Ayah 2:173ملت ابراہیم میں حرام و حلال : یہ اشارہ ہے ان چیزوں کی طرف جو اصلاً ملت ابراہیم میں حرام ٹھہرائی گئی تھیں اور مقصود اس سے ہرگز ہرگز حرام و حلال کی تفصیل پیش کرنا نہیں ہے بلکہ صرف مشرکین کی تردید ہے کہ انہوں نے اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت چوپایوں میں سے بعض کو جو حرام قرار دے دیا ہے یہ بالکل بےسند بات ہے، ملت ابراہیم میں یہ چیزیں حرام تھیں۔ بالکل اسی سیاق میں یہی بات سورة انعام میں اس طرح فرمائی گئی ہے " قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ "، کہہ دو کہ مجھے جو وحی کی گئی ہے اس میں تو کسی کھانے والے کے لیے میں بجز اس کے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا کہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت، یہ چیزیں ناپاک ہیں۔ یا پھر خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی چیز کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کردیا جائےـقُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ کے الفاظ پر ان کے سیاق وسباق کو سامنے رکھ کر غور کیجیے تو صاف معلوم ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے مشرکین کے سامنے اس بات کی وضاحت کرائی جا رہی ہے کہ تم نے جو بعض چوپایوں کی حرمت کو ملت ابراہیم کی نسبت دے رکھی ہے یہ بالکل بےسند بات ہے، مجھ پر ملت ابراہیم کے ضابطہ حلت و حرمت سے متعلق جو بات وحی کی گئی ہے وہ تو یہ ہے کہ فلاں فلاں چیزوں کے سوا چوپایوں میں سے کوئی چیز بھی حرام نہیں ٹھہرائی گئی۔۔ بعض لوگ زیر بحث آیت کو اس کے موقع و محل سے بالکل الگ کر کے اس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں بس یہی چیزیں حرام ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی چیز بھی حرام نہیں ہے لیکن یہ خیال صریحاً غلط ہے۔ اس طرح کے لوگوں کی تردید کے لیے دوسری باتوں سے قطع نظر تنہا یہی بات کافی ہے کہ زیر بحث آیت میں“ میتہ ”کا جو لفظ آیا ہے سورة مائدہ کی آیت 3 میں اس کی وضاحت میں پانچ چیزیں گنائی گئی ہیں۔ پھر مزید بعض دوسری چیزوں کی بھی حرمت بیان ہوئی ہے جن کی طرف آیت زیر بحث میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔۔ ظاہری گندگی اور باطنی گندگی : ان بیان کردہ چیزوں میں سے مردار، خون، اور لحم خنزیر کی حرمت تو ان کی ظاہری گندگی کے سبب سے ہے اس لیے کہ اسلام میں صرف پاکیزہ چیزیں ہی، جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا، حلال ٹھہرائی گئی ہیں، جو چیزیں دیکھنے ہی سے گندی اور نجس محسوس ہوتی ہیں ان کو اس دین فطرت میں حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ رہی غیر اللہ کے ذبیحہ کی حرمت، تو اس کی حرمت کی وجہ اس کی باطنی گندگی ہے۔ یہ حقیقت اسلام میں اپنی جگہ پر بالکل مسلم اور واضح ہے کہ شرک سب سے بڑی عقلی اور باطنی نجاست ہے اس وجہ سے اگر کسی پہلو سے اس چھوت کسی پاک چیز کو بھی لگ جاتی ہے تو وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے۔ ان دونوں قسموں کی نجاستوں کی طرف اشارہ خود قرٓن ہی نے کردیا ہے چناچہ انعام 145 میں مردار، خون اور لحم خنزیر کے ذکر کے بعد فرمایا کہ فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ کے الفاظ کے ساتھ کیا جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اس کی نجاست ظاہری نہیں بلکہ عقلی اور عقائدی ہے۔ پھر سورة انعام میں انہی مسائل کے بیان کے سلسلہ میں دین کی یہ ایک بہت بڑی حقیقت بھی واضح کردی کہ اسلام کا مطالبہ اپنے ہر پیرو سے صرف گناہ ظاہری کے چھورنے کا نہیں ہے بلکہ گناہ باطنی کے چھوڑنے کے لیے بھی ہے اس وجہ سے ظاہر گندگی سے آلودہ چیزوں کے ساتھ ساتھ باطنی اور روحانی گندگی سے ملوث چیزوں کو چھوڑنا بھی ضروری ہے۔“ وذروا ظاہر الاثم و باطنہ ”، اسی ضابطہ کے تحت نبی ﷺ نے بھی بعض چیزوں کو حرام ٹھہرایا۔
“ اضطر ”ضر یضر سے باب افتعال ہے۔ عربی زبان کے قاعدے کے مطابق“ ض ”کی مناسبت سے افتعال کی ت، ط سے بدل گئی ہے۔ ضرہ الی کذا کے معنی ہیں الجاءہ الیہ اس کو فلاں چیز کی طرف مجبور کر کے دھکیل دیا۔ اضطرہ الیہ کے معنی ہیں احوجہ والجاءہ اس کو فلاں چیز کی طرف مجبور کردیا۔ بغی یبغی کے معنی یہاں چاہنے اور طلب کرنے کے ہیں۔ غیر باغ ولا عاد، یہاں حال پڑے ہوئے ہیں۔ بعض جگہ“ اضطرار ”کے ساتھ مخمصہ کی قید بھی لگی ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک سے مجبور ہوجائے تو وہ حرام کردہ چیزیں بھی جان بچانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے لیکن یہ اضطرار واقعی ہو۔ نہ تو اس کے اندر حرام کی کسی چاہت کو دخل ہو اور نہ آدمی اس حد سے آگے بڑھنے والا ہو جس حد تک بڑھنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہو۔ ان احتیاطوں کے ساتھ کسی واقعی مجبوری میں اگر کوئی شخص کسی حرام چیز سے فائدہ اٹھائے تو فرمایا ہے کہ اس کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اللہ غفور رحیم ہے۔
رخصت اور عزیمت : قرآن کے الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ یہ اس حالت اضطرار کے لیے ایک رخصت ہے جو غذا میسر نہ آنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر اسی پر قیاس کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ جو شخص حالت اکراہ میں مبتلا ہوجائے وہ بھی اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے لیکن بعض فقہا نے اس حد سے بڑھ کر اس کو عزیمت کا درجہ دیا ہے۔ چناچہ حنفیہ کے نزدیک تو وہ شخص خود کشی کا مجرم ٹھہرے گا جو اس طرح کے حالات میں حرام سے فائدہ اٹھانے کی جگہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دے گا۔ ہمارے نزدیک اس اجمال کے ساتھ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ رخصت بہرحال رخصت ہے۔ کسی رخصت کو مطلب طور پر عزیمت کا درجہ کس طرح حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر ایک شخص اضطرار کے باوجود حرام سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس کی موت حرام کی موت ہوئی۔ اس امر میں تو شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں جو رخصتیں رکھی ہیں وہ سب اس کی مہربانی اور رحمت کا مظہر ہیں۔ وہ ہماری کمزوریوں اور ہماری مجبوریوں سے سب سے زیادہ باخبر ہے۔ اس وجہ سے اس نے ہم پر کوئی بوجھ ایسا نہیں ڈالا ہے جو ہماری طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے وضو کا حکم دیا تو ساتھ ہی یہ اجازت بھی دے دی کہ اگر سفر کی حالت ہو، پانی نہ دستیاب ہوسکتا ہو یا بیماری کے سبب سے وضو کرنے میں مضرت کا اندیشہ ہو تو آدمی تیمم کرسکتا ہے۔ اس نے نماز کا حکم دیا تو ساتھ ہی یہ رخصت بھی عنایت فرمائی کہ سفر کی حالت میں آدمی قصر کرسکتا ہے۔ اسی طرح روزہ کا حکم دیا تو یہ اجازت بھی دی کہ اگر روزے کے مہینہ میں سفر پیش آجائے یا آدمی بیمار پڑجائے تو دوسرے دنوں میں اپنے روزے پورے کرے۔ اس طرح کی رخصتیں دین کے ان تمام احکام کے ساتھ مذکور ہیں جن کی تعمیل کے کسی مرحلہ میں کوئی ایسی مشکل پیش آسکتی ہے جو عام قوت برداشت سے زیادہ ہو۔ ان کے بارے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت پیش آجانے پر ان سے فائدہ اٹھائے اور عزیمت کے جوش میں خواہ مخواہ اپنی جان کو مشقت میں نہ ڈالے۔ اگر کوئی شخص مضرت کے اندیشہ کے باوجود تیمم کے بجائے وضو پر اصرار کرے یا زحمتوں کے باوجود سفر میں اتمام نماز ہی کو تقاضائے تقوی سمجھے یا مشقت کے باوجود سفر کی حالت میں بھی روزے پورے کرنے ہی کو عزیمت جانے تو ہمارے نزدیک ایسا شخص اسلام کا اصلی مزاج سمجھنے سے قاصر رہا ہے۔ یہ دین کے معاملہ میں تشدد پسندی ہے اور جو شخص دین میں تشدد پسندی کی راہ اختیار کرتا ہے اور رخصتوں کو خلاف عزیمت جانتا ہے وہ درحقیقت دین سے دھینگا مشتی کرتا ہے اور ایسا شخص حدیث میں وارد ہے کہ دین شکست کھا جاتا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے ایک صاحب کو تنبیہ فرمائی جو سفر میں روزے کی وجہ سے اپنے آپ کو سخت مشقت میں ڈالے ہوئے تھے لیکن اگر کسی شخص کو سفر میں ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہوں وہ بلا کسی خاص زحمت کے پوری نمازیں پڑھ سکتا ہے یا روزے رکھ سکتا ہے تو اس سے کسی گناہ کے لازم ہونے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے ؟ اسی طرح اگر کسی شخص کو حالت اضطرار پیش آجائے اور جان بچانے کی اس کے سوا کوئی اور تدبیر باقی ہی نہ رہ جائے کہ وہ کسی حرام سے فائدہ اٹھائے تو عام حالات میں اسلام کا مزاج یہی تقاضا کرتا ہے کہ جان بچانے کی حد تک وہ اس حرام سے فائدہ اٹھا لے۔ اس چیز کو نہ خلاف تقوی خیال کرے نہ خلاف عزیمت لیکن بعض شکلیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جب ایک غیرت مند مسلمان کے شایان شان بات یہی ہوتی ہے کہ وہ جان تو دے دے لیکن حرام کو ہاتھ لگانا گوارا نہ کرے۔ مثلاً اگر کسی جگہ فساق و فجار کے صاحب اختیار ہونے کی وجہ سے حرام و حلال کی تمیز اٹھ گئی ہو اور آدمی کوئی حرام چیز کھانے پر مجبور کیا جائے تو اس کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ عزیمت کی راہ اختیار کرے اور دوسروں کے ایمان کو زندہ کرنے کے لیے اپنی زندگی قربان کردے۔ یہ بازی کھیل کر وہ گنہگار نہیں ہوگا بلکہ انشاء اللہ اپنی غیرت ایمانی اور احترام حقوق شریعتِ الٰہی کے صلے میں شہادت کا مقام حاصل کرے گا۔ کم از کم علماء مصلحین کے لیے تو ایسے حالات کے اندر یہی روش بہتر ہے۔ حضرات صحابہ ؓ نے مکہ کی ابتدائی زندگی میں جو تکلیفیں کلمہ توحید کی خاطر اٹھائی ہیں وہ کس سے مخفی ہیں ؟ کتنے اصحاب نے اعدائے توحید کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا اور زندگی تو سب ہی حضرات کی خطرے میں رہی لیکن ان میں سے کسی ایک صحابی کے متعلق بھی ہمارے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ انہوں نے جان بچانے کی خاطر کلمہ کفر زبان سے نکالا ہو حالانکہ قرآن میں اس بات کی صریح اجازت موجود تھی کہ اکراہ کی صورت میں آدمی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ سکتا ہے اس تفصیل سے واضح ہوا کہ نہ تو دین کی رخصتوں کو حقیر سمجھنے کا رجحان صحیح ہے اور نہ رخصتوں ہی کو عزیمت قرار دے دینے کا رجحان صحیح ہے بلکہ صحیح مسلک یہ ہے کہ عام حالات میں جس طرح رخصتوں سے فائدہ اٹھانا مزاج شریعت کے مطابق ہے اسی طرح خاص حالات میں عزیمت کے تقاضوں پر عمل کرنا بھی دین کا مطالبہ ہے۔
Ayah 2:174اہل کتاب کی بعض تحریمات : یہ اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح مشرکین نے اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض چیزیں حرام ٹھہرا لی تھیں اور اسلام کی طرف سے ان کی تحلیل کو خلاف تقوی و طہارت قرار دیتے تھے اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنے جی سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے لیا تھا اور اب جب کہ اسلام حرام و حلال کے معاملہ میں اس ضابطے کی طرف لوگوں کو لوٹا رہا تھا جو توہمات و بدعات کے بجائے ملت ابراہیم کی اساس اور وحی الٰہی کی رہنمائی پر مبنی تھا تو یہ لوگ اس کی تائید کرنے کی جگہ کتاب الٰہی کی باتوں کو چھپاتے تھے۔ اس طرح کی ایک سے زیادہ چیزوں کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ مثلاً یہود اونٹ کے متعلق دعوے کرتے تھے کہ یہ حضرت ابراہیم کے وقت سے حرام ہے حالانکہ تورات میں اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا چناچہ قرآن نے ان سے مطالبہ کیا کہ قل فاتوا بالتوراۃ فاتلوھا ان کنتم صدقین۔ فمن افتری علی اللہ الکذب من بعد ذلک فاولئک ھم الظالمن۔ ان سے کہو کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تورات لا کر پیش کرو جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹ باندھیں تو وہی لوگ اصلی ظالم ہیں۔ اسی طرح بعض چیزیں یہود پر ان کی سرکشی اور کٹ حجتی کے سبب سے یا ان کے سوال در سوال کی بیماری کے باعث حرام ہوگئی تھیں لیکن اس طرح کی حرمتوں سے متعلق ان کو یہ آگاہی دے دی گئی تھی کہ جب آخری نبی مبعوث ہوں گے تو وہ تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کردیں گے اور جو قیدیں اور بندشیں تم پر آج عائد ہیں وہ سب دور ہوجائیں گی۔ لیکن یہود نے اس معاملہ میں بھی حق پوشی اور کفرانِ نعمت کی وہی روش اختیار کی جو ابتدا سے ان کی روش تھی۔ انہوں نے ان چیزوں کی تحلیل کو آخری نبی ﷺ کا احسان قرار دینے کے بجائے اس کو دین داری اور تقوی کے خلاف قرار دیا اور اس کی آڑ میں قرآن، اسلام اور آنحضرت ﷺ کی خوب خوب مخالفت کی۔
اس باب میں بعض جرائم نصاری کے بھی بڑے شدید ہیں۔ اگرچہ ان کا جرم تحریم سے زیادہ تحلیل کی نوعیت کا ہے۔ پال نے جو موجودہ مسیحیت کا بانی ہے، یہ فلسفہ پیش کیا کہ موسیٰ ؑ کے احکام غیر بنی اسرائیل پر واجب نہیں ہیں۔ اس طرح اس نے مسیحیوں کے لیے شراب بھی کھلے بندوں جائز کردی اور خنزیر اور گلا گھوٹے ہوئے جانور کو بھی ان کے لیے مباح کردیا۔ ان اہل کتاب کے متعلق قرآن نے فرمایا کہ یہ لوگ جو حق پوشی کر رہے ہیں اور اپنی دنیا بنانے کی خاطر دین کو جو بیچ رہے ہیں یہ سودا ان کو بڑا مہینگا پڑے گا۔ دین فروشی کے عوض جو دنیا آتی ہے، یہ آگ ہے جو وہ اپنے پیٹوں میں بھر رہے ہیں اور اب قیامت کے دن نہ تو خدا ان سے بات کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ اب ان کے لیے اذیت ناک عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بات نہ کرنے کا مطلب ظاہر ہے کہ لطف و عنایت کی بات نہ کرنا ہے۔ گویا فعل کی نفی سے مقصود حقیقی فعل کی نفی ہے۔ دوسری جگہ اس سلسلہ میں ولا ینظر الیہم کے الفاظ بھی ہیں اس سے بھی مراد نگاہ التفات کی نفی ہے۔ یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ خدا جس قوم کو کتاب و شریعت دیتا ہے اور اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اس کے اندر اپنا نبی بھیجتا ہے تو یہ بھی نبی کے واسطہ سے خداوند تعالیٰ گویا اس قوم کو اپنے شرفِ تکلم سے نوازتا ہے۔ پھر خاص طور پر بنی اسرائیل کو تو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پیغمبر کو اپنے خطاب کے شرف سے نوازا۔ اس عظیم عزت افزائی کا تقاضا یہ تھا کہ یہود دل و جان سے خدا کی شریعت اور اس کے کلام کی قدر کرتے اور گوشے گوشے میں اس کا چرچا پھیلاتے لیکن جب انہوں نے اس کو شرف سمجھ کر اس کو پھیلانے کی جگہ اس کو عیب کی طرح چھپانے کی کوشش کی تو اب ان کا کیا منہ رہ گیا ہے کہ خدا ان کو قیامت کے دن پھر اپنے شرف خطاب سے نوازے۔“ اور نہ ان کو پاک کرے گا ”یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور کتاب کی نعمت سے اسی لیے نوازا تھا کہ ان کو پاکیزہ بنائے لیکن جب انہوں نے اس نعمت کے باوجود گمراہیوں اور آلودگیوں ہی میں لتھڑے رہنا پسند کیا تو اب خدا ان کو آخرت میں پاک نہیں کرے گا۔ آخرت میں پاک نہ کرنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت تزکیہ و تطہیر کا محل نہیں ہے بلکہ جزا وسزا کا محل ہے اس وجہ سے وہاں کسی کے تزکیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کی ان بداعمالیوں کے سبب سے چونکہ ان کا ایمان سلب ہوچکا ہے اس وجہ سے ان کو یہ موقع بھی نہیں حاصل ہوگا کہ یہ دوزخ میں اپنے اعمال کی سزا بھگت کر اور پاکیزہ ہو کر جنت میں جاسکیں بلکہ ان کے لیے دائمی عذاب ہوگا اور یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ مسلم شریف کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی آیت کے تحت نبی ﷺ نے بوڑھے زانی، جھوٹے بادشاہ اور گدائے متکبر کو بھی داخل کیا ہے، یہ حدیث اس آیت کی تفسیر نہیں بلکہ اشتراک علت کی وجہ سے آیت کے حکم کی توسیع ہے۔
Ayah 2:175ۚفَمَآ اَصْبَرَ کا اسلوب ما اَحسَنَ کی طرح اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو اس دیدہ دلیری کے ساتھ ہدایت کی جگہ ضلالت اور مغفرت کی جگہ عذاب کو ترجیح دے رہے ہیں تو دوزخ کے معاملہ میں ان کی ڈھٹائی اور جرات حیرت انگیز ہے۔
Ayah 2:176یہ اس ناراضگی اور غضب کا سبب بیان ہو رہا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب کے مستحق اس وجہ سے ٹھہریں گے کہ خدا نے ان کو راہ رست پر لانے کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو تمام جھگڑوں اور سارے اختلافات کو چکا دینے والی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی ہدایت کی جگہ ضلالت ہی کو اختیار کیا تو یہ اسی بات کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر التفات سے محروم ہو کر اس عذاب میں پڑیں جس سے ان کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ اس میں بِالْحَـقِّ کے لفظ سے مراد یہ ہے کہ خدا نے یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ یعنی اہل کتاب نے حق پوشی اور تحریف کر کے اللہ کے دین میں جو طرح طرح کے اختلافات پیدا کردئیے تھے اور جس کے سبب سے یہ معلوم کرنا سخت مشکل ہوگیا تھا کہ کیا حرام ہے، کیا حلال، کیا حق ہے اور کیا باطل، اللہ نے قرآن کے ذریعہ سے اس اختلاف و نزاع کو بالکل رفع کردیا، اب حق کی راہ ہر طالب حق کے لیے پھر کھل گئی ہے اور خدا کی شریعت اپنی صحیح اور مکمل شکل میں لوگوں کے سامنے آگئی ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ انہی جھگڑوں میں پڑے رہیں تو ان کی شامت اور بدبختی ہی ہے۔ شقاق کے معنی مخالفت اور عناد کے ہیں۔ چناچہ فرمایا ہے
لفظ حق کے مختلف معانی کی تحقیق آیت 71 کے تحت ملاحظہ ہو۔ یہاں مراد قول فیصل ہے وَيَا قَوْمِ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ (ھود :89) ، اے میری قوم کے لوگو، میری مخالفت اور دشمنی تمہارے لیے اس بات کا باعث نہ بن جائے کہ تمہارے اوپر بھی اس طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کا عذاب قوم نوح پر آیا۔۔ شقاق کے ساتھ جب بعید کی صفت لگ جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی شخص یا چیز کی مخالفت اور دشمنی میں کوئی شخص اس قدر آگے بڑھ جائے اور اتنی دور نکل جائے کہ اس کو اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ ہوش نہ رہا جائے، اور پھر اس کے لیے اتنی دور سے پلٹنے اور تلافی مافات کرنے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے۔ ان اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ تورات کے بعد اب قرآن میں بھی انہوں نے یہ جو اختلاف کیا ہے یہ محض ان کی ضدم ضدا کا کرشمہ ہے اور یہ اب اس راہ میں اتنی دور تک نکل گئے ہیں کہ ان کے واپس لوٹنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا ہے۔
Ayah 2:177آیت 177 کا مضمون : دین محض چند رسوم و ظواہر کا نام نہیں : اوپر والے مجموعہ آیات میں جیسا کہ واضح ہوا، توحید کا بیان تھا، اب مذکورہ آیات میں اس کے لوازم وثمرات یعنی ایمان، انفاق، اقامت صلوۃ، ادائے زکوۃ، ایفائے عہد اور ہر طرح کے حالات میں حق پر استقامت کا بیان ہورہا ہے۔ اس مضمون کی تمہید اس طرح ہے کہ خدا کے ساتھ وفاداری کا حق مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلینے سے ادا نہیں ہوگا جیسا کہ یہود و نصاری نے سمجھ رکھا ہے، چناچہ اسی مسئلہ پر ان کے ہاں ایک مدت سے معرکہ جدال و قتال گرم ہے۔ گویا ان کے خیال میں اصل دین یہی ہے۔ بلکہ اس کے لیے فلاں فلاں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اس تمہید سے مقصود مسلمانوں کو یہ آگاہی دینا ہے کہ دین محض چند رسوم و ظواہر کا نام نہیں ہے بلکہ وہ زندگی سے نہایت گہرے تعلق رکھنے والے اعمال و اخلاق کا مجموعہ ہے اس وجہ سے وہ اگلی امتوں کی طرح صرف رسوم کے بندے بن کر نہ رہ جائیں بلکہ دین کی اصلی حقیقتوں کو اپنائی جو یہ ہیں۔ انہی کو اپنا کر وہ خدا کے ساتھ اپنی وفا داری کا حق ادا کرسکیں گے۔ ان کے بغیر محبت و وفاداری کے دعوے بالکل بےبنیاد ہیں۔ اس روشنی میں آیت کا ترجمہ و تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
‘ بر ’ کا اصل مفہوم عربی لغت میں کسی کے حق کو پورا کرنا ہے عام اس سے کہ خدا کا حق ہو، ماں باپ کا حق ہو، یا اللہ کے بندوں کا حق ہو۔ ان بنیادی حقوق کے علاوہ ان حقوق کا ایفا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے جو معاہدات، قول وقرار، حلف و ولا، عقود اور قسموں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لفظ کی اس وسعت کی وجہ سے وہ ساری نیکیاں اس کے تحت جمع ہوجاتی ہیں جو عدل یا احسان کے تحت آسکتی ہیں۔ بَر اور بار اس سے صفت کے صیغے ہیں۔ بَر بوالدیہ اس سعادت مند بیٹے کو کہیں گے جو اپنے ماں باپ کا فرمانبردار اور ان کے حقوق پورے پورے ادا کرنے والا ہو۔ بر بالقسم کے معنی ہیں اس نے اپنی قسم پوری کردی۔ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی بَر کی صفت استعمال ہوئی ہے اس لیے کہ اس نے بندوں کے جو حقوق اپنے اوپر لیے ہیں یا جو وعدے ان سے کیے ہیں وہ ان کو ایک ایک کر کے دنیا اور آخرت دونوں جگہ پورے کرنے والا ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ حقوق و واجبات ہوں یا نیکیاں اور بھلائیاں سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اس لفظ کی اس وسعت کی وجہ سے ہمیں ترجمہ کے لیے اردو میں کوئی ایسا لفط نہیں مل سکا جو اس کے پورے مفہوم کو ادا کردے۔ ہم نے جو لفظ اختیار کیا ہے وہ ہمارے نزدیک ایک حد تک لفظ کی اصل روح کو ادا کرتا ہے۔
لفظ بر کی یہ تحقیق زیادہ تر مولانا فراہی کی مفردات القرآن سے ماخوذ ہے۔
یہاں اصل بیان تو ایمان و انفاق اور نماز و زکوۃ وغیرہ کا ہے لیکن جیسا کہ اس باب کی تمہید میں ہم بیان کر آئے ہیں، ان احکام و شرائع کے پہلو بہ پہلو تجدید دین کے تقاضوں کے تحت ان بدعات کی تردید بھی ہے جو اہل کتاب یا مشرکین نے شریعت الٰہی میں داخل کردی تھیں اور جن کے سبب سے پوری شریعت یا تو مسخ ہو کر رہ گئی تھی یا صرف چند ظواہر اور رسوم کا مجموعہ بن گئی تھی۔ یہاں اسی تجدید دین کے تقاضے کے تحت اصل احکام کے بیان کی تمہید اس طرح اٹھائی کہ خدا کی بندگی اور اطاعت کا حق صرف مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرلینے سے ادا نہیں ہوجاتا بلکہ اصل شے وہ اعمال و اخلاق ہیں جن کی شریعت نے تعلیم دی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ یہود و نصاری پر تعریض ہے جن کے ہاں تورات و انجیل کی اصل تعلیمات تو طاق نسیاں پر رکھ دی گئی تھیں۔ لیکن قبلہ کے معاملہ میں مشرق و مغرب کا جھگڑا، جیسا کہ آیات 115، 142 کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں، ان کے درمیان اس طرح اٹھ کھڑا ہوا تھا گویا سارے دین کا انحصار بس اسی چیز پر ہے۔
امت کے لیے ایک تنبیہ : یہ تمہید جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے اس امت کے لیے تنبیہ ہے کہ اس طرح کی فروعی باتوں میں الجھ کر اصل دین سے دستبردار نہ ہوجانا ورنہ یہود و نصاری ہی کی طرح تم بھی مچھر کو چھاننے والے اور اونٹ کے نگلنے والے بن کر رہ جاؤگے اور جس طرح ان کا دعوائے خدا پرستی بےمعنی ثابت ہوا اسی طرح تمہاری خدا پرستی بھی بےمعنی ہو کر رہا جائے گی۔ ٹھیک اسی مفہوم کی تنبیہ آگے حج کے بیان کے سلسلہ میں بھی فرمائی ہے“ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى : یہ کوئی تقوی نہیں ہے کہ گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو، تقوی تو اس کا ہے جو حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھے ”(بقرہ : 189)۔ ان تمام تنبیہات سے مقصود، جیسا کہ عرض کیا گیا، اس امت کو یہود و نصاری اور مشرکین کی بدعات اور ظاہر پرستیوں سے بچا کر دین کی اصل حقیقتوں کی طرف متوجہ کرنا تھا لیکن افسوس ہے کہ یہ امت بھی انہیں وادیوں میں بھٹک کر رہ گئی جن میں پچھلی امتیں ہلاک ہوئیں تھیں۔۔ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ میں ایک مضاف عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق محذوف ہے گویا پوری عبارت یوں ہوگی وَلٰكِنَّ الْبِرَّ بِرُّمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ۔ مضاف کے حذف کی مثال خود اسی زیر بحث آیت میں موجود ہے۔ فرمایا ہے وَفِي الرِّقَابِ ، ظاہر ہے کہ یہ وَفِي فَکِّ الرِّقَابِ ہے۔۔ ایمان سے یہاں، سیاق وسباق دلیل ہے کہ حقیقی ایمان مراد ہے۔ اس لیے کہ حقیقی ایمان ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی خدا کی وفا داری کا حق ادا کرسکتا ہے۔ حقیقی ایمان اللہ پر یہ ہے کہ آدمی بلا کسی شائبہ شرک کے اپنے کو پورا پورا اپنے رب کے ھوالہ کردے۔ آخرت پر حقیق ایمان یہ ہے کہ آدمی مرنے کے بعد اٹھائے جانے کو تسلیم کرے، اپنے ہر قول و فعل کا خدا کے سامنے اپنے کو جواب دہ سمجھے اور جھوٹی شفاعتوں کے وہم میں مبتلا نہ ہو۔ فرشتوں پر ایمان کے معنی یہ ہیں کہ ان کی ہستی کو تسلیم کرے، ان کو معصوم اور قدسی صفت جانے، ان کو اللہ کی ہدایت لانے والا، امین اور معتمد مانے اور ان کو قضا و قدر کے فیصلوں کی تنفیذ کا ذریعہ سمجھے۔ ایمان بالکتاب کے معنی یہ ہیں کہ اس کو اللہ کا اتارا ہوا صحیفہ ہدایت مانے، اس کو حق و باطل کی کسوٹی سمجھے اور زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی پر پورا پورا اعتماد کرے۔ نبیوں پر ایمان کے معنی یہ ہیں کہ ان کو خدا کی طرف سے مامور اور واجب الاطاعت ہادی مانے، ان کے علم کو بےخطا سجھے، ان کے عمل کو زندگی کے لیے اسوہ قرار دے اور ان کی اطاعت، اتباع اور محبت کو لازم جانے۔
ایمان بالملائکہ : یہاں ایک بات ممکن ہے بعض ذہنوں میں کچھ کھٹکے، وہ یہ کہ ایمان کے اجزاء میں فرشتوں پر ایمان کو کیوں داخل کردیا ہے۔ جب کہ ان کا تجربہ صرف نبیوں ہی کو ہوا ہے اور ان پر ایمان لانے کا کوئی خاص علمی یا عملی فائدہ ایک عام آدمی پر واضح نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایمان باللہ کا حق آخرت، کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے بغیر ادا نہیں ہوتا، انہی چیزوں پر ایمان لانے سے ایمان باللہ ہماری زندگی کی ایک محسوس، موثر اور فعال حقیقت بنتا ہے، اسی طرح ایمان بالکتاب اور ایمان بالرسل کا ایک غیر منفک جزو ایمان بالملائکہ ہے۔ ملائکہ کو مانے بغیر خدا اور اس کے نبیوں کے درمیان کا واسطہ غیر واضح اور غیر معین رہ جاتا ہے، جس کے غیر واضح رہنے سے نہ صرف سلسلہ علم و ہدایت کی ایک نہایت اہم کڑی گم شدہ رہ جاتی ہے بلکہ ہدایت آسمانی کے باب میں عقل انسانی کو گمراہی کی بہت سی راہیں بھی مل جاتی ہیں۔ یہ بات تو دنیا ہمیشہ سے مانتی آئی ہے کہ خدا ہے اور یہ بات بھی اس نے ہمیشہ محسوس کی ہے کہ جب وہ ہے تو اسے اپنی مرضیات سے اپنے بندوں کو آگاہ بھی کرنا چاہیے لیکن جب وہ کبھی بےنقاب اور رو در رو ہو کر ہمارے سامنے نہیں آتا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ ذریعہ اور واسطہ کیا ہے جس سے وہ خلق کو اپنے احکام و ہدایات سے آگاہ کرتا ہے۔ اگر اس مقصد کے لیے اس نے اپنے خاص خاص بندوں کو منتخب کیا ہے، جن کو انبیاء و رسل کہتے ہیں تو بعینہ یہی سوال ان کے بارے میں بھی اٹھتا ہے کہ ان نبیوں اور رسولوں کو وہ اپنے علم وہدایت سے آگاہ کرنے کا کیا ذریعہ اختیار کرتا ہے۔ کیا رو در رو ہو کر خود ان سے بات کرتا ہے یا کوئی اور ذریعہ اختیار فرماتا ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں کے درمیان علم کا واسطہ وحی ہے جو وہ اپنے فرشتوں بالخصوص اپنے مقرب فرشتے جبریل کے ذریعہ سے بھیجتا ہے۔ یہ فرشتے خدا کی سب سے زیادہ پاکیزہ اور برتر مخلوق ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ یہ براہ راست خدا سے وحی اخذ کرسکتے ہیں۔ یہ ہر وقت اپنے رب کی حمدو تسبیح میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ خدا کے احکام کی بےچون و چرا تعمیل کرتے ہیں اور چونکہ خدا کے حکم و اختیار کے تحت اور اس کی نگرانی میں کرتے ہیں اس وجہ سے نہ تو کوئی اور مخلوق ان کے کسی کام میں رکاوٹ ڈال سکتی اور نہ وہ خود ہی اس میں کبھی بھول چوک یا کسی غلطی کے مرتکب ہو سکتے انہی کے زمرہ کی ایک مقرب ہستی حضرت جبریل ؑ ہیں جو خدا کے ہاں سب سے زیادہ بلند مرتبہ اور مقرب ہیں۔ قرآن میں ان کی صفت ذی قوت، مطاع اور امین بھی آئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی ہے وہ اس کے لیے تمام صلاحیتوں اور قوتوں سے بھرپور ہیں، دوسری قوتیں یا ارواح خبیثہ ان کو متاثر یا مغلوب نہیں کرسکتیں۔ ان کے دائرہ کار میں سب بےچون و چرا ان کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، مجال نہیں ہے کہ کوئی ان کے حکم سے سرتابی کرسکے، وحی الٰہی کی جو امانت نبیوں اور رسولوں تک پہنچانے کے لیے ان کے سپرد کی جاتی ہے وہ اس کو بےکم وکاست پہنچاتے ہیں، ممکن نہیں کہ اس میں کسی زیر زبر کا بھی فرق ہوسکے۔ وحی و رسالت کے ساتھ فرشتوں کے اس گہرے تعلق کی وجہ سے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لانے کے لیے ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہوا۔ یہ خدا اور اس کے نبیوں اور رسولوں کے درمیان رسالت کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور اس اعتبار سے یہ ناگزیر ہیں کہ یہی ایک ایسی مخلوق ہیں جو عالم لاہور اور عالم ناسوت دونوں کے ساتھ یکساں ربط رکھ سکتے ہیں، یہ اپنی نورانیت کی وجہ سے خدا کے انوار و تجلیات کے بھی متحمل ہو سکتے ہیں اور اپنی مخلوقیت کے پہلے سے انسانوں سے بھی اتصال پیدا کرسکتے ہیں۔ ان کے سوا کوئی اور مخلوق خدا تک رسائی کا یہ درجہ اور مقام نہیں رکھتی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ان رسولوں پر بھی ایمان لایا جائے جو خدا اور اس کے رسولوں کے درمیان رسالت کا واسطہ ہیں۔ یہ حقیقت بھی یہاں پیش نطر رہے کہ عقل انسانی عالم لاہوت سے تعلق رکھنے والی ارواح کے تجسس میں ہمیشہ سے رہی ہے اور اس ضرورت کو اس نے اس شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ اس تلاش میں اگر اس کو کوئی صحیح چیز نہیں مل سکی ہے تو جو غلط سے غلط چیز بھی اس کے ہاتھ آگئی ہے اسی کا دامن اس نے پکڑ لیا ہے۔ عرب کے کاہن و ساحر جانت، شیاطین اور ہاتف غیبی کو عال لاہوت سے تعلق کا ذریعہ سمجھتے تھے، ہندوستان کے جوتشی اور منجم ستاروں کی گردشوں کے اندر غیب کے اسرار ڈھونڈھتے تھے۔ چین کے مندروں کے پجاری اپنے باپ دادا کی ارواح کے توسط سے عالم غیب سے توسل پیدا کرتے تھے۔ قرآن نے ان تمام غلط وسائل اور واسطوں کی نفی کردی اور ان کے ذریعہ سے حاصل شدہ علم کو رطب و یابس کا مجموعہ ٹھہرایا اور ساتھ ہی یہ حقیقت واضح فرمائی کہ علم الٰہی کا قابل اعتماد ذریعہ صرف ملائکہ ہیں جو انبیاء کے پاس آتے ہیں اور جتنا کچھ خدا ان کو دیتا ہے وہ بےکم وکاست ان کو پہنچا دیتے ہیں۔۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتاب، اور ایمان بالانبیاء سب ایک دوسرے سے اتصال رکھنے والی کڑیاں ہیں اور جس طرح ایمان بالکتاب اور ایمان بالانبیاء ہماری زندگی کی نہایت محسوس حقیقتیں ہیں اسی طرح ایمان بالملائکہ بھی ہماری زندگی کی ایک نہایت اہم علمی و عملی حقیقت ہے۔
عَلٰي حُبِّهٖ میں ضمیر کا مرجع : وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ میں ضمیر مجرور یوں تو خد کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے یعنی آدمی اپنا مال خدا کی محبت کی راہ میں خرچ کرے لیکن ہمارے نزدیک مختلف وجوہ سے ان لوگوں کا قول قابل ترجیح ہے جو اس کا مرجع مال کو قرار دیتے ہیں۔ یعنی آدمی مال کی محبت کے باوجود اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرے۔۔ مال کی محبت کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مال بجائے خود قیتی اور دل پسند ہو، دوسرا یہ کہ آدمی خود اس کا ایسا ضرورت مند ہو کہ دوسرے کے لیے ایثار کرنا نفس پر شاق ہو رہا ہو۔ تیسرا یہ کہ زمانہ قحط اور گرانی کا ہو جس میں کشادہ دست آدمی بھی محتاط اور کفایت پسند بن جایا کرتا ہے۔ عَلٰي حُبِّهٖ کا لفظ ان تینوں ہی صورتوں پر حاوی ہے۔ اس مفہوم کو ترجیح دینے کی ہمارے نزدیک کئی وجہیں ہیں۔۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن کے نظایر سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے، یہ بات واضح ہے کہ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ برّ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و وفاداری کا اعلی مرتبہ حاصل کرنے کے لیے انسان کو کس قسم کا انفاق کرنا چاہیے۔ یہ مضمون دوسرے مقامات میں جہاں جہاں بیان ہوا ہے وہاں صراحت کے ساتھ یہ بات بتائی گئی ہے کہ یہ مرتبہ اس مال کے خرچ کرنے سے حاصل ہوتا ہے جو محبوب ہو۔ مثلاً“ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ : تم کامل وفاداری کا درجہ نہیں حاصل کرسکتے جب تک اس مال سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے ”(اٰل عمران : 92)۔ اسی طرح دوسرے مقام میں سچے اہل ایمان کی تعریف فرمائی گئی ہے کہ“ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ : اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود احتیاج ہو ”(حشر :9)۔ دوسری یہ کہ نبی ﷺ کے ارشادات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل صدقہ کون سا ہے۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ جو ایک بےمایہ اپنی محنت کی کمائی میں سے اپنے کسی ایسے عزیز پر خرچ کرتا ہے جو اس کے خلاف اپنے دل میں عداوت رکھتا ہے۔ تیسری یہ کہ اہل عرب کے ہاں بھی سب سے زیادہ قابل تعریف فیاضی انہی لوگوں کی سمجھی جاتی تھی جو زمانہ قحط و گرانی میں فیاضی کرتے تھے جب کہ مال، مالداروں کی نظر میں بھی بڑی محبوب چیز بن جاتا ہے۔ عرب شعرا نے اس صفت کی بالاتفاق تعریف کی ہے۔ دوسری قوموں میں بھی یہ صفت بلا اختلاف ممدوح ہے۔۔ چوتھی یہ کہ اس طرح کا انفاق اغلب یہی ہے کہ خدا کی محبت میں ہو، اس لیے کہ بغیر اس قوی محرک کے نفس کا اس قسم کے ایثار پر آمادہ ہونا بڑا شمکل ہے۔ اس پہلو سے یہ مفہوم پہلے مفہوم پر خود بخود حاوی ہوجاتا ہے۔
انفاق کے مصارف : انفاق کے مصارف میں سب سے پہلے قرابت مندوں کو رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے اعزاء و اقربا اگر وہ ضرورت مند ہیں، اس کی اعانت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ دل میں عداوت بھی چھپائے ہوئے ہوں جب بھی سب سے افضل انفاق، جیسا کہ اوپر والی حدیث سے واضح ہوا، وہی ہے جو ان کے لیے کیا جائے۔۔ قرابت مندوں کے بعد معاً یتامی کا ذکر اسلامی معاشرہ میں ان کے درجہ و مرتبہ کو واضح کرتا ہے کہ اپنے عزیزوں کے بعد پہلی نظر آدمی کی ان بچوں پر پڑنی چاہیے جو سایہ پدری سے محروم ہوچکے ہیں اور جن کی کفالت و تربیت کی ساری ذمہ داری معاشرہ پر منتقل ہوچکی ہے۔۔ ابْنَ السَّبِيْلِ سے مرادمسافر ہے۔ مسافر مجرد اپنی مسافرت کی حالت کی بنا پر مستحق اعانت ہوتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ صاحب استطاعت ہے یا غیر صاحب استطاعت اگر مستحق اعانت ہونے کے لیے غیر صاحب استطاعت ہونے کی شرط ہوتی تو مسکین کے بعد اس کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سائلین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اعانت کے لیے سوال کر بیٹھیں۔ مساکین کے بعد ان کے مستقل ذکر کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو شخص سوال کر بیٹھے اس کے متعلق زیادہ کھوج کرید کی ضرورت نہیں ہے کہ واقعی وہ محتاج ہے یا نہیں۔ اگر وہ بےضرورت سوال کر رہا ہے تو اس کی جواب دہی خود اس کے اوپر اللہ کے ہاں ہے۔ ہمارا حق صرف یہ ہے کہ اگر ہم امداد کرسکتے ہوں تو ایسے شخص کی امداد کریں اور اگر معذور ہوں تو، جیسا کہ قرآن اور حدیث میں ہدایت ہے، شائستہ انداز سے اس کے سامنے اپنی معذرت پیش کردیں۔
وَفِي الرِّقَابِ میں رقاب رقبہ کی جمع ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ یہاں مضاف محذوف ہے یعنی فِي فَکِّ الرِّقَابِ ، گردنوں سے مراد یہاں غلاموں کی گردنیں ہیں۔ ان کو طوق غلامی سے چھڑانا اور آزاد انسانوں کی سطح پر لانا انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے اس وجہ سے اسلام نے اپنی مدات خیر میں ان کو بھی شامل کرلیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کا معاملہ اسلام کے اپنے نظام کا کوئی جزو نہیں تھا، وقت کے بین الاقوامی قانونِ جنگ کے تحت اسلام نے اس کو محض وقتی طور پر اس لیے گوارا کیا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر جنگ کے قیدیوں کے مسئلہ کا کوئی اور حل موجود نہیں تھا۔ لیکن اس کو گوارا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام نے اپنے ماحول میں غلاموں کی آزادی کی مختلف نوعیتوں سے حوصلہ افزائی کی۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو خرید کر آزاد کردینے یا ان کی مکاتبت یعنی شرط آزادی کی رقم ادا کرنے کو ایک ثواب کا کام ٹھہرا دیا۔ اب اس زمانہ میں غلامی اگرچہ قانوناً ختم ہوچکی ہے اور یہ بات عین منشائے اسلام کے مطابق ہوئی ہے لیکن عملاً آج بھی بیشمار انسان اپنی معاشی مجبوریوں اور کا ص طور پر سودی قرضوں کی لعنت کے سبب سے ایسے بندھنوں میں گرفتار یا جیلوں میں بند ہیں کہ ان کو اگر غلام نہیں تو غلاموں سے مشابہ ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی گلو خلاصی اور ان کے رہن شدہ مکانوں اور کھیتوں کو چھڑانا بھی انشاء اللہ فَکُّ رَقَبَةٍ ہی کے درجے کی نیکی ہے۔
اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ پر مفصل بحث اس کتاب کے شروع میں ہوچکی ہے۔ یہاں ایمان و انفاق کے ذکر کے بعد نماز اور زکوۃ کا ذکر ان دونوں کے قانونی و عملی مظاہر کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ایمان کی عظیم حقیقت کا مظہر عملی نماز ہے اور انفاق کی وسیع حقیقت کا مظہر عملی نماز ہے اور انفاق کی وسیع حقیقت کا مظہر قانونی زکوۃ۔ مطلب ان دونوں کے ذکر سے یہ ہے کہ ایمان اور انفاق کی شہادت دینے کے لیے کم سے کم جو چیز مطلوب ہے وہ نماز اور زکوۃ کا اہتمام ہے۔ اگر یہ دونوں چیزیں غائب ہوجائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نہ ایمان باق رہا نہ انفاق در آنحالیکہ یہی وہ چیزیں ہیں جن سے بندہ خالق اور خلق کے ساتھ انے تعلق کو صحت مندانہ بنیاد پر قائم کرتا ہے۔ یہاں زکوۃ کا علیحدہ ذکر کرنے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ اوپر جس انفاق کا ذکر ہے وہ اس قانونی مطالبہ سے الگ چیز ہے۔ برّ وتقوی کا درجہ صرف ادائے زکوۃ سے نہیں بلکہ سرّاً و علانیۃً فیاضانہ خرچ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔۔ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ (اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہیں) میں دفعۃً اسلوب کلام بدل گیا ہے۔ اوپر ایمان، انفاق، نماز اور زکوۃ کا ذکر فعل کی شکل میں آیا تھا۔ الْمُوْفُوْنَ کا عطف تو انہی پر ہے لیکن یہ اسم فاعل اور صفت کی صورت میں ہے۔ پھر آگے وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاء (اور ثابت قدم رہنے والے) آ رہا ہے جو ہے تو صفت کی صورت میں لیکن موفون پر معطوف ہونے کے باوجود صابرون کے بجائے صابرین یعنی حالت نصب میں ہوگیا ہے۔ اسلوب کا یہ رد و بدل صرف تنوع کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ معنوی فوائد بھی ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔ عربی زبان کے طلبہ اس بات سے واقف ہیں کہ عربی میں فعل کے صیغے تو صرف کسی فعل کے وقوع کو ظاہر کرتے ہیں لیکن صفت کے صیغے کسی مستقبل صفت، کسی خصلت اور کسی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے اندر ایک عزم و جزم کی روح بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ سلسلہ کلام میں اگر کسی صفت کا ذکر بغیر کسی ظاہری سبب کے حالت نصب میں ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ متکلم اس پر خاص طور پر زور دینا چاہتا ہے۔ ہمارے اہل نحو اس بات کو علی سبیل المدح یا علی سبیل الاختصاص کی اصطلاح میں تعبیر کرتے ہیں۔ مثلا یہاں موفون کے بعد دفعۃ اس سے بالکل مختلف اسلوب میں، الصابرین، جو آگیا تو اس سے معنی میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ گویا متکلم یہ کہنا چاہتا ہے کہ انا اخص بالذکر الصابرین میں صابرین کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہتا ہوں۔ اسلوب کی اس وضاحت کے بعد اب یہ سوال ذہن میں پیدا ہوگا کہ اوپر عقائد اور عبادات کا ذکر تو سیدھے سادے فعل کے صیغوں سے کیا، پھر یہ ایفائے عہد اور صبر کی کیا خصوصیت تھی کہ ان کا ذکر اسلوب بدل بدل کر اس اہتمام و اختصاص اور اس تاکید و تنبیہ کے ساتھ فرمایا ؟ اس کے جواب میں چند باتیں پیش نظر رکھیے۔
دین میں سیرت و کردار کی اہمیت : ایک تو یہ کہ ان دونوں چیزوں کا تعلق سیرت و کردار سے ہے۔ سیرت و کردار کا معاملہ بڑے عزم و جزم اور ریاضت و تربیت کا محتاج ہوتا ہے۔ جہاں تک ظاہری عقائد و عبادات کا تعلق ہے ان کو نبھانے والے تو دین کے زوال انحطاط کے بعد بھی بہت سے نکل آتے ہیں لیکن کردار جو مغز دین اور روح دین ہے اس کا اہتمام بڑے بڑوں کے اندر بھی نہیں پایا جاتا۔ اہل مذاہب میں یہ کمزوری بہت نمایاں رہی ہے کہ انہوں نے عقائد و عبادات کے ظواہر پر تو بڑے بڑے معرکے اٹھائے ہیں لیکن کردار کی تعمیر پر انہوں نے بہت کم توجہ کی ہے۔ یہاں چونکہ اس آخری امت کی رہنمائی مقام بر و اطاعت کی طرف کی جا رہی ہے اس وجہ سے کردار کے پہلو پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ یہ مقام بغیر اعلی کردار کے جن میں ایفائے عہد اور صبر کو اولین اہمیت ہے، حاصل نہیں ہوسکتا۔ دوسری یہ کہ غور کیجیے تو معلو ہوگا کہ تمام عقائد و عبادات سے اصل مقصود صرف چند باتوں کو مان لینا یا چند رسموں کو بجا لانا ہی تو نہیں ہے۔ ان کا اصل مقصود تو یہ ہے کہ اللہ و رسول پر ایمان لانے سے انسان کے اندر جو روشنی پیدا ہوتی ہے اس سے ہمارے دل جگمگا اٹھیں اور نماز روزے سے جو مضبوط انفرادی و اجتماعی کردار پیدا ہوتا ہے وہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کی خصوصیت بن جائے۔ یہ نہ ہو تو تمام عقائد و عبادات سمجھیے کہ بالکل بےجان و بےروح ہیں۔ یہی نکتہ ہے کہ قرآن نے ہر جگہ عقائد و عبادات کے پہلو بہ پہلو ان کے عملی اثرات کی طرف ضرور توجہ دلائی ہے تاکہ ان سے غفلت نہ ہونے پائے۔ تیسری یہ کہ امتحان و آزمائش کا اصلی میدان سیرت و کردار ہی کا میدان ہے۔ انسان کا اصلی خزانہ جو وہ دین کی مدد سے فراہم کرتا ہے یا کرسکتا ہے مضبوط اور پاکیزہ سیرت ہی ہے۔ یہی چیز اس کو انفرادی زندگی میں بھی مقام برّ وتقوی پر سرفراز کرتی ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی اس کے لیے ابرار و صالحین اور شہداء و صدیقین کی معیت کی ضامن بنتی ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس پر خاص طور پر زور دیا جائے کہ مسلمان ہر قسم کی آزمائشوں اور ہر طرح کے فتنوں میں اپنے اس خزانہ کی حفاظت کے لیے چوکنا رہے۔
عہد اور ایفائے عہد : ایک سوال یہاں اور بھی پیدا ہوسکتا ہے وہ یہ کہ یہاں سیرت و کردار سے متعلق صرف دو ہی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ ایک ایفائے عہد کا، دوسری صبر کا۔ اس فہرست میں اور بھی چیزیں شامل ہوسکتی تھیں، آخر ان کا ذکر کیوں نہیں فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں در حقیقت سیرت و اخلاق سے متعلق تمام اجزا کے لیے بمنزلہ شیرازہ ہیں۔ ایفائے عہد کے اندر تمام چھوٹے بڑے حقوق و فرائض آجاتے ہیں خواہ وہ خلق سے متعلق ہوں یا خالق سے، خواہ وہ کسی تحریری معاہدہ سے وجود میں آتے ہوں یا کسی نسبت، تعلق، رشتہ داری اور قرابت سے، خواہ ان کا اظہار و اعلان ہوتا ہو یا وہ ہر اچھی سو سائٹی میں بغیر کہے ہوئے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ اللہ اور رسول، ماں اور باپ، بیوی اور بچے، خویش و اقارب، کنبیہ اور خاندان، پڑوسی اور اہل محلہ، استاذ اور شاگرد، نوکر اور آقا، ملک اور قوم، یہ ایک کے ساتھ ہم کسی نہ کسی ظاہری یا مخفی معاہدہ کے تحت بندھے ہوئے ہیں اور یہ برّ وتقوی کا ایک لازمی تقاضا ہے کہ ان تمام معاہدوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں۔ گویا ایفائے عہد کی اصل روح ایفائے حقوق ہے اور ایفائے حقوق انسان کے تمام چھوٹے بڑے فرائض کو محیط ہے۔ اس کے ساتھ صبر کی صفت کو جمع کر کے یہ واضح فرما دیا کہ ہر وہ مزاحمت جو ایفائے حقوق کی اس راہ میں حائل ہو مومن عزیمت و استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے اور کسی حال میں بھی طمع، پست ہمتی یا خوف سے مغلوب نہ ہو۔ صبر کے تین مواقع کا حوالہ دیا ہے۔ ایک بَاْسَاءَ کا جس سے فقر و فاقہ کی تکالیف مراد ہیں۔ دوسرے ضَرَّاءَ کا جس سے تکالیف جسمانی کی طرف اشارہ ہے۔ تیسرے بَاس کا جس سے جنگ کے حالات مراد ہیں۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ انسان کا عزم انہی تین راہوں سے آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان تینوں حالتوں کے اندر موقف حق پر ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے بر وتقوی کے اعلی سے اعلی مقام پر فائز ہونے میں کسے کلام ہوسکتا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ : یہی لوگ ہیں جو اپنے دعائے وفا داری میں سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں متقی ہیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکل آئی کہ جو لوگ محض چند خالی خولی ظاہر داریوں سے خدا کی وفاداری کا حق ادا کرتے ہیں وہ نہ تو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں، نہ متقی ہیں۔ ایک نکتہ یہاں اور بھی ملحوظ رہے وہ یہ کہ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ کے ساتھ اذا عاھدوا کی جو قید لگی ہوئی ہے اس سے بھی اس عزم و استقلال کا اظہار ہو رہا ہے جو ان وفا پرستوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی عہد کر بیٹھتے ہیں تو خواہ کچھ ہی ہو، اس کے سبب سے انہیں کیسے ہی نقصانات و آلام سے دو چار کیوں نہ ہونا پڑے لیکن وہ پیٹھ نہیں دکھاتے بلکہ جان کی بازی لگا کر اس کو پورا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا اس معاملہ میں جو رویہ رہا ہے وہ پوری تاریخ انسانی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاص کر صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ابوجندل کے معاملہ میں معاہدہ کا جو احترام کیا وہ تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔