2. Surah Al-Baqara
البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن
لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader
تم کو اس میں (ذرا بھی) گناہ نہیں کہ (حج میں) معاش کی تلاش کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے (ف 4) پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس آنے لگو تو مشعر حرام کے پاس (مزدلفہ میں شب کو قیام کرکے) خدا تعالیٰ کی یاد کرو (ف 5) اور اس کو اس طرح سے یاد کرو جس طرح تم کو بتلا رکھا ہے (نہ یہ کہ اپنی رائے کو دخل دو ) اور حقیقت میں قبل اس کے تم (محض) ناواقف (ہی) تھے۔ (198)
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader
پھر تم سب (کو ضرور ہے کہ اسی جگہ ہوکر) واپس آؤ جہاں اور لوگ (جاکر وہاں سے) واپس آتے ہیں اور (احکام حج میں پرانی رسموں پر عمل کرنے سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقیناالله تعالیٰ معاف کردینگے اور مہربانی فرمائیں گے۔ (199)
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader
پھر جب تم اپنے اعمال حج پورے کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو جس طرح تم اپنے اباء (و اجداد) کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر اس سے (بدرجہا) بڑھ کر ہو (ف 6) سو بعضے آدمی ( جو کہ کافر ہیں) ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (جو کچھ دینا ہو) دنیا میں دیدیجیے اور ایسے شخص کو آخرت میں (بوجہ انکار آخرت کے) کوئی حصہ نہ ملے گا۔ (200)
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader
اور بعضے آدمی ( جو کہ مومن ہیں) ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دنیا میں بھی بہتری عنایت کیجیے اور آخرت میں بھی بہتری دیجیے اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچائیے۔ (201)
اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader
ایسے لوگوں کو (دونوں جہان میں بڑا) حصہ ملے گا بدولت ان کے اس عمل کے اور اللہ تعالیٰ جلدی ہی حساب لینے والے ہیں۔ (ف 7) (202)
وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader
اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کئی روز تک۔ پھر جو شخص دو دن میں (مکہ واپس آنے میں) تعجیل کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو شخص (دودن) میں تاخیر کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اس شخص کے واسطے جو (خدا سے) ڈرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور خوب یقین رکھو کہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔ (203)
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader
اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو حاضروناظر بتاتا ہے اپنے مافی الضمیر پر حالانکہ وہ (آپ کی) مخالفت میں نہایت شدید ہے۔ (204)
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader
اور جب پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ اس (شہر) میں فساد کرے اور (کسی کے) کھیت یا مواشی کو تلف کردے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے۔ (ف 1) (205)
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader
اور جب اس سے کوئی کہتا ہے کہ خدا کا خوف کر تو نخوت اس کو اس گناہ پر (دونا) آمادہ کردیتی ہے سو ایسے شخص کی کافی سزا جہنم ہے اور وہ بری ہی آرام گاہ ہے۔ (206)
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader
اور بعضا آدمی ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کر ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں۔ (207)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader
اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہو (فاسدخیالات میں پڑ کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208)
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader
پھر اگر تم بعد اس کے کہ تم کو واضح دلیلیں پہنچ چکی ہیں (صراط مستقیم سے) لغزش کرنے لگو تو یقین کر رکھو کہ حق تعالیٰ (بڑے) زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (209)
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader
یہ (کجراہ) لوگ صرف اس امر کے منتظر (معلوم ہوتے) ہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس (سزادینے کے لیے) آویں اور سارا قصہ ہی ختم ہوجاوے اور یہ سارے مقدمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کیے جاوینگے۔ (ف 2) (210)
سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader
آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئیے (توسہی) کہ ہم نے ان کو کتنی واضح دلیلیں دی تھیں۔ (ف 3) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلتا ہے اس کے پاس پہنچنے کے بعد تو یقینا حق تعالیٰ سخت سزادیتے ہیں۔ (ف 4) (211)
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader
دنیوی معاش کفار کو آراستہ پیراستہ معلوم ہوتی ہے اور (اسی وجہ سے) وہ ان مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں حالانکہ (یہ مسلمان) جو کفر و شرک سے بچتے ہیں ان (کافروں) سے اعلیٰ درجہ میں ہونگے قیامت کے روز اور روزی تو اللہ تعالیٰ جس کو چایتے ہیں بےاندازہ دیدیتے ہیں۔ (ف 5) (212)
كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader
(ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو کہ خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور ڈراتے تھے۔ اور ان کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں۔ اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمائیں۔ (ف 1) اور اس کتاب میں (یہ) اختلاف کسی نے نہیں کیا مگر صرف ان لوگوں نے جن کو (اولا) وہ (کتاب) ملی تھی بعد اس کے کہ ان کے پاس دلائل واضحہ پہنچ چکے تھے باہمی ضداضدی کی وجہ سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (ہمیشہ) ایمان والوں کو وہ امرحق جس میں (مختلفین) اختلاف کیا کرتے تھے بفضلہ بتلادیا۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اس کو راہ راست بتلادیتے ہیں۔ (213)
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader
کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں (بےمشقت) جاداخل ہوگے حالانکہ تم کو ہنوزان (مسلمان) لوگوں کا سا کوئی (عجیب) واقعہ پیش نہیں آیا جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر (مخالفین کے سبب) ایسی ایسی تنگی اور سختی واقع ہوئی اور (مصائب رہے) ان کو یہاں تک جنبشین ہوئیں کہ (اس زمانے کے) پیعمبر تک اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد (موعود) کب ہوگی۔ یاد رکھو بیشک اللہ تعالیٰ کی امداد (بہت) نزدیک ہے۔ (ف 2) (214)
یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کیا کریں۔ آپ فرمادیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہے سو ماں باپ کا حق ہے (ف 3) اور قرابت داروں کا اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کروگے سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے) ۔ (215)
كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader
جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلام ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی امر کو گراں سمجھو اور وہ تمہارے حق میں خیر ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے۔ (ف 4) (216)
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader
لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ اس میں ( خاص طور پر) قتال کرنا (یعنی عمدا) جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں روک ٹوک کرنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ اور جو لوگ (مسجد حرام) کے اہل تھے ان کو اس سے خارج کردینا جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور فتنہ پروازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے بدرجہا بڑھ کر ہے (ف 1) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ جاری ہی رکھیں گے۔ اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں۔ اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجائے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (ف 2) اور ایسے لوگ دوزخی ہوتے ہیں۔ ( اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (217)
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader
حقیقتہ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں گے اور (تم پر) رحمت کریں گے۔ (218)
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader
لوگ آپ سے شراب اور قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ ان دونوں (کے استعمال) میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی ہیں اور لوگوں کو (بعضے) فائدے بھی ہیں اور (وہ) گناہ کی باتیں ان فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں (ف 3) اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (خیرخیرات میں) کتنا خرچ کیا کریں آپ فرمادیجیے کہ جتنا آسان ہو اللہ تعالیٰ اسی طرح احکام کو صاف صاف بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا و آخرت کے معاملات میں سوچ لیا کرو۔ (219)
فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader
اور لوگ آپ سے یتیم بچوں کا پوچھتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو وہ تمہارے (دینی) بھائی ہیں۔ اور اللہ مصلحت کے ضائع کرنے والے کو اور مصلحت کی رعایت رکھنے والے کو (الگ الگ) جانتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تم کو مصیبت میں ڈال دیتے کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (ف 4) (220)
وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader
اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے گو وہ تم کو اچھی ہی معلوم ہو اور عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد غلام بہتر ہے کافر مرد سے گو وہ تم کو اچھا ہی معلوم ہو (کیونکہ) یہ لوگ دوزخ ( میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت کی تحریک دیتے ہیں اپنے حکم سے اور اللہ تعالیٰ اس واسطے آدمیوں کو اپنے احکام بتلادیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں۔ (ف 1) (221)
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader
اور لوگ آپ سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ وہ گندی چیز ہے تو حیض میں تم عورتوں سے علیٰحدہ رہا کرو اور ان سے قربت مت کیا کرو جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجاویں۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہوجاویں تو ان کے پاس آؤ جاؤ جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے۔ (ف 2) (222)
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader
تمہاری بیبیاں تمہارے لیے (بمنزلہ) کھیت (کے) ہیں سو اپنے کھیت میں جس طرف سے ہو کر چاہو آؤ۔ اور آئندہ کے واسطے (بھی) اپنے لیے کچھ کرتے رہو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اور یقین رکھو کہ بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے والے ہو۔ اور (اے محمد ﷺ ایسے ایمانداروں کو خوشی کی خبر سنا دیجیے۔ (223)
وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader
اور اللہ کو اپنی قسموں کے ذریعہ سے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فی مابین خلق کے کام کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں۔ (ف 3) (224)
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ تم پر ( آخرت) میں داروگیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں (ایسی) بیہودہ قسم پر۔ لیکن داروگیر فرماویں گے اس (جھوٹی قسم) پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں حلیم ہیں۔ (ف 4) (225)
لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader
جو لوگ قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بی بیوں (کے پاس جانے) سے ان کے لیے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر یہ لوگ (قسم توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں تب تو اللہ تعالیٰ معاف کردینگے رحمت فرماوینگے۔ (ف 5) (226)
وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader
اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔ (227)
وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader
اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض تک (ف 6) اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے رحم میں پیدا کیا ہو (خواہ حمل یا حیض) اس کو پوشیدہ کریں۔ اگر وہ عورتیں اللہ تعالیٰ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتی ہیں اور ان عورتوں کے شوہران کے (بلاتجدید نکاح) پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اس (عدت) کے اندر بشرطیکہ اصلاح کا قصد رکھتے ہوں اور عورتوں کے لیے بھی حقوق ہیں جو کہ مثل ان ہی حقوق کے ہیں جو ان عورتوں پر ہیں قاعدہٴ (شرعی) کے موافق اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ( حاکم) ہیں حکیم ہیں۔ (ف 1) (228)
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader
وہ طلاق دو مرتبہ (کی) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ (ف 2) اور تمہارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں سو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔ (ف 3) (229)
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader
پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے پھر اگر یہ اس کو طلاق دیدے تو ان دونوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہوں کہ (آئندہ) خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں۔ (230)
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader
اور جب تم نے عورتوں کو (رجعی) طلاق دی (ہو) پھر وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جاویں تو یا تم ان کو قاعدے کے مواقف (رجعت کرکے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کے مواقف ان کو رہائی دو ۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے مت رکھو اور اس ارادہ سے کہ ان پر ظلم کیا کروگے اور جو شخص ایسا (برتاؤ) کرے گا سو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور حق تعالیٰ کے احکام کو لہو و لعب (کی طرح بےوقعت) مت سمجھو اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو (خصوصا) اس کتاب اور (مضامین) حکمت کو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل فرمائی ہیں کہ تم کو ان کے ذریعہ سے نصیحت فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (231)
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader
اور جب تم ( میں ایسے لوگ پائے جائیں کہ وہ) اپنی بیبیوں کو طلاق دیدیں پھر وہ عورتیں اپنی میعاد (عدت) بھی پوری کرچکیں۔ تو تم ان کو اس امر سے مت رو کو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجاویں قاعدے کے موافق (ف 1) اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو۔ یہ (اس نصیحت کا قبول کرنا) تمہارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔ (232)
وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader
اور مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودہ پلایا کریں۔ یہ (مدت) اس کے لیے ہے جو کوئی شیر خوار گی کی تکمیل کرنا چاہے اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمہ ہے ان (ماؤ ں) کا کھانا اور کپڑا قاعدے کے موافق کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہ پہنچانا چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ کسی باپ کو تکلیف دینی چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے (ف 2) اور مثل طریق مذکور کے اس کے ذمہ ہے جو وارث ہو (ف 3) پھر اگر دونوں دودہ چھڑانا چاہیں اپنی رضامندی اور مشورہ سے تو دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انا کا) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کہ حوالہ کردو جو کچھ ان کو دینا کیا ہے قاعدہ کے موافق۔ اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں۔ (233)
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader
اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لیے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں قاعدے کے موافق اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں۔ (ف 4) (234)
وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader
اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارة کہو یا اپنے دل میں (ارادہٴ نکاح کو) پوشیدہ رکھو اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلام ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) زذکر مذکور کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہٴ خفیہ ( اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدے کے موافق کہو اور تم تعلق نکاح کا (فی الحال) ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت مقررہ اپنی ختم کو پہنچ جاوے اور یقین رکھو اس کا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی بات کی اطلاع ہے سو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں حلیم بھی ہیں۔ (ف 1) (235)
لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader
تم پر (مہر کا) کوئی مؤ اخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لیے کچھ مہر مقرر کیا ہے اور (صرف) ان کو (ایک) فائدہ پہنچاؤ صاحب وسعت کے ذمہ اسکی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر۔ (236)
وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader
اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور ان کے لیے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف (واجب ہے) مگر یہ کہ وہ عورتیں (اپنا نصف) معاف کردیں یا یہ کہ وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق (رکھنا اور توڑنا) ہے اور تمہارا معاف کردینا (بہ نسبت وصول کرنے کہ) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں۔ (ف 2) (237)