2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:159–162

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ ہم نے انہیں لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے (تو یقین کرو کہ) یہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے (بھی) ان پر لعنت کرتے ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی اور (اپنی حالت کی) اصلاح کرلی اور (احکام حق کو چھپانے کی جگہ انہیں) بیان کرنے لگے تو ایسے لوگوں کی توبہ ہم قبول کرلیں گے اور ہم بڑے ہی درگزر کرنے والے (اور) رحم فرمانے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

(لیکن) جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور کفر کی حالت میں مرگئے، ایسے لوگوں پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ (ہمیشہ کے لئے) اسی (لعنت) میں مبتلا رہیں گے، نہ تو ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

[105] یعنی جن و انس و ملائکہ بلکہ تمام حیوانات کیونکہ حق کو چھپانے کے وبال میں دنیا کے اندر قحط، وبا اور طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔
Ayahs 2:163–172

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (دیکھو، چاہے لوگوں نے اپنے اعتقاد و پرستش کے لئے کتنے ہی معبود بنا لئے ہوں مگر) تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس رحمن و رحیم کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بلاشبہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے میں اور کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے سمندر میں چلتی ہیں اور (بارش کے) اس پانی میں جسے اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعے سے اس نے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد جلا اٹھایا اور اس میں طرح طرح کے حیوانات پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں (بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

(مگر توحید کی ان واضح نشانیوں کے ہوتے ہوئے بھی) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہم پلہ بناتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی اللہ سے (رکھنا چاہئے) ، حالانکہ اہل ایمان تو (سب سے) بڑھ کر صرف اللہ ہی کو محبوب رکھتے ہیں اور اگر یہ ظالم (اس وقت کو) دیکھ سکتے جب یہ عذاب سے دوچار ہوں گے (تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی) کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کو حاصل ہے اور وہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

(جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ) وہ پیشوا جن کی (دنیا میں) پیروی کی جاتی تھی (بجائے اس کے کہ اپنے پیروؤں کے کام آئیں) ان سے بیزاری ظاہر کریں گے کیونکہ وہ عذاب (کی ہولناکیاں اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے اور ان کے (باہمی) تعلقات (سب) ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(اس وقت ان کے) پیروکار پکار اٹھیں گے کہ کاش ہمیں (ایک دفعہ دنیا میں) پھر لوٹ کر جانا ملے تو جیسے یہ (آج) ہم سے بیزار ہوگئے اس طرح (کل کو) ہم بھی ان سے بیزار ہوجائیں۔ اس طرح اللہ ان کے اعمال انہیں دکھلادے گا (جو) ان کے لئے (سرا سر موجب) حسرت (ہوں گے) اور ان کو دوزخ سے نکلنا (کبھی نصیب) نہ ہوگا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو، زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں (بلا تامل) کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تمہیں بدی اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم اللہ کے نام پر ایسی باتیں گھڑ لو جن کا کوئی علم تمہارے پاس نہیں ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو (احکام) نازل کئے ہیں ان کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی (طریقے) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے خواہ ان کے باپ دادا (دین کی) کچھ بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتاب کی) ہدایت رکھتے ہوں۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کی مثال اس (چرواہے) کی سی ہے جو (جانوروں کے) پیچھے پکار رہا ہے لیکن وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اس لئے کچھ بھی نہیں سمجھتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اگر تم اللہ ہی کی بندگی کا دم بھرتے ہو۔

[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4 [107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 2:173–176

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار (جانور) اور خون اور سور کا گوشت حرام کیا ہے اور (نیز) وہ (جانور) جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ لیکن جو شخص (بھوک سے) بےقرار ہوجائے (جب کہ وہ) حکم عدولی کرنے والا اور حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا (بھی) نہ ہو تو اس پر (ان چیزوں میں سے کھا لینے کا) کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ ان احکام کو جو اللہ نے اپنی کتاب (تورات) میں نازل کئے ہیں، چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں (دنیا کی) متاع قلیل خریدتے ہیں (تو یقین کرو) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں اور قیامت کے روز اللہ ان سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لے لی ہے اور مغفرت کے بدلے عذاب (کا سودا کرلیا ہے) ، پس کیا ہی (عجیب) ہے ان کا حوصلہ کہ دوزخ کے (عذاب کے) لئے تیار ہیں !

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لئے ہوا کہ اللہ نے تو کتاب (تورات) ٹھیک ٹھیک نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ مخالفت (حق) میں بہت دور (نکل گئے) ۔

[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

(مسلمانو، ) نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے (عبادت کے وقت) اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف، بلکہ (اصل) نیکی تو ان لوگوں کی ہے جو اللہ پر، روز آخرت پر، فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیا اور غلاموں کی رہائی پر (خرچ کیا) ، اور نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے رہے اور جب قول وقرار کرلیا تو اپنے قول کے پورے اور تنگی اور مصیبت اور (حق و باطل کی) جنگ میں صبر کرنے والے (ثابت ہوئے) ۔ یہی لوگ ہیں جو (دعویٰ اسلام میں) سچے نکلے اور یہی لوگ متقی ہیں۔

[109] اس آیت میں اس عظیم حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ سعادت و نجات کے لئے مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کردینا حقیقی نیکی نہیں ہے بلکہ اصلی شے دل کی پاکیزگی اور نیک عمل ہے۔ شریعت کے ظاہری احکام بھی اسی لئے ہیں تاکہ یہ مقصود حاصل ہو۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص فرض کردیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت پھر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی مل جائے تو (مدعی کے لئے) معقول طریقے پر (خون بہا کا) مطالبہ کرنا اور (قاتل کے ذمے) خوش معاملگی کے ساتھ (خوں بہا) ادا کردینا۔ یہ (قانون دیت) تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور رحمت ہے۔ پھر اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے تو اس کے لئے (آخرت میں) دردناک عذاب ہے۔

[110] قصاص یعنی خون کا بدلہ۔ [111] یعنی جو قاتل ہو وہی قتل کیا جائے۔ [112] یعنی مقتول کا وارث جو رشتہ انسانی میں قاتل کا بھائی ہے۔ [113] اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتل کا معاملہ قابل راضی نامہ ہے اور مقتول کے وارث کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو قاتل سے قصاص نہ لے۔ اس صورت میں عدالت کے لئے قصاص پر اصرار جائز نہیں۔ البتہ معافی کی صورت میں قاتل کو خوں بہا ادا کرنا ہوگا۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

عقل و خرد رکھنے والو، قصاص میں تمہاری زندگی ہے، (اور یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ تم (خونریزی سے) بچو۔

[114] یعنی قصاص کے ڈر سے لوگ خونریزی سے باز رہیں گے۔
Ayahs 2:180–181

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آموجود ہو (اور) وہ کچھ مال چھوڑنے والا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معقول طریقے سے وصیت کرجائے۔ (یہ) لازم ہے متقی لوگوں پر۔

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی وصیت سننے کے بعد اسے بدل ڈالے تو اس کا گناہ انہی پر ہوگا جو اسے بدل ڈالیں۔ بیشک اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[115] یہ حکم وصیت سورة نساء کی آیت میراث کے نزول سے (جس میں حق داروں کے حصے معین کر کے بتا دیئے گئے ہیں) بہت قبل کا ہے۔ جائیداد کی تقسیم اب آیت میراث کے بموجب ہوگی۔ جہاں تک وصیت کا تعلق ہے نبی ﷺ کے حکم کے بموجب وصیت کل جائیداد کے صرف ایک تہائی حصے کی حد تک کی جاسکتی ہے اور وہ بھی صرف غیر وارث کو۔
Ayahs 2:182–183

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

البتہ جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے بےجا طرف داری کرنے یا کسی گناہ کا اندیشہ ہو اور وہ (معاملے سے تعلق رکھنے والے) لوگوں میں مصالحت کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والاہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزہ فرض کردیا گیا جس طرح ان لوگوں پر فرض کردیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

[116] یعنی وصیت اگر بےضابطہ ہے یا خلاف قاعدہ شرعی ہے اور کوئی شخص وارثوں کے درمیان نزاع رفع کرنے کے لئے مضمون وصیت میں ایسی ترمیم کردے جس سے حق تلفیوں کی اصلاح ہوجائے اور وارثوں میں باہم مصالحت ہوجائے۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(یہ روزے کے) چند مقررہ دن ہیں، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو (اس کے لئے اجازت ہے کہ) دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کر) گنتی (پوری کرلے) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں (پھر نہ رکھیں) تو ان کے ذمہ (ایک روزے کا) فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پھر جو کوئی اپنی خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم سمجھو تو روزہ رکھنا (بہرحال) تمہارے حق میں بہتر ہے۔

[117] یہ رعایت کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور پھر نہ رکھیں تو ان کے ذمہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اس دوسرے حکم کے تحت جو اگلی آیت میں آ رہا ہے منسوخ کردی گئی۔ [118] یعنی ایک سے زیادہ آدمیوں کو کھانا کھلائے یا فدیہ کے ساتھ روزہ بھی رکھے۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(وہ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا (جو) لوگوں کے لئے ہدایت (ہے) اور (اس میں) ہدایت اور (حق و باطل کے) امتیاز کے روشن دلائل (ہیں) پس جو کوئی تم میں سے یہ مہینہ پائے تو اس میں روزہ رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (روزے رکھ کر) گنتی (پوری کرے) ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم (روزوں کی) گنتی پوری کرلو اور اللہ نے جو تم کو راہ راست دکھا دی ہے اس پر اس کی کبریائی (کا اظہار) کرو اور شکر گزار بن کر رہو۔

[119] یعنی ماہ رمضان میں قرآن کا اترنا شروع ہوا۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب ہمارے بندے تم سے ہمارے بارے میں دریافت کریں تو (ان کو بتادو کہ) ہم ان سے قریب ہی ہیں۔ پکارنے والا جب ہمیں پکارتا ہے تو ہم اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں۔ پس (لوگوں کو) چاہئے کہ ہمارے احکام قبول کریں اور ہم پر ایمان لائیں تاکہ راہ راست پالیں۔

[120] رمضان المبارک کے احکام و مسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ رمضان میں دعا کی بڑی فضیلت ہے، خصوصاً افطار کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتایا گیا ہے۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

(مسلمانو، ) روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے، وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم تھا کہ تم لوگ (چوری چوری ان کے پاس جا کر) اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے پس اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ سو اب روزوں میں (رات کے وقت) ان سے ہم بستر ہو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اس (کے حاصل کرنے) کی خواہش کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ (رات کی) کالی دھاری سے صبح کی سفید دھاری تم کو صاف دکھائی دینے لگے، پھر رات تک روزہ پورا کرو۔ اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف کررہے ہو تو پھر (رات کو بھی) ان سے ہم بستر نہ ہونا۔ یہ اللہ کی (قائم کی ہوئی) حدیں ہیں، سو ان کے پاس بھی نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ (اس کے حکم کی خلاف ورزی سے) بچیں۔

[121] لباس کا ایک وصف امتیازی پردہ پوشی ہے۔ لباس جسم کے عیبوں کو چھپاتا ہے اور اس کے حسن و خوبی کو ابھارتا ہے۔ تشبیہ سے اشارہ اسی خاص وصف کی جانب معلوم ہوتا ہے۔ گویا میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ پوش ہونا چاہئے۔ [122] یعنی مباشرت اولاد حاصل کرنے کی نیت سے ہونی چاہئے تاکہ امت کی قوت اور کثرت میں اضافہ ہوتا رہے۔ [123] اعتکاف کے معنی ہیں رک جانا، پابند ہونا۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے رمضان کے آخری دنوں میں مسجد میں رہنا اور اللہ کی عبادت میں گزارنا۔ اعتکاف کی مدت کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق خوردبرد نہ کرو اور نہ اسے حکّام تک پہنچاؤ کہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جان بوجھ کر ناحق ہضم کر جاؤ۔

[124] اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حکام کو رشوت دے کر ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ مال دوسرے شخص کا ہے اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ عدالت میں نہ لے جاؤ۔ ہوسکتا ہے کہ حاکم عدالت روداد مقدمہ کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ تمہارے حق میں کردے اور اس کا مال تمہیں دلوادے مگر جو ناحق ہے وہ اللہ کے ہاں ناحق ہی شمار ہوگا۔ نیز ایک مزید جرم حاکم عدالت کو فریب میں مبتلا کرنے کا بھی عائد ہوگا۔
Ayahs 2:189–190

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) لوگ تم سے چاند (کی گھٹتی بڑھتی صورتوں) کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ (ان سے) کہو کہ یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کے تعین اور حج کے اوقات ہیں۔ (نیز ان سے کہو کہ) یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ آدمی تقویٰ اختیار کرے۔ لہذا تم گھروں میں (آؤ تو) ان کے دروازوں سے ہی (ہو کر) آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) جو لوگ تم سے لڑیں تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو اور زیادتی نہ کرنا، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[125] اسلام سے پہلے جو عجیب اور توہم پرستانہ رسمیں عرب میں رائج تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ حج کا احرام باندھ لینے کے بعد اگر گھر میں آنے کی ضرورت ہوتی تو پچھواڑے سے آتے نیز سفر سے واپس آ کر بھی گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے۔ یہاں اس رسم کی نہ صرف تردید کی گئی ہے بلکہ فرمایا گیا کہ نیکی اس طرح کی رسموں میں نہیں ہے بلکہ اصل نیکی اللہ سے ڈرنا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنا ہے۔
Ayahs 2:191–193

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور (جو لوگ تم سے لڑتے ہیں) ان کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم بھی ان کو (وہاں سے) نکال باہر کرو، فتنہ تو قتل سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں تم بھی ان سے نہ لڑو۔ پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان کو (بےتامل) قتل کرو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہوجائے۔ پھر اگر وہ (لڑائی سے) باز آجائیں تو (جان لو کہ) ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی (روا) نہیں۔

[126] یہاں فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب اور توحید کی مخالفت ہے۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور حرمتوں کا بدلہ ہے، تو جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اس پر ویسی ہی دست درازی کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

[127] ماہ حرام یعنی حرمت والا مہینہ۔ عرب کے قبائل آپس میں سخت جنگجو چلے آتے تھے لیکن آپس میں یہ بھی ٹھہر گئی تھی کہ سال میں چار مہینے جنگ بند رہے گی اور یہ زمانہ امن اور صلح کے ساتھ گزارا جائے۔ یہ چار مہینے یہ تھے۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ پہلے تین مہینے حج کے لئے مختص تھے اور رجب کا مہینہ عمرہ کے لئے مخصوص تھا۔ اس بنا پر ان مہینوں کو حرمت والے مہینے کہا جاتا تھا۔ [128] یعنی کسی مہینہ کی حرمت کی بنیاد تو بس اسی پر ہے کہ دوسرا فریق بھی اس کی حرمت ملحوظ رکھے گا۔ اگر یہ نہیں تو پھر کسی مہینہ کی حرمت کی بنیاد ہی نہیں۔ [129] یعنی جو تم سے حرمتوں کی رعایت کرے تو تم بھی اس کے ساتھ رعایت کرو۔ اگر وہ تم سے لڑتا ہے تو تم بھی لڑو۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

[130] یعنی اگر تم اپنا مال جہاد میں خرچ نہ کرو گے تو یہ تمہارے لئے موجب ہلاکت ہوگا۔ تم کفار سے مغلوب اور ذلیل ہو کر رہو گے۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور اللہ (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے (کی نیت کرلی ہو تو اس کو پورا کرو اور اگر (راہ میں کہیں) گھِر جاؤ تو قربانی (کردو) جیسی کچھ میسر آئے اور اپنا سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں (کوئی) تکلیف ہو (اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے) تو (اسے چاہئے کہ) فدیہ کے طور پر روزے (رکھے) یا صدقہ (دے) یا قربانی (کرے) ۔۔ پھر اگر تم امن کی حالت میں ہو تو جو کوئی عمرے کو حج سے ملا کر فائدہ اٹھانا چاہے تو (اس کو) قربانی (کرنی ہوگی) جیسی کچھ میسر آئے اور جس کو (قربانی) میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں (رکھ لے) اور سات روزے واپس آ کر، پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

[131] اور وہ ٹھکانا حرم ہے مطلب یہ ہے قربانی کے جانور یا اس کی قیمت کسی کے ہاتھ مکہ بھیج دے اور یہ مقرر کردے کہ فلاں روز اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے۔ [132] نبی ﷺ نے اس صورت میں تین دن کے روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ [133] یعنی زمانہ حج میں ایک احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور پھر دوسرے احرام سے حج کرلیا جائے۔ دونوں احراموں کی درمیانی مدت میں حالت احرام کے ممنوعات سے پوری طرح تمتع (فائدہ اٹھانا) کیا جاسکتا ہے اس طرح کے حج کو حج تمتع کہتے ہیں۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے (سب کو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی ٹھان لے تو (حج کے دوران) نہ تو کوئی شہوت کی بات (جائز ہے) نہ کوئی بدعملی (درست ہے) اور نہ لڑائی جھگڑا (زیبا ہے) اور نیکی کا کوئی سا کام بھی تم کرو گے اللہ کو اس کا علم ہو کر رہے گا۔ اور (سفر حج کے لئے) زاد راہ لے لیا کرو اور سب سے بہتر زاد راہ تو تقویٰ ہے پس اے عقل والو، ہم سے ڈرتے رہا کرو۔

[134] یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ اصل ارکان حج تو ذی الحجہ کے دوسرے ہفتے میں ادا ہوتے ہیں لیکن احرام حج شوال سے ہی بندھنا شروع ہوجاتا ہے، احرام وہ خاص لباس ہے جو میقات میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر لازم ہوجاتا ہے۔ یہ لباس صرف بےسلی ہوئی چادروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

(حج کے ساتھ ساتھ) تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو (اس میں) تم پر کچھ گناہ نہیں۔ پھر جب عرفات سے لوٹو تو مشعر الحرام (مزدلفہ) کے پاس (ٹھہر کر) اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، اور اس سے پہلے تم یقینا محض ناواقفوں میں سے تھے۔

[135] یعنی حج کے سفر میں اگر سوداگری کرو تو گناہ نہیں۔