2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:80–82

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ گنتی کے چند روز کے سوا دوزخ کی آگ ہم کو نہ چھوئے گی (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ کیا تم نے اللہ سے اقرار لے لیا ہے کہ اللہ اپنے اقرار کے خلاف کچھ نہیں کرے گا، یا بےجانے بوجھے اللہ پر جھوٹ بولتے ہو ؟

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

البتہ جس کسی نے بھی (اپنے اعمال سے) برائی کمائی اور اس کے گناہوں نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں (اور) وہ ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ ہی میں رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو ایسے ہی لوگ جنتی ہیں (اور) وہ ہمیشہ (ہمیشہ) جنت ہی میں رہیں گے۔

[57] یعنی ہماری امت اللہ کے نزدیک نجات یافتہ امت ہے اگر ہم آگ میں ڈالے بھی جائیں گے تو اس لئے نہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے بلکہ صرف چند دنوں کے لئے تاکہ گناہ کے میل کچیل سے پاک ہو کر جنت میں داخل ہوں۔
Ayahs 2:83–86

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، اور والدین سے حسن سلوک (کے ساتھ پیش آنا) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ (نیک برتاؤ کرنا) اور لوگوں سے بھلی بات کہنا، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا۔ پھر تم میں سے ایک قلیل تعداد کے سوا سب نے (ان احکام سے) روگردانی کی اور تم لوگ (کچھ) ہو (ہی) روگردان۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور نہ اپنی بستیوں سے اپنے لوگوں کو جلا وطن کرنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا تھا اور تم (اب بھی یہ بات) تسلیم کرتے ہو۔

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکال بھی دیتے ہو، ظلم اور زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو اور اگر وہ قید ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں تو تم ان کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو حالانکہ (سرے سے) ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ تو کیا کتاب (الٰہی) کی بعض باتوں کو تم مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے ؟ پھر جو لوگ تم میں سے ایسا کریں ان کا اس کے سوا اور کیا بدلہ ہوسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں (ان کی ذلت و) رسوائی ہو اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں اور جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی سو (قیامت کے دن) نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ (کہیں سے) ان کو مدد ہی پہنچے گی۔

[58] یعنی تمہارے بڑوں سے۔
Ayahs 2:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اور اس کے بعد پے در پے (اور) رسول بھیجے اور (بالآخر) عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر (بھیجا) اور روح القدس سے اس کی مدد کی۔ پھر جب تمہارے پاس کوئی رسول تمہاری اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی حکم لے کر آیا تو تم اکڑ بیٹھے پھر بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف (چڑھے ہوئے) ہیں (اور دعوت اسلام ہمارے اوپر کچھ اثر نہیں کرسکتی۔ یہ بات نہیں) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کو پھٹکار دیا ہے پس کم ہی یہ ایمان لاتے ہیں۔

[59] روح القدس۔ اسلامی اصطلاح میں مشہور و مقربِ الٰہی فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کہتے ہیں۔ [60] یعنی وحی کے ذریعہ سے جو جبرائیل لاتے تھے۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور اب جو اللہ کی طرف سے ایک کتاب ان کے پاس آئی ہے (اور وہ) اس (کتاب تورات) کی جو ان کے پاس ہے تصدیق بھی کرتی ہے اور اس سے پہلے (اس توقع پر) کافروں کے مقابلے میں یہ (اپنی) فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے تو جب وہی جانی بوجھی ہوئی (بات) سامنے آگئی تو لگے اس سے انکار کرنے۔ پس منکروں پر اللہ کی پھٹکار !

[61] نبی ﷺ سے پہلے یہودی بےچینی کے ساتھ اس نبی کے منتظر تھے جس کی پیشین گوئی تورات میں کی گئی تھی اور مشرکین کے مقابلے میں دعائیں مانگا کرتے تھے کہ جلد وہ نبی آئے تاکہ ہم اس کی تائید سے مشرکین پر غالب ہوں۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

کیا ہی بری چیز ہے جس کے بدلے ان لوگوں نے اپنی جانوں کا سودا کرلیا ہے کہ انکار کر رہے ہیں اس (کتاب) کا جو اللہ نے اتاری ہے (محض) اس ضد کی بنا پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنا فضل نازل کردیا لہذا وہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے۔ پس کافروں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

[62] یعنی وحی و رسالت۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ اس سے انکار کرتے ہیں حالانکہ یہ (قرآن) خود (بھی) حق ہے (اور) اس (کتاب) کی بھی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے۔ (اے پیغمبر، ان سے یہ تو) پوچھو کہ بھلا اگر تم (اپنی کتاب پر) ایمان رکھنے والے ہو تو اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے ؟

[63] یعنی قرآن۔
Ayahs 2:92–95

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

تمہارے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آئے (لیکن) پھر تم ان کے بعد بچھڑے کو (پرستش کے لئے) لے بیٹھے اور (حقیقت یہ ہے کہ) تم ظالم ہو۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا تھا اور (کوہ) طور کو تمہارے اوپر بلند کیا تھا (اور حکم دیا تھا کہ یہ کتاب تورات) جو ہم نے تم کو دی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور (توجہ سے) سنو۔ بولے، ہم نے سنا تو سہی مگر (دل میں کہا) مانیں گے نہیں اور ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑا ان کے دلوں میں بسا ہوا تھا۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو (کیسی) بری ہے وہ بات جس کا حکم تمہارا ایمان تمہیں دے رہا ہے اگر تم (واقعی) ایمان والے ہو !

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ اگر (تم کہتے ہو کہ) اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر صرف تمہارے ہی لئے ہے، دوسروں کے لئے نہیں اور تم (اس دعویٰ میں) سچے ہو تو (پھر) مرنے کی آرزو کرو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

مگر ان (اعمال بد) کی وجہ سے جن کو ان کے ہاتھوں نے پہلے سے (زاد آخرت بنا کر) بھیجا ہے یہ کبھی موت کی آرزو نہ کریں گے اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

[64] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
Ayahs 2:96–97

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم انہیں سب لوگوں سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے یہاں تک کہ مشرکین سے بڑھ کر بھی۔ ان میں سے ایک ایک چاہتا ہے کہ کاش اس کی عمر ہزار برس کی ہو حالانکہ درازی عمر اس کو عذاب سے دور تو نہیں کرسکتی۔ اور جو کچھ بھی یہ لوگ کر رہے ہیں اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ جو کوئی جبرائیل سے عداوت رکھتا ہو (وہ جان لے کہ) اسی (فرشتہ) نے اللہ کے اذن سے یہ (قرآن) تمہارے قلب پر نازل کیا ہے (جو) ان (کتابوں) کی بھی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے (موجود) ہیں اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔

[65] مطلب یہ کہ مشرک جو قیامت کو نہیں مانتے ان کا دنیا کی زندگی پر حریص ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ ان کے نزدیک جو کچھ ہے یہی دنیا ہے۔ تعجب ان لوگوں پر ہے کہ قیامت کے بھی قائل ہیں اور پھر دنیا کی زندگی پر بھی حریص ہیں۔
Ayahs 2:98–100

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص اللہ کا دشمن ہو اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو اللہ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تمہارے پاس روشن آیتیں نازل کی ہیں اور ان سے کوئی (بھی) انکار نہیں کرتا بجز فاسقوں کے

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا (ایسا نہیں ہے کہ) جب کبھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے کسی نہ کسی گروہ نے اسے توڑ پھینکا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر تو ایمان ہی نہیں لاتے۔

[66] ایک مقرب فرشتے کا نام جن کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش کا انتظام ہے۔ تورات میں ان کا ذکر بڑے تعظیمی لہجہ میں موجود ہے۔ یہود ان کو اپنا قومی محافظ سمجھتے تھے۔ [67] تورات میں جبرائیل کے ہاتھوں عذاب کا نازل ہونا بھی مذکور تھا اسی وجہ سے یہودی جبرائیل سے خوش نہ تھے اور ان کو گالیاں دیتے تھے اور کیونکہ تمام فرشتے اللہ کے لشکر ہیں اس لئے جو ایک کا دشمن ہوا وہ دوسرے کا بھی۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس اللہ کا رسول آیا اس کتاب (تورات) کی تصدیق کرتا ہوا جو ان کے پاس ہے تو (ان) اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو ایسا پیٹھ پیچھے پھینکا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں۔

[68] اللہ کی کتاب سے مراد تورات ہے۔ یہودی قرآن اور صاحب قرآن کی مخالفت کی دھن میں اپنی کتاب تورات تک سے بےپروا ہوگئے تھے جس میں نبی آخرالزماں ﷺ کی بابت پیش گوئیاں، ان کی علامتیں اور ان پر ایمان لانے کی تاکید درج تھی۔
Ayahs 2:102–103

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے جن کو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، البتہ شیاطین (ہی) کفر کیا کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔ اور (اس کے علاوہ وہ لوگ اس علم کے پیچھے پڑے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا، اور وہ دونوں کسی کو بھی (یہ فن) نہ بتاتے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں سو تم کہیں کفر میں مبتلا نہ ہوجانا۔ مگر لوگ ان سے (ایسی باتیں ضرور) سیکھتے جن کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اس کے ذریعہ سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ غرض یہ لوگ (ان سے ایسی باتیں) سیکھتے جن سے (خود) ان (ہی) کو نقصان پہنچتا اور (کسی طرح کا بھی) فائدہ نہ پہنچتا، باوجودیکہ وہ جان چکے تھے کہ جو شخص اس چیز کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (کتنی) بری (چیز) تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ کاش ان کو (اتنی) سمجھ ہوتی !

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگار بنتے تو جو ثواب اللہ کے ہاں سے ملتا وہ (اس سے کہیں) بہتر تھا۔ کاش ان کو (اتنی) سمجھ ہوتی !

[69] اسرائیلی سلسلہ کے نامور پیغمبر ایک عظیم اور پرشوکت سلطنت کے بادشاہ۔ [70] عراق کا قدیم نام۔ ملک کے پایہ تخت کا نام بھی یہی تھا۔ [71] ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جو شہر بابل میں بصورت آدمی رہتے تھے۔ ان کو علم سحر معلوم تھا۔ جو کوئی طالب جاتا کہہ دیتے کہ اس سے ایمان جاتا رہے گا۔ پھر اگر وہ اصرار کرتا تو سکھا دیتے۔ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی آزمائش مقصود تھی۔
Ayahs 2:104–105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو '' راعنا '' مت کہا کرو بلکہ '' انظرنا '' کہو اور (توجہ سے) سنتے رہا کرو اور (یاد رکھو کہ) کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں (خواہ) اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے وہ (ذرا بھی) پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑا فضل (رکھنے) والا ہے۔

[72] یہودی از راہ شرارت رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آ کر '' راعنا '' سے آپ کو مخاطب کرتے جس کے معنی عبرانی زبان میں برے کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی ہیں کہ ہماری رعایت کیجئے۔ مسلمان اس شرارت سے بیخبر خود بھی یہ لفظ بولنے لگتے۔ اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے '' انظرنا '' کہا کرو جس کے معنی ہیں ہماری طرف توجہ فرمایئے۔
Ayahs 2:106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی دوسری لے آتے ہیں کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ؟

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا یارو مددگار نہیں ؟

[73] یہودیوں کا اعتراض یہ تھا کہ اگر پچھلی کتابیں بھی اللہ نے نازل فرمائیں اور قرآن بھی اسی کا نازل کردہ ہے تو ان کتابوں کے بعض احکام کی جگہ قرآن میں دوسرے احکام کیوں دیئے گئے ہیں ؟ یہاں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

(مسلمانو، ) کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے بھی (ویسے ہی) سوالات کرو جیسے سوالات (اب سے) پہلے موسیٰ سے کئے جا چکے ہیں ؟ اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے تو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔

[74] یہودی موسیٰ (علیہ السلام) سے گستاخانہ اور بےہودہ سوالات کیا کرتے تھے۔ اس طرح کے سوالات وہ مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور انہیں رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے پر اکساتے۔ یہاں مسلمانوں کو یہودیوں کی روش اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

(مسلمانو) بہت سے اہل کتاب باوجودیکہ ان پر حق ظاہر ہوچکا ہے (پھر بھی) اپنے دلی حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا دیں۔ پس تم عفو اور درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم صادر کردے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[75] حکم سے مراد جہاد و قتال کی اجازت ہے۔
Ayahs 2:110–112

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیجو گے اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ بیشک جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور (یہود) کہتے ہیں کہ یہود (کے سوا) اور نصاریٰ (کہتے ہیں کہ نصاریٰ ) کے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ یہ ان کی (نری) آرزوئیں ہیں۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں البتہ جس کسی نے بھی اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیا اور وہ نیکوکار بھی ہے تو اس کے لئے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں پر نہ (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

[76] یعنی اس کے اجر وثواب کو پالو گے۔ یہ مراد نہیں کہ بعینہ وہ عمل موجود ملے گا۔
Ayahs 2:113–118

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر، اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی نہیں کسی راہ پر، حالانکہ وہ (دونوں) کتاب (الٰہی) کے پڑھنے والے ہیں۔ اور اسی طرح کی باتیں وہ لوگ بھی کہنے لگے جو ( اللہ کے حکم احکام کچھ بھی) نہیں جانتے۔ سو قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان اس کا فیصلہ کر دے گا جس بات میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کی یاد سے منع کرے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو ؟ ایسے لوگ اس لائق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے (ڈرتے) ۔ ان کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور آخرت میں (بھی) بڑا بھاری عذاب ہے۔

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے ہیں مشرق و مغرب، تو جس طرف بھی تم رخ کرو گے ادھر ہی اللہ کا رخ ہے۔ بیشک اللہ بڑی وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے (حالانکہ) وہ (اس بکھیڑے سے) پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور سب اس کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا وہی موجد ہے، اور جب کسی کام کا کرنا وہ ٹھان لیتا ہے تو اس کی نسبت حکم دیتا ہے کہ '' ہوجا '' اور وہ ہوجاتا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

(مشرکین عرب) جو (کلام الٰہی کا) علم نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اللہ (خود) ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی ؟ ان ہی جیسی باتیں وہ لوگ بھی کہا کرتے تھے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان سب کے دل (کچھ) ایک ہی طرح کے ہیں۔ جو لوگ یقین لانے والے ہیں ان کو تو ہم (اپنی) نشانیاں صاف طور پر دکھا چکے ہیں۔

[77] یہودیوں نے تورات پڑھ کر سمجھ لیا کہ جب نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا تو بیشک وہ کافر ہوگئے۔ اور نصاریٰ نے انجیل میں صاف دیکھ لیا کہ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ [78] یعنی مشرکین عرب کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔