3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 3:1

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

الف، لام، میم۔

Ayahs 3:2–3

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ( وہ) حیّ وقیوم ہے۔

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے پیغمبر، ) تم پر یہ کتاب برحق نازل کی جو ان (آسمانی کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آچکی ہیں۔ اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی تھی۔

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 271 صفحہ 211
Ayahs 3:4–6

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

( اس سے) پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اور ( اب) اسی نے یہ فرقان نازل کیا ہے۔ (لہٰذا اب) جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں یقینا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ ( ایسا دانا و بینا ہے کہ اس) سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں (نہ) زمین میں اور نہ آسمان میں۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی (قادر مطلق) ہے جو ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تم لوگوں کی صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہ) زبردست (اور) حکمت والا (ہے) ۔

[2] فرقان یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت، مراد قرآن مجید ہے۔
Ayahs 3:7–12

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) وہی ( اللہ) ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور ( بعض) دوسری ( آیتیں) متشابہ ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ ( محکم آیتیں چھوڑ کر) فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں اور ان کو (غلط) معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کا (صحیح) مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مگر جو لوگ علم میں پختہ ہیں تو ( وہ متشابہات کے پیچھے نہیں پڑتے) وہ کہتے ہیں کہ ان پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب ( کچھ) ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے اور (حقیقت یہ ہے کہ) نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو دانش مند ہیں۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ) اے ہمارے رب، ہمیں سیدھے راستے پر لگا دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب، تو یقینا ( تمام) لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس ( کے آنے) میں ( ذرا) شک نہیں۔ (یہ اللہ کا وعدہ ہے اور) بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر ( کا راستہ اختیار) کیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ تو ان کے مال ہی ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ یہی لوگ ( آخرت میں) دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

( ان کے ساتھ بھی معاملہ ویسا ہی ہوگا) جیسا کہ فرعون والوں اور ان سے پہلے کے (گمراہ) لوگوں کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے اللہ کی نشانیاں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑ لیا اور ( حق یہ ہے کہ) اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

( پس اے پیغمبر، ) جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے کہہ دو کہ تم عنقریب مغلوب ہو گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

[3] یعنی وہ آیتیں جن کا مفہوم واضح ہو اور ان کے معافی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ [4] یعنی وہ آیتیں جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے اور جن کے کئی معنی نکل سکتے ہیں۔
Ayahs 3:13–17

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

(دین اسلام سے انکار کرنے والو، ) تمہارے لئے ان دو گروہوں میں ایک نشان ( عبرت) تھا جو (بدر کے میدان میں) ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا ( گروہ) کافروں کا تھا جو اپنی آنکھوں سے اپنے آپ کو مسلمانوں سے دگنا دیکھ رہے تھے، (بایں ہمہ کافروں کو شکست ہوئی) اور اللہ اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے تائید کرتا ہے۔ یقینا اس واقعے میں اہل بصیرت کے لئے ( بڑی ہی) عبرت ہے۔

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

انسان کے لئے مرغوب چیزوں ( مثلاً ) عورتیں، بیٹے، چاندی سونے کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتی باڑی میں وابستگی و خوشنمائی رکھ دی گئی ہے ( لیکن) یہ تو صرف دنیوی زندگی کے ( چند روزہ) فائدے ہیں اور بہتر ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگوں سے) کہو کہ میں تمہیں ان ( دنیوی چند روزہ فائدوں) سے بہتر چیز بتاؤں ؟ جو لوگ متقی ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس ( بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان ( باغوں) میں (ہمیشہ) ہمیشہ رہیں گے۔ پاکیزہ بیویاں (ان کے ساتھ ہوں گی) اور (سب سے بڑھ کر) اللہ کی خوشنودی (ہو گی) ۔ اور اللہ اپنے بندوں ( کے نیک و بد) کو خوب دیکھنے والا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

(یہ متقی لوگ وہ ہیں) جو دعا مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ( تجھ پر) ایمان لائے، پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

( یہی لوگ ہیں) صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور (اللہ کے) فرمان بردار اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں ( توبہ) استغفار کرنے والے۔

[5] جنگ بدر (2 ھ) میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ مسلمانوں کے پاس سامان جنگ نہایت قلیل تھا اور پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور سات زرہیں تھیں اور اونٹ اتنے کم کہ چار آدمیوں کے حصہ میں ایک پڑتا تھا۔ اس کے برعکس کفار کا لشکر ضروری سامان سے لیس تھا۔ ان میں سات سو ستر سوار تھے اور زرہ پوش ایک سو تھے۔ اس کثرت تعداد کے باوجود کفار کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔
Ayahs 3:18–22

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ (عدل و) انصاف کے ساتھ انتظام کرنے والا ہے۔ فرشتے اور اہل علم بھی ( اس کی گواہی دیتے ہیں کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

یقینا اللہ کے نزدیک دین تو صرف اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو ( دین حق سے) اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا تو ( اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ) انہوں نے آپس کی ضِدّم ضِدّا کی وجہ سے ( ایسا کیا) اور جو شخص اللہ کی آیتوں سے انکار کرے تو ( وہ یاد رکھے کہ) اللہ حساب لینے میں تیز ہے۔

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر اگر ( اہل کتاب) تم سے حجت کریں تو (اے پیغمبر، ) تم ( ان سے) کہہ دو کہ میں نے تو اللہ کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردیا ہے اور میرے پیروؤں نے بھی۔ پھر تم اہل کتاب اور ( عرب کے) ان پڑھ لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اسلام لائے ہو ؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ راہ ہدایت پر آگئے اور اگر انہوں نے رو گردانی کی تو ( اے پیغمبر، ) تمہارے ذمے تو ( پیغام الٰہی کا) صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں ( کے حال) کو خوب دیکھ رہا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں، نیز ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو (انہیں) انصاف کرنے کو کہتے ہیں تو ( اے پیغمبر، ) ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کا سارا کیا دھرا دنیا اور آخرت ( دونوں) میں اکارت گیا اور ان کا مددگار کوئی نہیں۔

[6] اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہے اور مصنوعات فطرت سے بھی۔ پہلی دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے اور دوسری دلیل عقلی کا۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں ( کے حال) پر نظر نہیں کی جن کو کتاب ( تورات) سے کچھ حصہ ملا ہے ؟ ( ان کا حال یہ ہے کہ جب) انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے تو ان میں سے ایک گروہ (تورات سے) روگردانی کرتا ہوا پھرجاتا ہے۔

[7] یہاں اللہ کی کتاب سے مراد تورات ہے۔ [8] یعنی جب یہود سے کہا جاتا ہے کہ اپنی کتاب تورات کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردو اور جو اس کی رو سے حق ثابت ہو اس کو حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو اسے باطل تسلیم کرلو۔
Ayahs 3:24–26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ ( خود سری ان میں) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں نہیں چھوئے گی مگر (چند) گنے ہوئے دنوں ( کے لئے) اور جو کچھ یہ تراشتے رہے ہیں اس نے ان کو ان کے دین ( کے بارے) میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

لیکن اس دن جس (کے آنے) میں ذرا شک نہیں (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے (دنیا میں) کیا تھا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (کسی طرح کا) ظلم نہ ہوگا۔

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو، اور) کہو کہ اے سارے ملکوں کے مالک، تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے، تو جسے چاہئے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ (ہر طرح کی) بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

[9] یہودی کہتے تھے کہ ہم نجات یافتہ امت اور اللہ کے چہیتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس لئے نہیں کہ عذاب میں پڑا رہے بلکہ اس لئے کہ گناہ کے میل کچیل سے پاک صاف ہو کر جنت میں جا داخل ہو۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ تو ہی جاندار کو بےجان میں سے نکالتا ہے اور تو ہی بےجان کو جاندار میں سے نکالتا ہے۔ اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

[10] اس کی ایک نمایاں مثال پرندے کو انڈے سے نکالنا ہے۔ [11] اس کی ایک نمایاں مثال پرندے سے انڈے کی پیدائش ہے۔
Ayahs 3:28–32

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مسلمان اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، ہاں مگر ان ( کے شر) سے بچنے کے لئے اپنا بچاؤ کرنا چاہو ( تو عارضی طور پر ایسا کرسکتے ہو) اور ( دیکھو انسان کے شر سے ڈرتے ہوئے یہ حقیقت نہ بھولو کہ) اللہ تمہیں اپنے ( مواخذہ) سے ڈراتا ہے اور ( آخر کار تم سب کو) اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ اسے جانتا ہے اور (اتنا ہی نہیں، بلکہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ ( سب کچھ) جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

وہ دن (آنے والا ہے) جب کہ ہر شخص جو کچھ بھلائی (دنیا میں) کر گیا ہے اس کو موجود پائے گا اور جو کچھ برائی کر گیا ہے (اس کو بھی موجود پائے گا) ، (اس دن) آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس میں اور اس ( دن) میں زمانہ دراز ( حائل) ہوتا۔ ( اس طرح) اللہ تم کو اپنے ( مواخذہ) سے ڈراتا ہے ( تاکہ اس کی نافرمانی سے بچو) اور ( یہ ڈرانا بھی اس کی شفقت و مہربانی کی وجہ سے ہے کیونکہ) وہ اپنے بندوں پر بڑا شفقت کرنے والا ہے۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

( اے پیغمبر، لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی ( اختیار) کرو۔ ( اگر تم نے ایسا کیا تو) اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

( ان سے) کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر وہ رو گردانی کریں تو ( سن رکھیں کہ) اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔ [13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت کے چنگل میں پھنس گیا ہو اور اس کو ان کے ظلم و ستم کا خوف ہو تو اس کو اجازت ہے کہ اپنے ایمان کو بچائے رکھے حتی کہ شدید خوف کی حالت میں جو شخص برداشت کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کو کلمہ کفر تک کہہ جانے کی اجازت ہے۔ لیکن عزیمت کا مقام کچھ اور ہی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة حٰم سجدہ آیت 30 صفحہ 4411۔ اگر تمہیں اشد مجبوری کی وجہ سے کہیں کفار کے ساتھ تقیہ کرنا ہو تو وہ بس اس حد تک ہونا چاہئے کہ اسلام کے مشن اور اسلامی جماعت اور کسی مسلمان کی جان و مال کو نقصان پہنچائے بغیر تم اپنی جان و مال کا تحفظ کرلو۔ اگر تم نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اللہ کے دین کو یا اہل ایمان کی جماعت کو یا کسی فرد مومن کو بھی نقصان پہنچایا تو اللہ کے محاسبے سے ہرگز نہ بچ سکو گے۔ جانا تم کو بہرحال اس کے پاس ہے۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہان کے لوگوں پر ( ترجیح دے کر نبوت کے لئے) منتخب کیا تھا۔

[41] عمران نام کی تاریخی شخصیتیں دو گزری ہیں، ایک موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد، دوسرے ان کے کئی صدیوں بعد مریم (علیہ السلام) کے والد ماجد، یہاں بلحاظ سیاق وسباق ترجیح عمران ثانی کو ہے۔
Ayahs 3:34–36

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

یہ ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ ( سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

(وہ اس وقت بھی سن رہا تھا) جب عمران کی بیوی نے (اس کی جناب میں) عرض کیا کہ '' اے میرے رب، میرے پیٹ میں جو ( بچہ) ہے اس کو میں (دنیا کے کام کاج سے) آزاد کر کے تیری نذر کرتی ہوں ' میری طرف سے ( یہ نذر) قبول فرما۔ تو ( سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے ''

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس نے لڑکی جنی تو کہنے لگی '' میرے رب، میں نے تو لڑ کی جنی ہے '' اور اللہ خوب جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا ہے، اور لڑکا لڑکی کی طرح تو نہیں ہوتا '' ( خیر جو کچھ بھی ہو) میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی نسل کو شیطان مردود ( کی وسوسہ اندازیوں) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ''

[51] نوح (علیہ السلام) ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں اور ابراہیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں عمران ان تینوں کی اولاد میں۔
Ayahs 3:37–38

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پس اس کے رب نے اس لڑکی کو خوشی سے قبول فرما لیا اور اس کو خوب اچھا اٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنادیا۔ جب کبھی زکریا اس کے پاس ( اس کے رہنے کے) حجرے میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے (پینے) کی چیزیں پاتا۔ پوچھتا مریم، یہ ( چیزیں) تیرے پاس کہاں سے آتی ہیں ؟ وہ جواب دیتی، یہ اللہ کے ہاں سے ( آتی ہیں) ۔ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

( یہ دیکھ کر) وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی (اور کہا) '' اے میرے رب، اپنی جناب سے مجھے (بھی) نیک اولاد عنایت فرما۔ بلاشبہ تو دعاؤں کا بڑا سننے والا ہے ''

[16] زکریا (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور غالباً رشتے میں مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔