2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 2:1

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم

[1] اس طرح کے حروف جو قرآن مجید کی بعض سورتوں میں واقع ہیں مقطعات کہلاتے ہیں اور حروف تہجی کی طرح پڑھے جاتے ہیں۔ ان کے معانی اللہ نے کسی مصلحت سے بندوں پر ظاہر نہیں کئے۔ بعض مفسرین نے جو معنی تجویز کئے ہیں وہ ان کی اپنی رائے ہے۔ ان کے معنی کا جاننا ضروری بھی نہیں۔ انہیں آدمی اگر نہ بھی جانے تو قرآن سے ہدایت حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں رہ جاتی۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلام الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔ ہدایت ہے متقی انسانوں کے لئے

[2] متقی وہ آدمی ہے جو اپنے فکر و عمل میں بےپرواہ نہیں ہوتا، ہر بات کو درستگی کے ساتھ سمجھنے اور کرنے کی کھٹک رکھتا ہے اور برائی اور نقصان سے بچنا چاہتا ہے۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں بھی) خرچ کرتے ہیں۔

[3] غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو حواس اور عقل سے پوشیدہ ہیں۔ مثلاً اللہ کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنت، دوزخ وغیرہ۔ ہم ان کو صرف اللہ اور رسول ﷺ کے فرمانے سے صحیح مان لیتے ہیں۔ [4] نماز قائم کرنے کے معنی صرف یہ نہیں کہ آدمی پابندی سے نماز ادا کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔ اسلام میں نماز کا مزاج اور اس کی صحیح شکل یہی ہے۔ اگر کوئی شخص بلا عذر نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ کے قول کے مطابق اس کی نماز مقبول ہی نہیں ہوتی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارقطنی، حاکم، بروایت عبداللہ بن عباس ؓ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب اس پر اس طرح مداومت کرتے رہے کہ گویا وہ بھی نماز کا جز اور اس کے اندر داخل ہے۔ آپ نے اپنے مرض وفات میں بھی اسے ترک نہیں فرمایا۔ آپ جماعت چھوڑنے والوں پر سخت ناراض ہوتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو بعض نماز میں نہ دیکھا تو فرمایا کہ میں سوچتا ہوں کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ نماز پڑھائے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو جماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں پھر حکم دوں کہ لکڑیوں کو جمع کر کے ان کے گھروں کو جلا دیا جائے۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جو (کتاب) تم پر اتری اور جو (کتابیں) تم سے پہلے اتریں ان (سب) پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں۔

[5] آخرت ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق مندرجہ ذیل عقائد پر ہوتا ہے : (1) انسان اپنے تمام اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ (2) یہ کہ دنیا کا موجودہ نظام ایک وقت پر جس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ختم ہوجائے گا۔ (3) اللہ اس عالم کے خاتمے کے بعد ایک دوسرا عالم بنائے گا۔ اس میں پوری نوع انسانی کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ (4) اللہ کے اس فیصلے کی رو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جو لوگ نافرمان ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ آخرت پر جن لوگوں کو یقین نہ ہو وہ قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ ان باتوں کا انکار تو درکنار اگر کسی کے دل میں ان کی طرف سے کوئی شک و شبہ اور تذبذب کی کیفیت بھی ہو تو وہ اس راستے پر نہیں چل سکتا جو انسانی زندگی کے لئے قرآن نے تجویز کیا ہے۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔

[6] قبولیت حق کے لحاظ سے یہ انسانوں کی پہلی قسم ہوئی۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جن لوگوں نے (ان باتوں کو ماننے سے) انکار کیا ان کے حق میں یکساں ہے کہ تم ان کو (انکار حق کے نتائج سے) ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ (کبھی) ایمان نہ لائیں گے

[7] یہ انسانوں کی دوسری قسم ہے جو قبولیت حق کے لحاظ سے پہلی قسم کی ضد ہے اس سے مراد مشرکین و اہل کتاب کے وہ لوگ ہیں جو حق کو اچھی طرح پہچان لینے کے بعد اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
Ayahs 2:7–9

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ہرگز مومن نہیں۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنے نزدیک) اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں اور حقیقت میں دھوکا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور (اس بات کو) نہیں سمجھتے۔

[8] اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی اس لئے انہوں نے نافرمانی کی راہ اختیار کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ اختیار کرلیا تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اللہ نے انسان کو نیکی و بدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی اس کو اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ اگر وہ نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے اور اگر وہ بدی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ یہ رنگ اس پر اس قدر غالب ہوجاتا ہے کہ پھر اس کے اندر نیکی کی رمق باقی ہی نہیں رہتی۔ یہی مقام ہے جہاں پہنچ کر اللہ کے قانون کے تحت آدمی کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ اور کیونکہ مہر لگانے کا قانون اللہ ہی کا بنایا ہوا ہے اس لئے اس قانون کے تحت مہر لگنے کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اس طرح کی مثالیں قرآن میں متعدد مقامات پر ملیں گی جہاں اللہ نے بعض افعال اپنی طرف منسوب کئے ہیں لیکن ان سے مقصود ان افعال کی نسبت نہیں ہے بلکہ ان قوانین کی نسبت ہے جن کے تحت وہ افعال واقع ہوتے ہیں۔
Ayahs 2:10–13

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں بیماری ہے سو اللہ نے ان کی بیماری بڑھا دی ہے، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو (تو) کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

یاد رکھو یہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح (اور) لوگ ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح احمق ایمان لائے ہیں ؟ یاد رکھو (حقیقت میں) یہی لوگ احمق ہیں لیکن نہیں جانتے۔

[9] یہ انسانوں کی تیسری قسم ہے یعنی منافقین جو باطن میں کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ یہاں بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے۔ ان کے نفاق سے نقصان کسی اور کا نہیں ان ہی کا ہے، یعنی دنیا میں رسوائی اور فضیحت اور آخرت میں عذاب۔ اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ منافق کو اللہ فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اسے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور منافق اور زیادہ منافق بنتا چلا جاتا ہے۔
Ayahs 2:14–16

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لا چکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (بھی تو) ایمان لا چکے ہیں۔ اور جب تنہائی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو صرف (مسلمانوں کو) بناتے ہیں۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ انہیں بناتا ہے اور ان کو ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی۔ سو نہ تو ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی اور نہ ہوئے وہ راہ پانے والے۔

[10] شیطان کے معنی شریر و سرکش کے ہیں۔ یہ لفظ جنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ان انسانوں کے لئے بھی جو اس خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہاں شیطانوں سے مراد یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔ [11] اردو کے محاورے میں بنانے کے معنی احمق بنانا ہے۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی اور پھر جب آگ نے اس کے ارد گرد کو روشن کردیا تو اللہ نے اس کا نور (بصارت) سلب کرلیا اور اس کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ (اب) اسے کچھ نہیں سوجھتا۔

[12] یعنی جب پیغمبر نے نور ایمان پھیلایا تو اہل بصیرت پر تو ساری حقیقتیں روشن ہوگئیں مگر منافق جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں۔

[13] حق بات سننے کے لئے بہرے، حق گوئی کے لئے گونگے، حق بینی کے لئے اندھے۔ [14] یعنی باطل سے حق کی طرف اور کفر سے ایمان کی طرف نہ پلٹیں گے۔
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا (پھر ان کی مثال ایسی ہے) جیسے آسمانی بارش کہ اس میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی۔ وہ کڑک کے سبب (اور) موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

[15] یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے سے وہ ہلاکت سے بچ جائیں گے لیکن بچ نہیں سکتے کیونکہ اللہ انہیں گھیرے ہوئے ہے۔
Ayahs 2:20–21

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہوں کو اچک لے جائے، وہ جب ان کے آگے چمکتی ہے تو اس (کی روشنی) میں کچھ (دور) چل لیتے ہیں۔ پھر جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ( کے کھڑے) رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی بصارت اور سماعت سلب کرلیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو، عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان سب کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

[16] پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو اسلام کے قطعی منکر تھے۔ اور کسی فائدے کی خاطر مسلمان بن گئے تھے۔ اور دوسری مثال ان منافقین کی ہے جو شک اور تذبذب میں مبتلا تھے۔ کچھ حق کے قائل بھی تھے مگر ایسے بھی نہیں کہ اس کی خاطر تکلیف اٹھائیں اور مصیبت برداشت کریں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے یہ منافقین جب اسلام کی مادی کامیابیاں دیکھتے ہیں تو ان کے قدم اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور جب مشکلات کے بادل چھا جاتے ہیں تو یہ ٹھٹھک کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ [17] یعنی اللہ اگر چاہتا تو ان کی بینائی سلب کرلیتا جس طرح پہلی قسم کے منافقین کی بصارت اس نے سلب کرلی۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ جو کسی حد تک دیکھنا چاہتا ہو اسے اتنا بھی دیکھنے نہ دے۔ چناچہ جس قدر حق دیکھنے کے لئے وہ تیار تھے اسی قدر بینائی اللہ نے ان کے پاس رہنے دی۔
Ayahs 2:22–23

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

( وہی تو ہے) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنادیا اور آسمان سے پانی اتارا اور اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ پس (جب) تم (یہ بات) جانتے (بوجھتے) ہو تو (دوسروں کو) اللہ کا ہمسر نہ ٹھہراؤ۔

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم اس (کتاب کی سچائی کے بارے میں) شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے تو کوئی ایک سورت ہی اس جیسی تم بھی بنا لاؤ اور اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے مقابلے میں بلا لو اگر تم سچے ہو۔

[18] یعنی جب تم اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی کرنے والا نہیں تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناؤ۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

پھر اگر تم یہ نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (اور وہ) کافروں کے لئے تیار ہوئی ہے۔

[19] یعنی تمہارے ساتھ بت بھی دوزخ کا ایندھن بنیں گے یعنی وہاں صرف تم ہی دوزخ کا ایندھن نہ بنو گے بلکہ وہ بت بھی تمہارے موجود ہوں گے جنہیں تم نے اپنا معبود و مسجود بنا رکھا ہے، ان کو دوزخ میں پھینکنے سے مقصود دراصل ان کو عذاب دینا نہیں بلکہ ان کے پرستاروں کے عذاب میں اضافہ کرنا ہوگا، اس طرح ان کے پرستاروں کو دکھایا جائے گا کہ جن کی تم پرستش کیا کرتے تھے، ان کی یہاں کیا گت بن رہی ہے۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جب وہاں کا کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو پہلے بھی (کھانے کے لئے) مل چکا ہے اور (یہ اس لئے کہیں گے کہ) ان کے مشابہ پہلے (دنیا میں) ان کو ملے ہوں گے۔ ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

[20] یعنی شکل میں ان پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے۔ البتہ لذت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے۔ اور جنتی انہیں کھا کر زیادہ خوش ہوں گے۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کسی مثال کے بیان کرنے میں (ذرا بھی) نہیں شرماتا (چاہے وہ مثال) مچھر کی ہو یا اس سے بھی بڑھ کر (کسی اور حقیر چیز کی) جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ تو سمجھتے ہیں کہ یہ مثال بالکل ٹھیک ہے (اور) ان کے رب (ہی) کی طرف سے (ہے) ۔ اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ (سن کر) کہتے ہیں کہ اللہ کا اس مثال سے کیا مطلب تھا۔ ایسی مثال سے اللہ بہتیروں کو گمراہ کرتا ہے اور ایسی ہی مثال سے بہتیروں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے گمراہ کرتا (بھی) ہے تو صرف فاسقوں کو

[21] قرآن میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے جا بجا مچھر، مکھی، مکڑی وغیرہ کی تمثیلات ہیں۔ اس قسم کی آیات سن کر مخالفین اسلام اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا کلام الٰہی ہے جس میں حقیر چیزوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔ [22] فاسق وہ ہے جو دائرہ اطاعت سے باہر نکل جائے یعنی نافرمان۔ فسق کے اصل معنی خروج کے ہیں، قرآن میں یہ لفظ معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے مختلف مدارج ہوسکتے ہیں، منکر چھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور بڑا بھی۔ اسی طرح نافرمانی معمولی درجے کی بھی ہوسکتی ہے اور بغاوت کے درجے کی بھی۔ چناچہ قرآن میں یہ لفظ معمولی نافرمانی سے لے کر کفر و بغاوت تک سب کے لئے استعمال ہوا ہے بلکہ زیادہ تر اس کا استعمال ان بڑی نافرمانیوں ہی کے لئے ہوا ہے جن کے ساتھ ایمان جمع نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 2:27–29

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن (تعلقات) کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ (آخرکار) نقصان اٹھائیں گے۔

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(لوگو، ) کس طرح تم اللہ کا انکار کرسکتے ہو حالانکہ (پہلے) تم بےجان تھے تو اس نے تم میں جان ڈالی پھر (وہی) تم کو مارتا ہے، پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) زندہ کرے گا، پھر اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں، پھر وہ آسمان (کے بنانے) کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

[23] اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کی رو سے تمام انسانوں پر اس کی بندگی عائد ہوتی ہے اور مضبوط باندھ لینے سے اشارہ '' عہدالست '' کی طرف ہے جو روز ازل تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا لیا گیا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 172 صفحہ 273۔ [24] جن تمدنی و معاشرتی روابط و تعلقات پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جسے درست رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے انہیں یہ لوگ کاٹتے ہیں۔ [25] قرآن کی اصطلاح میں زمین میں فساد برپا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کا نظم و نسق اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق چلانے کی بجائے اس کو من مانے طریقے پر چلایا جائے۔ اس زمین کا اصلی حکمران اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کی حیثیت اس کے نائب کی سی ہے لہذا زمین کے امن کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس میں اللہ کا ہی قانون چلے۔ اگر اس کے کسی حصے میں اللہ کا قانون نافذ نہیں ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اس حصے میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے اور یہ چیز پوری زمین کے لئے خطرہ ہے۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ '' میں زمین میں (اپنا) ایک نائب بنانے والا ہوں '' (تو فرشتے) بولے، '' کیا تو زمین میں ایسے شخص کو (نائب) بنانا چاہتا ہے جو اس میں فساد برپا کرے اور خونریزیاں کرے ؟ تیری حمد (و ثنا) کے ساتھ تیری تسبیح و تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ''۔ ( اللہ تعالیٰ نے) فرمایا، '' میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ''۔

[26] تسبیح کے معنی پاکی بیان کرنا اور سرگرمی کے ساتھ کام کرنا۔ تقدیس کے معنی ہیں، تقدس کا اظہار اور پاکی بیان کرنا۔
Ayahs 2:31–33

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

(اس کے بعد اللہ نے) آدم کو سب (چیزوں) کے نام بتا دیئے پھر ان (چیزوں) کو فرشتوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا '' ہم کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو ''۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

وہ بولے، تو پاک (ذات) ہے جو تو نے ہم کو بتادیا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بیشک تو ہی علم والا (اور) حکمت والا ہے۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

(پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو) حکم دیا کہ '' اے آدم، تم فرشتوں کو ان (چیزوں) کے نام بتادو ''۔ پھر جب آدم نے فرشتوں کو ان (چیزوں) کے نام بتا دیئے تو ( اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف مخاطب ہو کر) فرمایا، '' کیا ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں کی اور زمین کی (سب) پوشیدہ چیزیں ہم کو معلوم ہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو اسے بھی ہم جانتے ہیں ؟ ''۔

[27] اشیاء کا علم انسان کو ان کے ناموں کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ آدم کو سب چیزوں کے نام بتانا گویا ان کو تمام اشیاء کا علم دینا تھا۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر میں آگیا اور نافرمانوں میں سے ہوگیا۔

[28] ابلیس کے معنی ہیں انتہائی مایوس۔ یہ کوئی فرشتہ نہ تھا بلکہ جن تھا اسی کو شیطان بھی کہا جاتا ہے۔ فرشتوں کو آدم کے آگے سجدہ کروانے کے معنی یہ تھے کہ وہ تمام مخلوق بھی آدم کی تعظیم کرے جو فرشتوں کے زیر انتظام تھی۔ اس مخلوق میں سے صرف ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

پھر ہم نے آدم سے کہا، '' (اے آدم) تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور اس میں جہاں کہیں سے تمہارا جی چاہے با فراغت کھاؤ (پیو) مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم ظالموں میں (شمار) ہوگے ''۔

[29] ظلم حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ اللہ کی نافرمانی سے تین بنیادی حقوق تلف ہوتے ہیں۔ اول اللہ کا حق کیونکہ وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے۔ دوم ان تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ چاہے وہ اس کے اپنے اعضاء ہوں یا دوسرے انسان اور اشیاء ان کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف اللہ کی ہی مرضی کے مطابق ان کو استعمال کرے مگر جب اس کی مرضی کے خلاف ان کو استعمال کیا تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ سوم خود اپنا حق کیونکہ اس پر اس کی ذات کا یہ حق ہے کہ اسے تباہی سے بچائے مگر اللہ کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بناتا ہے تو دراصل اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر (ایسا ہوا کہ) شیطان ان کو (بہلا پھسلا کر) جنت سے ہٹا لے گیا اور جس (مزے) میں تھے اس سے ان کو نکلوا چھوڑا۔ اور ہم نے حکم دیا (تم سب یہاں سے) اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور (اب) زمین میں تمہارے لئے ایک (خاص) مدت تک ٹھکانا اور سامان (زیست) ہے۔

[30] یعنی جنت سے اتر جاؤ۔ خطاب محض آدم اور حوا سے نہیں بلکہ ابلیس سے بھی ہے، اسی لئے خطاب میں صیغہ تثنیہ کا نہیں جمع کا ہے۔ [31] دنیا میں انسان بھی انسان کا دشمن ہے لیکن اصل دشمنی تو ذریت آدم سے ذریت ابلیس کو ہے۔ انسانوں کے درمیان بھی اگر دشمنی و عداوت ہوتی ہے تو وہ بھی شیطان کی کوششوں سے ہوتی ہے ورنہ اولاد آدم کے اندر فطری ربط وتعلق دراصل اخوت و محبت کا ہے۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے رب سے (معذرت کے) کچھ کلمات سیکھ لئے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

[32] توبہ کے معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ نافرمانی سے باز آگیا اور اطاعت کی طرف پلٹ آیا اور اللہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار بندے کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگیا۔
Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا کہ تم سب (کے سب) یہاں سے اتر جاؤ پھر اگر تمہیں ہماری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو لوگ ہماری ہدایت کی پیروی کریں گے ان پر (آخرت میں) نہ تو (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ نافرمانی کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہی دوزخی ہوں گے (اور) وہ ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ میں رہیں گے۔

[33] یہ حکم دوسری مرتبہ بطور سزا و عتاب کے نہیں مل رہا ہے اس لئے کہ خطا تو معاف ہوچکی ہے بلکہ یہ نتیجہ ہے شجر ممنوع کا پھل کھا لینے کا، اس کے طبعی اثرات کی بنا پر اب جنت میں قیام کی گنجائش نہ تھی۔
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ہمارے وہ احسانات یاد کرو جو ہم تم پر کرچکے ہیں اور اس عہد کو پورا کرو جو (تم نے) ہم سے کیا ہے ہم اس عہد کو پورا کریں گے جو (ہم نے) تم سے کیا ہے اور ہم ہی سے ڈرتے رہو۔

[34] بنی اسرائیل کے لفظی معنی ہیں اسرائیل کے بیٹے۔ اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ یہ یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا اور بنی اسرائیل یعنی یہود نسل یعقوب ٹھہرے۔ مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار میں یہودیوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ اس لئے ان کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ [35] یعنی اطاعت الٰہی و اطاعت انبیاء کا عہد۔ [36] یعنی دنیوی و اخروی فوزو فلاح سے ہمکنار کرنے کا عہد۔