2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبیان القرآن

Ayahs 2:198–199

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

تم کو اس میں (ذرا بھی) گناہ نہیں کہ (حج میں) معاش کی تلاش کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے (ف 4) پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس آنے لگو تو مشعر حرام کے پاس (مزدلفہ میں شب کو قیام کرکے) خدا تعالیٰ کی یاد کرو (ف 5) اور اس کو اس طرح سے یاد کرو جس طرح تم کو بتلا رکھا ہے (نہ یہ کہ اپنی رائے کو دخل دو ) اور حقیقت میں قبل اس کے تم (محض) ناواقف (ہی) تھے۔ (198)

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر تم سب (کو ضرور ہے کہ اسی جگہ ہوکر) واپس آؤ جہاں اور لوگ (جاکر وہاں سے) واپس آتے ہیں اور (احکام حج میں پرانی رسموں پر عمل کرنے سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقیناالله تعالیٰ معاف کردینگے اور مہربانی فرمائیں گے۔ (199)

ف 4۔ حج میں تجارت مباح یقینا ہے اب رہی یہ بات کہ اخلاص کے خلاف تو نہیں سو اس میں اس کا حکم مثل اور مباحات کے وارد ہوا ہے۔ 5۔ زمانہ جاہلیت میں قریش چونکہ اپنے آپ کو مجاور حرام سمجھتے تھے اور مزدلفہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اسلیے یہ لوگ عرفات میں نہ جاتے تھے، مزدلفہ ہی میں ٹھہر کر وہاں سے لوٹ آتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان احکام کا عام ہونابتلا دیا۔
Ayahs 2:200–201

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم اپنے اعمال حج پورے کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو جس طرح تم اپنے اباء (و اجداد) کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر اس سے (بدرجہا) بڑھ کر ہو (ف 6) سو بعضے آدمی ( جو کہ کافر ہیں) ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (جو کچھ دینا ہو) دنیا میں دیدیجیے اور ایسے شخص کو آخرت میں (بوجہ انکار آخرت کے) کوئی حصہ نہ ملے گا۔ (200)

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعضے آدمی ( جو کہ مومن ہیں) ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دنیا میں بھی بہتری عنایت کیجیے اور آخرت میں بھی بہتری دیجیے اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچائیے۔ (201)

ف 6۔ آیت میں جو حکم یاد کا فرمایا اس میں نمازیں بھی داخل ہیں پس یہ ذکر تو واجب ہے باقی ذکر جو کچھ کرے مستحب ہے۔
Ayahs 2:202–204

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

ایسے لوگوں کو (دونوں جہان میں بڑا) حصہ ملے گا بدولت ان کے اس عمل کے اور اللہ تعالیٰ جلدی ہی حساب لینے والے ہیں۔ (ف 7) (202)

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کئی روز تک۔ پھر جو شخص دو دن میں (مکہ واپس آنے میں) تعجیل کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو شخص (دودن) میں تاخیر کرے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اس شخص کے واسطے جو (خدا سے) ڈرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور خوب یقین رکھو کہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔ (203)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے ہوتی ہے مزہ دار معلوم ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو حاضروناظر بتاتا ہے اپنے مافی الضمیر پر حالانکہ وہ (آپ کی) مخالفت میں نہایت شدید ہے۔ (204)

ف 7۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا ظرف طلب ہے خود مطلوب نہیں بلکہ مطلوب حسنہ ہے۔
Ayahs 2:205–209

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ اس (شہر) میں فساد کرے اور (کسی کے) کھیت یا مواشی کو تلف کردے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے۔ (ف 1) (205)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کوئی کہتا ہے کہ خدا کا خوف کر تو نخوت اس کو اس گناہ پر (دونا) آمادہ کردیتی ہے سو ایسے شخص کی کافی سزا جہنم ہے اور وہ بری ہی آرام گاہ ہے۔ (206)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور بعضا آدمی ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کر ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں۔ (207)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہو (فاسدخیالات میں پڑ کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208)

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم بعد اس کے کہ تم کو واضح دلیلیں پہنچ چکی ہیں (صراط مستقیم سے) لغزش کرنے لگو تو یقین کر رکھو کہ حق تعالیٰ (بڑے) زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (209)

ف 1۔ کوئی شخص تھا اخنس بن شریق، بڑا فصیح وبلیغ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھاکر جھوٹا دعو اسلام کا کیا کرتا تھا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت وایذارسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں یہ آیت فرمائی ہیں۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

یہ (کجراہ) لوگ صرف اس امر کے منتظر (معلوم ہوتے) ہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس (سزادینے کے لیے) آویں اور سارا قصہ ہی ختم ہوجاوے اور یہ سارے مقدمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کیے جاوینگے۔ (ف 2) (210)

ف 2۔ روح المعانی میں بسند ابن مردویہ بروایت ابن مسعود پیغمبر ﷺ سے حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام اولین وآخرین کو جمع فرمائیں گے اور سب منتظر حساب و کتاب کے ہوں گے اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں عرش پر تجلی فرمائیں گے اور ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ ان سائبانوں کے گرد ملائکہ ہوں گے سو آیت میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے منتظر ہیں پھر اس وقت کیا ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئیے (توسہی) کہ ہم نے ان کو کتنی واضح دلیلیں دی تھیں۔ (ف 3) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلتا ہے اس کے پاس پہنچنے کے بعد تو یقینا حق تعالیٰ سخت سزادیتے ہیں۔ (ف 4) (211)

ف 3۔ مثلا تورات ملی، چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر طور گرانے کی دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہیے تھا کہ سرآنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے ہلاک ہوئے اور مثلا دریا کو شگافتہ کرکے فرعون سے نجات دی گئی احسان مانتے مگر گوالہ پرستی شروع کردی سزائے قتل دی گئی اور مثلا من وسلوی نازل ہواشکر کرنا چاہیے تھا بےحکمی کی وہ سڑنے لگا اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہوگیا اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی اور مثلا انبیاء کا سلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھتے ان کو قتل کرنا شروع کردیا انتزاع سلطنت کی سزا دی گئی۔ وعلی ھذا بہت سے معاملات اس سورة بقرہ کے شروع میں بھی مذکور ہوچکے ہیں۔ 4۔ یہ سزا کبھی دنیا میں بھی ہوجاتی ہے اور کبھی آخرت میں بھی ہوگی۔
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

دنیوی معاش کفار کو آراستہ پیراستہ معلوم ہوتی ہے اور (اسی وجہ سے) وہ ان مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں حالانکہ (یہ مسلمان) جو کفر و شرک سے بچتے ہیں ان (کافروں) سے اعلیٰ درجہ میں ہونگے قیامت کے روز اور روزی تو اللہ تعالیٰ جس کو چایتے ہیں بےاندازہ دیدیتے ہیں۔ (ف 5) (212)

ف 5۔ پس اس کا مدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو کہ خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور ڈراتے تھے۔ اور ان کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں۔ اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمائیں۔ (ف 1) اور اس کتاب میں (یہ) اختلاف کسی نے نہیں کیا مگر صرف ان لوگوں نے جن کو (اولا) وہ (کتاب) ملی تھی بعد اس کے کہ ان کے پاس دلائل واضحہ پہنچ چکے تھے باہمی ضداضدی کی وجہ سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (ہمیشہ) ایمان والوں کو وہ امرحق جس میں (مختلفین) اختلاف کیا کرتے تھے بفضلہ بتلادیا۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اس کو راہ راست بتلادیتے ہیں۔ (213)

ف 1۔ اول دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گزر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہوناشروع ہوا حتی کہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں (بےمشقت) جاداخل ہوگے حالانکہ تم کو ہنوزان (مسلمان) لوگوں کا سا کوئی (عجیب) واقعہ پیش نہیں آیا جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر (مخالفین کے سبب) ایسی ایسی تنگی اور سختی واقع ہوئی اور (مصائب رہے) ان کو یہاں تک جنبشین ہوئیں کہ (اس زمانے کے) پیعمبر تک اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد (موعود) کب ہوگی۔ یاد رکھو بیشک اللہ تعالیٰ کی امداد (بہت) نزدیک ہے۔ (ف 2) (214)

ف 2۔ انبیاء اور مومنین کا اس طرح کہنا نعوذ باللہ شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ وقت امداد اور غلبہ کا مقابلہ مخالفین میں ان حضرات کو نہ بتلایا گیا ابہام وقت سے ان کو جلدی ہونے کا انتظار رہتا تھا جب انتظار سے تھک جاتے تب اس طرح عرض معروض کرنے لگتے جس کا حاصل دعا ہے الحاح کے ساتھ اور الحاح خلاف رضاوتسلیم کے نہیں ہے بلکہ جب الحاح کا پسندیدہ ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت ہے توالھاح عین رضاء حق سے رضا ہے البتہ خلاف رضا اور وہ دعا ہے جس کے قبول نہ ہونے سے دعا کرنے والا ناخوش ہو سع معاز اللہ اس کا انبیاء اور مومنین کاملین میں ثبوت ہے نہ احتمال۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کیا کریں۔ آپ فرمادیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہے سو ماں باپ کا حق ہے (ف 3) اور قرابت داروں کا اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کروگے سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے) ۔ (215)

ف 3۔ ماں باپ کو زکوة اور دوسرے صدقات واجبہ دنیا درست نہیں اس آیت میں نفلی خیرات کا بیان ہے۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلام ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی امر کو گراں سمجھو اور وہ تمہارے حق میں خیر ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے۔ (ف 4) (216)

ف 4۔ جہاد فرض ہے جبکہ اس کے وہ شرائط پائے جاویں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اور فرض دو طرح کا ہوتا ہے فرض عین، فرض کفایہ۔ سو اعداء دین جب مسلمانوں پر چڑھ آویں تب جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ۔
Ayahs 2:217–218

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ اس میں ( خاص طور پر) قتال کرنا (یعنی عمدا) جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں روک ٹوک کرنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ اور جو لوگ (مسجد حرام) کے اہل تھے ان کو اس سے خارج کردینا جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور فتنہ پروازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے بدرجہا بڑھ کر ہے (ف 1) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ جاری ہی رکھیں گے۔ اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں۔ اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجائے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (ف 2) اور ایسے لوگ دوزخی ہوتے ہیں۔ ( اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (217)

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

حقیقتہ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں گے اور (تم پر) رحمت کریں گے۔ (218)

ف 1۔ نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوارجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ اس کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور نبی ﷺ سے پوچھا اس آیت میں اسی کا جواب ارشاد ہے از خلاصہ جواب یہ ہے کہ اول تو مسلمانوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور علی سبیل الفرض اگر کیا ہے تو معترضین اس سے بڑے بڑے گناہ یعنی کفر ومزاحمت دین حق میں مبتلا ہیں پھر ان کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کب منصب ہے۔ 2۔ دنیا میں اعمال کا ضائع ہونا یہ ہے کہ اس کی بی بی نکاح سے نکل جاتی ہے اگر اس کا کوئی مورث مسلمان مرے اس شخص کو میراث کا حصہ نہیں ملتا حالت اسلام میں نماز و روزہ جو کچھ کیا تھا سب کالعدم ہوجاتا ہے مرنے کے بعد جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی مسلمانوں کے مقابر میں دفن نہیں کیا جاتا اور آخرت کا نقصان یہ ہے کہ عبادات کا ثواب نہیں ملتا ابدالآباد کے لیے دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

لوگ آپ سے شراب اور قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ ان دونوں (کے استعمال) میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی ہیں اور لوگوں کو (بعضے) فائدے بھی ہیں اور (وہ) گناہ کی باتیں ان فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں (ف 3) اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (خیرخیرات میں) کتنا خرچ کیا کریں آپ فرمادیجیے کہ جتنا آسان ہو اللہ تعالیٰ اسی طرح احکام کو صاف صاف بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا و آخرت کے معاملات میں سوچ لیا کرو۔ (219)

ف 3۔ پہلے دونوں چیزیں حلال تھیں سب سے پہلی امت شراب وقمار کے متعلق یہ نازل کی گئی اس آیت سے ان دونوں کی حرمت فی نفسہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ بعض بعض عوارض غیر لازمہ سے ان دونوں کا ترک کا مشورہ دینا مطلوب تھا۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

اور لوگ آپ سے یتیم بچوں کا پوچھتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو وہ تمہارے (دینی) بھائی ہیں۔ اور اللہ مصلحت کے ضائع کرنے والے کو اور مصلحت کی رعایت رکھنے والے کو (الگ الگ) جانتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تم کو مصیبت میں ڈال دیتے کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (ف 4) (220)

ف 4۔ چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لیے یہ وعید سنائی گئی تھی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگارے سے پیٹ بھرنا توسننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے الگ رکھواتے اور اتفاق سے اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا اور پھینکنا پڑتا اس طرح بالکل علیحدہ اٹھائے رکھنے میں تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کے مال کا بھی نقصان ہوتا۔
Ayahs 2:221–223

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے گو وہ تم کو اچھی ہی معلوم ہو اور عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد غلام بہتر ہے کافر مرد سے گو وہ تم کو اچھا ہی معلوم ہو (کیونکہ) یہ لوگ دوزخ ( میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت کی تحریک دیتے ہیں اپنے حکم سے اور اللہ تعالیٰ اس واسطے آدمیوں کو اپنے احکام بتلادیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں۔ (ف 1) (221)

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور لوگ آپ سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔ آپ فرمادیجیے کہ وہ گندی چیز ہے تو حیض میں تم عورتوں سے علیٰحدہ رہا کرو اور ان سے قربت مت کیا کرو جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجاویں۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہوجاویں تو ان کے پاس آؤ جاؤ جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے۔ (ف 2) (222)

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیبیاں تمہارے لیے (بمنزلہ) کھیت (کے) ہیں سو اپنے کھیت میں جس طرف سے ہو کر چاہو آؤ۔ اور آئندہ کے واسطے (بھی) اپنے لیے کچھ کرتے رہو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اور یقین رکھو کہ بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے والے ہو۔ اور (اے محمد ﷺ ایسے ایمانداروں کو خوشی کی خبر سنا دیجیے۔ (223)

ف 1۔ اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ کافروں مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیا جاوے سو حکم یہ کہ مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح نہ کیا جائے اس حکم میں دو جزو ہیں ایک جزویہ کہ وہ کافر عورت کتابی یعنی یہودی یا نصرانی نہ ہو اور کوئی مذہب کفر کا رکھتی ہو اس جزو میں بھی اس آیت کا حکم باقی ہے چناچہ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح مسلمان کا نہیں ہوسکتا دوسرا جزو یہ کہ عورت کتابیہ ہو یعنی یہود و نصاری اس خاص جزو میں اس آیت کا حکم باقی نہیں بلکہ ایک آیت سورة مائدہ میں اس مضمون کی ہے کہ کتابی عورتوں سے نکاح درست ہے سو اس آیت سے اس آیت کا یہ خاص جزو منسوخ ہوگیا چناچہ یہود و نصاری سے نکاح درست ہے لیکن اچھا نہیں حدیث میں دین دار عورت کے حاسل کرنے کا حکم ہے تو بددین عورت کا حاصل کرنا اس درجہ میں ناپسندیدہ ہوگا۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور اللہ کو اپنی قسموں کے ذریعہ سے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فی مابین خلق کے کام کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں۔ (ف 3) (224)

ف 3۔ نیک کام کا ترک کرنا بلاقسم بھی برا ہے۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم پر ( آخرت) میں داروگیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں (ایسی) بیہودہ قسم پر۔ لیکن داروگیر فرماویں گے اس (جھوٹی قسم) پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں حلیم ہیں۔ (ف 4) (225)

ف 4۔ لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بےارادہ منہ سے کچھ نکل گیا اس میں گناہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں جس پر مواخذہ ہونے کا ذکر فرمایا وہ قسم ہے جو قصدا جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو۔
Ayahs 2:226–227

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بی بیوں (کے پاس جانے) سے ان کے لیے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر یہ لوگ (قسم توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں تب تو اللہ تعالیٰ معاف کردینگے رحمت فرماوینگے۔ (ف 5) (226)

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔ (227)

ف 5۔ اگر کوئی قسم کھالے کہ اپنی بی بی سے صحبت نہ کروں گا تو اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بی بی کے پاس چلا جائے تو قسم کا کفارہ ہے اور نکاح باقی ہے اگر چار ماہ گزرگئے اور بی بی کے پاس نہ گیا تو اس عورت پر طلاق قطعی پڑجائے گی اور رجوع کرنا درست نہیں رہا ہاں اگر دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کرلیں تو درست ہے۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض تک (ف 6) اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے رحم میں پیدا کیا ہو (خواہ حمل یا حیض) اس کو پوشیدہ کریں۔ اگر وہ عورتیں اللہ تعالیٰ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتی ہیں اور ان عورتوں کے شوہران کے (بلاتجدید نکاح) پھر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں اس (عدت) کے اندر بشرطیکہ اصلاح کا قصد رکھتے ہوں اور عورتوں کے لیے بھی حقوق ہیں جو کہ مثل ان ہی حقوق کے ہیں جو ان عورتوں پر ہیں قاعدہٴ (شرعی) کے موافق اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں کچھ درجہ بڑا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ( حاکم) ہیں حکیم ہیں۔ (ف 1) (228)

ف 6۔ یہ عدت ان عورتوں کی ہے جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہوآزاد ہوں یعنی شرعی قاعدے سے لونڈی نہ ہو عدت کے اندر دوسرے مرد سے نکاح درست نہیں اور اس کے برعکس جس عورت سے مردنے صحبت یا خلوت صحیحہ نہ کی اور اس کو طلاق دے دے تو اس پر بالکل عدت لازم نہیں۔ 1۔ مطلقہ پر واجب ہے کہ اپنے حائضہ یا حاملہ ہونے کی حالت ظاہر کرے تاکہ اس کے موافق عدت کا حساب ہو مرد پر خاص عورت کے حقوق یہ ہیں اپنی وسعت کے مطابق اس کو کھانا کپڑا رہنے کا گھر دے مہر دے اس کو تنگ نہ کرے اور عورت پر مرد کے خاص حق یہ ہیں اس کی اطاعت کرے اس کی خدمت کرے۔
Ayahs 2:229–231

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

وہ طلاق دو مرتبہ (کی) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ (ف 2) اور تمہارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں سو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔ (ف 3) (229)

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے پھر اگر یہ اس کو طلاق دیدے تو ان دونوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہوں کہ (آئندہ) خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں۔ (230)

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم نے عورتوں کو (رجعی) طلاق دی (ہو) پھر وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جاویں تو یا تم ان کو قاعدے کے مواقف (رجعت کرکے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کے مواقف ان کو رہائی دو ۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے مت رکھو اور اس ارادہ سے کہ ان پر ظلم کیا کروگے اور جو شخص ایسا (برتاؤ) کرے گا سو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور حق تعالیٰ کے احکام کو لہو و لعب (کی طرح بےوقعت) مت سمجھو اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو (خصوصا) اس کتاب اور (مضامین) حکمت کو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل فرمائی ہیں کہ تم کو ان کے ذریعہ سے نصیحت فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (231)

ف 2۔ اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں جودو مرتبہ سے زائد نہ ہو اور اس میں یہ بھی قید ہو کہ صاف لفظوں سے ہوں اور قاعدہ سے مراد یہ ہے کہ طریقہ بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی اس میں شرع کے موافق ہو اور خوش عنوانی سے بھی مراد یہ ہے کہ طریقہ اس کا شرع کے موافق ہو نیز خوش عنوانی سے چھوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ نیت بھی شرع کے موافق ہو یعنی دفع نزاع مقصود ہو یہ مقصد نہ ہو کہ اس کی دل شکنی کریں اس کو ذلیل کریں اس لیے نرمی ودل جوئی کی رعایت ضروری ہے۔ 3۔ عورت سے مال ٹھیرا کر چھوڑنا اس کی دو صورتیں ہیں ایک خلع دوسرا طلاق علی مال۔ خلع یہ کہ عورت کہے کہ تو اتنے مال پر مجھ سے خلع کرلے اور مرد کہے مجھ کو منظور ہے اس کے کہتے ہی گولفظ طلاق نہ کہے طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اس قدر مال عورت کے ذمہ واجب ہوجائے گا اور طلاق علی مال یہ ہے کہ مرد عورت سے کہے کہ تجھ کو اس قدر مال کے عوض طلاق ہے اس کا حکم یہ ہے کہ عورت منظور نہ کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی اور اگر منظور کرلے تو طلاق بائن ہوجائے گی اور اس قدر مال عورت پر واجب ہوجائے گا۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم ( میں ایسے لوگ پائے جائیں کہ وہ) اپنی بیبیوں کو طلاق دیدیں پھر وہ عورتیں اپنی میعاد (عدت) بھی پوری کرچکیں۔ تو تم ان کو اس امر سے مت رو کو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجاویں قاعدے کے موافق (ف 1) اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو۔ یہ (اس نصیحت کا قبول کرنا) تمہارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔ (232)

ف 1۔ اس آیت میں روکنے کی سب صورتیں داخل ہیں اور ہر صورت میں روکنے کو منع فرمایا ہے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو دو سال کامل دودہ پلایا کریں۔ یہ (مدت) اس کے لیے ہے جو کوئی شیر خوار گی کی تکمیل کرنا چاہے اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے ذمہ ہے ان (ماؤ ں) کا کھانا اور کپڑا قاعدے کے موافق کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہ پہنچانا چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ کسی باپ کو تکلیف دینی چاہیے اس کے بچہ کی وجہ سے (ف 2) اور مثل طریق مذکور کے اس کے ذمہ ہے جو وارث ہو (ف 3) پھر اگر دونوں دودہ چھڑانا چاہیں اپنی رضامندی اور مشورہ سے تو دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انا کا) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کہ حوالہ کردو جو کچھ ان کو دینا کیا ہے قاعدہ کے موافق۔ اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں۔ (233)

ف 2۔ یعنی بچہ کے ماں باپ آپس میں کسی بات پر ضداضدی نہ کریں ماں اگر کسی وجہ سے معذور نہ ہو تو اسکے ذمہ دیانتہ یعنی عنداللہ واجب ہے کہ بچہ کو دودھ پلاے جب کہ وہ منکوحہ ہو یا عدت میں ہو اور اجرت لینا درست نہیں اور اگر طلاق کے بعد عدت گزرچکی تو اس پر بلا اجرت دودھ پلانا واجب نہیں۔ اگر ماں دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس پر جبر نہ کیا جائے گا البتہ اگر بچہ کسی کا دودھ نہیں لیتا نہ اوپر کا دودھ پیتا ہے تو ماں کو مجبور کیا جائے گا۔ ماں دودھ پلانا چاہتی ہے اور اس کے دودھ میں کوئی خرابی بھی نہیں تو باپ کو جائز نہیں کہ اس کو نہ پلانے دے اور دوسری انا کا دودھ پلوائے۔ ماں دودھ پلانے پر رضامند ہے لیکن اس کا دودھ بچہ کو مضر ہوگا تو باپ کا جائز ہے کہ اس کو دودھ نہ پلانے دے اور کسی دوسری انا کا دودھ پلوائے۔ 3۔ باپ کے ہوتے ہوئے بچہ کی پرورش کا خرچ صرف باپ کے ذمہ ہے اور جب باپ مرجائے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بچہ مالک مال کا ہے تب تو اسی مال میں اس کا خرچ ہوگا اور اگر مالک مال کا نہیں تو اس کے مال دار عزیزوں میں سے جو اس کے محرم ہیں اور محرم ہونے کے علاوہ شرعا اس کے مستحق میراث بھی ہیں پس ایسے محرم وارث رشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہوگا اور ان رشتہ داروں میں ماں بھی داخل ہے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لیے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں قاعدے کے موافق اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں۔ (ف 4) (234)

ف 4۔ یہ عدت اس بیوہ کی ہے جس کو حمل نہ اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہی پیدا ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو یہ مسئلہ سورة طلاق میں آوے گا جس کا خاوند مرجائے اس کو عدت کے اندر خوشبو لگانا سنگار کرنا سرمہ اور تیل بلاضرورت دوا لگانا رنگین کپڑے پہننا درست نہیں اور صریح گفتگو سے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور رات کو دوسرے گھر میں بھی رہنا درست نہیں۔
Ayahs 2:235–236

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارة کہو یا اپنے دل میں (ارادہٴ نکاح کو) پوشیدہ رکھو اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلام ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) زذکر مذکور کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہٴ خفیہ ( اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدے کے موافق کہو اور تم تعلق نکاح کا (فی الحال) ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت مقررہ اپنی ختم کو پہنچ جاوے اور یقین رکھو اس کا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی بات کی اطلاع ہے سو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں حلیم بھی ہیں۔ (ف 1) (235)

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر (مہر کا) کوئی مؤ اخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لیے کچھ مہر مقرر کیا ہے اور (صرف) ان کو (ایک) فائدہ پہنچاؤ صاحب وسعت کے ذمہ اسکی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر۔ (236)

ف 1۔ یہاں عدت کے اندر چار فعل مذکور ہیں دوزبان کے اور دو دل کے۔ اور ہر ایک کا حکم جدا ہے اول زبان سے تصریحا پیغام دینا یہ حرام ہے لاتواعدوھن سرا میں اس کا ذکر ہے دوم زبان سے اشارہ کرنا جائز ہے لاجناح علیکم اور قولا معروفا میں اس کا ذکر ہے۔ سوم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ ابھی یعنی عدت کے اندر نکاح کرلیں گے یہ بھی حرام ہے کیونکہ عدت کے اندر نکاح کرنا حرام ہے اور ارادہ حرام کا حرام ہے۔ لاتعزمو میں اس کا ذکر ہے۔ چہارم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ عدت کے بعد نکاح کریں یہ جائز ہے۔ اکننتم فی انفسکم میں اس کا ذکر ہے۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور ان کے لیے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف (واجب ہے) مگر یہ کہ وہ عورتیں (اپنا نصف) معاف کردیں یا یہ کہ وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق (رکھنا اور توڑنا) ہے اور تمہارا معاف کردینا (بہ نسبت وصول کرنے کہ) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں احسان کرنے سے غفلت مت کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں۔ (ف 2) (237)

ف 2۔ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہواہو اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دی ہو تو مقرر کیے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمہ واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دے دے تو اختیاری بات ہے۔