2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:119–120

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اور اے پیغمبر سب سے بڑی نشانی تو یہ ہے کہ) ہم نے تم کو دین حق دے کر (ایمان و عمل کی برکتوں کی) خوشخبری سنانے والا اور (انکار و بد عملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) نہ تو یہودی تم سے راضی ہوں گے اور نہ نصاریٰ تاوقتیکہ تم ان ہی کے مذہب کی پیروی نہ کرو۔ (اے پیغمبر، ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہی (اصلی) ہدایت ہے اور (اے پیغمبر، ) اگر اس کے بعد کہ تمہارے پاس علم آچکا ہے تم ان کی خواہشوں پر چلے تو پھر تم کو اللہ (کے غضب) سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔

[79] یعنی سب سے بڑی نشانی تو رسول اکرم ﷺ کی سیرت اور آپ کا وہ عظیم الشان کارنامہ ہے جو منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ نے انجام دیا۔ [80] یعنی آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے اور بس۔ آپ سے اس بارے میں پرسش نہ ہوگی کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ جہنم میں کیوں گئے، ایمان کیوں نہیں لائے ؟
Ayahs 2:121–123

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ وہ لوگ اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے۔ اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل، ہمارے وہ احسانات یاد کرو جو ہم نے تم پر کئے تھے، اور یہ کہ تم کو دنیا جہان کے لوگوں پر فوقیت دی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن (کے عذاب) سے ڈرو کہ کوئی شخص کسی شخص کے کچھ (بھی) کام نہ آئے گا اور نہ کسی سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا، نہ کسی کی سفارش ہی فائدہ دے گی اور نہ لوگوں کو (کہیں سے) مدد ہی پہنچ سکے گی۔

[81] یعنی جو اہل کتاب ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے وہ خود اپنی کتاب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت و صداقت کے قائل ہوجائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو ارشاد ہوا کہ ہم تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والے ہیں۔ (ابراہیم نے) عرض کیا '' اور کیا میری نسل سے بھی (یہ وعدہ ہے) ؟ '' فرمایا : ہمارا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا

[82] قرآن میں مختلف مقامات پر ان تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جن سے گزر کر ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوع انسان کا امام و راہنما بنایا جائے۔ اولوالعزم پیغمبر۔ جدِّ امجد نوح (علیہ السلام) ۔ جن سے نویں پشت میں سلسلہ نسب جا ملتا ہے۔ تورات کی رو سے آپ 2200 ق۔ م عراق کے قصبہ ار میں پیدا ہوئے۔ قرآن مجید میں آپ (علیہ السلام) کا ذکر چالیس 40 سے زیادہ مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ اور پیارے نبی کو '' امام الناس '' (البقرہ : 144) '' حنیف اور مسلم '' (آل عمران : 76 صفحہ 031) '' خلیل '' (النساء : 125 صفحہ 802) '' امت '' (النحل : 120، صفحہ 426) القاب سے یاد کیا ہے۔ اکثر انبیاء کرام آپ ہی کی اولاد میں سے ہیں۔ قرآن حکیم کی رو سے آپ کو بچپن ہی میں رشد اور قلب سلیم عطا ہوا اور کائنات کے مشاہدے سے آپ کو یقین کامل حاصل ہوا (الانعام : 75، صفحہ 300) اور حیات بعدالموت کے راز سے آگاہی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے تشفی فرمائی۔ (البقرہ : 26 صفحہ 41) آپ اپنی قوم کے شرک سے جس طرح متنفر اور متصادم ہوئے اس سے آپ کی عظمت وجلالت، عزیمت واستقامت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کا اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم کے بتوں کو پاش پاش کرنا، آپ (علیہ السلام) کو اس جرم میں آگ میں ڈالا جانا، آپ (علیہ السلام) کا خاندان، جائیداد اور قوم وطن سب کو چھوڑ کر ہجرت کرنا اور دشت عرب میں حکم الٰہی کی تعمیل میں بےدریغ اپنے اکلوتے اور محبوب فرزند کی گردن پر چھری چلانا اس قسم کے عظیم کارناموں سے آپ (علیہ السلام) کی زندگی کا ہر ورق نورانی ہے۔ [38] یعنی منصب اور امامت کے لئے محض نسل و نسب ہی کافی نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح بھی حاصل کرنا ہوگا۔
Ayahs 2:125–139

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے خانہ (کعبہ) کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور (لوگوں کو حکم دیا تھا کہ) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ نماز کی جگہ بنا لی جائے اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو حکم دیا تھا کہ ہمارے (اس) گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) رکھنا

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے دعا مانگی کہ '' اے میرے رب، تو اس (شہر) کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں ان کو ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ''۔ ( اللہ نے) فرمایا :' اور جو کفر (کا راستہ اختیار) کرے گا ہم اسے بھی چند دن مزے اٹھانے دیں گے پھر اسے کشاں کشاں عذاب دوزخ میں پہنچائیں گے اور وہ (بہت ہی) برا ٹھکانا ہے۔

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (اور دعائیں مانگتے جاتے تھے کہ) '' اے ہمارے رب، ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے بیشک تو ہی (سب کچھ) سننے والا (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا دے، اور ہماری نسل سے ایک جماعت (پیدا کر) جو تیری فرمانبردار ہو اور ہم کو اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بیشک تو توبہ قبول کرنے والا (اور) رحم فرمانے والا ہے۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ان میں ایک پیغمبر انہی میں سے بھیج کہ ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب (الٰہی) اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک (صاف) کرے۔ بیشک تو زبردست (اور) حکمت والا ہے ''۔

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے مگر وہی جس کی عقل ماری گئی ہو۔ اور ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہ) صالحین میں (شامل) ہوگا۔

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

(اس کا حال یہ تھا کہ) جب اس کے رب نے کہا کہ اطاعت اختیار کر تو وہ پکار اٹھا کہ میں نے رب العالمین کی اطاعت اختیار کی۔

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی (طریقے) کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور (پوتے) یعقوب نے (اپنی اولاد کو) کی تھی۔ (اس نے کہا تھا) کہ میرے بچو اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے لہذا مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

(اے یہودیو) کیا تم (اس وقت) موجود تھے جب یعقوب کے سامنے موت آ کھڑی ہوئی اس وقت اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا، '' میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ '' انہوں نے جواب دیا کہ ہم آپ اور آپ کے بزرگوں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود اللہ جو کہ اکیلا ہے کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

(بہرحال) یہ ایک امت تھی جو گزر چکی اس کے لئے وہ کچھ تھا جو اس نے (اپنے اعمال سے) کمایا اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم (اپنے اعمال سے) کماؤ گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہیں ہوگی۔

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور (یہودی و نصرانی مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو (نہیں) بلکہ ابراہیم یکسو کا طریقہ اور ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھا۔

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو) کہو کہ ہم تو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور (قرآن پر) جو ہم پر نازل ہوا ہے اور (ان تمام صحیفوں پر) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئے اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دیئے گئے۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (ایک اللہ) کے فرمانبردار ہیں ''۔

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پھر اگر وہ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو انہوں نے ہدایت پا لی۔ اور اگر انحراف کریں تو (سمجھ لو کہ) وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں۔ تو (اے پیغمبر) تمہاری طرف سے عنقریب اللہ ان سے نبٹ لے گا اور وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(مسلمانو، ان سے کہو کہ ہم تو) اللہ کے رنگ میں (رنگے گئے) ہیں اور اللہ (کے رنگ) سے اور کس کا رنگ بہتر ہوگا ؟ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں ''۔

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو، کیا اللہ کے بارے میں تم ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی اور ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، اور ہم خالص اسی کے لئے ہیں

[84] یعنی اپنے عقائد اور اپنی عبادت میں ہر طرف سے پاک صاف۔
Ayahs 2:140–141

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم (یہ) کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب (سب کے سب) یہودی یا نصرانی تھے ؟ (اے پیغمبر، ان سے) پوچھو، تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے کہ جس کے پاس اللہ کی ایک شہادت (موجود) ہو اور وہ اسے چھپائے، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

(بہرحال) یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لئے وہ تھا جو اس نے (اپنے عمل سے) کمایا اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم (اپنے عمل سے) کماؤ گے، اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہیں ہوگی۔

[85] شہادت چھپانے سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی شہادت جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور اب بھی اس کا پتہ چلتا ہے۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

نادان لوگ تو ضرور کہیں گے کہ کس چیز نے ان مسلمانوں کو (اس) قبلے سے پھیر دیا جس پر وہ (پہلے) تھے ؟ (اے پیغمبر، ) تم (یہ) جواب دو کہ مشرق اور مغرب (سب) اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے

[68] قبلہ وہ مکان ہے جس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے۔ [78] ہجرت کے بعد نبی ﷺ تقریباً ڈیڑھ برس تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ پھر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ یہاں اسی کا ذکر ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح تو (اے مسلمانو) ہم نے تمہیں ایک '' امت وسط '' بنایا ہے تاکہ تم (دنیا کے) لوگوں پر گواہ بنو اور تم پر (تمہارا) رسول گواہ بنے۔ اور (اے پیغمبر، ) جس قبلے پر تم (پہلے) تھے اسے تو ہم نے اسی لئے رکھا تھا تاکہ ہم ان لوگوں کو جو رسول کی پیروی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے الگ کردیں جو الٹے پھرجانے والے ہیں اور قبلے کا بدلا جانا (سب ہی پر) شاق ہوا مگر ان لوگوں پر نہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے، وہ تو لوگوں پر بڑا ہی شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[88] یعنی ایسی امت جو ہر اعتبار اور معیار سے غایت اعتدال پر ہو۔ [89] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھادیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ رسول اکرم ﷺ نے جو کچھ انہیں پہنچایا اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں ان سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تمہارے منہ کا (یہ) بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں سو ہم ضرور تم کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے تم چاہتے ہو۔ (اچھا) تو اب (نماز پڑھتے وقت) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو۔ اور (اے مسلمانو) تم بھی جہاں کہیں ہو (نماز پڑھتے وقت) اسی کی طرف منہ کرلیا کرو۔ اور یہ اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ (حکم) برحق ان کے رب کی طرف سے ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

[90] جب تک بنی اسرائیل کی امامت قائم رہی قبلہ بیت المقدس رہا۔ لیکن جب دعوت حق کا مرکز خانہ کعبہ قرار پایا تو ناگزیر ہوگیا کہ وہی قبلہ بھی قرار پائے اس لئے رسول اللہ ﷺ کو یقین تھا کہ تحویل قبلہ کا حکم اب ضرور آئے گا چناچہ فرشتہ وحی کے انتظار میں آپ کی نظر بار بار آسمان کی طرف اٹھ جاتی تھی۔ یہاں اسی کیفیت کا بیان ہے۔ [91] یہ وعدہ ہے تحویل قبلہ کا۔ یہ جو فرمایا کہ ہم تم کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے تم چاہتے ہو اس سے رسول اللہ ﷺ کی کمال رفعت مراتب و بلندی درجات ظاہر ہے۔ کیا ٹھکانا ہے اس مرتبہ کا کہ مولا خود رضائے عبد کا احساس فرمائے۔ [92] مسجد حرام یعنی عزت و حرمت والی مسجد۔ اس سے مراد مکہ معظمہ کی وہ مسجد اعظم ہے جس کے اندر خانہ کعبہ واقع ہے۔ یہ مسجد حرام قبلہ ہے ساری دنیا کا اور خانہ کعبہ قبلہ ہے اس مسجد کا۔ [93] یہ ہے تحویل قبلہ کا حکم جو رجب یا شعبان 2 ھ میں نازل ہوا جب آپ ظہر کی نماز پڑھانے کھڑے ہوئے تھے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعہ سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کے اقتداء میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھرگئے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم تھی کہ کعبہ کو ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس تیرہ سو سال بعد سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھوں تعمیر ہوا تھا، یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت تھی جس میں ان کے لئے ذرہ برابر شک کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ [94] یعنی جو تدبیریں یہ لوگ مسلمانوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے کے لئے کررہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم (ان) اہل کتاب کے سامنے کوئی سی نشانی لے آؤ (تو بھی) یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ہی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہو اور نہ وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر تم نے اس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقینا تم ظالموں میں شمار ہوگے۔

[95] یہود کا قبلہ بیت المقدس ہے اور نصاریٰ کسی عمارت یا مکان کو نہیں بلکہ سمت مشرق کو قبلہ بنائے ہوئے ہیں۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو دیدہ دانستہ حق (بات) کو چھپاتا ہے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ تمہارے رب کی طرف سے برحق ہے لہذا تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔

[96] یعنی بیت الحرام کو بہ حیثیت قبلہ۔ [97] یعنی خوب اچھی طرح بغیر کسی شک و شبے کے جانتے ہیں۔
Ayahs 2:148–149

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور (دیکھو) ہر (گروہ) کے لئے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ (نماز پڑھتے وقت) رخ پھیر لیتا ہے پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم سب کو پالے گا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کہیں سے بھی نکلو تو (نماز میں) اپنا منہ (ہمیشہ) مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو اور یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

[98] مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت بہرحال کسی نہ کسی سمت کی طرف منہ تو کرنا ہی ہوگا مگر اصل چیز سمت نہیں ہے جو دین کے اصول و مہمات میں سے ہو اور اسے حق و باطل کا معیار سمجھ لیا جائے بلکہ اصلی چیز جو سمجھنے اور کرنے کی ہے وہ نیک عمل ہے۔ پس چاہئے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرو۔
Ayahs 2:150–152

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم کہیں سے بھی نکلو تو (نماز میں) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو اور (اے مسلمانو) تم (بھی) جہاں کہیں ہو (نماز میں) اپنا منہ اسی (مسجد حرام) کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ان میں ظالم ہیں (وہ تو کٹ حجتی کئے ہی جائیں گے) تو ان سے نہ ڈرو بلکہ (صرف) ہم سے ڈرو۔ اور تاکہ ہم اپنی نعمت تم پر پوری کردیں اور تم ہدایت پا جاؤ۔

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

(مسلمانو، یہ احسان بھی اسی قسم کا ہے) جیسا ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاک (صاف) کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس (ان نعمتوں پر) ہمیں یاد کرتے رہو، ہم بھی تم کو یاد کرتے رہیں گے، اور ہمارا شکر ادا کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔

[99] یعنی ہمارے حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ قبلے کے سوا کسی دوسری سمت نماز پڑھتے دیکھا جائے ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ یہ اچھے مسلمان ہیں جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کئے جاتے ہیں۔ [001] اس فقرے کا تعلق اس عبارت سے ہے کہ '' اپنا منہ اس کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ''۔
Ayahs 2:153–155

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاتے ہیں تو انہیں مردہ نہ کہو۔ نہیں، وہ تو زندہ ہیں لیکن تم (ان کی زندگی کا) شعور نہیں رکھتے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم تمہاری آزمائش کر کے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مال و جان اور پیداوار کے کچھ نقصان سے اور (اے پیغمبر، ) صبر کرنے والوں کو (فتح و کامرانی) کی بشارت دے دو ۔

[101] منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب امت مسلمہ کو ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے یہ ہے کہ منصب امامت پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک عظیم الشان اور پرخطر خدمت بنی نوع انسان ہے جس کے نتیجہ میں طرح طرح کی مشکلات و مصائب کی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔
Ayahs 2:156–157

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کبھی کوئی مصیبت ان پر آن پڑتی ہے تو بول اٹھتے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایات ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

[102] یعنی ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہذا جو کوئی (بیت اللہ کا) حج یا عمرہ کرے تو اس پر ذرا بھی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف (کے پھیرے) کرے اور جو کوئی خوش دلی سے نیک کام کرے تو اللہ قدردان (اور سب کچھ) جاننے والا ہے۔

[103] صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان سات پھیرے لگانا جسے سعی کہتے ہیں مناسک حج وعمرہ میں سے ہے۔ اسلام سے پہلے ان دونوں پہاڑیوں پر دو بت رکھے ہوئے تھے۔ بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا ان بتوں کے طواف کی غرض سے رہا ہوگا اس لئے سعی کرنے سے جھجکنے لگے۔ یہاں اسی شبہ کو دور کیا گیا ہے۔ [104] حج وعمرہ میں فرق یہ ہے کہ حج ذی الحج کی مقررہ تاریخوں میں ہوتا ہے اور عمرہ ان تاریخوں کے سوا کسی زمانے میں کیا جاسکتا ہے۔ عمرے کے ارکان یہ ہیں۔ احرام باندھنا، طواف کعبہ اور سعی لیکن حج میں اس کے اہم ارکان عرفات میں ٹھہرنا اور منیٰ میں کنکریاں پھینکنا ہیں جسے رمی کہتے ہیں۔