2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:238–242

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

(مسلمانو) اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو اور (خصوصاً ) بیچ والی نماز کی اور اللہ کے آگے عاجز بنے ہوئے کھڑے ہوا کرو۔

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تمہیں (دشمن کا) ڈر ہو تو پیدل ہو یا سوار، (جس حالت میں بھی ہو اور جس طرح بھی بن پڑے نماز پڑھ لو) پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو اللہ کو یاد کیا کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھا دیا ہے (اور) جس کو تم پہلے جانتے نہ تھے۔

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان کو چاہئے کہ) اپنی بیویوں کے حق میں ایک برس تک نان و نفقہ (دینے کی) اور (گھر سے) نہ نکالے جانے کی وصیت کر جائیں۔ پھر اگر وہ (اس مدت سے پہلے) خود نکل جائیں تو اپنی ذات کے معاملے میں جو کچھ وہ جائز طریقے پر کریں اس کے لئے تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور (یاد رکھو کہ) اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور (اسی طرح) جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

[166] یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ نیز اولاد و ازواج کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر فرمانا اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الٰہی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔ [167] یعنی نماز عصر کہ یہ وقت دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کا ہے۔ اسی وجہ سے اس نماز کی بڑی تاکید اور بڑی فضیلت ہے۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جو اپنے گھروں سے موت کے ڈر کے مارے نکل کھڑے ہوئے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ، پھر اللہ نے ان کو زندہ کردیا۔ بیشک اللہ انسان پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اللہ کی راہ میں لڑو اور جانے رہو کہ اللہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[168] اشارہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی عبرت انگیز سرگزشت کی طرف ہے جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔
Ayahs 2:245–250

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے بڑھا چڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کردے ؟ اور اللہ ہی تنگی بھی کرتا ہے اور فراخی بھی کرتا ہے اور اسی کی طرف تم (سب) کو لوٹنا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے سرداران بنی اسرائیل (کے واقعہ) پر نظر نہیں کی جب انہوں نے موسیٰ کے بعد اپنے (عہد کے) پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ (پیغمبر نے) کہا اگر تم پر جنگ فرض کردی جائے تو تم سے کچھ بعید نہیں کہ تم نہ لڑو۔ وہ بولے کہ ہم اپنے گھروں اور اپنے بال بچوں سے تو نکالے جا چکے ہیں تو اب ہمارے لئے کون سا عذر ہے کہ اللہ کی راہ میں نہ لڑیں۔ پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو ان میں سے ایک قلیل تعداد کے سوا باقی سب پھرگئے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔ (اس پر) انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پر کیونکر حکومت مل سکتی ہے حالانکہ ہم اس سے بڑھ کر حکومت کے مستحق ہیں کہ اس کو تو مال (و دولت) میں بھی کوئی وسعت نہیں دی گئی ہے۔ (پیغمبر نے) کہا کہ اللہ نے تم پر (حکمرانی کے لئے) اسی کو منتخب کیا ہے اور علم و جسم (دونوں) میں اسے (بڑی) فراخی دی ہے اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہے دے اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور (اس کے ساتھ ہی) ان کے پیغمبر نے ان کو یہ بھی بتایا کہ طالوت کے (من جانب اللہ) بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے (سامان) تسکین ہے اور جو (یادگاریں) آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں۔ اس (صندوق) کو فرشتے لے آئیں گے۔ اگر تم مومن ہو تو یہی ایک نشانی تمہارے لئے (کافی) ہے۔

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت فوجوں سمیت (اپنے مقام سے) روانہ ہوا تو اس نے (اپنے ہمراہیوں سے) کہا کہ اللہ ایک نہر (کے ذریعہ) سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے تو جو کوئی (سیر ہو کر) اس (نہر) کا پانی پی لے گا وہ ہمارا (آدمی) نہیں اور جو اس کو نہیں پئے گا وہ ہمارا (آدمی) ہے مگر (ہاں) اپنے ہاتھ سے ایک (آدھ) چلو بھر (کر پی) لے (تو کوئی مضائقہ نہیں) ۔ مگر ایک قلیل تعداد کے سوا سبھی نے اس (نہر) میں سے (سیر ہو کر) پی لیا۔ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مومنین نہر کے پار ہوگئے تو انہوں نے (طالوت سے) کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ (اس پر) وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ ان کو (ایک دن) اللہ سے ملنا ہے بول اٹھے کہ بارہا چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غالب آئی ہے اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلے پر نکلے تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم پر صبر کا فیضان فرما اور ہمارے قدم (میدان جنگ میں) جما دے اور کافروں کی جماعت پر ہم کو فتح دے۔

[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔
Ayahs 2:251–252

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

آخرکار انہوں نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو شکست دی اور جالوت کو داؤد نے قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا کی اور جو کچھ چاہا اسے سکھا دیا، اور اگر اللہ بعض لوگوں کے ذریعے سے بعض کو نہ ہٹاتا رہتا تو (روئے) زمین پر فساد پھیل جاتا لیکن اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے۔

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور یقینا تم پیغمبروں میں سے ہو۔

[170] داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے دوسرے بادشاہ ہیں۔ پہلے بادشاہ طالوت تھے۔ آپ انہی کے داماد تھے۔ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے آپ کو بادشاہ منتخب کیا۔ سلیمان (علیہ السلام) آپ ہی کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔
Ayahs 2:253–254

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

ان پیغمبروں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے کوئی تو ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے کلام کیا، اور بعض کے درجے (اور طرح پر) بلند کئے، اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو روشن دلیلیں عطا کیں، اور روح القدس (جبریل) سے اس کی مدد کی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے لوگ آپس میں نہ لڑتے بعد اس کے کہ ان کے پاس (ہدایت کی) روشن تعلیمات پہنچ چکی تھیں لیکن انہوں نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا، پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کوئی کافر رہا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ (قیامت کا) دن آجائے جس میں نہ (خریدو) فروخت ہوگی، نہ دوستی (کام آئے گی) اور نہ سفارش (چلے گی) اور (اس حقیقت سے) انکار کرنے والے ہی ظالم ہیں۔

[171] یعنی اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ ان کو جبرا ً اختلاف سے روکے۔ اس کی حکمت نے انسان کو اعتقاد و عمل کی آزادی دی ہے وہ چاہے تو ہدایت کو تسلیم کرے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجی ہے یا اس کا انکار کر دے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ حی ّ وقیوم ہے ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی جناب میں (کسی کی) سفارش کرسکے ؟ جو کچھ لوگوں کو پیش (آ رہا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ سب) اس کو معلوم ہے۔ لوگ اس کے علم میں سے کسی بات کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے۔ اِلّا یہ کہ جتنا وہ (خود ہی کسی کو دینا) چاہے۔ اس کا اقتدار (حکومت) آسمانوں اور زمین کی تمام وسعتوں پر چھایا ہوا ہے اور ان کی نگرانی اس کے لئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے اور وہ بلند مرتبہ (اور) عظمت والا ہے۔

[172] '' حی '' یعنی وہ زندہ ہے اور اس کی زندگی کو فنا وزوال نہیں۔ '' قیوم '' یعنی ہر چیز اس کے حکم سے قائم ہے اور وہ اپنے قیام کے لئے کسی کا محتاج نہیں۔ [173] اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مکمل معرفت بیان کی گئی ہے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ اس بنا پر احادیث میں اس کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں اور اسے قرآن کی افضل ترین آیت قرار دیا گیا ہے۔
Ayahs 2:256–257

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (کے بارے) میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے۔ ہدایت (کی راہ) گمراہی سے الگ کردی گئی ہے، پھر جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو ایمان لائے، وہ ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کے حمایتی طاغوت ہیں، وہ ان کو (ایمان کی) روشنی سے نکال کر (کفر کی) تاریکیوں میں لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں، ہمیشہ (ہمیشہ) اس میں رہیں گے۔

[174] دین کا تعلق دل کے اعتقاد سے ہے اس لئے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ [175] یعنی اب دونوں راہیں لوگوں کے سامنے ہیں، جسے چاہیں اختیار کریں۔ [176] قرآن کی اصطلاح میں طاغوت اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کی بندگی و اطاعت سے نکل جائے اور لوگوں سے اپنی بندگی اور اطاعت کرائے یا اللہ کے حکم کی جگہ اپنا حکم نافذ کرے۔
Ayahs 2:258–259

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر نظر نہیں کی جو صرف اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کو سلطنت دے رکھی تھی (گھمنڈ میں آ کر) ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں حجت کرنے لگا۔ جب ابراہیم نے (اس سے) کہا کہ '' میرا رب تو وہ ہے جو لوگوں کو زندہ کرتا اور مارتا ہے '' تو اس نے جواب دیا کہ '' میں (بھی) زندہ کرتا اور مارتا ہوں ' ابراہیم نے کہا '' (اچھا) اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو اسے مغرب سے نکال لا '' (یہ سن کر) وہ کافر ہکا بکا ہو کر رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا پھر مثال کے طور پر (اس شخص (یعنی عزیر) کے حال پر بھی غور کرو) جو ایک (ایسی) بستی پر سے (ہو کر) گزرا تھا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ (یہ حال دیکھ کر) وہ بول اٹھا '' کس طرح اللہ اس (آبادی) کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا ؟ '' اس پر اللہ نے اس کو سو سال تک مردہ رکھا، پھر اسے زندہ کیا (اور) پوچھا '' تم (اس حالت میں) کتنی مدت رہے ہو ؟ '' (اس نے) کہا '' ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم ''۔ فرمایا '' (نہیں) بلکہ تم سو برس (اسی حالت میں) رہے ہو۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی پر نظر ڈالو کہ سڑا (گلا) نہیں اور اپنے گدھے کی طرف نظر کرو (کہ سوائے پنجر کے اس کا کچھ باقی نہیں) اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ تمہیں لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنادیں۔ پھر ہڈیوں کے اس پنجر کی طرف نظر کرو کہ ہم کس طرح اس کو اٹھا کر اس پر گوشت (وپوست) چڑھاتے ہیں ''۔ پھر جب اس شخص پر (حقیقت) ظاہر ہوگئی تو وہ بول اٹھا '' میں جان گیا ہوں کہ یقینا اللہ ہی ہے (جو) ہر چیز پر قادر ہے ''۔

[177] یہ حجت کرنے والا شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے وطن کا بادشاہ نمرود تھا جو رب ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی حجت اپنے رب ہونے کے دعویٰ کے بارے میں تھی۔ [178] اپنے دعوے کے ثبوت میں اس نے ایک بےگناہ شخص کو قتل کردیا اور ایک واجب القتل شخص کو چھوڑ دیا۔ اس کا یہ فعل حد درجہ احمقانہ اور ڈھٹائی پر مبنی تھا۔ کہاں موت وحیات پیدا کرنا اور کہاں قتل کرنا اور چھوڑ دینا۔
Ayahs 2:260–265

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا '' اے میرے رب، مجھے دکھلا دے کہ کس طرح تو (قیامت کے دن) مردوں کو زندہ کرے گا ''۔ فرمایا '' کیا تو ایمان نہیں رکھتا ؟ '' (ابراہیم نے) عرض کیا '' کیوں نہیں، لیکن (بس) دل کا اطمینان درکار ہے ''۔ فرمایا '' تو (اچھا) چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کرلے۔ پھر ایک ایک پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے۔ پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور خوب جان لے کہ اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی (خیرات کی) مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں پیدا ہوئیں (اور) ہر بال میں سو دانے ہوں۔ (اسی طرح) اللہ جس کو چاہتا ہے بڑھا کر عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد احسان نہیں جتاتے اور نہ (لینے والوں کو) دکھ دیتے ہیں۔ ان (کے عمل) کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور (آخرت میں) نہ تو ان پر (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

ایک اچھا بول اور (سائل کے اصرار سے) درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو۔ اور اللہ بےنیاز (اور) بردبار ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور (سائل کو) دکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس (خیرات) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان (تھی) جس پر مٹی (کی ایک تہہ جمی ہوئی) تھی۔ پھر اس پر زور کی بارش ہوئی تو (مٹی کی ساری تہہ بہ گئی اور) چٹان کو سپاٹ چھوڑ گئی۔ ایسے لوگ (اپنے نزدیک خیرات کر کے) جو (نیکی) کماتے ہیں اس سے کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں گے، اور اللہ کفران نعمت کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

(برخلاف اس کے) جو لوگ اللہ کی رضا جوئی کے لئے دل کے پورے ثبات کے ساتھ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ جو اونچی جگہ پر (واقع) ہو، اس پر زور کی بارش ہوئی تو دوگنا پھل لایا اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہوئی تو (اس کو) ہلکی پھوار (ہی کافی ہے) ۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

[179] مطلب یہ ہے کہ ایمان کے درجے تک تو یقین اب بھی حاصل ہے۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدے کے بعد اطمینان اور زیادہ ہوجائے۔ اس چیز کو اصطلاح میں عین الیقین کہتے ہیں یعنی وہ یقین جو مشاہدہ عینی سے حاصل ہوتا ہے۔
Ayahs 2:266–268

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی شخص بھی یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس میں نہریں بہہ رہی ہوں، ہر طرح کے پھل اس کو وہاں میسر ہوں اور بڑھاپے نے اس شخص کو آلیا ہو اور اس کی اولاد (ابھی) ناتواں ہو اور (اچانک) اس (باغ) پر ایک جھلستی ہوئی آندھی چل جائے اور (آناً فاناً ) وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ (اپنی) نشانیاں کھول کھول کر تمہارے لئے بیان کرتا ہے تاکہ تم (غور و) فکر کرو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ تم نے (محنت مزدوری یا تجارت سے) کمایا ہے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اس میں سے عمدہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو اور ناکارہ چیز (کے دینے) کا ارادہ بھی نہ کرنا کہ (اللہ کی راہ میں) اس میں سے دینے لگو، حالانکہ (وہی چیز اگر کوئی دوسرا تمہیں دینا چاہے تو) تم اس کو (کبھی خوش دلی سے) نہ لو گے مگر یہ کہ (دیدہ و دانستہ) اس (کے لینے) میں چشم پوشی کر جاؤ اور جان لو کہ اللہ بےنیاز اور سب خوبیوں والا ہے۔

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم کو مفلسی سے ڈراتا ہے اور بےحیائی کی ترغیب دیتا ہے مگر اللہ تمہیں اپنی طرف سے مغفرت اور فضل (و کرم) کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

[180] یعنی جس طرح ایک آدمی اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کر دے اور سمجھے کہ اس کی پیداوار بڑھاپے میں کام آئے گی لیکن جب بڑھاپا آئے تو دیکھے کہ سارا باغ جل کر ویران ہوگیا ہے ایسا ہی حال اس شخص کا ہے جو ساری عمر دکھاوے کی نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عاقبت میں کام آئیں گی لیکن جب عاقبت کا دن آئے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ساری محنت رائیگاں گئی اور کوئی چیز بھی اس کے دفتر عمل میں ایسی نہیں جو اس کے کام آسکے۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت مل گئی تو اس نے بہت بڑی بھلائی پا لی اور نصیحت تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو دانشمند ہیں۔

[181] صحیح بصیرت اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔
Ayahs 2:270–274

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور (دیکھو، خیرات کی قسم میں سے) تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا کوئی نذر مانو وہ سب اللہ کو معلوم ہے، اور (یاد رکھو کہ) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم کھلے طور پر خیرات کرو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر اس کو چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ یہ (عمل) تمہارے گناہوں کو تم سے دور کردے گا۔ اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) لوگوں کو راہ راست پر لانا تمہارے ذمے نہیں، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (اور ہدایت اسی کو دیتا ہے جو ہدایت کا طالب ہے) اور اپنے مال میں سے جو کچھ بھی (خیرات کے طور پر) تم لوگ خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے (فائدہ کے) لئے ہے۔ آخر تم اللہ ہی کی رضا جوئی کے لئے تو خرچ کرتے ہو۔ اور (اپنے) مال میں سے جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) تم خرچ کرو گے (آخرت میں) اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(خیرات تو) ان حاجت مندوں کا حق ہے جو اللہ کی راہ میں گھرے بیٹھے ہیں، انہیں یہ طاقت نہیں کہ (کسب معاش کے لئے) زمین میں دوڑ دھوپ کریں۔ ان کی خود داری کی وجہ سے ناواقف آدمی انہیں خوش حال سمجھتا ہے۔ تم ان کے چہروں سے ان کی حالت پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر نہیں مانگتے اور جو کچھ مال تم (ایسے لوگوں پر) خرچ کرو گے تو (یقین رکھو کہ) اللہ اس کا خوب جاننے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ شب و روز پوشیدہ (طور پر) اور کھلے (طور پر) اپنے مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور (قیامت میں) ان پر نہ تو (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

[281] نذر اس نفلی مالی یا بدنی عبادت کو کہتے ہیں جو آدمی اپنی کسی مراد کے پورا ہونے پر اپنے اوپر لازم کرے۔ اگر یہ مراد کسی جائز یا حلال امر کے لئے ہو تو اس کا پورا کرنا باعث ثواب ہے ورنہ بصورت دیگر ایسی نذر کا ماننا اور اس کا پورا کرنا دونوں کام گناہ کے ہیں۔
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

(مگر) جو لوگ (حاجت مندوں کی مدد کرنے کے بجائے الٹا ان سے) سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) کھڑے نہ ہو سکیں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کردیا ہو۔ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے (سود کے ناجائز ہونے سے انکار کیا اور) کہا کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے، اور سود کو حرام۔ سو جس کسی کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ (آئندہ کے لئے سود لینے سے) باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اس کا رہا۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو کوئی (اس حکم کے بعد پھر اس حرکت کا) اعادہ کرے تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ دوزخ میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

[183] اصل میں لفظ '' ربوٰ '' استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ربوٰ کہتے ہیں اصل قرضے پر زیادتی کو جو ایک قرض خواہ اپنے قرض دار سے ایک طے شدہ شرح کے مطابق اصل کے علاوہ وصول کرتا ہے۔ [184] مَس شیطانی سے مراد عربی محاورے میں جنون ہے۔ اسی محاورے کو استعمال کرتے ہوئے قرآن سود خور کو اس شخص سے تشبیہ دیتا ہے جو مخبوط الحواس ہوگیا ہو۔ [185] مطلب یہ ہے کہ مالی نفع آخر تجارت میں بھی تو ہوتا ہے پھر جب تجارت حرام نہیں تو سود حرام کیوں ہو۔ ان نافہموں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کردیا تھا کہ تجارت اور سودی کاروبار دونوں نہ اخلاقی حیثیت سے ایک جیسے ہیں نہ معاشی حیثیت سے۔ سود کی تو ایک متعین رقم بےکھٹکے ہر حال میں مہاجن کو ملتی رہتی ہے۔ برخلاف اس کے تجارت میں نفع و نقصان دونوں کے احتمالات ہوتے ہیں اور تاجر کو نقصان سے بچنے کے لئے وقت، محنت، دیانت سب کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے لیکن سودی کاروبار میں ایک شخص محض اپنا ضرورت سے زیادہ مال دے کر بلا کسی محنت و مشقت کے دوسروں کی کمائی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس کی حیثیت اس کاروباری شریک کی نہیں ہوتی جو نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے اور نفع میں جس کا حصہ نفع کے تناسب سے ہوتا ہے بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے جو بلا لحاظ نفع و نقصان اپنے طے شدہ منافع کا دعوے دار ہوتا ہے۔ پھر تجارتی معاملت شے اور اس کی قیمت کا تبادلہ ہونے کے بعد ختم ہوجاتی ہے لیکن سود کے معاملے میں مال دینے والا اپنے مال پر مسلسل منافع وصول کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو شخص اپنے کاروبار میں اپنی قابلیت، محنت، اپنا وقت اور اپنا سرمایہ کھپا رہا ہے اس کے لئے تو ایک مقرر منافع کی ضمانت نہ ہو بلکہ نقصان کا سارا خطرہ اسی کے سر ہو مگر جس نے صرف اپنا روپیہ اسے قرض دیا ہو وہ بےخطر ایک طے شدہ منافع وصول کرتا چلا جائے۔ پھر اخلاقی حیثیت سے سود کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان میں بخل، خود غرضی، شقاوت، بےرحمی اور زر پرستی کی صفات پیدا کرتا ہے اور ہمدردی اور امداد باہمی کے احساسات کو ختم کردیتا ہے۔ پس سود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے معاشرے کے لئے تباہ کن ہے۔ [186] یہاں بیان معاملے کے ظاہری اور قانونی پہلوؤں کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکم آنے سے پہلے جو سود لیا جا چکا ہے شریعت اس کی واپسی پر مجبور نہیں کرتی، باقی قلب کے تقویٰ اور تزکیہ نفس کا معاملہ اللہ پر چھوڑنا چاہئے۔