2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:276–278

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

(ہاں مگر) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے اور جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر (آخرت میں) نہ تو کسی قسم کا خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور جو سود (لوگوں کے ذمے) باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم (واقعی) ایمان والے ہو۔

[187] یعنی اگرچہ بظاہر سود سے دولت بڑھتی نظر آتی ہے اور صدقات سے گھٹتی محسوس ہوتی ہے لیکن در حقیقت معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سود اخلاقی و روحانی، معاشی و تمدنی ترقی میں نہ صرف مانع ہوتا ہے بلکہ تنزل کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے برعکس صدقات سے ( جن میں قرض حسن بھی شامل ہے) اخلاق و روحانیت اور تمدن و معیشت ہر چیز کو نشوونما نصیب ہوتا ہے۔ [188] جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی اپنی ضرورت سے زیادہ مال دے اور وہ اس مال سے لوگوں کو نفع پہنچانے کی بجائے ان کی ایذا رسانی میں خرچ کرے تو اس سے بڑھ کر ناشکرا اور بد عمل اور کون ہوگا۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ اور اگر تم توبہ کرتے ہو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں۔ نہ تو تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

[189] یعنی تم پر باغیوں اور مرتدوں کی طرح جہاد کیا جائے گا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کی حدود میں سودی کاروبار ایک فوجداری جرم بن گیا۔ [190] یعنی اگر تم نے اصل مال سے زیادہ وصول کیا تو ظلم کیا اور اگر تمہیں اصل مال سے زائد دینا پڑا تو تم پر ظلم ہوا۔
Ayahs 2:280–282

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو (اس کے لئے) فراخی حاصل ہونے تک مہلت ہے اور (اگر) معاف کردو تو تمہارے لئے یہ زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن (کی پرسش) سے ڈرو جبکہ تم (سب) اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص نے اپنے عمل سے جو کچھ کمایا ہے اس کا پورا پورا بدلہ اسے مل جائے گا اور لوگوں پر (ذرہ بھر) ظلم نہ ہوگا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مقررہ مدت کے لئے ادھار کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان ایک کاتب (ہو جو) انصاف کے ساتھ (دستاویز) قلمبند کرے اور کاتب کو چاہئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جس طرح اللہ نے اسے (لکھنا پڑھنا) سکھایا ہے (اس طرح) اسے بھی چاہئے کہ (بےعذر) لکھ دے، اور املا وہ شخص کرائے جس کے ذمہ حق واجب ہے اور (ایسا کرتے ہوئے) وہ اپنے رب سے ڈرے اور کسی طرح کی کمی بیشی نہ کرے۔ پھر اگر وہ جس پر حق واجب ہے کم عقل یا ناتواں ہو یا املا نہ کرا سکتا ہو تو (اس صورت میں) اس کا مختار کار انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے آدمیوں میں سے دو آدمی (اس پر) گواہ کرلو۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہ کرنا پسند کرو، کہ اگر ایک (عورت) بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔ اور جب گواہ (شہادت کے لئے) بلائے جائیں تو وہ (گواہی دینے سے) انکار نہ کریں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعین کے ساتھ اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں تساہل نہ کرو۔ یہ (طریقہ) اللہ کے نزدیک تمہارے لئے انصاف کا زیادہ قائم رکھنے والا اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین (قیاس) ہے کہ تم شک (و شبہ) میں نہ پڑو۔ ہاں جو تجارتی لین دین تم دست بدست کرتے ہو تو اس (کی دستاویز) کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور جب (اس طرح کی) خریدوفروخت کرو تو (احتیاطاً ) گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب اور گواہ کو (کسی قسم کی) تکلیف نہ دی جائے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہارے حق میں گناہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، وہ تمہیں (حکمت کی باتیں) سکھاتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔

[191] جو شخص قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اسلامی عدالت اس آیت کی رو سے اس کے قرض خواہوں کو مجبور کرے گی کہ وہ اسے مہلت دیں۔
Ayahs 2:283–284

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے (اور قرض لینا ہو) تو کوئی چیز رہن رکھ کر اس کا قبضہ (قرض دینے والے کو) دے دیا جائے۔ پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے کا اعتبار کرے ( اور بےرہن قرض دیدے) تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اس کو چاہئے کہ امانت ادا کرے اور اپنے رب اللہ سے ڈرے۔ اور (دیکھو، ) گواہی نہ چھپاؤ اور جو اس کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

(لوگو، ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کا ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو یا چھپائے رکھو اللہ (بہرحال) اس کا حساب تم سے لے لے گا۔ پھر جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

[192] رہن بالقبضہ صرف قرض دینے والے کے اطمینان کے لئے ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ اپنے دئیے ہوئے مال کے بدلے رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھائے۔ [193] یعنی قرض لینے والا۔ [194] ایسے قرضے کو قرض دینے والے کی امانت فرمایا کیونکہ اس نے قرض لینے والے کے اعتبار پر قرض دیا گویا اس کے پاس امانت رکھوا دیا۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

(اللہ کا) رسول اس (کلام) پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوا ہے اور مومنین (بھی) ۔ یہ (سب کے) سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں باہم کوئی فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں (کہ اے ہمارے رب، ) ہم نے (تیرا حکم) سنا اور تسلیم کیا۔ اے ہمارے رب، تیری مغفرت (ہمیں مطلوب ہے) اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔

[195] یعنی سب کو مانتے ہیں۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اسی قدر جس (کے اٹھانے) کی اس کو طاقت ہو۔ جس نے اچھے کام کئے تو (ان کا فائدہ بھی) اس کے لئے اور جس نے برے کام کئے (ان کا وبال بھی) اسی پر ہے۔ (پس اے اہل ایمان، تم یوں دعا کیا کرو کہ) اے ہمارے رب، اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو (ان گناہوں پر) ہماری گرفت نہ فرما۔ اور اے ہمارے رب، ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ اور اے ہمارے رب، ایسا بوجھ ہم سے نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے اور ہمارے قصوروں سے درگزر فرما اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

[196] یعنی سخت احکام کا بوجھ۔