2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 2:41–44

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور اس (قرآن) پر ایمان لاؤ جو ہم نے (اب) نازل کیا ہے اور اس (کتاب تورات) کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی (سب سے) پہلے اس کے انکار کرنے والے نہ بن جاؤ اور ہماری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچ ڈالو اور ہم ہی سے ڈرتے رہو

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور سچ کو جھوٹ کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور جان بوجھ کر حق بات کو نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ تم بھی جھکا کرو۔

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا تم (دوسرے) لوگوں سے نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم کتاب (الٰہی) کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

[37] حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا حق فروشی ہے اس کے معاوضے میں انسان خواہ دنیا بھر کی دولت لے لے بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے کیونکہ حق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔
Ayahs 2:45–46

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور صبر اور نماز کا سہارا پکڑو اور البتہ نماز شاق ہے مگر ان پر نہیں جو عاجزی کرتے ہیں

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

(اور) جو سمجھتے ہیں کہ (آخرکار) وہ اپنے رب سے ملنے والے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

[38] '' لفظ صبر '' کے اصل معنی روکنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ، مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ اس کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ بندہ پوری طمانیّتِ قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد پر ڈٹا رہے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور راہ حق میں اس کو جن مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دے۔ صبر کے اصل معنی قرآن نے خود بھی واضح کردیئے ہیں، چناچہ سورة بقرہ میں فرمایا (وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ 177۔ ) 2 ۔ البقرة :177) (177) (اور ثابت قدمی دکھانے والے سختی میں تکلیف میں اور لڑائی کے وقت) یہاں صبر کے تین مواقع کا ذکر کیا گیا ہے یعنی غربت، بیماری اور جنگ، غور کیجئے تو تمام مصائب و شدائد کے سرچشمے یہی تین ہیں۔ ان سے بچنا نفس کے لئے نہایت شاق ہے اس لئے وہ نسخہ بھی بتادیا ہے جو اس مشکل کام کو آسان بنا سکتا ہے۔ یہ نسخہ صبر اور نماز کے دو جزوں پر مشتمل ہے۔ صبر کا تعلق اخلاق و کردار سے اور نماز کا تعلق عبادات سے ہے۔ انسان کے اندر مشکلات کے خلاف حق پر ڈٹے رہنے کی صفت موجود نہ ہو تو وہ کوئی اعلیٰ کام تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا، لیکن مشکلات و موانع کے خلاف کسی صحیح موقف پر ڈٹے رہنے کی صفت انسان کے اندر آسانی سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ ریاضت سے پیدا ہوتی ہے جس کا طریقہ نماز ہے۔ آدمی اگر ایک صحیح راہ پر چلنے کا عزم کرلے اور اس پر چل کھڑا ہو اور ساتھ ہی برابر اپنے رب کو یاد رکھے اور اس سے مدد مانگتا رہے (جس کی بہترین شکل نماز ہے) تو اس کے عزم کی قوت ہزار گنا بڑھ جاتی ہے اور کوئی مشکل سے مشکل حالت بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا ہونے نہیں دیتی۔ اگر حالات کی نزاکت سے آدمی کے پاؤں لڑکھڑانے لگیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا وہ تعلق جو نماز کے واسطے سے قائم ہوا ہے اس کو گرنے سے بچا لیتا ہے۔
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل، ہمارے وہ احسانات یاد کرو جو ہم تم پر کرچکے ہیں اور اس بات کو بھی کہ ہم نے تم کو دنیا جہان (کے لوگوں) پر فوقیت دی تھی۔

[39] احسانات یہ تھے کہ انہیں علم حق سے نوازا گیا تھا اوراقوام عالم کا امام اور رہنما بنایا گیا تھا مزید برآں انبیاء اور رسل جہاں تک کہ نسل کا تعلق ہے نسل اسرائیل ہی میں مسلسل پیدا ہوتے رہے، چناچہ یعقوب (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار نبی ان میں آ چکے تھے۔
Ayahs 2:48–50

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی اور نہ کسی سے معاوضہ لیا جائے گا اور نہ لوگوں کو (کہیں سے) کچھ مدد مل سکے گی۔

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت ایذا پہنچاتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا، پھر ہم نے تم کو تو نجات دی اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے (دیکھتے) غرق کردیا۔

[40] یعنی روز قیامت سے
Ayahs 2:51–52

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں والا وعدہ کیا تھا تو تم اس کے پیچھے (پرستش کے لئے) بچھڑے کو لے بیٹھے اور تم (سخت) ظالم تھے۔

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

مگر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا تاکہ تم شکر گزار بنو۔

[41] جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو فرعون کے پنجہ غضب سے نکال لائے تو اب اللہ کی مشیت یہ ہوئی کہ اس قوم کو ایک پورا قانون شریعت اور دستور زندگی عطا ہوا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا۔
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) اور فرقان عطا کی تاکہ تم ہدایت پاؤ

[42] یعنی وہ چیز جس سے حق اور باطل، حلال اور حرام کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مراد کتاب تورات ہی ہے جسے فرقان سے تعبیر کر کے اس کے ایک اور پہلو کو واضح کردیا ہے۔
Ayahs 2:54–56

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو) تم نے بچھڑے (کی پرستش) کے اختیار کرنے سے اپنے اوپر (بڑا ہی) ظلم کیا ہے لہذا (اب) اپنے خالق کی جناب میں توبہ کرو اور اپنے اشخاص کو قتل کرو۔ اس میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔ چناچہ اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے جب تک کہ ہم کھلم کھلا اللہ کو (تم سے کلام کرتا ہوا) نہ دیکھ لیں، اس پر تم کو بجلی نے آدبوچا اور تم دیکھتے (کے دیکھتے) رہ گئے۔

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر تمہارے مرجانے کے بعد ہم نے تم کو زندہ کیا تاکہ تم شکرگزار بنو۔

[43] یعنی اپنے ان لوگوں کو قتل کرو جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور من وسلویٰ بھی اتارا (اور کہا کہ) جو پاک چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں انہیں کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

[44] من وسلویٰ قدرتی غذائیں تھیں جو بنی اسرائیل کو مہاجرت کے زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں چالیس سال تک ملتی رہیں۔ من سوکھے دھنیے کی مانند تھا اور سلویٰ ایک قسم کا بٹیر۔ [45] یعنی ان نعمتوں کو پا کر شکرگزار بننے کی بجائے ان کی ناقدری اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا کہ اس بستی میں (جو تمہارے سامنے ہے) داخل ہوجاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ (پیو) اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور کہتے جانا حطۃ ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور نیکوکاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔

[46] یعنی ہمارے گناہ معاف فرما۔
Ayahs 2:59–60

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

مگر جو بات ان سے کہی گئی تھی اسے ظالموں نے بدل کر کچھ اور کردیا تو ہم نے ظلم کرنے والوں پر ان کی نافرمانی کی سزا میں آسمان سے عذاب نازل کیا۔

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعا مانگی تو ہم نے کہا کہ (اے موسیٰ ) اپنا عصا (فلاں) چٹان پر مارو۔ (عصا کا مارنا تھا کہ) یکایک اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے پانی پینے کی جگہ معلوم کرلی۔ (اس وقت تم سے کہا گیا تھا کہ) اللہ کا دیا ہوا کھاؤ اور پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

[47] یعنی حِطّۃ کی بجائے ازراہ تمسخر حِنْطَۃ کہنے لگے جس کے معانی ہیں گیہوں۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے (موسیٰ سے) کہا تھا کہ اے موسیٰ ، ہم سے تو ایک کھانے پر نہیں رہا جاتا تو اپنے رب سے دعا کرو کہ زمین سے جو چیزیں اگتی ہیں یعنی ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز (وغیرہ جو مصر میں ہم کھایا کرتے تھے) ہمارے لئے پیدا کرے۔ (موسیٰ نے) کہا '' کیا تم لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے (یعنی غذا کی لذت) بدلے اس چیز کے جس میں خیر (و برکت) ہے ؟ (اچھا تو) کسی شہر میں اتر پڑو کہ جو مانگتے ہو تم کو (وہاں) ملے گا ''۔ آخر کار ذلت اور محتاجی ان پر مسلط ہوگئی اور اللہ کے غضب میں آگئے، اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر ڈالتے تھے (اور) یہ اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے بڑھ (بڑھ) جاتے تھے۔

[48] روکھی پھیکی غذا جو آزادی کے ساتھ نصیب ہو، غلامی کے حلوے مانڈے سے بہتر ہے۔ انسان کا ضمیر اگر زندہ ہو تو وہ کھانے کی لذت دسترخوان کے تنوعات کے اندر نہیں ڈھونڈتا بلکہ ضمیر و آزادی کے اندر تلاش کرتا ہے۔
Ayahs 2:62–64

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ (پیغمبر اسلام پر) ایمان لا چکے ہیں (وہ ہوں) ، یہودی، عیسائی (ہوں) یا صابی (غرض) جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ان (سب) کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے نہ تو کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے (تورات کی تعمیل کا) اقرار لیا اور طور (پہاڑ) کو تمہارے اوپر بلند کیا (اور کہا کہ کتاب تورات) جو ہم نے تم کو دی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو اس میں (لکھا) ہے اسے یاد رکھنا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

مگر اس کے بعد تم (اپنے عہد سے) پھرگئے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہوجاتے۔

[94] اہل کتاب کا ایک فرقہ جو خود کو یحییٰ (علیہ السلام) کا پیرو کار کہتا تھا۔ [05] یعنی اعتقاد صحیح اور عمل صالح یہی دو شرائط نجات ہیں اور ان دو کی تصحیح کے بعد قوم، نسل وغیرہ کی ساری نسبتیں ہیچ ہیں۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اس لئے ہم ہر طرح سے اللہ کے نزدیک دوسروں سے بہتر ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال خواہ کیسے ہی ہوں نجات ہمارا مقدر ہے۔
Ayahs 2:65–72

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور البتہ تمہیں (اپنی قوم کے) ان لوگوں کا انجام تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کے بارے میں تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ بندر بن جاؤ (کہ جہاں جاؤ) دھتکارے (جاؤ)

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اس واقعہ کو ان لوگوں کے لئے جو اس (واقعہ کے) وقت موجود تھے اور جو اس (واقعہ) کے بعد آئے تھے (موجب) عبرت بنادیا اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ (موسیٰ نے) کہا اللہ مجھے اپنی پناہ میں رکھے کہ میں ایسا نادان بنوں۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

وہ بولے اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ ہم کو اچھی طرح سمجھا دے کہ وہ (گائے) کیسی ہو ؟ (موسیٰ نے) کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، (بس) درمیانی عمر کی ہو۔ لہذا جو تم کو حکم دیا گیا ہے (اس کی تعمیل) کرو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

وہ بولے اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ ہم کو اچھی طرح سمجھادے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (موسیٰ نے) کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے زرد ہو، اس کا رنگ خوب گہرا ہو تاکہ دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ بولے اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ ہم کو اچھی طرح سمجھاوے کہ وہ (اور) کیا کیا (صفات رکھتی) ہو۔ ہم کو اس گائے کے بارے میں (قدرے) اشتباہ ہوگیا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم (اس کا) ٹھیک پتہ لگا لیں گے۔

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

(موسیٰ نے) جواب دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے محنت کرنے والی نہ ہو، نہ زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، صحیح سالم ہو، اس میں کسی طرح کا داغ (دھبہ) نہ ہو۔ وہ بولے (ہاں) اب تم ٹھیک (پتہ) لائے ہو۔ غرض انہوں نے اسے ذبح (تو) کیا لیکن وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا پھر اس (بارے) میں جھگڑنے لگے اور اللہ کو اس کا پردہ فاش کرنا (منظور) تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔

[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Ayahs 2:73–74

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پس ہم نے کہا کہ اس (میت) کو اس (گائے) کے کسی حصے سے ضرب لگاؤ۔ اسی طرح (قیامت میں) اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل (ایسے) سخت ہوگئے کہ گویا وہ پتھر ہیں بلکہ (ان سے بھی) سخت تر اور پتھروں میں سے بھی کوئی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور ان میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے پانی نکلتا ہے، اور کوئی ان میں سے ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کے خوف سے (لرز کر) گرپڑتا ہے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

[52] یہودیوں میں ایک خون ہوگیا تھا اس کا پتہ نہ چلتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو ایک گائے ذبح کرنے کو کہا، اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے مطابق کٹ حجتیاں شروع کردیں۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو گائے کے بارے میں اتنی پابندیاں ان پر نہ لگائی جاتیں۔ آخر کار انہوں نے گائے ذبح کی اور اس کے ایک ٹکڑے سے مردے کی لاش کو ضرب لگانے کے لئے کہا گیا۔ ضرب لگتے ہی مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتادیا اور پھر مرگیا۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(مسلمانو) کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہود) تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہو گزرے ہیں کہ اللہ کا کلام سنتے تھے، پھر سمجھنے کے بعد دانستہ اس کو کچھ کا کچھ کردیتے تھے۔

[53] کچھ کا کچھ کردینے میں لفظوں کا ردوبدل اور معنوں کا ہیرپھیر دونوں باتیں شامل ہیں۔
Ayahs 2:76–77

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لا چکے ہیں اور جب تنہائی میں ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جو کچھ (تورات میں) اللہ نے تم پر ظاہر کیا ہے کیا تم مسلمانوں کو بتا دیتے ہو تاکہ وہ تمہارے خلاف تمہارے رب کے حضور اس کو دلیل کے طور پر پیش کریں ؟ تو کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

(لیکن) کیا ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ؟

[54] یعنی تمہارے پروردگار کے کلام سے تمہارے خلاف استدلال کریں۔
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں (ایسے) ان پڑھ (بھی) ہیں جو کتاب (الٰہی) کا کوئی علم نہیں رکھتے بجز (جھوٹی) آرزوؤں کے اور فقط خیالی تکے چلایا کرتے ہیں

[55] مسلمانوں کو یہ آیت پڑھ کر کانپ اٹھنا چاہئے کہ کم و بیش یہی کیفیت ان کی آج قرآن کے ساتھ ہے۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے (شرعی) حکم لکھتے ہیں پھر (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں سے (اترا) ہے تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں پس خرابی ہے ان کے لئے اس کی بدولت جو وہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں اور خرابی ہے ان کے لئے جو ایسی کمائی کرتے ہیں۔

[56] یعنی دنیوی فائدے۔