2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayahs 2:119–124

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

ہم نے آپ کو ایک سچا دین دے کر بھیجا ہے کہ خوشخبری سناتے رہیے اور ڈراتے رہیے اور آپ سے دوزخ میں جانے والوں کی باز پرس نہ ہوگی۔ (ف 3) (119)

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور کبھی خوش نہ ہونگے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک آپ (خدانخواستہ) ان کے مذہب کے (بالکل) پیروں نہ ہوجاویں۔ (آپ صاف) کہہ دیجیے کہ (بھائی) حقیقت میں تو ہدایت کا وہی رستہ ہے جس کو خدا نے بتلادیا ہے اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا علم (قطعی ثابت بالوحی) آچکنے کے بعد تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار۔ (120)

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب (توریت و انجیل) دی بشرطیکہ وہ اس کی تلاوت (اس طرح) کرتے رہیں جس طرح کے تلاوت کا حق ہے۔ ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور جو شخص نہ مانے گا (کس کا نقصان کرے گا) خود ہی ایسے لوگ خسارے میں رہیں گے۔ (121)

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب ( علیہ السلام) میری ان نعمتوں کو یاد کرو جن کا میں نے تم پر (وقتافوقتا) انعام کیا اور اس کو (بھی) کہ میں نے تم کو بہت لوگوں پر فوقیت دی۔ (122)

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور تم ڈرو ایسے دن سے جس میں کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ (حق و اجب) ادا کرنے پاوے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جاوے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش (جبکہ ایمان نہ ہو) مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کو کوئی بچاسکے گا۔ (123)

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جس وقت امتحان کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان کے پروردگار نے چند باتوں میں اور ان کو پورے طور پر بجالائے (اس وقت) حق تعالیٰ نے (ان سے) فرمایا میں تم کو لوگوں کا مقتدا بناؤنگا۔ انہوں نے عرض کیا اور میری اولاد میں سے بھی کسی کسی کو (نبوت دیجیے) ۔ (124)

ف 3۔ یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاری بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم وفکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہوجائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کردیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ میرا (یہ) عہدہٴ (نبوت) خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ ملیگا اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ) جس وقت ہم نے خانٴہ کعبہ کو لوگوں کا معبد اور (مقام) امن (ف 4) (ہمیشہ سے) مقرر رکھا اور مقام (ف 5) ابراہیم کو (کبھی کبھی) نماز پڑھنے کی جگہ بنالیا کرو اور ہم نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل ( علیہ السلام) کی طرف حکم بھیجا کہ میرے (اس) گھر کو خوب پاک رکھا کرو بیرونی اور مقامی لوگوں (کی عبادت) کے واسطے اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے واسطے۔ (125)

ف 4۔ مقام امن دو وجہ سے فرمایا ایک تو یہ کہ اس میں حج وعمرہ و نماز طواف کرنے سے عذاب دوزخ سے امن ہوتا ہے دوسرے اس وجہ سے کہ اگر کوئی خونی حدود کعبہ میں جس کو حرم کہتے ہیں جاگھ سے تو وہاں سے سزائے موت نہ دیں گے۔ 5۔ مقام ابراہیم ایک خاص پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر آپ نے کعبہ کی عمارت بنائی وہ کعبہ کے پاس ایک محفوظ جگہ رکھا ہے اور وہاں نفلیں پڑھنا ثواب ہے۔
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس کو ایک (آباد) شہر (ف 1) بنادیجیے امن (وامان) والا اور اس کے بسنے والوں کو پھلوں سے بھی عنایت کیجیے ان کو (کہتا ہوں) جو کہ ان میں سے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں (ف 2) حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور اس شخص کو جو کہ کافر رہے ایسے شخص کو تھوڑے روز تو خوب آرام برتاؤ نگا پھر اس کو کشاں کشاں عذاب دوزخ میں پہنچاؤ نگا اور وہ پہنچنے کی جگہ تو بہت بری ہے۔ (126)

ف 1۔ شہر ہونے کی دعا اس واسطے کی تھی کہ اس وقت یہ مقام بالکل جنگل تھا پھر اللہ نے شہر کردیا۔ 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو کافروں کے لیے دعائے رزق نہیں مانگی غالبا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ پہلی دعا کے جواب میں اللہ نے ظالمین کو ایک نعمت کی صلاحیت سے خارج فرما دیا تھا اس لیے ادبا اس دعا میں ان کو شامل نہیں کیا کہ کبھی مرضی کے خلاف ہو۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور جب کہ اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام) دیواریں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل ( علیہ السلام) بھی (ف 3) ( اور یہ کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے پروردگار (یہ خدمت) ہم سے قبول فرمائیے بلاشبہ آپ خوب سننے والے ہیں۔ (127)

ف 3۔ حضرت اسماعیل کی شرکت دو طرح ہوسکتی ہے یا تو پتھر گارا دیتے ہوں گے یا کسی وقت چنائی بھی کرتے ہوں گے۔
Ayahs 2:128–134

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو اپنا اور زیادہ مطیع بنالیجیے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی جماعت (پیدا) کیجیے جو آپ کی مطیع ہو (ف 4) اور (نیز) ہم کو ہمارے حج (وغیرہ) کے احکام بھی بتلادیئجیے اور ہمارے حال پر توجہ رکھئیے اور فی الحقیقت آپ ہی ہیں توجہ فرمانیوالے مہربانی کرنے والے۔ (128)

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار اور اس جماعت کے اندر ان ہی میں کے ایک ایسے پیغمبر بھی مقرر کیجیئے جو ان لوگوں کو آپ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کریں اور ان کو (آسمانی) کتاب کی اور خوش فہمی کی تعلیم دیا کریں اور ان کو پاک کردیں۔ بلاشبہ آپ ہی ہیں غالب القدرت کامل الانتظام۔ (129)

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور ملت ابراہیمی سے تو وہی روگردانی کرے گا جو اپنی ذات ہی سے احمق ہو اور ہم نے ان (ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں منتخب کیا اور (اسی کی بدولت) وہ آخرت میں بڑے لائق لوگوں میں سے شمار کیے جاتے ہیں۔ (130)

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ تم اطاعت اختیار کرو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت اختیار کی رب العالمین کی۔ (131)

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی کا حکم کر گئے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کو اور (اسیطرح) یعقوب ( علیہ السلام) بھی میرے بیٹو اللہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمہارے لیے منتخب فرمایا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا۔ (132)

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم خود (اس وقت) موجود تھے جس وقت یعقوب ( علیہ السلام) کا آخری وقت آیا۔ ( اور) جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ( مرنے کے) بعد کس چیز کی پرستش کرو گے انہوں نے (ہالاتفاق) جواب دیا کہ ہم اس کی پرستش کریں گے جس کی آپ اور آپ کے بزرگ (حضرات) ابراہیم و اسماعیل واسحٰٰق پرستش کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود جو وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہم اس کی اطاعت پر (قائم) رہیں گے۔ (133)

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ (ان بزر گوں کی) ایک جماعت تھی جو گزرچکی۔ ان کے کام ان کے کیا ہوا آوے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آوے گا اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ بھی تو نہ ہوگی۔ (134)

ف 4۔ جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور یہ (یہودی و نصرانی) لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی ہوجاؤ تم بھی راہ پر پڑجاؤ گے آپ کہہ دیجیئے کہ ہم تو ملت ابراہیم (یعنی اسلام) پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) مشرک بھی نہ تھے۔ (ف 5) (135)

ف 5۔ ملت ابراہیم کا ایک لقب ہے شریعت محمدیہ کا سو یہ کہنا کہ ہم ملت ابراہیم پر رہیں گے یا یہ کہنا کہ تم ملت ابراہیم کا اتباع کرو مترادف اور ہم معنی ہیں اس کا ہے کہ کہا جاوے کہ ہم شریعت محمدیہ پر رہیں اور تم شریعت محمدیہ کا اتباع کرو۔
Ayahs 2:136–139

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو) کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے (حکم) پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور اولاد (یعقوب) کی طرف بھیجا گیا اور (اس حکم و معجزہ پر بھی) جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو کچھ اور انبیاء ( علیہ السلام) کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت سے کہ ہم ان (حضرات) میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم تو اس (الله تعالیٰ ) کے مطیع ہیں۔ (ف 1) (136)

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

سو اگر وہ بھی اسی طریق سے ایمان لے آویں جس طریق سے تم (اہل اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہ (حق) پر لگ جاویں گے اور اگر وہ روگردانی کریں تو وہ لوگ تو (ہمیشہ سے) بر سر مخالفت ہیں ہی تو (سمجھ لو کہ) تمہاری طرف سے عنقریب ہی نبٹ لیں گے اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔ (137)

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم (دین کی) اس حالت پر ہیں جس میں (ہم کو) اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے اور دوسراکون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ سے خوبتر ہو اور (اسی لئے) ہم اسی کی غلامی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ (138)

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ کیا تم لوگ ہم سے (اب بھی) حجت کئے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا (سب کا) رب ہے اور ہم کو ہمارا کیا ہوا ملے گا اور تم کو تمہارا کیا ہوا (ملے گا) اور ہم نے صرف حق تعالیٰ کے لئے اپنے دین کو (شرک وغیرہ سے) خالص کر رکھا ہے۔ (139)

ف 1۔ حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کیسا انصاف اور حق کا ہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کو سچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گوبوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

یا کہے جاتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد ( یعقوب (علیہ السلام) میں جو انبیاء گزرے ہیں یہ سب حضرات) یہود یا نصاے ٰ تھے (اے محمد ﷺ کہہ دیجیئے کہ تم زیادہ واقف ہو یا حق تعالیٰ ۔ اور ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کا اخفأ کرے جو اس کے پاس منجانب اللہ پہنچی ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے سے بیخبر نہیں ہیں۔ (ف 2) (140)

ف 2۔ جب یہ حضرات یہود و نصاری نہ تھے تو تم طریقہ دین میں ان کے موافق کب ہوئے پھر تمہارا حق پر ہونا بھی ثابت نہ ہوگا۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ( ان بزرگوں کی) ایک جماعت تھی جو گزر گئی ان کے کام ان کا کیا ہوا آوے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آوے گا اور تم سے ان کے کیے ہوئے کی پوچھ بھی تو نہ ہوگی۔ (ف 3) (141)

ف 3۔ جب خالی تذکرہ بھی نہ ہوگا تو اس سے تم کو نفع پہنچنا درکنار بلکہ اس کے برعکس یہ (ثابت ہوتا ہے کہ کسی بزرگ سے محض کسی نسبت کا ہونا نجات آخرت کے لیے کافی نہیں۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب تو (یہ) بیوقوف لوگ ضرور کہیں ہی گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے پاس (سابق سمت) قبلہ سے (کہ بیت مقدس تھا) جس طرف پہلے (متوجہ) ہوا کرتے تھے کس (بات) نے بدل دیا آپ فرمادیجیئے کہ سب مشرق اور مغرب اللہ ہی کی ملک ہیں (ف 4) جس کو خدا ہی چاہیں (یہ) سیدھا طریق بتلادیتے ہیں۔ (ف 5) (142)

ف 4۔ اللہ کو مالکانہ اختیار ہے جس سمت کو چاہیں قبلہ مقرر فرمادیں کسی کو منصب علت دریافت کرنے کا نہیں۔ 5۔ جس امر کو اس مقام پر صراط مستقیم کہا گیا ہے فی الحقیقت سلامتی اور امن اسی طریق میں ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنادیا ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تاکہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ گواہ ہوں (ف 6) اور جس سمت قبلہ پر آپ رہ چکے ہیں (یعنی بیت المقدس) وہ تو محض اس مصلحت کے لیے تھا کہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کون تو رسول اللہ ﷺ کا اتباع اختیار کرتا ہے اور کون پیچھے کو ہٹتا جاتا ہے۔ اور یہ (قبلہ کا بدلنا منحرف لوگوں پر) ہوا بڑا ثقیل (ہاں) مگر جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع ( اور ناقص) کردیں ( اور) واقعی اللہ تعالیٰ تو (ایسے) لوگوں پر بہت ہی شفیق ( اور) مہربان ہیں۔ (ف 1) (143)

ف 6۔ یعنی تم ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالفت قومیں ہوں گی ان مخالف لوگوں کے مقابلہ میں شہادت دو گے اور شرف بلائے شرف یہ ہے کہ تمہارے قابل شہادت اور معتبر ہونے لیے رسول اللہ ﷺ گواہ ہوں گے۔ 1۔ اعتراض تحویل قبلہ کا حاکمانہ جواب دے کر اب حکیمانہ جواب شروع ہوتا ہے جس میں کئی حکمتوں کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم آپ کے منہ کا (یہ) بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں اس لیے ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جس کے لیے آپ کی مرضی ہے (لو) پھر اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام (کعبہ) کی طرف کیا کیجیئے۔ اور تم سب لوگ جہاں کہیں بھی (موجود) ہو اپنے چہروں کو اسی (مسجد حرام) کی طرف کیا کرو اور یہ اہل کتاب بھی یقینا جانتے ہیں کہ یہ (حکم) بالکل ٹھیک ہے ( اور) ان کے پروردگار ہی کی طرف سے (ہے) اور اللہ تعالیٰ ان کی ان کاروائیوں سے کچھ بیخبر نہیں ہیں۔ (ف 2) (144)

ف 2۔ اس آیت سے بیت المقدس کا منسوخ کرنا اور کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا منظور ہے حاصل حکمت کا یہ ہے کہ ہم کو آپ کی خوشی منظور تھی اور آپ کی خوشی کعبہ کے قبلہ مقرر ہونے میں دیکھی۔ اس لیے اسی کو قبلہ مقرر کردیا رہا یہ کہ آپ کی خوشی اس میں کیوں تھی وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی علامات نبوت میں سے ایک علامت نبوت میں سے ایک علامت یہ بھی تھی کہ آپ کے قبلہ کی یہ جہت ہوگی اللہ نے آپ کے نورانی قلب میں اسی کے موافق خواہش پیدا کردی۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر آپ (ان) اہل کتاب کے سامنے تمام (دنیا بھر کی) دلیلیں پیش کردیں جب بھی یہ (کبھی) آپ کے قبلہ کو قبول نہ کریں اور آپ بھی ان کے قبلہ کو قبول نہیں کرسکتے (پھر موافقت کی کیا صورت) اور ان کا فریق بھی دوسرے (فریق) کے قبلہ کو قبول نہیں کرتا اور اگر آپ ان کے (ان) نفسانی خیالات کو اختیار کرلیں ( اور وہ بھی) آپ کے پاس علم (وحی) آئے پیچھے تو یقینا آپ (نعوذبالله) ظالموں میں شمار ہونے لگیں۔ (ف 3) (145)

ف 3۔ آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لیے یہ امر کہ آپ ان کے خیالات کو کہ منجملہ ان کے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں محال ہے۔
Ayahs 2:146–149

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب (توراة وا نجیل) دی ہے وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بعضے ان میں سے امر واقعی کا باوجودیکہ (خوب) جانتے ہیں (مگر) اخفا کرتے ہیں (ف 4) (حالانکہ) یہ امر واقعی منجانب اللہ (ثابت ہوچکا) ہے۔ (146)

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

سو ہرگز شک وشبہ لانیوالوں میں (شمار) نہ ہونا۔ (147)

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر شخص (ذی مذہب) کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے سو تم نیک کاموں میں تگا پو (دوڑ دھوپ) کرو۔ تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو حاضر کردینگے۔ بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ (148)

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جس جگہ سے بھی (کہیں سفر میں) آپ باہر جاویں تو (بھی) اپنا چہرہ (نماز میں) مسجد حرام (یعنی کعبہ) کی طرف رکھا کیجیے۔ اور یہ (حکم عام قبلہ کا) بالکل حق ہے ( اور) آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں سے اصلا بیخبر نہیں۔ (149)

ف 4۔ رسول اللہ ﷺ کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور (مکرر کہا جاتا ہے کہ) آپ جس جگہ سے بھی (سفر میں) باہر جاویں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف رکھئیے اور تم لوگ جہاں کہیں (موجود) ہو اپنا چہرہ اسی کی طرف رکھا کرو تاکہ (ان مخالف) لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں گفتگو (کی مجال) نہ رہے۔ مگر ان میں جو (بالکل ہی) بےانصاف ہیں تو ایسے لوگوں سے (اصلا) اندیشہ نہ کرو اور مجھ سے ڈرتے رہو۔ اور تاکہ تم پر جو (کچھ) میرا انعام ہے اس کی تکمیل کر دوں اور تاکہ (دنیا میں) تم راہ راست (حق) پر رہو۔ (ف 1) (150)

ف 1۔ بحث قبلہ کے آغاز و انجام کے اتحاد میں اشارہ ہے کہ کعبہ کا ان نبی کی شریعت میں قبلہ مقرر ہونا مقام تعجب نہیں کیونکہ کعبہ بناء ابراہیم ہے اور یہ نبی ابن ابراہیم ہیں اور اس کے بناء کے قبول ہونے کی اور اس کے ابن رسول ہونے کی انہوں نے دعا بھی کی تھی ہم نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔
Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا تم ہی میں سے ہماری آیات (و احکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الہٰی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے رہتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی۔ (ف 2) (151)

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس (ان نعمتوں پر) مجھ کو یاد کرو میں تم کو (عنایت سے یاد رکھو نگا اور میری (نعمت کی) شکر گزاری کرو اور میری ناسپاسی مت کرو۔ (152)

ف 2۔ اوپر کی آیات میں حقیقتا اللہ کی بڑی بری نعتموں کا ذکر تھا اس لیے آیت آئندہ میں منعم کے زکر اور ان کی نعمت کے شکر کا حکم فرما کر آیات مذکورہ کے مضمون کی بوجہ احسن تکمیل اور تمیم فرماتے ہیں۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے سہارا حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں ( اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو بدرجہٴ اولیٰ ) ۔ (ف 3) (153)

ف 3۔ جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولی یہ بشارت ہوگی۔
Ayahs 2:154–156

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں کہ بلکہ وہ تو (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادراک نہیں کرسکتے۔ (ف 4) (154)

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور (دیکھو) ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجیے۔ (155)

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

(جن کی یہ عادت ہے) کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو (مع مال واولاد حقیقتہ) اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور ہم سب (دنیا سے) اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانیوالے ہیں۔ (156)

ف 4۔ ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کے متعلق گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

ان لوگوں پر (جدا جدا) خاص خاص رحمتیں بھی ان کے پروردگار کی طرف سے ہونگی اور (سب پر بلاشتراک) عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ ہیں جن کی (حقیقت حال) تک رسائی ہوگئی۔ (ف 5) (157)

ف 5۔ یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیادار المحن ہے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھنا چاہیے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

تحقیقا صفا اور مروہ منجملہ یادگار (دین) خداوندی ہیں سو جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا (اس کا) عمرہ کرے اس پر ذرا بھی گناہ نہیں ان دونوں کے درمیان آمدورفت کرنے میں (جس کا نام سعی ہے) اور جو شخص خوشی سے کوئی امر خیر کرے حق تعالیٰ (اس کی بڑی) قدردانی کرتے ہیں ( اور اس خیر کرنے والے کی نیت و خلوص کو) خوب جانتے ہیں۔ (ف 6) (158)

ف 6۔ حج اور عمرہ اور سعی کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سعی امام احمد کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے کہ ترک سے ایک بکری ذبح کرنا پڑتی ہے۔