Ayah 2:202اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا (یہی لوگ ہیں جو اپنی کمائی کا حصہ پائیں گے) پہلے گروہ کے متعلق، جو صرف دنیا کا طالب بنتا ہے، یہ فرما دیا کہ " ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے " لیکن اس دوسرے گروہ کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ اپنی کمائی کا حصہ پائیں گے اور یہ حصہ اس اصول کے مطابق ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے نے اپنے نیک بندوں کی نیکیوں کے بدلہ کے لیے مقرر فرما رکھا ہے۔ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے)۔ تہدید اور تسلی دونوں موقعوں کے لیے موزوں ہے اور قرآن مجید میں یہ دونوں ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے۔ جو لوگ آخرت کے عذاب وثواب کو ایک بہت بعید چیز سمجھ کر اپنی بد عملیوں میں بد مست رہتے ہیں کہ جو چیز اتنی دور ہے اس کی فکر میں ابھی سے مبتلا ہو کر اپنے عیش کو کیوں مکدر کریں، ان کو ان الفاظ سے یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ آج تم جس حساب و کتاب کو بہت دور کی چیز سمجھ رہے ہو جب وہ سر پر آئے گا تو تم یہ سمجھو گے کہ اس پر تو ایک صبح و شام بھی نہیں گزری۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کے اچھے وعدوں کو وعدہ فردا سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے ظہور میں ایک غیر متناہی مدت باقی ہے، ان کو ان الفاظ سے یہ تسلی دی جاتی ہے کہ اطمینان رکھو، خدا کے وعدوں کے پورے ہونے میں دیر نہیں ہوگی، جب تمہیں اجر ملے گا تو محسوس کروگے کہ تمہاری مزدوری تمہارا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی تم کو مل گئی۔ موقع دلیل ہے کہ یہاں یہ دھمکی کے سیاق میں نہیں بلکہ تسلی کے سیاق میں ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ان معاملات میں ساری اہمیت اس احساس کی ہے جو انسان کو جزا و سزا کے وقت ہوگا۔ اگر جز و اسزا کے وقت کا احساس یہی ہوگا کہ عمل اور جزا کے درمیان کا فاصلہ اب بالکل غائب ہوگیا تو پھر یہ فاصلہ بالکل ناقابل لحاظ ہے۔ پھر تو صحیح یہی ہے کہ مجرم اپنی سزا کو سامنے رکھے اور مومن اپنی جزا کو۔ نہ وہ مہلت سے مفرور ہو نہ یہ تاخیر سے بےصبر۔ اور اگر کوئی شخص اپنی نافہمی سے اس فاصلہ کو اہمیت دے بھی تو اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ " من مات فقد قامت قیامت ہ " کہ جو شخص مرا اس کی قیامت کھڑی ہوگئی۔ جو مومن ہے، آنکھ بند ہوتے ہی، اس پر اس کے نیک اعمال کی کیفیات کا ظہور شروع ہوجاتا ہے اور کافر پر اس کے بد اعمال کی۔ پھر عمل اور جزاء میں فاصلہ کیا رہا ؟ ادھر انسان نے زندگی کا بوجھ اتارا ادھر جزا اور سزا کھڑی ہے۔
Ayah 2:203حج کا اجتماع روز حشر کے اجتماع کی یاد دہانی ہے : " ایام معدودات " کے الفاظ جس مقصد سے روزے کے ذکر میں وارد ہوئے ہیں اسی مقصد سے یہاں بھی وارد ہوئے اور مراد ان سے ایام تشریق یعنی قیام منیٰ کے ایام ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں تو ان میں ذکر الٰہی کے خزانے میں جتنا اضافہ کرسکتے ہو کرلو۔ اس قلیل مدت کو بھاری اور گراں سمجھ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ ویسے اس امر کی اجازت ہے کہ جسے کوئی عجلت ہو تو 12 ذی الحجہ ہی کو واپس ہوجائے ورنہ 13 تک کے قیام کا ثواب حاصل کرلے۔ دونوں ہی صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ البتہ یہ ملحوظ رہے کہ اس عجلت کا باعث ان ایمان کی گرانی اور طوالت کا احساس نہ ہو بلکہ کوئی واقعی ضروری اس کی داعی ہو۔ اس تنبیہ کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ بہت سے لوگ عرفات سے واپس ہوتے ہی جلد سے جلد بقیہ مناسک سے فارغ ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ یہ چیز ایک حد تک تو فطری ہے لیکن اس میں بیزاری اور گھبراہٹ کی کیفیت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر اس چیز کا کوئی اثر ہو تو یہ تقوی سے بعید بات ہے اور انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن خدا کو منہ دکھانا ہے اور اس دن اس کے حکم کے بغیر کوئی اس کے سامنے سے ہٹ نہ سکے گا۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ کے الفاظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ حج کا یہ اجتماع روز حشر کے اجتماع کی ایک یاد دہانی ہے اس وجہ سے اس مجاز میں اس حقیقت سے غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
اگلی آیات 204 تا 214 کا مضمون : اوپر حج کے بیان کے سلسلے میں آخر میں یہ بات جو آگئی تھی کہ بعض لوگ حج کو صرف اپنی دنیوی تمنا بر آریوں ہی کا ذریعہ بناتے ہیں، آخرت کی طلب سے ان کے سینے بالکل خالی ہوتے ہیں، وہیں سے کلام منافقین کے ذکر کی طرف مڑ گیا۔ اس لیے کہ جو لوگ اتنے دنیا طلب ہوں کہ حج کی دعاؤں میں بھی اپنی دنیا ہی بنانے کی کوشش کریں وہ منافق ہی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ ان کے ذکر کی مناسبت سے چند آیتوں میں منافقین کے کردار پر تبصرہ بھی ہوگیا اور ساتھ ہی پکے اہل ایمان کا جو کردار ہونا چاہیے اس کا ذکر بھی آگیا اور ان کو بعض مناسب موقع ضروری تنبیہات بھی کردی گئیں تاکہ منافقوں کی منافقانہ روش ان کے لیے کسی ٹھوکر کا باعث نہ بنے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:204منافقین کردار کے کمزور اور گفتار کے غازی ہوتے ہیں : یہ اشارہ ہے منافقین کی طرف۔ جن لوگوں کے کردار کمزور ہوتے ہیں، عموماً وہ گفتار کے بڑے غازی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی عملی کمزوریوں پر اپنی چرب زبانی اور خوش گفتاری سے پردے ڈالنے اور مخاطب کی نیک نیتی اور کریم النفسی سے فائدہ اٹھا کر اس کو اپنے طرز عمل کے بارے میں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مدینہ کے منافقین میں بھی ایک گروہ ایسے لوگا کا تھا۔ یہ لوگ کھاتے پیتے، سہل پسند، تن آسان اور چرب زبان تھے۔ شکلیں اچھی، لباس صاف ستھرے، مجلسی آداب میں مشاق لیکن دل کے بودے اور عمل کے چور تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اسلام کی حمایت میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے لیکن جب وہاں سے ہٹتے تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اسلام کی مخافت کی راہ میں ہوتی۔ انہی لوگوں کی تصویر سورة منافقون میں ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے“ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ : اور جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کی شکلیں تمہیں اچھی لگتی ہیں اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو ان کی چرب زبانی کی وجہ سے تم ان کی بات سنتے ہو (لیکن حقیقت میں یہ) لکڑی کے کندوں کی مانند ہیں جن کو ٹیک لگا دی گئی ہو، یہ ہر خطرے کو اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں، اصلی دشمن یہی ہیں، پس ان سے بچ کر رہو۔ اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ کس طرح اوندھے ہوئے جاتے ہیں ”(منافقون :4)۔ یعنی ان کے پلے ہوئے جسم اور پالش کی ہوئی شکلیں بظاہر دل کو لبھاتی ہیں اور ان کی چکنی چپری باتیں جو یہ تمہیں خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں، حمایت اسلام کے جوش میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہیں اس وجہ سے تمہیں دل کش معلوم ہوتی ہیں اور تم ان کی یہ باتیں سنتے ہو، لیکن حقیت میں یہ اندر سے بالکل کھوکھلے ہیں۔ ان کے سینوں میں نہ دل ہیں، نہ ایمان نہ اسلام۔ یہ بالکل لکڑی کے کھوکھلے کندوں کے مانند ہیں جن کو گویا لباس پہنا کر دیواروں سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا گیا ہے۔ دولت ایمان سے محروم ہونے کے سبب سے یہ انتہا درجہ کے بزدل ہیں اس وجہ سے یہ ہر خطرے کو اپنے ہی اوپر آتا دیکھتے ہیں اور اپنی اس بزدلی کو اپنی چکنی چپڑی باتوں کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تمہاری توجہ ہٹانے کے لیے تو دوسروں کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں کہ وہ اسلام کے لیے خطرہ ہیں لیکن اسلام کے لیے حقیقی خطرہ خود ان کے نفاق اور ان کی بزدلی کی طرف سے ہے اس وجہ سے ان کی طرف سے پوری طرح ہوشیار رہو۔
بعینہ یہی بات اس زیر بحث آیت میں فرمائی گئی ہے کہ جہاں تک ان کی باتوں کا تعلق ہے یہ دل کو بڑی موہ لینے والی ہوتی ہیں لیکن یہ ساری باتیں ملمع کی ہوئی ہیں اور اس ملمع کی یہ مصنوعی آب و تب چند روزہ ہے۔ اس دنیا میں بیشک وہ ان جھوٹے موتیوں سے لوگوں کو جل دینے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن عنقریب وہ دن آنے والا ہے جب جھوٹے اور سچے اور کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوجائے گا اور ان کے چہرے کی یہ پر فریب نقاب اتر جائے گی۔ وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ (اور وہ اپنے دل کی نیت پر خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے)۔ خدا کو گواہ ٹھہرانے کے معنی خدا کی قسم کھانے کے ہیں۔ منافق کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو معتبر ثابت کرنے کے لیے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔ اس کے پاس چونکہ کردار کی حجت نہیں ہوتی اس وجہ سے ہر قدم پر قسم کو بطور دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جھوٹا آدمی، اپنی نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے، سمجھاتا ہے کہ مخاطب اس کی بات اس وقت تک باور نہیں کرے گا جب تک وہ اس کو قسم کھا کر یقین نہ دلائے۔ ایک راستباز اور صاحب کردار اپنے عمل پر اعتماد کرتا ہے اور جب اس پر کوئی گرفت ہوتی ہے تو وہ اپنے عمل ہی کی دلیل سے اس کی مدافعت کرتا ہے لیکن ایک منافق کے پاس چونکہ عمل کا سہارا نہیں ہوتا اس وجہ سے جب اس پر کوئی گرفت ہوتی ہے تو وہ قسم کو اپنی ڈھال بناتا ہے اور اسی کے سہارے لوگوں کی گرفت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ سورة منافقون میں منافقین کے اس کردار کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے“إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (1) اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (2): جب تمہارے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ بیشک آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح وہ اللہ کے راستہ سے رک گئے ہیں۔ بہت ہی بری ہے وہ حرکت جو یہ کر رہے ہیں ”(منافقون :1-2)۔
وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ، خصام خصم کی جمع ہے اور اَلَد کے معنی شدید الخصومۃ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو ان کی باتیں تمہارے سامنے بڑی چکنی چپڑی ہوتی ہیں لیکن ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور اسلام کے خلاف نہایت شدید قسم کا بغض و حسد بھرا ہوا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة منافقون میں“ ھم العدو فاحذرہم : اصلی دشمن وہی ہیں، ان سے بچ کے رہو ”کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔
Ayah 2:205یعنی تمہارے سامنے تو ان کی باتیں بڑی دل لبھانے والی ہوتی ہیں لیکن تمہارے پاس سے ہٹنے کے بعد ان کی ساری بھاگ دوڑ فساد فی الارض کی راہ میں ہوتی ہے۔ فساد فی الارض سے مراد، جیسا کہ ہم آیت 11 کے تحت واضح کرچکے ہیں، اللہ کی بندگی اور اطاعت کی اس دعوت کی مزاحمت و مخالفت ہے جو نبی ﷺ دے رہے تھے۔ زمین کے تمام امن و عدل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اللہ کے بندے اللہ ہی کی بندگی اور اس کی اطاعت میں داخل ہوجائیں، جیسا کہ آگے ارشاد ہو رہا ہے“ ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ : اللہ کی اطاعت میں سب کے سب داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ”۔ اس بندگی و اطاعت میں داخل ہوجانے کے بعد شیطان کے لیے در اندازیوں اور فساد کی تمام راہیں بند ہوجاتی ہیں۔ بصورت دیگر تمام نسل انسانی شیطان کی فساد انگیزیوں کی آماجگاہ بنی رہتی ہے اور وہ برابر بغض و عداوت کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے جو حرث و نسل دونوں کی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔ اہل عرب نے اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں اس صورت حال کا اچھی طرح تجربہ کرلیا تھا اس وجہ سے ان کے لیے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا کہ تباہی کے اس جہنم سے خلق خدا کو نکالنے کے لیے سلم و اطاعت کی وہ دعوت کتنی بڑی رحمت و برکت تھی جو قرآن نے پیش کی تھی اور پھر انسانیت کے کتنے بڑے دشمن تھے وہ لوگ جو اس دعوت کی مخالفت کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ دنیا اسی جہنم میں پڑی جلتی رہے۔ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ، یعنی بظاہر وہ کتنی ہی چکنی چپڑی باتیں کیوں نہ کریں اور اسلام اور پیغمبر کی دوستی کا دم کیوں بھریں لیکن وہ اللہ کی نظروں میں کوئی مقام کس طرح حاصل کرسکتے ہیں جب وہ اپنے طرز عمل سے اس فساد کو ہوا دے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں تمام انسانیت کی تباہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دنیا بنائی ہے تو وہ اس کی فلاح و بہبود کو پسند کرتا ہے، اس میں فساد اور مفسدین کو وہ پسند نہیں کرتا۔
Ayah 2:206اسلام دوستی اور دینداری کے ایسے جھوٹے دعویداروں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جب ان کی کسی خلاف اسلام حرکت پر گرفت کی جائے اور ان کی توبہ اور اصلاح کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے۔ وہ اپنی کمزوری و بےاعتمادی اور احساس کہتری کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ انہوں نے اپنی کمزوری تسلیم کرلی تو ان کا سارا بھرم ختم ہوجائے گا، اس وجہ سے وہ اپنی اکڑ میں کوئی خم نہیں پیدا ہونے دیتے۔ منافقین کے اس خاص پہلو کی طرف سورة منافقون میں ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے“ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (5) سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (6): اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آ کر توبہ کرو، اللہ کا رسول بھی تمہارے لیے خدا سے مغفرت مانگے گا تو وہ اپنی گردن موڑ لیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ استکبار کے ساتھ اعراض کرتے ہیں۔ ان کے لیے یکساں ہے، تم ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو۔ اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ بدعہدوں کو راہ یاب نہیں کرتا ”(منافقون :5-6)۔ اسی حقیقت کی طرف سورة نساء کی یہ آیتیں بھی اشارہ کر رہی ہیں“ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا (61) فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا (62) أُولَئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلا بَلِيغًا (63) وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا (64): اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے معاملات کے فیصلہ کے لیے اللہ کی اتاری ہوئی چیز اور رسول کی طرف آؤ تو تم منافقین کو دیکھتے ہو کہ وہ تم سے بڑی بےپروائی سے گریز کرتے ہیں۔ لیلکن اس وقت کیا ہوگا، جب ان کے اعمال کی پاداش میں ان کو کوئی مصیبت پہنچے گی پھر یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آئیں گے کہ، خدا کی قسم ! ہم نے تو یہ محض خیر خواہی اور ساز گاری پیدا کرنے کے جذبے کے تحت کیا ؟ الہ ان کے دلوں کی بات کو خوب جانتا ہے تو ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان کو خود ان کے مفاد میں دلنشیں بات کہو اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ اس وقت جب کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تمہارے پاس آتے، پھر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت مانگتا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے ”(نساء :61-64)
فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ (پس اس کے لیے جہنم ہی کافی ہے) یہ ٹکڑا بالعموم اس موقع پر آیا ہے جہاں یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ جن کو دنیا میں ان سنگین شرارتوں کے باوجود ڈھیل دی جاتی ہے تو یہ ڈھیل ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے بلکہ یہ صرف اس لیے دی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آگے جو جہنم تیار ہے وہ ساری کسر پوری کردینے الی ہے، اس کے ہوتے ان کے لیے اس دنیا میں کسی عذاب کی ضرورت نہیں ہے۔ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ، وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 2:207اہل اخلاص کی حوصلہ افزائی : شری یشری کے معنی بیچنے کے ہیں۔ یہ اشارہ ہے مخلص اہل ایمان کی طرف جنہوں نے اللہ کی رضا جوئی اور خوشنودی کے لیے اپنا سب کچھ تج دیا ہے۔ ان کا ذکر یہاں دو پہلوؤں سے ہے۔ ایک یہ کہ ان منافقین کو غیرت آئے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے کہ سب تمہارے ہی جیسے مفاد پرست اور ابن الوقت نہیں ہیں بلکہ تمہارے ہی آنکھوں کے سامنے اللہ کے وہ بندے بھی ہیں جو اپنا تن، من، دھن سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کرنے کا عہد کرچکے ہیں اور اپنی زندگی کا مقصد اس کی رضا کے سوا کچھ نہیں سمجھتے۔ دوسرا یہ کہ اس ذکر سے ان اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہو، جو ان منافقین کے برعکس اللہ ہی کے لیے جینے اور اللہ ہی کے لیے مرنے والے تھے۔ منافقین کے ذکر کے پہلو بہ پہلو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اشارہ کر کے یہ ظاہر فرما دیا کہ اس کے جانباز و وفادار بندے بھی موجود ہیں اور وہی اس کی رافت و رحمت کے سزا وار ہیں۔ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہرچند اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیع و شرا کا عہد بڑا کٹھن ہے اور اللہ کی رضا جوئی کے یے اپنی ساری زندگی کو تج دینا ایک عظیم جہاد ہے جس کے تقاضے بڑے صبر آزما ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، وہ ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اور اگر اس عہد کے تقاضوں میں ان سے کوئی بھول چوک ہوجاتی ہے تو اس کو معاف کرتا ہے، لغزشوں اور کوتاہیوں کے لیے اس نے توبہ کی و اصلاح کی راہیں کھلی رکھی ہیں۔
Ayah 2:208سِلْمْ کے معنی اطاعت کے ہیں اور مراد اس سے اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اسلام کے لیے ہیں۔ لیکن یہ فرق محض ظاہر کا فرق ہے، اس لیے کہ اسلام کی اصل حقیقت اللہ و رسول کی اطاعت ہی ہے۔ یہ لفظ حرب کا ضد بھی آتا ہے اس صورت میں اس کے معنی صلح و امن کے ہوتے ہیں، اس مفہوم میں بھی اسلام کی روح موجود ہے، اس لیے کہ صلح و ام کی اصل راہ اللہ و رسول کی اطاعت ہی ہے۔ کافۃ کے معنی جماعت کے ہیں اور یہ یہاں حال پڑا ہوا ہے۔ قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی یہ اسی شکل میں استعمال ہوا ہے۔
منافقین کو مخلصانہ اطاعت کی دعوت : خطاب اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے عام یعنی تمام مسلمانوں سے ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ روئے سخن ان منافقین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ ان سے خطاب کر کے یہ کہا جا رہا ہے کہ سچے اور پکے اہل ایمان کی طرح تم بھی اللہ و رسول کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ اس ہدایت کی وجہ یہ ہے کہ ان منافقین کی وفاداری تقسیم تھی۔ یہ ایک طرف تو آنحضرت ﷺ پر ایمان کے مدعی تھے اور اسلام کی حمایت کا دم بھرتے تھے اور دوسری طرف اسلام کے مخالفین کے ساتھ بھی ان کا ساز باز تھا۔ قرآن نے جگہ جگہ ان کی اس روش کی طرف اشارے کیے ہیں۔ مثلا سورة محمد میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ ہے“ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الأمْرِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ : یہ اس وجہ سے ہے کہ ان منافقین نے ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ کی اتاری ہوئی چیز کا برا نہ منایا، یہ کہا کہ ہم بعض معاملات میں آپ ہی لوگوں کی اطاعت کریں گے۔ اللہ ان کی اس راز داری کو خوب جانتا ہے ”(محمد :26)۔ ظاہر ہے کہ یہاں للذین کرھوا سے اشارہ یہود اور مشرکین کے لیڈروں ہی کی طرف ہوسکتا ہے۔ سورة نساء کی مندرجہ ذیل آیات بھی ان کی اسی روش کی طرف اشارہ کر رہی ہیں“ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا (60) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا : ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو مدعی ہیں کہ وہ اس چیز پر بھی ایمان لائے ہیں جو تم سے پہلے اتری ہے، یہ چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات فیصلہ کے لیے طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کا انکار کریں، شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بڑی ہی دور کی گمراہی میں پھینک دے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی طرف آؤ جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف تو تم ان منافقین کو دیکھتے ہو کہ وہ طرح طرح سے گریز کی راہیں اختیار کرتے ہیں۔ ”(نساء : 60-61)۔ یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ یہاں طاغوت سے مراد یہود کی عدالتیں ہیں۔ چونکہ ان عدالتوں رشوت وغیرہ دے کر خلاف عدل و انصاف فیصلے کرانا بڑی آسانی سے ممکن تھا، نیز علمائے یہود نے اپنی کتر بیونت سے شریعت کے بہت سے احکام اپنی خواہشات کے مطابق کردئیے تھے اس وجہ سے منافقین اپنے بہت سے معاملات انہی کی عدالتوں میں لے جانا چاہتے تھے اور جب ان سے کہا جاتا کہ ایمان و اسلام کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات قرآن اور پیغمبر ﷺ کے سامنے پیش کریں تو وہ مختلف حیلوں حوالوں سے گریز اختیار کرنے کی کوشش کرتے۔ وفاداری کی یہ تقسیم ایمان واسلام کے منافی بکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے۔ یہیں شیطانوں کو انسنوں کو گمراہ کرنے کی، جیسا کہ سورة نساء کی مذکوہ بالا آیت میں اشارہ ہے، نہایت کشادہ راہ مل جاتی ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس فتنہ کے دروازے کو بند کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ سب کے سب بغیر کسی استثناء اور بغیر کسی تحفظ کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہوجائیں۔ اطاعت کامل کا یہی راستہ امن وعدل کا راستہ ہے اور اسی راستہ پر چلنے والوں کے لیے فوز و فلاح ہے۔ جو لوگ اس سے ہٹ کر کوئی راہ نکالنی چاہتے ہیں اور بیک وقت کفر اور اسلام دونوں سے رسم ور اہ رکھنے کے خواہشمند ہیں، وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں اور شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اس لیے کہ اس نے روز اول ہی سے اس کی راہ مارنے اور اس کو گمراہ کرنے کا کھلم کھلا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔
Ayah 2:209“ بینات ”سے مراد وہ تنبیہاو تہدیدات بھی ہیں جو شیطان کی چالوں اور اس کے فتنوں سے آگاہ کرنے کے لیے نہایت تفصیل کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور وہ واضح اور قطعی ہدایت بھی جو ایمان و اسلام کے تقاضوں کو بیان کرنے کے لیے وارد ہوئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر سورج کی طرح روشن ہدایت و تنبیہات کے بعد بھی تم نے (خطاب منافقین ہی سے ہے) اپنے ازلی اور کھلے ہوئے دشمن ہی کے نقش قدم کی پیروی کی تو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا کی پکڑ سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ خدا عزیز و حکیم ہے۔
عزیز کی صفت کے حوالہ سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی طرف کہ خدا کوئی کمزور و ناتواں ہستی نہیں ہے بلکہ وہ غالب و توانا ہے تو جو اس کی تنبیہا کے باوجود شیطان کی پیروی کریں گے ان کو وہ اس عذاب میں ضرور پکڑے گا جو شیطان کے پیرؤوں کے لیے اس نے مقدر کر رکھا ہے اور جس کی اس نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔ دوسرا اس طرف کہ جو لوگ ان واضح ہدایات کے بعد بھی راہ حق کو چھوڑ کر شیطان ہی کی پیروی اختیار کریں گے وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ اپنا ہی بگاڑیں گے اس لیے کہ خدا عزیز ہے یعنی ہر نفع و نقصان سے بالا تر۔ اسی طرح حکیم کی صفت بھی یہاں دو حقیقتوں کو نمایاں کر رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس دنیا کا خالق حکیم ہے اور اس کے حکیم ہونے کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ وہ اپنی ہدایت پر جمے رہنے والوں اور اس سے منحرف ہوجانے والوں کے درمیان ان کے انجام کے لحاظ سے امتیاز کرے، اگر وہ ان میں کوئی امتیاز نہ کرے بلکہ دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے یا دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ایک حکیم نہیں بلکہ ایک کھلنڈرا ہے اور یہ دنیا ایک پر حکمت اور بامقصد کارخانہ نہیں بلکہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماش ہے۔ دوسری یہ کہ بدی اور نیکی کے نتائج کے ظہور میں جو دیر سویر ہوتی ہے وہ سب حکمت پر مبنی ہوتی ہے، بسا اوقاق شیطان کے پیرو کاروں کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے اور بسا اوقت اہل حق کسی آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، اس سے نہ تو اہل باطل کو مغرور ہونا چاہیے نہ اہل حق کو مایوس۔ بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ مہلت اور یہ آزمائش دونوں خدائے حکیم و دانا کی حکمت پر مبنی ہے اور اس حکمت کے تحت اس کے قوانین اور ان کے نتائج بالکل قطعی اور اٹل ہیں، ان میں سرِ مو فرق ممکن نہیں ہے۔
Ayah 2:210نظر ینظر کے معنی جس طرح دیکھنے کے آتے ہیں اسی طرح اس کے معنی انتظار کرنے کے بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان بینات اور ان تنبیہات و تہدیدات کے بعد بھی جو لوگ جادہ مستقیم پر ہموار نہ ہوسکے بلکہ شیطان کے پیچھے بھٹکتے ہی رہ گئے۔ اب سنت اللہ کے تحت تو ان پر اتمام حجت کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب بھی اگر وہ کس چیز کے منتظر ہیں تو اس کے میں یہ ہیں کہ اب وہ اس بات کے خواہش ند ہیں کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اس طرح ان کو اپنا جلال دکھائے کہ اس کے ساتھ بدلیوں میں اس کا عذاب چھپا ہوا ہو اور اس کے جلو میں اس فرشتوں کی افواج قاہر ہوں اور حق وابطل کی اس کشمکش کا آخر فیصلہ کردیا جائے۔ لیکن یہ فیصلہ نبی کے کرنے کا نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ ہی سے ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس قوم کا فیصلہ کب ہونا چاہیے اور کس طرح ہونا چاہیے۔ اس آیت معلوم ہوا کہ ایمان وہدایت وہ معتبر ہے جو نتیجہ ہوا آیات الٰہی کے سننے اور سمجھنے کا نہ کہ وہ جو منتظر ہو جلالِ الٰہی اور قہر خداوندی کے ظہور اور مشاہدہ کا۔ جو گروہ اس چیز کا منتظر ہوتا ہے وہ صرف اپنی شامنت کے ظہور کا منتظر ہوتا ہے اس لیے کہ وہ حقائق کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے کام لے اور اس لیے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی رہنمائی کو قبول کرے۔
Ayah 2:211“ ایات بینات ”سے مراد ہیں وہ کھلے کھلے معجزات جو بنی اسرائیل کو دیے گئے۔ ان کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ ایمان و ہدیت کا راستہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہیں، جو عقل اور سمجھ سے کام نہیں لیتے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ کر بھی بدستور اپنے تذبذب اور اپنی بےاعتقادی ہی میں پڑے رہتے ہیں۔ آخر دیکھو، بنی اسرائیل نے کتنے معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھے، ان معجزات سے قطع نظر جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں سرزمین مصر پر طاہر ہوئے، خود بنی اسرائیل کے لیے سمندر خشک ہو، کوہ طور شق ہوا، ایک خشک پہاڑ سے اکٹھے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ایک صحرائے بےآب وگیاہ میں ان کے لیے من وسلوی کا خوان نعمت بچھا دیا گیا، غرض قدم قدم پر ان کے یے معجزے ظاہر ہوئے لیکن جو بےاعتقادی ان پر روز اول سے مسلط تھی وہ بدستور مسلط رہی، پھر انہی کے نقش قدم پر چلنے والوں سے یہ توقع کس طرح کرتے ہو کہ اگر ان کے سامنے ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ ظاہر ہوجائے گا تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ یہ غلط ہے ان کی آنکھیں بڑے سے بڑے معجزے دیکھنے کے بعد بھی بند ہی رہیں گے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دینے میں خاص پہلو یہ کہ جن منافقین کے حال پر یہاں تبصرہ ہو رہا ہے وہ زیادہ تر بنی اسرائیل ہی کے گروہ سے تعلق رکھنے والے تھے، اس جہ سے ان کے سامنے انہی کی پچھلی تاریخ کا آئینہ رکھ دینے میں ایک نہایت ہی بلیغ تعریض ہے۔
وَمَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، نعمۃ اللہ مراد یہاں اللہ کی ہدایت اور شریعت ہے۔ اور اس کے بدلنے سے مرد یہ ہے کہ اس کی قدر کر کے س کو ایمان و ہدایت کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کی ناقدری کر کے اس کو کفر کا ذریعہ بناتے ہیں۔ بعض مقامات میں تبدیلی کی اس نوعیت کی وضاحت بھی ہوگئی ہے۔ مثلاً فرمایا“ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللہ کُفْرًا : ذرا دیکھو تو ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا ”(ابراہیم :28)۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی اس عظیم نعمت کو پا کر اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کسی ایسے نشان کے ظہور کے منتظر ہیں جو حق کے آگے ان کی گردنیں زبردستی ختم کردے تو وہ درحقیقت ہدایت کو ضلالت سے اور نعمت کو نقمت سے بدل رہے ہیں اور ایسے لوگ سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی سخت پاداش سے دوچار ہوتے ہیں۔
Ayah 2:212یہ اس فریب نظر کی طرف اشارہ ہے جس میں مبتلا ہونے کے سبب سے اہل باطل اپنی باطل پرستیوں ہی میں مگن زندگی گزارتے چلتے جاتے ہیں اور ان کو نبی اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے جب ان کی اس غفلت کے انجامِ بد کی خبر دی جاتی ہے تو ان کا مذاق اڑانے اور ان کو زچ کرنے کے لیے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر والی آیت میں اشارہ ہوچکا ہے۔ فریب نظر یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں حق اور باطل اور کفر و ایمان دونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے۔ کوئی شخص اگر نیکی اور اطاعت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ ابتلاء کے قانون سے بالا تر ہوجائے بلکہ بعض حالات میں اس کا ابتلاء اس کے ایمان کے اعتبار سے سخت سے سخت تر ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کفر و نافرمانی کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بھی سنت الٰہی یہ نہیں ہے کہ فوراً خدا کے فرشتے اتر کر اس کی گردن ناپ دیں بلکہ اکثر حالات میں اس کو ایسی ڈھی پر ڈھیل ملتی جاتی ہے کہ اس کی جسارت دن بدن بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اسی فریب نظر کو یہاں زین سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی اس دنیاوی زندگی کا یہ فریب اس طرح ان کی نگاہوں میں کھبا دیا گیا ہے کہ وہ اس کے اس پہلو سے نگاہ ہٹا کر کسی اور پہلو سے اس کو دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے کہ ان کی نگاہوں میں اس زندگی کی اس خاص پہلو تزئین شیطان نے کی ہے، جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں اس کی تصریح ہے۔ اور یہ امر بھی ظاہر ہے کہ شیطان کو اس تزئین کا موقع انسان کی عاجلہ پرستی اور اتباعِ شہوات نے فراہم کیا ہے۔ جو لوگ اس فریب نظر میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو جب اہل ایمان ان کے اعمال و عقائد پر دنیا یا آخرت میں کسی پکڑ یا سزا وغیرہ کی یاد دہانی کرتے ہیں تو وہ ان پر ہنستے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ بتاؤ، تمہارا حال اچھا ہے یا ہمارا، اگر ہمارا حال اچھا ہے اور ظاہر ہے کہ تم سے بدجہا اچھا ہے تو ہم کیوں نہ سمجھیں کہ ہمارا ہی رویہ بھی صحیح ہے۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی تمام بدمستیوں کے باوجود اس قسم کی کوئی گرفت ان پر نہیں ہو رہی ہے جس کے ڈراوے اہل ایمان ان کو سناتے ہیں تو اپنی روش پر ان کا اطمینان اور بھی بڑھ جاتا ہے اور وہ ان کا مذاق اڑانے میں اور بھی زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں۔ وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ، یعنی اس دنیا میں تو بلاشبہ صور حال ایسی ہی ہے کہ ظاہر پرست، اہل ایمان اور اہل تقوی کا مذاق اڑا سکتے ہیں اس لیے کہ اس دنیا کا کارخانہ جزا اور سزا کے قانون پر نہیں چل رہا ہے بلکہ ابتلاء کی سنت کے تحت چل رہا ہے لیکن اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آنے والی جو جزائے اعمال کا مظہر ہوگی، اس دن وہ اہل ایمان جو دنیا کے اس فریب نظر میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے تقویٰ کی زندگی گزاری ہے وہ بالا ہوں گے۔ یہاں صرف یہ فرمایا کہ وہ بالا ہوں گے، یہ نہیں بتایا کہ ان کے مذاق اڑانے والے کہاں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز بالکل متعین تھی، اس کی خبر ان کو پیگمبر اور اہل ایمان کے انذار کے ذریعہ سے دے دی گئی تھی اس وجہ سے اس کے اظہار کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ اہل ایمان کی فوقیت کی وضاحت کے لیے یہ فرما دیا کہ“ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے ”۔ ’ رزق ‘ تعبیر ہے اللہ تعالیٰ کے فض ؒ کی اور اس فضل کے بابت ارشاد ہوا کہ بےحساب ہوگا، یعنی توقعات اور اندازوں، قیاسوں اور گمانوں کے تمام پیمانے ان کے ناپنے سے قاصر رہ جائیں گے۔ اس حقیقت کی تمثیل بعض احادیث میں نہایت موثر انداز میں پیش کی گئی۔ اس کی تفصیل دوسرے مقام میں آئے گی۔
Ayah 2:213اہل ایمان کی حوصلہ افزائی : اوپر اہل ایمان کے ساتھ کفار و منافقین کے مذاق و استہزا کا ذکر ہوا ہے، اب اس آیت میں اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ اطمینان رکھو، موقف حق پر تم ہی ہو، اختلافات و نزاعات کے درمیان فیصلہ کرنے والی حقیقت تمہارے ہی پاس ہے اور کفر وضلالت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر صرف تمہی ہو جن کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ یہ کفار و منافقین جو تمہاری مخالفت کر رہے ہیں اور تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں یہ سب اس باہمی ضد اور عناد کا کرشمہ ہے جس میں یہ ہمیشہ سے مبتلا ہیں اور اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ خا کی ہدایت کے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ نہ اس کو خود پانا چاہتے اور نہ کسی دوسرے کو پانے دینا چاہتے ہیں، تو تم ان کی ان مخالفانہ سرگرمیوں کے باوجود اپنے موقف پر جمے رہے، آزمائش کا یہ دور، جو اللہ تعالیٰ کی سنت کے تحت ہے، گزر جانے کے بعد کامیابی اور فتحمندی تمہارے ہی لیے ہے۔
كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، میں کان ہمارے نزدیک تامہ ہے دوام کے مفہوم میں جیسا کہ کان اللہ علیما حکیما میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے اس نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا اور ایک ہی امت بنایا، جیسا کہ فرمایا ہے ان الدین عند اللہ الاسلام، ہمیشہ سے اللہ کا دین اسلام ہی ہے فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا، یہی دین فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا اور یہی دین ہے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوگوں کے ذریعہ سے لوگوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا، نہ اس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو پسند فرمایا نہ امت مسلمہ کے سوا کوئی امت بنانی چاہی۔ اس کے ہاں دین صرف اسلام اور امت صرف امت مسلمہ ہے۔ كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً کے بعد فاختلفوا کا لفظ محذوف ہے۔ اس محذوف کو آگے چل کر کھول دیا ہے چناچہ فرمایا ہے لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ یہ حذف عربی اسلوب کے مطابق تکرار سے بچنے کے لیے فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو ایک ہی دین دیا اور ایک ہی امت بنائی لیکن لوگوں نے اس دین میں اختلاف کیا اور اس کے نتیجے میں تخرب اور گروہ بندی میں مبتلا ہوئے تو اللہ نے اپنے انبیا بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین میں اختلاف کے نتائج بد سے آگاہ کریں اور حق پر قائم رہنے والوں کو کامیابی اور نجات کی خوشخبری سنا دیں۔ اللہ نے ان نبیوں کو کتابیں عطا فرمائیں، یہ کتابیں حق یعنی قول فیصل کے ساتھ اتریں تاکہ ان تمام نزاعات کا جو دین حق میں پیدا کردی گئی تھیں، فیصلہ کر کے از سر نو حق کو اجاگر کردیا جائے۔ لیکن جن امتوں کو یہ حق عطا ہوا انہوں نے نہایت واضح دلائل کی روشنی میں اس حق کو سمجھ لینے کے بعد محض آپس کی ضدم ضدا کے سبب سے خود ہی اس حق میں اختلاف کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار حق کی وضاحت کے باوجود اختلاف قائم ہی رہا اور انہی لوگوں کے ہاتھوں قائم رہا جو اس حق کے امین بنائے گئے گے۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق اس نزاع و اختلاف میں حق کی راہ پھر اس قرآن کے ذریعہ سے اہل ایمان یعنی پیغمبر آخر الزمان ﷺ پر ایمان لانے والوں پر کھولی ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ آیت کے اس آخری ٹکڑے کے انر اس عظیم ذمہ داری کی طرف اشارہ بھی ہے جو اس امت پر دین حق کی امانت سے متعلق عائد ہوتی ہے کہ اس حق کو پا کر تم بھی اس میں اس طرح کے اختلافات برپا کرنے والے نہ بن جانا جس طرح دوسرے تم سے پہلے بن گئے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ بازی کوئی آسان بازی نہیں ہے بلکہ یہ بڑی جان جوکھوں کا کام ہے، دینداری اور حق پرستی کے پشتینی ٹھیکیدار، جن کے کاروبار کی ساری کامیابی کا دار و مدار حق کے گم ہی رہنے میں ہے، تمہیں آسانی سے نہیں چھوریں گے بلکہ تمہارے پیچھے جھاڑ کے کانٹے بن کر پڑجائیں گے۔
Ayah 2:214حاملین حق کے لیے امتحان کی کسوٹی : یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جس کی کسوٹی پر ہر وہ جماعت پرکھی جاتی ہے جو اصل حق کی حامل بن کر اٹھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقین اور کفار کی اس مخالفت اور اس استہزاء سے سے گھبرا نہ جاؤ، ابھی تو اس راہ عشق کی یہ ابتدا ہے، آگے اس سے کہیں کٹھن مقامات آتے ہیں، تمہیں بھی ان سارے مراحل سے گزرنا ہے جن سے تم سے پہلے اٹھنے والے حاملینِ حق کو گرزنا پڑا ہے، تم سے پہلے جنہوں نے اس راہ میں قدم رکھے ان کو ایسے مصائب و شدائد پیش آئے اور وہ آزمائشوں کے ہاتھوں اس طرح جھنجھوڑ دئیے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھی سب متی نصر اللہ پکار اٹھے۔ حَتّٰى يَقُوْلَ ہمارے نزدیک حال کے معنی میں ہے اور مقصود اس سے تصویر حال ہے اور متی نصر اللہ کا اسلوب اس فریاد کو ظاہر کرتا ہے جس کی نوعیت امید کے دروازے پر آخر دستک کی ہوتی ہے۔ فرمایا کہ نصرت الٰہی کا دروازہ اسی دستک کی کلید سے کھلتا ہے۔ الا ان نصر اللہ قریب۔
رہروِ تشنہ لب نہ گھبرانا۔ اب لیا چشمہ بقا تونے۔
اگلی آیت کا مضمون۔ آیات 215 تا 221۔
اوپر کا مضمون، واضح ہوچکا ہے کہ حج کے مضمون سے بطور ایک التفات کے پیدا ہوگیا تھا جس سے اہل نفاق کو ایک مناسب موقع کی تنبیہ ہوگئی اور اہل ایمان کو ایک بر محل تذکیر۔ اصل سلسلہ بیان حج اور جہاد و انفاق سے متعلق تھا چناچہ اس ضمنی مضمون کے ختم ہونے کے بعد وہ سلسلہ کلام پھر لوٹ آیا اور مذکورہ چیزوں سے متعلق اس دوران میں لوگوں کے اندر جو سوالات پیدا ہوئے ان کے جوابات دئیے گئے۔ یہ سوالات جیسا کہ آگے کی تفصیلات سے واضح ہوگا، انہی مسائل سے متعلق ہیں جو اوپر زیر بحث آئے ہیں۔ البتہ شراب اور جوئے سے متعلق جو سوال ہے وہ اس موقع پر ان لوگوں کو شاید بےجوڑ معلوم ہو جو عرب کے اس زمانے کے تمدنی و معاشرتی حالات سے واقف نہیں ہیں جس زمانے میں یہ آیتیں اتری ہیں۔ یہ سوال در حقیقت اس انفاق کے تعلق سے یہاں پیدا ہوا ہے جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ ہم آیات کی وضاحت کرتے ہوئے بتائیں گے کہ عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں جوئے اور شراب کے جہاں بہت سے مضر پہلو تھے وہاں ان کے بعض مفید پہلو بھی تھے، عرب کے سخی اور حوصلہ مند لوگوں میں یہ روایت تھی کہ قحط، خاص طور پر سردیوں کے زمانے میں، وہ جگہ جگہ اکٹھے ہوتے، خوب شراب پیتے، پھر شراب کی مستی میں جس کسی کے اونٹ یا اونٹنی کو چاہتے ذبح کردیتے، پھر اس کے مالک کو منہ مانگے دام دے دیتے اور اس کے گوشت پر جوا کھیلتے اور ہر شخص جتنا گوشت جتتا جاتا وہ ان غریبوں اور فقیروں میں لٹاتا جاتا جو اس طرح کی کسی تقریب کی خبر سن کر موقع پر پہلے سے ہی جمع ہوجاتے۔ یہ روایت عرب میں بڑی محبوب روایت تھی۔ جب شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور ملک میں قحط کی سی حالت پیدا ہوجاتی تو جو لوگ اس قسم کی تقریبیں منعقد کرتے یا ان میں شریک ہوتے ان کو بڑا سخی داتا سمجھا جاتا اور سوسائٹی میں ان کی بڑی عزت ہوتی۔ اس کے برعکس جو لوگ اس چیز سے الگ الگ رہتے ان کے لیے ایک خاص لفظ ‘ برم ’ کا استعمال ہوتا جس کے معنی بخیل کے ہیں۔ عب شعراء اس جوئے اور شراب کا ذکر اپنے قصائد میں بڑی دھوم دھام سے کرتے ہیں۔ میں یہاں بعض مشہور شعرا کے کلام کے حوالے نقل کرنا چاہتا تھا لیکن اس قسم کی خالص علمی چیزوں سے عام قارئین کچھ زیادہ فائدہ نہیں اٹھاتے اس وجہ سے ان کو نظر انداز کرتا ہوں۔ غرض جوئے اور شراب کا یہ پہلو تھا جس کی وجہ سے عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں ان کا شمار فیاضی اور سخاوت کے خصائل اور خدمت خلق اور ہمدردی غربا کے محرکات میں سے ہوتا تھا۔ چناچہ جب قرآن نے انفاق اور ہمدری غربا پر بہت زور دیا تو بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوا پیدا ہوا کہ جب اسلام غریبوں اور یتیموں کی ہمدری اور ان کی امداد کے لیے مال خرچ کرنے پر اتنا زور دیتا ہے تو آخر اس جوئے اور شراب میں کیا خرابی ہے جو قحط کے زمانے میں غربا کی امداد کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآن نے یہاں اسی سوال کو نقل کر کے اس کا جواب دیا ہے کہ اس میں شب نہیں کہ ان چیزوں سے سوسائٹی کو بعض اعتبارات سے کچھ فائدے تو ضرور پہنچ جاتے ہیں لیکن ان سے فرد اور سماج دونوں کو جو مادی و اخلاقی نقصانات پہنچتے ہیں وہ ان کے فوائد کی نسبت سے بہت زیادہ ہیں اس وجہ سے اسلام نے ان کو حرام قرار دیا۔ یہ سوال بالکل اسی طرح کا سوال ہے جس طرح کا سوال وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو آج قحط، زلزلہ اور سیلاب وگیرہ کے مصیبت زدوں کی امداد کے لیے فنڈ جمع کرنے کی خاطر رقص و سرود کی مجلسین منعقد کرتے ہیں یا سینما کے شو دکھاتے ہیں یا فلم اسٹاروں کے مظاہرے اور ان کے میچ کراتے ہیں ان لوگوں کو بھی اگر ان برے راستوں کے اختیار کرنے پر (اگرچہ وہ کسی اچھے ہی مقصد سے اختیار کیے گئے ہوں) ملامت کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ جم ہم یہ کام انسانیت کی خدمت کے لیے کر رہے ہیں تو آخر اس میں کیا خرابی ہے ؟ درحقیقت یہ لوگ بھی عرب جاہلیت کی طرح اپنی ان حماقتوں کے صرف انہی پہلؤوں کو دیکھتے ہیں جو ان کی نگاہوں میں بظاہر نفع عوام کے ہیں، ان کی نظر ان ہولناک نقصانات کی طرف نہیں جاتی جو ان سے پورے معاشرے کو پہنچتے ہیں۔ یہاں ہم صرف اشارہ پر کفایت کرتے ہیں، آگے آیات کی تفسیر کے تحت اس کی ضروری تفصیل آئے گی۔ اسی طرح اس ضمن میں یتامی سے متعلق بھی ایک سوال پیدا ہوا۔ اوپر انفاق کے سلسلہ میں والدین اور اقربا کے ساتھ یتیموں کا بھی حوالہ دیا گیا تھا کہ اس انفاق کے مستحق وہ بھی ہیں۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنے خاندان کے کسی یتیم کے معاملات کو، جس کی اس کے سر ذمہ داری ہے، اپنے ساتھ شامل کرلے اور اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرلے تو اس میں کوئی ھرج تو نہیں ہے۔ یہاں قرآن نے اس سوال کے بھی بعض پہلؤوں کو واضح فرمایا۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت کیجیے تو وہ بالکل مربوط کڑیوں کی شکل میں نظر آئیں گی۔
Ayah 2:215اس سورة میں شروع ہی سے انفاق اور زکوۃ کا حکم بار بار آ رہا ہے۔ خاص طور پر آیت 95 میں بیت اللہ کی کی آزادی کے جہاد کے سلسلے میں بڑی تاکید سے انفاق پر ابھارا ہے۔ وہاں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ اگرچہ الفاظ کے لحاظ تو خطاب عام ہے لیکن روئے سخن درحقیقت ان مسلمانوں کی طرف ہے جو جان و مال کی قربانی میں کمزور تھے۔ قاعدہ ہے کہ آدمی کے دل میں اگر کسی چیز سے متعلق کمزوری ہو، وہ اس کے کرنے کی ہمت نہ کر رہا ہو تو وہ اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے بار بار سوال کرتا ہے اور اس طرح گویا وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ جہاں تک اصل کام کا تعلق ہے اس کو کرنے کے لیے تو وہ جی جان سے حاضر ہے لیکن کرے کیا کہ ابھی تو اصل بات ہی اس کی سمجھ میں نہیں آئی ہے۔ یہی بھید ہے کہ سوالات سچے اور پکے مسلمانوں کی طرف بہت کم کیے گئے ہیں زیادہ تر ان لوگوں کی طرف سے کیے گئے جو کم ہمت اور بخیل تھے اور اپنی اس کمزوری کو سوالات کے پردے میں چھپانا چاہتے تھے۔ اسی طرح کے لوگ تھے جنہوں نے انفاق کے حکم کے جواب میں یہ سوال اٹھایا جس کا آیت زیر بحث میں حوالہ دے کر جواب دیا گیا ہے۔ اس سوال سے خود اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ گویا وہ انفاق کے مطالبوں سے دبے جا رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ مطالبے کس حد پر جا کر رکیں گے۔ چناچہ قرآن نے سوال کرنے والوں کی اس ذہنیت کو سامنے رکھ کر جواب دیا ہے اور اس جواب کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ تو یہ ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ وہ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اس کا کوئی حصہ بھی خدا کے جیب میں نہیں جاتا، وہ کسی کے مال و اسباب کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہاتھ سے جو کچھ لیتا ہے دوسرے ہاتھ سے ہماری ہی طرف لوٹا دیتا ہے، ہمارے ہی ماں باپ، ہمارے ہی خوایش و اقارب، ہمارے ہی یتیم، ہمارے ہی مسکین اور ہمارے ہی مسافر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گویا خدا کی راہ میں ہم جو کچھ خرچ کرتے ہیں، کسی دوسری کی خدمت پر نہیں بلکہ اپنی ہی خدمت پر خرچ کرتے ہیں۔ بس فرق ہے تو یہ ہے کہ اس خرچ کی نوعیت ایک اجتماعی نظم کی ہے جس کا فائدہ سب کو بحیثیت مجموعی پہنچتا ہے۔ یہی حقیقت حضور نے توخذ من اغنیائہم و ترد علی فقرائہم، ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں میں تقسیم کردیا جائے، کے الفاظ سے واضح فرمائی اور اسی بات کی طرف سورة سبا کی آیت، قل ما سالتکم من اجر فھو لکم، کہہ دو میں نے جو تم سے اجر مانگا ہے وہ تمہارے ہی لیے ہے، بھی اشارہ کر رہی ہے۔ اس جواب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان جو نیکی بھی کرتا ہے اسے اطمینان رکھنا چاہئے کہ اس کا ایک ایک ذرہ سب خدا کے علم میں ہے۔ کوئی چیز نہ تو اس کے علم سے باہر ہے اور نہ کسی چیز کو وہ فراموش کرنے والا ہے، پھر جب وہ سب کچھ جانتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس کا بھرپور صلہ بھی دے گا، پھر جب ہر چیز کا صلہ ملنے والا ہے اور وہ بھی دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک تو ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگانے سے انسان کیوں گھبرائے ؟“ وَلا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً وَلا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ : اور وہ خدا کی راہ میں جو چھوٹا یا بڑا انفاق کرتے ہیں یا کوئی وادی قطع کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو اس سے بہتر بدلہ دے ”(توبہ :121)۔
یہ جواب اگرچہ نہایت واضح اور جامع تھا لیکن اس کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ غالباً اسی کمزوری کے سبب سے جس کی طرف ہم نے اوپراشارہ کیا ہے، سوال کرتے ہی رہے، چناچہ آگے آرہا ہے وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلِ الْعَفْوَ : اور وہ تم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، کہہ دو کہ جو ضروریات سے فاضل بچ رہے۔ اس جواب نے انفاق کی آخری حد معین کردی کہ یہ انفاق چونکہ امت کے تحفظ و بقا کے جہاد کے سلسلہ کا انفاق ہے اس وجہ سے اس میں دین کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی ناگزیر ضروریات سے جو کچھ بچا سکے وہ سب خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے تیار رہے۔ مولانا فراہی ؒ اس آیت کو ذرا اس سے مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تاویل یہ ہے کہ چونکہ یہ انفاق اس جہاد کے لیے تھا جس کا حکم خانہ کعبہ کو مشرکین قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے ہوا تھا اس وجہ سے اس نے مسلمانوں کی ساری توجہ اپنی طرف جذب کرلی اور اس جہاد کی تیاریوں میں وہ اس قدر منہمک ہوگئے کہ انفاق کے دوسرے مصارف، والدین، اقربا، یتامی، مساکین وغیرہ۔ کی طرف ان کو وہ توجہ نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی اس وجہ سے لوگو میں یہ سوال پیدا ہوا کہ انفاق کی مقدار کیا ہو۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اس کے اول حق دار وہ مستحقین ہیں جن کا ذکر ہوا، پھر مزید جو کچھ خرچ کیا جائے تو وہ سب اللہ کے علم میں رہے گا اور وہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یہاں مقدار کی تشریح نہیں فرمائی کہ لوگ خود اپنی عقل سے کام لیں اور مختلف دینی ضروریات میں توازن قائم کریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد بھی بعض لوگوں کے ذہن میں مقدار سے متعلق شبہ رہ گیا تو انہوں نے پھر سوال کیا۔ ان کے جواب میں یہ تصریح کردی گئی کہ جو کچھ مستحقین سے فاضل بچے وہ خرچ کرو، چونکہ اوپر مستحقین کا ذکر ہوچکا تھا اس وجہ سے یہ مختصر جواب کافی ہوا۔
Ayah 2:216جہادِ مالی اور جہادِ جانی : اوپر یہ بات تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے کہ یہ انفاق اور یہ جنگ دونوں ایک ہی سلسلے کی باتیں ہیں اس لیے کہ جہاد جان اور مال دونوں سے ہوتا ہے۔ اوپر والی آیت میں اس تردد کو دور کیا ہے جو بعض ذہنوں میں مالی قربانی سے متعلق پیدا ہوا اب اس آیت میں وہ تردد رفع کیا جا رہا ہے جو جان کی قربانی کے معاملہ میں تھا۔ اس تردد کو رفع کرنے کے لیے ایک اصولی حقیقت جو واضح فرمائی وہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے فوز و فلاح اور عروج و کمال کا راستہ خود نہیں طے کرسکتا ہے بلکہ وہ خدا ہی طے کرسکتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، اس لیے کہ اسی کو علم ہے کہ انسانی فطرت کے مضمرات اور اس کی صلاحیتیں کیا ہیں، اور وہ طریقے اور قاعدے کیا ہیں جن کو اختیار کر کے وہ اپنی تمام صلاحیتیں اجاگر کرسکتا ہے۔ اگر اپنے لیے خیر و شرک کا فیصلہ کرنے کا سارا معاملہ انسان کی اپنی ہی خواہش اور اس کی اپنی ہی عقل پر چھوڑ دیا جاتا تو عجب نہیں کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیوری میں اپنی زندگی کے پروگرام سے وہ ساری باتیں ایک ایک کر کے خارج کردیتا جو اس کے عروج و کمال اور اس کے روحانی و اخلاقی ارتقا کا ذریعہ ہیں کیونکہ ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو اس کے نفس کے لیے دل پسند ہو بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک نفس پر شاق گزرنے والی ہیں۔ اسی طرح اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ وہ اپنے اندر وہ ساری باتیں جمع کرلیتا جو اس کو اسفل سافلین میں لے جانے والی ہیں کیونکہ یہ ساری باتیں نفس کے لیے نہایت آسان اور لذیذ ہیں۔ انسانی فطرت کا یہ عجیب رمز ہے کہ جو چیزیں اس کے نفس کو مرغوب ہیں وہ اس کو پست کرنے والی ہیں اور جو چیزیں اس کو بلند کرنے والی ہیں وہ اس کے نفس کو عموماً بہت شاق ہیں۔ اس وجہ سے اس کی فلاح کی راہ بتانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لی ہے اور اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے اس کی رہنمائی کی ہے۔ جنگ و جہاد کے معاملے کی نوعیت بھی بعینہ یہی ہے۔ اس کے ظاہری پہلو پر نگاہ ڈالی جائے تو اس سے زیادہ ہولناک چیز کیا ہوسکتی ہے، لیکن بسا اوقات اس ہولناک شے کو سب سے زیادہ محبوب بنانا پڑتا ہے اس لیے کہ اگر اس سے گریز کیا جائے تو تمام انسانی اقدار بالکل تباہ ہو کر رہ جائیں۔
یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان کسی معاملے میں خیر و شر کے پہلو کو متعین کر ہی نہیں سکتا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو اس راہ میں بہت سے مغالطے پیش آتے ہیں اس وجہ سے وہ بسا اوقات ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ یہ صرف اللہ ہی کی شان ہے کہ اس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل سب کو مھیط ہے اس وجہ سے اس نے انسان کی رہنمائی کے لیے زندگی کا سارا پروگرام خود بنا کر نازل فرما دیا ہے۔ اور یہ پروگرام ایسا جامع ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں کی کی کامیابی و ترقی کا ضامن ہے۔