح القدیر۔ وحیدی)10 یعنی نفافق اور مسلمانوں کی بدخو اہی۔ (وحید ی)11 شاہ صاحب کے ترجمہ لڑی جائے تو آج ہمارا یہ ہمارا یہ جانی نقصان نہ ہوتا مگر ہماری کسی نے نہ سنی۔ یہ بات یا تو ان منافقین نے کہی کہ جو جنگ میں شریک تھے جیسا کہ حضرت زبیر ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے معتب بن قشیر (منافق) سے اس قسم کے کلمات سنے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات ان منافقین نے کہی ہو جو ابن ابی کے ساتھ مد ینہ کو لوٹ آئے تھے۔ اس صورت میں ھنا کا اشارہ قریب معرکہ احد کی طرف ہوگا۔ (قرطبی۔ شوکانی)12 اس سے ان کے خیال کی تردید یا مقصود ہے یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کی قسمت میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ صرف اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں اب مارے گئے وہیں مارے جاتے کیونکہ قضا الہی سے مفر کی کوئی صورت نہیں۔ (شوکانی ) 1 یہ جملہ مخذوف کی علت ہے یعنی جنگ احد میں کچھ ہو اور جن حالات سے مسلمان دوچار ہوئے اس سے مقصود یہ تھا کہ تمہارے دلوں کی حالت ظاہر ہوجائے اور تمہارے دل وسا وس سے پاک ہوجائیں یا یہ کہ منافقین کے دلوں کا نفاق باہر نکل آٗے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ احد کی لڑائی بگڑ نے سے یہ سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔ (وحیدی)
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جس دن دو فوجیں گتھ گئیں اس دن جو تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے بھاگ نکلے ان کو شیطان نے کچھ ان کے کیے کی شامت میں بہکا دیا2 اور البتہ اللہ نے ان کو معاف کردیا بیشک اللہ بخشنے والا تحمل وا لا ہے3

ف 2 یہ ستزل کے متعلق ہے کہ اور جملہ اس کی خبر ہے یعنی احد کی دن جو مسلمان میدان جنگ سے ہٹ گئے تو یہ ان کے کئے کی شامت میں یعنی گذشتہ گنا ہوں کا نتیجہ ہے۔ من جملہ ان کے یہ بھی ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی حکم کی مخالفت بھی کی تھی۔ (زشوکانی) سلف سے مروی ہے کہ ایک نیک کام کرنے سے دو سرے نیک کام کی تو فیق ملتی ہے اور اگر ایک گناہ دوسرے گناہ کے ارتکاب کا سبب بنتا ہے۔ ( ابن کثیر) مقصد یہ کے بعض مسلمان جو اس دن بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس وجہ سے نہیں بھاگے کہ اسلام سے پھرگئے تھے یا منا فق تھے بلکہ شامت نفس اور اغوائے شیطان کے باعث یہ گنا کہ ان سے سرزد ہوا۔ (وحیدی)3 یعنی جو واقعی دل میں اخلاص رکھتے تھے ان کی تو بہ اور معذرت کے سبب الہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا۔ اب نہ ان پر کوئی گناہ ہے اور نہ کسی کو طعن کا حق ہے ،۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کسی نے بطور طعن فرار ہوگئے تھے ؟ حضرت ابن عمر ؓ کہا ہاں ہے تو صحیح مگر قرآن نے ان کے لیے عفو اور مغفرت کا اعلان بھی تو کردیا ہے ،۔ لہذا فضیوں کا حضرت عثمان ؓ پر یہ طعن کرنا نری نادارنی اور حماقت ہے۔ ( قرطبی۔ وحیدی )
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مسلمانو تم ان لوگوں کی طرھ جو کافر ہیں4 اور اپنے بندوں کے حق میں جب وہ5 سفر یا جہاد کو جاتے ہیں یوں کہتے ہیں اگر ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے سفر میں نہ مارے جاتے جہاد میں تم ان کی طرح ایسا اعتقاد مت رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اسی سے اعتقاد سے ساری عمر حسرت رکھنا چاہتا ہے6 اور جلانے مار نے والا اللہ ہے6 سفر اور جہاد کوئی نہیں مرتا اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ کر رہا ہے

ف 4 مراد منافقین ہیں جو ظاہر میں مسلمان اور درحقیقت کافر ہیں۔ ( وحیدی) ان کی طرح مت بنو یعنی ان جیسے خیا لات دل میں نہ لا و اور ان کی طرح یہ عقیدہ مت رکھو۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بئر معونہ کی طرح ایک دستہ بھیجا وہ شہید ہوگیا تو اس پر منافقین نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس قسم کے خیالات دم لانے سے منع فرمادیا۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر) اسی قسم کے خیالات کا اظہار شہدا احد کے متعلق بھی کیا گیا۔ (دیکھئے آیت 168) 5 اپنے مسلمان بھائی بندوں کے حق میں یعنی لام سببیت ہے اور ان کو اپنا بھائی کہنا نسبی رشتہ داری کی بنا پر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخوان سے ان کے دوسرے ہم مسلک منا فق بھائی مراد ہوں۔ اس صورت میں امام تبلیغ کا ہوگا یعنی انہوں نے اپنے منافق بھا ئیوں سے کہا ترجمہ میں پہلی شق کی اختیار کیا گیا ہے۔ (قرطبی۔ وحیدی)6 غزی یہ غاز کی جمع ہے جیسا کہ راکع کی جمع رکع آجاتی ہے اور لیجعل اللہ میں لام کا تعلق قالوا سے ہے یعنی ان کا یہ قول ان کے دلوں میں حسرت کا مو جب بن رہا ہے (شو کانی) پس مسلمان کو منع فرمایا کہ تم جلادت سے کام لو اور اس قسم کے کلمات زبان پر مت لا و تاکہ تمہارے اس عدم تائثر کی وجہ سے اس بات سے ان کے دلوں میں حسرت پیدا ہو (المنار) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لام عاقبت کا ہو اور اس کا تعلق لاتکونو صغیہ نہیں سے ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے ضعف اعتقاد کی وجی سے اس قسم کے کلمات ان کی زبان پر جا ری کردیتے ہیں تاکہ وہ ساری عمر اسی ہی واہی تبا ہی باتیں کر کے اپنے مقتول بھا ئیوں پر پچھتاتے رہیں۔ پس لاتکو نوا فرماکر مسلما نوں کو متنبہ کیا کہ تم اس قسم کے کلمات زبان پر مت لا و ورنہ تم ان کی طرح حسرت وافسوس کی زندگی بسر کرو گے ( المنار۔ وحیدی )
Ayah 3:157

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں اگر تم مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت جو تم کے ملے گی اس سے بہتر ہے جو وہ کافر بٹور تے ہیں ج 8

ف 7 اس میں ان کے شبہ کا اصل جواب ہے کہ موت وحیات تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے پس جنگ یا سفر سے گریز کرنا موت سے نہیں بچا سکتا8 یعنی اگر تمہارا مرنا یا قتل ج ہونا اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے تو یہ یقینا تمہارے لیے مغفرت اور حمت کا سبب بنے اور یہ مغفرت و رحمت اس مال ومتاع سے بہتر ہے جس کے جمع کرنے کی فکر میں یہ کفار اور منافقین ہر آن لگے رہتے ہیں یہ ان کی شبہ کا دوسرا جواب ہے۔
Ayah 3:158

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور تم مرو یا مارے جاؤ ہرحال میں اللہ کے پاس اکٹھا ہونا ہے9

ف 9 اوپر کی آیت میں خاص قسم کے قتل اور موت کا ذکر تھا جس پر رحمت و مغفرت کی خوشخبری تھی۔ اب یہاں عمومی موت وقتل کا ذکر ہے ( یای سبب کا ن) مطلب یہ کہ تمہیں مر کر بہر حال ہمارے پاس آنا اور اپنے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ پانا ہے۔ اگر تمہاری جو زند گی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کی خاطر ہو اور موت اسی کی راہ میں ہو تو تم اپنے اعمال کا خوش کن بدلہ پا و گے۔ (شو کانی ک۔ المنار )
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

اے بیمبر یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ تو ان پر یعنی مسلمانوں پو نرم دل ہے اگر کہیں تو اکھڑ سخت دل ہوتا تو تیرے گرد ایک نہ پھٹکتا سب تیرے پاس سے تتر بتر ہوجا تے1 0 جو ہوا سو ہوا تو اپنی نرم دلی کیوں چھوڑ دے اب ان کا قصور معاف کر دے اور ان کے لے بخشش کی دعا کر اور معاملہ میں ان سے مشورہ لے پھر جب تو صلاح وہ مشورے کے بعد ایک بات ٹھہر لے تو اللہ پر بھروسا کر اور وہ بات کر گزر بیشک اللہ محبت رکھتا ہے ان لوگوں سے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں1

ف 10 احد کے دن مسلما نوں نے خوفناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا۔ پھر جب آنحضرت ﷺ کی دعوت سے دوبارہ ج جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی بلکہ حسن سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حسن خلق اللہ تعالیٰ ج کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے ورنہ مسلمانوں کی شیراز ہ بندی ناممکن تھی۔ (قرطبی۔ رازی ) 1 حضرت شاصاحب (رح) فرماتے ہیں : شاید حضرت ﷺ کا دل مسلما نوں سے خفا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ اب سے ان سے مشورہ نہ پو چھئے۔ سو حق تعالیٰ نے سفارش کی کہ اول مشو رہ لینا بہتر ہے جیسے ایک بات ٹھہر چکے پھر پس وپیش نہ کرے۔ ( اس آیت میں آنحضر ﷺ کو حکم دیا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس میں ہما ری طرف سے بذریعہ وحی کوئی متعین کم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرلیا کرو تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انہیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام ؓ سے مشورے فرمائے اور اب پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھئے ابن کثیر ج 1 ص 420) آپ ﷺ کے بعد خلفا راشدین سے بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورہ کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کرلیا جائے تو اسے پوری دلجمعی سے کر گزر نے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چناچہ مذکور ہے کہ جنگ احد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ ﷺ مسلح ہر کر تشریف لے آئے اور صحابہ ؓ نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ ﷺ کی رائے کے مطابق شہر میں رہ کر مقابلہ ج کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو آپ ﷺ ن نے فرمایا۔ لاینبغی لنبی اذا لبس سلا حہ ان یضعھا حتیٰ یقاتل۔ (قر طبی) یہ آیت اور آیت وامر ھم سوری ٰ بینھم (الشوریٰ آیت) اسلامی طرز حکومت کے کے لیے اساسی حیثیت کی حامل ہیں مگر شارع ( علیہ السلام) اور خلفا راشدین نے اس شورائی نظام کی کوئی ہیئت متعین نہیں کی اور اسے ہر دور کے تقا ضوں پر چھوڑ دیا ہے۔ احادیث میں مشورہ سے کام کرنے کی ترغیب آئی ہے۔ چناچہ فرمایا ما ندم من استشار ولا خاب من استغار کہ مشورہ ہے بعد انسان کی مذامت نہیں اٹھانی پڑتی۔ ابن عطیہ فرماتے ہیں۔ شوریٰ قواعد شریعت اور احکام عزیمت میں داخل ہے جوا میر علمائے دین سے مشورہ نہ لیتا ہو اسے معزول کرنا واجب ہے ولا خلاف فیہ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ کے بعد خلفا ؓ برابر دیانت داراہل علم سے مشورہ لیتے رہے۔ (قرطبی )