3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 3:160–161

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اور اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا کوئی تم پر غالب نہیں ہوسکتا اور وہ تم کو چھوڑ دے تو پھر ان کو کون ہے جو اس کے بعد تم کو مدد دیوے اور مسلمانوں کو چاہیئے اللہ پر بھروسا رکھیں

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور پیغمبر کا کام نہیں کہ لوٹ کے مال میں چوری کرے اور جو کوئی چوری کرے وہ قیامت کے دن جو رائی چیز لیے ہوئے آئے گا پھر ہر شخص کو اس کے کیے کا پورا بدلہ ملے گا اور ان کا حق مارا نہ جائے گا2

ف 2 اوپر کی آیات میں جہاد احدم میں جو تیر اندازی اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طر لپک پڑے تھے بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان سے حکم عدولی کی وجہ دریافت فرمائی۔ انہوں نے جب کمزور ساعذر پیش کیا ہمیں ابدیشہ ہوا کہ ہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان مال غنیمت پر قبضہ کرلیں اور ہم محروم رہ جائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اظننتم انا نغل ولا نقسم کہ تم نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ ہم مال غنیمت میں غلول کریں گے اور مساوی تقسیم نہیں کرنیگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی غلول شان نبوت کے منافی ہے۔ کبیر) بعض علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ بدر کی لڑائی میں کوئی چیز غنیمت سے گم ہوگئی تو کسی شاید آپ ﷺ نے اپنے لیے رکھ لی ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معالم۔ رازی) شان نزول سے معلوم ہوا کہ غلول کے معنی تقسیم میں جور کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھالی جائے (قرطبی) اور غل کے معنی کینہ کے بھی آتے ہیں چناچہ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : اس آیت سے مسلما نوں کی خاطر جمع کرنی ہے تا یہ نہ جانیں کہ حضرت ﷺ ہم کو ظاہر معاف کیا ہے اور دل میں خفا ہیں کبھی خفگی نکا لیں گے۔ (فرمایا) یہ کام نبیوں کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ۔ (مو ضح )
Ayahs 3:162–163

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو کوئی اللہ کی خوشی پر چلے اور امانت میں خیانت نہ کرے وہ اس کی طرح ہوگا جو اللہ کے غضب میں آگیا چوری اور خیانت کر کے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوا اور بری جگہ پہنچا

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے پاس لوگوں کے الگ الگ درجے ہیں اور اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے3

ف 3 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں دیا نتدار اور خائن برابر نہیں ہوسکتے تو پیغمبر جس کا درجہ بہت بلند ہے وہ یہ کام کیسے کرسکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ نبی اور دسری مخلوق ایک جیسی نہیں طمع کے کام تو ادنی نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہوسکتے۔ (مو ضح )
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

اللہ نے مسلمانوں پر بڑا فضل کیا ان میں ایک پیغمبر بھیجا انہی میں کا یعنی آدمی نہ فرشتہ نہ جن جو اس کی آیتیں پڑھ کر سنتا ہے اور شرک کی گندگی سے ان کو پاک کرتا ہے اور قرآن اور حدیث ان کو سکھلاتا ہے اور بیشک وہ تو اسی نبی کے آنے کے پہلے کھلی گمراہی میں تھے4

ف 4 اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمی ٰ ہونے کی اعتبار سے آنحضرت ﷺ کو وجود تمام دنیا کے لیے احسان ہے مگر استفادہ کے پیش نظر یہاں سرف مومنین پر احسن کا ذکر ہے۔ (رازی) من انفسھم یعنی انہی کی جنس سے ان جیسے بشر ہیں۔ ، (قرطبی) او پر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ خیانت اور غلول ایک نبی کی شان سے بعید ہے اور نبوت و خیانت یکیجا جمع نہیں ہوسکتے تو اب اس آیت میں سی کی مزید تاکید فرمائی کہ آنحضرت ﷺ کو ایک پاکیزہ اور اعلی نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ ان کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں کتاب وسنت کی تعلیم دی جائے اور ذائل سے پاک کیا جائے۔ پھر ایسی پاکیزہ ہوہستی کی طرف جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئے ہوں کوئی عقلمند آدمی غلول کی نسبت کیسے کرسکتا ہے یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ ﷺ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کرسکتے ہیں (رازی) آنحضرت ﷺ نے بہت سی احادیث میں اسی معصیت کو کبیرہ قرار دیا ہے۔ حتی کہ فرما یہ کہ حکام کا ہد یہ قبول کرنا بھی غلول میں داخل ہے۔ (قرطبی)
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جب تم پر ایک مصیبت آئی5 احد کی دن کہ ستر تمہارے مارے گئے جس کی دونی تم1 اپنے دشمنوں کو پہنچا چکے ہو بدر کے دن ستر مارے اور ستر قید کیے تو تم گھبرا گئے اور بیدل ہو کر کہنے لگے یہ مصیبت کہاں سے آئی اے پیمبر کہہ سے یہ مصیبت خود تم نے اپنے اوپر ڈالی2 بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 5 یعنی احد کے دن جبکہ مسلمانوں کے ستر افراد شہید ہوگئے۔ (ابن کثیر ) 1 یعنی جنگ بدر میں جب مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے تھے اور اتنے ہی قید بن کر آئے تھے۔ (ابن کثیر)2 (ای بذ نو بکم لو بلختیار رکم (القدیر) یعنی تمہاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو وجہ سے اور آنحضرت ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے جس کا تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر ارتکاب کیا ( قرطبی) دوسری صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمہارے فدیہ کو اختیار کرنے سے۔ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قید یوں کے بارے میں صحا بہ ؓ کر اختیار دیا تھا کہ اگر تم فدیہ لینا چاہتے ہو تو اس کے بدلے آئندہ تمہارے ستر آدمی شہید ہوں گے۔ چناچہ صحانہ کرام ؓ نے اسے منظور کرلیا تھا۔ قرآن نے یہاں ھوں عندکم کے لفظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی )
Ayahs 3:166–167

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جس دن دو فوجیں بھڑیں یعنی احد کے دن) اس دن جو مصیبت تم کو پیش آئی وہ اللہ کے حکم سے اور اس لیے کہ اللہ ظاہر کر دے ایمان والوں کو

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور اس لیے کہ اللہ ظاہر کر دے منافقوں کو3 اور ان سے یعن منافق سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں یعنی اس کی رضا مندی کے لیے لڑو اگر تم سچے مسلمان ہو یا اگر اللہ کی رضامندی کا تم کو خیال نہیں تو دشمنوں کو تو ہٹاؤ4 وہ کہنے لگے اگر ہم یہ سمجھتے کہ لڑائی ہوگی تو تمہارے ساتھ رہتے5 وہ لوگ اس دن ایمان سے اتنے نزدیک نہ تھے جتنے کفر سے نزدیک تھے6 منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ اپنے دل میں چھپاتے ہیں7

ف 3 یعنی جنگ احد میں تمہیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیئت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہوجائے۔4 آنحضرت ﷺ جنگ احد میں ایک ہزار کی جمیعت لے کر احد کی طرف چلے۔ مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے سے لوٹ آیا۔ عبد الہ بن عمر و بن حرا انصاری ؓ ۔ اخو نبی سلمہ۔ حضرت جابر ؓ کے والد ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ تو رہو تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرات نہ کرے۔ اکثر مفسرین نے اوادفعوا کے یہی معنی بیان کئے ہیں مگر بعض نے ادفعوا کے یہ معنی بھی کئے کہ حمیت قومی اور حفاظت وطن کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو، الغرٖ ض حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر و نے ان کو ہر طریقے سے واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب آگے ْآرہا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)5 وہ کہنے لگے کہ کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہوگی اگر واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تبا سب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے مگر ادھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور او ادھر ایک ہزار بےسرو سامان آدمی ہیں یہ کوئی جنگ ہے یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اس پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے (ابن کثیر۔ رازی) حضرت شاہ صا حب لکھتے ہیں کہ یہ کلمہ انہوں نے طعن کو طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے با لکک نا آشنا ہیں ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔ (موضح)6 یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے گو ان کے باطن میں کفر تھا مگر علانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے علا نیہ ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کرلیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انہیں ایمان کی نسبت سے کفر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انہوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ (رازی۔ قرطبی) حضرت شاہ صاحب (رح) لک تھے ہیں یہ کلمہ انہوں نے طعن کر طور پر کہا تھا۔ پس اس لفظ کی و جہ سے کفر کے قریب ہوگئے اور ایمان سے دور۔ (موضح)7 یعنی بظاہر یہ کلمہ کہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں مگر جو جذبات ان کے دلوں میں مستور ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے در اصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں۔ لیکن انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

انہی لوگوں نے یہ کیا کہ خود تو بیٹھ رہے اور اپنے بھائیوں کو جو جنگ میں مارے گئے کہتے ہیں اگر ہماری بات سنتے تو مارے نہ جاتے اے پیمبر ان لوگوں سے کہہ دے بھلا اگر تم سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دو8

ف 8 جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین اس قسم کا اظہار کیا تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جاسکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمہیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذارا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھا و۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اے پیمبر جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ مت سمجھ اور وہ اپنے مالک کے پاس زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے اور اللہ نے جو اپنے فضل سے ان کو دیا ہے9

ف 9 اس آیت میں منافقین کے اس شبہ کی دوسرے طریقے سے تردید کی ہے کہ جہاد میں شامل خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے فرمایا کہ نہیں بلکہ اس سے دئمی زندگی حاصل ہوتی ہے۔ شہدا کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجے ملتے ہیں۔ پروردگار کے ہاں انہیں ہر قسم کا تغم اور تلذذ حاصل ہے۔ احادیث میں ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پر ندوں کے اجواف یا حواصل میں جنت کی سیر کرتی ہیں اور عرش کے نیچے قندیلوں کے ساتھ آویز اں رہئی ہیں۔ عالم برزخ کی یہ زندگی شہدا کو حاصل ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھئے سورت البقر آیت 154)
Ayah 3:170

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

اس پر خوش ہیں اور جو لوگ ابھی ان کے پاس نہیں پہنچے ان کے پیچھے دنیا میں زندہ ہیں لیکن جہاد میں مصروف ہیں ان کی خوشی مناتے ہیں کہ نہ ان کو ڈر ہوگا نہ غم1 0

ف 10 یعنی اپنے جب مسلمانوں بھا ئیوں کو جہاد فی سبیل اللہ مشٖغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوز ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بیخوف و خطر زندگی حاصل ہوگی۔ بعض روایات میں ہے کہ شہدا بئر معونہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ خواہش کی کہ ہم جس عیش و خوشی میں زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے بھائیوں کو اس کی اطلاع پہنچا دی جائے تاکہ وہ بھی جہاد فی سبیل اللہ میں رغبت کریں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ التجا منظور فرمائی اور یہ آیات نازل فرمائیں۔ (کبیر )
Ayahs 3:171–172

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اللہ کی نعمت اور فضل کی خوشی کر رہے ہیں اور اس کی خوشی کررہے ہیں کہ اللہ مسلمانوں کا ثواب نہیں کھوتا

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جو لوگ لڑائی میں زخمی ہوئے اور پھر بھی اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانا اور بلانے پر چل کھڑے ہوئے اور ان میں جو نیک اور پرہیز گار ہیں ان کو بڑاثواب ملے گا11

ف 1 یہ حمر الا سد یعنی جنگ احد سے اگلے روز کا واقعہ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے احد سے پلٹ کر جب مشرکین چند منزل دور چلے گئے تو آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ مسلمانوں کی استیصال کئے بغیر واپس چلے آئے۔ چناچہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگے۔ ادھر ّنحضرت ﷺ کی جب یہ اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے اب تمام مسلمانوں کو جو جنگ احد میں شریک ہوئے تھے مشرکین کے تعاقب میں نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ واقعی پلٹ کر مدینہ پر حملہ نہ کردیں۔ اس وقت اگرچہ جنگ احد میں سے اکثر لوگ سخت زخمی اور تھکے ہوئے تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل میں فورا نکل کھڑے ہوئے۔ جب مدینہ سے چند میل فاصلہ پر مقام حمرا الا سد ( جو مدینہ سے تقریبا آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے) پر پہنچے تو مشرکین کو ان کے آنے کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے آپس میں کہا کہ اس مرتبہ تو واپس چلتے ہیں اگلے سال پھر آئیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر نبی ﷺ بھی مدینہ واپس لے آئے۔ چانچہ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں کی بشارت دی (ابن کثیر) یہاں منھم میں لفظ من محض تبیین کے لیے ہے کیونکہ جن لوگوں نے اس مہم میں اللہ و رسول ﷺ کی دعوت پر کہی وہ سب ایسے ہی تھے۔ (الکشاف )
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگو نے یعنی نعیم بن مسعود) نے کہا تمہارے مقابلہ کے لیے مشرک لوگوں نے لشکر اور سامانا جمع گیا ہے تو ان سے ڈرو یہ سن کر وہ ذرا بھی بودے نہیں اور ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے اللہ ہم کو بس کرتا ہے وہ اچھا کام بنا نیوالا

ف 2 یہ آیت بھی وقعہ حمرا الاسد ہی سے متعلق ہے اور وہ اس طرح کہ جب ابو سفیان کو۔ جو ان وقت مشرکین کی قیادت کر رہا تھا۔ مسلمانوں کے تعاقب کی اطلاع ملی تو اس نے ایک تجارتی قافلہ کے ذریعہ آنحضر ﷺ کو یہ چلینج بھیجا کہ میں نے بڑا لاو لشکر جمع کرلیا ہے اور میں مدینہ پر پھر سے حملہ کرنے والا ہوں۔ یہ سن کر مسلمانوں میں خوف یا کمزری کے بجائے مزید ایمانی قوت پیدا ہوئی اور آنحضرت ﷺ اور صحا بہ ؓ نے فرمایا حسبنا اللہ ونعم الوکیل (ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر الصغری ٰ کے متعلق نازل ہوئی ہیں جس کا پس منظر یہ ہے کہ جنگ احد میں کے خاتمہ پر ابو سفیان نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ سال پھر بدر میں لڑائی ہوگی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ منظور کرلو اور کہ دو ان شا التہ عالی۔ جب اگلا سال آیا۔ ابو سفیان مکہ سے فوج لے کر نکلا جب مر نفہر ان میں پہنچا تو مرعوب ہوگیا۔ قحط سالی کا عذار کر کے مکہ کو لوٹنا چاہا اتفاق سے ابو نعیم بن مسعود الا سجعی سے ملا قات ہوگئی جو عمرہ کر کے واپس جا رہا تھا۔ اس کو کچھ انٹوں کا لالچ دے کہا کہ مدینہ پہنچ کر ہماری طرف سے خبر مشہور کردینا کہ وہ بہت بڑی جمیعت لے کر آرہے ہیں تاکہ مسلمان خوف زدہ ہوجائیں اور نکلنے کی جرات نہ کریں۔ چناچہ اس نے مدینہ پہنچ کر اسی قسم کی افواہیں پھیلادیں کچھ مسلما نن مرعوب بھی ہوئے مگر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی قس کھا کر فرمایا۔ میں ضرور جاوں گا خواہ مجھ اکیلے کو ہی جانا پڑے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہمت دی اور انہوں نے کہا اللہ ہی ہم کا کافی ہے آخر مسلمان وہاں پہنچے۔ بدرالصغریٰ (مابنی کنانتہ) میں بڑابازار لگتا تھا۔ تین روز رہ کر تجارت کے ذریعے خوب نفع کمایا اور صحیح سلامت مدینہ لوٹ آئے مشرکین بھی مرا الظہرن سے لوٹ گئے تھے انہوں ن اپنی اس مہم کا نام حبیش السو یق رکھا۔ (رازی۔ ابن کثیر )
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر لوٹ آئے اللہ کی بڑی نعمت صحت و سلامتی اور اس کا فضل دنیا کا فائدہ لے کر ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور اللہ کی مرضی پر چلے اوکے رسول کے حکم پر اور اللہ کا فضل بڑا ہے3

ف 3 یہاں فضل سے مراد وہی مالی فائدہ ہے و انہوں نے تجا رت سے حاصل کیا تھا۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ شیطان تھا اپنے دستور سے تم کو ڈراتا تھا تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر سچے مسلمان ہو4

ف 4 وہ شخص جو افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے منا فق درستوں کو ڈرہا ہے مسلمانوں کا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا اندیشہ دل میں نہ لائیں (رازی )
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور اے پیمبر جو لوگ دوڑ کر کفر کی مدد کرتے ہیں ان کی وجہ سے تو رنجیدہ مت ہو رہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کو بڑا عذاب ہوگا5

ف 5 کافر اور منافق مختلف طریقوں سے آنحضرت ﷺ کی مخاطب کرتے رہتے جس سے طبعی طوپر آپ ﷺ رنجیدہ خاطر بھی جاتے خصوصا غزوہ احد کے واقعہ کو منافقین نے بہت ہو ادی اور بعض مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف نصرت سے مایوس کردیا۔ اس پر آیات نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کفار اسلام کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ اس قسم کا رویہ اختیار کر کے خودہی حظوظ آخرت سے محرومی ہو رہے ہیں۔ (رازی، ترجمان )
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

نے شک جن لوگوں نے ایمان دے کر کفر مول لیا وہ خدا کا کچھ بگاڑ نہیں کرسکیں گے اپناہی نقصان کریں گے اور ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا6

ف 6 یعنی ایمان کے بجائے کفر اختیار کر کے خود برا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے ،
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافروں کو یہ نہ سمجھنا چاہیے یہ ہم نے ان کو ڈھیلا چھو ڑدیا ہے ان کے حق میں بہتر ہے ہم نے اس لیے ان کو ڈھیل دی ہے کہ اور زیادہ گناہ کریں اور ان کی ذلت کا عذاب ہوگا1

ف 1 یعنی مفید نہیں ہے بلکہ اس طرح کی زندگی سے ان کے کنارہ دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، قیامت کے دن سب کو کسر نکل جائے گی۔ (ترجمان) جنگ احد میں کفر و نفاق اور ایمان و اخلاص الگ ہو کر سامنے آگئے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں اس آیت کا تعلق بھی قصئہ احد سے ہے۔ جنا نچہ اس حادثہ میں قتل وہزمیت پھر دشمن کا تعاقب اور اس کے بعد ابو سفیان کے چیلنج کے جواب میں بدر الصغریٰ کا غزوہ وغیرہ سب ایسے واقعات تھے جن سے کفر و نفاق اور ایمان وخلاص الگ الگ ہو کر سامنے آگئے اور مومن اور منافق میں امتیاز ہوگیا ج۔ چونکہ منافقین کامو منوں کے ساتھ ملاجلا ہنا حکمت الہی کے خلاف تھا اس لیے یہ تمام واقعات پیش آئے (کبیر)
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ تو مسلمانوں کو جس حال پر تم ہو کہ مومن اور منافق سب ملے جلے ہیں چھوڑ نے ولا نہیں جب تک ناپاک منا فق کو پاک مومن سے جدا نہ کردے2 اور اللہ تم کو غیب کی بات بتلانے والا نہیں لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے غیب کی بات بتلانے کے لیے اور اس کوئی کوئی بتلاد یتا ہے3 تو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور غیب کے پیچھے مت پڑو اور اگر تم ایمان لاؤ و اور شرک و نفاق سے پرہیز کر وگے تو تم کو بڑا ثواب ملگا4

ف 3 یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمہیں براہ راست غیب پر مطلع کر دے اور اتم بروں کو اچھوں سے الگ پہچان لو بلکہ منصب رسالت کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے انتخاب فرماتا ہے اور اسے بذریعہ وحی اپنے غیب سے جتنی باتوں کا علم دینا چاہے دے دیتا ہے۔ (کذافی الروح) علم غیب پ ربحث کے لیے دیکھئے ( سورت انعام آیت 59)4 قریش کے کافر اور مدینہ کے منافق کہتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو نام بنام کیوں نہیں بتاتا فلاں مامن ہے فلاں کافر ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی) فرمایا کہ تمہیں غیب کی باتوں سے کیا اسروکار۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے تمہارا کام تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر ایمان لانا اور اتقوی ٰ اختیار کرنا ہے تاکہ اجر عظیم کے مستحق قرار باو) وحیدی)
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس میں بخیل کرتے ہیں فرض زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اس کو یعنی بخیلی کو بہتر نہ سمجھیں اپنے حق بلکہ بری ہے ان کے لیے جس مال میں انہوں نے بخیلی کی ہے وہی قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوا چاہتا ہے5 اور آسمانوں اور زمین کا وارث آخر اللہ ہی ہوگا6 اور جو تم کرتے ہو سخاوت یا بخیلی کی خبر ہے

ف 5 اور برتر غیب جہاد کے سلسلہ میں جانی قربانی پر زور دیا ہے اور جو حفاظت جان کی خاطر اس سے فرار کرتے ہیں بیس ان کے حق میں وعید سنائی ہے۔ اب یہاں جہاد میں مالی قربانی پر زور دیا جارہا ہے اور بخل کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ (کبیر) مقصد یہ ہے کہ ان منافقین کو جس طرح اپنی جان پیاری ہے اسی طرح ان کو اپنا مال بھی پیارا ہے۔ جو لوگ مال کے حقوق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں قیامت کے دن یہی مال ان کے لیے وبال بن جائے گا۔ ؟ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کچھ مال دیا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گیا اور وہ طوق بناکر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں سے بکڑے گا اور اس سے کہے گا۔ میں ہوں تمہارا مال میں ہوں تمہارا خزانہ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن کثیر) یاد رہے کہ حقوق واجبہ کر ادا نہ کرنے کا نام بخل ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ بخل سے بڑھ کر اور کون سامرض ہوسکتا ہے۔ (قرطبی) نیز دیکھئے۔ التوبہ آیت 35)6 یعنی جب زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جس مال کے بظا ہر تم وارث بنائے گئے ہو اس میں بخل کیوں کرتے ہو۔۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ اللہ وارث ہے آخرتم مرجا و گے اور مال اسی کا ہو رہے گا۔ تم اپنے ہاتھ سے دو ثواب پا و (موضح )
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

البتہ اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے ہیں اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں7 ہم ان کی اس بات کو اور پیغمبروں کے ناحق قتل کرنے کو8 اب لکھ رکھیں گے اور قیامت کے دن سزا میں کہیں گے جلانے والا عذاب چکھو

ف 7 اوپر کی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ پر زور دیا۔ اب ان آیات میں یہود کے شبہات کا بیان اور ان کا رفع کرنا مقصود ہے۔ دراصل یہود یہ شہبات نبو پر طعن کی غرض سے کرتے تھے۔ (رازی) کسب تفسیر میں ہے کہ جب آیت من ذا الذی یقرض اللہ ذصا حسنا نازل ہوئی تو بعض یہود نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا فوجی ! اللہ میاں بھی فقیہ ہوگئے ہیں اور بندوں سے قرض مانگنے پر اتر آئے ہیں۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر۔ کبیر) یہود اس قسم کے شہبات عوام کو انفاق فی سبیل اللہ سے متنفر کرنے کی غرض سے وارد کرتے تھے ورنہ وہ بھی خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت اس قسم کے خیالات کا اظہار کفر ہے (قرطبی)8 یعنی ان کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گساخی اور رسولوں کا ناحق قتل کرنا سب ان کے نامئہ اعمال میں درج کیا جارہا ہے۔ قیامت کے دن ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور عذاب حریق کی سزا میں گرفتار ہوں گے۔
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ عذاب بدلا ہے ان کا موں کا جن کو تم نے اپنے ہاتھوں کر کے آگے بھیجا یعنی بطور توشہ آخرت کے اور اس وجہ سے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا1

ف 1 اس مبالغہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ظلم کی نفی کے یہ معنی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعوذباللہ رتی برابر بھی ظلم صادر ہو تو وہ ظلام ٹھہرے گا اور اور اللہ تعالیٰ کی ذات ظلم سے منزہ ہے (کبیر )
Ayah 3:183

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کہا بیشک اللہ نے ہم سے کہہ رکھا ہے کہ ہم کسی پیغمبر کو نہ مانیں یعنی سچا پیغمبر نہ جانیں جب تک وہ ایسی نیاز ہم کو نہ دکھلائے جس کو آگ آسمان سے آکر کھاجائے2 اے پیمبر ان کے جواب میں کہہ دے تمہارے پاس تو کئی پیغمبر مجھ سے پہلے کھلی نشانیاں اور یہ نشانی بھی جو تم نے کہی لے کر آئے جیسے حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) او 4 شعیا ( علیہ السلام) وغیرہ پھر اگر تم سچے تھے تو ان کو مار کیوں ڈالا

ف 2 یہ ان کا دوسرا شبہ ہے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے سلسلہ میں پیش کیا کہ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا ہے کہ اگر کوئی نبی یہ معجزہ پیش نہ کرے تو اس پر ایمان نہ لائیں۔ (کبیر) حالانکہ ان کی کسی کتاب میں یہ حکم نہیں ہے۔ ہاں بعض انبیا ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کے بارے میں یہ ضرور مذکور ہے کہ جب کوئی سوختی قربانی (نذر) پیش کی جاتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ اس قربانی (نذر) کی علامت قبولیت کے طور پر آسمان سے آگ اترتی جو اسے جلا ڈالتی جیسا کہ حضرت ایلیا ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے متعلق مذکور ہے۔ (کبیر، ابن کثیر)3 یہ ان کی اس شبہ کا جواب ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ اگر واقعی تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تمہارے آباواجداد نے ان بہت سے انبیا ( علیہ السلام) کو قتل کیوں کر ڈالا جو اپنے دعوائے صدق نبوت پر دوسری واضح نشانیوں کے ساتھ (وبالذی قلتم) معجزہ بھی لے کر آئے جس کا تم مطالبہ کررہے ہو (کبیر )
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

اے پیغمبر اگر یہ لوگ تجھ کو جھٹلائیں تو کوئی نئی بات نہیں ہے تجھ سے پہلے بہت سے پیغمبر جھٹلائے گئے جو معجزے اور چھوٹی کتابیں اور چمکتی کتاب لے کر آئے4

ف 4 یہود کے تمسخر اور شبہات کا جواب دینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اس قسم کے شہبات پیدا کر کے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کررہے ہیں تو یہ غم کی بات نہیں کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے انبیا ( علیہ السلام) کے ساتھ وہ یہی سلوک کرچکے ہیں۔ (کبری) البینات سے دلائل عقلیہ اور معجزات دونوں مراد ہیں۔ الزبر یہ زبور کی جمع ہے اس سے وہ چھو ٹے چھوٹے صحیفے مراد ہیں جو مواعظ و زواجر اور حکم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ حضرت داود ( علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی قرآن نے اسے بھی زبور کہا ہے کیونکہ اس میں بھی رواجر ومواعظ کا پہلو نمایاں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں الکتاب سے مراد وہ بڑی کتاب ہے جو احکام وشرئع سب پر حاوی ہو۔ مگر ان سب کتابوں میں قرآن مجید کے سوا کسی کتاب کو اعجازی حثیت حاصل نہیں ہے۔ ( بیضاوی۔ رازی )
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان کو موت کو مزہ چکھنا ہے اور قیامت ہی کے دن تم کو پورے پورے تمہارے اعمال کے بدلے دیئے جائیں گے پھر جو شخص دوزخ سے ہٹا یا گیا پل صراط سے جو دو زخ کی پیٹھ پر ہے ہار ہوگیا اور جنت میں اس کے لے گئے اس نے مراد پائی اور دنیا کی زندگی تو دغا کی پو نجی ہے اور کچھ نہیں5

ف 5 بخلیوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال ومتاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ فانی اور نہ باقی رہنے والی چیز ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کے لیے کوشاں رہے۔ (قرطبی) اور یہ جو فرمایا کہ قیامت ہی کے دن پورے پورے بدلے دیئے گائیں گے۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے مگر پورا پورا بدلہ، ثواب و عقاب۔ قیامت کے دن ہی ملے گا۔ اس پہلے ممکن نہیں۔ (قرطبی۔ کبیر) اور دنیا کی زندگی متاع الغرور ہے اس کی ظاہر زیب وزینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے لا عیش الا عیش الا خرۃ (ابن کثیر)
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

مسلمانو البتہ تم اپنی جان اور مال سے آزمائے جاؤ گے اور البتہ تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی ہے یعنی یہود اور نصاری ٰ ان سے اور مکہ کے مشرکوں سے تم کو بہت تکلیف کی باتیں سنناپڑیں گی اور اگر تم صبر کیے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو قصور سے زہادہ سزا نہ دو تو بیشک یہ ہمت کا کام ہے6

ف 6 یہ خطاب نبی ﷺ اور عام مسلمانوں سے ہے آئندہ بھی جان ومال میں تمہارا آزمائش ہوگی اور تمہیں ہر قسم کی قربانیا پیش کرنا ہوں گی جیسے اموال کا تلف ہوجاتا بیمار پڑنا وغیرہ اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے تمہیں انتہائی دل آزار اور جگر خراش طعن وتشنیع بیہودہ گفتگو اور جھوٹے الزامات سننا پڑیں گے جسیا کہ منافقین نے ہر طرح سے ستایا ہے اور کعب بن اشرف یہودی نے آپ ﷺ اور صحابہ ؓ کی بجو اور مسلمان خواتین کی تشبیب میں قصائص نظم کئے۔ مگر ان سب کا علاج یہ ہے کہ تم صبر ثابت قدمی اور استقلال سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کا نقوی ٰ اپنے دلوں میں رکھو۔ اگر صبر وتقویٰ سے ان آزمائشوں کا مقابلہ کروگے تو یہ نہایت ہمت حوصلہ اور الو العزمی کا کام ہے۔ چناچہ آحضرت ﷺ کو جب تک قیال کی اجازت نہیں ملی آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کرام عفو اور دو گزر سے کام لیتے رہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی )
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اے پیغمبر وہ وقت یا دکر جب اللہ تعالیٰ نے کتاب والوں یہود اور نصاری ٰ سے عہد لیا کہ ان کے پیغمبروں کے ذریعہ سے کہ تم اس کتاب کو جو تم دی گئی لوگوں سے صاف بیان کردینا ہے اور چھپانا نہیں پھر انہوں نے اس عہد کو پیٹھ پھینک دیا اور اس کے بدل تھوڑا مول لینے لگے1 کیا ہی برامول لے رہے ہیں

ف 1 یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور نبی آخرالزمان (ﷺ) کے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کا جرم کا ارتکاب نہ کریں گے۔ مگر انہوں نے دنیا طلبی میں پڑکر اس عہد کی کوئی پر وا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا فبئس ایشترون۔ اس آیت میں ضمنا مسلمان علمائ کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں حدیث میں متعدد طریق سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مردی ہے من سل عن علم فکتمہ الجم یوم القیامتہ بلجام ناذ کہ جس سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا اور اس سے اسے چھپایا قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے کیے پر پھول جاتے ہیں ابن کیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو ان کو نہ سمجھنا ہر مگر نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچ جاویں گے اور ان کو دکھ کا عذاب ہوگا2

ف 2 یہ کہ جو کام انہوں نے کئے ہیں ان پر اتر تے چلے ت جاتے ہیں اور جو کام انہوں نے نہیں کئے ہیں ان کے متعلق بھی جانتے ہیں کہ انہیں انکے کار ناموں میں شمار کیا جائے ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو وہ اللہ کی پکڑ اور اس کی عذاب سے چھوٹ جائیں گے یہ آیت دواصل یہود اور ان کے منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے (ابن جریر) چناچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے یہود سے کوئی بات دریافت کی۔ انہوں نے اس کا غلط جواب دیا پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو مطمئن اب انہیں ہماری تعریف کرنی چاہیے (بخاری مسلم) حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اس طرح کہ جب آنحضرت ﷺ جنگ کے لیے نکلتے تو وہ واپس تشریف لاتے تو آپ ﷺ کے سامنے جھوٹی قسمین کھا کھا کر عذا پیش کرتے اور چاہتے کہ ان کی تعریف ہو۔ (بخاری) مگر یہ حکم اہل کتاب اور سب مسلمانوں کے لیے ہے جو بھی خوشامد مد پسند ہوگا اور قسم کا زہن رکھے گا اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر )
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے3

ف 3 یعنی جب حقیقت یہ ہے اور تم بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے انتقام سے ڈر تے ہوئے اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ (ابن کثیر )
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسما نو زمین کی پیدا ئش اور رات دن کے آنے جانے میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے4

ف 4 حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ یہود کے سکھائے پڑھائے آنحضرت ﷺ سے موقع بہ موقع یہ مطالبہ کرتے رہئے کہ جب حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ید بیضا اور احیا موتی جیسے معجزاے تھے تو آپ ﷺ بھی کم از کم کو صفا کو سونا تو بنادیں۔ ایسے مطالبوں کے جو اب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان لانے کے لیے ایسی باتوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ سمجھدار لوگوں کے لیے کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدر کی لاکھوں نشانیاں مو جود ہیں ( درمنشور) مگر حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو شان نزول قرار دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آیات مدنی ہیں اور صفا کو سونا بنانے کا مطا لبہ مکہ میں کیا گیا تھا۔ (ابن کثیر) فائدہ اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ آنحضرت ﷺ رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
Ayah 3:191

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے5 اور آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش میں غور کرتے ہیں6 اور کہتے ہیں مالک ہمارے تو نے یہ سب کار خانہ بےکار نہیں بنایا تیری ذات پاک ہے لغو اور بےکار کرنے سے تو بجا ہم کو دوزخ کے عذاب سے8

ف 5 پہلی آیت ربوبیت کی تقریر تھی اب عبو دیت کا ذکر ہے یعنی دل و زبان اور جوارح ہر حالت میں ذکر الہیٰ میں مشغول رہتے ہیں (بیضاوی) اس آیت کے تحت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر بیٹھ کہ نماز نہ پڑھ سکو تو (لیٹ کر) پہلو پر پڑھ لیا کرو، (ابن کثیر)6 یعنی زمین آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ پر غور وفکر کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں ایک ساعت کا غور و فکر رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔ حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز فرماتے ہیں زبان سے اللہ کا ذکر کرنا اچھا ہے لیکن اللہ کی نعمتوں پر غورو فکر کرنا اس سے بھی بہتر ہے (ابن کثیر) علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطہ نظر سے پڑھا جائے تو فی الجملہ عبادت میں داخل ہے۔ ک7 عبث نہیں بنایا یعنی اس عالم کی انتہا ہے دوسرے عالم میں (مو ضح)8 یعنی غور و فکر سے ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کا کا ئنات کا یہ سارا نظام یوہی نہیں پیدا کیا گیا بلہ اس کے پیچھے یہ مقصد کار فرما ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اجر وثواب پائے اور نافرمانی کرے تو آخرت میں عذاب کی سزا بھگتے اس لیے وہ آگ سے محفوظ کئے جانے دعا کرتے رہتے ہیں۔ (وحیدی)
Ayahs 3:192–193

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

مالک ہمارے جس کو تو دوزخ میں لے گیا ہمیشہ وہاں رہنے کے لیے اس کو تو نے رسوا ذلیل و خوار کیا اور مشر کوں کا کوئی مددگار نہیں

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

مالک ہمارے ہم نے ایک پکار نے والے کی سنی یعنی حضرت محمد یا قرآن کی جو ایمان کی منا دی کرتا ہے کہتا ہے ایمان لاؤ اور پنے پر ور دگار پر تو ہم ایمان لائے مالک ہمارے اب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیاں اتاردے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہم کو موت دے10

ف 9 اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں یا قرآن اور پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت الہیٰ الحق پیش کرے (قرطبی کبیر) 10 ابراد یہ بر کی جمع ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں ساتھ ہمارا حشر فرما اور ابرار سے مراد خاص طور انبیا ( علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں یعنی مرنے کے بعد ہمیں ان کے غلاموں میں شامل فرما (وحیدی )
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

مالک ہمارے جو تو نے ہم سے وعدہ کیا اپنے پیغمبروں کی زبان پر وہ ہم کو عطاکر فرمایا اور قیامت کے دم ہم کو رسوا مت کر سب لوگوں کے سامنے بیشک تو وعدہ خلافی کرتا1

ف 11 یعنی یعنی اپنے رسولوں کے ذریعے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنا اور آخرت میں جس اور اجر ثواب کا تو نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما (المنار ) 1 یعنی ہمیں یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تو وعدہ خاف ورزی کرے گا بلکہ ہمیں ڈرا پنے ہے اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں۔ اگر تو اپنی رحیمی و کر یمی اور ستاری سے ہماری کو توہیوں کو معاف فرمادے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندہ نوازی ہے۔ (وحیدی) پس کلمہ انک لاتخلف المیعاد سے مقصد خضوع وذلت اور عبودیت کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ کیونکہ باری تعالیٰ سے خلف وعدہ تو ایک دم محال ہے۔ پھر مومنین اس کا تصور کیسے کرسکتے ہیں (کبیر) قبولیت کا یہ وعدہ ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتا ہے لہذا دعا کی قبولیت کے لیے کسی نیک ہستی کو وسیلہ بنانا کہ یا اللہ فلاں کی طفیل میری یہ مشکل حل فرمادے قرآن و حدیث میں جو ادعیہ ماثو رہ ہیں ان کے خلاف ہے۔ (المنار)
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

پھر خدا وند کریم نے ان کی دعا اس طرح سے قبول کی فرمایا کہ میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کا نیک کا اکارت ضائع نہیں کرنے کا مرد یا عورت سب برابر ہیں6 پھر جن لوگوں نے اپنے وطن چھوڑا اور آنحضرت کی رفاقت اختیار کی یعنی ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے میری راہ میں3 اور لڑے اور مارے گئے اللہ کی راہ میں البتہ میں ان کے گناہوں کو میٹ دوں گا یا اتاردوں گا ان پر سے اور ان کو ایسے باغو میں لے جاؤں گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں یہ اللہ کے پاس سے ان کو بدلہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اچھا بد لہ ہے

ف 2 یہاں قرآن نے اسبابت دعا کو فا سببیہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے یعنی اوصاف مذکورہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرمادیا ہے کہ ذات باری تعالیٰ کسی عمل کے عمل کو ضائع نہیں ہونے دے گی یعنی ہر عامل کو اس کے عمل کی جز اور ثواب مل کر رہے گا اور یہ دعا بھی من جملہ نیک ہے اعمال کے ہے لہذا اس پر بھی جزامترتب ہوگی اور ہر جملہ انی لا اضع علم عامل منکم میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اخروی نجات اور حسن ثواب کے ساتھ فوزو فلاں عمل میں احسان واخلاص پر ہے نسیبی شرف یا مرد ہونے کی اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اخروی وعند اللہ درجات حاصل کرنے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔ عورت یہ خیال نہ کرے کہ مرد کو اجتماعی سیادت حاصل ہے لہذا اس کو نیک اعمال کا بدلہ بھی عورت سے زیادہ ملے گا۔ یہ نہیں ہے بلکہ جب یہ دونوں انسانیت میں مساوی حاصل نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے من ذکر اوانلی بعضکم من بعض فرماکر عورت کے مقام کو مرد کے برابر کردیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے یہ فرما کر النسا سق لو الر جال کہ طبا ئع و اخلاق میں عورتوں مردوں کے برابر ہیں) عورت کی حیثیت کو بلند اور ارفع بنادیا ہے۔ قبل ازاسلام عورت کو ایک مرد کی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے وجود میں آئی ہے اور بعض لوگ تو عورت میں روح کے ہی قائل نہ تھے اور بعض مذاہب مرد کو محض مردہو نے کی وجہ سے عورت پر فوقییت دیتے تھے۔ قرآن نے بعضکم من بعض فرماکر ان سب نظریات کی تر ید فرمادی تاہم مرد و عورت کی جدا کانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطر تا ان کی صلاحتیوں میں بھی اختلاف ہے۔ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں نہ مر دعورت بن سکتا ہے اور نہ عورت مرد کی جگہ لے سکتی ہے۔ (المنار) سلسلہ بحث کے لیے دیکھئے (سورت النسا آیت 34) 3 یعنی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت کے لیے اپنی خوشی سے ہجرت کی اپنے وطن اور مال ومنال کو خیر باد کہ کر مرکز اسلامی میں پہنچ گئے اور وہ لوگ جن پر کفار نے ظلم وستم ڈھائے۔ انہیں سخت اذیتیں پہنچاکر گھر بار چھوڑ نے پر مجبور کردیا۔ انہیں کسی طرح چین سے نہ بیٹھے دیا اور انہیں محض اس لیے تکا لیف کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے دین اسلام کی راہ اختیار کی جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ ( سورت المتحنہ : 1) یعنی یہ کافر پیغمبر ﷺ اور تمہیں گھروں سے محض اس جرم کی باداش میں نکا لتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ نیز سورت ابروج میں فرمایا : وما انقمو امنھم الا ان یمو منو اباللہ العزیز الحمید کہ ان مومنوں کی یہی بات بر لگتی ہے کہ وہ خدا پر ایمان لے آئے ہیں جو غالب اور قابل ستائش ہے دفی ہذا آیات کثیر ۃ (ابن کثیر، کبیر )
Ayahs 3:196–197

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

اے پیغمبر ( علیہ السلام) کافروں کے ادھر ادھر شہروں میں پھر نے سے تجھ کو دھوکا نہ ہو

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

تھوڑا مزہ ہے پھر ان کا ٹھکانا وہی دوزخ ہے اور کیا برا سامان ہے4

ف 4 اوپر کی آیات میں مومنوں سے غفران ذنوب اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا ہے حالا ن کہ وہ فقر وفاقہ کی حالت میں بسر کر رے ہیں تھے ان کے بالمقابل کفا نہایت عیش وتنعم میں تھے ان کو دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جا نے لہذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ (کبیر) مروی ہے کہ بعض مسلمانوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے دشمن تو بڑی عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہم نہایت عسرت اور تنگی میں مبتلا ہیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی فرا کا بیان ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں ناز ہوئی ہے (المنا) مقصد یہ ہے کہ کفار کے شہروں میں تجا رتی کا روبار ان کی خوشحالی اور مال و دولت کی فروانی کو دیکھ کر مسلمانوں کے دلو میں کسی قسم کا حزن وغم اور بغض نہیں آتا چاہیے نہ ان کے پاس کا شکار ہونا چاہیے ارونہ منا فیقن ہی کو جو شدت و خوف کے وقت پکار اٹھتے ہیں۔ ماوعد نا اللہ روسولہ غرور۔ ( احزاب آیت 12) یعنی پیغمبر نے تو ہم سے محض فریب اور دھو کے کا وعدہ کیا ہے اس استدلال کرنا چاہیے یہ چند روزہ زندگی کا سامان اور عارضی بہار ہے مرنے کے بعد ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ہو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے اس کے مخاطب بظاہر تو آنحضرت ﷺ مگر مراد امت ہے (المنار۔ شوکانی) اس کے اگلی آیت میں مومنین کی جزا کا ذکر فرمایا ہے تاکہ مزید تشفی حاصل ہو اور چونکہ کفار کے مقابلہ میں بیان کی جارہی ہے اس لیے لکن کا لفظ بطور استدراک ذکر فرمادیا۔ (المنار )
Ayahs 3:198–199

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ ڈرتے رہے اپنے مالک سے اور ایمان لائے نیک اعمال کیے ان کے لیے آخرت میں باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ کی طرف سے یہ ان کی مہمانی ہوگی اور جو سامان اللہ کے پاس ہے نیکوں کے لیے وہی بہتر ہے

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور کتاب والوں میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تم پر اترا یعنی قرآن پر اور جو ان پر اترا یعنی توریت اور انجیل پر اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اللہ کی آیتوں پر تھوڑا مول نہیں لیتے ان کو چھپاتے نہیں نہ ان میں تحریف کرتے ہیں دنیا کے طمع سے ان لوگوں کو بیشک پروردگار کے پاس ان کا اجر ملے گا بیشک اللہ جلد حساب کرنے والا ہے آدھے دن میں ساری دنیا کا حساب لے لے گا1

ف 1 یہ آیت ان اہل کتاب (یہود اور عیسا ئیوں) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، بعض روایات میں ان کی کل تعدادد 80 مذکور ہے جن میں عبد اللہ بن سلام اور اصجمہ نجاشی بادشاہ حبشہ بھی شامل ہے۔ نجا شی کی موت کی خبر آنے پر آنحضرت ﷺ نے مدینہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ (لباب النقول، کبیر )