2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayahs 2:238–239

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

محافظت کرو سب نمازوں کی (عموما) اور درمیان والی نماز کی (خصوصا) اور کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے۔ (ف 3) (238)

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے (پڑھ لیا کرو) پھر جب تم کو اطمینان ہوجاوے تو تم خدا تعالیٰ کی یاد اس طریق سے کرو کہ جو تم کو سکھلایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے۔ (239)

ف 3۔ کثرت علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر۔ اور ایک طرف دونوں نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں خاموشی کے ساتھ آئی ہے اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی پہلے درست تھا۔
Ayahs 2:240–244

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ وفات پاجاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کو وہ وصیت کرجایا کریں اپنی ان بیبیوں کے واسطے ایک سال تک منتفع ہونے کی اس طور پر کہ (وہ گھر سے) نکالی نہ جاویں ہاں اگر خود نکل جاویں تو تم کو کوئی گناہ نہیں اس قاعدہ کی بات میں جس کو وہ اپنے بارے میں کریں (ف 4) اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں ( اور) حکمت والے ہیں۔ (ف 5) (240)

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ کچھ فائدہ پہنچانا (مقرر ہے) قاعدہ کے موافق ( اور یہ) مقرر ہوا ہے ان پر جو (شرک و کفر سے) پرہیز کرتے ہیں۔ (241)

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح حق تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں اسی توقع پر کہ تم سمجھو ( اور عمل کرو) ۔ (242)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

(اے مخاطب) تجھ کو ان لوگوں کو قصہ تحقیق نہیں ہؤ ا جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لیے سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلادیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں کے (حال پر) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (243)

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

(اس قصہ میں غور کرو) اور اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اسبات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔ (244)

ف 4۔ جب آیت میراث نازل ہوگئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ 5۔ یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جابجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم وارعزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔ بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون شخص ہے (ایسا) جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھے طور پر قرض دینا پھر اللہ تعالیٰ اس (کے ثواب) کو بڑھاکر بہت سے حصے کر دیوے اور اللہ کمی کرتے ہیں اور فراخی کرتے ہیں اور تم اسی کی طرف (بعد مرنے کے) لیجائے جاؤ گے۔ (ف 1) (245)

ف 1۔ قرض مجازا کہہ دیا ورنہ سب خدا ہی کی ملک ہے مطلب یہ ہے کہ جیسے قرض کا عوض ضرور ہی دیا جاتا ہے اسی طرح تمہارے انفاق کا عوض ضرور ملے گا اور بڑھانے کا بیان ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک خرما اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنا بڑھادیتے ہیں کہ وہ احد پہاڑ سے زیادہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

(اے مخاطب) تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہؤ ا ہے، تحقیق نہیں ہؤ ا جبکہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئیے کہ ہم اللہ کی راہ میں (جالوت سے) قتال کریں (ان پیغمبر نے) فرمایا کہ یہ احتمال ہے کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جاوے تو (اس وقت) جہاد نہ کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے کون سبب ہوگا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ ہم اپنی بستیوں اور اپنے فرزندوں سے بھی جدا کردئیے گئے ہیں پھر جب ان لوگوں کو جہاد کا حکم ہؤ ا تو ان میں سے باستثنناء ایک قلیل مقدار کے (باقی) سب پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتے ہیں۔ (ف 2) (246)

ف 2۔ ان بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ ان پر مسلط کردیے گئے اس وقت ان لوگوں کو فکر اصلاح ہوئی اور ان پیغمبر کا نام شموئیل مشہور ہے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے کہنے لگے ان کو ہم پر حکمرانی کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت ان کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو تو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئ ان پیغمبروں نے (جواب میں) فرمایا کہ (اول تو) اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلہ میں ان کو منتخب فرمایا ہے اور (دوسرے) علم اور جسامت میں ان کو زیادتی دی ہے (ف 3) اور (تیسرے) یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنا ملک جس کو چاہیں دیں اور (چوتھے) اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے ہیں جاننے والے ہیں۔ (247)

ف 3۔ بادشاہ ہونے کے لیے اس علم کی ضرورت زیادہ ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی مناسب ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میں وقعت وہیبت پیدا ہو۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ ان کے (منجانب الله) بادشاہ ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجاوے گا جس میں تسکین ( اور برکت) کی چیز ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں جنکو آل (حضرت) موسیٰ و آل (حضرت) ہارون ( علیہ السلام) چھوڑگئے ہیں اس صندوق کو فرشتے لے آوینگے اس میں تم لوگوں کے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین لانے والے ہو۔ (ف 1) (248)

ف 1۔ اس صندوق میں تبرکات تھے جالوت جب بنی اسرائیل پر غالب آیا تھا یہ صندوق بھی لے گیا تھا جب اللہ کو اس صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ سامان کیا کہ جہاں اس صندوق کو رکھتے وہاں سخت بلائیں نازل ہوتیں آخر ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس کو لاد کر بیلوں کو ہانک دیا فرشتے اس کو ہانک کر یہاں پہنچا گئے جس سے بنی اسرائیل کو بڑی خوشی ہوئی اور طالوت بادشاہ مسلم ہوگئے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت فوجوں کو لیکر (بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے کہا کہ حق تعالیٰ تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر سے سو جو شخص (افراط کے ساتھ) اس سے پانی پیوے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے (تو اتنی رخصت ہے) تو سب نے اس سے (بےتحاشا) پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے (ف 2) سو جب وہ (طالوت) اور جو مومنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے کہنے لگے آج تو ہم میں جالوت اور اس کو لشکر سے (لڑنے کی) طاقت نہیں معلوم ہوتی (یہ سنکر) ایسے لوگ جن کو یہ خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہے اور اللہ تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ (249)

ف 2۔ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ راقم کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاوں بھی اکھاڑ دیتا ہے اللہ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے میدان میں آئے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر استقلال (غیب سے) نازل فرمائیے اور ہمارے قدم جمائے رکھئیے اور ہم کو اس کافر قوم پر غالب کیجئیے۔ (ف 3) (250)

ف 3۔ اس دعا کی ترتیب بڑی پاکیزہ ہے کہ غلبہ کے لیے چونکہ ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے پہلے اس کی دعا کی اور ثابت قدمی کا مدار ثابت قلب پر ہے اس لیے اس سے پہلے ثبات قلب کی دعا کی۔
Ayahs 2:251–252

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر انہوں (طالوت والوں) نے ان (جالوت والوں) کو خدا تعالیٰ کے حکم سے شکست دیدی اور داؤد ( علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کرڈالا اور ان کو (یعنی داؤد کو) اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور بھی جو جو منظور ہؤ ا ان کو تعلیم فرمایا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ بعضے آدمیوں کو بعضوں کے ذریعے دفع کرتے رہا کرتے تو سرزمین (تمام تر) فساد سے پر ہوجاتی و لیکن اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں جہان والوں پر۔ (ف 4) (251)

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ اور (اس سے ثابت ہے کہ) آپ بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہیں۔ (252)

ف 4۔ چونکہ قرآن کے اعظم مقاصد میں اثبات نبوت محمدیہ بھی ہے اس لیے اکثر جس جگہ کسی مضمون کے ساتھ مناسبت ہونے سے موقع ہوتا ہے وہاں اس کا اعادہ کیا جاتا ہے چناچہ اس مقام پر اس واقعہ کی صحیح خبردینا ایسے طور پر کہ نہ آپ نے کہیں پڑھا نہ کسی سے سنا نہ آپ نے دیکھا بوجہ معجزہ ہونے کے صریح دلیل ہے صدق دعوئے نبوت کی۔ اس لیے آگے رسول اللہ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ حضرات مرسلین ایسے ہیں (ف 5) کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (مثلا) بعضے ان میں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے ہیں (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں سے سرفراز کیا۔ اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کو کھلے کھلے دلائل عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس (یعنی جبرائیل) سے فرمائی اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو (امت کے) جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں باہم قتل و قتال نہ کرتے بعد اس کے کہ ان کے پاس (امر حق کے) دلائل پہنچ چکے تھے لیکن وہ لوگ باہم (دین میں) مختلف ہوئے۔ سو ان میں کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر رہا ( اور نوبت قتل و قتال کی پہنچی) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ لوگ باہم قتل و قتال نہ کرتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ (ف 1) (253)

ف 5۔ چونکہ اوپر کی آیت میں ضمنا پیغمبروں کا مجملا ذکر آگیا تھا اس لیے اس میں کسی قدر تفصیل ان میں سے بعض حضرات کے احوال و کمالات کی اور پھر ان کے ذکر کی مناسبت سے ان کے امم کی ایک حالت خاصہ اور اس حالت کے واقع فی الوجود ہونے کے متضمن حکمت و مصلحت الہیہ ہونے کی طرف اشارہ یہ سب مضامین مذکور ہیں۔ 1۔ اس مضمون میں ایک گونہ تسلی دینا جناب رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے یہ بات سنا دی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت اور اس میں بھی اللہ کی حکمتیں ہوتی ہیں گوہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالا اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو خرچ کرلو ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں قبل اس کے کہ وہ دن (قیامت کا) آجاوے جس میں نہ تو خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی اور (بلا ازن الہی) کوئی سفارش ہوگی اور کافر ہی لوگ ظلم کرتے ہیں (تو تم ایسے مت بنو) (ف 2) ۔ (254)

ف 2 مطلب یہ ہے کہ جو عمل خیر دنیا میں فوت ہوجائے گا پھر وہاں اس کا کچھ تدارک قدرت سے خارج ہوجائے گا چناچہ تدارک کے طریقوں تو خود نہ ہوں گے جیسے دوستی، بعض اختیاری نہ ہوں گے جیسے شفاعت۔ اور مقصود اس سے قیامت کے دن ثمرات اعمال کٰر کے اکتساب پر قادر نہ ہونے کا یاد دلانا ہے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ( ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ (ف 3) زندہ ہے سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) ۔ نہ اس کو اونگھ دباسکتی ہے اور نہ نیند اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں۔ ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس (کسی کی) سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے۔ (ف 4) وہ جانتا ہے ان کے تمام حاضر اور غائب حالات کو اور وہ (موجودات) اس کے معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہٴ علمی میں نہیں لاسکتے مگر جس قدر (علم دینا وہی) چاہے اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے (ف 5) اور اللہ تعالیٰ کو ان دونوں کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی اور وہ عالیشان عظیم الشان ہے۔ (255)

ف 3۔ یہ آیت ملقب بہ آیت الکرسی ہے۔ 4۔ قیامت میں انبیاء واولیا گناہ گاروں کی شفاعت کریں گے وہ اول حق تعالیٰ کی مرض پالیں گے جب شفاعت کریں گے۔ 5۔ کرسی ایک جسم ہے عرش سے چھوٹا اور آسمانوں سے بڑا۔
Ayahs 2:256–258

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین میں زبردستی (کافی نفسہ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) (ف 6) ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے سو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش عتقاد ہو (یعنی اسلام قبول کرلے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کو کسی طرح شکستگی نہیں (ہوسکتی) (ف 7) اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ (256)

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (یا بچا کر) نور (اسلام) کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں (انسی یا جنی) وہ ان کو نور (اسلام) سے نکال کر (یا بچاکر، کفر کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں ( اور) یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ (257)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

(اے) مخاطب تجھ کو اس شخص کا قصہ تخقیق نہیں ہؤ ا (یعنی نمرود کا) جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے (وجود کے) بارے میں اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے کہنے لگا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آفتاب کو (روز کے روز) مشرق سے نکالتا ہے تو (ایک ہی دن) مغرب سے نکال دے اس پر متحیر رہ گیا وہ کافر ( اور کچھ جواب نہ بن آیا) اور اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) ایسے بیجاراہ پر چلنے والوں کو ہدایت نہیں فرماتے۔ (258)

ف 6 اوپر آیت وانک لمن المرسلین میں رسالت پیغمبر کی اور آیت الکرسی میں توحید حق سبحانہ مذکور ہوئی ہے اور یہی دو امر اصل الاصول ہیں اسلام کے تو ان کے اثبات سے دین اسلام کی حقانیت بھی لازمی طور پر ثابت ہوئی ہے اس آیت میں اسی پر تصریح کرکے اسلام کا محل کراہ نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں۔ 7۔ اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت و خسران سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر مرتد پر یا کفروں پر بوجہ خفاء دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا کہ شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا (تم کو اس طرح کا قصہ بھی معلوم ہے) جیسے ایک شخص تھا (ف 1) کہ ایک بستی پر ایسی حالت میں اس کا گزر ہؤ ا کہ اسکے مکانات اپنی چھتوں پر گر گئے تھے (ف 2) کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی (کے مردوں) کو اس کے مرے پیچھے کس کیفیت سے زندہ کریں گے (ف 3) سو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو زندہ کر اٹھایا ( اور پھر) پوچھا کہ تو کتنے (دنوں) اس حالت میں رہا۔ اس شخص نے جواب دیا کہ ایک دن رہا ہونگایا ایک دن سے بھی کم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تو (اس حالت) میں سو برس رہا ہے تو اپنے کھانے (کی چیز) اور پینے کی (چیز کو) دیکھ لے کہ نہیں سڑی گلی اور (دوسرے) اپنے گدھے کی طرف نظر کر اور تاکہ ہم تجھ کو ایک نظیر لوگوں کے لیے بنادیں اور (اس گدھے کی) ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کس طرح ترکیب دئیے دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو واضح ہوگئی تو کہہ اٹھا کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔ (ف 4) (259)

ف 1۔ روح المعانی میں بروایت حاکم حضرت علی سے اور براویت اسحاق بن بشیر حضرت ابن عباس وعبداللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بزرگ عزیر (علیہ السلام) ہیں۔ 2۔ یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں گریں مراد یہ کہ کسی حادثے سے وہ بستی بالکل ویران ہوگئی تھی اور سب آدمی مر گئے تھے۔ 3۔ یہ تو یقین تھا کہ اللہ قیامت کے دن مردوں کو جلادیں گے مگر اس وقت کے جانے جو خیال غالب ہوا تو بوجہ امر عجیب ہونے کے ایک حیرت سی دل پر غالب ہوگئی اور چونکہ اللہ ایک کام کو کئی طرح کرسکتے ہیں اس لیے طبیعت اس کی جویاں ہوئی کہ خدا جانے جلانا کسی صورت سے ہوگا اللہ کو منظور ہوا کہ اس کا تماشا ان کو دنیا ہی میں دکھلادیں تاکہ ایک نظیر کے واقع ہوجانے لوگوں کو زیادہ ہدایت ہو۔ 4۔ ان کی حیرت کا جواب اس مجموعی کیفیت سے دینا اس کی وجہ احقر کے ذوق میں یہ ہے کہ محل حیرت یعنی احیاء ویوم البعث مشتمل ہے چندا اجزاء پر اول خود زندہ کرنا دوسرے مدت طویل کے بعد زندہ کرنا تیسرے خاص کیفیت سے زندہ کرنا چوتھے اس مدت تک روح کا باقی رکھنا پانچویں بعد بعث کے برزخ میں رہنے کی مدت معلوم نہ ہونا جز اول پر خود ان کے زندہ کرنے اور ان کے گدھے میں جان ڈالنے کی دلالت کی گئی اور دوسرے جزو کے اثبات کے لیے ان کو سو برس تک مردہ رکھا تیسراجزو خود گدھا ان کے سامنے زندہ کرکے دکھلا دیا جو بالاولی امکان بقاء روح پر دال ہے کیونکہ بدن طعام و شراب بوجہ اشتمال عناصر کے بہ نسبت روح کے تغیر و فساد کے زیادہ قابل ہیں اور پانچویں امر کی نظیر ان کے جواب میں یوما اور بعض یوما کہنا ہے جیسا بعینہ یہی جواب بعض اہل محشر دینگے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو دکھلادیجیے آپ مردوں کو کس کیفیت سے زندہ کریں گے ؟ ارشاد فرمایا کیا تم یقین نہیں لائے انہوں نے عرض کیا کہ یقین کیوں نہ لاتا و لیکن اس غرض سے (یہ درخواست کرتا ہوں) کہ میرے قلب کو سکون ہوجاوے۔ (ف 5) ارشاد ہوا کہ اچھا تو تم چار پرند لے لو پھر ان کو (پال کر) اپنے لیے ہلالو پھر ہر پہاڑ پر ان میں کا ایک ایک حصہ رکھ دو ( اور) پھر ان سب کو بلاؤ (دیکھو) تمہارے پاس سب دوڑے (دوڑے) چلے آویں گے اور خوب یقین رکھو اس بات کا کہ حق تعالیٰ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (ف 1) (260)

ف 5 یعنی زندہ کرنے کا تو یقین ہے مگر عقلا اس کی مختلف کیفیتیں ممکن ہیں ان میں سے معلوم نہیں کون سی کیفیت ہوگی۔ 1۔ اس واقعہ کو دکھلا کر اللہ نے کیفیت احیاء یوم قیامت کی بتلادی کہ اس طرح اول اجزاء جمع ہو کر اجسار تیار ہوں گے پھر ان میں روح پڑجائے گی
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان (کے خرچ کیے ہوئے مالوں) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جن میں ( اور) ہر بال کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں جاننے والے ہیں۔ (ف 2) (261)

ف 2۔ نیک کام میں خرچ کرنا باعتبار نیت کے تین قسم کا ہے ایک نمائش کے ساتھ اس کا کچھ ثواب نہیں دوسرے ادنی درجہ کے اخلاص کے ساتھ اس کا ثواب دس حصہ ملتا ہے تیسرے زیادہ اخلاص یعنی اس کے اوسط یا اعلی درجہ کے ساتھ اس کے لیے اس آیت میں وعدہ ہے دس سے زیادہ سات سو تک علی حسب تفاوت المراتب اور من ذالذی الخ میں سات سو کے وعدہ کے بعد اور زیادہ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو (اس پر) احسان جتلاتے ہیں اور نہ (برتاؤ سے) اس کو آزار پہنچاتے ہیں (ف 3) ان لوگوں کو ان (کے اعمال) کا ثواب ملے گا ان کے پروردگار کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطر ہوگا اور نہ یہ مغموم ہونگے۔ (262)

ف 3۔ برتاو سے آزار پہنچانا یہ کہ مثلا اپنے احسان کی بناء پر اس کے ساتھ تحقیر سے پیش آوے اس سے دوسرا آزار پاتا ہے اور آزار پہنچانا حرام ہے اور موجب عذاب ہے احسان جتلانا بھی اس میں آگیا۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

(ناداری کے وقت) مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا (ہزار درجہ) بہتر ہے ایسی خیرات (دینے) سے جس کے بعد آزار پہنچایا جاوے۔ اور اللہ تعالیٰ غنی ہیں حلیم ہیں۔ (ف 4) (263)

ف 4۔ ناداری کی قید اس لیے لگائی کہ استطاعت کے وقت حاجت مند کی اعانت نہ کرنا خود برا ہے اس کو بہتر کیوں کہا جاتا البتہ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دے دینا اور سائل کو سختی کو ٹال دینا چونکہ موجب ثواب ہے اس لیے اس کو خیر فرمایا گیا۔
Ayahs 2:264–265

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو تم احسان جتلاکر یا ایذا پہنچاکر اپنی خیرات کو برباد مت کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے (محض) لوگوں کے دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی (آگئی) ہو پھر اس پر زور کی بارش پڑجاوے سو اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (جنت کا) رستہ نہ بتلاویں گے۔ (ف 5) (264)

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے مال کی حالت جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی غرض سے اور اس غرض سے کہ اپنے نفسوں (کو اس عمل شاق کا خو گر بنا کر ان) میں پختگی پیدا کریں مثل حالت ایک باغ کے ہے جو کسی ٹیلے پر ہو کہ اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ دونا (چوگنا) پھل لایا ہو اور اگر ایسے زور کا مینہ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کو کافی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے ہیں۔ (265)

ف 5۔ معلوم ہوتا ہے کہ انفاق کے لیے ایمان کے ساتھ ایک شرط صحت اخلاص بھی ہے اور ترک من واذی شرط بقاء ہے اس لیے منافق اور مرائی کے انفاق کو باطل کہا گیا اس میں شرط صحت مفقوف ہے اور من واذی کو بھی مبطل کہا گیا کہ اس میں شرط بقا مفقود ہے۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا اس کے (درختوں کے) نیچے نہریں چلتی ہوں اس (شخص) کے ہاں اس (باغ) میں اور بھی ہر قسم کے (مناسب) میوے ہوں۔ اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں (کمانے کی) قوت نہیں۔ سو اس باغ پر ایک بگولا آئے جس میں آگ (کامادہ) ہو پھر وہ باغ جل جاوے اللہ تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے لیے تاکہ تم سوچا کرو۔ (ف 1) (266)

ف 1۔ ظاہر یہ بات ہے کہ کسی کو اپنے لیے یہ بات پسند نہیں آسکتی پس جب تم اس مثال کے واقعہ کو پسند نہیں کرتے تو ابطال طاعات کو کیسے گوارا کرتے ہو۔
Ayahs 2:267–269

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو (نیک کام میں) خرچ کیا کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو کہ ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے۔ اور ردی (ناکارہ) چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کرو حالانکہ تم کبھی اس کے لینے والے نہیں ہاں مگر چشم پوشی کرجاؤ (تو اور بات ہے) (ف 2) اور یہ یقین کر رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں تعریف کے لائق ہیں۔ (267)

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے (ف 3) اور تم کو بری بات (یعنی بخل) کا مشورہ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی طرف سے گناہ معاف کردینے کا اور زیادہ دینے کا اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ (ف 4) (268)

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

دین کا فہم جس کو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں۔ اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس کو دین کا فہم مل جاوے اس کو بڑی خیر کی چیز مل گئی اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (یعنی جو عقل صحیح رکھتے ہیں) ۔ (269)

ف 2۔ یہ اس شخص کے لیے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری اور نکمی چیز خرچ کرے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری مقبول ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم لوگ جو کسی قسم کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو تو حق تعالیٰ کو سب کی یقینا اطلاع ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا کوئی ہمراہی ( اور حمایتی) نہ ہوگا۔ (ف 5) (270)

ف 5۔ بےجاکام کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروری شرائط کا لحاظ نہیں کرتے بلکہ احکام کی مخالفت کرتے ہیں ان کو تصریحا وعید سنادی۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم ظاہر کر کے دو صد قوں کو تب بھی اچھی بات ہے۔ اور اگر ان کا اخفا کرو اور فقیروں کو دیدو تو یہ (اخفاء) تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) تمہارے کچھ گناہ بھی دور کردیں گے اور اللہ تمہارے کیے ہوئے کاموں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ (ف 6) (271)

ف 6۔ یہ آیت فرض اور نفل صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اور مراد فضیلت اخفاء ہی افضل ہے اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسی ہے پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید کو ترجیح ہوجائے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں اور یہ جو کہا کچھ گناہ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ ایسے حسنات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

ان (کافروں) کو ہدایت پر لے آنا کچھ آپ کے ذمہ (فرض واجب) نہیں و لیکن خدا تعالیٰ جس کو چاہیں ہدایت پر لے آویں۔ اور (اے مسلمانو ! ) جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدے کی غرض سے کرتے ہو اور تم اور کسی غرض سے خرچ نہیں کرتے بجز رضاجوئی ذات پاک حق تعالیٰ کے اور (نیز) جو کچھ مال خرچ کررہے ہو یہ سب (یعنی اس کا ثواب) پورا پورا تم کو مل جاوے گا اور تمہارے لیے اس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی۔ (ف 7) (272)

ف 7۔ یعنی تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہیے اور عوض ہر حال میں ملے گا تم کو اس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کو نہ ملے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی کہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا۔ اس پر نظر کیوں کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں کافر کو نہ دیں۔ اور جاننا چاہیے کہ حدیث میں جو آیا کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایاکریں تو مراد اس سے طعام دعوت ہے اور اس آیت میں طعام حاجت مراد ہے پس تعارض کا شبہ کیا جائے۔
Ayahs 2:273–275

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(صدقات) اصل حق ان حاجتمندوں کا ہے جو مقید ہوگئے ہوں اللہ کی راہ میں (ف 1) ( اور اسی وجہ سے) وہ لوگ کہیں ملک میں چلنے پھرنے کا (عادة) امکان نہیں رکھتے ( اور) ناواقف ان کو تونگر خیال کرتا ہے ان کے سوال سے بچنے کے سبب سے (البتہ) تم ان کے طرز سے پہچان سکتے ہو (کہ فقروفاقہ سے چہرہ پر اثر ضرور آجاتا ہے) وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے۔ اور جو مال خرچ کرو گے بیشک حق تعالیٰ کو اس کی خوب اطلاع ہے۔ (273)

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات میں اور دن میں (یعنی بلاتخصیص اوقات) پوشیدہ اور آشکار (یعنی بلاتخصیص حالات) سو ان لوگوں کو ان کا ثواب ملے گا ان کے رب کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطرہ ہے اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (274)

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہونگے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی حیران و مدہوش) یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالہ رہا اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ دوزخ میں جاویں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (275)

ف 1۔ یعنی دین کی خدمت میں اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں (ف 2) اور صدقات کو بڑھاتے ہیں (ف 3) اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کسی کفر کرنے والے کو ( اور) کسی گناہ کے کام کرنے والے کو۔ (276)

ف 2۔ کبھی تو دنیا ہی میں سب برباد ہوجاتا ہے ورنہ آخرت میں تو یقینا بربادی ہے کیونکہ وہاں اس پر عذاب ہوگا۔ 3۔ کبھی تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو یقینا بڑھتا ہے کیونکہ وہاں اسپر بہت ثواب ملے گا جیسا اوپرآیات میں مذکور ہوا۔