3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 3:39–43

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

(پھر ایسا ہوا کہ جب) وہ حجرے میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا کہ فرشتوں نے اسے آواز دی کہ '' اللہ تجھے یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو کلمتہ اللہ کی تصدیق کرنے والا (جماعت کا) سردار، ضبط نفس کرنے والا اور ( اللہ کے) صالح بندوں میں سے ایک نبی ہوگا ''

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

( زکریا نے یہ سن کر) عرض کیا '' اے میرے رب، میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوسکتا ہے جب کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ '' ارشاد ہوا '' ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ''

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

( زکریا نے) عرض کیا '' اے میرے رب، میرے ( اطمینان کے) لئے کوئی نشانی ٹھہرا دے ''۔ ارشاد ہوا '' تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین دن تک بات نہ کرسکے گا بجز اشارے کے۔ ( اس دوران میں) کثرت سے اپنے رب کا ذکر کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح ( و تقدیس) کرتے رہنا۔ ''

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے ( مریم سے) کہا '' اے مریم '' اللہ نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاکیزگی عطا کی ہے اور تمام دنیا کی عورتوں پر (ترجیح دے کر) تمہیں منتخب فرمایا ہے

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

( تو) اے مریم تم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو اور رکوع ( و سجود) کرنے والوں کے ساتھ تم بھی رکوع ( و سجود) کرتی رہو ''

[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

( اے پیغمبر، ) یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تم پر وحی کر رہے ہیں اور تم ان لوگوں کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قلم ( دریا میں) ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے اور نہ تم ان کے پاس ( اس وقت) موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

[18] جب مریم (علیہ السلام) نذر میں قبول کرلی گئیں تو مسجد کے مجاوروں میں جھگڑا ہوا کہ انہیں کس کی پرورش میں رکھا جائے۔ آخر قرعہ اندازی کی نوبت آئی۔ سب نے اپنے اپنے قلم دریا میں چھوڑ دیئے کہ جس کا قلم دریا کے چڑھاؤ کی طرف بہے وہ مریم (علیہ السلام) کا سرپرست ہوگا۔
Ayahs 3:45–46

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا '' اے مریم، اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوش خبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا ' دنیا اور آخرت ( دونوں) میں مرتبے والا اور ( اللہ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

لوگوں سے گہوارے میں کلام کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور وہ صالح انسانوں میں سے ہوگا ''

[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کا حاشیہ 17 صفحہ 561۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

(مریم نے یہ بشارت سنی تو متعجب ہو کر) بولی '' اے میرے رب، میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوسکتا ہے، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک بھی نہیں '' ارشاد ہوا '' ایسا ہی ہوگا '' اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس کہہ دیتا ہے کہ '' ہوجا '' اور وہ ہوجاتا ہے۔

[20] یعنی تعجب نہ کرو، اللہ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کردے۔
Ayahs 3:48–49

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

( فرشتوں نے پھر سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا) '' اور ( اللہ) اس ( لڑکے) کو کتاب اور حکمت اور (خاص طور پر) تورات اور انجیل کا علم عطا کرے گا۔

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور اسے بنی اسرائیل کی طرف بحیثیت رسول بھیجے گا '' (چنانچہ اس بشارت کے مطابق مسیح کا ظہور ہوا اور اس نے نبی اسرائیل سے کہا، دیکھو) میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ( اپنی نبوت پر) دلیل لے کر آیا ہوں ( اور مجھ کو اللہ نے یہ قدرت دی ہے) کہ مٹی سے پرند کے مانند صورت بناؤں پھر اس میں پھونک ماروں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جائے اور میں اللہ ہی کے حکم سے مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا اور مردوں کو زندہ کر دوں اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں سمیٹ کر رکھتے ہو وہ ( سب) تم کو بتادوں۔ اگر تم ایمان والے ہو تو یقینا ان باتوں میں تمہارے لئے ( بڑی) نشانی ہے۔

[21] کتاب سے مرادکتابت (لکھنا) یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا۔
Ayahs 3:50–51

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور میں ( اس لئے آیا ہوں کہ) تورات کی تصدیق کر دوں جو میرے سامنے موجود ہے اور بعض چیزیں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں انہیں تمہارے لئے حلال کر دوں اور ( دیکھو) میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ میرا رب ( بھی) ہے اور تمہارا رب (بھی) لہذا اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

[22] بعض چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جو یہود کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردی تھیں، جیسے گائے، بکری کی چربی، مچھلی، اونٹ کا گوشت، ناخن دار جانور اور ہفتہ کے دن کام کاج۔
Ayahs 3:52–53

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ نے (اپنی دعوت کے مقابلے میں) ان کی طرف سے انکار ہی پایا تو وہ پکار اٹھا '' کون (ہے جو) اللہ کی راہ میں میرا مدد گاہ ہوتا ہے ؟ '' حواریوں نے جواب دیا '' ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ہم اس پر ایمان لائے اور (اے داعی حق، ) تو گواہ رہ کہ ہم ( اس کے) فرماں بردار ہیں۔

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ہم ایمان لے آئے اس پر جو تو نے نازل کیا ہے اور ہم نے رسول کی پیروی ( اختیار) کرلی پس ہمیں بھی ( حق کی) شہادت دینے والوں میں لکھ لے ''۔

[32] حواری کے لغوی معنی دھوبی کے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی پیروؤں میں سے اکثر دھوبی تھے اس لئے آپ کے پیروؤں کا یہی لقب پڑگیا۔ مجازی معنی مخلص مددگار کے ہیں۔ [24] اللہ کی مدد کرنا یہی ہے کہ اس کے دین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے رسول اللہ ﷺ اور دین حق کی مدد کی۔
Ayahs 3:54–58

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ) بنی اسرائیل ( مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے۔ (جواب میں) اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اور ( وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب اللہ نے فرمایا '' اے عیسیٰ ( اب) ہم تم کو واپس لے لیں گے اور اپنی طرف اٹھا لیں گے اور تم کو ( تمہارے) انکار کرنے والوں ( کی تہمتوں) سے پاک کردیں گے اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی ہے ان کو روز قیامت تک ( تمہارے) انکار کرنے والوں پر غالب رکھیں گے پھر تم ( سب) کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہم ان باتوں کا فیصلہ کردیں گے جن میں تم (دنیا میں) اختلاف کیا کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

تو جن لوگوں نے ( تمہاری نبوت کا) انکار کیا ان کو دنیا اور آخرت ( دونوں) میں سخت عذاب دیں گے اور کوئی ان کا ( حامی و) مددگار نہ ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو ان کے اجر ان کو پورے پورے دئیے جائیں گے اور ( خوب جان لو کہ) اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ آیات (الٰہی) اور پر حکمت تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔

[25] یہود کی خفیہ تدبیر یہ تھی کہ ان کے علماء و فقہاء نے سازش کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھانا چاہا اور اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح و سلامت آسمان پر اٹھا لے گیا۔
Ayah 3:59

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک تو عیسیٰ ایسا ہی ہے جیسے آدم کہ اللہ نے مٹی سے آدم (کے پتلے) کو بنا کر اس کو حکم دیا کہ (زندہ) ہوجا اور وہ (زندہ) ہوگیا۔

[26] اس مثال سے نصاریٰ اور یہود دونوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔ نصاریٰ کو اس طرح کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کا بےباپ کے پیدا ہونا ان کے اللہ یا اللہ کے بیٹا ہونے کی دلیل ہے تو آدم کے ماں باپ دونوں نہ تھے لہذا ان کو بدرجہ اولیٰ اللہ یا اللہ کا بیٹا ہونا چاہئے۔ اور یہود سے یہ کہنا مقصود ہے کہ جس اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اس کے لئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کرنا کیا بڑی بات ہے۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں بدگمانی کیوں ہو۔
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ ہے اصل حقیقت ( مسیح کے بارے میں جو تم کو) تمہارے رب کی طرف سے (بتائی جا رہی ہے) پس (کہیں) تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا

[27] اس آیت میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی امت ہے اس لئے کہ خود آپ ﷺ کی ذات سے تو اس کا امکان نہ تھا۔
Ayahs 3:61–69

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر جب تم کو (مسیح کی) حقیقت معلوم ہوچکی اس کے بعد بھی تم سے اس کے بارے میں جو کوئی کٹ حجتی کرے تو (ایسے لوگوں سے) کہو کہ آؤ ہم دونوں فریق (میدان میں نکلیں اور) اپنے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلا لیں اور خود بھی شریک ہوں پھر ہم سب گڑگڑا کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ صحیح واقعات ہیں اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بیشک اللہ ہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر اگر (یہ لوگ مباہلہ سے) منہ موڑیں تو (یاد رکھو کہ) اللہ مفسدوں کا حال خوب جانتا ہے۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ اے اہل کتاب، آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (مانی جاتی) ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب نہ مانے پھر اگر (یہ لوگ اس بات سے) روگردانی کریں تو (مسلمانو، ان سے) کہہ دو کہ گواہ رہنا، (انکار تمہاری طرف سے ہے اور) ہم تو (اللہ کے) فرماں بردار ہیں۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب، تم ابراہیم کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو (کہ وہ یہودی تھا یا نصرانی) ، حالانکہ تورات اور انجیل اس کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ کیا تم (اتنی موٹی سی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ان باتوں میں جھگڑا کیا جن کی بابت (کچھ نہ کچھ) علم تمہارے پاس تھا تو (اب) ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کے بارے میں تمہارے پاس (کوئی) علم نہیں۔ اور اللہ (سب کچھ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

(حقیقت یہ ہے کہ) ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی بلکہ اللہ کا فرماں بردار بندہ تھا اور یقینا وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

فی الحقیقت ابراہیم کے ساتھ نسبت کے سب سے زیادہ حق دار تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی (آخرالزماں) ہے اور وہ لوگ ہیں جو (اس پر) ایمان لائے۔ اور اللہ (انہی کا) مددگار ہے جو ایمان والے ہیں۔

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اہل کتاب میں سے ایک گروہ تو یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردے حالانکہ وہ سوائے اپنے آپ کے اور کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے اور (اس بات کو) نہیں سمجھتے

[28] اسی کا نام شریعت کی اصطلاح میں مباہلہ ہے۔ مباہلہ میں ہر فریق اپنے کو اللہ کے سپرد کرتا ہے اور گڑگڑا کر دعا مانگنے کے بعد اس کے فیصلہ کا منتظر رہتا ہے۔
Ayahs 3:70–74

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب، کیوں اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہو حالانکہ تم (دل میں) قائل ہو ؟

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب، کیوں حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ اصلیت کیا ہے) ۔

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ (اپنے لوگوں سے) کہتا ہے کہ ایمان لانے والوں پر جو نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر بیٹھو۔ شاید (اس تدبیر سے) وہ (اپنے ایمان سے) پھرجائیں۔

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور جو تمہارے دین کی پیروی کرے اس کے سوا اور کسی کی بات نہ مانو۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ (اصل میں) ہدایت تو (وہی ہے جو) اللہ کی ہدایت ہے اور یہ (اس کی دین ہے) کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو (کبھی) تم کو دیا گیا تھا یا یہ کہ دوسروں کو اللہ کے حضور تمہارے خلاف حجت مل جائے۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے دے، وہ بڑی وسعت رکھنے والا اور (اہل و نااہل کو خوب) جاننے والا ہے۔

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے اور وہ بڑا فضل (فرمانے) والا ہے۔

[29] یعنی اللہ کی وہ آیتیں جو تمہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور جن میں نبوت محمدی کی پوری پوری علامتیں اور بشارتیں درج ہیں اور جن پر تمہارا دل گواہی دیتا ہے۔