2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayah 2:1

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

الم (1) (ف 1)

ف 1۔ ان حروف کے معانی سے عوام کو اطلاع نہیں دی گئی۔ شاید حامل وحی ﷺ کو بتلا دیا گیا ہو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے اہتمام کے ساتھ وہی باتیں بتلائی ہیں جن کے نہ جاننے سے دین میں کوئی جرح اور نقصان لازم آتا تھا لیکن ان حروف کا مفہوم نہ جاننے سے کوئی حرج نہ تھا اس لیے ہم کو بھی ایسے امور کی تفتیش نہ چاہیے۔
Ayahs 2:2–3

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں (ف 2) راہ بتلانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو (ف 3) ۔ (2)

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

وہ (خدا سے ڈرنے والے) لوگ ایسے ہیں کہ یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی (ف 4) چیزوں پر اور قائم رکهتے ہیں (ف 5) نماز کو اور جو کچھ دیا ہے ہم نے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں (ف 6) ۔ (3)

ف 2۔ یعنی قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں یعنی یہ امر یقینی ہے کہ اگر کوئی نافہم اس میں شبہ رکھا ہو کیونکہ یقینی بات کسی کے شبہ کرنے سے بھی یقینی یہ رہتی ہے۔ 3۔ کیونکہ جس کا خوف خدا نہ ہو وہ قرآن کا بتلایا ہوا راستہ نہیں دیکھتا۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکهتے ہیں ( کتاب) پر بهی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہو اور ان (کتابوں) پر بهی جو آپ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں (ف 7) اور آخرت پر بهی وہ لوگ یقین رکهتے ہیں (ف 8) ۔ (4)

ف 7۔ یعنی قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں پر بھی۔ ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں عمل کرنا دوسری بات ہے پس حق تعالیٰ نے جتنی کتابیں انبیائے سلف علھیم السلام پر نازل کی ہیں سب کو سچا سمجھنا فرج اور شرط ایمان ہے رہ گیا عمل سو وہ صرف قرآن پر ہوگا پہلی کتابیں منسوخ ہوگئی ہیں اس لیے ان پر عمل جائز نہیں۔ 8۔ آخرت سے قیامت کا دن مراد ہے چونکہ وہ دن دنیا کے بعد آئے گا اس لیے اس کو آخرت کہتے ہیں۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں ٹهیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے۔ اور یہ لوگ ہیں پورے کامیاب (ف 1) ۔ (5)

ف۔ 1۔ یعنی ایسے لوگوں کو دنیا میں نعمت ملی، کہ راہ حق نصیب ہوتی اور آخرت میں یہ دولت نصیب ہوگی کہ ہر طرح کی کامیابی ان کے لیے ہے۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوچکے ہیں برابر ہیں ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یہ نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لاویں گے (ف 2) ۔ (6)

ف 2۔ اس آیت میں سب کافروں کا بیان نہیں بلکہ خاص ان کافروں کا ذکر ہے جن کی نسبت خدا کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا اور اس آیت سے یہ غرض نہیں کہ ان کو عذاب الہی سے ڈرانے اور احکام سنانے کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی فکرنہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے مغموم نہ ہوں انکے ایمان لانے کی امید نہیں۔
Ayahs 2:7–8

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

بندلگادیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکهوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے سزا بڑی ہے (ف 3) ۔ (7)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں سے بعضے ایسے بھی ہے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر اور (حالانکہ) وہ بالکل ایمان والے نہیں۔ (8)

ف 3۔ انہوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے سو اس تباہی و استعداد کا سبب وفاعل تو وہ خود ہی ہیں مگر چونکہ بندوں کے جمیع افعال کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے اس لیے اس آیت میں اپنے خالق ہونے کا بیان فرمادیا کہ جب وہ تباہی استعداد کے فاعل ہوئے اور اس کو بقصد خود اختیار کرنا چاہا تو ہم نے بھی وہ بداستعدادی کی کیفیت ان کے قلوب وغیرہ میں پیدا کردی بند لگانے سے اسی بداستعدادی کا پیدا کرنا مراد ہے ان کا یہ فعل اس ختم کا سبب ہو ختم الہی اس فعل کا سبب نہیں ہوا۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

چالبازی کرتے ہیں اللہ سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لاچکے ہیں (یعنی محض چالبازی کی راہ سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں) اور وہ واقعی میں کسی کے ساتھ بھی چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وه اس کا شعور نہیں رکھتے (ف 4) ۔ (9)

ف 4۔ یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 2:10–15

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (بڑا) مرض ہے سو اور بھی بڑھادیا اللہ تعالیٰ نے ان کو مرض (ف 5) اور ان کیلئے سزائے دردناک ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ (10)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فساد مت کرو زمین میں تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح ہی کرنے والے ہیں۔ (11)

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

یاد رکھو بیشک یہی لوگ مفسد ہیں لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ (12)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی ایمان لے آؤ جیسا ایمان لائے ہیں اور لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لاویں گے جیسا ایمان لائے ہیں بیوقوف یاد رکھو بیشک یہی ہیں بیوقوف لیکن وہ اس کا علم نہیں رکھتے۔ (13)

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب ملتے ہیں وہ (منافقین) ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس تو کہتے ہیں کہ ہم بیشک تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف استہزا کیا کرتے ہیں۔ (14)

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ بھی استہزا کررہے ہیں انکے ساتھ اور ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں انکو کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں ہورہے ہیں۔ (15)

ف 5۔ مرج ہیں ان کی بداعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ وخلجان سب کچھ آگیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہوجاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
Ayahs 2:16–17

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی لے لی بجائے ہدایت کے تو سودمند نہ ہوئی ان کی یہ تجارت اور نہ یہ ٹھیک طریقہ پر چلے (ف 6) ۔ (16)

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی حالت اس شخص کی حالت کے مشابہ ہے جس نے (کہیں) آگ جلائی ہو پھر جب روشن کردیاہو (اس آگ نے) اس شخص کے گردا گرد کی سب چیزوں کو (ایسی حالت میں) سلب کرلیاہو اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی کو اور چھوڑ دیا ہو ان کو اندھیروں میں کہ کچھ دیکھتے بھالتے نہ ہوں۔ (17)

ف 6۔ یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت کی سی اچھی چیز چھوڑ دی اور گمراہی کی بری چیز پالی۔
Ayahs 2:18–19

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو یہ اب رجوع نہ ہونگے (ف 1) ۔ (18)

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا (ان منافقوں کی ایسی مثال ہے) جیسے بارش ہو آسمان کی طرف سے اس میں اندهیری بھی ہو اور رعدوبرق بھی ہو (جو لوگ اس بارش میں چل رہے ہیں) وہ ٹھونسے لیتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے سبب اندیشہٴ موت سے اور اللہ تعالیٰ احاطہ میں لیے ہوئے ہیں کافروں کو۔ (19)

ف 1۔ یعنی حق سے بہت بعید ہوگئے ہیں کہ ان کے کان حق سننے کے قابل نہ رہے، زبان ان کی حق بات کہنے کے لائق نہ رہی، آنکھیں حق دیکھنے کے قابل نہ رہیں سو اب ان کے حق کی طرف رجوع ہونے کی کیا امید ہے۔
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

برق کی یہ حالت ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کی بینائی اس نے لی جہاں ذرا ان کو (بجلی کی) چمک ہوئی تو اس (کی روشنی) میں چلناشروع کیا اور جب ان پر تاریکی ہوئی ( پھر کھڑے کے) کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ تعالیٰ ارادہ کرتے تو ان کے گوش وچشم سب سلب کرلیتے بلاشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔ (ف 2) (20)

ف 2۔ متردد و منافقین آثار غلبہ اسلام میں کبھی نور اسلام کی جھلک دیکھ کر ادھر کو بڑھنے لگتے ہیں کہ اور کبھی خود غرضی کی ظلمت میں پڑ کر پھر حق سے رک جاتے ہیں۔
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو عبادت اختیار کرو اپنے (اس) پروردگار کی جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں عجب نہیں کہ تم (دوزخ سے) بچ جاؤ۔ (ف 3) (21)

ف 3۔ شاہی محاورہ میں ” عجب نہیں “ کا لفظ وعدہ کے موقع پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

(وہ ذات پاک ایسی ہے) جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر (پردہٴ عدم سے) نکالا بذریعہ اس (پانی) کے پھلوں کی غذاکوتم لوگوں کے واسطے پس اب تم مت ٹھیراؤ اللہ پاک کے مقابل اور تم جانتے بوجھتے ہو۔ (ف 4) (22)

ف 4۔ یعنی اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز خدا تعالیٰ کے کوئی کرنے و الا نہیں۔ تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناو۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کچھ خلجان میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندہٴ (خاص) پر تو (اچھا) پھر تم بنا لاؤ ایک محدود ٹکڑا جو اس کا ہم پلہ ہو (ف 5) اور بلا لو اپنے حمایتیوں کو جو خدا سے الگ (تجویز کر رہے) ہیں اگر تم سچے ہو۔ (ف 6) (23)

ف 5۔ رسول مقبول ﷺ کو بیشمار معجزے عطا ہوئے جن میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن شریف ہے کہ اثبات نبوت کی بڑی دلیل ہے، اس کے معجزہ ہونے میں مخالفین کو یہ شبہ تھا کہ شاید اس کو رسول اللہ ﷺ خود تصنیف کرلیا کرتے ہوں۔ تو اس صورت میں اس کا معجزہ ہونا محل کلام میں ہوگیا پس دلیل نبوت مشتبہ ہوگئی، اس لئے اللہ تعالیٰ اس اشتباہ کو رفع فرماتے ہیں کہ تاکہ اس کا معجزہ ہونا ثابت ہوجائے پھر نبوت قطعی دلیل بن سکے۔ 6۔ جب باوجود اس کے نہ بنا سکیں گے تو بشرط انصاف بلا تامل ثابت ہوجائے گا کلہ یہ معجزہ منجانب اللہ ہے اور بلا شبہ آپ پیغمبر ہیں اور یہی مقصود تھا۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پھر اگر تم (یہ کام) نہ کرسکے ( اور قیامت تک بھی) نہ کرسکو گے تو پھر ذرا بچتے رہیو دوزخ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار ہوئی رکھی ہے کافروں کے واسطے۔ (ف 7) (24)

ف 7۔ یہ سن کر کیسا کچھ جوش و خروش اور بیچ و تاپ نہ آیا ہوگا۔ اور کوئی دقیقہ سعی کا کیوں اٹھا رکھا ہوگا ؟ پھر عاجز ہو کر اپنا سامنہ لیکر بیٹھ رہنا قطعی دلیل ہے کہ قرآن مجید معجزہ ہے۔
Ayahs 2:25–26

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور خوشخبری سنادیجیے آپ (اے پیغمبر) ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور کام کیے اچھے اس بات کی کہ بیشک ان کے واسطے بہشتیں ہیں کہ چلتی ہونگی انکے نیچے سے نہریں جب کبھی دیے جاویں گے وہ لوگ ان (بہشتوں) میں سے کسی پھل کی غذا تو (ہر بار میں) یہی کہینگے یہ تو وہی ہے جو ہم کو ملا تھا اس سے پیشتر اور ملے گا بھی ان کو (دونوں بار کا پھل) ملتا جلتا (ف 8) اور ان کے واسطے ان (بہشتوں) میں بیبیاں ہونگی صاف پاک کی ہوئی اور وہ لوگ ان (بہشتوں) میں ہمیشہ کو بسنے والے ہونگے۔ (25)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

ہاں واقعی اللہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے اس بات سے کہ بیان کردیں کوئی مثال بھی خواہ مچھر کی ہو خواہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہو سو جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں (خواہ کچھ ہی ہو) وہ تو یقین کرینگے کہ بیشک یہ مثال تو بہت موقع کی ہے ان کے رب کی جانب سے اور (رہ گئے) وہ لوگ جو کافر ہوچکے ہیں سو (چاہے کچھ بھی ہوجائے) وہ یوں ہی کہتے رہیں گے کہ وہ کون مطلب ہوگا جس کا قصد کیا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس (حقیر) مثال سے گمراہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس (مثال کی وجہ سے) بہتوں کو اور ہدایت کرتے ہیں اس کی وجہ سے بہتوں کو اور گمراہ نہیں کرتے۔ (26)

ف 8۔ دونوں بار کے پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ یوں سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہوگا، جس سے خط و سرور مضاعف ہوجائے گا۔
Ayahs 2:27–28

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

(الله تعالیٰ ) اس مثال سے کسی کو مگر صرف بیحکمی کرنیوالوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدہ کو جو اللہ تعالیٰ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد اور قطع کرتے رہتے ہیں ان (تعلقات) کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے ان کو وابستہ رکھنے کا (ف 1) اور فساد کرتے رہتے ہیں زمین میں پس یہ لوگ (پورے) خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ (ف 2) (27)

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

بھلا کیونکر ناسپاسی کرتے ہو اللہ کے ساتھ حالانکہ تھے تم محض بےجان سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کرینگے (یعنی قیامت کے دن) پھر ان ہی کے پاس لے جائے جاؤ گے۔ (28)

ف 1۔ اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہوگئے۔ 2۔ یہاں تک اس شبہ کے جواب کا سلسلہ تھا جو کفار نے پیش کیا تھا کہ کلام الہی میں ایسی کم قدر چیزوں کا ذکر کیوں آیا اب اس مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس سے اوپر والی آیت یا ایھا الناس اعبدوا میں متعلق توحید کے مذکور ہوا تھا۔
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہ (ذات پاک ایسی ہے) جس نے پیدا کیا تمہارے (فائدے کے) لیے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہیں سب کا سب پھر توجہ فرمائی آسمان کی طرف سو درست کر کے بنائے سات آسمان (ف 3) اور وہ تو سب چیزوں کے جاننے والے ہیں۔ (29)

ف 3۔ اول زمین میں مادہ بنا اور ہنوز اس کی ہیبت موجودہ نہ بنی تھی کہ اسی حالت میں آسمان کا مادہ بنا جو صورت دخان تھا۔ اس کے بعد زمین کی جو ہییت موجود پر پھیلادی گئی پھر اس پر پہاڑ درخت وغیرہ پیدا کیے گئے پھر اس مادہ سیالہ کے سات آسمان بنادیے گئے۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب (ف 4) (فرشتے) کہنے لگے کیا آپ پیدا کرینگے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کرینگے اور خونریزیاں کرینگے اور ہم برابرتسبیح کرتے رہتے ہیں بحمدالله اور تقدیس کرتے رہتے ہیں آپ کی۔ (ف 5) (حق تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے۔ (ف 6) (30)

ف 4۔ یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجرا ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا۔ 5۔ یہ بطور اعتراض کے نہیں کہا نہ اپنا حق جتلایا بلکہ یہ فرشتوں کی عرض معروض اظہار نیاز مندی کے واسطے تھی۔ 6۔ یعنی جو امر تمہارے نزدیک مانع تخلیق بنی آدم ہے وہی واقع میں باعث انکی تخلیق کا ہے۔
Ayahs 2:31–33

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور علم دیدیا اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ( علیہ السلام) کو (ان کو پیدا کر کے) سب چیزوں کے اسماء کا (ف 7) پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کردیں پھر فرمایا کہ بتلاؤ مجھ کو اسماء ان چیزوں کے (یعنی مع ان کے آثار و خواص کے) اگر تم سچے ہو۔ (31)

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

(فرشتوں نے) عرض کیا آپ تو پاک ہیں ہم کو علم ہی نہیں مگر وہی جو کچھ ہم کو آپ نے علم دیا بیشک آپ بڑے علم والے ہیں حکمت والے ہیں۔ (32)

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(کہ جسقدر جس کے لیے مصلحت جانا اسی قدر فہم و علم عطا فرمایا) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم انکو ان چیزوں کے اسماء بتادو سو جب بتلادیے انکو آدم نے ان چیزوں کے اسماء تو (حق تعالیٰ نے) فرمایا (دیکھو) میں تم سے کہتا نہ تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں تمام پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور جانتا ہوں جس (بات) کو تم ظاہر کردیتے ہو اور جس (بات) کو دل میں رکھتے ہو۔ (33)

ف 7۔ یعنی تمام موجودات روئے زمین کے اسما و خواص کا علم دے دیا۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جس وقت حکم دیا ہم نے فرشتوں کو ( اور جنوں کو بھی) کہ سجدے میں گر جاؤ آدم کے سامنے (ف 8) سو سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے اس نے کہنانہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے۔ (ف 9) (34)

ف 8۔ غالبا فرشتوں کو بلاواسطہ حکم کیا ہوگا اور جنوں کو کسی فرشتہ وغیرہ کے ذریعے سے کہا گیا ہوگا۔ 9۔ اس پر تکفیر کا فتوی اس لیے دیا گیا کہ اس نے حکم الہی کے مقابلہ میں تکبر کیا اور اس کے قبول کرنے میں عار کیا اور اس کو خلاف حکمت و خلاف مصلحت ٹھیرایا۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم رہاکرو تم اور تمہاری بیوی بہشت میں پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی ان ہی میں (شمار) ہوجاؤ گے جو اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ (ف 1) (35)

ف 1۔ خدا جانے وہ کیا درخت تھا۔
Ayahs 2:36–40

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر لغزش دیدی ان ( آدم اور حوا) کو شیطان نے اس (درخت) کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس (عیش) سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کے نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین پر چندے ٹھیرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک۔ (ف 2) (36)

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

بعد ازاں حاصل کرلیے آدم ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند الفاظ تو اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی ان پر (یعنی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑے توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان۔ (37)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے حکم فرمایا نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب پھر آوے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہونگے۔ (38)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر کرینگے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی یہ لوگ ہونگے دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (39)

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کیے ہیں میں نے تم پر اور پورا کرو تم میرے عہد کو پورا کروں گا میں تمہارے عہدوں کو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ (40)

ف 2۔ یعنی وہاں بھی جاکر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔