2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayahs 2:80–84

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور (یہودیوں نے) یہ بھی کہا کہ ہرگز ہم کو آتش (دوزخ) چھوئے گی (بھی) نہیں مگر (بہت) تھوڑے روز جو (انگلیوں پر) شمار کرلیے جاسکیں آپ یوں فرمادیجیے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے (اسکے متعلق) کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کرینگے یا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جسکی کوئی علمی سند (ف 2) اپنے پاس نہیں رکھتے۔ (80)

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

کیوں نہیں جو شخص قصدا بری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا ( اور قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثرتک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں ( اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ (ف 3) (81)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ (الله اور اس کے رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں ( اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ (82)

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب لیا ہم نے (توریت میں) قول وقرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا (کسی کی) بجز اللہ تعالیٰ کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گزاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بےباپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے بات اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا زکوة پھر تم (قول وقرار کر کے) اس سے پھرگئے بجز معدودے چند کے اور تمہاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کے ہٹ جانا۔ (83)

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور (وہ زمانہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے یہ قول وقرار (بھی) لیا کہ باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا پھر تم نے اقرار بھی کرلیا اور (اقرار بھی ضمنا نہیں بلکہ ایسا صریح جیسے) تم شہادت دیتے ہو۔ (84)

ف 2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔
Ayahs 2:85–89

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم یہ (آنکھوں کے سامنے موجود ہی) ہو (کہ) قتل قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو (اس طور پر کہ) ان اپنوں کے مقابلہ میں (انکی مخالف قوموں کی) امداد کرتے ہو گناہ اور ظلم کے ساتھ اور ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا ہے تو ایسوں کو کچھ خرچ کر کراکر رہا کردیتے ہو حالانکہ یہ بات (بھی معلوم) ہے کہ تم کو ان کا ترک وطن کرادینا نیز ممنوع ہے (ف 1) (پس یوں کہوں کہ) کتاب (توریت) کے بعض احکام پر تم ایمان رکھتے ہو اور بعض پر نہیں رکھتے سو اور کیا سزا ہو ایسے شخص کی جو تم میں سے ایسی حرکت کرے بجز رسوائی کے دنیوی زندگانی میں اور روز قیامت کو بڑے سخت عذاب میں ڈال دیے جاویں اور اللہ تعالیٰ (کچھ) بیخبر نہیں ہیں تمہارے اعمال (زشت) سے۔ (85)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے دنیوی زندگانی (کے حظوظ) کو لے لیا ہے بعوض (نجات) آخرت کے سو نہ تو ان کی سزا میں (کچھ) تخفیف کی جاویگی اور نہ کوئی ان کی طرفداری (پیروی) کرنے پاوے گا۔ (86)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (توریت) دی اور (پھر) ان کے بعد یکے بعد دیگرے پیغمبروں کو بھیجتے رہے اور (پھر) ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو (نبوت کے) واضح دلائل عطا فرمائے اور ہم نے ان کو روح القدس سے تائید دی کیا جب کبھی (بھی) کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسے احکام لائے جن کو تمہارا دل نہ چاہتا تھا (جب ہی) تم نے تکبر کرنا شروع کردیاسو بعضوں کو تم نے جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے۔ (87)

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور وہ (یہودی افتخارا) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں بلکہ ان کے کفر کے سبب ان پر خدا کی مار ہے سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں۔ (88)

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب ان کو ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو منجانب اللہ ہے ( اور) اس کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے جو (پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توریت) حالانکہ اس کے قبل وہ (خود) بیان کیا کرتے تھے کفار سے پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہنچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر۔ (89)

ف 1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
Ayahs 2:90–91

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

وہ حالت (بہت ہی) بری ہے جسکواختیار کر کے وہ اپنی جانوں کو چھڑانا چاہتے ہیں ( اور وہ حالت) یہ (ہے) کہ کفر کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے نازل فرمائی محض (اسی) ضد پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو نازل فرمادے سو وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کفر کرنے والوں کو سزا ہوگی جس میں (ذلت) بھی ہے۔ (ف 2) (90)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ ان (تمام) کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے (متعدد پیغمبروں پر) نازل فرمائی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (تو صرف) اس (ہی) کتاب پر ایمان لاویں گے جو ہم پر نازل کی گئی ہے (یعنی توریت) اور جتنی اس کے علاوہ ہیں ان (سب) کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی حق ہیں اور تصدیق کرنیوالی بھی ہیں اس کی جو ان کے پاس ہے (تورات کی) آپ کہیے کہ (اچھا تو) پھر کیوں قتل کیا کرتے تھے اللہ کے پیغمبروں کو اس کے قبل کے زمانہ میں اگر تم (توراةپر) ایمان رکھنے والے تھے۔ (91)

ف 2۔ ایک غضب تو کفر پر تھا ہی دوسرا غضب ان کے حسد پر ہوگیا۔ اور عذاب مھین کی قید سے تخصیص کفار کی ہوگئی کیونکہ مومن عاصی کو عذاب تطہیر عن الذنوب کا ہوگا۔
Ayahs 2:92–95

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تم لوگوں کے پاس صاف صاف دلیلیں لائے (مگر) اسپر بھی تم لوگوں نے گوسالہ کو (معبود) تجویز کرلیا موسیٰ (علیہ السلام) کے (طور پر جانے کے) بعد اور تم ستم ڈھا رہے تھے۔ (ف 1) (92)

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہارا قول وقرار لیا تھا اور طور کو تمہارے (سروں کے) اوپر لاکھڑا کیا تھا لو جو کچھ (احکام) ہم تم کو دیتے ہیں ہمت ( اور پختگی) کے ساتھ اور سنو اس وقت انہوں نے زبان سے کہہ دیا کہ ہم نے سن لیا اور اور ہم سے عمل نہ ہوگا اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) ان کے قلوب میں وہی گوسالہ پیوست ہوگیا تھا ان کے کفر (سابق) کی وجہ سے فرمادیجیے کہ یہ افعال بہت برے ہیں جن کی تعلیم تمہارا ایمان تم کو کر رہا ہے اگر تم اہل ایمان ہو۔ (93)

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر (بقول تمھارے) عالم آخرت اللہ کے نزدیک محض تمہارے ہی لیے نافع ہے بلاشرکت غیرے تو تم (اس کی تصدیق کے لیے ذرا) موت کی تمنا کر (کے دکھلا) دو اگر تم سچے ہو۔ (94)

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اور وہ ہرگز کبھی اس (موت) کی تمنا نہ کرینگے بوجہ (خوف سزا) ان اعمال (کفریہ) جو اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور حق تعالیٰ کو خوب اطلاع ہے ظالموں (کے حال) کی۔ (95)

ف 1۔ بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس قصہ سے پہلے کہ اس وقت تک تورات نہ ملی تھی صدق موسیٰ پر قائم ہوچکی تھیں مثلا عصا اور ید بیضاء اور فلق بحر وغیرذالک۔
Ayahs 2:96–97

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور آپ (تو) ان کو حیات (دنیویہ) کا حریص اور (عام) آدمیوں سے (بھی) بڑھ کر پاویں گے اور مشرکین سے بھی ان میں کا ایک ایک (شخص) اس ہوس میں ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے اور یہ امر عذاب سے تو نہیں بچاسکتا کہ (کسی کی) بڑی عمر ہوجائے اور حق تعالیٰ کے سب پیش نظر ہیں ان کے اعمال (بد) ۔ (ف 2) (96)

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

آپ (ان سے) یہ کہیئے کہ جو شخص جبریل سے عداوت رکھے سو انھوں نے یہ قرآن آپ کے قلب تک پہنچا دیا ہے خداوندی حکم سے اس کی (خود) یہ حالت ہے کہ تصدیق کررہا ہے اپنے سے قبل والی (سماوی) کتابوں کی اور رہنمائی کررہا ہے اور خوشخبری سنا رہا ہے ایمان والوں کو۔ (97)

ف 2۔ باوجود اعتقاد آخرت کے طول عمر کی تمنا صاف دلیل ہے کہ یہ اختصاص استحقاق نعمت آخرت کا دعوی صرف دعوی ہے۔ دل میں خوب سمجھتے ہیں خہ وہاں پہنچ کر جہنم ہی نصیب ہونا ہے اس لیے جب تک بچے رہیں تب ہی تک سہی۔
Ayahs 2:98–101

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو (کوئی) شخص خدا تعالیٰ کا دشمن ہو اور فرشتوں کا (ہو) اور پیغمبروں کا (ہو) اور جبریل کا (ہو) اور میکائیل کا (ہو) تو اللہ تعالیٰ دشمن ہے ایسے کافروں کا۔ (ف 3) (98)

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تو آپ کے پاس بہت سے دلائل واضحہ نازل کیے ہیں اور کوئی انکار نہیں کیا کرتا مگر صرف وہی لوگ جو عددل حکمی کے عادی ہیں۔ (99)

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا اور جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا ہوگا (ضرور) اس کو ان میں سے کسی نہ کسی فریق نے نظر انداز کردیا ہوگا بلکہ ان میں زیادہ تو ایسے ہی نکلیں گے جو (میرے اس عہد کا) یقین ہی نہیں رکھتے۔ (100)

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس ایک پیغمبر آئے اللہ کی طرف سے جو تصدیق بھی کرتے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگونکے پاس ہے (یعنی تورات کی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو گویا اصلا علم ہی نہیں۔ (101)

ف 3۔ بعض یہود نے حضور ﷺ سے یہ سن کر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
Ayahs 2:102–103

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور انہوں نے ایسی چیز کا (یعنی سحر کا) اتباع کیا جس کا چرچا کیا کرتے تھے شیاطین (یعنی خبیث جن) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد سلطنت میں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام نے) کفر نہیں کیا (ف 1) مگر (ہاں) شیاطین کفر کیا کرتے تھے اور حالت یہ تھی کہ آدمیوں کو بھی (اس) سحر کی تعلیم کیا کرتے تھے۔ اور اس (سحر) کا بھی جو کہ ان دونوں فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا شہربابل میں جن کا نام ہاروت و ماروت تھا (ف 2) اور وہ دونوں کسی کو نہ بتلاتے جب تک یہ (نہ) کہہ دیتے کہ ہمارا وجود بھی ایک امتحان ہے سو تو کہیں کافر مت بن جائیو (کہ اس میں پھنس جاوے) سو (بعضے) لوگ ان دونوں سے اس قسم کا سحر سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ سے (عمل کر کے) کسی مرد اور اس کی بیوی میں تفریق پیدا کردیتے تھے اور یہ (ساحر) لوگ اس کے ذریعہ سے کسی کو بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے مگر خدا ہی کے (تقدیری) حکم سے اور ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو (خود) ان کو ضرر رساں ہیں اور ضرور یہ (یہودی) بھی اتناجانتے ہیں کہ جو شخص اس کو اختیار کرے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ (باقی) نہیں اور بیشک بری ہے وہ چیز (یعنی سحرو کفر) جس میں وہ لوگ اپنی جان دے رہے ہیں کاش ان کو (اتنی) عقل ہوتی۔ (102)

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ (بجائے اس کے) ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو خدا تعالیٰ کے ہاں کا معاوضہ بہتر تھا کاش انکو (اتنی) عقل ہوتی۔ (103)

ف 1۔ یہ بیوقوف لوگ جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سحر کی نسبت کرتے ہیں یہود ہیں اس لیے اللہ نے بیچ میں ان کی برات بھی ظاہر فرمادی۔ 2۔ ان آیتوں کے متعلق ایک لمبا چوڑا قصہ زہر کا مشہور ہے جو کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں۔
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والوتم (لفظ) راعنا مت کہا کرو اور انظرنا کہہ دیا کرو اور (اس کو اچھی طرح) سن لیجیو اور (ان) کافروں کو (تو) سزائے دردناک ہو (ہی) گی۔ (ف 3) (104)

ف 3۔ بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب آتے تو راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں برے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی بہت اچھے کے ہیں کہ ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے اس لیے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمانوں نے بھی حضور ﷺ کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کی مسلمانوں کو یہ حکم دیا۔
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) ان اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو کسی طرح کی بہتری (بھی) نصیب ہو تمہارے پروردگار کی طرف سے حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت (عنایت) کے ساتھ جس کو منظور ہوتا ہے مخصوص فرمالیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل (کرنے) والے ہیں۔ (ف 4) (105)

ف 4۔ بعض یہود بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں مگر تمہارا دین ہمارے دین سے اچھاثابت نہیں ہوا حق تعالیٰ اس دعوے خیرخواہی کی تکذیب اس آیت میں فرماتے ہیں۔
Ayahs 2:106–108

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم کسی آیت کا حکم جو موقوف کردیتے ہیں یا اس آیت (ہی) کو (ذہنوں سے) فراموش کردیتے ہیں تو ہم اس آیت سے بہتر یا اس آیت ہی کی مثل لے آتے ہی (اے معترض) کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں۔ (5) (106)

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ ایسے ہیں کہ خاص ان ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور (یہ بھی سمجھ رکھو کہ) تمہارا حق تعالیٰ کے سوا کوئی یارو مددگار بھی نہیں۔ (107)

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

ہاں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے (بیجا بیجا) درخواستیں کرو جیسا کہ اس کے قبل (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی (ایسی ایسی) درخواستیں کی جاچکی ہیں اور جو شخص بجائے ایمان لانے کے کفر (کی باتیں) کرے بلاشک وہ شخص راہ راست سے دور جا پڑا۔ (108)

ف 5۔ یہود نے قبلہ کا حکم بدل جانے پر جس کا ذکر عنقریب آنا ہے طعن کیا تھا اور مشرکین بھی بعض حکموں کے منسوخ ہوجانے پر زبان درازی کرتے تھے حق تعالیٰ اس طعن اور اعتراض کا جواب اس آیت میں دیتے ہیں۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

ان اہل کتاب (یعنی یہود) میں سے بہتیرے دل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر کافر کر ڈالیں محض حسد کی وجہ سے جو کہ خود ان کے دلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے حق واضح ہوئے پیچھے خیر (اب تو) معاف کرو اور درگزر کرو جب تک حق تعالیٰ (اس معاملہ کے متعلق) اپنا حکم (قانون جدید) بھیجیں (ف 1) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔ (109)

ف 1۔ اشارتا بتادیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال وجزیہ سے ہم جلدی جاری کرنے والے ہیں۔
Ayahs 2:110–111

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور (سردست صرف) نمازیں پابندی سے پڑھے جاؤ اور جو نیک کام بھی اپنی بھلائی کے واسطے جمع کرتے رہو گے حق تعالیٰ کے پاس (پہنچکر) اس کو پالو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کیے ہوئے کاموں کو دیکھ بھال رہے ہیں۔ (ف 2) (110)

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور یہود اور نصارٰے (یوں) کہتے ہیں کہ بہشت میں ہرگز کوئی نہ جانے پاوے گا بجز ان لوگوں کے جو یہودی ہوں یا (ان لوگوں کے) جو نصرانی ہوں یہ (خالی) دل بہلانے کی باتیں ہیں۔ آپ کہیے کہ (اچھا) اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (111)

ف 2۔ اس وقت حالت موجود کا یہ مقتضی تھا پھر حق تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرمادیا اور آیات جہاد نازل فرمادیں۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

(ضرور دوسرے لوگ جاویں گے) جو کوئی شخص بھی اپنا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکاوے اور وہ مخلص بھی ہو تو ایسے شخص کو اس کا عوض ملتا ہے اس کے پروردگار کے پاس پہنچکر اور نہ ایسے لوگوں پر (قیامت میں) کوئی اندیشہ ہے اور نہ ایسے لوگ (اس روز) مغموم ہونے والے ہیں۔ (ف 3) (112)

ف 3۔ حاصل استدلال کا یہ ہوا کہ جب یہ قانون مسلم ہے تو اب صرف یہ دیکھ لو کہ یہ مضمون کس پر صادق آتا ہے سو ظاہر ہے کہ بعد منسوخ ہوجانے کسی حکم سابق کے اس پر چلنے والاکسی طرح فرماں بردار نہیں کہا جاسکتا پس یہودی نصرانی کسی طرح فرماں بردار نہ ہوئے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود کہنے لگے کہ نصاریٰ (کا مذہب) کسی بنیاد پر (قائم) نہیں اور (اسی طرح) نصارٰی کہنے لگے کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں حالانکہ یہ سب (لوگ آسمانی) کتابیں (بھی) پڑہتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ (بھی) جو کہ (محض) بےعلم ہیں ان کا سا قول کہنے لگے سو اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان (عملی) فیصلہ کریں گے قیامت کے روز ان تمام (مقدمات) میں جن میں وہ باہم اختلاف کر رہے تھے۔ (ف 4) (113)

ف 4۔ عملی فیصلہ یہ کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو دوزخ میں بھیج دیں گے اور یہ قید اس لیے لگائی کہ قولی اور برہانی فیصلہ تو حق و باطل کے درمیان دلائل نقلیہ وعقلیہ سے دنیا میں بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں ان کا ذکر ( اور عبادت) کیے جانے سے بندش کرے اور ان کے ویران (ومعطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے۔ ان لوگوں کو تو کبھی بےہیبت ہو کر ان میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا (بلکہ جب جاتے ہیبت اور ادب سے جاتے) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی۔ (ف 5) (114)

ف 5۔ مساجد میں مکہ کی مسجد مدینہ کی مسجد، بیت المقدس کی مسجد اور سب مسجدیں آگئیں۔
Ayahs 2:115–116

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ کی مملوک ہیں (سب سمتیں) مشرق بھی اور مغرب بھی۔ کیونکہ تم لوگ جس طرف منہ کرو ادھر (ہی) اللہ تعالیٰ کا رخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ( تمام جہات کو) محیط ہیں کامل العلم ہیں۔ (ف 6) (115)

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیا مہمل بات ہے) بلکہ خاص اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں (موجودات) ہیں ( اور) سب ان کے محکوم (بھی) ہیں۔ (116)

ف 6۔ یہود نے حکم تبدیل قبلہ پر اعتراض کیا تھا اس کا جواب حق تالی یہ دیتے ہیں کہ اللہ کی مملوک ہیں سب جہتیں جب وہ مالک ہیں تو جس جہت کو چاہیں قبلہ مقرر کردیں۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(حق تعالیٰ ) موجد ہیں آسمانوں اور زمین کے۔ اور جب کسی کام کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو بس اس کام کی نسبت (اتنا) فرما دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ (اسیطرح) ہوجاتا ہے۔ (ف 1) (117)

ف 1۔ کن کہنے میں دواحتمال ہیں ایک یہ کہ مجاز ہو سرعت تکوین وارجلدی بنادینے سے دوسرے یہ کہ حقیقتا حق تعالیٰ کی یہی عادت ہو۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور (بعضے) جاہل یوں کہتے ہیں کہ (خود) ہم سے کیوں نہیں کلام فرماتے اللہ تعالیٰ یا ہمارے پاس کوئی اور ہی دلیل آجاوے (ف 2) اس طرح وہ (جاہل) لوگ بھی کہتے چلے آئے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزر رہے ہیں ان ہی کا سا (جاہلانہ) قول ان سب کے قلوب (کج فہمی میں) باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ہم نے تو بہت سی دلیلیں صاف صاف بیان کردی ہیں (مگر وہ) ان لوگوں کے لیے (نافع) ہیں جو یقین (حاصل کرنا) چاہتے ہیں۔ (118)

ف 2۔ یہود و نصاری کو باجود اہل کتاب واہل علم ہونے کے جاہل اس لیے کہہ دیا گیا کہ یہ بات جاہلوں کی سی کہی تھی کہ باوجود دلائل قویہ کثیرہ قائم ہوچکنے کے ابھی تک حجود کیے جاتے ہیں۔