2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة البقرہ ا۔ سورة کا عمود :۔ اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورة فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورة میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورة فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے اور سورة بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔ ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجودنہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔ ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لیے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورة فاتحہ میں " اھدنا الصراط المستقیم " کی دعا سے ہورہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورة بقرہ قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کے حق کو تسلیم کرچکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول پر ایمان لآ جس پر یہ کتاب اتری۔ اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ سورة فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورة ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورة ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہوگئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورة فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورة فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرہ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ب۔ سورة میں خطاب :۔ اس سورة میں اصل خطاب تو یہود سے ہے لیکن ضمناً اس میں جگہ جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، مسلمانوں کو، اور بنی اسمعیل کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔ یہود کو مخاطب کر کے ان کے ان تمام مزعومات و توہمات کی تردید کی گئی ہے جن کے سبب سے وہ اپنے آپ کو پیدائشی حقدارِ امامت و سیادت سمجھے بیٹھے تھے اور کسی ایسے نبی پر ایمان لانا اپنی توہین سمجھتے تھے جو ان کے خاندان سے باہر امی عربوں میں پیدا ہوا ہو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے جگہ جگہ آپ کو صبر و استقامت کی نصیحت کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت جو دعا کی تھی آپ اس دعا کے مظہر ہیں۔ مخالفین کی تمام حاسدانہ سرگرمیوں کے علی الرغم آپ کی دعوت کامیاب ہو کے رہے گی اور اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غالب کرے گا۔ مسلمانوں سے خطاب کر کے یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق پر اپنے دین کی حجت تمام کرنے کے لیے ان کو ایک مستقل امت کی حیثیت سے مامور کیا ہے اور اپنی آخری شریعت کا ان کو امین بنایا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اس امانت کی قدر کریں اور اس کے حامل بنیں تاکہ وہ خلق کے رہنما اور اپنے بعد والوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکیں۔ اسی ضمن میں ان کو جگہ جگہ یہود کی ان حاسدانہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے، ان کو ورغلانے اور ان کو آخری بعثت کی نعمتوں سے محروم کرنے کے لیے ان کی طرف سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ بنی اسماعیل کو مخاطب کر کے ان کے سامنے اصل دین ابراہیمی ان تمام بدعتوں اور خرابیوں سے پاک کر کے پیش کیا گیا ہے جو مشرکین اور یہود نے اس میں پیدا کردی تھیں اور ساتھ ہی ان پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنا آخری نبی تمہارے اندر سے اٹھایا، اور تمہیں ایک امت مسلمہ بنانا چاہا، تم اس احسان کی قدر کرو اور یہودیوں کی حاسدانہ چالوں کے چکر میں نہ پھنسو۔ ورنہ تم پرائے شگون پر خود اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ :۔ سورة کے مطالب کا تفصیلی تجزیہ تو اس وقت سامنے آئے گا جب ہم آیات کے مناسب حصوں کو الگ الگ لے کر ان کی تفسیر کریں گے لیکن یہاں بھی ہم اس کے مطالب کا ایک سرسری جائزہ پیش کیے دیتے ہیں۔ اس سے سورة کے عمود کے ساتھ اس کے ہر حصہ کا تعلق بھی سمجھنے میں مدد ملے گی اور سورة پر بحیثیت مجموعی ایک اجمالی نظر بھی پڑجائے گی۔ ہمارے نزدیک مضامین کی تقسیم کے لحاظ سے یہ سورة ایک تمہید، چار ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے۔ (آیت 1 تا 39) یہ حصہ تمہیدی ہے۔ اس میں پہلے تو یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کتاب پر کون لوگ ایمان لائیں گے، کون لوگ ایمان نہیں لائیں گے، پھر ایمان نہ لانے والوں کی رکاوٹیں اور ان کی ذہنی الجھنیں بیان ہوئی ہیں جن میں وہ قرآن کے نزول کے بعد مبتلا ہوگئے تھے۔ اسی ضمن میں بنی اسمعیل کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ان پر اللہ کی اس کتاب نے حجت تمام کردی ہے، اب ان کی شامت ہی ہے جو یہودی فتنہ پردازوں کے چکموں میں آکر وہ اپنے آپ کو اس نعمت عظمیٰ سے محروم کر بیٹھیں۔ یہ تمہیدی حصہ آدم کی خلافت اور شیطان کی حاسدانہ مخالفت کی سرگزشت پر ختم ہوتا ہے۔ آدم اور شیطان کی یہ سرگزشت ایک آئینہ ہے جس میں اس تمام مخالفت اور موافقت کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور قرآن کی دعوت سے اٹھ کھری ہوئی تھی۔ فرشتوں کا آدم کی خلافت پر اعتراض کرنا اور اپنے اعتراض کا جواب پا جانے کے بعد مطمئن ہوجانا مثال ہے ان لوگوں کی مخالفت کی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے بعض پہلو نہ سمجھنے کے سبب سے شروع شروع میں آپ کی رسالت کے بارے میں متردد یا اس کے مخالف رہے لیکن چونکہ یہ لوگ نیک دل اور حق پسند تھے، حاسد اور ہٹ دھرم نہ تھے، اس وجہ سے جونہی ان پر اصل حقیقت واضح ہوگئی وہ آپ کے حامی اور مددگار بن گئے۔ اس کے برخلاف شیطان کی مخالفت مثال ہے ان لوگوں کی مخالفت کی جو غرور نسب، غرورِ جاہ یا حسد کی بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کر رہے تھے۔ مثلاً یہود اور سرداران قریش اس طرح کی مخالفت کرنے والوں کی مخالفت اصل حقیقت کے واضح ہونے سے دور نہیں ہوتی بلکہ اور زیادہ بڑھ جایا کرتی ہے۔ چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کی صداقت جتنی ہی زیادہ واضح ہوتی گئی، اتنی ہی ان لوگوں کی عداوت بھی بڑھتی گئی۔ اس تصویر میں یہود اور ان کے ہم نواؤں پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ آدم کی خلافت کے خلاف جس نوعیت کا غم و غصہ اور حسد ابلیس کو تھا اسی نوعیت کا غم و غصہ اور حسد اللہ کے آخری رسول کے خلاف تم کو ہے۔ اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی ہے کہ جس طرح ابلیس کے غم و غصہ کے علی الرغم آدم کی خلافت قائم ہو کے رہی۔ اسی طرح تمہاری دشمنی اور تمہارے حسد کے علی الرغم نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت قائم ہو کے رہے گی۔ (آیت 39 تا 121) اس حصہ میں بنی اسرائیل کو تصریح کے ساتھ مخاطب کر کے پہلے ان کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اس نبی امی پر ایمان لائیں جس کی بعثت کی پیشین گوئیاں خود ان کے اپنے صحیفوں میں بھی موجود ہیں۔ پھر ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ جس دعوت حق کی تائید و حمایت میں سبقت کرنے کے لیے ان سے تورات میں عہد لیا جا چکا ہے، دنیا پرستی اور حسد میں مبتلا ہو کر اس کی مخالفت کے لیے سبقت نہ کریں۔ نیز اس ذلیل مقصد کے لیے حق اور باطل کو باہم گڈ مڈ کرنے کا جو کاروبار انہوں نے جاری کر رکھا ہے اس سے باز آئیں اور اس جہاد نفس میں صبر اور نماز سے مدد حاصل کریں۔ (40-46) ۔ اس کے بعد یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ خدا کے ہاں عزت و تقرب کا ذریعہ ایمان اور عمل صالح ہے نہ کہ کسی خاص خاندان یا کسی خاص گروہ سے وابستہ ہونا۔ یہود اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ان کو جو عزت و عظمت حاصل ہوئی ہے وہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ اس غلط فہمی کے سبب سے ان کا سارا اعتماد ایمان اور عمل صالح کے بجائے محض اپنی خاندانی اور گروہی نسبت پر رہ گیا تھا۔ اور یہ غرہ ان کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے میں بہت بڑی رکاوٹ بن گیا تھا۔ یہاں ان پر واضح کیا گیا ہے کہ تمام فضل و کرم اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، جو فضل بھی تم پر ہوا ہے اسی کی طرف سے ہوا ہے اور جو فضل بھی ہوگا اسی کی طرف سے ہوگا۔ اس نے تم پر فضل بھی بڑے بڑے کیے ہیں اور تمہاری ناشکریوں پر تم کو سزائیں بھی بار بار دی ہیں۔ اس وجہ سے خاندان اور نسب کی نسبتوں کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرو اور اوہام میں مبتلا ہو کر حقائق سے منہ نہ موڑو۔ (47-63) ۔ یہود کو تنبیہ : اس کے بعد یہود کی عہد شکنیوں کی پوری تاریخ بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے کس کس طرح خدا سے کیے ہوئے عہد و پیمان اور خدا کے دئیے ہوئے احکام توڑے ہیں اور عہد شکنی اور غداری کے لیے کیسی مجرمانہ ذہنیت شروع ہی سے ان کے اندر پرورش پاتی رہی ہے۔ نیز ان کے وہ اوہام اور وہ مشاغل بھی بیان ہوئے ہیں جن میں مبتلا ہوجانے کے سبب سے ان کی نگاہوں میں خدا اور اس کی شریعت اور اس کی کتاب کی کوئی قدر سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی تھی۔ یہ ساری تفصیل یہود پر یہ واضح کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے کہ اگرچہ وہ کتاب الٰہی کے حامل ہونے کے مدعی ہیں لیکن فی الحقیقت انہوں نے اس کتاب کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے تام عہد و پیمان انہوں نے توڑ ڈالے ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے منصب امامت سے معزول کرے اور یہ امانت ان کے حوالہ کرے جو اس کے اہل ہوں۔ (64 ۔ 121) ۔ (122-162) حضرت ابراہیم کی سرگزشت :۔ اس باب میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت کا وہ حصہ بیان ہوا ہے جو خانہ کعبہ کی تعمیر نیز ایک امت مسلمہ کے قیام اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی دعا سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں پہلے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کا دین اسلام تھا، نہ کہ یہودیت و نصرانیت، اسی اسلام کی دعوت کے لیے اللہ ت عالیٰ نے ایک امت وَسَط پیدا کی ہے۔ اس امت وسط کا قبلہ دعائے ابراہیمی کے بموجب مسجد حرام ہے نہ کہ بیت المقدس۔ بیت المقدس کی طرف اس کا نماز پڑھنا محض ایک عارضی معاملہ تھا چناچہ اس کا قبلہ بدل دیا گیا۔ اس کے بعد ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ یہ قبلہ چونکہ ابھی مشرکین کے قبضہ میں ہے، اس وجہ سے اس کو حاصل کرنے کے لیے اہل ایمان کو جان اور مال کی قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔ اور اس جہاد میں کامیابی اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی یہ مدد صبر اور نماز کے ذریعے سے حاصل ہوگی۔ اس ساری سرگزشت کے سنانے سے مقصود چونکہ یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جس پیغمبر اور جس امت کے لیے دعا کی تھی وہ یہی ہیں، انہی کی دعوت اصل ملت ابراہیمی کی دعوت اور انہی کا قبلہ اصل قبلہ ابراہیمی ہے۔ اس وجہ سے اس میں خانہ کعبہ اور مروہ وغیرہ سے متعلق یہود کی وہ تمام تحریفات بھی بےنقاب کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے صحیفوں میں اس خیال سے کی تھیں کہ خانہ کعبہ اور مروہ کی قربان گاہ کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعلق کی ہر شہادت ریکارڈ سے حذف کردیں۔ (163 تا 242) یہ احکام وقوانین کا باب ہے۔ ملت مسلمہ کو جو شریعت عطا ہوئی ہے اس باب میں اس شریعت کے بنیادی قوانین بیان ہوئے ہیں۔ یہود یا مشرکین نے ان احکام میں جو تحریفات کردی تھیں یا جو بدعتیں شامل کردی تھیں اس باب میں ان بدعتوں اور تحریفات سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ان احکام کے بیان کرنے میں فقہی ترتیب ملحوظ نہیں ہے بلکہ وقت کے حالات اور تعلیم و تربیت کے مصالح نے جس ترتیب کا تقاضا کیا ہے وہ ترتیب ملحوظ ہے۔ بالاجمال یہ احکام یہ ہیں : توحید (163-176) ۔ نماز اور زکوۃ (177) ۔ قصاص اور دیت (178-179) ۔ وصیت (180-182) ۔ روزہ (183-187) ۔ حرام خوری اور رشوت کی ممانعت (188) ۔ حج اور اس تعلق سے جہاد اور انفاق کے احکام کیونکہ اس وقت تک خانہ کعبہ پر مشرکین کا قبضہ تھا 0189-218) ۔ شراب اور جوئے کی ممانعت، یتامی کی اصلاح حال کے خیال سے ان کے معاملات کو اپنے معاملات کے ساتھ ملا لینے کی اجازت، مشرکات کے ساتھ نکاح کی ممانعت (219-221) ۔ نکاح، طلاق، ایلاء، خلع، رضاعت، نان نفقہ زوجہ متوفی عنہا، مہر اور ازدواجی زندگی سے متعلق دوسرے مسائل (222-242) ۔ (آیات 243 تا 283) اس باب میں مرکز ملت ابراہیمی۔ خانہ کعبہ۔ کو کفار کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے مسلمانوں کو جہاد پر ابھارا گیا ہے۔ اس جہاد ہی کے مقصد سے انفاق کا جذبہ بھڑکایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے اپنے قبلہ کو فلسطینیوں سے آزاد کرانے کے لیے جو جنگ لڑی اور جو مختلف پہلوؤں سے ہمارے غزوہ بدر سے مشابہ تھی، اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پھر ایک جملہ معترضہ کے بعد انفاق پر مزید زور دیا گیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں مثالوں سے واضح فرمایا گیا ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جن کو خدا تاریکی سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور کس طرح کے لوگوں کو تاریکیوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد انفاق کی برکات، اس کے شرائط اس کی خصوصیات اور اس کے بعض اہم مصارف کی طرف اشارات ہیں اور ساتھ ہی جو چیز اس کی بالکل ضد ہے یعنی سود، اس کی حرمت بیان کی گئی ہے اور قرض کے لین دین میں جو احتیاط اسلامی نقطہ نظر سے ضروری ہے اس کے متعلق بعض احکام دیے گئے ہیں۔ (آیات 284 تا 286) ۔ خاتمہ :۔ اس حصہ کی حیثیت سورة کے خاتمہ کی ہے۔ اس میں پہلے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ وہ تمام کھلے اور ڈھکے کا حساب لے گا اور پھر جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اس کے بعد یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ یہ کتاب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہے کوئی اس کو مانے یا نہ مانے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور اہل ایمان نے اس کو مان لیا ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان کی دعا پر یہ سورة ختم ہوتی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے کتاب الٰہی کے بارے میں اس عظیم ذمہ داری کا احساس نمایاں ہو رہا ہے جس کو یہود اور نصاری سنبھال نہ سکے اور جو، اب اس امت پر ڈالی جا رہی ہے۔

Ayah 2:1

الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader

یہ الف، لام، میم ہے

الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً“الف”کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔“ب”کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی“بیت”(گھر) کے ہیں۔“ج”کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔“ط”سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔“م”پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ“ن”کو پیش کرتے ہیں۔ حرف“نون”اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام“نون”(ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف“ط”کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو“ط”سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی“ط”سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف”کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے

ذٰلِکَ: اہل نحو کہتے ہیں کہ“ذٰلِکَ”اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور“ھٰذا”اشارہ قریب کے لئے۔ اس سے عام طور پر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی فاصلہ کی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو“ذٰلِکَ”لائیں گے اور اگر قریب کی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو“ھٰذا”استعمال کریں گے۔ لیکن اہل نحو کا مطلب قریب اور بعید سے یہ نہیں ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز مخاطب کے علم میں ہے یا جس کا ذکر گفتگو میں ہو چکا ہے اگر اس کی طرف اشارہ کرنا ہو تو وہاں“ذٰلِکَ”استعمال کریں گے اور اگر کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو جس کا ذکر آگے آرہا ہو تو وہاں“ھٰذا”لائیں گے۔ اہل زبان ان دونوں اشارات کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں اور اگر کبھی ان کو اس عام ضابطہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں تو بلاغت کے کسی نکتہ کو ملحوظ رکھ کر کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی سابق الذکر چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے“ھٰذا”استعمال کر دیں تو اس سے مقصود چیز کو نگاہوں کے سامنے حاضر کر دینا ہو گا اسی طرح اگر کہیں“ھٰذا”کی جگہ“ذٰلِکَ”استعمال ہوتا ہے تو اس سے عموماً مقصود اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی شان اس سے ارفع ہے کہ اس کو سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ یہاں ذٰلِکَ کا اشارہ سورہ کے اس نام کی طرف ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ الٓمٓ قرآن عظیم کا ایک حصہ ہے۔ قرآن میں اس قسم کے اشارات کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً حٰمٓ عٓسٓقٓ کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡٓ اِلَیْْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنۡ قَبْلِکَ اللَّہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. (شوریٰ ۱ - ۳) (یہ حٰمٓ، عسق ہے۔ اسی طرح خدائے عزیز وحکیم تمہاری طرف وحی کرتا ہے اور اسی طرح اس نے ان لوگوں کی طرف وحی کی جو تم سے پہلے گزرے ہیں) طٰسٓ تِلْکَ اٰیَاتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ۔ (النمل) یہ طس ہے یہ قرآن اور ایک کتاب مبین کی آیتیں ہیں۔ الکتٰب: قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ۱ – نوشتہ تقدیر- مثلاً لَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (۶۸۔ انفال) اگر نوشتہ الٰہی نہ گزر چکا ہوتا تو جس چیز میں تم مبتلا ہوئے اس کے باعث تمہیں ایک دردناک عذاب آ پکڑتا۔ ۲ – اللہ تعالیٰ کا وہ رجسٹر جس میں ہر چیز ریکارڈ ہے۔ مثلاً وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ۔ (۴، ق) (اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے محفوظ رکھنے والی۔) ۳ – خط اور پیغام۔ مثلاً اِنِّیْ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ۔ (۲۹ نمل) (میرے پاس ایک گرامی نامہ بھجوایا گیا ہے) ۴۔ احکام و قوانین۔ مثلاً وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ (۲ جمعہ) (اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے) ۵۔ اللہ تعالی کا اتارا ہوا کلام۔ اپنے اسی معنی کے لحاظ سے یہ لفظ کتاب الٰہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد کتاب الٰہی کا کوئی خاص حصہ بھی ہوا کرتا ہے اور اس کا مجموعہ بھی۔ مجموعہ کے مفہوم کے لئے نظیر اعراف کی یہ آیت ہے۔ وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتَابِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۔ (۱۷۰ اعراف) (اور جو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں) دوسرے معنی کے لئے نظیر سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ۔ (۲۳ اٰل عمران) (ذرا دیکھو تو ان کو جنہیں کتاب الہٰی کا ایک حصہ ملا، ان کو دعوت دی جا رہی ہے اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے) جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر معنی کے لئے خاص ہو جایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کا لفظ بھی خاص طور پر کتاب الہٰی کے لئے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیاء کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سِفۡر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب کے ہیں۔ اسی طرح ان صحیفوں کے لئے (scripture) کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔ الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لئے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے۔ لَارَیۡبَ فیہ:“ریب”کے معنی شک کے ہیں۔“اس میں کوئی شک نہیں ہے”کا مطلب یہ ہے کہ اس کے کتاب الہٰی ہونے یا ایک کتاب منزل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ جملہ پہلے جملہ کی خبر نہیں بلکہ اس کی تاکید ہے۔ ذٰلِکَ الۡکِتَابُ کے معنی ہیں، یہ کتاب الہٰی ہے۔ اس کے بعد یہ تاکید اسی حقیقت کو مزید قوت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے کہ اس کے کتاب الہٰی ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس کے معنی یہ نہ لئے جائیں تو پھر اس ٹکڑے کے لئے یہاں کوئی موزوں موقع ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ قرآن مجید کے نظائر سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً اسی سورہ میں چند ہی آیات کے بعد فرمایا ہے۔ وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ۔ (۲۳ بقرہ) (اور اگر تم اس کی طرف سے شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو لاؤ اس کے مانند کوئی ایک سورہ) اآمّٓ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ لَا رَیْْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (۱-۲ السجدہ) (الٓمٓ، کتاب کی تنزیل، جس کے کتاب الہٰی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، عالم خداوند کی طرف سے ہے) حٰمٓ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔ (۱-۲ مومن) (حٰمٓ، کتاب کا اتارنا خدائے عزیز و علیم کی طرف سے ہے) عام طور پر لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اس کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس میں شک کیا جاسکے۔ اگرچہ بجائے خود یہ ایک حقیقت ہے، قرآن میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہو لیکن ہمارے نزدیک اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں۔ اولاً تو قرآن کے نظائر جو ہم نے پیش کئے ہیں اس مطلب کے خلاف ہیں۔ ثانیاً شک و شبہ کتاب کی صفات میں سے نہیں ہے بلکہ آدمی کے ذہن کی صفات میں سے ہے۔ ایک ٹیڑھے ذہن کا آدمی سیدھی سے سیدھی بات میں سے بھی کوئِی نہ کوئی ٹیڑھ نکال ہی لیتا ہے اس وجہ سے اس بات کے کہنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ ثالثاً شک و شبہ کا سوال درحقیقت پیدا کسی دعوے سے متعلق ہوتا ہے، یہاں دعویٰ یہ ہے کہ یہ کتاب الہٰی ہے۔ اس وجہ سے اگر شک کی نفی کی ضرورت ہے تو اس دعویٰ سے متعلق ہے نہ کہ کتاب سے متعلق۔ رابعاً کتاب سے متعلق شک کی نفی سے کتاب کی شان میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کے شک کی نفی ریاضی یا اقلیدس کی کسی کتاب کے بارہ میں بھی کی جاسکتی ہے۔ خامساً قرآن کے ابتدائی مخاطبین کی اصلی الجھن یہ نہیں تھی کہ قرآن کی کچھ باتیں ان کو مشکوک و مشتبہ معلوم ہوتی تھیں بلکہ ان کی اصلی الجھن یہ تھی کہ اس کتاب کو اللہ کی اتاری ہوئی بتایا جاتا تھا اور وہ اس کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ماننے کو تیار نہیں تھے۔ سادساً اگر کتاب سے متعلق شک کی نفی کر بھی دی جائے تو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا مسئلہ پھر بھی مشکوک ہی رہا۔ ہاں اس کا خدا کی طرف سے ہونا غیر مشکوک ہوجائے تو پھر اس کا ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہونا آپ سے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ ھدی: ھدی کا لفظ عربی زبان میں بھی اور قرآن مجید میں بھی کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جن معانی کے نظائر خود قرآن میں موجود ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱۔ قلبی نور و بصیرت۔ مثلاً وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی. (۱۷۔ محمد) (اور جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی قلبی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے) ۲ – دلیل و حجت اور نشان راہ۔ مثلاً اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی. (۱۰۔ طٰہٰ) (مجھے آگ کے پاس پہنچ کر کوئی نشان راہ مل جائے)۔ بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر – حج : ۸- (بغیر کسی علم، بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔) ۳ – سیدھا اور صاف راستہ۔ مثلاً بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتَابٍ مُّنِیْرٍ. (۸۔ حج) (بے شک تم ایک سیدھے راستے پر ہو۔) یہیں سے یہ لفظ طریقہ اور شریعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی کی مثالیں بھی قران میں موجود ہیں۔ مثلاً فَبِھُدَاھُمُ اقۡتَدِہۡ (۰۹ انعام) (پس ان کے طریقہ کی پیروی کر) اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ. (۷۲۔ اٰل عمران) (اور شریعت تو بس اللہ کی شریعت ہے۔) ۴ – فعل ہدایت۔ مثلاً لَیْْسَ عَلَیْْکَ ہُدَاہُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ. (۲۷۲۔ بقرہ) (تمہارے ذمہ ان کو ہدایت دینا نہیں ہے بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے)۔ قرآن مجید میں ظاہر ہے کہ ان چاروں معنوں کے اعتبار سے ھدی ہے۔ لِلۡمُتَّقِیۡنَ: حرف لام یہاں انتفاع کے مفہوم میں ہے۔ یعنی اس کتاب سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جو متقی ہیں۔ جس طرح سورج چمکتا تو سب کے لئے ہے لیکن اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو آنکھیں رکھتے ہیں اور جو ان آنکھوں کو دیکھنے کے لئے کھولتے بھی ہیں۔ اسی طرح یہ کتاب اتری تو سب ہی کی ہدایت کے لئے ہے لیکن چونکہ اس سے فائدہ فی الحقیقت وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے اندر خدا کا خوف ہو، اس وجہ سے فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے۔ متقی کا لفظ اتقاء سے ہے۔ اتقاء کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہم مثالوں سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ ۱ – جس چیز سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو اس سے بچنا۔ مثلاً فَکَیْْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا. (۱۷۔ مزمل) (اگر تم نے کفر کیا تو اس دن سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔) ۲ – کسی آفت کے ظہور سے اندیشہ ناک ہونا۔ مثلاً وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً. (۲۵۔ انفال) (اور اس آفت سے چوکنے رہو جو خاص طور پر انہی پر نہیں آئے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہوگا۔) ۳ – اس رب قدوس سے برابر لرزتے اور کانپتے رہنا جو اپنے شکرگزار اور وفادار بندوں پر رحم فرماتا ہے جو کفر و معصیت کو ناپسند کرتا ہے اور جو ہر ظاہر و پوشیدہ سے باخبر ہے۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا. (۷۳۔ زمر) (اور جو لوگ اپنے پروردگار سے برابر ڈرتے رہے ان کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔) ۴ – اس کا چوتھا مفہوم مذکورہ تینوں مفہوموں کا جامع ہے۔ یعنی گناہ سے اس کے برے نتائج اور خدا کے غضب کے ڈر سے بچتے رہنا۔ جب یہ لفظ مفعول کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو عموماً یہی مراد ہوتے ہیں اور اسی چیز کو تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ. (۱۷۹۔ اٰل عمران) (اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔) اس تشریح کی روشنی میں متقی وہ شخص ہوگا جس کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کےغضب کا خوف سمایا ہوا ہو اور جس کو گناہوں کے نتائج کا پورا پورا احساس ہو۔ تقویٰ میں عمل کی نسبت کیفیت اور حال کا پہلو اور فعل کے بالمقابل ترک کا پہلو اگرچہ زیادہ نمایاں ہے اور اس پہلو سے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں نفی اثبات پر غالب ہے لیکن چونکہ یہ دل کی تندرستی کی دلیل ہے اور دل تندرست ہو تو سب کچھ تندرست ہے اس وجہ سے اس سے علم اور عمل دونوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ: ایمان، امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کا صلہ لام کے ساتھ آئے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین اور اعتماد کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد ہے۔ جو یقین، خشیت، توکل اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے وہ مومن ہے۔ یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اس کے مفعول کی حیثیت سے ذکر ہوتا ہے لیکن اگر مفعول کے بغیر آئے تو اس کے تحت وہ ساری ہی چیزیں آ سکتی ہیں جن پر ایمان لانے کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ یا جن پر قرینہ دلیل بن سکتا ہے۔ “غیب”کا لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معنوں میں آیا ہے۔ وہ جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو۔ اس کا مدمقابل لفظ شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عَالِمُ الغَیۡبِ وَالشَھَادَۃِ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہمارے سامنے ہیں۔ وہ چیز جس کے جاننے کا آدمی کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو – نبی ﷺ کی زبان سے قران میں نقل ہے وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْرِ (۱۸۸۔ اعراف) اگر مجھے غیب کا پتہ ہوتا تو میں خیر میں بہت سا اضافہ کر لیتا۔ وہ جگہ جو آدمی کے سامنے نہ ہو یا وہ سمت جو متعین نہ ہو رہی ہو- ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَیْْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْْہِمْ اِذْ اَجْمَعُوْا اَمْرَہُمْ. (۱۰۲۔ یوسف) یہ غیب کے واقعات میں سے ہے جس کو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اور جب وہ اپنے فیصلہ پر متفق ہوئے تو تم ان کے پاس موجود نہ تھے۔ راز کے معنی میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ مثلاً نیک بیبیوں کی تعریف میں آتا ہے۔ حٰفِظٰتُ لِلۡغَیۡبِ – (وہ راز کی حفاظت کرنے والیاں ہیں)۔ بِٱلْغَيْبِ کی“ب”کے بارے میں بھی دو رائیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو ظرف کے معنی میں لیا جائے یعنی وہ غیب میں ہوتے ہوئے ایمان لاتے ہیں۔ اس معنی کی متعدد مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْْبِ وَہُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ. (۴۹۔ انبیاء) جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں ہوتے ہوئے اور قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالغَیْْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ. (۱۸۔ فاطر) تم انہی کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں ہوتے ہوئے اپنے رب سے ڈریں اور نماز قائم کریں۔ اس صورت میں“يُؤْمِنُونَ”عام رہے گا۔ اور وہی تمام چیزیں اس کے تحت آ سکیں گی جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ایمان لانے کے لئے وہ اس بات کے منتظر نہیں ہیں کہ تمام حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں، بلکہ وہ مشاہدہ کے بغیر محض عقل و فطرت کی شہادت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ سلم کی دعوت کی بنا پر ان تمام چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جن پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سلف میں سے ربیع بن انس نے یہی تاویل اختیار کی ہے اور ہم نے بھی ترجمہ میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہو سکتی ہے کہ اس کو صلہ کی“ب”مانا جائے اور“بِٱلْغَيْبِ”کو“يُؤْمِنُونَ”کا مفعول قرار دیا جائے۔ یہ رائے اگرچہ اکثریتی رائے ہے، اور زبان کے اعتبار سے اس میں کوئی بھی نقص نہیں ہے لیکن مندرجہ ذیل وجوہ سے ہمیں یہ رائے کچھ زیادہ قوی نہیں معلوم ہوتی۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس صورت میں ایمان صرف غیب کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ جاتا ہے۔ غیب کے سوا بقیہ ساری چیزیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے، ایمان کے دائرہ سے باہر ہوجاتی ہیں۔ برعکس اس کے پہلی صورت میں وہ تمام چیزیں ایمان کے دائرہ میں آجاتی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور جن کی قرآن نے دوسرے مواقع پر تفصیل بیان کر دی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ غیب کا اطلاق چاہے ان تمام چیزوں پر ہوتا ہو جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن نبی اور کتاب پر تو اس کا اطلاق بہرحال نہیں ہوتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ دونوں چیزیں جن پر اللہ تعالیٰ کے بعد ایمان لانا سب سے زیادہ ضروری ہے یہاں ایمان سے کیوں خارج کر دی گئیں؟ تیسری وجہ یہ ہے کہ غیب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی نہیں بولا گیا ہے۔ غیب اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے نہیں ہے۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ یہاں اللہ تعالیٰ بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے تو ایمان بالغیب کے تحت صرف آخرت اور فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ٹھہرتا ہے یا زیادہ سے زیادہ مستقبل کے حوادث پر۔ آخر ایمان کے دائرہ کو اس قدر محدود کردینے کی کیا وجہ ہے؟ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری تاویل لینے والے حضرات کہتے ہیں کہ غیب سے مراد احوال آخرت ہیں۔ اگر احوال آخرت ہی مراد ہیں تو آخرت کا ذکر تو آگے اسی سلسلہ میں مستقل طور پر آ رہا ہے۔ فرمایا ہے وَبِالۡاٰخِرَۃِ ھُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ- اور آخرت پر یہی لوگ ایمان رکھتے ہیں۔ آخر ایک ہی سلسلہ میں ایک ہی بات کو اس طرح دہرانے کی کیا ضرورت تھی؟ پانچویں وجہ یہ ہے کہ پہلی تاویل سے ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آتی ہے جس سے یہ دوسری تاویل بالکل خالی ہے۔ وہ یہ کہ ایمان یا خشیت وہی معتبر ہے جو بصیرت اور تقویٰ سے پیدا ہو۔ جو ایمان یا خشیت گناہوں کے نتائج سامنے آجانے کے بعد پیدا ہو خدا کے ہاں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کا عذاب دیکھ کر ایمان لائے ان کے بارہ میں ارشاد یہ ہے۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِہٖ آلْاٰنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ. (۵۱۔ یونس) تو کیا پھر جب عذاب آ نازل ہی ہوگا تب ہی اس کو مانو گے، اس وقت ہم کہیں گے اب! حالانکہ اس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ظرفیت کے مفہوم کے خلاف ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ جہاں جہاں بھی، قرآن میں لفظ ایمان کے ساتھ“ب”آئی ہے کہیں بھی ظرفیت کے مفہوم میں نہیں آئی ہے۔ لیکن یہ بات کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے جواب میں بالکل اسی کے برابر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بالغیب کا لفظ قرآن میں جہاں جہاں بھی آیا ہے ظرف ہی کے طور پر آیا ہے، کہیں بھی مفعول کے طور پر نہیں آیا۔ اس وجہ سے جہاں تک قرآن کے نظائر کا تعلق ہے، وہ ظرفیت کے مفہوم کے حق میں زیادہ نمایاں ہیں۔ یقیمون الصلٰوۃ: اقامت کے معنی کسی چیز کے کھڑے کرنے یا اس طرح سیدھے کرنے کے ہیں کہ اس میں کوئی ٹیڑھ باقی نہ رہ جائے۔ فرمایا ہے وہ نماز قائم کرتے ہیں، یہ نہیں کہا ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں قرآن نے نماز کے لئے قائم کرنے کا لفظ استعمال کر کے ایک ہی ساتھ کئی حقیقتوں کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ پہلی چیز جس کی طرف یہ لفظ متوجہ کرتا ہے وہ نماز میں اخلاص ہے یعنی نماز صرف اللہ ہی کے لئے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے۔ اس کے اندر سیدھے کرنے کا جو مفہوم ہے اس کا تقاضا اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ ہی کے لئے نہ پڑھی جائے۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح لفظوں میں بھی بیان کر دی ہے۔ وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔ (۲۹ اعراف) اور اسی کی طرف اپنے رخ کرو ہر مسجد کے پاس اور اسی کو پکارو اسی کے لئے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے۔ یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ نماز میں رخ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے کیونکہ وہی توحید اور اخلاص کا مرکز ہے۔ دوسری چیز جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے وہ نماز کے اصل مقصود پر دل کو پوری طرح جمانا ہے۔ نماز کا اصل مقصود ذکر الہٰی میں خشوع و خضوع ہے، اگر آدمی اس چیز سے غافل ہو کر نماز پڑھے تو یہ نماز کو قائم کرنے نہیں بلکہ محض چھدا اتارنا ہوا۔ اس حقیقت کی طرف بھی قران نے بعض مقامات پر توجہ دلائی ہے۔ مثلاً وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ. (۱۴ طٰہٰ) اور نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ دوسری جگہ فرمایا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوْنَ. (۱۔۲ مومنون) ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ تیسری چیز یہ ہے کہ نماز بغیر کسی کمی بیشی کے اس طریقہ کے مطابق ادا کی جائے جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ. (۲۳۹ بقرہ) پس جب تم امن میں ہو جاو تو اس طریقہ کو یاد کرو جو طریقہ اس نے تم کو سکھایا ہے۔ نماز کی صفوں کا ٹھیک کرنا اور ارکان نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کہ تسویۃ الصفوف من اقامۃ الصلوۃ- صفوں کو برابر کرنا بھی اقامت صلوۃ کا ایک جزو ہے۔ چوتھی چیز نماز کی پوری پوری پابندی ہے۔ فرمایا ہے: اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ. (۷۸ اسراء) اور نماز قائم کرو سورج کے زوال کے وقت سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک اور صبح کے وقت کا قرآن پڑھنا۔ اسی چیز کو دوسرے مقامات میں “نمازوں کی نگرانی”سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ. (۲۳۸ بقرہ) پانچویں چیز نماز پر قائم رہنا ہے جیسا کہ فرمایا ہے- ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَاءِمُوْنَ. (۲۳ معارج) وہ اپنی نمازوں پر برابر قائم رہتے ہیں۔ چھٹی چیز جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہے۔ خصوصیت کے ساتھ جب امت یا امام کی طرف سے اس کی نسبت کی جاتی ہے تب تو واضح طور پر جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہی مدنظر ہوتا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو: اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ . (۴۱ حج) اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جس میں انہوں نے اپنی ذریت کا مشن بتایا ہے، ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ رَّبَّنَا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ. (۳۷ ابراہیم) اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو اس کھیتی کی زمین میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ “صلوٰۃ”کا لفظ اصل لغت میں کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کے لئے آیا ہے۔ پھر یہیں سے یہ لفظ رکوع کے معنی میں اور پھر تعظیم اور تضرع اور دعا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ عبادت کے معنی میں بہت قدیم ہے۔ کلدانی میں دعا اور تضرع کے معنی میں اور عبرانی میں رکوع اور نماز کے معنی میں یہ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ایک اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت قرآن نے بھی کر دی ہے اور سنت نے بھی اس کی پوری وضاحت کی ہے۔ علاوہ ازیں امت کے قولی و عملی تواتر نے اس کی شکل و ہئیت اور اس کے اوقات بالکل محفوظ رکھے ہیں۔ اگر اس کے کسی جزو میں کوئی اختلاف ہے تو وہ محض فروعی قسم کا ہے جس سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں

وَبِٱلْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ: آخرت سے مراد دار آخرت یا حیات آخرت ہے۔ آخرت کے لئے یہاں ایمان کے بجائے ایقان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایمان اور ایقان کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھ لینا چاہئے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کا ضد کفر و انکار اور تکذیب ہے۔ ایقان کے معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کا ضد گمان اور شک ہے جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتا ہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لئے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ یہاں ایقان کا ذکر ایمان کے چند معروف عملی مظاہر کے بعد ہوا ہے جس سے اس بات کا اشارہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ اوصاف کے حامل ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

عَلَى هُدًى: ھدی کے مختلف معانی اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ یہاں مذکورہ معانی میں سے نور بصیرت کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں اور صراط مستقیم کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں۔ ان دونوں معنوں میں سے جو معنی بھی لے لیا جائے آیت کی تاویل ٹھیک بن جاتی ہے اور لغت اور استعمالات قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ الْمُفْلِحُونَ: اس لفظ کی اصلی روح انشراح اور انکشاف کی ہے اور اس سے مراد وہ فائزالمرامی اور کامیابی ہوتی ہے جو اگرچہ حاصل ہو تو ایک صبر آزما اور جاں گسل جدوجہد کے بعد لیکن جب حاصل ہو تو محنت کرنے والے نہال ہوجائیں اور ان کی توقعات کے سارے پیمانے اس کے ناپنے سے قاصر رہ جائیں۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے یکساں ہے ڈرا یا نہ ڈرآ، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟: کفر کے معنی اصل لغت میں ڈھانکنے اور چھپانے کے ہیں۔ قران میں یہ لفظ شکر کے ضد کی حیثیت سے بھی استعمال ہوا ہے اور ایمان کے ضد کی حیثیت سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ناشکری اور کفران نعمت کے ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں انکار کے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لفظ کی اصل روح ان دونوں معنوں کے اندر موجود ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مطلق بھی استعمال ہوا ہے اور اپنے مفعول کے ساتھ بھی۔ جہاں مفعول کے ساتھ استعمال ہوا ہے وہاں تو متعین طور پر اس مفعول ہی کا کفر و انکار مراد ہے۔ لیکن جہاں کسی مفعول کے بغیر مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم تو ان تمام چیزوں کے انکار کے معنی میں استعمال ہوا ہے جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن کہیں کہیں ناشکری اور کفران نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جس کا پتہ قرینہ اور موقع محل سے چلتا ہے۔ موقع کلام کا تقاضا یہ ہے کہ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سے یہاں انکار کرنے والوں کا کوئی مخصوص گروہ مراد ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی چند خاص صفات بھی بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ان کے لئے ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں برابر ہے، کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، یہ کہ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حال تمام کفار کا نہیں تھا ان میں بہتیرے ایسے بھی تھے جو ابتدا میں منکر و مخالف رہے لیکن بعد میں اسلام لائے۔ اس کی وجہ سے یہ امر تو بدیہی ہے کہ یہاں کوئی مخصوص گروہ مراد ہے۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ گروہ کن لوگوں کا ہے؟ ہمارے نزدیک اس سے مراد قریش، اہل کتاب اور منافقین کے وہ لیڈر اور سردار ہیں جن پر قرآن اور نبی ﷺ کی حقانیت پوری طرح واضح ہو چکی تھی لیکن اس وضاحت کے باوجود وہ محض ضد، ہٹ دھرمی، انانیت اور حسد و تکبر کے سبب سے مخالفت کر رہے تھے۔ اس تحصیص کے بعض وجوہ یہ ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے اوپر والے ٹکڑے میں اس گروہ کا بیان ہوا ہے جو قرآن پر ایمان لانے والا تھا۔ وہاں ہم نے ھُدیً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤُمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے اہل کتاب اور بنی اسماعیل کے وہ تمام سلیم الفطرت اور خدا ترس لوگ مراد ہیں جن کے ضمیر زندہ، جن کی صلاحیتیں محفوظ اور جن کے دل بیدار تھے۔ انہی کے مقابل میں مذکورہ آیات میں اس گروہ کا بیان ہوا ہے جو ایمان لانے والا نہیں ہے۔ یہ تقابل خود دلیل ہے کہ اس سے مراد قریش اور اہل کتاب میں سے وہ لوگ ہوں جن کو دنیا پرستی اور حسد و انانیت نے بالکل اندھا بہرا کر دیا تھا، جن کی فطرت مسخ ہوچکی تھی اور جو قبول حق کی تمام صلاحیتوں سے یک قلم محروم ہو چکے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں قرآن نے اس گروہ کی جو خصوصیات، ان کا نام لئے بغیر، بیان کی ہیں بعینہٖ وہی خصوصیات دوسرے مقامات میں یا تو نام کی صراحت کے ساتھ بیان کی ہیں یا ایسے واضح قرائن کے ساتھ بیان کی ہیں جن سے گروہ کا تعین آپ سے آپ ہوجاتا ہے۔ ان مقامات کو سامنے رکھ کر اگر اس آیت کے اجمال کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے تو آدمی اسی نتیجہ تک پہنچتا ہے جس نتیجہ تک ہم پہنچے ہیں۔ یعنی اس سے مشرکین، یہود اور منافقین کے وہ سردار اور لیڈر مراد لئے جائیں جن پر حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی تھی کہ قرآن کی دعوت حق ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے تھے۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں جن سے ہمارے رائے کی تائید ہوتی ہے۔ مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّواْ الْحَيَاةَ الْدُّنْيَا عَلَى الآخِرَةِ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ أُولَـئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (نحل: ۱۰۶-۱۰۸ جس نے کفر کیا اللہ کا ایمان کے بعد، بہ جز ان کے جو مجبور کئے گئے اور جن کے دل ایمان پر جمے رہے، پر جن کے سینے کفر کے لئے کھل گئے تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ کافر قوم کو راہ یاب نہیں کرتا۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر، کانوں پر، اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور یہی لوگ ہیں جو بے خبر ہیں۔ اس آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو لوگ ایمان لاچکنے کے بعد یا حق کے واضح ہوجانے کے بعد محض دنیا پرستی کی وجہ سے کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان پر اللہ کا غضب ہوتا ہے، ان کے لئے عذاب عظیم ہے، ان کے لئے خدا ایمان کی راہ نہیں کھولا کرتا، ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے حقیقی مصداق اگر ہوسکتے تھے تو سرداران قریش، علمائے یہود اور منافقین ہی ہوسکتے تھے یا پھر وہ لوگ جو انہی کی روش اختیار کریں۔ دوسری جگہ تمام انبیا کے مخالفین و معاندین کے بارہ میں فرمایا ہے: تِلْكَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَآئِهَا وَلَقَدْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبْلُ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللّهُ عَلَىَ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ (اعراف : ۱۰۱) یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتیں ہم تم کو سناتے ہیں ان کے پاس ان کے انبیا کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ایمان لانے والے نہ بنے، بوجہ اس کے کہ وہ جھٹلاتے رہے پہلے سے۔ اسی طرح اللہ مہر کر دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔ خاص طور پر یہود کے بارہ میں فرمایا ہے: فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بَآيَاتِ اللّهِ وَقَتْلِهِمُ الأَنْبِيَاء بِغَيْرِ حَقًّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً (نساء : ۱۵۵) پس بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو توڑا، اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ نبیوں کو ناحق قتل کیا اور کہا کہ ہمارے دل تو بند ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر مہر کر دی ہے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت کم۔ اسی طرح منافقین کے بارہ میں یہ الفاظ وارد ہیں: ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (منافقون : ۳) یہ اس وجہ سے کہ وہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی سو وہ نہیں سمجھتے۔ قرآن کی ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ زیر بحث آیات میں ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ کا اشارہ ایک خاص گروہ کی طرف ہے۔لیکن یہ گروہ نہ تو مخصوص طور پر مشرکین کا ہے نہ محدود مفہوم میں اہل کتاب کا بلکہ یہ مشرکین اور اہل کتاب دونوں گروہوں کے ان افراد پر مشمل ہے جو حق کو اچھی طرح پہچان چکنے کے بعد اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ سلف سے اس آیت کی تاویل میں جو اقوال منقول ہیں ان سے بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے اہل کتاب کے وہ ہٹ دھرم لوگ مراد ہیں جو ان تمام پیشین گوئیوں کو جھٹلا چکے تھے جو نبی ﷺ کے بارہ میں ان کے صحیفوں میں موجود تھیں اور اس طرح انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے آخری نبی کے متعلق لیا تھا۔ ربیع بن انس کے نزدیک اس سے ان مختلف پارٹیوں کے لیڈر مراد ہیں جو اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔ یہ دونوں قول ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں بس فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ ربیع بن انس کی تاویل نسبتاً جامع اور وسیع ہے۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے اس وجہ سے ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ءَأَنذَرْتَهُمْ: انذار کے معنی ڈرانے، ہوشیار کرنے اور خبردار کرنے کے ہیں۔ انبیا علیہم السلام کی دعوت و تبلیغ ایک طرف تو نہایت ٹھوس انفسی و آفاقی دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس میں انذاروتبشیر کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ تبشیر کا مفہوم اس فوزوفلاح اور اس کامیابی وکامرانی کی بشارت دیتا ہے جو نبی کی دعوت قبول کر لینے اور اس کی بتائی ہوئی صراط مستقیم اختیار کر لینے سے دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہوتی ہے۔ انذار کا مفہوم ان خطرات ومہالک سے آگاہ کرنا ہے جن سے نبی کی تکذیب کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ انبیا علیہم السلام عام حالات میں یہ دونوں ہی فرض انجام دیتے ہیں۔ لیکن جہاں ضدی اور ہٹ دھرم لوگ مقابل میں آن کھڑے ہوتے ہیں جن کی مخالفت کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض حسد اور عناد کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہاں قدرتی طور پر نبی کی دعوت میں انذار کا پہلو غالب ہوجاتا ہے کیونکہ اس وقت حالات اسی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں آپ کے کام کو صرف انذار ہی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ آیت زیر بحث کا تعلق، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، ان مخالفین ومعاندین سے ہے جو نبی ﷺ کی مخالفت کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ جانتے ہوئے کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ انذار ہو یا تبشیر دونوں کی حقیقت ان قدرتی نتائج سے آگاہ کرنا ہے جو ایمان یا کفر کے اندر مضمر ہیں۔ جس طرح ایک طبیب اپنے زیر علاج مریض کو دوا اور پرہیز کے فوائد اور بدپرہیزی اور مرض سے غفلت کے نتائج آگاہ کرتا ہے اسی طرح پیغمبر بھی اپنی قوم کو اپنی دعوت کے ماننے اور نہ ماننے کے فوائد اور نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ بعض لوگ انذار کی اس حقیقت سے بے خبر ہونے کے سبب سے مذہب کے خلاف یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہ موہوم خطرات کے ڈراوے سنا سنا کر لوگوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ہے، انسان کی عقل سے اپیل نہیں کرتا۔ یہ معترض عموماً دو باتوں سے بے خبر ہیں، ایک تو یہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ قرآن کی دعوت صرف انذار وتبشیر پر ہی مبنی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اندر نہایت مضبوط انفسی وعقلی دلائل بھی رکھتی ہے، انذار وتبشیر اس کی دعوت کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسری چیز جس سے یہ بے خبر ہیں وہ ایمانی واخلاقی اقدار کی قدروقیمت ہے۔ یہ لوگ اس بات سے تو واقف ہیں کہ سنکھیا کھا لینے سے آدمی مرجاتا ہے لیکن یہ حقیقت ان کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ کفر، نفاق اور جھوٹ سے بھی انسان ہلاک ہوجایا کرتا ہے۔ پیغمبر کو چونکہ اخلاقی اقدار کے ثمرات ونتائج کا اچھی طرح علم ہوتا ہے اس وجہ سے وہ لوگوں کو ان سے آگاہ کرتا ہے اور اسی انداز بیان میں آگاہ کرتا ہے جو انداز بیان اس کے علم ویقین کے شایان شان ہوتا ہے۔ اسی چیز کو قرآن مجید انذار کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔