Ayahs 2:118–119اسماعیل مراد ہیں۔ اوپر اہل کتاب کے اعتراضات اور ان کی وسوسہ اندازیوں کا ذکر فرمایا تھا۔ اب اسی متحدہ محاذ ’ مخالفت ‘ کے تیسرے رکن یعنی مشرکین کے بعض مطالبات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیا ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ محمد ﷺ یہ دعوی کرتے ہیں کہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو خدا نے انہی کو ہمارے اندر سے ہم کلامی کے لیے کیوں منتخب کیا، آخر ہم جو قریش کے سردار اور لیڈر ہیں اور اثر و اقتدار میں محمد ﷺ سے کہیں اونچے ہیں، خدا ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا ؟ اس مطالبہ کا جواب قرآن نے بعض جگہ دیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے براہ راست کلام کرے، وہ صرف وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کی آڑ سے بات کرتا ہے“ پھر وحی اور رسالت سے متعلق یہ وضاحت فرما دی ہے کہ ہر کس و ناکس اس منصب کا اہل نہیں ہوا کرتا ”یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کون اس منصب عظیم کے لیے اہل ہے۔ لیکن یہاں خاص اس مطالبہ کا جواب نہیں دیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا جواب نہ دینے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطالبہ اس قدر گستاخانہ اور احمقانہ ہے کہ اس کا جواب نہ دینا ہی اس کا جواب ہے۔ غور کیجیے کہ قرآن کی اس موقع پر اس خاموشی نے سردارانِ قریش کے پندارِ سیادت پر کیسی کاری ضرب لگائی ہوگی۔ دوسری مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ نشانی سے ان کی مراد کوئی ایسی نشانی تھی جو ایک محسوس معجزہ کی نوعیت کی ہو جس کو دیکھ کر ہر شخص پکار اٹھے کہ بیشک اس نشانی کا دکھانے والا خدا کا فرستادہ اور اس کا رسول ہے۔ مثلاً یہ کہ اس رسول کے ساتھ ساتھ کوئی فرشتہ اس کی رسالت کی منادی کرتا پھرے، یا اس کے حکم سے مردے جی اٹھیں، یا اس کے اشارے سے پہاڑ چلنے لگیں یا اس کی خواہش پر صحرا چمن بن جائے یا اور نہیں تو کم از کم اس کے ایما پر اس عذاب ہی کا کوئی نمونہ نمودار ہوجائے جس کی یہ ہر روز دھمکی سنا رہے ہیں۔ اس مطالبہ کے جواب میں پہلی بات تو یہ فرمائی کہ جس طرح کی نشانی کے لیے یہ مطالبہ کر رہے ہیں بالکل اسی طرح کی نشانی کے لیے ان قوموں نے اپنے اپنے رسولوں سے مطالبے کیے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے بھی حق واضح ہوچکنے کے بعد محض رسول کو زچ کرنے کے لیے اس طرح کی نشانی کے لیے مطالبہ کیے اور بھی حق کو سمجھ چکنے کے باوجود محض زچ کرنے کی خواہش کے تحت یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کے دل بھی انہی لوگوں کے دلوں کی مانند ہوگئے ہیں۔ یعنی قساوت، طغیانی اور حق دشمنی کی جو سیاہی ان کے دلوں پر بھی چھا رہی ہے، پھر لازماً اس کے نتیجہ میں ان پر بھی خدا کی طرف سے اسی طرح کا کوئی عذاب آئے گا جس طرح کے عذاب ان پر آئے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ جہاں تک تمہاری رسالت اور تمہاری دعوت کے حق ہونے کا تعلق ہے اس کے دلائل آفاق سے، انفس سے، آسمان سے، زمین سے، تاریخ سے، آثار سے، ہر پہلو سے ہم نے کھول کھول کر قرآن میں بیان کردیے ہیں۔ یہ دلائل اس قدر واضح ہیں کہ ان کے بعد کسی نشانی اور معجزہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن یہ دلائل ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جو یقین کرنا چاہیں، جو یقین نہیں کرنا چاہتے ان کو دنیا کی کوئی چیز بھی قائل نہیں کرسکتی، ایسے لوگ تو عذاب دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے، یہاں تک کہ وہ عذاب ان کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ ، ہم نے تم کو حق دے کر اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کے قبول کرنے والوں کو نجات و فلاح کی خوش خبری سنا دو اور اس کی تکذیب کرنے والوں کو اس تکذیب کے انجام بد سے ڈرآ۔ اس انذار وتبشیر کا فرض انجام دے چکنے کے بعد تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ ان کے مطالبوں کی تعمیل میں ان کی خواہشات کے مطابق نشانیاں اور معجزے دکھانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ تم سے جو پرسش ہوگی تمہارے فرض رسالت کی ادائیگی کے بارے میں ہوگی، اس بارے میں ہرگز نہیں ہوگی کہ یہ جہنم میں جانے والے لوگ جہنم میں کیوں گئے ایمان کیوں نہیں لائے۔
یہ ساری باتیں جو اوپر عرض کی گئی ہیں مکی سورتوں میں پچھلی قوموں کی سرگزشتوں کے ضمن میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوں گی اس وجہ سے ہم یہاں ان کی زیادہ تفصیل نہیں کرتے۔
Ayah 2:120: یہود و نصاریٰ کی اصلی بیماری : مشرکین کے رویہ سے مایوس کردینے کے بعد یہ آنحضرت ﷺ پر یہود اور نصاریٰ کا رویہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ بھی تم سے اس وقت تک راضی ہونے والے نہیں ہیں جب تک تم ان کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ یعنی یہودیت یا نصرانیت نہ اختیار کرلو۔ اس لیے کہ ان کے سامنے سوال صرف حق کی وضاحت اور دلائل کے ظہور کا نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے طریقہ پر جمود کا ہے۔ وہ حق سے زیادہ اپنی خواہشات کے پرستار ہیں اور تمہارے لیے خدا کی طرف سے ”العلم“ یعنی علم وحی کے آجانے کے بعد ان کی خواہشات و بدعات کی پیروی کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ اس وجہ سے ان کو یہ فیصلہ کن جواب دے دو کہ اصل ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے تو اب جب کہ میرے پاس اللہ کی ہدایت آچکی ہے میں اس کو چھوڑ کر کسی اور طریقہ کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں۔ یہاں یہود و نصاری کے اختیار کیے ہوئے طریقوں کو اہواء (خواہشات) کے لفظ سے تعبیر فرامیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے ہدایت آجانے کے بعد کسی اور طریقہ پر جمے رہ جانا در حقیقت اپنی خواہشات کی پیروی ہے۔ ”ولئن اتبعت“ میں خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن اس میں جو تنبیہ اور عتاب ہے اس کا رخ یہود و نصاری کی طرف ہے ہ۔ اس طرز خطاب کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ملیں گی۔ اس آیت میں ملت کا جو لفظ آیا ہے اس کے اصلی معنی طریقہ کے ہیں لیکن اس سے کسی شخص یا گروہ کا وہ طریقہ زندگی مراد ہوتا ہے جس کی بنیاد مذہب اور روایات مذہب پر ہو۔ تف
Ayah 2:121: صالحین اہل کتاب کا ذکر : عام اہل کتاب کے رویہ سے مایوسی کے اظہار کے بعد ان اہل کتاب کا ذکر فرمایا جو اپنی کتاب پر فی الواقع ایمان رکھتے تھے۔ ان کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ اس ہدایت الٰہی پر ایمان لائیں گے جو تم ان کے سامنے پیش کر رہے ہو۔ یہاں صالحین اہل کتاب مراد لینے کی ہمارے نزدیک کئی وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ان کے متعلق فرمایا ہے ”یتلونہ حق تلاوتہ“ (یہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے) ہمارے نزدیک یہ ضمیر مفعول سے حال پڑا ہوا ہے اور مقصود اس سے یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان کا حال شروع سے یہ رہا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی سچی قدر کی ہے جو ان کو ملی تھی۔ ان لوگوں کے مانند یہ کبھی نہیں رہے ہیں جن کا حال قرآن نے یہ بیان کیا ہے، کہ ”کمثل الحمار یحمل اسفارا“ چارپائے برو کتابے چند۔ پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ تو ہے لیکن کچھ خبر نہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے۔ بلکہ یہ فکر و تدبر کے ساتھ برابر اس کی تلاوت کرتے رہے ہیں اور ان کی یہ تلاوت طلب ہدایت کے لیے تھی نہ کہ محض اپنی من گھڑت آرزوؤں اور خواہشات کے حق میں دلائل ایجاد کرنے کے لیے۔ دوسری یہ کہ ان کے متعلق خبر دی ہے کہ یہ اس ہدایت پر ایمان لائیں گے جو آخری رسول کے ذریعہ سے اللہ نے ان پر اتاری ہے۔ تیسری یہ کہ یہاں ان اہل کتاب کے لیے ”اتینہم الکتب“ کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ قرآن کے نظائر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صیغہ اہل کتاب کے لیے بالعموم مدح کے موقع میں استعمال ہوا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔ (1) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ۔ اور جن کو ہم نے کتاب بخشی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (بقرہ :146)۔ (2) وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ۔ اور جن کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اترا ہے (انعام :114)۔ (3) وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ۔ اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ خوش ہوتے ہیں اس چیز سے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے (رعد :36)۔ (4) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ۔ اور جن کو ہم نے کتاب دے رکھی ہے اس کے پہلے سے وہ اس پر ایمان لائیں گے (قصص :52)۔
”الذین اوتوا الکتب“ کے مقابل میں ”الذین اتیناہم الکتب“ کے الفاظ کے اندر اہتمام اور عنایت کا جو پہلو نمایاں ہے وہ ان لوگوں سے مخفی نہیں ہوسکتا جو معروف اور مجہول کے مواقع استعمال اور عربی زبان میں ان دونوں اسلوبوں کی ادبی نزاکتوں سے واقف ہیں۔ مذکورہ اسلوب میں معروف کا صیغہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب حقیقت میں انہی کو دی جنہوں نے اس کی قدر کی، جنہوں نے اس کی قدر نہیں کی ان کو گویا خدا نے کتاب دی ہی نہیں۔ اسی فرق کے سبب سے ”اوتوا الکتب“ کا صیغہ مدح کے مواقع بہت کم استعمال ہوا ہے۔ اُولٰۗىِٕكَيُؤْمِنُوْنَبِهٖ ، خبر ہے اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ کی۔ یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کا حق صحیح طریقہ پر ادا کرتے رہے ہیں وہی اس ہدی اللہ پر ایمان لائیں گے جو پیغمبر ﷺ ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت اللہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی روحانی نعمتوں میں برکت انہی کو عطا فرماتا ہے جو ان کی قدر کرتے ہیں، جو قدر نہیں کرتے ان کو مزید عطا ہونا تو الگ رہا جو عطا ہوئی ہوتی ہے وہ بھی ان سے سلب کرلی جاتی ہیں۔ آخری شریعت کے بارے میں یہی وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے فرمایا تھا کہ اس میں تمہاری ذریت کے صرف اچھے ہی لوگ حصہ پائیں گے، جو برے ہوں گے وہ اس سے محروم رہیں گے۔ پھر یہ بات اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ پر واضح فرمائی تھی کہ جو تقوی پر قائم رہیں گے وہی آخری نبی پر ایمان لائیں گے۔ اسی حقیقت کو مختلف اسلوبوں سے حضرت مسیح نے واضح فرمایا۔ تفصیل ان چیزوں کی اپنے مقام پر آئے گی۔
آگے کا مضمون آیات 122 تا 141: حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت : اوپر کے مباحث سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے قبول اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہ پندار تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہیں، اس وجہ سے ہدایت ان کی ہدایت اور مذہب ان کا مذہب ہے۔ وہ اپنے دائرے سے باہر نہ کسی کے لیے نجات کے قائل تھے نہ کسی نبوت و رسالت کا تصور رکھتے تھے۔ نجات اور ہدایت حاصل کرنے کا واحد رستہ ان کے ہاں یہ تھا کہ آدمی یہودی بنایا نصرانی۔ قرآن نے اوپر مختلف پہلوؤوں سے ان کے اس زعم کی تردید فرمائی۔ اب آگے ان کے ان مزعومات کی تردید کے لیے ان کے سامنے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے فرزندوں کی سرگزشت حیات کا وہ حصہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے آنحضرت ﷺ کی دعوت اور ان کے فرزندوں کی سرگزشت حیات کا وہ حصہ پیش کیا جا رہا ہے جس سے آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ کی رسالت کی تائید اور یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے تمام دعاوی کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں ہی کے مورث اعلی اور پیشوائے روحانی تھے۔ اس وجہ سے تاریخ کا یہ حصہ یکساں طور پر سب کے لیے حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ اس سورة کے آغاز سے بنی اسرائیل اور ضمناً بنی اسماعیل کے ساتھ جو بحث شروع ہوئی تھی وہ اس مقام پر آ کر اپنے پورے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ یہاں جو باتیں قرآن نے اس سرگزشت کی روشنی میں واضح کی ہیں ان کی تفصیل تو آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی لیکن ہم خاص خاص اصولی باتوں کی طرف یہاں اشارہ کیے دیتے ہیں تاکہ کلام کا نظم اور تسلسل نگاہ کے سامنے آجائے۔ یہ اصولی باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ حضرت ابراہیم ؑ کو امات و پیشوائی کا جو منصب اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا وہ ان کو وراثت کے طور پر نہیں ملا تھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ تھا۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے مختلف امتحانوں میں ڈال کر ان کی اطاعت و وفاداری کی اچھی طرح جانچ کی، جب وہ اس جانچ میں پورے اترے تب ان کو یہ منصب عطا ہوا۔ یہ منصب تمام تر صفات پر مبنی ہے، اس کا کوئی تعلق بھی نسب اور خاندان سے نہیں۔ اس وجہ سے ان کی ذریت میں سے بھی وہی لوگ اس منصب کے سزاوار ہوں گے جو ان صفات کے حامل ہوں جو اس منصب کے شایان شان ہیں۔ بدعہد اور نافرمان لوگ اس کے حق دار نہیں ہوسکتے۔ 2۔ بیت اللہ کو اللہ تعالیٰ نے تمام ذریت ابراہیم کے لیے مرکز قرار دیا، اس کو قبلہ بنانے کا حکم ہوا اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو اس کی تولیت سپرد ہوئی۔ 3۔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل نے اس گھر کی تعمیر کے وقت اپنی ذریعت میں سے ایک امت مسلمہ برپا کرنے اور ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث کرنے کی دعا کی تھی۔ 4۔ یہ پیغمبر اسی دعائے ابراہیمی کے مظہر اور اسی ملت ابراہیمی کے داعی ہیں۔ اس وجہ سے جو لوگ ملت ابراہیمی کی پیروی کا دعوی رکھتے ہوئے ان کی دعوت سے گریز اختیار کر رہے ہیں وہ خود اپنے آپ کو بیوقوف ٹھہرا رہے ہیں۔ 5۔ اسی ملت اسلام کی وصیت حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) نے اپنی اپنی اولاد کو کی اور حضرت یعقوب کی اولاد نے اسی ملت پر جینے اور اسی ملت پر مرنے کا حضرت یعقوب سے عہد کیا۔ 6۔ ان تمام واقعات و حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ اہل کتاب یہودیت یا نصرانیت کے تعصب میں مبتلا ہونے کے بجائے اس ملت ابراہیمی کی پیروی کریں جس کی دعوت محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ خدا کے نبیوں کے درمیان کوئی تفریق نہ کریں بلکہ اس دین اسلام کو اختیار کریں جو مشترک طور پر تمام نبیوں اور تمام رسولوں کا دین ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں وہ اسلام کے رنگ کو اختیار کریں اور یہی رنگ اللہ کا رنگ ہے نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ جو لوگ اس رنگ سے الگ کوئی رنگ اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسولوں سے الگ اپنی پارٹی بنانے کے درپے ہیں۔ 7۔ یہ دعوی بالکل بےبنیاد ہے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے سلسلہ کے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) یہودی یا نصرانی تھے۔ جو لوگ اس قسم کے دعوے کر رہے ہیں وہ حقیقت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان نبیوں کے دین و مذہب سے ان مدعیوں کے مقابل میں زیادہ باخبر ہے۔ 8۔ آخری بات جو اس سلسلہ کلام میں بطور ٹیپ کے بند کے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ دو مرتبہ کہی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے جن آباء و اجداد پر تم تکیہ کیے ہوئے ہو وہ اپنی زندگیاں گزار چکے اور اپنے اعمال اپنے ساتھ لے گئے، نہ ان کے کارناموں کا کریڈٹ تم کو ملے گا اور نہ ان کے کسی عمل کے بارے میں تم سے مواخذہ ہونا ہے۔ ان مطالب کو ذہن کے سامنے رکھتے ہوئے اب اگلی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayahs 2:122–123آیت 122 اور 123 یہ دونوں آیتیں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ اوپر بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ہم ان پر پوری تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر آیات 47، 48
Ayah 2:124ابتلاء کا مقصد : ابتلاء کے معنی جانچنے اور امتحان کرنے کے ہیں۔ یہ ابتلاء بندوں کی تربیت اخلاقی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے۔ اسی چیز سے بندوں کی وہ صلاحیتیں ابھرتی اور نشوونما پاتی ہیں جو ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائی ہیں اور اسی سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوتا ہے۔ یہ امتحان نرم اور سخت، سرد اور گرم، خوش کن اور رنج دہ، حوصلہا فزا اور ہمت آزما دونوں طرح کے حالات کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور کسی صورت میں بھی اس سے مقصود بندے کو دکھ میں مبتلا کرنا نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا صرف اس کی صلاحیتوں کو ابھارنا اور پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ یہاں یہ اشارہ کافی ہے۔ آگے اس پر مفصل بحثیں آئیں گی۔
‘ کلمات ’ کا مفہوم کلمات کلمہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی مفرد لفظ کے بھی آتے ہیں اور پوری بات کے بھی، یہاں کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ احکام ہیں جو اس نے حضرت ابراہیم کی عزیمت و استقامت کے امتحان کے لیے ان کو دیے اور انہوں نے بےچون و چرا ان کی تعمیل کی۔ مثلاً انہوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں عین اپنی قوم کے بتکدے میں اذان دی اور جو بت صدیوں سے معبود بن کر بچ رہے تھے ان کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔ ان کو دین آبائی کی توہین کے جرم میں آگ میں ڈالا گیا، وہ بےخطر اس آگ میں کود پڑے۔ ایک جبار بادشاہ نے ان کو دین حق سے پھیرنا چاہا، انہوں نے حجت ابراہیمی سے اس کے چھکے چھڑا دیے۔ ان کو خاندان، جائیداد اور قوم و وطن سب کو چھوڑ کر ہجرت کا حکم ہوا، وہ سب کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔ ان کو دشت غربت میں اکلوتے اور محبوب فرزند کی گردن پر چھری چلا دینے کا حکم ہوا، انہوں نے بےدریغ اس بازی کے لیے بھی آستینیں چڑھا لیں اور سیز دہ سالہ فرزند کو ماتھے کے بل پچھاڑ دیا۔ حکم الٰہی کی تعمیل میں جان بازی و جان سپاری کے اس قسم کے عظیم کارناموں سے ان کی زندگی کا ہر ورق نورانی ہے۔ ہم نے صرف چند واقعات کی طرف بطور مثال اشارہ کردیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام وہدایات کی تعبیر کے لیے کلمات کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے اس میں بلاغت کا ایک خاص نکتہ مضمر ہے۔ وہ یہ کہ لفظ کلمہ ایک قسم کے اجمال و ابہام کا حامل ہے۔ یہ لفظ کلمہ ‘ کن ’ کی طرح ایک واجب التعمیل حکم کو تو مخاطب کے سامنے رکھ دیتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ اس کا فلسفہ، اس کا صلہ اور اس کا انعام بھی بیان ہو۔ وفاداری اور اطاعت کے امتحان کے لیے اس طرح کے احکام سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے جو بندہ اس طرح کے امتحان میں بازی لے جاتا ہے اس کا اجر و انعام بھی بہت بڑا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے خواب میں ایک اشارے کے طور پر حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کو ذبح کردینے کا حکم دے دیا، نہ اس کی علت و حکمت واضح فرمائی، نہ اس کا اجر وانعام بیان فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ چاہتے تو اس خواب کو صرف خواب کا درجہ بھی دے سکتے تھے اور چاہتے تو اس کی کوئی تعبیر بھی نکال لے سکتے تھے لیکن جس طرح اس کائنات کی ہر چیز خدا کے کلمہ ‘ کن ’ کی تعمیل کرتی ہے، اس کو نہ تو اس کے فلسفہ سے بحث ہوتی ہے نہ اس کے اجر وثواب سے، اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے رب کے ہر کلمہ کی تعمیل کی، نہ اس کا فلسفہ پوچھا، نہ اس کا اجر وثواب معلوم کیا۔ حک ہوا آگ میں کود پڑو، کود پڑے، حکم ہوا، قوم و وطن کو چھوڑ دو ، چھوڑ دیا۔ حکم ہوا بیٹے کی گردن پر چھری چلا دو ، اس کو پچھاڑ دیا۔ ان امتحانی احکام کی اس مخصوص نوعیت کی وجہ سے قرآن نے ان کو کلمات کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔
حضرت ابراہیم ؑ سے بیٹے کی قربانی کا امتحان : یوں تو ان امتحانات میں سے ہر امتحان نہایت کٹھن تھا لیکن خاص طور پر بیٹے کی قربانی والا امتحان تو ایک ایسا امتحان تھا جس میں پورا اترنا تو الگ رہا، اس کا تصور بھی ایک عظیم امتحان تھا۔ لیلکن جب حضرت ابراہیم ؑ اس میں بھی پورے اتر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ فرمایا کہاِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (میں تم کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں) یہ ایک ہی وعدہ بیک وقت دو وعدوں پر مشتمل ہے۔ ایک تو اس پر کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے عظیم قومیں پیدا ہوں گی، دوسرے اس پر کہ حضرت ابراہیم ان سب کے پیشوا ہوں گے۔ اس عظیم انعام کے حق دار وہ اس وجہ سے قرار پائے کہ انہوں نے اللہ کی خاطر نہ صرف اپنے خاندان اور اپنی قوم کو چھوڑا بلکہ ایک دشت غربت میں اپنے اس اکلوتے فرزند کو بھی قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے جو اس بڑھاپے اور اس تنہائی میں ان کی تمام تمناؤں کا واحد مرکز تھا۔ تورات میں اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ کی سوانح کے خاص اس حصہ میں یہود نے بہت سی تحریفات کردی ہیں تاہم یہ وعدہ تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب پیدائش باب 22۔“ اور خداوند کے فرشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابراہام کو پکارا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے کہ چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کے مانند کردوں گا اور تیری اولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیوں کہ تو نے میری بات مانی ”(15-18)۔ اس وعدے کے ایفا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل دونوں کی نسل سے عظیم قومیں پیدا کیں جن کے مورث اعلی اور روحانی پیشوا بلا اختلاف حضرت ابراہیم تھے۔ پھر ان کے اندر نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری ہوا۔ ان میں جلیل القدر بادشاہ پیدا ہوئے جو دشمنوں کے پھاٹکوں کے فاتح بنے۔ پھر انہی کی ایک شاخ میں پیغمبر خاتم ﷺ کی بعثت ہوئی جن کے واسطہ سے تمام دنیا کو ایمان و ہدایت کی برکت نصیب ہوئی۔
مشرکین اس وعدے سے مستثنی ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ جب حضرت ابراہیم ؑ سے کیا تو انہوں نے سوال کیا کہ امامت و پیشوائی کا یہ عہد ابھی کے ساتھ خاص ہے یا ان کی ذریت بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ (میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو ظالم ہوں گے) ظالم سے مراد قرآن میں صرف وہی لوگ نہیں ہوتے جو دوسروں پر ظلم ڈھانے والے ہوں بلکہ اس سے پیشتر وہ لوگ مراد لیے گئے ہیں جو شرک و کفر میں مبتلا ہو کر خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں مثلاً فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ (پس ان میں کتنے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے اور کتنے میانہ رو ہیں) (فاطر : 32) ، وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ۔ اور ان دونوں کی ذریت میں ٹھیک عمل کرنے والے بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم کرنے والے بھی (صافات :113)۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ تمہاری ذریت میں سے تمہاری روش پر قائم اور میری دی ہوئی شریعت و ہدایت پر استوار رہیں گے وہ تو تمہارے بعد اس امامت کے وارث ہوں گے۔ لیکن جو بد عہدی اور نافرمانی کر کے شیطان کی راہ پر چل پڑیں گے وہ اس امامت میں کوئی حصہ نہیں پائیں گے۔ یہ تصریح یہاں اس لیے کی گئی ہے تاکہ بنیا سرائیل اور بنی اسماعیل دونوں پر یہ حقیقت ہوجائے کہ ان کو حضرت ابراہیم کی ذریت ہونے پر جو ناز ہے اور جس کے سبب سے وہ ایمان اور عمل کی تمام ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو سبکدوش سمجھے بیٹھے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ ابراہیم کی وراثت میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے جو شرک و کفر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہ حقیقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم پر اسی روز واضح کردی تھی جس روز ان کو اس منصب امامت پر سرفراز فرمایا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ اوپر ہم نے تورات کا جو حوالہ نقل کیا ہے، اس میں یہ تصریح بھی ضرور موجود رہی ہوگی لیکن چونکہ یہ بات یہود کے منشا کے خلاف تھی اس وجہ سے انہوں نے جس طرح اس سلسلہ کے واقعات میں دوسری بہت سی تبدیلیاں کردیں، اسی طرح اپنی خواہش کے خلاف پا کر اس تصریح کو بھی انہوں نے حذف کردیا۔ استاذ امام ؒ نے اپنے رسالہ ذبح میں ان تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے۔ تفصیل کے طالب اس رسالہ کو ضرور پڑھیں۔
Ayah 2:125‘ بیت ‘ سے مراد بیت اللہ ہے : بیت سے مرد بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ ہے۔ قرآن مجید میں اس شکل میں یہ لفظ خانہ کعبہ ہی کے الیے استعمال ہوا ہے۔ تورات کی کتاب پیدائش باب 12 میں اس کو بیت ایل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایل عبرانی میں اللہ کو کہتے ہیں۔
‘ مثابۃ ’ کا مفہوم : مثابۃ کے معنی مرکز و مرجع کے ہیں، جس کی طرف سب رجوع کریں، جس کے ساتھ سب وابستہ ہوں، جو سب کا مرکز اور سب کا قبلہ ہو۔
‘ للناس ’ سے مراد :“ للناس ”سے یہاں مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکرانِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا میں ہوا ہے۔ یعنی وہ تمام ذریت ابراہیم جس کی امامت و پیشوائی حضرت ابراہیم ؑ کو حاصل ہوئی عام اس سے کہ وہ حضرت اسحاق کی نسل سے ہوں یا حضرت اسماعیل کے سلسلہ سے ہوں۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو ان کی تمام ذریت کا پیشوا بنانے کا فیصلہ کیا گیا اسی طرح یہ فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت کے لیے جو گھر وہ بنائیں گے وہ تمام ذریت ابراہیم کا مرکز اور قبلہ ہوگا اور پھر ذریت اسماعیل کے واسطہ سے، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، تمام دنیا کی قومیں اس گھر کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گی۔
خانہ کعبہ کا ذکر تورات میں : استاذ امام مولانا فراہی اس مسئلہ میں اپنی تحقیق یہ بیان فرماتے ہیں۔ تورات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو شروع ہی سے یہ حکم ملا تھا کہ وہ اپنی بڑی قربانیوں کا قبلہ مکہ معظمہ کی سمت کو قرار دیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قربانی کے لیے ضروری تھا کہ وہ معبد میں خداوند کے حضور پیش کی جائے۔ فصل دوم حرف ی میں ہم بتاچکے ہیں کہ جس قربانی کا نام ان کے ہاں قدس الاقدس تھا اس کا رخ جنوب کی طرف ہونا ضروری تھا۔ اسی طرح سالانہ قربانی جو ان کے ہاں سب سے بڑی قربانی خیال کی جاتی تھی اس کا رخ بھی جانب جنوب ہی ہوتا۔ یہود یا تو اس معاملہ کے اصلی راز سے بیخبر تھے جیسا کہ فصل دوم حرف ی میں ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں یا انہوں نے بالقصد اس معاملہ کو کریدنا نہیں چاہا۔ بلکہ اپنی عادت کے مطابق چاہا کہ اس پر پردہ ہی پڑا رہے۔ مصلحت نیست کہ از پر دوہ بروں افتد راز۔ حالانکہ یہ بات پوری قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ ان کے خیمہ عبادت کا رخ ابتدا سے جانب شمال تھا۔ دیکھو سفر خروج 27 : 9۔ مسکن کا گھر جنوب کی جانب برکت حاصل کرنے کے رخ پر بنایا جائے۔ نیز اسی سفر خروج کے باب 40 آیت 21-42 میں ہے۔“ اور میز کو اس پردے کے باہر مسکن کی شمالی سمت میں خیمہ اجتماع کے اندر رکھا اور اسی پر خداوند کے حضور روٹی سجا کر رکھی جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم کیا تھا اور خیمہ اجتماع کے اندر ہی میز کے سامنے مسکن کی جنوبی سمت میں شمعدان رکھا“۔ ہمارے نزدیک اس ساری ترتیب کا اصلی فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص خداوند کے حضور آئے اس کا رخ جانب جنوب یعنی مکہ معظمہ اور ابراہیمی قربان گاہ کی طرف ہو۔ اس کا مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خیمہ کے اندر مسکن مقدس بھی جنوب ہی کی سمت میں تھا اور مذبح اس کے سامنے دروازے کی طرف تھا۔ اس لیے جو شخص وہ قربانی پیش کرتا جس کو قدس الاقد اس کہتے ہیں وہ مذبح کے شمالی جانب کھڑا ہوتا تاکہ اس کا رخ مسکن ربانی کی طرف ہوسکے جس کے معنی یہ تھے کہ اس کا رخ لازماً خانہ کعبہ کی طرف ہوتا جس کے پاس ہی مروہ ہے جس کو اولین قربان گاہ ہونے کی عزت حاصل ہے اور اس کے پاس ہی مسکن اسماعیل بھی ہے“ (ملاحظہ ہو رسالہ ذبیح فصل 15)۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جس طرح ہماری نمازوں اور قربانیوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اسی طرح ابتداء ہی سے حضرت ابراہیم ؑ کی تمام ذریت کی عبادت وقربانی کا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی کو قرار دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔ چناچہ اسی رخ پر ان کا خیمہ عبادت بھی تھا اور پھر بعد میں اسی رخ پر بیت المقدس کی بھی تعمیر ہوئی، لیکن یہود نے محض تعصب کی وجہ سے اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔
آگے اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا فراہی فرماتے ہیں۔“ ہمارے مذکورہ دعاوی کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کے مسکن کو تمام ذریت ابراہیم کا قبلہ قرار دیا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کو عرب کے مشرق اور شمال میں آباد کیا اور ان کا قبلہ حضرت اسماعیل کے مسکن کو قرار دیا۔ چناچہ تورات سے ثابت ہے کہ ان کو ان کے تمام بھائیوں کے آگے بسایا ”۔ پیدائش 18-25 میں ہے۔ ”اور اس کی اولاد حویلہ سے شور تک جو مصر کے سامنے اس راستے پر ہے جس سے اسور کو جاتے ہیں، آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسے ہوئے تھے ”۔ اور پیدائش 16 : 12 میں ہے۔ ”وہ گور خر کی طرح آزاد مرد ہوگا اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسا رہے گا ”۔
“ سب بھائیوں کے سامنے بسنے ”کی جو تاویل ہم نے کی ہے، اس کے سوا اس کی کوئی دوسری صحیح تاویل ممکن نہییں ہے کیونکہ معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی تمام اولاد ماسوا بنی اسماعیل کے مشرق و شمال میں آباد ہوئی۔ پس حضرت اسمعایل ان سب کے سامنے اسی وقت ہوسکتے ہیں جب یہ مانا جائے کہ ان کی بستی ان سب کے قبلہ کے سمت میں تھی۔ ہمارے نزدیک اس بات کو ماننے میں کسی تردد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ یہ معلوم ہے کہ حضرب ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے سب کا امام بنایا تھا اور ان کے بعد اس امامت کے وارث حضرت اسماعیل ہوئے۔ قرآن مجید نے اس معاملہ کی طرف بعض اشارات کیے ہیں۔ (آگے موالانا نے وہی آیت نقل فرمائی ہے جو یہاں زیر بحث ہے۔ ملاحظہ ہو مولانا فراہی کا رسالہ ذبیح فصل 16۔
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى (اور مسکن ابراہیم کے ایک حصہ میں نماز کی ایک جگہ بناؤ)۔ یہاں آیت میں مقام ابراہیم کا لفظ آیا ہے۔ مقام سے کیا مراد ہے ؟ علمائے تفسیر سے اس بارے میں دو قول منقول ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک اس سے مراد وہ پتھر ہے جس کے متعلق یہ مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم نے اس پر کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد حرم کا پورا علاقہ ہے۔ اس گروہ نے مقام کے لفظ کو کسی مخصوص کھڑے ہونے کی جگہ کے بجائے مسکن و مستقر کے مفہوم میں لیا ہے۔ (اس گروہ میں ابن عباس، مجاہد اور عطا جیسے اکابر علم تفسیر شامل ہیں) ہمارے نزدیک یہی تاویل صحیح ہے۔ اس تاویل میں وسعت و جامعیت کے ساتھ ساتھ خاص اہمیت رکھنے والا پہلو یہ ہے کہ نظم کلام کے اعتبار سے یہ اس مقصد کو زیادہ واضح کرنے والی ہے جس کے لیے یہ بات یہاں کہی گئی ہے۔ یہاں یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ یہی گھر تمام اولاد ابراہیم کا قبلہ رہا ہے اس لیے کہ یہی گھر ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم نے سب سے پہلے اپنے اس مستقر میں تعمیر کیا جس میں ہجرت کے بعد انہوں نے حضرت اسماعیل کے ساتھ سکونت اختیار کی۔
ہمارے اور یہود کے درمیان نزاعی مسئلہ : یہ مسئلہ ہمارے اور یہود کے درمیان ایک بڑا نزاعی مسئلہ ہے۔ یہود نے خانہ کعبہ اور مروہ کی قربان گاہ سے حضرت ابراہیم کا تعلق بالکل کاٹ دینے کے لیے واقعہ قربانی میں بھی اور ان کی سرگزشت ہجرت میں بھی نہایت بھونڈی قسم کی تحریفات کردی ہیں اور اس طرح انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابراہیم نے جس بیٹے کی قربانی کی وہ حضرت اسحاق ہیں نہ کہ حضرت اسماعیل، جس جگہ قربانی کی وہ جبل یروشلم ہے نہ کہ مروہ۔ خدا کی عبادت کے لیے انہوں نے جو گھر بنایا وہ بیت المقدس ہے نہ کہ بیت اللہ۔ انہوں نے جس جگہ ہجرت کے بعد سکونت اختیار کی وہ کنعان ہے نہ کہ جوارِ خانہ کعبہ۔ ان بیانات کی تصدیق یا تردید کا واحد ذریعہ چونکہ تورات ہی ہے اور تورات میں یہود نے اپنے حسب منشا جیسا کہ ہم نے عرض کیا، تحریف کرڈالی، اس وجہ سے اصل حقائق سے پردہ اٹھانا بڑا مشکل کام تھا لیکن ہمارے استاد مولانا فراہی نے یہود کی ان تمام تحریفات کا پردہ خود تورات ہی کے دلائل سے اپنے رسالہ ذبیح میں بالکل چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے تورات ہی کے بیانات سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے وطن سے نکلنے کے بعد حضرت اسحاق کی والدہ کو تو کنعان میں چھوڑا اور خود حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کے ساتھ بیر سبع کے بیابان میں قیام کیا۔ یہ جگہ ایک غیر آباد جگہ تھی اس وجہ سے انہوں نے یہاں سات کنوئیں کھودے اور درخت لگائے یہیں ان کو خواب میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم صادر ہوا اور وہ حضرت اسماعیل کو لے کر مروہ کی پہاڑی کے پاس آئے اور اس حکم کی تعمیل کی۔ اسی پہاڑی کے پاس انہوں نے حضرت اسماعیل کو آباد کیا۔ پھر یہاں سے لوٹ کر وہ بیر سبع گئے اور اپنے قیام کے لیے ایسی جگہ منتخب کی جو خانہ کعبہ سے قریب بھی ہو اور جہاں سے وقتاً فوقتاً حضرت اسحاق کو دیکھنے کے لیے بھی جانا آسانی سے ممکن ہوسکے۔
مولانا نے یہ ساری باتیں تورات کے نہایت ناقابل تردید دلائل سے ثابت کردی ہیں۔ ہر سوال پر اصل کتاب کے اقتباسات پیش کرنے میں طوالت ہے اس وجہ سے ہم نے صرف خلاصہ بحث اپنے الفاظ میں پیش کردیا ہے۔ جو لوگ تفصیل کے طالب ہوں وہ مولانا کے مذکورہ رسالہ کا مطالعہ کریں۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے قیام اسی علاقہ میں فرمایا نہ کہ شام میں تو ان کو نماز کے لیے ایک مرکز کی تعمیر بھی اسی علاقہ میں کرنے کا حکم ہونا چاہیے۔ چناچہ اسی حکم کی تعمیل میں انہوں نے اس بیت اللہ کی تعمیر کی جس کا ذکر تورات کی کتاب پیدائش میں بیت ایل کے نام سے ہوا ہے۔ بیت اللہ اور بیت ایل دونوں کے معنی بالکل ایک ہیں ایل کے معنی عبرانی میں اللہ کے ہیں۔ اس بیت ایل سے اگر یہود بیت المقدس کو مراد لیتے ہیں تو قطع نظر اس سے کہ اس سرزمین کو حضرت ابراہیم نے اپنا مسکن نہیں بنایا، یہود کے اس دعوے کو جھٹلانے والی سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ بیت المقدس کی تعمیر بالاتفاق حضرت ابراہیم ؑ کے سیکڑوں سال بعد حضرت سلیمان ؑ کے عہد میں ہوئی ہے۔ چناچہ خانہ کعبہ کی اسی قدامت اور اولیت کی وجہ سے قرآن نے اس کو ‘ بیت عتیق ’ اور ‘ اول بیت ’ کے الفاظ سے بھی تعبیر کیا ہے ،إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا۔ بیشک پہلا گھر جو لوگوں۔ اولاد ابراہیم۔ کے لیے تعمیر ہوا وہی ہے جو بکہ میں ہے، مبارک اور تمام عالم کے لیے سرچشمہ ہدایت۔ اس میں (اس کی اولیت کی) نہایت واضح نشانیاں ہیں، یہ مسکن ابراہیم ہے (اور اس کی روایت ہے کہ) جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوا (آل عمران :96-97)
بیت اللہ کی تعبیر مصلی سے : یہاں بیت اللہ کو“ مصلی ”کے لفظ سے جو تعبیر فرمایا ہے تو اس سے اس گھر کے اصل مقصد تعمیر کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ نماز کا مرکز ہوگا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کے جور رحمت میں حضرت اسماعیل کو بساتے وقت دعا بھی یہی کی تھی کہ“ ربنالیقیموا الصلوۃ“ (اے رب میں نے ان کو اس لیے یہاں بسایا ہے تاکہ یہ نماز قائم کریں)۔ لیکن دور جاہلیت میں اس کے مشرک اور مبتدع متولیوں نے اس کو بدعات کا ایک اڈا بنا لیا اور ان کی نماز پھونک مارنے اور تالی بجانے کی ایک بت پرستانہ رسم بن کر رہ گئی۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں“ مصلی ”کے لفظ میں ایک اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ذریت ابراہیم کی دونوں شاخوں نے اپنے قبلہ کے بنیادی مقصد کو ضائع کردیا اور اب خدا نے اپنے اس نبی کو بھیجا ہے جو اس کے اصلی مقصد کی تجدید کر رہا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہود نے جس طرح اپنے دینی لٹریچر سے خانہ کعبہ کے ذکر کو خارج کردیا اسی طرح نماز کو بھی انہوں نے بالکل خارج کردیا۔ ان کے ہاں اگر کوئی چیز ہے تو قربانی ہے۔ ان کے معبد کی بھی اصلی حیثیت مرکز نماز کی نہیں بلکہ قربان گاہ کی ہے۔ ہمیں کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ان کے نماز کی نعمت سے محروم ہوجانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ انہوں نے اپنے اصل قبلہ خانہ کعبہ سے اپنا تعلق توڑ لیا۔
(بکہ کے معنہ شہر کے ہیں قدیم صحیفوں میں مکہ کے لیے یہی لفظ وارد ہے۔ یہود نے تحریف کر کے اس کو وادی بکاء کردیا ہے، متعلق آیت کی تفسیر کے تحت ہم اس تحریف پر بحث کریں گے)۔
وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ الایۃ۔ عَہِدَ جب الی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی پر کوئی ذمہ داری ڈالنے یا اس کو کسی شرط کا پابند کرنے کے آتے ہیں مثلاً وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا۔ اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک شرط کا پابند کیا تو وہ بھول بیٹھا اور ہم نے اس میں ارادہ کی مضبوطی نہیں پائی۔ (طہ :115)۔ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ۔ کیا میں نے تم کو اس شرط کا پابند نہیں کیا تھا، اے آدم کے بیٹو، کہ تم شیطان کی بندگی نہ کرو گے (یس -60)۔ پس عَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر خانہ کعبہ کی تولیت کی ذمہ داری ڈالی اور ان کو اس شرط کا پابند کیا کہ وہ اس گھر کو طواف، اعتکاف اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں۔
تطہیر بیت اللہ کا مقصد : پاک صاف رکھنے سے مقصد ظاہر ہے کہ ان ساری چیزوں سے پاک صاف رکھنا ہے جو اس گھر کے مقصد تعمیر کے منافی ہوں عام اس سے کہ وہ گندگی اور نجاست ہو جس سے عبادت گزاروں کی طبیعت میں تکدر پیدا ہو، یا ارباب لہو لعب کے ہنگامے ہوں جن سے ان کی یکسوئی میں خلل واقع ہو یا اصنام و اوثان ہوں جو خدا کے گھر کو شرک و بت پرستی کا گڑھ بنا کے رکھ دیں۔ ان ساری چیزوں سے اس گھر کو پاک رکھنے کی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل پر ذمہ داری ڈال دی گئی تھی اور تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اس ذمہ داری کا حق ادا کیا لیکن بعد میں ان کی اولاد جب شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوگئی تو اس نے اس گھر کی تولیت کی اس شرط کے برعکس اس کے کونے کونے میں بتوں کو لا بٹھایا اور ان لوگوں کو اس گھر سے نہایت ظلم اور بےدردی سے نکالا جو اس کو از سر نو ذکر الٰہی کے زمزموں، طواف و اعتکاف کی رونقوں اور رکوع و سجود کی جبہ سائیوں سے آباد و معمور کرنا چاہتے تھے۔ قرآن نے یہاں خانہ کعبہ کی ابتدائی تاریخ کی اس حقیقت کی طرف اسی لیے اشارہ فرمایا ہے کہ قریش اس گھر سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں لیکن جب انہوں نے ان کو سمجھنے سے انکار کردیا تو بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کی تولیت کے منصب سے ان کی معزولی کا اعلان کردیا“ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ۔إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلا اللَّهَ۔ مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے منتظم بنے رہیں۔ در آنحالیکہ وہ خود اپنے کفر پر گواہ ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے تمام اعمال اکارت گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے یہی ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کے منتظم تو وہی ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں۔ نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔
‘ طواف ’ کا مفہوم : یہاں اس گھر کو تین چیزوں کے لیے خاص کرنے کا حکم ہوا ہے۔ طواف، اعتکاف اور رکوع و سجود۔ طواف سے مراد خانہ کعبہ کے ارد گرد پھیرے لگانا ہے۔ نبی ﷺ کی سنت نے اس کا وہ طریقہ واضح فرما دیا ہے جو اس کا اصل ابراہیمی طریقہ ہے۔ طواف در حقیقت نماز کی ایک قسم ہے لیکن یہ نماز صرف خانہ کعبہ ہی کے پاس ادا ہوسکتی ہے اس کے سوا کہیں اور ادا نہیں ہوسکتی۔ اس کی اس خصوصیت کی وجہ اس کا ذکر سب سے پہلے فرمایا۔ وقار و ادب کے حدود کے اندر رہتے ہوئے محبت الٰہی کے جذبات جس حد تک اس نماز میں ابھرتے ہیں بس اسی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ شمع و پروانہ کی حکایت طواف میں ایک حقیقت بن جاتی ہے بشرطیکہ آدمی کے اندر حیات ایمانی کی رمق ہو۔
اعتکاف کا مفہوم : عاکف، عکوف سے ہے جس کی اصل روح دوسری چیزوں سے صرف نظر کر کے کسی خاص چیز کو پکڑ لینا ہے۔ اسی سے اعتکاف ہے جو دھیان گیان اور ذکر و فکر کی عبادت ہے۔ بندہ ہر چیز سے کٹ کر اپنے رب کی یاد کے لیے گوشہ نشین ہوجائے، یہ اعتکاف ہے۔ اس کی صحیح شکل نبی ﷺ نے اپنی سنت سے واضح فرما دی۔ جس طرح طواف محبت الٰہی کے جذبات ابھارنے کے لیے اپنے اندر ایک خاص صفت رکھتا ہے اسی طرح اعتکاف ذکر الٰہی پر عقل اور دل کو جمانے کے لیے اپنے اندر ایک خاص صفت رکھتا ہے۔
رکوع اور سجود کا مفہوم : رُکَّعٌ، رَاکِعٌ کی جمع ہے اور سجود، ساجد کی۔ رکوع اور سجدہ کی لغوی تحقیق آیات 34 تا 42 کی تفسیر کے تحت بیان ہوچکی ہے۔ یہاں یہ دونوں لفظ نماز کی تعبیر کے لیے وارد ہوئے ہیں۔ نماز کی تعبیر رکوع اور سجود سے دو اہم حقیقتوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ ایک تو یہ کہ دونوں چیزیں نماز کے قدیم ترین اور اہم ترین ارکان میں سے ہیں۔ نماز کی ظاہری ہیئت میں جو تبدیلیا بھی واقع ہوئیں ہوں لیکن یہ دونوں چیزیں جس طرح ہماری نمازوں میں شامل ہیں اسی طرح ابراہیمی نماز میں بھی شامل تھیں۔ دوسری یہ کہ نماز سے صرف ذکر وفکر ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کی مخصوص صورت و ہیئت بھی مطلوب ہے اور اس کی صورت و ہیئت کا اصلی جمال اس کے رکوع و سجود ہیں۔
Ayah 2:126سرزمین حرم کے دو خاص مسئلے :“ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ۔ اے میرے رب اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے ساکنوں کو پھلوں کی روزی عطا فرما ”آمن کے عنی مامون و مطمئن کے ہیں۔ یہ دعا حضرت ابراہیم نے اس سرزمین کے لیے فرمائی ہے جس پر حضرت اسماعیل ؑ کو بسایا اور جہاں حرم کی تعمیر کی۔ یہ علاقہ جیسا کہ واضح ہوچکا ہے، تہذیب و تمدن اور آبادی و زرخیزی سے بالکل محروم تھا، خانہ بدوش قبائل پانی اور چراگاہوں کی تلاش میں موسموں کے تغیر کے ساتھ ساتھ ادھر سے ادھر منتقل ہوتے رہتے تھے۔ معاش کا ذریعہ یا تو گلہ بانی تھا یا شکار یا پھر لوٹ مار۔ اس وجہ سے اس سرزمین کے دو مسئلے خاص طور پر حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے میں بڑے اہم تھے۔ ایک امن کا، دوسرا غذا کا۔ حضرت ابراہیم کی مذکورہ دعا انہی دو چیزوں کے لیے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہد عا جس طرح قبول فرمائی اور اس کی جو برکتیں حضرت ابراہیم ؑ کی ذریت اور اس علاقہ کے باشندوں کے لیے ظاہر ہوئیں وہ تاریخ کی ایک ایسی زندہ اور محسوس حقیقت ہے کہ کوئی کٹر سے کٹر مخالف بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ پھر عجیب ایمان پرور ماجرا یہ ہے کہ یہ دونوں چیزوں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے واسطہ ہی سے لوگوں کو بخشیں۔ اس دروازے کے سوا انہیں کسی اور واسطے اور ذریعے کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ قرا ان میں اس گھر کو جو مبارک (سرچشمہ خیر و برکت) کہا گیا ہے، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کن شکلوں میں پوری ہوئی : اب آئیے دیکھیے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا اس سرزمین کے بسنے والوں کے لیے کن کن شکلوں میں پوری ہوئی۔ سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف بیت اللہ کو بلکہ اس سرزمین کو بھی جہاں بیت اللہ واقع ہے محترم قرار دے دیا۔ اس میں لڑنا بھڑنا، کسی پر حملہ کرنا، کسی کو قتل کرنا، سب یک قلم ممنوع ہوگیا۔ جو شخص بھی اس میں داخل ہوگیا وہ خدا کی امان میں داخل ہوگیا۔ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں رہا کہ اس سے کسی قسم کا تعرض کرسکے۔ اس کے حدود سے باہر خطرہ ہی خطرہ تھا لیکن اس کے اندر رب ابراہیم نے امن ہی امن پیدا کردیا۔ یہاں تک کہ اس کے دائرے میں کسی جانور کو بھی کوئی اذیت پہنچانا حرام ٹھہرا۔ اپنے اسی احسان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قریش کو مخاطب کر کے ان الفاظ میں فرمایا ہے“ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے ایک محفوظ حرم بنا دیا در آنحالیکہ ان کے گرد و پیش کا حال یہ ہے کہ لوگ دن دہاڑے اچک لیے جاتے ہیں ”(عنکبوت :67)۔ دوسری یہ کہ اس گھر کے حج و زیارت کے لیے سال کے چار مہینے بھی محترم قرار دے دیے گئے۔ ان مہینوں میں لڑنا بھڑنا اور خونریزی و فساد بالکل ممنوع ہوگیا۔ وحشی سے وحشی لوگ بھی ان کے احترام میں اپنی تلواریں میانوں میں کرلیتے تھے اور خطرناک سے خطرناک علاقے بھی بالکل پر امن ہوجاتے تھے تاکہ لوگ ملک کے ہر گوشے اور کونے سے حج وعمرہ کے لیے آسکیں اور پھر امن وسلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو بیرونی دشمنوں کے خطرات سے بھی بالکل مامون و محفوط بنایا۔ اس گھر کی تاریخ شہادت دیتی ہے کہ بیرونی دشمنوں کو اول تو اس پر حملہ آور ہونے کی کبھی جرات ہی نہیں ہوئی اور اگر کبھی کسی نے یہ جسارت کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت قاہرہ سے نہایت عبرت ناک سزا بھی دی ہے۔ ابرہہ کی فوجوں کا جو حشر ہوا وہ تاریخ کی بھی ایک مشہور حقیقت ہے اور اس کا ذکر قرآن کی سورة فیل میں بھی ہوا ہے۔ اسی طرح اس گھر کی برکت نے اس سرزمین کے ساکنوں کے لیے معاش کی فراغت کے دروازے بھی کھول دیے۔ اس کے بھی بعض پہلوؤں کی طرف ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں۔
معاشی فراغت کے مختلف پہلو : ایک تو یہ کہ مرکز حج قرار پا جانے کی وجہ سے اس سرزمین کی طرف لوگوں کا رجوع بہت بڑھ گیا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت جتنی ہی پھیلتی گئی اسی حساب سے لوگ گوشہ گوشہ سے حج و زیارت کے لیے آنے لگے۔ اور پھر اسی اعتبار سے، قدرتی طور پر، تجارت اور کاروبار کو فروغ ہوا۔ باہر سے ہر قسم کی چیزیں مکہ کے بازار میں پہنچنے لگیں اور یہاں سے جو چیزیں باہر جاسکتی تھیں وہ باہر نکلنے لگیں۔ اس گھر کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ میں معاش کا تمام تر انحصار جیسا کہ ہم نے ذکر کیا یا تو گلہ بانی اور شکار پر تھا یا لوٹ امر پر لیکن اب تجارت کی راہ کھل جانے کی وجہ سے ہر قسم کی اجناس اور پھل اور ضرورت کی دوسری چیزوں کی فراونی ہوئی جس سے لوگوں کی معیشت میں ایک نہایت خوشگوار تبدیلی آگئی۔ دوسرا یہ کہ خانہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد کو وقار و احترام کا ایک ایسا مقام حاصل ہوگیا کہ تمام عرب پر ان کی سیاسی اور مذہبی دھاک بیٹھ گئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے تجارتی قافلے شام اور یمن وغیرہ تک برابر جاتے اور کوئی ان سے مزاحمت کی جرات نہ کرتا۔ بلکہ تاریخوں سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ ان کے قافلے جن شاہراہوں سے گزرتے ان پر بسنے والوں قبائل ان سے تعرض کرنے کے بجائے اپنے اپنے حدود کے اندر ان کی حفاظت اور رہنمائی کے لیے بدرقہ فراہم کرتے۔ سورة لایلاف میں قرآن مجید نے قریش کے انہی تجارتی سفروں کا حوالہ دے کر ان سے مطالبہ کیا ہے۔“ فلیعبدوا رب ھذا البیت الذی اطعمہم من جوع وامنہم من خوف۔ پس چاہیے کہ اس گھر کے رب کی وہ بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خطرے سے نچنت کیا ”۔ اس لیے کہ فی الواقعی یہ اسی گھر کی برکت تھی کہ وہ ایک پرخطر اور چٹیل بیابان میں امن سے بھی بہرہ مند ہوئے اور ان کے لیے معاش کی راہیں بھی فراخ ہوگئیں۔
ایک سوال کا جواب : بحث کے یہ سارے پہلو تو بالکل واضح ہیں البتہ یہاں ایک بات ایسی ہے جو ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہنوں میں کھٹکے وہ یہ کہ اس موقع پر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کے لیے رزق کے لیے جو دعا کی ہے وہ مخصوص طور پر پھلوں کے رزق کی دعا ہے۔ اپنی اولاد کے لیے رزق و فضل کی دعا کرنا بالخصوص جب کہ وہ ایک بےآب وگیاہ صحرا میں بسائی جا رہی ہو ایک بالکل فطری چیز ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس رزق کے لیے پھلوں کی شرط کیوں لگائی۔ ذوق تو یہ کہتا ہے کہ رزق کی تجویز پیش کرنا ایک پیغمبر کے لیے کچھ موزوں نظر نہیں آتا۔ قرآن مجید میں دوسرے انبیاء کی یا خود حضرت ابراہیم کی دوسری دعائیں جو مذکور ہیں ان پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی تخصیص و تعیین سے جو ایک تجویز کی سی شکل اختیار کرلے ان میں بالعموم احتراز فرمایا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کھٹک محض اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ثمرات سے مراد صرف میوہ جات ہیں حالانکہثرات کے معنی صرف میوہ جات کے نہیں آتے بلکہ میوہ جات کے ساتھ ساتھ اجناس اور غلہ جات بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ میوہ جات کے لیے مخصوص لفظ عربی میں فواکہ کا ہے۔ ثمرات کا لفظ اس سے عام اور وسیع ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ اسی ابراہیمی دعا کی برکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ثمرات کل شیئ (ہر چیز کے پھل) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں“ أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ۔ کیا ہم نے ایک مامون حرم ان کے قدم نہیں جمائے جہاں ہر چیز کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں ”(قصص :57)۔
ہم اوپر یہ ذکر کرچکے ہیں کہ یہ سرزمین جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیل کو بسایا ایک چٹیل اور غیر آباد جگہ تھی۔ تورات میں اس کے لیے بیابان کا لفظ استعمال ہوا ہے اور خود حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں اس کو وادی غیر ذی زرع (بن کھیتی کی وادی) سے تعبیر کیا ہے۔ تورات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل کی بسر اوقات گلہ بانی اور شکا پر تھی جس کے سبب سے ان کا زیادہ تر وقت باہر بسر ہوتا تاھ۔ ظاہر ہے کہ جب معاش کا انحصار گلہ بانی اور شکار پر ہو تو وہ پرسکون اور برقرار زندگی وجود میں آسکتی تھی جو بیت اللہ کی تولیت کے فرائض اور اس مشن کی تکمیل کے لیے ضروری تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسماعیل کے سپرد فرمایا تاھ۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے لیے یہ دعا کی کہ ان کو بدویانہ زندگی کی بےاطمینانیوں اور پریشانیوں کی جگہ حضری زندگی کا سکون و اطمینان نصیب ہوتا کہ وہ توحید اور عبادت الٰہی کے اس عالم گیر مرکز کی پوری دلجمعی کے ساتھ خدمت کرسکیں جس کی خدمت پر وہ مامور کیے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا سورة ابراہیم میں بھی نقل ہوئی ہے۔ وہاں کچھ الفاظ زیادہ ہیں جن سے وہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ فرمایا“ رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔ اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد میں سے عض کو ایک بن کھیتی کی زمین میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا اے ہمارے رب، میں نے اس لیے بسایا ہے تاکہ یہ نماز قائم کریں پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ یہ تیرا شکر ادا کرتے رہیں ”۔ (ابراہیم :37)۔ اس دعا کے الفاظ پر اچھی طرح غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کے لیے یہاں اپنے رب سے دو چیزوں کی درخواست کی ہے اور اس درخواست کے حق میں دو چیزوں کو بطور سفارش پیش کیا ہے۔ درخواست تو یہ پیش کی کہ تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی دے اور اس کے حق میں سفارش یہ پیش کی ہے کہ یہ سرزمین زراعت سے بالکل محروم سرزمین ہے لیکن میں نے اپنی اولاد کو صرف اس لیے یہاں لا ڈالا ہے کہ یہ تیرے محترم گھر کی خدمت کریں اور تیری بندگی کی دعوت کے لیے نماز قائم کریں۔ غور کیجیے کہ جب ثمرات کی روزی کے لیے وہ وجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ بن کھیتی کی زمین ہے تو ان کا مدعا ثمرات سے صرف میوہ جات تو نہیں ہوسکتے بلکہ یہی ہوسکتا ہے کہ یہ گلہ بانی اور شکار کی بدویانہ زندگی کی بےاطمینانیوں سے چھوٹ کر حضری زندگی کے سکون سے بہرہ مند ہوں کہ تیرے گھر اور تیرے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرسکیں۔ آیت کے آخر میں لعلہم یشکرون کے جو الفاظ آئے ہیں وہ بھی نہایت معنی خیز ہیں یعنی میں ان کے لیے جو سکون کی زندگی settled life کا طالب ہوں تو اس لیے نہیں کہ ان کے لیے سامان عیش کی فراوانی چاہتا ہوں بلکہ صرف اس لیے اس کا طالب ہوں کہ وہ اپنے مشن کے لیے یکسو رہ کر زیادہ سے زیادہ تیری شکر گزاری کا حق ادا کرسکیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی شرط :“ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ الایۃ ”حضرت ابراہیم ؑ نے رزق کے لیے جو دعا فرمائی اس کے ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ اس کے حق دار صرف وہی لوگ ٹھہریں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہوں یقینا یہاں یہ پیش بندی حضرت ابراہیم ؑ نے اس لیے فرمائی کہ اوپر امامت و خلافت کے معاملہ میں ان کو یہ صاف جواب مل گیا تھا کہ اس عہد کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہ ہوگا جو شرک وکفر میں مبتلا ہوجائیں گے یہ بات سانے تھی اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے اس پر قیاس کر کے یہاں اپنی دعا میں از خود یہ قید لگا دی کہ میں یہ درخواست صرف اہل ایمان کے لیے کر رہا ہوں۔ اس سے حضرت ابراہیم ؑ کے اس مرتبہ تسلیم و رضا کا اندازہ ہوتا ہے جس پر وہ فائز تھے۔ اشارہ بھی اگر مل گیا ہے کہ فلاں سمت میں رب کی رضا ہے تو جھپٹ کر ادھر کو چل پڑے ہیں، اگرچہ اس اشارہ کا مطلب بعد میں کچھ اور ہی واضح ہوا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ امامت و خلافت اور معیشت دنیا کے معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کے نافرمان ہیں وہ خدا کی خلافت کے سزاوار تو ہرگز نہیں ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کی نافرمانی کے سبب سے خدا ان کی روزی بھی چھین لے۔ روزی اللہ تعالیٰ نافرمانوں اور فرمانبرداروں دونوں کو اس حیات چند روزہ میں دیتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس زندگی میں جو لوگ اس کے رزق سے نافرمانی کرتے ہوئے متمتع ہوتے ہیں ان کو مرنے کے بعد وہ دوزخ میں جھونک دے گا۔ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے وہ بڑی وضاحت کے ساتھ آگے مختلف سورتوں میں بیان ہوگی اس وجہ سے یہاں ہم صرف اجمالی اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔