2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:199–202

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے (اور) لوگ واپس آتے ہیں وہیں سے تم بھی واپس آؤ اور اللہ سے مغفرت چاہو بیشک اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم اپنے حج کے ارکان پورے کر چکو تو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کے ذکر میں لگ جاتے تھے اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بہت فرق ہے) ان میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، (جو کچھ) ہمیں (دینا ہے) دنیا ہی میں دیدے۔ ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی ان میں سے ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے عمل کے مطابق (دونوں جہانوں میں) حصہ ملے گا اور اللہ کو حساب چکاتے دیر نہیں لگتی۔

[136] یعنی عرفات سے۔ [137] عرفات میں ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے لیکن عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جانا قریش اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے اور صرف مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے۔ یہ آیت انہی کی اصلاح کے لئے ہے۔
Ayahs 2:203–207

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور گنتی کے (ان چند) دنوں میں اللہ کو یاد کرتے رہو پھر جو شخص جلدی کرے اور دو (ہی) دن میں (چل کھڑا ہو) اس پر (بھی) کچھ گناہ نہیں، اور جو دیر تک ٹھہرا رہے اس پر (بھی) کچھ گناہ نہیں۔ (یہ رعایت) اس کے لئے ہے جس میں تقویٰ ہو۔ پس (ہر حال میں) اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (قیامت کے دن) تم (سب) اس کے حضور جمع کئے جاؤ گے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) انسانوں میں کوئی (تو) ایسا ہے کہ دنیوی زندگی کے بارے میں اس کی باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنی نیک نیتی پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ بدترین دشمن (حق) ہے۔

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب (تمہارے پاس سے) لوٹ کرجاتا ہے تو ملک میں دوڑ دھوپ میں رہتا ہے کہ اس میں فساد پھیلائے، اور کھیتی باڑی اور (آدمیوں اور جانوروں کی) نسل کو تباہ کرے۔ حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو نخوت اس کو گناہ پر (اور زیادہ) آمادہ کردیتی ہے۔ سو ایسے شخص کے لئے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی میں اپنی جان (تک) کھپا ڈالتا ہے اور (ایسے) بندوں پر اللہ بڑی ہی شفقت رکھتا ہے۔

[138] یعنی ایام تشریق (10/ ذی الحجہ سے 13/ذی الحجہ) [139] یعنی ایام تشریق میں منیٰ سے مکہ کی طرف واپسی خواہ 12/ذی الحجہ کو ہو یا 13/کو، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
Ayahs 2:208–209

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم اس کے بعد بھی ڈگمگا گئے جب کہ تمہارے پاس واضح نشانیاں آچکی ہیں، تو جان رکھو کہ اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[140] یعنی اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ جو ایک مکمل نظام حیات ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی پر حاوی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم زندگی کے بعض حصوں میں تو اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے خارج کردو۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

(اگر جو کچھ ان لوگوں کے سامنے آچکا ہے وہ ان کے ایمان و یقین کے لئے کافی نہیں ہے تو) کیا اب وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کے سائبانوں میں فرشتوں کو ساتھ لئے ان کے سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے ؟ اور (آخرکار) سارے معاملات تو اللہ ہی کی طرف رجوع ہونے والے ہیں۔

[141] یعنی جزا اور سزا کا فیصلہ جو قیامت کو ہونے والا ہے آج ہی کردیا جائے۔
Ayahs 2:211–213

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگوں کو چاہئے کہ پچھلی امتوں کے واقعات سے عبرت پکڑیں) ، بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی ہوئی نشانیاں دی تھیں اور جو کوئی اللہ کی نعمت پانے کے بعد (اسے) بدل ڈالے تو اللہ سخت سزا دیتا ہے۔

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کی نظر میں دنیا کی زندگی خوشنما بنادی گئی ہے اور وہ ایمان والوں (کی موجودہ بےسروسامانی پر ان) کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ جو لوگ متقی ہیں وہ قیامت کے دن ان کے مقابلہ میں بلند مرتبہ ہوں گے۔ (رہا دنیا کا رزق تو) اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

ابتدا میں سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر (آپس میں لگے اختلاف کرنے تو) اللہ نے پیغمبر بھیجے جو (راست روی پر) خوشخبری دینے والے اور (کج روی کے نتائج سے) ڈرانے والے تھے، اور ان کے ساتھ اس نے کتاب برحق نازل کی تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کررہے ہیں (کتاب الٰہی) ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے، اور (کتاب الٰہی میں) یہ اختلاف آپس کی ضِدّم ضِدّا کی وجہ سے ان لوگوں نے کیا جنہیں وہ ملی تھی باوجودیکہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں۔ پھر جو لوگ ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے حکم سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

[142] اللہ کی نعمت سے مراد ہدایت وسعادت کی راہ ہے، بنی اسرائیل کو اللہ نے ہدایت وسعادت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے یہ نعمت پا کر اسے محرومی و شقاوت سے بدل ڈالا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔
Ayahs 2:214–216

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

(مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ (محض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم کو ان لوگوں کی سی حالت پیش نہیں آئی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں اور وہ جھنجھوڑے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد (آخر) کب آئے گی ؟ (اس وقت انہیں بشارت دی گئی کہ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم سے (لوگ) پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں ؟ ان سے کہہ دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر (خرچ کرو) ، اور جو بھی نیکی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا۔

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم پر (اللہ کی راہ میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے اور وہ تم کو ناگوار ہے۔ عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور کیا عجب کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

[143] مطلب یہ کہ سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ اللہ کے باغی اور سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا ہے اور انہوں نے جان کی بازی لگا کر اقامت دین کے لئے جدوجہد کی ہے تب کہیں وہ جنت کے مستحق ہوئے۔ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ تم نے ایمان کا اقرار کرلیا اور جنتی ہوگئے۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے ماہ حرام میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، (ان سے) کہہ دو کہ اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے مگر اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام میں نہ جانے دینا اور وہاں سے اس کے رہنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑھ کر (برا) ہے اور فساد (برپا کرنا) قتل سے (بھی) بڑھ کر (برا) ہے اور یہ لوگ تو تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کردیں اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے برگشتہ ہوجائے گا اور کفر ہی کی حالت میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے اور ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ ہی میں رہیں گے۔

[144] 2 ھ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک لڑائی میں مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی کی تھی بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کو ہوگیا تھا اور وہ تاریخ یکم رجب کی تھی۔ مشرکین نے سہواً غلطی کو رائی کا پہاڑ بنادیا اور طعن کرنا شروع کردیا کہ مسلمانوں کو اب حرمت والے مہینوں کا بھی احترام نہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [145] مگر صحابہ سے یہ گناہ سرزد ہی نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند کے ہونے کی خبر ہی نہ تھی۔ ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور جہاد کیا تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی آس لگائے (بیٹھے) ہیں اور (جو کوئی اللہ کی رحمت کا سچے طریقے پر امیدوار ہو تو) اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[146] دین کی خاطر گھر بار چھوڑنا اور کفر کی بستی کو چھوڑ کر ایمان کی بستی میں آجانے کا نام ہجرت ہے۔ [147] جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شدید کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ اس میں سب طرح کی بلائیں اور تکلیفیں آگئیں اور جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے کہ سب کچھ اللہ کی رضا کے لئے ہو۔
Ayahs 2:219–221

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ ان دونوں (چیزوں) میں بڑا گناہ ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے (کچھ) فائدے بھی ہیں مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ (اے پیغمبر، لوگ) تم سے دریافت کرتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں ؟ (ان سے) کہہ دو کہ جتنا آسان ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا اور آخرت (کے معاملات) میں۔ (اے پیغمبر، لوگ) تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (جس طرز عمل میں) ان کی اصلاح (اور درستگی ہو وہی) بہتر ہے۔ اور اگر تم اپنا (اور) ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے (دینی) بھائی (ہی) ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ مفسد کون ہے اور مصلح کون اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشکل میں ڈال دیتا۔ بیشک اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں کہ مومن لونڈی (ہزار درجہ) بہتر ہے مشرک عورت سے اگرچہ وہ تم کو کیسی ہی بھلی (کیوں نہ) لگے۔ اور اپنی عورتوں کو (بھی) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں کہ ایک مومن غلام بہتر ہے مشرک مرد سے اگرچہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا (کیوں نہ) لگے۔ یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت و مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور اپنے احکام لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

[148] یہ شراب اور جوئے کے متعلق پہلا حکم ہے جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ فقہا نے کہا ہے اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حرمت خمر پر دوسری آیتیں اس سے صریح تر نہ موجود ہوتیں تب بھی خود یہ آیت حرمت کے لئے کافی تھی۔ [149] فرض زکوٰۃ کی تو شرح متعین تھی۔ یہ سوال اس کے علاوہ دوسرے نیک کاموں میں خرچ کرنے سے متعلق تھا۔ [051] '' عفو '' سے مراد بس اتنا خرچ کرنا ہے جو اپنے اوپر بار نہ ہو اور اپنے ضروری مصارف میں تنگی نہ اٹھانا پڑے۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، لوگ) تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ وہ گندگی (کی حالت) ہے، پس حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو لیں ان کے پاس نہ جاؤ۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جدھر سے اللہ نے تم کو بتایا ہے۔ بیشک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک و صاف رہنے والوں کو۔

[151] یعنی ان سے مباشرت نہ کرو۔ [152] یعنی جائز فطری طریق کے مطابق۔ اس کے علاوہ حصول لذت کے سارے طریقے ناجائز ہیں۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں (گویا) تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے مستقبل کا بھی سروسامان کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم کو اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ اور (اے پیغمبر، ) جو (تمہاری ہدایات کو) مان لیں انہیں (فلاح وسعادت کی) خوشخبری دے دو ۔

[153] عورت کھیتی ہے اور مرد کاشت کار اور نطفہ بیج۔ جس طرح کھیت میں بیج ڈالنے کا مقصد پیداوار حاصل کرنا ہے اسی طرح مباشرت کا مقصد افزائش نسل ہے محض قضاء شہوت نہیں۔ [154] مطلب یہ ہے کہ تخم ریزی کا ہی ارادہ ہونا چاہئے اور وہیں ہونا چاہئے جہاں تخم ریزی ممکن ہے، البتہ شریعت کو اس سے بحث نہیں کہ تم نسل کی تخم ریزی کے لئے کونسا طریقہ اختیار کرتے ہو۔ [155] یعنی اپنی نسل برقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے بعد تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں۔
Ayahs 2:224–226

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور (مسلمانو) اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں کے لئے آڑ نہ بناؤ یہ کہ (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے، پرہیزگاری (کی راہ) اختیار کرنے اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے باز رہو اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

تمہاری لغو قسموں پر اللہ تم سے مواخذہ نہ کرے گا لیکن ان (قسموں) پر تم سے (ضرور) مواخذہ کرے گا جو تمہارے دلی ارادے سے ہوں اور اللہ بہت درگزر کرنے والا (اور) بردبار ہے۔

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا بیٹھیں ان کو چار مہینے کی مہلت ہے۔ پھر (اس مدت میں) رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

[156] عرب میں ایک جاہلانہ دستور تھا کہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کام نیکی کا، تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو قسم کھاچکے ہیں۔ یہ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔
Ayahs 2:227–228

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کی ٹھان لیں تو (جان لیں کہ) اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ اپنے آپ کو تین حیض تک (نکاح ثانی سے) روکے رکھیں، اور اگر اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے جائز نہیں کہ جو چیز اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کردی ہو اسے چھپائیں۔ اور ان کے شوہر اصلاح حال پر آمادہ ہوں تو اس (مدت کے) دوران وہ ان کو (اپنی زوجیت) میں واپس لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔ اور (دیکھو) عورتوں کے لئے بھی دستور (شرعی) کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر (ایک گونہ) فضیلت (حاصل) ہے اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[157] زمانہ جاہلیت میں عربوں کا ایک شعار یہ بھی تھا کہ شوہر غصہ میں آکر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیویوں سے ہم بستری نہ کریں گے۔ شرعی اصطلاح میں اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ ایسے بگاڑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے چار مہینے کی مدت مقرر کردی کہ یا تو اس دوران میں رجوع کرلو ورنہ رشتہ ازدواج منقطع کردو تاکہ عورت آزاد ہو کر جس سے چاہے نکاح کرلے۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو بار ہے، پھر یا تو دستور (شرعی) کے مطابق (عورت کو) روک لینا ہے یا (پھر) حسن سلوک کے ساتھ اسے الگ کردینا۔ اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ (واپس) لے لو۔ الا ّ یہ کہ زوجین کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی (قائم کی ہوئی) حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ تو ان کے لئے اس میں کچھ گناہ نہ ہوگا اگر بیوی (اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے) بطور معاوضہ کے کچھ دیدے۔ یہ اللہ کی (قائم کی ہوئی) حدود ہیں، سو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کریں تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

[158] طلاق دینے کا طریقہ ہے کہ وہ تین مرتبہ، تین مجلسوں میں، تین مہینوں میں اور یکے بعد دیگرے واقع ہوتی ہے۔ تیسری طلاق سے پہلے تک رجوع کا موقعہ باقی رہتا ہے۔ تیسری طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ [159] یعنی اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ شوہر طلاق نہ دینا چاہتا ہو، نہ اس کی طرف سے کوئی قصور ہو لیکن کسی وجہ سے آپس میں بنتی نہ ہو اور اندیشہ پیدا ہوگیا ہو کہ ازدواجی زندگی کے فرائض ادا نہ ہو سکیں گے تو اس صورت میں اگر عورت کہے کہ اپنا مہر یا اس کا کوئی حصہ چھوڑ دیتی ہوں اور شوہر اس کے بدلہ میں طلاق دیدے تو ایسی معاملت جائز ہے۔ طلاق کی اس صورت کا نام جس میں طلاق کی خواستگار عورت ہو شرعی اصطلاح میں خلع ہے۔
Ayahs 2:230–233

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر مرد عورت کو (تیسری) طلاق دیدے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں (ہو سکتی) جب تک وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے اس کو (خود اپنی مرضی سے) طلاق دے دی تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں کہ ایک دوسرے کی طرف (پھر) رجوع کرلیں۔ بشرطیکہ دونوں کو توقع ہو کہ اللہ کی (قائم کی ہوئی) حدود پر وہ قائم رہ سکیں گے۔ یہ اللہ کی (قائم کی ہوئی) حدود ہیں جنہیں وہ ان کے لئے بیان کرتا ہے جو (مصالح خانہ داری کو) سمجھتے ہیں۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم نے عورتوں کو (دو بار) طلاق دیدی اور ان کی عدت پوری ہونے کو آئی تو یا انہیں ٹھیک طریقے پر روک لو یا ٹھیک طریقے پر رخصت کردو اور ان کو ایذا دہی کے لئے نہ روکو کہ یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اور اللہ کے احکام کو ہنسی (کھیل) نہ بنا لو اور اللہ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو اور اس کتاب و حکمت کو بھی جو اس نے تم پر نازل کی ہے کہ اس کے ذریعہ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی اور وہ (عدت کی) مدت پوری کر چکیں، تو تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے (زیر تجویز) شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ معروف طریقے سے آپس میں رضا مند ہوجائیں۔ اس (حکم) کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے ہر اس شخص کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہی تمہارے لئے پاکیزہ تر اور شائستہ (طریقہ) ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور جو شخص (اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اپنی اولاد کو) پوری مدت رضاعت تک دودھ پلوانا چاہے تو مائیں اپنی اولاد کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں اور جس کا بچہ ہے اس پر دستور کے مطابق ماں کو کھانا کپڑا دینا لازم ہے۔ (نان نفقے کے تعین میں) کسی کو تکلیف نہ دی جائے مگر جہاں تک اس کی گنجائش ہو، نہ تو ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے اور اسی طرح (نان نفقے کا انتظام) وارث کے ذمہ بھی ہے۔ پھر اگر (وقت سے پہلے ماں باپ) دونوں باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو (کسی اناّ سے) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (بشرطیکہ ماؤں کی حق تلفی نہ ہو اور) جو کچھ تم نے انہیں دستور کے مطابق دینا (طے) کیا تھا (ان کے) حوالہ کردو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

[160] تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ عدت گزرنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور وہ بعد صحبت کسی وقت خود اپنی مرضی سے طلاق دے دے پھر عدت گزارنے کے بعد عورت کا اپنے پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور (اپنے پیچھے) بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ پھر جب اپنی مدت پوری کرلیں تو جائز طور پر جو کچھ اپنے حق میں کریں اس کا تم (وارثان میت پر) کوئی الزام نہیں اور تم لوگ جو کچھ (بھی) کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

[161] یہ عدت وفات ہے۔ اس مدت میں نہ وہ نکاح کرے، نہ اپنا مسکن چھوڑے، نہ بناؤ سنگھار کرے، نہ دوسرے نکاح کی بات چیت کھل کر کرے۔ بیوہ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے جیسا کہ سورة طلاق میں مذکور ہے۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان عورتوں کو (زمانہ عدت میں) پیغام نکاح کے بارے میں کوئی بات اشارۃً کہو یا دل میں چھپائے رکھو، اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تمہیں آئے گا لیکن ان سے (نکاح کا) خفیہ وعدہ نہ کرنا الا یہ کہ کوئی بات مناسب طریقے سے کہہ دو ۔ اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ میعاد مقررہ اختتام کو نہ پہنچ لے، اور جان لو کہ جو کچھ تمہارے دل میں ہے اللہ (اس کو) خوب جانتا ہے لہذا اس سے ڈرتے رہو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بخشنے والا (اور) بردبار ہے۔

[162] اور وہ مناسب طریقہ یہی ہے کہ جو کچھ بھی کہنا ہو اشارۃً و کنایۃً ہی کہا جائے۔ [163] یعنی ختم عدت سے پہلے عزم نکاح کرلینا بھی درست نہیں۔
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی عورتوں کو جنہیں تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو اور نہ ان کا مہر مقرر کیا ہو، طلاق دیدو۔ (ہاں ایسی صورت میں) ان کے ساتھ کچھ سلوک کرو، مقدور والا اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست اپنی طاقت کے مطابق معروف طریقے سے دے۔ اور یہ حق ہے نیک لوگوں پر

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو اور ان کا مہر مقرر کرچکے ہو تو جو کچھ تم نے مہر مقرر کیا تھا اس کا آدھا (دینا) تم پر واجب ہے الا یہ کہ عورت (اپنی خوشی سے) کچھ معاف کردے یا (مرد) جس کے ہاتھ میں نکاح (کے قائم رکھنے اور توڑنے) کا اختیار ہے رعایت کرے (اور نصف سے زیادہ یا پورا مہر دیدے) ۔ اور اگر تم (مرد) درگزر کرو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اور آپس میں احسان اور بھلائی کرنا نہ بھولو۔ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

[164] ہاتھ لگانے سے مراد مباشرت ہے۔ [165] یعنی اس طرح رشتہ جوڑنے کے بعد توڑ دینے سے بہرحال عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہنچتا ہی ہے اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ حسب مقدرت اس کی تلافی کرو۔