2. Surah Al-Baqara
البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن
حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader
محافظت کرو سب نمازوں کی (عموما) اور درمیان والی نماز کی (خصوصا) اور کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے۔ (ف 3) (238)
فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader
پھر اگر تم کو اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے (پڑھ لیا کرو) پھر جب تم کو اطمینان ہوجاوے تو تم خدا تعالیٰ کی یاد اس طریق سے کرو کہ جو تم کو سکھلایا ہے جس کو تم نہ جانتے تھے۔ (239)
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader
اور جو لوگ وفات پاجاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیبیوں کو وہ وصیت کرجایا کریں اپنی ان بیبیوں کے واسطے ایک سال تک منتفع ہونے کی اس طور پر کہ (وہ گھر سے) نکالی نہ جاویں ہاں اگر خود نکل جاویں تو تم کو کوئی گناہ نہیں اس قاعدہ کی بات میں جس کو وہ اپنے بارے میں کریں (ف 4) اور اللہ تعالیٰ زبردست ہیں ( اور) حکمت والے ہیں۔ (ف 5) (240)
وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader
اور سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ کچھ فائدہ پہنچانا (مقرر ہے) قاعدہ کے موافق ( اور یہ) مقرر ہوا ہے ان پر جو (شرک و کفر سے) پرہیز کرتے ہیں۔ (241)
كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader
اسی طرح حق تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام بیان فرماتے ہیں اسی توقع پر کہ تم سمجھو ( اور عمل کرو) ۔ (242)
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader
(اے مخاطب) تجھ کو ان لوگوں کو قصہ تحقیق نہیں ہؤ ا جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لیے سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلادیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں کے (حال پر) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (243)
وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader
(اس قصہ میں غور کرو) اور اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اسبات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔ (244)
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader
کون شخص ہے (ایسا) جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھے طور پر قرض دینا پھر اللہ تعالیٰ اس (کے ثواب) کو بڑھاکر بہت سے حصے کر دیوے اور اللہ کمی کرتے ہیں اور فراخی کرتے ہیں اور تم اسی کی طرف (بعد مرنے کے) لیجائے جاؤ گے۔ (ف 1) (245)
اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader
(اے مخاطب) تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہؤ ا ہے، تحقیق نہیں ہؤ ا جبکہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئیے کہ ہم اللہ کی راہ میں (جالوت سے) قتال کریں (ان پیغمبر نے) فرمایا کہ یہ احتمال ہے کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جاوے تو (اس وقت) جہاد نہ کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے کون سبب ہوگا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ ہم اپنی بستیوں اور اپنے فرزندوں سے بھی جدا کردئیے گئے ہیں پھر جب ان لوگوں کو جہاد کا حکم ہؤ ا تو ان میں سے باستثنناء ایک قلیل مقدار کے (باقی) سب پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتے ہیں۔ (ف 2) (246)
وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader
اور ان لوگوں سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے کہنے لگے ان کو ہم پر حکمرانی کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت ان کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو تو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئ ان پیغمبروں نے (جواب میں) فرمایا کہ (اول تو) اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلہ میں ان کو منتخب فرمایا ہے اور (دوسرے) علم اور جسامت میں ان کو زیادتی دی ہے (ف 3) اور (تیسرے) یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنا ملک جس کو چاہیں دیں اور (چوتھے) اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے ہیں جاننے والے ہیں۔ (247)
وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader
اور ان سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ ان کے (منجانب الله) بادشاہ ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجاوے گا جس میں تسکین ( اور برکت) کی چیز ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں جنکو آل (حضرت) موسیٰ و آل (حضرت) ہارون ( علیہ السلام) چھوڑگئے ہیں اس صندوق کو فرشتے لے آوینگے اس میں تم لوگوں کے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین لانے والے ہو۔ (ف 1) (248)
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader
پھر جب طالوت فوجوں کو لیکر (بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے کہا کہ حق تعالیٰ تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر سے سو جو شخص (افراط کے ساتھ) اس سے پانی پیوے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے (تو اتنی رخصت ہے) تو سب نے اس سے (بےتحاشا) پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے (ف 2) سو جب وہ (طالوت) اور جو مومنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے کہنے لگے آج تو ہم میں جالوت اور اس کو لشکر سے (لڑنے کی) طاقت نہیں معلوم ہوتی (یہ سنکر) ایسے لوگ جن کو یہ خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہے اور اللہ تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ (249)
وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader
اور جب جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے میدان میں آئے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر استقلال (غیب سے) نازل فرمائیے اور ہمارے قدم جمائے رکھئیے اور ہم کو اس کافر قوم پر غالب کیجئیے۔ (ف 3) (250)
فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader
پھر انہوں (طالوت والوں) نے ان (جالوت والوں) کو خدا تعالیٰ کے حکم سے شکست دیدی اور داؤد ( علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کرڈالا اور ان کو (یعنی داؤد کو) اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور بھی جو جو منظور ہؤ ا ان کو تعلیم فرمایا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ بعضے آدمیوں کو بعضوں کے ذریعے دفع کرتے رہا کرتے تو سرزمین (تمام تر) فساد سے پر ہوجاتی و لیکن اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں جہان والوں پر۔ (ف 4) (251)
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader
یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ اور (اس سے ثابت ہے کہ) آپ بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہیں۔ (252)
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader
یہ حضرات مرسلین ایسے ہیں (ف 5) کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (مثلا) بعضے ان میں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے ہیں (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں سے سرفراز کیا۔ اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کو کھلے کھلے دلائل عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس (یعنی جبرائیل) سے فرمائی اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو (امت کے) جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں باہم قتل و قتال نہ کرتے بعد اس کے کہ ان کے پاس (امر حق کے) دلائل پہنچ چکے تھے لیکن وہ لوگ باہم (دین میں) مختلف ہوئے۔ سو ان میں کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر رہا ( اور نوبت قتل و قتال کی پہنچی) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ لوگ باہم قتل و قتال نہ کرتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ (ف 1) (253)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader
اے ایمان والو خرچ کرلو ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں قبل اس کے کہ وہ دن (قیامت کا) آجاوے جس میں نہ تو خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی اور (بلا ازن الہی) کوئی سفارش ہوگی اور کافر ہی لوگ ظلم کرتے ہیں (تو تم ایسے مت بنو) (ف 2) ۔ (254)
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ ( ایسا ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں۔ (ف 3) زندہ ہے سنبھالنے والا ہے (تمام عالم کا) ۔ نہ اس کو اونگھ دباسکتی ہے اور نہ نیند اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں۔ ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس (کسی کی) سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے۔ (ف 4) وہ جانتا ہے ان کے تمام حاضر اور غائب حالات کو اور وہ (موجودات) اس کے معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہٴ علمی میں نہیں لاسکتے مگر جس قدر (علم دینا وہی) چاہے اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے (ف 5) اور اللہ تعالیٰ کو ان دونوں کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی اور وہ عالیشان عظیم الشان ہے۔ (255)
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader
دین میں زبردستی (کافی نفسہ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) (ف 6) ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے سو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش عتقاد ہو (یعنی اسلام قبول کرلے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کو کسی طرح شکستگی نہیں (ہوسکتی) (ف 7) اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ (256)
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (یا بچا کر) نور (اسلام) کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں (انسی یا جنی) وہ ان کو نور (اسلام) سے نکال کر (یا بچاکر، کفر کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں ( اور) یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ (257)
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader
(اے) مخاطب تجھ کو اس شخص کا قصہ تخقیق نہیں ہؤ ا (یعنی نمرود کا) جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے (وجود کے) بارے میں اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے کہنے لگا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آفتاب کو (روز کے روز) مشرق سے نکالتا ہے تو (ایک ہی دن) مغرب سے نکال دے اس پر متحیر رہ گیا وہ کافر ( اور کچھ جواب نہ بن آیا) اور اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) ایسے بیجاراہ پر چلنے والوں کو ہدایت نہیں فرماتے۔ (258)
اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader
یا (تم کو اس طرح کا قصہ بھی معلوم ہے) جیسے ایک شخص تھا (ف 1) کہ ایک بستی پر ایسی حالت میں اس کا گزر ہؤ ا کہ اسکے مکانات اپنی چھتوں پر گر گئے تھے (ف 2) کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی (کے مردوں) کو اس کے مرے پیچھے کس کیفیت سے زندہ کریں گے (ف 3) سو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو زندہ کر اٹھایا ( اور پھر) پوچھا کہ تو کتنے (دنوں) اس حالت میں رہا۔ اس شخص نے جواب دیا کہ ایک دن رہا ہونگایا ایک دن سے بھی کم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تو (اس حالت) میں سو برس رہا ہے تو اپنے کھانے (کی چیز) اور پینے کی (چیز کو) دیکھ لے کہ نہیں سڑی گلی اور (دوسرے) اپنے گدھے کی طرف نظر کر اور تاکہ ہم تجھ کو ایک نظیر لوگوں کے لیے بنادیں اور (اس گدھے کی) ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کس طرح ترکیب دئیے دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو واضح ہوگئی تو کہہ اٹھا کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔ (ف 4) (259)
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو دکھلادیجیے آپ مردوں کو کس کیفیت سے زندہ کریں گے ؟ ارشاد فرمایا کیا تم یقین نہیں لائے انہوں نے عرض کیا کہ یقین کیوں نہ لاتا و لیکن اس غرض سے (یہ درخواست کرتا ہوں) کہ میرے قلب کو سکون ہوجاوے۔ (ف 5) ارشاد ہوا کہ اچھا تو تم چار پرند لے لو پھر ان کو (پال کر) اپنے لیے ہلالو پھر ہر پہاڑ پر ان میں کا ایک ایک حصہ رکھ دو ( اور) پھر ان سب کو بلاؤ (دیکھو) تمہارے پاس سب دوڑے (دوڑے) چلے آویں گے اور خوب یقین رکھو اس بات کا کہ حق تعالیٰ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (ف 1) (260)
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان (کے خرچ کیے ہوئے مالوں) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جن میں ( اور) ہر بال کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں جاننے والے ہیں۔ (ف 2) (261)
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader
جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو (اس پر) احسان جتلاتے ہیں اور نہ (برتاؤ سے) اس کو آزار پہنچاتے ہیں (ف 3) ان لوگوں کو ان (کے اعمال) کا ثواب ملے گا ان کے پروردگار کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطر ہوگا اور نہ یہ مغموم ہونگے۔ (262)
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader
(ناداری کے وقت) مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا (ہزار درجہ) بہتر ہے ایسی خیرات (دینے) سے جس کے بعد آزار پہنچایا جاوے۔ اور اللہ تعالیٰ غنی ہیں حلیم ہیں۔ (ف 4) (263)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader
اے ایمان والو تم احسان جتلاکر یا ایذا پہنچاکر اپنی خیرات کو برباد مت کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے (محض) لوگوں کے دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی (آگئی) ہو پھر اس پر زور کی بارش پڑجاوے سو اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو (جنت کا) رستہ نہ بتلاویں گے۔ (ف 5) (264)
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader
اور ان لوگوں کے مال کی حالت جو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کی غرض سے اور اس غرض سے کہ اپنے نفسوں (کو اس عمل شاق کا خو گر بنا کر ان) میں پختگی پیدا کریں مثل حالت ایک باغ کے ہے جو کسی ٹیلے پر ہو کہ اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ دونا (چوگنا) پھل لایا ہو اور اگر ایسے زور کا مینہ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کو کافی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے ہیں۔ (265)
اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader
بھلا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا اس کے (درختوں کے) نیچے نہریں چلتی ہوں اس (شخص) کے ہاں اس (باغ) میں اور بھی ہر قسم کے (مناسب) میوے ہوں۔ اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں (کمانے کی) قوت نہیں۔ سو اس باغ پر ایک بگولا آئے جس میں آگ (کامادہ) ہو پھر وہ باغ جل جاوے اللہ تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے لیے تاکہ تم سوچا کرو۔ (ف 1) (266)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader
اے ایمان والو (نیک کام میں) خرچ کیا کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو کہ ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے۔ اور ردی (ناکارہ) چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کرو حالانکہ تم کبھی اس کے لینے والے نہیں ہاں مگر چشم پوشی کرجاؤ (تو اور بات ہے) (ف 2) اور یہ یقین کر رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں تعریف کے لائق ہیں۔ (267)
اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader
شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے (ف 3) اور تم کو بری بات (یعنی بخل) کا مشورہ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی طرف سے گناہ معاف کردینے کا اور زیادہ دینے کا اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ (ف 4) (268)
یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader
دین کا فہم جس کو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں۔ اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس کو دین کا فہم مل جاوے اس کو بڑی خیر کی چیز مل گئی اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (یعنی جو عقل صحیح رکھتے ہیں) ۔ (269)
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader
اور تم لوگ جو کسی قسم کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو تو حق تعالیٰ کو سب کی یقینا اطلاع ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا کوئی ہمراہی ( اور حمایتی) نہ ہوگا۔ (ف 5) (270)
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader
اگر تم ظاہر کر کے دو صد قوں کو تب بھی اچھی بات ہے۔ اور اگر ان کا اخفا کرو اور فقیروں کو دیدو تو یہ (اخفاء) تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) تمہارے کچھ گناہ بھی دور کردیں گے اور اللہ تمہارے کیے ہوئے کاموں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ (ف 6) (271)
لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader
ان (کافروں) کو ہدایت پر لے آنا کچھ آپ کے ذمہ (فرض واجب) نہیں و لیکن خدا تعالیٰ جس کو چاہیں ہدایت پر لے آویں۔ اور (اے مسلمانو ! ) جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدے کی غرض سے کرتے ہو اور تم اور کسی غرض سے خرچ نہیں کرتے بجز رضاجوئی ذات پاک حق تعالیٰ کے اور (نیز) جو کچھ مال خرچ کررہے ہو یہ سب (یعنی اس کا ثواب) پورا پورا تم کو مل جاوے گا اور تمہارے لیے اس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی۔ (ف 7) (272)
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader
(صدقات) اصل حق ان حاجتمندوں کا ہے جو مقید ہوگئے ہوں اللہ کی راہ میں (ف 1) ( اور اسی وجہ سے) وہ لوگ کہیں ملک میں چلنے پھرنے کا (عادة) امکان نہیں رکھتے ( اور) ناواقف ان کو تونگر خیال کرتا ہے ان کے سوال سے بچنے کے سبب سے (البتہ) تم ان کے طرز سے پہچان سکتے ہو (کہ فقروفاقہ سے چہرہ پر اثر ضرور آجاتا ہے) وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے۔ اور جو مال خرچ کرو گے بیشک حق تعالیٰ کو اس کی خوب اطلاع ہے۔ (273)
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader
جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات میں اور دن میں (یعنی بلاتخصیص اوقات) پوشیدہ اور آشکار (یعنی بلاتخصیص حالات) سو ان لوگوں کو ان کا ثواب ملے گا ان کے رب کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطرہ ہے اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (274)
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader
اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہونگے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی حیران و مدہوش) یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالہ رہا اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ دوزخ میں جاویں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (275)
یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں (ف 2) اور صدقات کو بڑھاتے ہیں (ف 3) اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کسی کفر کرنے والے کو ( اور) کسی گناہ کے کام کرنے والے کو۔ (276)