2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے کھلے دلائل کے ساتھ، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا۔ اور چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور اللہ نے جو تمہیں ہدایت بخشی ہے اس پر اس کی بڑائی کرو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔

قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اوپر والی آیت کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی جس میں ایک حقیقت تو یہ واضح کی گئی کہ رمضان کے مہینہ کو اللہ تعالیٰ نے روزوں کے لیے کیوں منتخب فرمایا۔ دوسری یہ کہ اب تک سفر یا بیماری کے سبب سے قضا شدہ روزوں کے لیے فدیہ کی جو اجازت تھی وہ اجازت منسوخ ہوئی۔ اب روزوں کی تلافی روزوں ہی کے ذریعہ سے ضروری قرار دے دی گئی۔ روزے کے لیے رمضان کے مہینے کے انتخاب کی حکمت : پہلی حقیقت اس طرح واضح کی گئی ہے کہ یہی مبارک مہینہ ہے جس میں دنیا کی ہدایت کے لیے قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس ہدایت کے متعلق فرمایا کہ یہ ہدایت بھی ہے اور اس میں ہدایت اور فرقان کی بینات بھی ہیں۔ یعنی یہ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ عقل کی رہنمائی اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لیے وہ واضح او قاطع حجتیں بھی اپنے اندر رکھتی ہے جو کبھی کہنہ ہونے والی نہیں ہیں۔ لفظ " ہدی " کی تحقیق اسی سورة کی آیت 2 کے تحت اور " فرقان " کی تحقیق آیت 53 کے تحت بیان ہوچکی ہے۔ بینات سے مراد واضح، دل نشین اور ہر الجھن کو دور کردینے والے براہین و حجج ہیں۔ قرآن صرف حلال و حرام بتانے کا ضابطہ ہی نہیں ہے بلکہ حجج و حکمت کے بینات کا کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ بھی ہے اس وجہ سے یہ رہتی دنیا تک عقل انسانی کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کا تقاضا یہ ہوا کہ اللہ تعالیی نے اسی مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا تاکہ بندے اس میں اپنے نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات سے آزاد ہو کر اپنے رب سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوسکیں اور اپنے قول و فعل، اپنے ظاہر و باطن اور اپنے روز و شب ہر چیز سے اس حقیقت کا اظہار واعلان کریں کہ خدا اور اس کے حکم سے بڑی ان کے نزدیک اس دنیا کی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ غور کرنے والے کو اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں پیش آسکتی کہ خدا کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے اور عقل سے بھی بڑی نعمت قرآن ہے اس لیے کہ عقل کو بھی حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو عقل سائنس کی ساری دور بینیں اور خرد بینیں لگا کر بھی اندھیرے ہی میں بھتکتی رہتی ہے اس وجہ سے جس مہینے میں دنیا کو یہ نعمت ملی وہ سزا وار تھا کہ وہ خدا کی تکبیر اور اس کی شکر گزاری کا خاص مہینہ ٹھہرا دیا جائے تاکہ اس نعمت عظمی کی قدر و عظمت کا اعتراف ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے۔ اس شکر گزاری اور تکبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی عبادت مقرر فرمائی جو اس تقوی کی تربیت کی خاص عبادت ہے جس پر تمام دین و شریعت کے قیام و بقا کا انحصار ہے اور جس کے حاملین ہی کے لیے در حقیقت قرآن ہدایت بن کر نازل ہوا ہے جیسا کہ اس سورة کی بالکل پہلی ہی آیت میں اس نے خود یہ حقیقت واضح فرما دی ہے " ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ : یہ آسمانی کتاب ہے، اس کے آسمانی ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے، یہ متقیوں کے لیے ہدایت بن کر نازل ہوئی ہے) گویا اس حکمت قرآنی کی ترتیب یوں ہوئی کہ قرآن حکیم کا حقیقی فیض صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقوی کی روح ہو اور اس تقویٰ کی تربیت کا خاص ذریعہ روزے کی عبادت ہے اس وجہ سے رب کریم و حکیم نے اس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا جس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اس دنیا کے لیے بہار ہے اور رمضان کا مہینہ موسم بہار اور یہ موسم بہار جس فصل کو نشوونما بخشتا ہے وہ تقوی کی فصل ہے۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ : یہ اوپر کے مبتدا کی اصل خبر ہے۔ یعنی یہ مہینہ اپنی مذکورہ خصوصیات کی وجہ سے روزوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے تو جو شخص اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس پورے ماہ کے روزے رکھے۔ حاضر ہونے کا مفہوم خود آگے کے الفاظ سے واضح رہا ہے کہ آدمی سفر یا بیماری کی حالت میں نہ ہو اور فَلْيَصُمْهُ کے معنی یہ ہوئے کہ اس پورے مہینہ کے روزے رکھے، اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے، اور اگر بیماری یا سفر کی وجہ سے روزے پورے نہ کرسکتا ہو تو دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر یہ کمی پوری کردے۔ یہاں سے اوپر والی آیت کے الفاظ " وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ " حذف فرما دئیے جس کے معنی یہ ہیں کہ اصل حکم میں اس حصہ کے بقدر ترمیم ہوگئی۔ سفر یا بیماری کے زمانوں کے چھوٹے ہوئے روزوں کے لیے اب تک، جیسا کہ اوپر گزرا، فدیے کی بھی اجازت تھی، مذکورہ الفاط کے حذف ہوجانے سے وہ ختم ہوگئی۔ روزے کے احکام کی حکمتیں۔ آگے يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ سے آخر آیت تک صعودی ترتیب کے ساتھ اوپر کے تمام احکام کی حکمت و مصلحت واضح فرما دی۔ اوپر جو باتیں بیان ہوئی تھیں ان کو ایک مرتبہ پھر ذہن کے سامنے کرلیجئے۔ ایک تو یہ بات بیان ہوئی تھی کہ رمضان کا مہینہ روزوں کے لیے کیوں مخصوص کیا گیا ؟ دوسری یہ کہ فدیہ کی اجازت منسوخ کردی گئی، اب سفر اور بیماری کے زمانے کے روزوں کی تعداد بھی پوری کرنی ہوگی۔ تیسری یہ کہ سفر اور مرض کی حالت میں روزے دوسرے دنوں پر ملتوی کیے جاسکتے ہیں۔ ان تینوں کی حکمت و علت نیچے سے شروع کر کے اوپر کی طرف چڑھتے ہوئے یوں بیان فرمائی کہ سفر اور بیماری کی حالت میں روزے ملتوی کردینے کی اجازت تمہیں اس لیے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ تمہیں کسی تنگی میں نہیں ڈالنا چاہتا، فدیہ کی اجازت اس لیے منسوخ کردی گئی کہ تم رمضان کے روزوں کی تعداد پوری کرو اس خیر و برکت سے محروم نہ ہو جو اس کے اندر مضمر ہے اور رمضان کے مہینہ کو اس کے لیے مخصوص اس وجہ سے فرمایا کہ تم اس نعمت عظمیٰ پر اللہ کی بڑائی اور اس کا شکر کرو جو تمہیں قرآن کی صورت میں اس مبارک مہینے میں عطا ہوئی۔ اس ترتیب صعودی کی مثالیں سورة قصص کی آیت 73 اور انفال کی آیت 11 میں موجود ہیں۔ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ میں تکبیر سے مراد خدا کی عظمت و جلالت اور اس کی بزرگی وکبریائی کے احساس و اعتراف کی وہ حالت ہے ایک روزہ دار پر روزے کی حالت میں عملاً طاری ہوتی ہے اور جس کے سبب سے بندہ اپنی تمام جائز خواہشوں سے بھی محض اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں دستبردار ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت پر مسلم کی اس حدیث سے بھی روشنی پڑتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ " کل عمل ابن ادم یضاعف " الحسنۃ بعشر امثالہا الی سبع مائۃ ضعف، قال اللہ تعالیٰ الا الصوم فانہ لی وانا اجزی بہ، یدع شہوتہ وطعامہ من اجلی " ابن آدم کا ہر نیک عمل بڑھایا جائے گا، دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صرف روزے کا معاملہ اس سے مختلف ہے، یہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اپنے ہاتھوں سے اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ بندہ صرف میری ہی خاطر اپنی خواہشوں اور اپنے کھانے کو چھورتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ احادیث میں جو رخصتیں حاملہ، مرضعہ یا پیر فانی وغیرہ سے متعلق بیان ہوئی ہیں وہ تمام تر يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ کے اصول یا اسی رخصت پر مبنی ہیں جو مریض و مسافر کے لیے بیان ہوئی ہے۔ قرآن حکیم کی حکمت کو نبی ﷺ نے ان گوشوں میں بھی وسعت دے دی ہے جو اس کے دائرہ میں آتے تھے۔ جن لوگوں نے یطیقون کے لفظ سے حاملہ یا مرضعہ وغیرہ کے لیے احکام نکالنے کی کوشش کی ہے انہوں نے دو بالکل غیر متعلق چیزوں میں جوڑ ملانے کا تکلف کیا ہے۔ ہم اوپر اس کی تردید کرچکے ہیں۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب میرے بندے تم سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے تو چاہیے کہ وہ میرے حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔

شبہات اور مشکلات میں خدا کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت : یہ آیت تمہید ہے ان سوالوں کے جوابات کی جو روزے کے حکم کے نزول کے بعد ماہ رمضان کے احترام اور روزے کے احکام و آداب سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں ابھرے یا ان کی زبانوں پر آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی وضاحت فرمائی۔ ایسے لوگوں کو قرآن نے یہ ہدایت فرمائی کہ اپنے اس قسم کے شبہات و اعتراضات کو خدا اور اس کی شریعت کی مخالفت یا اس کی تنقید و تضحیک کا ذریعہ نہ بنا لیں بلکہ ان میں رہنمائی کی طلب کے لیے خدا ہی کی طرف رجوع کریں۔ جو آدمی اخلاص و صداقت کے ساتھ اپنی کسی حقیقی ضرورت کے لیے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے خدا اس کی طلب ضرور پوری کرتا ہے، عام اس سے کہ وہ ضرورت اس کی معاش سے متعلق ہو یا معاد سے، ذہنی و عقلی الجھنوں سے متعلق ہو یا شریعت اور اس کے احکام کے فوائد و مصالح سے۔۔ منافقین کا حال یہ تھا کہ جہاں کہیں ان کو دین کی کسی بات میں کوئی مشکل محسوس ہوئی وہ اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرنے کے بجائے اس بات کو اعتراض و استہزاء کا نشانہ بنا لیتے اور مسلمانوں کے اندر وسوسہ اندازی اور فتنہ انگیزی کی ایک مہم شروع کردیتے۔ قرآن میں ان کی اس خصلت کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ خاص طور پر سورة مجادلہ میں اس کے بعض نہایت اہم پہلو واضح ہوئے ہیں۔ اہل ایمان کی پسندیدہ روش قرآن نے یہ بتائی کہ وہ اپنی مشکلات کے لیے خدا اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور فرما دیتا ہے۔ یہ تمہید ایک جامع تمہید ہے جو مختلف مواقع کے ساتھ مناسبت رکھنے والی ہے لیکن یہاں اس کا تعلق، جیسا کہ ذکر کیا گیا، خاص طور پر ماہ رمضان اور اس کے روزوں کے باب میں چند سوالوں کے جواب سے ہے۔ یہ سوالات مسلمانوں کے اندر جب پیدا ہوئے تو قرآن نے اس کی وضاحت فرمائی اور ساتھ ہی ان کی حوصلہ افزائی کی کہ جب خدا اور اس کی شریعت سے متعلق کوئی سوال پیدا ہو تو اس کے لیے خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، خدا سب سے قریب ہے اور وہ سب کی مشکلات حل فرماتا ہے۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۔ " میرے متعلق سوال " سے مراد ضروری نہیں کہ خدا کی ذات وصفات ہی سے متعلق سوال ہو بلکہ یہ سوال اس کی ذات وصفات، اس کی پسند و ناپسند اور اس کے احکام و شرائع سب ہی پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ سوال کا تعلق ان احکام سے ہے جو ماہ رمضان اور روزوں کے آداب و شرائط سے متعلق اصل حکم کے نزول کے بعد پیدا ہوئے۔ قرآن کے تدبر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس میں سائلوں کے سوالات نہایت اجمال کے ساتھ نقل ہوتے ہیں، سوال کی اصلی نوعیت اس جواب سے واضح ہوتی ہے جو اس کے بعد قرآن دیتا ہے۔ سوال کے اجمال کے ساتھ نقل کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کلام غیر ضروری طوالت سے محفوظ رہے، دوسری یہ کہ اکثر سوالوں کے جواب میں قرآن کی وضاحت صرف سوالوں ہی تک محدود نہیں رہی بلکہ جب اس کا ابر کرم برسا ہے تو اس نے خشک و تر سب ہی کو سیراب کردیا ہے۔ جواب کی اس وسعت و ہمہ گیری کا تقاضا یہ ہوا کہ سوال مبہم شکل میں نقل کیا جائے تاکہ سوال اور جواب میں عدم مطابقت نمایاں نہ ہو۔ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کے لیے موزوں مواقع آگے آئیں گے اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ اس لیے کہ خدا سے قرب و بعد کا انحصار بندے کے اپنے دل کی حالت پر ہے۔ اگر بندہ خدا سے غافل اور بےپروا رہے تو اس سے زیادہ دور کوئی چیز بھی نہیں لیکن اگر وہ خدا کی طرف متوجہ رہے، اس کی یاد سے اپنے دل کو معمور رکھے، اس کی نعمتوں پر اس کا شکر گزار رہے اور اس کی آزمائشوں میں طلب صبر و استقامت کے لیے اسی کے آگے روئے اور گر گڑائے تو خدا سے زیادہ قریب بندے سے کوئی چیز بھی نہیں۔ وہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ قرابت بندوں کو یوں تو ہر حال اور ہر مقام میں حاصل ہے لیکن خاص کر نبی کی بعثت کا زمانہ تو، جس کی طرف یہاں اشارہ ہے، خدا سے قرب و اتصال کا خاص زمانہ ہوتا ہے۔ نبی خدا کا نائب اور بندوں کا وکیل ہوتا ہے، خدا کے فرشتے ہر وقت اس کے پاس آتے رہتے ہیں، وحی کا سلسلہ اس کے اور خدا کے درمیان قائم رہتا ہے، بندے اپنی جو مشکلات اور اپنے جو سوالات نبی کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ گویا اس کے واسطے سے اپنے رب کے حضور ہی میں پیش کرتے ہیں اور وحی کا زمانہ ہونے کی وجہ سے ہر لمحہ توقع ہوتی ہے کہ جو سوال اس کے حضور میں پیش ہوا ہے اس کا جواب نازل ہوجائے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة مائدہ کی یہ آیت اشارہ کر رہی ہے " وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ : اور اگر تم ان کی بابت اس زمانے میں سوال کروگے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی " (مائدہ :101)۔ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ، بھی ایک حقیقت کا بیان ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے تو وہ اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔ جواب دینے سے مراد قبولیت کا جواب ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ بندہ اپنے رب کو پکارے اور وہ اس کی مدد، فریاد رسی اور داد رسی کو نہ پہنچے، شرط صرف یہ ہے کہ بندہ اخلاص و تضرع کے ساتھ پکارے اور اسی چیز کے لیے پکارے جس کے لیے پکارنا اس کو زیبا ہے۔ اگر بندہ اپنے رب سے وہ چیز مانگتا ہے جو مانگنے کی ہے اور اس طرح مانگتا ہے جس طرح مانگنا چاہیے تو وہ چیز اس کو ضرور عطا ہوتی ہے۔ اگر فورًا عطا نہیں ہوتی تو اس کے مستقبل کے لیے یا اس کی آخرت کے لیے خدا کے ہاں محفوط ہوجاتی ہے اور اگر اس شکل میں نہیں ملتی جس شکل میں اس نے مانگی ہے تو اس سے بہتر شکل میں وہ اس کو مل جاتی ہے یا اس کے لیے محفوظ کردی جاتی ہے۔ قبولیت دعا کے باب میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت ہے جس کے مختلف اجزا اپنے اپنے مقامات میں بیان ہوں گے۔ یہاں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ ، اوپر اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں یہ ان کا لازمی تقاضا یا نتیجہ بیان ہوا ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ بندوں سے قریب تر بھی ہے اور وہ ان کی پکار سنتا اور اس کا جواب بھی دیتا ہے تو پھر اسی کا حق ہے کہ سب اس کی دعوت پر لبیک کہیں اور اس پر ایمان لائیں، پھر اس سے منحرف ہو کر کسی اور کی طرف رخ کرنے کے لیے کوئی ادنی وجہ جواز بھی نہیں ہے۔ خاص کر یہ تو اپنی جان پر بہت بڑا ظلم ہے کہ جو پروردگار اپنی شریعت کے اجمالات کی توضیح خود فرمانے کے لیے سراپا رحمت و کرم ہے اس کے کسی حکم کو کوئی اعتراضات و شبہات کا ہدف ٹھہرا لے یا اس کے سبب سے کسی خیانت یا تنگی میں مبتلا ہو۔ ایک شبہ کا ازالہ : اس آیت کے سیاق سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اہل ایمان کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے کہ اگر ان کو خدا اور اس کی شریعت کے باب میں کوئی کھٹک پیدا ہو تو وہ خدا اور اس کے رسول ہی کی طرف رجوع کریں، اللہ تعالیٰ ان کی کھٹک دور فرمائے گا۔ بظاہر یہ بات اس ہدایت کے خلاف معلوم ہوتی ہے جو لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ اور اس کی ہم معنی دوسری آیات میں دی گئی ہے۔ لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے۔ جہاں سوالات کرنے کی ممانعت ہے وہاں اس سے مراد اس طرح کے غیر ضروری سوالات ہیں جو یہود اپنے پیغمبر سے محض اس کو زچ کرنے اور شریعت سے فرار اختیار کرنے کے یلے کرتے تھے۔ وہ سوالات اس کے تحت نہیں آتے جو شریعت کی توضیح و تبیین کے لیے ضروری ہیں۔ اللہ اور رسول نے ایسے سوالات کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے اور ان کے جوابات سے دین کی دولت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ اللہ اور رسول نے ایسے سوالات کے مواقع فراہم کیے ہیں تاکہ لوگوں پر دین کی حکمتیں اور مصلحتیں اور بندوں کی ضروریات کے ساتھ شریعت کی مناسبتیں واضح ہوں۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لیے بمنزلہ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم سے درگزر فرمایا تو اب تم ان سے ملو اور اللہ نے تمہارے لیے جو مقدر کر رکھا ہے اس کے طالب بنو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری شب کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہوجائے۔ پھر رات تک روزہ پورا کرو اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے نہ ملو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں تو ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔

روزے سے متعلق سوالات کے جوابات : اوپر کی تمہید کے بعد اب یہ ان سوالات کا جواب ہے جو روزے کے احکام و آداب سے متعلق اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے۔ اس کے آخر میں كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ کے الفاظ اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ آیت اصل حکم کے نزول کے کچھ عرصہ بعد توضیح و تبیین کے طور پر نازل ہوئی۔ جو لوگ قرآن مجید کے انداز بیان سے آشنا ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ قرآن میں جب کسی حکم کے بعد اس کی کوئی مزید توضیح و تفصیل نازل ہوئی ہے تو اس کے ساتھ بالعموم یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں جن سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حکم بعد میں بطور وضاحت نازل ہوا ہے۔ یہ قرآن سے متعلق اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل ہے جس کا ذکر سورة قیامہ میں ہوا ہے کہ " ثم ان علینا بیانہ " پھر ہمارے ذمہ ہے اس کی وضاحت کرنا۔ اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ : رَفَثَ کے اصل معنی تو شہوانی باتوں کے ہیں لیکن یہاں اس کے بعد اِلیٰ کا صلہ اس کے اندر بیویوں سے اختلاط و ملاقات کا مضمون پیدا کردیتا ہے۔ اس کے جائز کردینے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پہلے یہ چیز حرام ٹھہرائی گئی تھی بعد میں یہ جائز کردی تئی۔ یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ ابتدائی حکم میں اس قسم کی کوئی وضاحت چونکہ موجود نہیں تھی اس وجہ سے بہت سے مسلمانوں نے بنظر احتیاط وتقوی یہ سمجھا کہ جس طرح روزے کی حالت میں، دن میں زن و شو کے تعلقات کی اجازت نہیں ہے اسی طرح شب میں بھی اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت پہنچی ہوگی کہ یہود کے ہاں روزہ افطار کے بعد معاً پھر شروع ہوجاتا تھا جس کے سبب سے انہیں شب میں بھی وہ پابندیاں نباہنی پڑتی تھیں جو دن میں تھیں۔ چونکہ مسلمانوں کے سامنے عملی مثال کی حیثیت سے اہل کتاب ہی کا روزہ تھا اور قرآن میں اس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا اس وجہ سے انہوں نے از خود اپنے اوپر یہ پابندی عائد کرلی کہ دن کی طرح شب میں بھی ازدواجی تعلقات سے احتراز کرتے تھے لیکن اس معاملہ میں چونکہ اب تک کوئی واضح ہدایت نہیں تھی اس وجہ سے اس کی نوعیت ایک مشتبہ معاملہ کی تھی۔ اس اشتباہ کے سبب سے بعض لوگ نفس کی اکساہٹ کے باعث کبھی کبھی اس چیز کے مرتکب بھی ہوجاتے جو خود ان کے ضمیر کے نزدیک مشتبہ ہوتی۔ مشتبہ معاملات میں شریعت کی ہدایت، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، یہ ہے کہ " دع ما یریبک الی ما لا یریبک " مشتبہ کو چھوڑ کر آدمی اس پہلو کو اختیار کرے جو غیر مشتبہ ہو، اگر اس کے برعکس آدمی مشتبہ پہلو کو اختیار کرے تو یہ خود اپنے نفس کے ساتھ ایک قسم کی خیانت ہوتی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس اس کو اپنے نفس کے ساتھ خیانت سے تعبیر فرمایا لیکن چونکہ یہ احتیاط شریعت کے منشا کے خلاف تھی محتاط مسلمانوں نے ازخود اپنے اوپر عائد کرلی تھی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس خیانت سے درگزر فرمایا اور واضح الفاظ میں شب میں بیویوں سے ازداوجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ : وہ تمہارے یے بمنزلہ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس ہو۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ جس نوعیت کی وابستگی رکھتے ہیں، یہ اس کی طرف اشارہ ہے اور مقصود اس اشارے سے یہ بتانا ہے کہ ان دونوں میں ایسا چولی دامن کا رشتہ ہے اور یہ باہم دگر ایسے فطری تقاضوں کے بندھن میں میں بندھے ہوئے ہیں کہ ان کو کسی حالت میں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس وجہ سے دین فطرت نے ان کے باہمی تعلق پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی ہے جو فطری داعیات کے درمیان کوئی دیوار کھڑی کردے۔ اگر کوئی محدود قسم کی پابندی خاص خاص حالات میں عائد بھی کی گئی ہے تو وہ صرف تربیت نفس کی ضرورت کی حد تک ہے، ذرا بھی اس سے متجاوز نہیں ہے۔۔ میاں اور بیوی کے لیے لباس کا استعارہ ایک نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ اس کے بعض پہلوٓں کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے۔۔ لباس کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے جسم کے لیے ساتر ہوتا ہے۔ اس سے اس کے عیوب برہنگی کو پردہ پوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو آدمی ننگا ہو کر حیوانات کے درجے میں آجائے۔ ٹھیک اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے جسنی جذبات و داعیات کے لیے پردہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے اندر جو صنفی میلانات ابھرتے ہیں وہ ان کی تسکین اور آسودگی کے لیے خود اپنے اندر سامان رکھتے ہیں اس وجہ سے کبھی ان کے عریاں اور بےنقاب ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ اگر یہ نہ ہو تو جذبات کا ہیجان جنسی انارکی کا ایک ایسا طوفان برپا کردے کہ کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہ رہ جائے۔ جسم کے جو حصے اپنے اندر جنسی کشش رکھتے ہیں وہ عریاں ہونے کے لیے زور لگائیں، زبان اور قلم پر فحاشی کا بخار و ہذیان طاری ہوجائے، دل ہرزہ گرد اور نگاہ بالکل آوارہ ہو کر رہ جائے۔ ہمارے نفس کے ان سارے عیوب کی پردہ پوشی اگر ہوسکتی ہے تو صرف بیوی کے لیے شوہر کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے اور شوہر کے لیے بیوی کے ذریعہ سے۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے نگاہ کو باحیا بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز نکاح کو قرار دیا ہے۔ حیا کے متعلق معلوم ہے کہ وہ خود ایک باطنی لباس ہے بلکہ سچ پوچھیے تو اصلی لباس یہی ہے، باطن کا یہی لباس ہے جس کے سبب سے ہم ظاہر کے لباس کو اختیار کرتے ہیں اور حیا قائم رکھنے میں جو مدد شوہر کو بیوی سے اور بیوی کو شوہر سے ملتی ہے وہ کسی چیز سے بھی نہیں ملتی۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ زینت ہے۔ یہ درجہ ستر پوشی کے بعد کا ہے۔ انسان لباس کے ذریعہ سے آرائش، حسن و جمال اور تہذیب و سلیقہ سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور تمدن و ترقی کے میدان میں قدم رکھتا ہے۔ غور کیجیے تو یہی چیز اس سے بلند تر درجے میں عورت کو مرد سے اور مرد کو عورت سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے علمائے عمرانیات کہتے ہیں کہ انسان نے تہذیب و تمدن کا پہلا قدم اسی دن اٹھایا جس دن پہلے مرد نے پہلی عورت سے اپنا تعلق استوار کیا۔ یہ بات اپنے اندر ایک بہت بڑی حقیقت رکھتی ہے۔۔ یہ واقعہ ہے کہ مرد کے اندر گھر کی خواہش، تجمل و تزین کا جذبہ، حصولِ مال و جائداد کا ولولہ اصلاً عورت کے تعلق ہی سے پیدا ہوا، بعد میں دوسرے عوامل کی شرکت سے اس میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح عورت کی زینت و آرائش، اس کے سگھڑ پن اور سلیقہ اور اس کی گھرداری کے جوش و انہماک میں اصلی دخل مرد کی تسخیر کی خواہش کو ہے۔ عورت اور مرد میں سے کوئی بھی اگر اپنے اس فطری محرک سے محروم ہوجائے تو ان کے تمام مذکورہ جذبات سرد پڑجاتے ہیں۔ مرد اگر بیوی سے محروم ہو تو ایک مسافر بلکہ کچھ خانہ بدوش سا بن کے رہ جاتا ہے، اسی طرح عورت اگر شوہر سے جدا یا اس سے مھروم ہو تو اس کے سارے احساسات مردہ اور اس کے سارے اسلحہ زنگ آلود اور کند ہو کے رہ جاتے ہیں۔ یہ مرد اور عورت کا باہمی ارتباط وتعلق ہی ہے جس کے صدقے میں گھریلو زندگی کی وہ تمام رونقیں اور بہاریں ہمیں نصیب ہوتی ہیں جن سے دنیا میں تہذیب و تمدن پروان چڑھے ہیں۔ لباس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہ سردی اور گرمی کی سختیوں اور دشمن کے بہت سے خطرات سے آدمی کو محفوظ رکھتا ہے۔ چناچہ قرآن میں ارشاد ہے " وعلمناہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم : اور ہم نے اس کو ایسے لباسوں کی صنعت سکھائی جو تمہیں حملہ سے محفوظ رکھے "۔ اخلاق پہلو سے ٹھیک یہی حال عورت کا مرد کے لیے اور مرد کا عورت کے لیے ہے۔ عورت مرد کے لیے زرہ اور بکتر ہے اور مرد عورت کے لیے زرہ اور بکتر ہے۔ جب یہ دونوں اپنے اپنے زرہ اور بکتر سے آراستہ اور مسلح ہوں تو شیطان کے حملے ان میں سے کسی پر بھی کارگر نہیں ہوتے اور اگر وہ اس لباس سے عاری ہو توں دونوں ہی کے لیے شیطان سے مار کھاجانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ایک عارف کا قول ہے کہ بیوی کو سفر و حضر میں گلے کا تعویذ بنآ تاکہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رہو۔۔ لباس کے یہ تینوں مقصد قرآن پاک میں مذکور ہوئے ہیں اور ان تینوں ہی اعتبارات سے عورت مرد کے لیے اور مرد عورت کے لیے لباس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے، جو دین فطرت ہے، ان کے تعلق کی اس فطری اہمیت کو ملحوظ رکھا ہے اور اس کو نہ صرف یہ کہ تقوی کے خلاف نہیں قرار دیا بلکہ، جیسا کہ اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا ہے، اس کو مختلف اعتبارات سے تقوی کا معاون قرار دیا ہے۔ چناچہ شروع شروع میں مسلمانوں نے غلط فہمی کے سبب سے، یا اہل کتاب کے طریقہ سے متاثر ہو کر، اپنے اوپر اس سلسلہ میں جو پابندی عائد کرلی تھی اس آیت کے ذریعہ سے وہ دور فرما دی گئی۔ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ : یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بعض لوگوں نے یہ گمان رکھتے ہوئے کہ رمضان میں دن کی طرح راتوں میں بھی ازدواجی تعلقات جائز نہیں ہیں، اس کی خلاف ورزی کی، اس چیز کو قرآن نے اپنے نفس کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ مشتبہ معاملات میں آدمی کو ہو پہلو اختیار کرنا چاہیے جس میں احتیاط ہو اور پھر اسی کا التزام کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو چیز اس کے اجتہاد یا گمان میں حکم شریعت ہے (اگرچہ وہ فی الواقع شریعت کا حکم نہ ہو) اس نے اس کی خلاف ورزی کی اور یہ چیز واضح طور پر اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت ہے۔ ہمارے نزدیک یہیں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ مجتہد کو اپنے اجتہاد پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر ایک چیز اس کے اجتہاد کی رو سے صحیح ہے تو پھر اس کی خلاف ورزی اس کے لیے درست نہیں ہے الا آنکہ دین ہی اس کے لیے متقاضی ہو۔ مگر یہ پابندی چونکہ منشائے الٰہی کے خلاف تھی اس وجہ سے اس خیانت پر اللہ تعالیٰ نے گرفت تو فرمائی لیکن ساتھ ہی معاف بھی فرما دی اور آئندہ کے لیے واضح الفاظ میں بیویوں سے ملاقات کی اجازت دے دی۔ " وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ : اور اللہ نے جو کچھ تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے اس کے طالب بنو " یعنی اولاد جو ازدواجی زندگی کا اصل مقصد ہے اس کے طالب بنو۔ اور یہ یاد رکھو کہ اس چیز کا تمام تر انحصار تقیدر الٰہی پر ہے نہ کہ تمہارے اختیار یا اللہ کے سوا کسی اور کے تصرف پر۔ اس چیز کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کی اصل غایت صرف لذت نہیں ہے بلکہ بقائے نسل ہے جو عین منشائے الٰہی ہے۔ اگر آدمی صرف لذت کے درپے ہو تب تو اس کا چھاپ انسان پر برا پڑ سکتا ہے لیکن اگر نگاہ اصلی غایت پر ہو تو یہ بھی عبادت ہی میں داخل ہے۔ اس زمانے میں ضبط ولادت کی تحریف اس کے بالکل برعکس ازدواجی زندگی کے اصل مقصد کی بیخ کنی کر رہی ہے اور لذت کو اصل مقصد کی اہمیت دے رہی ہے۔۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ : کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہوجائے۔ یہ چیز ہمارے روزوں کو اہل کتاب کے روزوں سے بالکل الگ کردیتی ہے۔ ان کے ہاں رات کو اٹھ کر کھانے پینے یا ازداوجی تعلقات کی اجازت نہیں تھی۔ اسلام نے نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت دی بلکہ اس کی تاکید کی ہے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ کھانے پینے کی یہ اجازت صبح صادق کے اچھی طرح نمایاں ہوجانے تک ہے، اسی بات کی تائید احادیث اور صحابہ کے عمل سے بھی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے محض احتیاط میں غلو کے سبب سے اپنے یا دوسروں کے روزے محض معمولی تقدیم و تاخیر پر مشتبہ قرار دے بیٹھنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ قرآن کے یہ الفاظ اس قدر واضح ہیں کہ تعجب ہوتا ہے کہ صحابہ کے دور میں ان کا مفہوم سمجھنے میں بعض لوگوں کو زحمت کیوں پیش آئی ؟ عدی بن حاتم ؓ کی روایت، جو تفسیر کی کتابوں میں نقل ہے کہ انہوں نے فجر کو پہچاننے کے لیے دو سیاہ وسفید دھاگے باندھ لیے اگر پوری طرح قابل اعتماد ہے تو اس کو محض ان کی اس شدت احتیاط پر محمول کرنا چاہیے جو نئے نئے اسلام لانے والوں میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ اس طرح کی باتوں کو صحابہ کی فہم و بصیرت پر طعن کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔ وَلَا تُـبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ فِي الْمَسٰجِدِ ۭ۔ عَکَفَ کے اصل معنی اپنے آپ کو کسی چیز سے روک لینے یا کسی چیز پر جما دینے کے ہیں۔ اصطلاح دین میں اس سے مراد ہر چیز سے الگ ہو کر یاد الٰہی کے لیے گوشہ نشین ہوجانا ہے۔ اسی چیز کو اعتکاف کہتے ہیں۔ قرآن کے الفاط سے واضح ہے کہ رمضان کے مہینے اور مسجد سے اس عبادت کو خاص مناسبتے ہے۔ چناچہ نبی ﷺ کے عمل اور آپ کے ارشادات سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اعتکاف سے مقصود چونکہ تبتل الی اللہ ہے اور اس میں دل کی کامل یکسوئی مطلوب ہے، نیز مسجد کا قیام اس کے لوازم میں سے ہے اس وجہ سے اس کے دوران میں بیویوں سے زن و شو کا تعلق قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا سے مراد یہ ہے کہ اللہ نفس کی آزادی کے یے جو حدیں مقرر کردیں ہیں ان کی پوری احتیاط سے نگرانی کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ اپنے آپ کو ان سے بچائے رکھنے کے لیے ذرا ان سے دور ہی دور رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ جو جانور کسی چراگاہ کے بالکل پاس پاس چرتا ہے اس کے متعلق بڑا اندیشہ ہے کہ وہ چراگاہ کے اندر جا بڑھے۔ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۔ ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ جب کسی حکم کے نزول کے بعد لوگوں کے سوال پر یا محض حالات کے اقتضا کے تحت اس حکم ہی کے متعلق کچھ مزید تفصیل نازل ہوئی ہے تو اس کے بعد بالعموم یہ آیت آئی ہے۔ اسی سورة میں اس کی بعض مثالیں آگے آرہی ہیں اس وجہ سے ہم یہاں اس کے نظائر پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس قسم کی تفصیلات سے چونکہ تقوی کے طالبوں کے لیے تقوی کی مزید راہیں کھلتی ہیں اس وجہ سے فرمایا کہ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ، تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔ روزے کا اثر انسان کی صلاحیت کار پر : اس زمانہ میں جو لوگ مغرب کے مادہ پرسانہ فلسلفہ زندگی کے سے متاثر ہیں وہ روزے کے خلاف یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس سے انسان کی صلاحیت کار اور اس کی قوت کارکردگی بہت کم ہوجاتی ہے جس سے فرد اور معاشرہ دونوں کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اعتراض کرنے والے دو بنیادی حقیقتیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان لوگوں کی نظر میں انسان کی جو کچھ قدر و قیمت ہے وہ محض اس کے ادی وجود کی ہے۔ اس کے روحانی وجود کی ان کی نگاہوں میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ان کے نزدیک جس طرح ایک فربہ بیل زیادہ ہل چلا سکتا ہے اسی طرح ایک آسودہ اور پیٹ بھرا آدمی زیادہ کام کرسکتا ہے۔ یہ لوگ سیدنا مسیح کی اس حکمت سے بالکل نا آشنا ہیں کہ " آدمی صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا جو خداوند کی طرف سے آتا ہے " اسی طرح یہ لوگ اس حقیقت سے بھی بالکل بےبہرہ ہیں جس کی طرف ہمارے نبی کریم ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے انی ابیت، لی مطعم یطعمنی وساق یسقینی، میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔ انسان اگر صرف گوشت پوست کا مجموعہ ہے تب تو بلاشبہ ان معترضین کے اعتراض کے اندر کچھ وزن ہے لیکن اگر انسان کے اندر روح نامی کوئی شے بھی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کی تازگی و توانائی کے لیے بھی کوئی غذا اور تدبیر ضروری ہے یا نہیں ؟ اگر ضروری ہے تو کیا یہی دود مکھن، جن سے ہمارے جسم کی پرورش ہوتی ہے، اس کے لیے بھی کافی ہیں یا اس کے لیے کسی اور تدبیر و غذا کی ضرورت ہے ؟ مذہب اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ انسان کے اندر روح کا جوہر ارضی نہیں بلکہ آسمانی اور خدائی ہے اس وجہ سے اس کی غذا اس زمین سے نہیں بلکہ خدا کے تعلق وتوصل اور اس کے کلام والہام سے حاصل ہوتی ہے اور اس کا تعلق خدا سے قریب تر اور قوی تر اس وقت ہوتا ہے جب یہ جسم کے (جو اس کے لیے صرف ایک مرکب کی حیثیت رکھتا ہے) تقاضوں، اس کی خواہشات اور اس کے جذبات و میلانات سے فی الجملہ آزاد ہوتی ہے۔ جب تک یہ انہی سفلی پابندیوں میں گرفتار رہتی ہے اس وقت تک یہ ان بلندیوں میں پرواز نہیں کرسکتی جو اس کی فطرت کے لحاظ سے اس کی اصلی جو لانگاہ ہیں اور جن میں پرواز کرنے ہی سے اس کے وہ شاہینی کارنامے ظہور میں آتے ہیں جو اس کی فطرت کے اندر و دیعت ہیں۔ روزہ روح کو یہ آزادی دلانے کا سب سے زیادہ مٓثر ذریعہ ہے۔ اس سے انسان کے نفس کی جو تربیت ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو یہ ہے کہ روح پر خواہشات و شہوات کا غلبہ کمزور ہوجاتا ہے، انسان کی قوت ضبط اور اس کی قوت ارادی مضبوط ہوجاتی ہے اور اس طرح اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ایک فرمانبردار غلام کی طرح ہاتھ باندھے ہوئے اپنی خواہشوں کے پیچھے پیچھے چلے وہ ایک صاحب عزم و ایمان کی طرح اپنی خواہشات جذبات کو اپنے رب کی رضا اور اس کے احکام کے پیچھے لگا دیتا ہے۔ غور کیجیے تو یہیں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ انان کے اندر قوت اور طاقت کا اصلی خزانہ اس کے جسم کے اندر نہیں بلکہ اس کے دل اور اس کی روح کے اندر ہے۔ اگر دل کمزور اور روح پراگندہ ہو تو نہایت راحت و تنعم میں پلے ہوئے جسموں کا حال یہ ہوتا ہے کہ گویا وہ لکڑی کے کندے ہیں جن کو خوب صورت پوشاک پہنا کر کھڑا کردیا گیا ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو " خشب مسندۃ " کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور ان کے خوف و بزدلی کی تصویر اس طرح کھینچی ہے کہ " یحسبون کل صیحۃ علیہم " دنیا کے کسی گوشہ میں بھی کوئی خطرہ نمودار ہو، ان کے دل دھڑکنے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ بجلی ہمارے ہی خرمن پر گرنے والی ہے۔ برعکس اس کے جن کی روح بیدار، جن کے دل پر عزم اور جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ نان جویں پر گزارہ کر کے بھی بازوئے حیدر کے کارنامے دکھاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن نے اشارہ فرمایا ہے " کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ " کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں۔ اور اسی چیز کی طرف شاعر نے بھی اشارہ کیا ہے۔ مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے۔ کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے۔۔ دوسری حقیقت جس سے یہ معترضین غفت برت رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی چیز کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ اس کے وقتی اثرات و نتائج سے نہیں لگایا جاتا ہے بلکہ اس مستقل اور پائیدار اثر سے اس کا اندازہ کیا جاتا ہے جو زندگی پر اس کا پڑتا ہے یا متوقع ہوتا ہے بشرطیکہ صحیح طور پر اس کو برتا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک دوا تقویتِ قلب و دماغ کے لیے نہایت مفید و مجرب ہو، اس کے اثرات نہایت پائیدار مترتب ہوتے ہوں، لیکن فوری طور پر اس کا رد عمل سستی یا اعضا شکنی یا خمار کی صورت میں نمایاں ہوتا ہو۔ ظاہر ہے کہ اس دوا کے اس فوری اثر کو دلیل قرار دے کر اس کو ایک مضر یا بےقیمت دوا قرار دے دینا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ ٹھیک یہی حال روزے کا ہے۔ اس کا فوری اثر، خاص طور پر خام اور نومشق لوگوں پر، تو ضرور کسل اور اضمحلال کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جس سے وقتی طور پر ان کی صلاحیت کار بھی متاثر ہوتی ہے لیکن دیکھنے کی چیز اس کا یہ وقتی اثر نہیں ہے بلکہ وہ پائیدار اثر ہے جو انسان کے ظاہر و باطن پر (بشرطیکہ اس کو ٹھیک ٹھیک برتا جائے) ، اس کا مترتب ہوتا ہے۔۔ روزے کے لیے عربی میں، جیسا کہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں، صوم کا لفظ ہے۔ اس لفظ کی لغوی تحقیق کے سلسلہ میں ہم بیان کر آئے ہیں کہ ابتدا$ً یہ لفظ ان گھوڑوں کے لیے استعمال ہوا جن کو جوانی پر آنے کے بعد، جنگ کے لیے تیار کیا جاتا اور اس تیاری کے لیے بتدریج ان کا چارہ اور دانہ کم کیا جاتا تاکہ ان کا بدن بھاگ دوڑ کے لیے سبک نکل آئے اور وہ میدانِ جنگ کی سختیوں اور بھوک پیاس کی مشقتوں کو برداشت کرنے کے لیے اچھی طرح قابل ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ گھوڑوں پر یہ عمل اس لیے نہیں کیا جاتا تھا کہ اس سے ان کی قوت کارکردگی کم ہوجائے بلکہ مقصود اس سے ان کی قوت کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہوتا تھا تاکہ وہ اپنے مقصد تخلیق کے لیے پوری طرح کار آمد ہوجائیں۔ ایک پلے ہوئے گھوڑے پر اگرچہ اس ٹریننگ کا فوری اثر اچھا نہیں پڑتا، وہ کمزور لاغر ہوجاتا ہے، لیکن ٹریننگ دینے والے اس کے اس پائیدار اثر کو نگاہ میں رکھتے ہیں جو گھوڑے کو ہر سختی و نرمی کے برداشت کے قابل بنا دیتا ہے اور جس سے وہ تھان پر بندھے ہوئے ایک پر خور جانور کے بجائے میدان جنگ کا ایک سخت کوش اور جاں باز سپاہی بن جاتا ہے۔ یہی صوم (روزہ) جو مذہب نے انسانوں کی ظاہری و باطنی تربیت کے لیے تجویز فرمایا ہے اور مقصود اس سے ان کی صلاحیت کار کو ضعیف کرنا نہیں ہے بلکہ اس صلاحیت کار کو صبر اور تقوی کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ مستحکم کردینا ہے تاکہ انسان حق کی مخالف طاقتوں کے مقابل میں، خواہ یہ طاقتیں شیطانی ہوں یا انسانی، جہاد کا اہل ہو سکے۔ قرآن اور حدیث پر نگاہ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ روزے کے بنیادی مقصد دو بیان کیے گئے ہیں۔ تقوی اور صبر، تقوی یہ ہے کہ آدمی زندگی کے ہر مرحلہ میں اور ہر قسم کے حالات میں اپنے نفس کو حدود الٰہی کا پابند رکھے۔ صبر یہ ہے کہ اس راہ میں خارج سے یا اس کے اپنے باطن سے جو مشکلات و موانع بھی سر اٹھائیں ان کا پورے عزم و جزم کے ساتھ مقابلہ کرے اور ان کے آگے سپر انداز نہ ہو۔ یہ جہاد زندگی بھر کا جہاد ہے۔ رمضان کے مہینہ میں ہر مسلمان اسی جہاد کی ٹریننگ کا فوری اثر اضمحلال اور ضعف کی شکل میں ظاہر ہوتا ہو۔ لیکن دیکھنے کی چیز یہ فوری اثر نہیں بلکہ اس کا مستقل اثر ہے۔ اس کا مستقل اثر یقیناً ، اس کو صحیح طور پر برتنے کی شکل میں، یہی ہونا چاہیے کہ انسان کی بلادت کم ہو، اس کی روح قوی ہو، اس کا دل توانا ہو، اس کی قوت ارادی مضبوط ہو، اس کی قوت برداشت بڑھ جائے، وہ جہادِ زندگانی اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پوری طرح تیار ہوجائے۔ غور کیجیے کہ یہ انسان کی صلاحیت کار کا گھٹنا ہے یا بڑھنا، ہمارے نزدیک تو جن کے اندر یہ صفات ہوں وہی درحقیقت انسانیت کے گل سرسبد ہیں۔ جن میں یہ صفات نہیں وہ آدمی نہیں بلکہ گاؤ پر داری ہیں۔ اگلی آیت 188 کا مضمون : اوپر ہم یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ روزے کے حکم سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی عزیزوں اور رشتہ داروں کے حقوق اور دوسروں کے اموال و املاک غصب کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس سے شریعت کے نظام میں روزے کا مقام واضح ہوتا ہے کہ اس عبادت کا اصل مقصود حرص و طمع، بخل اور لالچ اور اس قبیل کی دوسری بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ ان پر قابو پانے ہی سے انسان کے اندر وہ تقوی پیدا ہوتا ہے جو حقوق و معاملات میں اس کو عدل پسند اور محتاط بناتا ہے۔ گویا جن چیزوں سے بچتے رہنے کی ہدایت کی، ان سے نفس کو بچانے میں جو تدبیر سب سے زیادہ کار گر ہوسکتی ہے اس کی طرف بھی رہنمائی فرما دی۔ نیز غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ روزے کے بیان سے پہلے تو حق داروں کے لیے وصیت کرنے کی، اس وصیت میں عدل و انصاف اور پھر اس وصیت کے، ایمان داری کے ساتھ، اجراء و نفاذ کی ہدایت کی، اور روزے کے بیان کے بعد رشوت کے ذریعہ سے حکام کو خریدنے اور اس چیز کو دوسرے کے حقوق کے غصب کا ذریعہ بنانے کی ممانعت فرمائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح ایمان باللہ کی ساری قدر و قیمت اسی وقت تک ہے جب تک وہ شرک کی ملاوٹ سے پاک ہے، جہاں اس میں شرک ملا زندگی کے لیے اس کی ساری افادیت ختم ہوئی۔ اسی طرح قانون کی ساری افادیت اسی وقت تک ہے جب تک قانون کے نفاذ کے لیے دیانت دار حکام موجود ہیں اور معاشرہ رشوت کی بیماری سے پاک ہے، جہاں رشوت معاشرے میں رواج پائی بس قانون کی افادیت کا جنازہ نکلا۔ اس وضاحت کی روشنی میں غور کیجیے تو نظر آئے گا کہ گویا ایک ہی حکم کے دو پہلو یہاں مذکور ہوئے۔ ایک کا ذکر روزے سے پہلے کیا، دوسرے کا بعد میں اور روزے کا ذکر دونوں کے بیچ میں رکھ دیا تاکہ نظم کلام ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ جو شخص اپنے آپ کو ان مطامع اور ان خواہشات پر غالب کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کی تربیت روزے سے کر کے یہ چڑھائی چڑھ سکتا ہے۔ اس روشنی میں اب آگے کی آیت تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ اور اس کو حکام رسی کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اس طرح دوسروں کے مال کا کچھ حصہ حق تلفی کر کے ہڑپ کرسکو۔ در آنحالیکہ تم اس حق تلفی کو جانتے ہو۔

وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ :rnّّّّ " اکلِ اموال بالباطل " کا مطلب : اکل اموال سے مراد مجرد کھانا نہیں بلکہ اس کا ناجائز استعمال و تصرف ہے۔ باطل، حق کا ضد ہے، جس طرح حق کا لفظ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، مختلف معنوں میں آتا ہے اسی طرح اس کا ضد بھی مختلف معنوں میں آتا ہے۔ باطل ایک تو عبث اور بےمقصد کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً " رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا : پروردگار تو نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا ہے " (آل عمران :191)۔ اس کے دوسرے معنی کسی ایسی چیز کے ہیں جس کی عقل یا فطرت یا شریعت کے اندر کوئی بنیاد نہ ہو۔ مثلاً " وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ : اور انہوں نے باطل کے ذریعہ سے مخالفت کی تاکہ اس سے حق کو پسپا کریں " (غافر :5)۔ اسی طرح باطل اس طریقہ کو کہتے ہیں جو عدل، انصاف، شریعت، معروف اور سچائی کے خلاف ہو۔ اس کے تحت جھوٹ، خیانت، غصب، رشوت، سود، سٹہ، جوا، چوری اور معاملات کی وہ ساری قسمیں آتی ہیں جن کو شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ کہی گئی ہے۔ دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل آگئی ہے اور پھر مزید تفصیل احادیث میں ہے۔ اسلام میں تمام معاملات کی بنیاد اسی اصول پر ہے۔ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ : " ادلاء " کا مفہوم : " ادلاء " کے اصل معنی کنوئیں میں ڈول ڈالنے کے ہیں۔ مثلاً فرمایا ہے " فَاَدلیٰ دَلوَہ " (یوسف)۔ یہیں سے اس کے اندر رسائی اور قربت حاصل کرنے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ جس طرح رسی کے ذریعہ سے ڈول پانی تک پہنچتا ہے اسی طرح مال رشوت خور حکام تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ فرمایا کہ دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کے لیے مال کو حکام رسی کا ذریعہ نہ بناؤ۔ اس لیے کہ رشوت حصول مال کا جائز ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ اثم یعنی گناہ، حق تلفی اور غصب حقوق کا راستہ ہے۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی اس کا گناہ اور حق تلفی ہونا تمہیں معلوم ہے۔ تمام دنیا کے معروف اور ہر دین و شریعت میں اس کا گناہ ہونا مسلم رہا ہے۔ عقل کے نزدیک بھی اس کا گناہ ہونا ایک امر بدیہی ہے۔ اس جملہ کا عطف پہلے جملہ پر ہے اور چونکہ یہ پہلے جملے ہی کی وضاحت کر رہا ہے اس وجہ سے اس میں حرف " لا " کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوئی۔ اسی سورة کی آیت 42 کے تحت ہم اس اسلوب کی بقدر ضرورت تشریح کرچکے ہیں۔ رشوت کی حرمت کے مختلف پہلو : یہ آیت رشوت پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالتی ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ ناجائز طریقہ سے دوسروں کے حقوق ہڑپ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ چناچہ یہاں دوسروں کا مال ناجائز طریقہ سے کھانے کی ممانعت کے بعد خاص طور پر اسی چیز کا ذکر کیا۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ قانون، جو لوگوں کے حقوق کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس کی افادیت کا تمام تر انحصار، جیسا کہ ہم نے فصل کے شروع میں اشارہ کیا، حکام کی راست روی اور دیانت پر ہے۔ وہی قانون کے اصلی محافظ ہیں۔ اس وجہ سے اگر ان کو کسی ذریعہ سے بد دیانت بنا دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اب حقوق بکاؤ مال ہیں جس کے پاس پیسے ہوں وہ ان کو خرید سکتا ہے۔ رشوت حکام کو بد دیانت بنانے کا ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ کارگر حربہ ہے۔ دوسرا یہ کہ رشوت کی گرم بازاری میں سب سے زیادہ مؤثر عامل خود معاشرہ ہے۔ جب لوگوں میں دوسروں کے حقوق ہڑپ کرنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی غرض پوری کرنے کے لیے رشوت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح حکام کے منہ کو خون لگا دیتے ہیں۔ پھر جب ان کے منہ رشوت کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے ایسے رسیا ہوجاتے ہیں کہ وہ رشوت لیے بغیر لوگوں کو خود ان کے واجبی حقوق بھی نہیں دیتے۔ اس وجہ سے اسلام نے سب سے پہلے خود معاشرے کو یہ راہ اختیار کرنے سے روکا ہے کہ اپنے ہی پہرہ داروں کو خود اپنی ہی بد آموزی سے چور نہ بناؤ۔ اور اس معاملہ میں اتنی احتیاط برتی ہے کہ حکام کو تحفے اور ہدیے پیش کرنے اور ان کے لیے ان کے قبول کرنے کو بھی، جیسا کہ احادیث سے واضح ہے، پسند نہیں کیا اس لیے کہ یہ بھی رشوت کا ایک چور دروازہ ہے۔ تیسرا یہ کہ رشوت کا گناہ ہونا ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ اس کو سب جانتے ہیں۔ عقل اس کی گواہ ہے، فطرت انسانی اس کی شاہد ہے، دنیا کا معروف اس پر حجت ہے اور تمام مذاہب و ادیان اس کی حرمت پر متفق ہیں۔ چناچہ فرمایا کہ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور تم اس بات کو جانتے ہو)۔ اگلی آیات 189 تا 203 کا مضمون : اوپر روزے کے بیان کے ساتھ جس پہلو سے ضمناً لوگوں کے مال ہڑپ کرنے اور اس کے لیے رشوت کو ذریعہ بنانے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے، اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ اب آگے حج اور جہاد کا بیان آ رہا ہے جن کی مناسبت روزے کے ساتھ کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ حج بھی درحقیقت ایک جہاد ہے اور جہاد صبر و برداشت کی جن صفات کا متقاضی ہے وہ سب سے بہتر طریقہ پر روزے سے پیدا ہوتی ہیں۔ حج کے بیان کے سلسلہ میں سب سے پہلے ان محترم مہینوں کے احکام و آداب سے متعلق لوگوں کے سوال کو نقل کیا ہے جو حج وعمرہ کے لیے مخصوص اور اشہر حرم کے نام سے معروف ہیں۔ یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں اس وجہ سے پیدا ہوا ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو امت مسلمہ کا قبلہ اور کفار کے قبضہ سے اس کو آزاد کرانا ضروری قرار دیا ہے، جیسا کہ قبلہ کی بحث میں (آیات 142 تا 160) گزر چکا ہے، تو اس سے لازم آتا ہے کہ حج کے لیے جہاد کے مرحلہ سے گزرنا پڑے گا۔ پھر اس جہاد کے تعلق سے کئی سوالات پیدا ہوئے۔ مثلاً یہ کہ اس جہاد کی نوبت محترم مہینوں میں آئے تو اس کا حک کیا ہے ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ ان محترم مہینوں میں جنگ ہمیشہ سے ممنوعرہی ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی عرب ان کا پورا احترام کرتے رہے ہیں اور اسلام نے بھی ان کے احترام کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر اس جنگ کی نوبت عین حرم اور حدود حرم میں پیش آئے تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا کہ حرم میں جنگ تو درکنار اس میں کسی جاندار کو چھیڑنے کی بھی زمانہ قدیم سے ممانعت تھی۔ اسی طرح جہاد کے تعلق سے انفاق کا سوال بھی سامنے آیا اس لیے کہ جہاد ممکن نہیں ہے جب تک کہ لوگ جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال بھی پوری فیاضی سے راہ خدا میں خرچ کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ انفاق اس انفاق سے زائد ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ اس طرح گویا حج کے مسئلہ نے اپنے اندر حج کے مسائل و احکام کے ساتھ ساتھ گوناگوں سوالات وقت کے مخصوس حالات کی بنا پر جہاد، اشہر حرم اور انفاق وغیرہ سے متعلق بھی جمع کرلیے۔ ایک ظاہر بین جب ان مختلف قسم کے مسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ الجھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کو کلام میں بےربطی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص اس زمانہ کو پیش نظر رکھ کر اس پورے سلسلہ پر غور کرے جس زمانہ میں یہ احکام اترے ہیں تو اس کو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی کہ یہ ساری باتیں ایک ہی سلسلہ کی مربوط کڑیاں ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔