Ayah 2:142آیات 142 تا 162 کا خلاصہ مضمون :
منصبِ امامت سے یہود کی معزولی کے اسباب و وجوہ کی تفصیل اس مجموعہ آیات پر ختم ہو رہی ہے۔ اب گویا ان کو معزول کر کے ایک نئی امت کے قیام کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یہ امت امت وسط ہے یعنی اس صراط مستقیم پر قائم ہے جو دین حق کی اصل خدائی شاہراہ ہے۔ اس کی ملت، ملت ابراہیم اور اس کا قبلہ، قبلہ ابراہیمی بیت اللہ الحرام ہے۔ اس کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ جس طرح پیغمبر نے اس کے سامنے اللہ کے اصلی دین کی گواہی دی ہے اسی طرح یہ خلق خدا کے سامنے اللہ کے دین کی شہادت دینے والی ہوگی۔ ان آیات کے زمانہ نزول تک آنحضرت ﷺ اور مسلمان نمازوں میں بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے۔ اب ملت ابراہیمی کی تعلق سے ضروری ہوا کہ اس امت کا قبلہ مسجد حرام ہو۔ اس وجہ سے تحویل قبلہ کا حکم ہوا۔ پھر اس رد عمل کی تفصیلات بیان ہوئی جو اس واقعہ کا یہود اور مسلمانوں کے بعض گروہوں پر ہوا اور ساتھ ہی تحویل قبلہ کی حکمتیں اور قبلہ سے متعلق وہ ضروری ہدایات بیان ہوئی جو مسلمانوں کو قبلہ کے باب میں جادہ مستقیم پر استوار رکھنے کے لیے ضروری تھیں اور جن کا اہتمام نہ رکھنے کی وجہ سے یہود اور نصاری اصل قبلہ سے منحرف ہوگئے۔ پھر ایک مستقل امت کی حیثیت سے مسلمانوں سے یہ عہد لیا گیا کہ تحویل قبلہ کے بعد اب تم یہود و نصاری سے الگ ایک مستقل امت کی حیثیت سے ممتاز ہوگئے۔ جس طرح تمہارا رسول ایک الگ رسول ہے جو ان تمام صفات کا مظہر ہے جن کے لیے ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی، اسی طرح تمہارا قبلہ ابراہیمی قبلہ ہے، اب تم ان یہود سے ذرا بھی نہ ڈرو۔ صرف اللہ ہی سے ڈرو تاکہ تمہیں اللہ کے دین کامل کی نعمت نصیب ہو اور تمہارے لیے شریعت الٰہی کی راہیں کھلیں۔ تم مجھے یاد رکھوگے تو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میری شکر گزاری کرتے رہنا، ناشکری نہ کرنا۔ اس کے بعد ان متوقع خطرات کے طرف اشارہ فرمایا ہے جو ایک مستقل امت کی حیثیت سے نمایاں ہونے کے بعد مخالفین و معاندین کی طرف سے پیش آسکتے ہیں اور ان خطرات کے مقابلہ کے لیے مسلمانوں کو جن تیاریوں اور جن ایمان و اخلاقی اسلحہ سے مسلح ہونے کی ضرورت ہے، ان کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ آخر میں خانہ کعبہ کے تعلق سے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ خانہ کعبہ کی طرح صفا اور مروہ بھی اللہ کے شعائر میں داخل ہیں، اس لیے کہ یہی مروہ ہے جو اصل قربان گاہ ہے، لیکن یہود نے تحریف کے ذریعہ سے ان نشاناتِ راہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کا تعلق اس گھر سے بالکل کاٹ دیں۔ یہود اپنی اس شرارت کے سبب سے اس بات کے مستحق ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو۔ اس تمہید کے بعد اب آیات کا ترجمہ و تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
یہود کو بیوقوف قرار دینے کی وجہ : سفہاء سفیہ کی جمع ہے جس کے معنی نادان اور بیوقوف کے ہیں۔ یہاں اس سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔ یہود کے بیوقوف قرر دینے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم آیت وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ (بقرہ :130) اور ابراہیم کی ملت سے اس کے سوا کون بےرغبت ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے، میں اشارہ کرچکے ہیں۔ یہود ایک طرف تو ملت ابراہیم کے پیرو ہونے کے مدعی تھے دوسری طرف آنحضرت ﷺ اور آپ کی تعلیم و دعوت کے سخت دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے حالانکہ آپ اصل ملت ابراہیمی کے داعی بن کر تشریف لائے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی الٹی حرکت نادان اور بیوقوف لوگ ہی کرسکتے تھے۔ اس وجہ سے قرآن نے ان کے لیے سفہا کا لفظ استعمال کیا۔
تحویل قبلہ متوقع رد عمل کی طرف پہلے سے اشارہ : یہ تمہید ہے تحویل قبلہ کے اس حکم کی جس کا ذکر آگے دو آیتوں کے بعد آ رہا ہے۔ اس تمہید میں اشارہ ہے اس رد عمل کی طرف جو اس حکم کا یہود اور منافقین پر ہوگا۔ اصل حکم سے پہلے اس کے رد عمل کے بیان کرنے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم کوئی معمولی حکم نہیں تھا، اسلام کے مخالفوں اور اس کے حامیوں دونوں ہی کے اندر یہ خاصی ہلچل پیدا کردینے والا حکم تھا۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس حکم سے پہلے اس کے متوقع رد عمل کے لیے ذہنوں کو تیار کردیا جائے۔ دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ س سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی ذریت کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر ہر قاری کے سامنے آچکی تھی کہ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد کا مذہب اسلام تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ میں عبادتِ الٰہی کے لیے جو مرکز تعمیر کیا وہ ان کی ساری ہی ذریت کا مرکز اور قبلہ تھا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس بھی جب تعمیر ہوا تو اس کی تعمیر بھی اس طرح ہوئی کہ بنی اسرائیل کی قربانیوں کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہو۔ یہ تمام باتیں بالکل غیر مبہم طور پر اس بات کو ظاہر کر رہی تھیں کہ آنحضرت ﷺ کا بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ایک بالکل عارضی معاملہ تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ آپ کو بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دے دیا جائے۔ اس وجہ سے یہ تمہید ایک ایسے واقعہ کی تمہید تھی جس کے وقع ہونے کا انتظار یہود و نصاری کو بھی تھا اور مسلمانوں کو بھی۔ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا (ان کو ان کے اس قبلہ سے کس چیز نے ہٹا دیا جس پر وہ اب تک تھے): تحویل قبلہ پر یہود کا اعتراض : یہ تحویل قبلہ کے حکم پر اہل کتاب کے رد عمل کا بیان ہے کہ اب تک یہ لوگ مسلمانوں پر جو اعتراضات کرتے رہے ہیں ان کا بیان اوپر ہوچکا ہے۔ اب جب قبلہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو قرر دیا جائے گا تو یہ اس پر بھی ہنگامہ اٹھائیں گے کہ مسلمانوں نے تمام انبیاء کے قبلہ، بیت المقدس، کو جس کی طرف رخ کر کے وہ اب تک نماز پڑھتے رہے تھے، چھوڑ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یہ الگ کیوں بنائی۔ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (کہہ دو ، مشرق اور مغرب دونوں اللہ ہی کے ہیں، وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے)۔ یہ یہود و نصاری کے مذکورہ بالا اعتراض کا جواب ہے کہ تمہیں اب قبلہ سے کیا واسطہ، تم تو اصل قبلہ کے بجائے مشرق و مغرب کے چکر میں پھنس گئے ہو، نصاری مشرق کو اپنا قبلہ قرار دے بیٹھے ہیں اور یہود مغرب کو، حالانکہ سمتوں میں سے کسی سمت کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں، اللہ تعالیٰ تو ہر سمت میں ہے، مشرق و مغرب، شمال و جنوب سب اسی کی فرمانروائی میں ہیں۔ اس کے ساتھ اگر خصوصیت ہوسکتی ہے تو کسی ایسے گھر ہی کو ہوسکتی ہے جس کو وہ مخصوص فرمائے اور قبلہ قرار دے۔ یہ خصوصیت رکھنے والا گھر ابراہیم اور اسماعیل کا تعمیر کردہ گھر مکہ کا بیت اللہ ہے۔ وہی تمام اولاد ابراہیم کا قبلہ قرار پایا تھا اور اسی کو قبلہ قرار دے کر بیت المقدس کی بھی تعمیر ہوئی تھی۔ اس حقیقت کے نشانات و آثار تورات میں موجود تھے۔ لیکن تم نے تعصب کی وجہ سے یہ نشانات مٹا دیے تھے۔ لیکن تمہاری ان مخالفانہ کوششوں کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے جن کو چاہا سیدھا راستہ دکھا دیا اور اب وہ تمہارے پیدا کردہ پیچ و خم سے نکل کر ایک صراط مستقیم پر چل کھڑے ہوئے ہیں۔ (یہاں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے آیات 115 اور 125 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے)
Ayah 2:143كَذٰلِكَ کا اشارہ اوپر والے معاملہ کی طرف ہے یعنی جس طرح ہم نے قبلہ کے معاملہ میں یہود و نصاریٰ کے پیدا کردہ پیچ و خم اور مشرق و مغرب کے چکر سے تمہیں نکال کر صراط مستقیم کی طرف تمہاری رہنمائی کی، اسی طرح ہم نے تم کو یہودیت اور نصرانیت کی پگڈنڈیوں سے بچا کر دین کی بیچ شاہراہ پر قائم رہنے والی امت بنایا تاکہ رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دیں اور تم خلق خدا پر اللہ کے دین کی گواہی دو۔“ امت وسط ”: وَسَط لفظ وَلَد کی طرح مذکر اور مونث، واحد اور جمع سب کے لیے آتا ہے، اس کے معنی ہیں وہ شے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو۔ یہیں سے اس کے اندر بہتر ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا اس لیے کہ جو شے دو کناروں کے درمیان ہوگی وہ نقطہ توسط و اعتدال پر ہوگی اور یہ اس کے بہتر ہونے کی ایک فطری دلیل ہے۔ امت مسلمہ کو امت وسط کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت ٹھیک ٹھیک دین کی اس بیچ شاہراہ پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی رہنمائی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے کھولی ہے اور جو ابتدا سے ہدایت کی اصلی شاہراہ ہے۔ یہود و نصاری اللہ کے نبیوں میں تفریق کر کے اس شاہراہ سے ہٹ گئے اور انہوں نے یہودیت و نصرانیت کی پگ ڈنڈیاں نکال لیں، اسی طرح وہ اصل قبلہ سے منحرف ہو کر مشرق و مغرب کے جھگڑوں میں پڑگئے۔ لیکن یہ امت ان کج پیچ کی راہوں میں بھٹکنے کے بجائے دین کی اصلی راہ پر قائم ہے۔ اس کا کلمہ تفریق کے بجائے وحدت کا کلمہ ہے جس کا حوالہ اوپر ان الفاظ میں گزر چکا ہے قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ (بقرہ : 136) تم کہہ دو کہ ہم تو اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو ہم پر اتاری گئی اور اس چیز پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور اس چیز پر ایمان لائے جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے ملی۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ اسی طرح اس امت نے قبلہ کے معاملہ میں مشرق و مغرب کے جھگڑے میں پڑنے کے بجائے اس قبلہ ابراہیمی کی پیروی کی جو حضرت ابراہیم ؑ کے عہد مبارک سے برابر تمام نبیوں اور رسولوں کا قبلہ رہا۔ چناچہ بیت المقدس کی تعمیر بھی، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے اسی کو قبلہ قرار دے کر ہوئی لیکن یہود نے بر بنائے تعصب اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔ دین کے معاملہ میں امت مسلمہ کی یہی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے قرآن میں دوسری جگہ اس امت کو خیر امت (بہترین امت) کہا گیا ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جو چیز ٹھیک نقطہ اعتدال و توسط پر ہوگی وہ لازما بہترین بھی ہوگی۔ یہ امت چونکہ امت وسط ہے اس وجہ سے یہ خیر امت بھی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہود کا دین بہت سخت اور نصاری کا دین بہت نرم ہے۔ اسلام ان دونوں کے درمیان ایک معتدل دین ہے اس وجہ سے اس دین معتدل کی حامل امت کو امت وسط قرار دیا گیا۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ جہاں تک اصل دین کا تعلق ہے یہود و نصاری دونوں کا دین ایک ہی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی امت پر تورات کی پابندی اسی طرح واجب قرار دی تھی جس طرح اس کی پابندی یہود پر اجب تھی۔ اگر انہوں نے اس سے الگ کوئی تعلیم دی ہے تو اس کی نوعیت تورات سے جدا کسی مستقل تعلیم کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت صرف حکمت دین اور روح دین کی ہے۔ یہود اپنی دنیا پرستی کی وجہ سے دین کی اصل حقیقتوں سے ہٹ کر صرف رسوم وقیود کے غلام اور الفاظ و کلمات کے پرستار بن کے رہ گئے تھے، حضرت مسیح ؑ نے ان کو حکمت دین سے آشنا کیا۔ انجیل تورات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ تورات ہی کے رموز و حقائق کی طرف ایک حکیمانہ توجہ دلاتی ہے۔ لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا (تا کہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کے گواہ بنو اور رسول تمہارے اوپر اللہ کے دین کا گواہ بنے)۔ یہ امت وسط کے فریضہ منصبی اور اس کے قیام کی ضرورت کا بیان ہے۔ اوپر کی تفصیلات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو رہنمائی کے منصب پر مامور کیا تھا انہوں نے خدا کے میثاق کو توڑ دیا، اس کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں، اس کی صراط مستقیم گم کردی، اس کے مقرر کیے ہوئے قبلہ سے منحرف ہوگئے اور جن شہادتوں کے وہ امین بنائے گئے تھے ان کو انہوں نے چھپایا، ایسے حالات میں عالم انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت اگر کوئی ہوسکتی تھی تو یہی ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی امت برپا کرے جو خدا کی سیدھی راہ پر قائم ہو، جو اللہ کے رسول کے ذریعہ سے اصل دین کی حامل بنے اور پھر رہتی دنیا تک لوگوں کے سامنے اس دین کی گواہی دے۔“ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو ”سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ شہادت علی الناس کا جو فرض آنحضرت ﷺ پر بحیثیت رسول کے تھا آپ کے بعد آپ کی امت کی طرف منتقل ہوا اور اب یہ اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دے، اگر وہ اس فرض میں کوتاہی کرے گا تو اس دنیا کی گمراہیوں کے نتائج بھگتنے میں دوسروں کے ساتھ وہ بھی برابر کی شریک ہوگی۔ ہمارے ارباب تاویل نے عام طور پر اس شہادت کو آخرت سے متعلق مانا ہے کہ یہ امت گمراہوں کے خلاف انبیاء کی تائید میں آخرت میں شہادت دے گی کہ ان گمراہوں کو اللہ کا دین پہنچ چکا تھا، اس کے باوجود انہوں نے گمراہی کی یہ روش اختیار کی۔ لیکن ہمارے نزدیک اس تخصیص و تحدید کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس امت کو شہداء اللہ ہونے کا یہ مرتبہ آخرت میں بھی حاصل ہوگا لیکن آخرت میں یہ مرتبہ اسی وجہ سے حاصل ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اس کو اس منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ جو امت اس دنیا میں دین حق کی گواہ ہے، ظاہر ہے کہ وہی آخرت میں بھی اس پوزیشن میں ہوگی کہ گواہی دے کہ لوگوں کو اللہ کا دین ٹھیک ٹھیک پہنچایا یا نہیں۔
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ : جعل کا لفظ وسیع معنوں میں آتا ہے۔ اس کے ایک معنی جائز ٹھہرانے اور مشروع قرار دینے کے بھی ہیں مثلاً اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلا سَائِبَةٍ وَلا وَصِيلَةٍ (مائدہ :103) اور خدا نے بحیرہ، سائبہ اور وسیلہ کو مشروع نہیں کیا۔ عَلِمَ یَعْلَمُ کے معنی جس طرح جان لینے اور معین کرلینے کے ہیں اسی طرح اس کے معنی ممیز کردینے، چھانٹ کر الگ کردینے اور ظاہر کردینے کے بھی ہیں۔ مثلاً وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ (محمد :31) اور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ ظاہر کردیں تمہارے اندر سے ان لوگوں کو جو جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ (ال عمران : 142) کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے اندر سے ان لوگوں کو ظاہر نہیں کیا جنہوں نے جہاد کیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو تمہیں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی گئی تھی تو اس لیے نہیں کہ یہی تمہارا مستقل قبلہ ہے بلکہ یہ اجازت ایک عارضی اور وقتی اجازت تھی اور مقصود اس اجازت سے یہ تھا کہ پھر اس قبلہ کی تبدیلی تمہارے لیے امتحان کی ایک کسوٹی بنے اور اس کے ذریعہ سے یہ ظاہر کردیا جائے کہ تمہارے اندر کتنے آدمی ایسے ہیں جو فی الواقع رسول کے پیرو ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو رسول سے زیادہ اپنی پچھی روایات کے پرستار ہیں اور وہ پھر مڑ کر اپنے قدم دین ہی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب نماز کا حکم ہوا تو آپ نے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا۔ شروع میں حضور کا طریقہ یہ تھا کہ جن معاملات میں آپ کے سامنے وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی نہ ہوتی ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقہ پر عمل کرتے چناچہ قبلہ کے معاملے میں بھی آپ نے یہی کیا۔ جب تک آپ مکہ میں رہے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نمازوں کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے کہ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں سامنے ہوتے لیکن جب آپ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو سمت کے تبدیل ہوجانے کے وجہ سے بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا امکان باقی نہیں رہا۔ قدرتی طور پر خانہ کعبہ سے یہ انقطاع آپ کے قلب مبرک پر شاق گزرا اور آپ کو اس بارے میں وحی الٰہی کا انتظار رہنے لگا۔ لیکن حکمت الٰہی اس بات کی مقتضی ہوئی کہ ابھی کچھ عرصہ تک آپ اور بیت المقدس ہی کی طرف نماز پڑھیں۔ چناچہ ہجرت کے بعد بھی 16، 17 مہینے آپ بیت المقدس ہی کی طرف نمازیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ غزوہ بدر سے کم وبیش دو ماہ پہلے قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اتنے عرصہ تک بیت المقدس کے قبلہ پر قائم رکھنے اور پھر اس سے ہٹا کر خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دینے کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس طرح اس نے مسلمانوں کو ایک امتحان میں ڈال کر ان کے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کیا ہے تاکہ مدینہ آنے کے بعد جو خاص قسم کے عناصر اہل کتاب میں سے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں وہ اس امتحان سے گزر کر یا تو اسلام کی طرف یک سو ہوجائیں یا چھٹ کر ان سے الگ ہوجائیں۔ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ۔ یعنی یہ قبلہ کی تبدیلی ہے تو ایک سخت امتحان اس لیے کہ اس طرح کے معاملات میں جن کا تعلق دین سے ہو اور دین کی بھی ایک بنیادی چیز سے، آدمی فطری طور پر جذباتی اور روایت پرست بن جایا کرتا ہے، ان میں کوئی معمولی سی تبدیلی بھی اس کو سخت گراں گزرتی ہے، لیکن دین میں اصلی چیز جس کا وزن ہے وہ خدا اور رسول کی کامل اطاعت اور اخلاص ہے۔ اس وجہ سے ان تعصبات پر جو اخلاص کے لیے حجاب بنے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء وقتاً فوقتاً ضرب لگاتے رہے ہیں۔ انبیاء اور ادیان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر نبی کی آمد پر امتوں کو اس قسم کے امتحانوں سے گزرنا پڑا ہے۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے، اسی سنت کے تقاضے سے ہر نبی کے زمانے میں دین کے رسوم و ظواہر میں بہت سی تبدیلیاں ہوئیں تاکہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوسکے۔ جو لوگ اپنے قومی اور گروہی تعصبات کی پھندوں میں گرفتار ہوچکتے ہیں ان کا کھوٹ ان امتحانوں سے ظاہر ہوجاتا ہے، وہ خدا اور رسول کی ہدایت اختیار کرنے کے بجائے اپنی روایات پر اڑ جاتے ہیں لیکن جن کے اندر اخلاص کی روح موجود ہوتی ہے وہ اپنے اس اخلاص کے فیض سے اللہ کی ہدایت قبول کرنے کی توفیق پاتے ہیں۔ چناچہ قبلہ کی اس تبدیلی کا رد عمل بھی اسی طرح کا ہوا جو لوگ اپنے پچھلے تعصبات میں لپٹے ہوئے محض کسی وقتی مصلحت کے تحت اسلام کی صفوں میں آ گھسے تھے اس تبدیلی کے بعد وہ پھر پیچھے ہٹ گئے۔ اس کے برعکس جو لوگ محض اللہ کی بندگی اور اس کے رسول کی اطاعت کے جذبے کے ساتھ اسلام میں آئے تھے ان کے لیے اس تبدیلی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کے نہایت وسیع دروازے کھول دیے۔
ایک اہم سوال کا جواب : یہ بات کہ“ اللہ کا معاملہ یوں نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرے، وہ تو لوگوں کے معاملہ میں نہایت مہربان ہے ”یہاں ایک نہایت اہم سوال کا جواب ہے جو از خود پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب قبلہ کی تبدیلی خود قرآن کے اپنے بیان کے مطابق بھی ایک سخت امتحان ہے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس قسم کے سخت امتحان میں کیوں ڈالنا پسند فرمایا، جس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ بہت سے لوگ اس امتحان میں ناکام رہ جانے کے سبب سے اپنے ایمان ہی کھو بیٹھیں۔ قرآن نے اس شبہ کا ازالہ اس طرح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح کے امتحانوں میں اس لیے نہیں ڈالتا کہ لوگ اپنے ایمان ضائع کر بیٹھیں بلکہ یہ امتحان اللہ تعالیٰ کی رافت و رحمت کے مظہر ہیں۔ انہی امتحانوں سے بندوں کی صلاحیتیں نشوونما پاتی ہیں۔ انہی کے ذریعہ سے ان کی وہ قوتیں اور صلاحیتیں بروئے کار آتی ہیں جن کے خزانے قدرت نے ان کے اندر ودیعت کیے ہیں۔ انہی کے ذریعے سے ان کے کھرے اور کھوٹے، ان کے مخلص اور منافق اور ان کے سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا ہے۔ یہ امتحان نہ ہو تو اچھے اور برے، خام اور پختہ، گہر اور پشنیر میں کوئی فرق ہی نہ رہ جائے۔ ہر مدعی کو اس کے دعوے میں سچا ماننا پڑے اور ہر کاذب کی باتوں کی تصدیق کرنی پڑے، یہاں تک کہ آخرت میں بھی کسی کو انعام یا کسی کو سزا دینے کے لیے کوئی حجت و دلیل باقی نہ رہ جائے۔ مزید غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کارخانہ کائنات کا سارا حسن و جمال اور اس کی ساری حکمت و برکت اللہ تعالیٰ کی اسی سنت ابتلا کے اندر مضمر ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ بالکل بےحکمت اور بےمصلحت بلکہ کھلنڈرے کا ایک کھیل کے رہ جائے۔
زبان کا یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء میں سے رؤوف اور رحیم کا حوالہ دیا ہے۔ رؤوف رافت سے ہے جس کے اندر دفع شر غالب ہے اور رحیم رحمت سے ہے جس کے اندر اثباتِ خیر کا پہلو نمایاں ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہی دنوں پہلو اللہ تعالیٰ کی اس سنت ابتلاء او امتحان میں ملحوظ ہیں جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے یعنی بندوں کو خرابیوں اور کمزوریوں سے پاک کر کے فضائل و محاسن سے آراستہ کرنا۔ یہاں ان اشارات پر ہم کفایت کرتے ہیں، آگے مختلف مقامات پر یہ سنت اللہ مختلف پہلوؤں سے زیر بحث آئے گی۔ عام طور پر مفسرین نے اس آیت کو اس سیاق میں لیا ہے کہ تحویل قبلہ کے بعد لوگوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جو لوگ پہلے ہی قبلہ کے دوران میں وفات پا چکے ان کا کیا بنے گا۔ ان کی نمازیں قبول ہوں گی یا نہیں ؟ یہ اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک نہ تو اس سوال کے پیدا ہونے کی کوئی وجہ تھی اور نہ اس کے جواب دینے کی ضرورت تھی۔ اصل حقیقت وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔
Ayah 2:144قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا۔
عربی زبان کا ایک خاص اسلوب : یہاں عربی زبان کا ایک خاص اسلوب اچھی ذہن نشین کرلینا چاہیے وہ یہ کہ افعال ناقصہ کے صیغے عموما مضارع سے پہلے حذف کردیے جاتے ہیں مثلاً“ کان یفعل ”میں صرف یفعل کو کافی سمجھیں گے۔ کلام عرب اور قرآن مجید دونوں میں اس کی بکثر مثالیں ملتی ہیں۔ چند مثالیں ہم قرآن سے پیش کرتے ہیں۔ سورة ہود میں ہے فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ (ھود :109) پس تم ان چیزوں سے شک میں نہ پڑو جن کو یہ پوجتے ہیں ؟ یہ ان چیزوں کو نہیں پوجتے مگر اسی طرح جس طرح اس سے پہلے ان چیزوں کو ان کے باپ دادا پوجتے تھے۔ اس آیت میں دیکھیے“ كَمَا کان يَعْبُدُ ”کی بجائے صرف“ كَمَا يَعْبُدُ ”فرمایا۔ کان کو حذف کردیا۔ اسی طرح سورة زخرف میں ہے وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِنْ نَبِيٍّ فِي الأوَّلِينَ۔ وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ نَبِيٍّ إِلا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (زخرف :6-7) اور ہم نے کتنے نبی بھیجے اگلوں میں، اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس میں وَمَا يَأْتِيهِمْ دراصل وَمَا کان يَأْتِيهِمْ ہے۔ لیکن عربی اسلوب کے مطابق کان کو حذف کردیا۔ سورة انعام میں ہے وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ (انعام :75) اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے کارخانہ کا مشاہدہ کراتے تھے۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نُرِي إِبْرَاهِيمَ در اصل کُنَّا وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ ہے لیکن عام اسلوب کے مطابق مضارع سے پہلے کُنَّا حذف ہوگیا۔ اسی اسلوب کے مطابق آیت زیر بحث میں“ قد نری ”در اصل“ قد کنا نری ”ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس حذف کو کھول دیا ہے اس لیے کہ اردو میں حذف کا یہ اسلوب بیان نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم تمہارے چہرے کی گردش آسمانوں کی طرف دیکھتے رہے تھے کہ تمہیں تحویل قبلہ کے لیے شدت سے انتظار ہے تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو اوپر یہ بات گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب تک مکہ میں رہے اس وقت تک تو دونوں قبلوں کو جمع کرلینا ممکن رہا لیکن مدینہ ہجرت فرما جانے کے بعد یہ صورت باقی نہیں رہی۔ اس وجہ سے قبلہ ابراہیمی سے یہ انقطع آپ پر شاق گزرنے لگا۔ بالخصوص جب وحی الٰہی کے ذریعہ سے آپ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ آپ ملت ابراہیم پر مبعوث ہوئے ہیں، آپ کے لیے حضرت ابراہیم ؑ نے دعا فرمائی تھی، نیز حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ وہی درحقیقت تمام اولاد ابراہیم کا مشترک قبلہ ہے تو برابر آپ کو تحویل قبلہ کا انتظار رہنے لگا اور جیسا کہ قاعدہ ہے اگر کسی کا انتظار ذوق و شوق کے ساتھ ہو تو بار بار نگاہ دروازے کی طرف اٹھ جاتی ہے اسی طرح آپ کی نظر بار بار اوپر آسمانی کی طرف اٹھ جاتی، اس لیے کہ حضرت جبریل امین کا ظہور اسی طرف سے ہوتا تھا۔ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ کے لفظ میں اس فیصلہ کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کے بارے میں فرمایا۔ میں نے ترجمہ میں لفط کے اس مخفی مضمون کو کھول دیا ہے لیکن ضرورت اس پر بعض نظائر کے حوالہ کی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مولانا ؒ نے اس کے بعض نظائر کی طرف اشارہ کیا تھا مگر افسوس ہے کہ دمِ تحریر میرے پاس حوالہ کی ضروری کتابیں موجود نہیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب کی طباعت کے موقع پر اس کمی کی تلافی کرسکوں۔
۠فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ : شطر کے معنی جہت، جانب اور طرف کے ہیں۔ مسجد حرام سے مراد وہ مسجد محترم ہے جو بیت اللہ کو اس کی ہر جہت سے ہالہ کی طرح اپنے آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ قبلہ تو در اصل بیت اللہ ہی ہے چناچہ مسجد حرام کے اندر لوگ ہر چہار طرف سے بیت اللہ ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں لیکن باہر والوں کے لیے یہ مسجد بھی قبلہ ہی کے حکم میں داخل ہے۔ اس طرح امت کے لیے قبلہ کے معاملہ میں تھوڑی سی وسعت اور آسانی پیدا کردی گئی ہے۔ جس طرح اصل قربان گاہ تو در اصل مروہ ہے لیکن امت کی آسانی کے لیے اس کو منی تک وسعت دے دی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی آیت ہے جس نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کی اس اجازت کو جو آنحضرت ﷺ کو شروع شروع میں دی گئی تھی، منسوخ کیا اور اس کی جگہ مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے ساتھ یہ جو فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو تو اپنے رخ اسی کی طرف کرو۔ یہ مسلمانوں کو اس غلطی سے بچانے کے لیے ہدایت دی گئی ہے جس میں یہود و نصاری مبتلا ہوگئے تھے۔ اوپر آیت 115 کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہود و نصاری بیت المقدس کے اندر تو بیت المقدس کو قبلہ بناتے تھے لیکن اس سے باہر نکل کر ان کا قبلہ مشرق یا مغرب بن جاتا۔ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی گمراہی سے بچانے کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ تم جہاں کہیں بھی ہو، مسجد حرام کے اندر یا باہر، نمازوں کے اوقات میں تمہارا رخ اس معین قبلہ ہی کی طرف ہونا چاہیے۔ یہاں خطاب کی اس تبدیلی پر بھی نگاہ رکھنی چاہیے جو اس آیت میں نہایت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ پہلے تو خطاب واحد کے صیغہ سے ہے“ فول وجہک ”پھر جمع کی صورت میں فرمایا“ فولوا وجوہکم ”اس تبدیلی کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ پہلا خطاب آنحضرت ﷺ سے بحیثیت امت کے وکیل کے ہے۔ اس دوسرے خطاب نے پہلے خطاب کے اس مضمر پہلو کو واضح کردیا کہ اگرچہ وہ خطاب بظاہر ہے تو واحد کے صیغہ سے لیکن صرف آنحضرت ﷺ ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں پوری امت شامل ہے۔ علاوہ ازیں پہلے خطاب کے واحد کے صیغہ سے ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کو تحویل قبلہ کے لیے جیسا کہ اوپر اشارہ ہے نہایت اضطراب تھا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ پہلے خاص طور پر آپ کو مخاطب کر کے اس تبدیلی کی بشارت دی جائے۔ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ : اَنَّہٗ سے مراد یہاں مسجد حرام کا اس امت کے لیے قبلہ ہونا ہے۔ اس بات کا حق ہونا اور خدا کی طرف سے ہونا اہل کتاب پر بالک واضح تھا، اس لیے کہ اوپر جو تفصیلات قرٓن نے پیش کی ہیں ان سے مندرجہ ذیل باتیں واضح طور پر سامنے آگئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہود کو یہ بات معلوم تھی کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کی تعمیر ہے اور یہی بیت اللہ تمام ذریت ابراہیم کا اصلی قبلہ رہا ہے۔ دوسری یہ کہ آخری نبی ذریت اسماعیل میں پیدا ہوں گے اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک امت مسلمہ برپا کرے گا۔ تیسری یہ کہ اس ذریت اسماعیل کا مرکز اور قبلہ شروع سے یہی بیت اللہ رہا ہے۔ ان تمام باتوں کے اشارات و قرائن تورات میں موجود تھے اور آنحضرت ﷺ کے ظہور اور آپ کے واقعات زندگی سے ہر قدم پر ان اشارات و قرائن کے تصدیق ہو رہی تھی لیکن یہود اس حسد وعناد کے سبب سے جو ان کو بنی اسماعیل اور مسلمانوں سے تھا، جانتے بوجھتے ان ساری باتوں کو چھپاتے تھے۔ ان کے اسی کتمان حق پر بانداز تہدید یہ فرمایا ہے کہ“ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے ”یعنی یہ اپنے اس کتمان حق کی قرار واقع سزا پا کے رہیں گے۔
Ayah 2:145ایک التفات : یہ آیت بطور التفات کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دے رہی ہے کہ قبلہ کے معاملہ میں اہل کتاب کا یہ رویہ کسی شک و شبہ کی بنا پر نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، دیدہ و دانستہ محض ضد وعناد اور حسد کی بنا پر ہے۔ اس وجہ سے اگر تم ان کو دنیا جہان کے تمام معجزے بھی دکھا دو جب بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں۔ ان کو مطمئن کرنے والی کوئی چیز ہوسکتی ہے تو دلائل و معجزات نہیں بلکہ یہ کہ تم خود ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن جاؤ لیکن حق کے اچھی طرح واضح ہوچکنے کے بعد تمہارے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرسکو۔ پھر یہ بات بھی واضح فرما دی کہ یہ ضدم ضد کا رویہ کچھ تمہارے ہی ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ یہود و نصاریٰ خود ایک دوسرے کے قبلہ کی بھی پیروی نہیں کرسکتے۔ اب یہ مشرق و مغرب کے جس جھگڑے میں پڑگئے ہیں یہ جھگڑا ختم ہونے والا نہیں اور جب ایک ہی قبلہ کی پیروی کے مدعی آپس میں متحد نہیں ہوسکتے تو تمہارے قبلہ کی پیروی بھلا یہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ علم وحی کے آجانے کے بعد اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو تم بھی ظالموں میں سے بن جاؤ گے۔ یہ ایک نوع کی تہدید ہے جس کا ظاہراً خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس کا رخ در حقیقت یہود و نصاری کی طرف ہے۔ یہاں“ العلم ”سے مراد علم حقیقی ہے جو وحی کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور اھواء سے مراد اہل کتاب کی بدعتیں ہیں۔ ان دونوں لفظوں کا مفہوم آیت 120 کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں۔
Ayah 2:146اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ سے مراد یہاں صالحین اہل کتاب کا گروہ ہے جو اپنے علم کے حد تک اپنے دین پر قائم اور ان تمام پیشین گوئیوں کے ظہور کا دل سے متمنی تھا جو آخری بعثت سے متعلق ان کے صحیفوں میں موجود تھیں۔ اس سے صالحین اہل کتاب مراد لینے کے وجود وہ دلائل پوری تفصیل کے ساتھ ہم آیت 121 کے تحت واضح کرچکے ہیں۔ يَعْرِفُوْنَهٗ میں ضمیر کا مرجع قرآن مجید اور اس کا یہ بیان ہے جو اس نے آخری بعثت اور اس کے قبلہ سے متعلق اوپر دیا ہے۔ یہ آیت بعینہ انہی الفاظ میں سورة انعام میں بھی وارد ہے اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ (انعام :20) جن کو ہم نے کتاب عنایت کی وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ تشبیہ کی بلاغت : بیٹوں کی طرح پہچاننے میں یہ تشبیہ مضمر ہے کہ جس طرح ایک مہجور باپ اپنے دور افتادہ بیٹے کے لیے پریشان و مضطرب رہتا ہے اور ایک مدت کی جدائی کے بعد جب وہ آتا ہے تو دور سے اس کے پیراہن کی خوشبو اس کے لیے نوید مسرت لاتی ہے اسی طرح یہ صالحین اہل کتاب آخری بعثت سے متعلق تمام پیشین گوئیوں کے ہر مصداق سے اچھی طرح آشنا ہیں اور ان میں سے جو مصداق بھی ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے وہ اس کا خیر مقدم یوسف گم گشتہ کی طرح کرتے ہیں۔ اچھے اہل کتاب کے اندر موعود و منتظر حق کے لیے انتظار و شوق کا جو جذبہ تھا اس کی تعبیر قرآن مجید نے ایک اور مقام میں اس طرح فرمائی ہے۔ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (مائدہ :83) اور جب وہ اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس حق کی وجہ سے جس کو وہ اس کے اندر پہچانتے ہیں وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو حق کی شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ۔
Ayah 2:147مبتدا کو محذوف کرنے کی بلاغت : " الحق " ہمارے نزدیک خبر ہے اور مبتدا اس کا محذوف ہے۔ اگر مبتدا کو واضح کردیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی۔ ھذا ھو الحق۔ یعنی یہی بات حق ہے۔ من ربک خبر سے متعلق ہے۔ مبتداء کو عموماً عربی میں اس موقع پر حذف کردیتے ہیں جہاں مخاطب کی پوری توجہ خبر پر مرکوز کردینی ہو۔ اَلْحَقُّ آیت 144 میں خبر ہی کے محل میں وارد ہے اور اسی حیثیت سے وہ آیت 149 میں بھی آیا ہے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ کا خطاب ظاہر میں آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن تنبیہ و عتاب کا رخ مخالفین کی طرف ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 145۔ (خطاب کے مختلف پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مناسب ہے کہ مولانا فراہی کے مقدمہ تفسیر میں خطاب کی فصل غور سے پڑ لیجیے۔ تفسیر سورة عبس بھی اس مقصد کے لیے مفید رہے گی۔)
Ayah 2:148لفظ ‘ کل ’ کا مفہوم :‘ کل ’ کا لفظ اگرچہ لفظاً نکرہ ہے لیکن عموماً اس سے مراد وہ خاص گروہ یا اشخاص ہی ہوتے ہیں جن کا ذکر کلام میں اوپر گزر چکا ہوتا ہے مثلاً وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا (مریم :49) ، ہم نے اس کو عطا کیے اسحاق اور یعقوب اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔ : وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصابرین (انبیاء : 85) اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل، ان میں سے ہر ایک صابروں میں سے تھا۔ چناچہ یہاں بھی ‘ لکل ’ سے مراد یہود و نصاری کے وہی گروہ ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ ان کے متعلق فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے قبلہ کے لیے ایک جہت ٹھہرا لی ہے۔ کسی نے مشرق، کسی نے مغرب، یہ اپنی اسی ٹھہرائی ہوئی جہت ہی کو قبلہ بنائیں گے، تم کتنا ہی زور لگاؤ یہ پتھر کسی طرح اپنے مقام سے کھسکنے والے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے تم ان کے پیچھے اپنی راہ کھوٹی نہ کرو بلکہ خدا کی دکھائی ہوئی صراط مستقیم پر آگے بڑھو اور نیکیوں اور بھلائیوں میں ایکد وسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ گویا وہی بات جو اوپر والی آیت میں فرمائی تھی کہوَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ الایۃ، اس آیت میں ایک دوسرے اسلوب سے فرما دی۔ مقصود اس سے ہرگز ہر گز قبلہ کے معاملہ میں کسی رواداری کا اظہار نہیں ہے بلکہ یہ یہود و نصاری کے رویہ سے بیزاری کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان جامدوں اور ہٹ دھرموں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور تم حصول سعادت کی راہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ فَاسْتَبِقُوا کا مصدر استباق ہے جس کے معنی ہیں دوڑ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرنا۔ مثلا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ (یوسف :17) ، ہم دوڑ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے۔۔ جس طرح دوڑ کے مقابلوں میں ایک نشان ٹھہرا کر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح قبلہ عبدیت وانابت اور فلاح وسعادت کی جدو جہد میں مقابلہ کے لیے خدا کا مقرر کردہ ایک نشان یا گول ہے۔ اس نشان کو، جیسا کہ اوپر تفصیل گزر چکی ہے، پچھلی امتوں نے ضائع کردیا تھا اس وجہ سے ان کی بھاگ دوڑ بھی بالکل دوسری وادیوں مٰ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نشان حق کو امت وسط کے لیے پھر نمایاں کیا اور اس کو دعوت دی کہ اگر دوسرے اس میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور تم اپنی سرگرمیوں سے اس میدان کو پھر گرم کرو۔ قبلہ کے متعلق یہ بات کہ وہ فلاح وسعادت کے حصول کے لیے ایک نشان اور عَلَم کی حیثیت رکھت ہے محض کوئی استعارہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے اس عظیم تاریخ کو حافظہ میں از سرِ نو تازہ کرنے کی کوشش کیجیے جو اس گھر کے ایک ایک پتھر پر نقش ہے جس کو قبلہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ گھر وہ گھر ہے جس کی تعمیر ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل ذبیح اللہ نے اپنے مقدس ہاتھوں سے کی ہے۔ یہ گھر وہ گھر ہے جو اس دنیا کے بتکدے میں خدائے وحد کی عبادت کا اولین مرکز ہے، اسی گھر کے پہلو میں مروہ پہاڑی ہے جس کے دامن میں چشم فلک نے رضائے الٰہی کے لیے بوڑھے باپ کو محبوب اور اکلوتے فرزند کی گردن پر چھری چلاتے اور اسلام کی حقیقت کا مظاہرہ کرتے دیکھا ہے، یہی گھر ہے جس کے ارد گرد کے چٹیل میدانوں کو قدرت نے اس امت مسلمہ کے نشوونما کے لیے منتخب فرمایا جس کے ذریعہ سے دنیا کی تمام قوموں کو خدا کی رحمت تقسیم ہونے والی تھی، یہی گھر ہے جو حضرت ابراہیم کے وقت سے لے کر برابر تمام قدوسیوں کا قبلہ رہا ہے اور جس میں طواف واعتکاف اور رکوع و سجود کی سعادت اتنے انسانوں نے حاصل کی ہے کہ جس طرح زمین کے ذروں اور آسمان کے ستاروں کا شمار ناممکن ہے اسی طرح ان نفوس قدسیہ کا شمار بھی ناممکن ہے۔ اسی کے قرب میں وہ میدان ہے جس کی ریت کا ایک ایک ذرہ توبہ و استغفار کے سجدوں کا گواہ اور خوفِ خدا سے رونے والوں کے آنسوؤں کا امین ہے۔ اسی گھر کے ایک کونے میں وہ مقدس پتھر ہے جس کو خدا کے داہنے ہاتھ سے تشبیہ دی گئی ہے اور جس کو ہاتھ لگا کر یا بوسہ دے کر لاکھوں کروڑوں انبیاء و صدیقین اور صلحاء و ابرار نے اپنے رب سے عہد بندگی و وفاداری استوار کیا ہے، اسی کے پاس وہ جمرات ہیں جو اس گھر کے دشمنوں کی ذلت و پامالی کی یادگار ہیں اور جن پر سنگ باری کر کے اہل ایمان اپنے اندر برابر اعدائے دین کے خلاف جہاد کی روح تازہ کرتے رہے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اسی گھر کے سایہ میں خدا کے آخری پیغمبر محمد ﷺ نے پرورش پائی جن کے لائے نور اور جن کی بخشی ہوئی ضیا نے تمام دنیا میں اجالا کردیا۔ ایک ایسی عظیم روایات کے امین گھر کو قبلہ بنانے کے معنی یقیناً یہی ہیں کہ اس کو ایک نشان قرار دے کر ان روحانی خزانوں کے حصول کے لیے جدوجہد کی جائے جو سیدنا ابراہیم سے لے کر حضور نبی کریم ﷺ تک اس گھر کو ودیعت ہوئے یا دوسرے لفظوں میں اس کو ایک پاور ہاؤس سمجھیے جس سے پوری امت زندگی، حرارت، روشنی اور قوت حاصل کرتی ہے۔ جن لوگوں پر قبلہ کی عظمت و اہمیت کا یہ پہلو واضح نہیں ہے وہ اکثر اس امر میں حیران ہوتے ہیں کہ اینٹ اور پتھر کے بنے ہوئے ایک مکان کو دین میں اس درجہ اہمیت کیوں دے دی گئی ہے لیکن اوپر کی تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اصل اہمیت اینٹ پتھر کے مکان کی نہیں بلکہ ان عظیم روایات کی ہے جو اس گھر سے وابستہ ہیں اور جو اس دنیا کی روحانی و ایمانی زندگی کا واحد ذریعہ ہیں۔ ان روایات کی وجہ سے ملت کے نظام اجتماعی میں اس گھر کو وہی اہمیت حاصل ہے جو ایک جسم کے نظام میں قلب کو حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح قلب کے بغیر جسم کا وجود نہیں اسی طرح قبلہ کے بغیر ملت کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں قبلہ سے متعلق ان اجمالی اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔ آگے مناسب مواقع پر ہم اس کی اہمیت کے بعض دوسرے گوشوں پر بھی نظر ڈالیں گے۔ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس قبلہ کو قبلہ قرار دے کر جہاں کہیں سے بھی تم نیکی اور بھلائی کی راہ میں کوئی جدوجہد کروگے وہ ضائع نہیں جائے گی، خدا تم کو ہر جگہ سے اکٹھا کرے گا اور تمہیں تمہاری ہر چھوٹی بڑی نیکی کا بدلہ دے گا۔ یہ استباق الی الخیر کے لیے ایک نشان کی طرح ہے۔ اس سے قرب و بعد دل کے تعلق کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ہر شخص ہر جگہ اس سے ربط قائم کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تعلق رکھنے والوں کو ہر جگہ سے جمع کرسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جو جس سمت بھی رخ کرنا چاہتا ہے اس کو کرنے دو ، تم ان بحثوں میں الجھنے کی بجائے نیکی اور بھلائی کی راہوں میں بڑھو، ایک دن آئے گا جب اللہ تم سب کو جمع کر کے فیصلہ کرے گا کہ کون حق کی راہ چلا اور کس نے ضد ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی۔
Ayah 2:149سفر میں اہتمامِ قبلہ کی ہدایت : اوپر آیت 143 میں تحویل قبلہ کے اصلی حکم کے ضمن میں یہ بات تو واضح ہوگئی تھی کہ آدمی جہاں کہیں بھی ہو قبلہ ہی کی طرف رخ کرے لیکن سفر کی حالت سے متعلق وہاں کوئی تصریح نہیں تھی کہ اس صورت میں بھی اس حکم کی پابندی ضوری ہے یا اس میں کچھ ڈھیل ہے۔ سفر کی حالت میں کسی متعین قبلہ کی جستجو اور تحقیق ایک دشوار کام ہے۔ اس وجہ سے خیال یہی ہوتا ہے کہ اس میں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اوپر قبلہ کی جو اہمیت بیان ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی حالت میں بھی اس روحانی پاور ہاؤس سے انسان کا تعلق منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سفر کی حالت میں آزادی دے دی جاتی تو اس سے قبلہ کے معاملہ میں اس گمراہی کو اچھی خاصی راہ مل جاتی جس میں یہود و نصاری مبتلا ہوئے۔ اس وجہ سے اس امت کو واضح الفاط میں اس بات کی تاکید کی گئی کہ حضر کی طرح سفر میں بھی قبلہ کا اہتمام ضروری ہے تاکہ امت اپنے اصل نصب العین سے کسی حالت میں بھی سہل انگاری میں مبتلا نہ ہونے پائے۔ اس تاکید کے ساتھ ساتھ یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ“ یہی قبلہ خدا کا مقرر کیا ہوا واقعی قبلہ ہے، سو اس بات کو یاد رکھنا کہ اللہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ”یہ تنبیہہ عذر سفر کی بنا پر قبلہ کے معاملہ میں ہر قسم کی ارادی کے لیے بےپروائی اور ہر قسم کی منافقانہ سہولت تراشی کی جڑ کاٹتی ہے۔ اس کے شروع میں خطاب واحد کے صیغہ سے ہے اور آخر میں جمع کے صیغہ سے، یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شروع کا خطاب آنحضرت ﷺ سے بحیثیت امت کے وکیل کے ہے۔ مراد اس سے پوری امت ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سفر کی حالت میں چونکہ بسا اوقات قبلہ کا تعین سخت مشکل ہوجاتا ہے اس وجہ سے جو چیز شریعت میں مطلوب ہے وہ صرف موجود وسائل تحقیق کے حد تک قبلہ کی جستجو ہے۔ اسلام نے کسی معاملہ میں طاقت سے زیادہ امت پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ بس میسر وسائل تحقیق سے جو ظن غالب حاصل ہوجائے آدمی اسی کے مطابق نماز ادا کرے۔ یہ پابندی کسی صورت میں بھی ان رخصتوں کی نفی نہیں کرتی جو مجبوریوں کی حالت میں شریعت نے امت کو دی ہیں اور جن کی تصریح حدیث و فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔
Ayah 2:150اعادہ حکم کی حکمت : اوپر سفر اور حضرت دونوں حالتوں سے متعلق یہ دونوں حکم بیان ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے انہی دونوں حکموں کا معاً یہ اعادہ بعینہ انہی الفاظ میں اپنے اندر بظاہر کچھ تکرار کی سی گرانی رکھتا ہے اور یہ چیز قرآن میں، جو ایجاز و بلاغت کا ایک معجزہ ہے، طبیعت کو کچھ کھٹکتی ہے، لیکن یہ کھٹک محض قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، یہاں ان احکام کے دہرانے سے مقصود ہرگز ہرگز ان احکام کو دوبارہ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی ان تین عظیم حکمتوں اور مصلحتوں کو بیان کرنا ہے جو ان احکام کے اندر اس امت کے لیے پیش نظر ہیں اور جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہ حکمتیں بحیثیت مجموعی دونوں ہی حکموں سے، جیسا کہ آگے واضح ہوگا، تعلق رکھتی ہیں، اور ان سے معمولی بیخبر ی یا بےپروائی بھی اس امت کو ایسی غلطیوں میں مبتلا کرسکتی ہے جن کی اصلاح کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہ جائے گی اس وجہ سے قرٓان نے ان حکمتوں کے بیان سے پہلے تمہید کے طور پر ان احکام کی طرف ذہنوں کو پھر متوجہ کردیا کہ اس شد و مد اور اس تاکید و تنبیہ کے ساتھ اندر اور باہر، سفر اور حضرت، ہر جگہ اور ہر صورت میں بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے یہ کوئی سرسری اور سطحی حکم نہیں ہے۔ بلکہ نہایت عظیم مصلحتوں اور حکمتوں پر مبنی حکم ہے۔ اگر اس کو ٹھیک ٹھیک ملحوظ رکھنے میں تم نے ذرا بھی سہل انگاری سے کام لی اور اس سہل انگاری کے سبب سے ایک قدم بھی غلط اٹھ گیا تو تمہارا سارا سفر ہی ایک غلط سمت میں ہوجائے گا۔ اس وجہ سے ان کا پورا پورا اہتمام کرو اور ان کی حکمتیں اچھی طرح ذہن نشین کرو۔ اس تمہید کے بعد اب آگے یہ حکمتیں ان الفاظ میں بیان ہو رہی ہیں۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ ڎ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ غور کیجیے تو واضح ہوگا کہ یہاں ان احکام کی تین حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک قطع حجت، دوسری اتمام نعمت، تیسری راہ یابی، اب ہم اختصار کے ساتھ ان تینوں کی تشریح کرتے ہیں تاکہ مذکورہ احکام کے اعادہ کا فائدہ اور نظم کلام اچھی طرح واضح ہوجائے۔ قطع حجت سے رماد یہ ہے کہ اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے بات بات میں تمہارے اوپر گرفت کرنے اور تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کے لیے کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ یہاں للناس سے مراد موقع کلام گواہ ہے کہ اہل کتاب ہیں۔ قبلہ کے اشتراک کی وجہ سے اہل کتاب بالخصوص یہود، قدم قدم پر، آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف یہ اعتراض اٹھاتے رہتے تھے کہ جب یہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف نماز پڑھتے ہیں تو نماز اور عبادت کے طریقوں میں ہمارے طریقہ سے الگ راہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ایک بنیادی چیز میں اشتراک کے بعد دوسری چیزوں میں اختلاف کو وہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی من گھڑت ایجاد قرار دیتے تھے۔ ان کا یہ پروپیگنڈا سادہ لوح لوگوں پر اثر انداز ہوتا تھا اور اس سے اس حقیقت کے واضح ہونے میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں کہ حضور ﷺ کی بعثت یہودیت یا نصرانیت پر نہیں بلکہ ملت ابراہیم پر ہوئی ہے۔ اب وقت آگیا تھا کہ اس پروپیگنڈے کا پوری طرح سدباب کردیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ رخنہ بندیاں ضروری ہوئیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ فرض کیجیے یہ احتیاطیں نہ اختیار کی جاتیں۔ مسلمانوں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا کہ جب وہ مسجد حرام سے باہر یا سفر کی حالت میں ہوں تو جس سمت کی طرف چاہیں نماز پڑھ لیا کریں تو قطع نظر اس سے کہ مسلمان قبلہ کے معاملہ میں اسی قسم کی گمراہی میں مبتلا ہوجاتے جس قسم کی گمراہی میں اہل کتاب مبتلا ہوئے، محض بعض حالات میں ظاہری اشتراک کی وجہ سے یہود مسلمانوں کے خلاف زبان درازی اور وسوسہ اندازی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے۔ مذکورہ قیدوں نے ان تمام رخنوں کو بند کردیا۔ اگرچہ شریر لوگ اس قطع حجت کے بعد بھی باز رہنے والے نہیں تھے لیکن دنیا میں کوئی احتیاط بھی ہر قسم کے لوگوں کا منہ بند نہیں کرسکتی۔ ایسے لوگوں کا علاج قرآن نے یہ بتایا ہے کہ ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ (ان سے نہ ڈرو صرف مجھی سے ڈرو)۔ اتمام ِ نعمت سے رماد تکمیل دین کی وہ نعمت ہے جس کی پیشین گوئی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) نے اس امت کے بارے میں فرمائی تھی اور جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے اس وقت فرمایا تھا جب وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس وقت ان سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس بیٹے کی نسل سے ایک عظیم امت پیدا ہوگی جس سے تمام دنیا کی قومیں دین کی برکت پائیں گی چناچہ انہی کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخری ہادی محمد ﷺ کو بھیجا، جن کا قبلہ وہ بیت اللہ قرار پایا جو تمام عالم کے لیے سرچشمہ خیر و برکت اور تکمیل دین کا مرکز ٹھہرایا گیا تھا۔
راہ یابی سے مراد ہے اس صراط مستقیم کی راہ یابی جو خدا تک پہنچانے والی سیدھی اور فطری راہ ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا (انعام :161) کہہ دو میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی۔ فطری دین، ملت ابراہیم کی طرف جو بالکل یکسو تھا۔ اس ملت ابراہیم کی طرف رہنمائی کرنے والا مینارہ، جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں، یہ قبلہ ہی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ رہنمائی کا یہ نشان ہمیشہ اس امت کی نگاہوں کے سامنے رہے۔
Ayah 2:151كَمَا میں ک حرف تشبیہ ہے۔ اس وجہ سے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ کس چیز کی دی گئی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ " كَمَا " تقریبا اسی موقع میں استعمال ہوا ہے جس موقع میں ہم " چناچہ " کا لفظ استعمال کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ کی تحویل اسی طرح اتمامِ نعمت اور ملت ابراہیم کی رہنمائی کے لیے کی ہے جس طرح دعائے ابراہیمی کے مطابق انہی مقاصد کے لیے ایک رسول تمہارے اندر بھیجا ہے۔ اس آیت پر آیت 129 کے تحت ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر میں یہ جو فرمایا ہے کہ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ، یہ بنی اسماعیل پر ایک خاص فضل و کرم کا اظہار ہے کہ تم دین و شریعت سے ناآشنا امی لوگ تھے، خدا نے تمہاری تعلیم وہدایت کے لیے اس پیغمبر کو بھیجا ہے تو تمہیں تو اس کی سب سے زیادہ قد کرنی چاہیے۔
Ayah 2:152اللہ تعالیٰ اور امت مسلمہ کے درمیان ایک عظیم معاہدہ : تحویل قبلہ کے حکم کے بعد یہ امت ایک بالکل ممتاز امت کی حیثیت سے سامنے آگئی۔ یہود امامت کے منصب سے معزول ہوئے اور شہادت علی الناس کی ذمہ داری قیامت تک کے لیے اس امت کے سپرد ہوئی۔ اس اہم موقع پر یہ یاد دہانی کی گئی ہے کہ تم مجھے یاد رکھو گے تو میں تمہیں یاد رکھوں گا، میری شکر گزاری کرتے رہنا، ناشکری نہ کرنا، اس یاد دہانی کی نوعیت اللہ تعالیٰ اور اس امت کے درمیان ایک عظیم معاہدے کی ہے اور خدا کو یاد رکھنے سے مقصود ان تمام ذمہ داریوں اور فرائض کو یاد رکھنا اور ان کی بجا آوری ہے جو اس امت کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔ ان ذمہ داریوں اور فرائض کی بجا آوری کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ میں تمہیں یاد رکھوں گا، یعنی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی، نصرت، فتح مندی اور سرخروئی کے جو وعدے میں نے اس امت سے کیے ہیں وہ پورے کروں گا " میری شکر گزاری کرتے رہنا " سے مراد ان تمام نعمتوں کا صحیح صحیح حق ادا کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں اور آئندہ ملنے والی ہیں، ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت خود وہ شریعت تھی جو اب اپنی کامل شکل میں اس امت کو منتقل ہو رہی تھی، آخر کے الفاظ وَلَا تَكْفُرُوْنِ (اور میری ناشکری نہ کرنا) میں تنبیہ ہے کہ اگر تم نے ناشکری کی تو جس طرح یہود ناشکر کر کے کیفر کردار کو پہنچے تم بھی خدا کے اس قانون کی زد سے نہ بچ سکو گے۔ بعینہ اسی طرح کی یاد دہانی بنی اسرائیل کو بھی کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ قرآن مجید میں اس کا حوالہ اس طرح دیا گیا ہے، اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (بقرہ :40) ، میری اس نعمت کو یاد رکھو جو میں نے تم پر کی ہے اور میرے عہد کو پورا کرو، میں اس عہد کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا ہے اور مجھی سے ڈرو۔