2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayahs 2:159–162

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ اخفا کرتے ہیں (ان مضامین کا) جن کو ہم نے نازل کیا ہے جو کہ (اپنی ذات میں) واضح ہیں اور (دوسروں کو) ہادی ہیں بعد اس کے کہ ہم ان کو کتاب (الہٰی تورات و انجیل) میں عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں اور (دوسرے بہتیر ے) لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (ف 1) (159)

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جو لوگ توبہ کرلیں اور صلاح کرلیں اور (ان مضامین کو) ظاہر کردیں تو ایسے لوگوں پر میں متوجہ ہوجاتا ہوں اور میری تو بکثرت عادت ہے تو بہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا۔ (160)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

البتہ جو لوگ (ان میں سے) اسلام نہ لاویں اور اسی حالت غیراسلام پر مرجاویں ایسے لوگوں پر (وہ) لعنت (مذکورہ) اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی بھی سب کی (ایسے طور پر برساکرے گی کہ) ۔ (161)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں رہیں گے۔ ان سے عذاب ہلکا نہ ہونے پاوے گا اور نہ ( داخل ہونے کے قبل) ان کو مہلت دی جاوے گی۔ (162)

ف 1۔ اس آیت میں کتمان حق پر جو وعید مذکور ہوئی ہے کہ ہرچند کہ ہر امرحق کے باب میں لفظا عام ہے لیکن بقرینہ جملہ یعرفونہ کمایعرفون ابناءھم باقتضا خصوصیت مقام زیادہ مقصود بالنفل مسئلہ رسالت محمدیہ علی صاحبھا الف الف سلام ہے۔ پس اس لحاظ سے اس آیت میں اثبات ہوا مسئلہ رسالت کا چونکہ اعتقاد و توحید اور اعتقاد رسالت دونوں اعتبار شرع میں متلازم ہیں اس لیے آیت آئندہ میں مسئلہ توحید کی تقریر فرمائی جاتی ہے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (ایسا معبود) جو تم سب کا معبود (بننے کا مستحق) ہے وہ تو ایک ہی معبود (حقیقی) ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (وہی) رحمٰن و رحیم ہے۔ (ف 2) (163)

ف 2۔ مشرکین عرب نے جو آیت والھکم الہ واحد اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ دعوی صحیح ہو تو کوئی دلیل پیش کرنا چاہیے حق تعالیٰ دلیل توجیہ بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے میں اور جہازوں میں جو کہ سمندر میں چلتے ہیں آدمیوں کے نفع کی چیزیں ( اور اسباب) لے کر اور (بارش کے) پانی میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برسایا پھر اس سے زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے اور ہر قسم کے حیوانات اس میں پھیلادئیے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور ابر میں جو زمین و آسمان کے درمیان مقید ( اور معلق) رہتا ہے دلائل (توحید کے موجود) ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔ (ف 3) (164)

ف 3۔ اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 2:165–166

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو علاوہ خدا تعالیٰ کے اوروں کو بھی شریک (خدائی) قرار دیتے ہیں ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے (رکھنا) ضروری ہے اور جو مومن ہیں ان کو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے (ف 4) اور کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم (مشرکین) جب (دنیا میں) کسی مصیبت کو دیکھتے (تو اس کے وقوع میں غور کر کے سمجھ لیا کرتے) کہ سب قوت حق تعالیٰ ہی کو ہے اور یہ (کہ سمجھ لیا کرتے) کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب (آخرت میں اور بھی) سخت ہوگا۔ (ف 5) (165)

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جبکہ وہ لوگ جن کے کہنے پر دوسرے چلتے تھے ان لوگوں سے صاف الگ ہوجاویں گے جو ان کے کہنے پر چلتے تھے اور سب عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور باہم ان میں جو تعلقات تھے اس وقت سب قطع ہوجاوینگے۔ (166)

ف 4۔ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر ضرر پڑے گا تو فورا محبت منقطع ہوجاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع ضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے۔ 5۔ اور عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور یہ تابع لوگ یوں کہنے لگیں گے کسی طرح ہم سب کو ذرا ایک دفعہ (دنیا میں) جانا مل جاوے تو ہم بھی ان سے صاف الگ ہوجاویں جیسایہ ہم سے (اس وقت) صاف الگ ہو بیٹھے اللہ تعالیٰ یوں ہی ان کی بداعمالیوں کو خالی ارمان کر کے ان کو دکھلا دینگے اور ان کو دوزخ سے نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا۔ (ف 1) (167)

ف 1۔ اس عذاب میں کئی طرح کی شدت ثابت ہوئی اور اہل شرک کے عقیدہ کا بطلان ہے آگے اہل شرک کے بعض اعمال کا بطلان ہے جیسے سانڈ کی تعظیم وغیرہ۔
Ayahs 2:168–172

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے (شرعی) حلال پاک چیزوں کو کھاؤ (برتو) اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو فی الواقع وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ (ف 2) (168)

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو انہی باتوں کی تعلیم کرے گا جو کہ شرعا بری اور گندی ہیں اور یہ (بھی تعلیم کرے گا) کہ اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ کہ جس کی تم سند بھی نہیں رکھتے۔ (169)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب کوئی ان (مشرک) لوگوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم بھیجا ہے اس پر چلو تو کہتے ہیں کہ (نہیں) بلکہ ہم تو اسی (طریقہ) پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا اگرچہ ان کے باپ دادا (دین کی) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتابوں کی) ہدایت رکھتے ہوں۔ (170)

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور ان کافروں کی کیفیت (نافہمی میں) اس (جانور کی) کیفیت کی مثل ہے کہ ایک شخص ہے وہ ایسے (جانور) کے پیچھے چلا رہا ہے جو بجز بلانے اور پکارنے کی کوئی بات نہیں سنتا (اسی طرح یہ کفار) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو سمجھتے کچھ نہیں۔ (171)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ (برتو) اور حق تعالیٰ کی شکر گزاری کرو اگر تم خاص ان کے ساتھ غلامی کا تعلق رکھتے ہو۔ (172)

ف 2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو (جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو (اسی طرح اس کے سب اجزاء کو بھی) ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر بھی جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ (قدر حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو اس شحص پر کچھ گناہ نہیں ہوتا واقعی اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفوررحیم۔ (ف 3) (173)

ف 3۔ اس مقام کے متعلق چند مسائل فقیہ ہیں۔ 1۔ جس جانور کا ذبح کرنا شرعا ضروری ہو اور وہ بلاذبح ہلاک ہوجاوئے وہ حرام ہوتا ہے اور جس جانور کا ذبح کرنا ضروری نہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک ٹڈی اور ایک مچھلی۔ دوسرے وحشی جیسے ہرن وغیرہ۔ جب کہ اس کے ذبح پر قدرت نہ ہوئے تو اس کو دور ہی سے تیر یا اور کسی تیز ہتھیار سے اگر بسم اللہ کہہ کر زخمی کیا جائے تو حلال ہوجاتا ہے البتہ بندوق کا شکار بدون ذبح کیے ہوئے حلال نہیں کیونکہ گولی میں دھار نہیں ہوتی۔ 2۔ خون جو بہتا نہ ہو اس سے دوچیزیں مراد ہیں جگر اور طحال۔ یہ حلال ہیں۔ 3۔ خنزیر کے سب اجزاء لحم و شحم و پوست و اعصاب سب حرام ہیں، اور نجس بھی ہیں۔
Ayahs 2:174–175

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفا کرتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں (دنیا کا) متاع قلیل وصول کرتے ہیں (ف 4) ایسے لوگ اور کچھ نہیں اپنے شکم میں آگ (کے انگارے) بھر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو قیامت میں (لطف کے ساتھ) کلام کرینگے اور نہ (گناہ معاف کرکے) ان کی صفائی کریں گے اور ان کو سزائے دردناک ہوگی۔ (174)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے (دنیا میں تو) ہدایت چھوڑ کر ضلالت اختیار کی اور (آخرت میں) مغفرت چھوڑ کر عذاب (سر پر لیا) سو دوذخ کے لیے کیسے باہمت ہیں۔ (175)

ف 4۔ جس جانور کو غیر اللہ کے نامز اس نیت سے کردیا ہو کہ وہ ہم سے خوش ہوں گے اور ہماری کاروائی کردیں گے وہ حرام ہوجاتا ہے اگر ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیاہو۔ اور محرمات حسیہ کا ذکر تھا اس آیت میں محرم معنوی کا بیان ہے جو عادت تھی علما یہود کی احکام غلط بیان کرکے عوام سے رشوت لیتے اور کھاتے تھے نیز اس میں تعلیم ہے علماء امت محمدیہ کو کہ ہم نے جو کچھ احکام بیان فرمائے ہیں کسی نفسیاتی غرض اور منفعت سے ان کے بیان و تبلیغ میں کوتاہی مت کرنا۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ (ساری مذکورہ) سزائیں (ان کو) اس وجہ سے ہیں کہ حق تعالیٰ نے (اس) کتاب کو ٹھیک ٹھیک بھیجا تھا۔ اور جو لوگ (ایسی) کتاب میں بےراہی کریں وہ بڑی دور کے خلاف میں ہونگے۔ (ف 1) (176)

ف 1۔ آیات آئندہ میں کہ بقیہ نصف بقرہ ہے۔ زیادہ مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تعلیم کرنا ہے گوضمنا غیر مسلمین کو کوئی خطاب ہوجائے اور یہ مضمون ختم سورت تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان برّ سے جو کہ تمام طاعات ظاہری و باطنی کو عام ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے ایک کلی تعلیم کی گئی ہے آگے اس بر کی تفصیل چلی ہے جس میں بہت سے احکام باقتضائے وقت ومقام بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرمادیا۔
Ayahs 2:177–179

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

کچھ سارا کمال اسی میں نہیں (آگیا) کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو (ف 2) لیکن (اصلی) کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (سب) کتب (سماویہ) پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اس (الله) کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور (بےخرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰةبھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص (ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ) اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب عہد کرلیں اور وہ لوگ مستقل رہنے والے ہوں تنگدستی اور بیماری میں اور قتال میں یہ لوگ ہیں جو سچے (کمال کے ساتھ موصوف) ہیں اور یہی لوگ ہیں جو (سچے) متقی (کہے جاسکتے) ہیں۔ (ف 3) (177)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والوں تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولین (بقتل عہد) کے بارے میں آزاد آدمی کے عوض میں اور غلام غلام کے عوض میں اور عورت عورت کے عوض میں ہاں جس کو اس کے فریق کی طرف سے کچھ معافی ہوجاوے (مگر پوری معافی نہ ہو) تو (مدعی کے ذمے) معقول طور پر (خونبہا کا) مطالبہ کرنا اور (قاتل کے ذمے) خوبی کے ساتھ اس کے پاس پہنچا دینا یہ (قانون دیت و عفو) تمہارے پروردگار کی طرف سے (سزا میں) تخفیف ہے اور (شاہانہ) ترحم ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد تعدی کا مرتکب ہو تو اس شخص کو بڑا دردناک عذاب ہوگا۔ (178)

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور فہیم لوگو ! (اس قانون) قصاص میں تمہاری جانوں کا بڑا بچاؤ ہے ہم امید کرتے ہیں کہ تم لوگ (ایسے قانون امن کی خلاف ورزی کرنے سے) پرہیز رکھو گے۔ (179)

ف 2۔ خاص سمتوں کا قصہ یہاں اس لیے مذکور ہوا کہ تحویل قبلہ کے وقت تمام تر بحث یہود و نصاری کی اس میں رہ گئی تھی اس لیے متنبہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کام اور ہیں ان کا اہتمام کرو۔ 3۔ غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا ان ہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص ہے یعنی اقامت صلوة کے توابع و شرائط میں سے اور اس کے حسن سے اس میں بھی حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا۔
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب کسی کو موت نزدیک معلوم ہونے لگے بشرطیکہ کچھ مال بھی ترکہ میں چھوڑا ہو تو والدین اور اقارب کے لیے معقول طور پر (کہ مجموعہ ایک ثلث سے زیادہ نہ ہو) کچھ کچھ بتلا جاوے (اس کا نام وصیت ہے) جن کو خدا کا خوف ہے ان کے ذمہ یہ ضروری ہے۔ (ف 1) (180)

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو شخص اس (وصیت) کے سن لینے کے بعد اس کو تبدیل کرے گا اس کا گناہ ان ہی لوگوں کو ہوگا جو اس کو تبدیل کریں گے اللہ تعالیٰ تو یقینا سنتے جانتے ہیں۔ (181)

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

ہاں جس شخص کو وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی بےعنوانی یا کسی جرم کے ارتکاب کی تحقیق کی ہوئی ہو پھر یہ شخص ان میں باہم مصالحت کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ تو (خود گناہوں کے) معاف فرمانے والے ہیں اور (گناہگاروں پر) رحم کرنے والے ہیں۔ (182)

ف 1۔ اس حکم کے تین جزو تھے ایک بجز اولاد کے دوسرے ورثہ کے حصص وحقوق ترکہ میں معین نہ ہونا۔ دوم ایسے اقارت کے لیے وصیت کا واجب ہونا۔ تیسرے ثلث مال سے زیادہ وصیت کی اجازت نہ ہونا۔ پس پہلا جزو تو آیت میراث سے منسوخ ہے دوسرا جزو حدیث سے جو کہ موید بالا جماع ہے منسوخ ہے اور وجوب کے ساتھ جواز بھی منسوخ ہوگیا۔ یعنی وراثت شرعی کے لیے وصیت مالیہ باطل ہے تیسرا جزو اب بھی باقی ہے ثلث سے زائد میں بدون رضاء ورثہ وصیت باطل ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ۔ (ف 2) (183)

ف 2۔ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقوی کی یہ روزہ کی ایک حکمت کا بیان ہے لیکن حکمت کا اسی میں انحصار نہیں ہوگا خدا جانے اور کیا کیا ہزاروں حکمتیں ہوں گی۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کرو پھر (اس میں بھی اتنی آسانی کہ) جو شخص تم میں (ایسا) بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو دوسرے ایام کا شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے اور (دوسری آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں انکے ذمہ فدیہ ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا (کھلا دینا یا دیدینا ہے) اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دے) تو یہ اس شخص کے لیے اور بھی بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا (اس حال میں) زیادہ بہتر ہے (اگر تم روزے کی فضیلت کی) خبر رکھتے ہو۔ (ف 3) (184)

ف 3۔ اب یہ حکم منسوخ ہے البتہ جو شخص بہت بوڑھا ہو یا ایسابیمار ہو کہ اب صحت کی توقع نہیں ایسے لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی ہے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(وہ تھوڑے دن) ماہ رمضان ہے جس میں قرآن مجید بھیجا گیا ہے (ف 4) جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے (ذریعٴہ) ہدایت ہے اور (دوسرا وصف) واضح الدلالتہ ہے منجملہ ان (کتب) کے جو (زریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (حق و باطل میں) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیے سو جو شخص بیمار ہو یا سفر میں تو دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (احکام میں) آسانی کرنا منظور ہے اور تمہارے ساتھ (احکام و قوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں اور تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضا کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو (کہ ثواب میں کمی نہ رہے) اور تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی (وثنا) بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلادیا (جس سے تم برکات وثمرات صیام رمضان سے محروم نہ رہو گے) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لیے دیدی) تاکہ تم لوگ (اس نعمت آسمانی پر اللہ کا) شکر ادا کیا کرو۔ (185)

ف 4۔ قرآن مجید میں دوسری آیت میں آیا ہے کہ ہم نے قرآن مجید شب قدر میں نازل فرمایا اور یہاں رمضان شریف میں نازل کرنا فرمایا ہے سو وہ شب قدر رمضان کی تھی اس لیے دونوں مضمون موافق ہوگئے اور اگر یہ وسوسہ ہو کہ قرآن مجید تو کئی سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے نبی ﷺ پر نازل ہوا ہے پھر رمضان میں یاشب قدر میں نازل فرمانے کے کیا معنی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر دفعتا رمضان کی شب قدر میں نازل ہوچکا تھا پھر آسمان دنیا سے دنیا میں بتدریج کئی سال میں نازل ہوا پس اس میں بھی تعارض نہ رہا۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں تو (آپ میری طرف سے فرمادیجیے) میں قریب ہی ہوں ( اور باستثنا نامناسب درخواست کے) منظور کرلیتا ہوں (ہر) عرضی درخواست کرنے والے کی جبکہ وہ میرے حضور میں درخواست دے سو ان کو چاہیے کہ میرے احکام کو قبول کیا کریں اور مجھ پر یقین رکھیں امید ہے کہ وہ لوگ رشد (و فلاح) حاصل کرسکیں گے۔ (ف 1) (186)

ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ میں قریب ہوں تو جیسے حق تعالیٰ کی ذات کی حقیقت بیچون وبیجگوں ہونے کی وجہ سے ادراک نہیں کی جاسکتی اسی طرح ان کی صفات کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہوسکتی لہذا ایسے مباحث میں زیادہ تفتیش جائز نہیں اجمالا اتنا سمجھ لیں کہ جیسی ان کی ذات ہے ان کی شان کے مناسب ان کا قرب بھی ہے۔
Ayahs 2:187–188

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا (ف 2) کیونکہ وہ تمہارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو۔ خدا تعالیٰ کو اس کی خبر تھی کہ تم خیانت (کرکے گناہ میں اپنے کو مبتلا) کررہے تھے (مگر) خیر اللہ تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی تم سے گناہ کو دھودیا۔ سو اب ان سے ملو ملاؤ۔ اور جو (قانون اجازت) تمہارے لیے تجویز کردیا ہے (بلاتکلف) اس کا سامان کرو اور کھاؤ اور پیو (بھی) اس وقت تک کہ تم کو سفید خط (کہ عبارت ہے نور) صبح (صادق) کا متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے (ف 3) پھر (صبح صادق سے) رات تک روزہ کو پورا کیا کرو۔ اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی مت ملنے دو جس زمانہ میں کہ تم لوگ اعتکاف والے ہو مسجدوں میں (ف 4) یہ خداوندی ضابطے ہیں سو ان (سے نکلنے) کے نزدیک بھی مت ہونا اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے ( اور) احکام (بھی) لوگوں (کی اصلاح) کے واسطے بیان فرمایا کرتے ہیں اس امید پر کہ وہ لوگ (احکام پر مطلع ہو کر خلاف کرنے سے) پرہیز رکھیں۔ (187)

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق (طور پر) مت کھاؤ اور ان (کے جھوٹے مقدمہ) کو حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو کہ (اس کے ذریعہ سے) لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ (یعنی) ظلم کے کھاجاؤ اور تم کو (اپنے جھوٹ اور ظلم کا) علم (بھی) ہو۔ (188)

ف 2۔ شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ رات کو ایک دفعہ نیند آجانے سے آنکھ کھلنے کے بعد کھانا پینا اور بی بی کے پاس جانا حرام ہوجاتا تھا۔ بعض صحابہ سے غلبہ میں اس حکم کے امتثال میں کوتاہی ہوگئی پھر نادم ہو کر نبی ﷺ سے اطلاع کی ان کی ندامت اور توبہ پر حق تعالیٰ نے رحمت فرمائی اور اس حکم کو منسوخ کردیا۔ 3۔ مراد متمیز ہونے سے یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہوجائے۔ 4۔ حالت اعتکاف میں بی بی کے ساتھ صحبت اور اسی طرح بوس وکنار سب حرام ہے۔ اعتکاف صرف ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں پانچوں وقت جماعت سے نماز کا انتطام ہو۔ جو اعتکاف رمضان میں نہ ہو اس میں بھی روزہ شرط ہے اعتکاف والے کو مسجد سے کسی وقت باہر نکلنا درست نہیں البتہ جو کام بہت ہی ضروری ہو جیسے پیشاب پائخانہ یا کوئی کھانالانے والا نہ ہو تو گھر سے کھانا لاسکتا ہے یا جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے جانا بس ایسی ضرورت کے لیے باہر جانا درست ہے لیکن گھر میں یارستہ میں ٹھہرنا درست نہیں اگر عورت اعتکاف کرنا چاہے تو جو جگہ اس کی نماز پڑھنے کی مقرر ہے اسی جگہ اعتکاف بھی درست ہے۔
Ayahs 2:189–193

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

آپ سے چاندوں کی حالت کی تحقیقات کرتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ وہ چاند آلہٴ شناخت اوقات ہیں لوگوں کے (اختیاری معاملات مثل عدة مطالبہٴ حقوق) کے لیے اور (غیر اختیاری عبادات مثل) حج (روزہ زکوٰة وغیرہ) کے لیے (ف 5) اور اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو ہاں لیکن فضیلت یہ ہے کہ کوئی شخص (حرام چیزوں سے) بچے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ (ف 6) ۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔ (189)

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور (بےتکلف) تم لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جو (نقض عہد کرکے) تمہارے ساتھ لڑنے لگیں اور (ازخود) حد (معاہدہ) سے مت نکلو واقعی اللہ تعالیٰ حد (قانون شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ (190)

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور (جس حالت میں وہ خود عہد شکنی کریں اس وقت) ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ اور ان کو نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تم کو نکلنے پر مجبور کیا ہے اور شرارت قتل سے (بھی) سخت تر ہے اور ان کے ساتھ مسجد حرام کے قرب (ونواح) میں (کہ حرم کہلاتا ہے) قتال مت کرو جب تک کہ وہ لوگ وہاں تم سے خود نہ لڑیں ہاں اگر وہ (کفار) خود ہی لڑنے کا سامان کرنے لگیں تو تم (بھی) ان کو مارو ایسے کافروں کی (جو حرم میں لڑنے لگیں) ایسی ہی سزا ہے۔ (191)

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ لوگ (اپنے کفر سے) بازآجاویں ( اور اسلام قبول کرلیں) تو اللہ تعالیٰ بخش دینگے اور مہربانی فرمادینگے۔ (192)

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فسادعقیدہ (شرک) نہ رہے اور دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجاوے۔ اور اگر وہ لوگ (کفر سے) بازآجاویں تو سختی کسی پر نہیں ہوا کرتی بجز بےانصافی کرنے والوں کے۔ (193)

ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔ 6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی ضرورت سے گھر جانا چاہتے تو دروازے سے جانا ممنوع سمجھتے اس لیے پشت کی دیوار میں نقب دے کر اس میں سے اندر جاتے تھے اور اس عمل کو فضیلت سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو اس سے ایک بڑے کام کی بات معلوم ہوئی کہ جو شے شرعا مباح ہو اس کو طاعت و عبادت اعتقاد کرلینا اور اسی طرح اس کو معصیت اور محل ملامت اعتقاد کرلینا شرعا مذموم ہے اور بدعت میں داخل ہے۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ ہے بعوض حرمت والے مہینہ کے اور یہ حرمتیں تو عوض معاوضہ کی چیزیں ہیں سو جو کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ ان ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ (ف 1) (194)

ف 1۔ کفار کے ساتھ جبکہ شرائط جواز کے پائے جاویں ابتداء قتال شروع کرنا درست ہے۔ 2۔ جزیرہ عرب کے اندر کفار کو وطن بنانے کی اجازت نہیں۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور تم لوگ (جان کے ساتھ مال بھی) خرچ کیا کرو اللہ کی راہ میں اور (اپنے آپ کو) اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو (ف 2) اور کام اچھی طرح کیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔ (195)

ف 2۔ یہ جو فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھوں اس قید کا حاصل یہ ہے کہ باختیار کود کوئی امرخلاف حکم نہ کرے اور جو بلاقصد اختیار کچھ ہوجاوے تو وہ معاف ہے۔
Ayahs 2:196–197

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور (جب حج وعمرہ کرنا ہو تو اس) حج وعمرہ کو اللہ تعالیٰ کے واسطے پورا ادا کیا کرو۔ پھر اگر (کسی دشمن یا مرض کے سبب) روک دیے جاؤ تو قربانی کا جانور جو کچھ میسر ہو (ذبح کرو) اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے موقع پر نہ پہنچ جاوے ( اور وہ موقع حرم ہے کہ کسی کے ہاتھ وہاں جانور بھیجدیا جائے) البتہ اگر کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو (جس سے پہلے ہی سر منڈوانے کی ضرورت پڑجائے) تو (وہ سر منڈواکر) فدیہ (یعنی اس کا شرعی بدلہ) دیدے (تین) روزے سے یا (چھ مسکین کو) خیرات دینے سے یا ( ایک بکری) ذبح کردینے سے پھر جب تم امن کی حالت میں ہو (یا تو پہلے ہی سے کوئی خوف پیش نہ آیا ہو یا ہو کر جاتارہاہو) تو جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملاکر منتفع ہوا ہو (یعنی ایام حج میں عمرہ بھی کیا ہو) تو جو کچھ قربانی میسر ہو (ذبح کرے اور جس نے صرف عمرہ یا صرف حج کیا ہو اس پر حج وغیرہ کے متعلق کوئی قربانی نہیں) پھر جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو تو (اسکے ذمے) تین دن کے روزے ہیں (ایام) حج میں اور سات ہیں جبکہ حج سے تمہارے لوٹنے کا وقت آجاوے یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل (و عیال) مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے قرب (ونواح) میں رہتے ہوں (یعنی قریب ہی کا وطن دارنہ ہو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ کسی امر میں خلاف نہ ہوجائے) اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ (بیبا کی اور مخالفت کرنے والو نکو) سزائے سخت دیتے ہیں۔ (ف 1) (196)

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

(زمانہ) حج چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں (شوال، زیقعد اور دس تاریخیں ذی الحج کی) سو جو شخص ان میں حج مقرر کرلے تو پھر (اسکو) حج میں نہ کوئی فحش بات (جائز) ہے اور نہ کوئی بےحکمی (درست) ہے اور نہ کسی قسم کا نزاع (زیبا) ہے (ف 2) اور جو نیک کام کرو گے خدا تعالیٰ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اور (جب حج کو جانے لگو) خرچ ضرور لے لیا کرو کیوں کہ سب سے بڑی بات خرچ میں (گدا گدی سے) بچارہنا ہے اور اے ذی عقل لوگو مجھ سے ڈرتے رہو۔ (ف 3) (197)

ف 1۔ 1 عورت کو سر منڈانا حرام ہے وہ صرف ایک ایک انگل بال کاٹ لے۔ 2۔ حج تین طرح کا ہوتا ہے افراد کہ ایام حج میں صرف حج کیا جائے۔ اور تمتع اور قرآن جن میں ایام حج میں عمرہ اور حج دونوں کیے جاویں افراد ہر شخص کو جائز ہے اور تمتع اور قرآن صرف ان لوگوں کو جائز ہے جو میقات کے حدود سے باہر رہتے ہیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے تمتع اور قرآن کی اجازت نہیں ہے۔