Ayah 2:228’ قروء ’ کا مفہوم :“ قروء ”قرء کی جمع ہے۔ اس کے معنی کی تعیین میں اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے اس کے معنی حیض کے لیے ہیں اور بعض نے طہر کے۔ اس کے اصل مادہ اور اس کے مشتقات پر ہم نے جس قدر غور کیا ہے اس سے ہمارا رجحان اسی بات کی طرف ہے کہ اس کے اصل معنی تو حیض ہی کے ہیں لیکن چونکہ ہر حیض کے ساتھ طہر بھی لازماً لگا ہوا ہے اس وجہ سے عام بول چال میں اس سے طہر کو بھی تعبیر کردیتے ہیں، جس طرح رات کے لفظ سے اس کے ساتھ لگے ہوئے دن کو یا دن کے لفظ سے اس کے ساتھ لگی ہوئی رات کو۔ اس قسم کے استعمال کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔
یہاں جو مسئلہ بیان ہوا ہے اس کا ظاہری قرینہ بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ‘ قروء ’ سے مراد حیض ہی ہے۔ اس لیے کہ آیت میں مطلقہ عورتوں کو جس توقف کی ہدایت ہے اس کی اصل حکمت، جیسا کہ اس آیت سے خود واضح ہے، یہ ہے کہ یہ متعین ہوجائے کہ وہ حاملہ نہیں ہیں۔
ظاہر ہے کہ حاملہ ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ اصلاً حیض ہی سے ہوتا ہے نہ کہ طہر سے۔ اس وجہ سے اس کو حیض ہی کے معنی میں لینا زیادہ اقرب ہے۔ معنی کے اس اختلاف کی وجہ سے زمانہ عدت کے تعین میں حنفیہ اور شافعیہ کے درمیان اختلاف ہوا جو فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
طلاق کی مدت کی حکمت : اصل مقصود اس تین حیض کی مدت سے چونکہ یہ متعین کرلینا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ اس چیز پر بہت سے اہم امور کا انحصار ہے اس وجہ سے ان مطلقات کے ایمان و اسلام کا یہ لازمی تقاضا ٹھہرایا ہے کہ اگر حمل کے قسم کی کوئی چیز وہ محسوس کرتی ہیں تو اس کو چھپانے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس سے ان تمام مصالح کو سخت نقصان پہنچے گا جو شریعت نے اس حکم میں عورت اور مرد اور پیٹ میں موجود بچے کے لیے ملحوظ رکھے ہیں۔ اس مدت کے دوران شوہر کو حق حاصل ہے کہ وہ اگر ساز گاری اور بحالی تعلقات کا طالب ہے تو وہ مراجعت کرسکتا ہے۔ شریعت میں میاں بیوی کے تعلق کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، اس کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں گوارا کیا گیا ہے جب سازگاری کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس وجہ سے یہ مدت رکھ دی گئی ہے جس میں دوسرے مصالح کے ساتھ یہ مصلحت بھی ہے کہ اگر طلاق کا باعث کوئی وقتی ناراضگی ہوئی ہے تو فریقین اطمینان کے ساتھ ٹھنڈے دل سے اپنے معاملے پر نظر ثانی کرسکتے ہیں لیکن قرآن نے شوہر کے اس حق مراجعت کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی لگا دی ہے کہ یہ صرف بارادہ اصلاح یعنی خوشگواری اور محبت کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ہو، اس سے ہرگز ہرگز عورت کو تنگ کرنا اور ستانا نہ ہو، ورنہ یہ اس حق کا نہایت ظالمانہ استعمال ہوگا جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
میاں اور بیوی، دونوں کے حقوق ہیں : اس کے بعد عوت اور مرد دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق کی نہایت جامع الفاظ میں وضاحت فرما دی ہے کہ شوہروں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حقوق صرف انہی کے ہیں، بیویوں کا کوئی حق ہی نہیں ہے بکہ جس طرح ان پر شوہروں سے متعلق فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اسی طرح دستور کے مطابق شوہروں پر ان کے حقوق بھی ہیں، اور یہ فرائض اور یہ حقوق دونوں بالکل متوازن ہیں۔ ہر شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ بیوی کے حقوق کا بھی لحاظ کرے، اسی لحاظ پر میاں بیوی کے سنجوگ اور ان کی ازداوجی زندگی کی خوشگواری کا انحصار ہے۔
گھر کا قَوَّام مرد ہے : البتہ یہ بات ہے کہ خاندانی نظام کے بقا و استحکام کے نقطہ نظر سے اسلام نے مرد کو عورت پر ایک درجہ ترجیح کا دیا ہے۔ اس ترجیح سے مراد، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات کی تصریحات سے واجح ہے، یہ ہے کہ خاندان کا قوام اور سرپرست اسلام نے عورت کو نہیں مبل کہ مرد ہی کو بنایا ہے۔ جس طرح ایک ریاست کا نظم ایک سربراہ کی سربراہی کا محتاج ہے، اسی طرح چھوٹے پیمانہ پر ایک گھر کا نظم بھی ایک قوَّام کی قوامیت کا محتاج ہے اور اس قوامیت کے لیے اپنی فطرت اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے مرد ہی موزوں ہے نہ کہ عورت۔ مرد کے وجوہ ترجیح پر قرآن نے دوسری جگہ دلیل دی ہے اس وجہ سے یہ بحث اپنے مقام ہی پر موزوں رہے گی۔ یہاں جس چیز کی طرف ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ قرآن کے یہ الفاظ ہیں کہ“ للرجال علیہن درجۃ ”اس کے معنی ظاہر ہیں کہ یہی ہوسکتے ہیں کہ“ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ ترجیح حاصل ہے ”۔ قرآن کے ان واضح الفاظ کی موجودگی میں ایک مسلمان کے لیے مساوات مرد و زن کے اس نظریے پر ایمان لانے کی تو کوئی گنجائش نظر نہیں آتی جو ہمارے ہاں مغرب سے در آمد ہوا ہے۔ قرآن اس امر کو تو تسلیم کرتا ہے کہ عورت پر جس درجے کی ذمہ داریاں ہیں، اسی کے ہم وزن اس کے حقوق بھی ہیں لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ عورت اور مرد دونوں ہر اعتبار سے بالکل برابر ہیں بلکہ صاف الفاظ میں مرد کو عورت پر ایک درجہ ترجیح دیتا ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہ جو فرمایا کہ“ ولھن مثل الذی علیہن بالمعروف ”تو اس کے معنی بھی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ عورت اور مرد دونوں کے حقوق برابر ہیں بلکہ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ عورت پر جس طرح ذمہ داریاں ہیں، اسی طرح اس کے حقوق بھی ہیں۔ قرآن نے اسی للرجال علیہن درجۃ کے اصول کو بنیاد قرار دے کر خاندان میں قوامیت اور سربراہی کا مقام، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، مرد کو دیا ہے اور پھر اسی پر اس نے تمام عائلی قوانین و احکام کی بنیاد رکھی ہے۔ اگر اس بنیاد کو ڈھا کر مغربی نظریہ مساوات کی اساس پر، جو ہر اعتبار سے عورت و مرد دونوں کو ایک ہی درجہ میں رکھنے کا مدعی ہے، اسلام کے عائلی قوانین کو سمجھنے اور ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو اس کوشش کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ پورا دین محرف ہو کر رہ جائے۔
‘ عزیز ’ اور ‘ حکیم ’ کی وضاحت : آیت کے اخیر میں خدا کی دو صفتوں، عزیز اور حکیم، کا حوالہ ہے، خدا عزیز ہے اس وجہ سے اسی کو حق ہے کہ وہ حکم دے اور وہ حکیم ہے اس وجہ سے جو حکم بھی اس نے دیا ہے وہ سراسر حکمت پر مبنی ہے بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے احکام کی بےچون و چرا اطاعت کریں۔ اگر وہ اس کے احکام کی مخالفت کریں گے تو اس کی غیرت و عزت کو چیلنج کریں گے اور اس کے عذاب کو دعوت دیں گے اور اگر خدا سے زیادہ حکیم اور مصلحت شناس ہونے کے خبط میں مبتلا ہوں گے تو خود اپنے ہاتھوں اپنے قانون اور نظام سب کا تیا پانچا کر کے رکھ دیں گے۔
Ayah 2:229طلاق کا صحیح طریقہ : اب یہ طلاق کا صحیح طریقہ بتا دیا کہ تمام معاشرتی زندگی کی بنیاد چونکہ نکاح کے پاکیزہ رشتے ہی پر ہے اس وجہ سے اگر کسی مجبوری کے باعث اس کے ٹوٹنے کی نوبت آئے تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی ایک ہی جھٹکے میں اس مقدس رشتے کو توڑ تاڑ کے رکھ دے بلکہ مطلقہ کے لیے جس طرح یہ ہدایت ہے کہ وہ تین حیض تک انتظار کرے اسی طرح طلاق دینے والے کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ الگ الگ دو طہروں میں دو مرتبہ میں طلاق دے اور پھر تیسرے طہر میں یا تو بیوی سے مراجعت کرلے اگر مراجعت کرنا چاہے یا اس کو رخصت کردے اگر اس کا اخری فیصلہ اس کو رخصت کردینے ہی کا ہے۔ مراجعت کی شکل میں اس کو معروف کی پابندی کی ہدایت کی گئی یعنی اس مراجعت سے مقصود بیوی کو اس طریقہ سے بیوی بنا کر رکھنا ہو جس طرح ایک شریف، مہذب اور خدا ترس آدمی بیوی کو رکھتا ہے اور جس کا بھلے لوگوں میں چلن ہے، مقصود اس سے بیوی کو معلق رکھنا اور دکھ دینا نہ ہو۔ رخصت کرنے کی شکل میں اس کو احسان کی ہدایت ہوئی کہ ہرچند اب اس کا بیوی کی حیثیت سے کوئی حق باقی نہ رہا لیکن مرد کی مردانگی اور فتوت کی شان یہی ہے کہ جس کے ساتھ مہر و محبت کے روابط رہ چکے ہوں اور جو ایک صنف ضعیف بھی ہے اس کو حسب توفیق دے دلا کر خوب صورتی کے ساتھ رخصت کرے۔
مطلقہ کے لیے تین حیض تک توقف میں جس طرح بہت سی مصلحتیں ہیں اسی طرح طلاق دینے والوں کے لیے مذکورہ ترتیب کے ساتھ طلاق دینے میں بہت سی مصلحتیں ہیں اسی طرح طلاق دینے والوں کے لیے مذکورہ ترتیب کے ساتھ طلاق دینے میں بہت سی برکتیں ہیں جن سے وہ لوگ محروم ہوجاتے ہیں جو غصہ اور جوش کی حالت میں شریعت کی اس ہدایت کی پیروی نہیں کرتے اور ایک ہی سانس میں تین یا اس سے زیادہ طلاقین دے ڈالتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ عموماً اپنے کیے پر زندگی بھر پچھتاتے ہیں لیکن ان کا یہ پچھتانا بالکل بےسود ہوتا ہے۔ شریعت نے یہ طریقہ اسی لیے بتایا ہے کہ ازدواجی رشتہ ایک نہایت اہم رشتہ ہے، اس کا ٹوٹنا نہیں بلکہ تاحد امکان اس کا جڑا رہنا مطلوب ہے، اس وجہ سے اس کے متعلق کوئی فیصلہ غصہ یا عجلت میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ سوچ سمجھ کر ٹھنڈے دل سے ہونا چاہئے، اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مذکورہ ہدایت پر عمل کیا جائے۔
وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا (اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم ان کو جو کچھ دیا دلایا ہو وہ ان سے واپس لے لو) سے ظاہر ہے کہ نان نفقہ اور مہر وغیرہ کی قسم کی چیزیں مراد نہیں ہوسکتیں اس لیے کہ یہ چیزیں تو عورت کا حق ہیں، ان کو واپس لینے یا کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس وجہ سے اس سے لازماً وہ چیزیں مراد ہیں جو بطور تحفہ وغیرہ دی گئی ہوں۔ ان چیزوں کے بارے میں فرمایا کہ طلاق ہوجانے کے بعد مرد کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ ان کا حساب کتاب کرنے بیٹھ جائے۔ اس ممانعت کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ اس قسم کی خست اس فتوت اور بلند حوصلگی کے منافی ہے جو ایک مرد میں ہونی چاہیے، چناچہ عورتوں کے معاملے میں قرآن نے مردوں کو اس فتوت کی طرف ایک سے زیادہ مقامات میں توجہ دلائی ہے، خاص طور پر تعلقات کے منقطع ہوجانے کی صورت میں، مثلاً“ ولا تعضلوھن لتذھبوا ببعض ما اتیتموھن : اور ان کو اس مقصد سے تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا تھا اس کو واپس لے سکو ”(نساء :19)۔ دوسری جگہ ہے“ وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض و اخذن منکم میثاقا غلیظا : اور تم ان سے کس طرح لوگے جب کہ تم ایک دوسرے کی طرف محبت سے بڑھ چکے ہو اور وہ تم سے نہایت مضبوط عہد لے چکی ہیں ”(نساء :21)۔ اور اسی بقرہ میں آگے مردوں کو خطاب کرے یہ آیت آرہی ہے“ وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ : اور یہ کہ عورت کی طرف سے معافی کے خواہشمند ہونے کے بجائے تم اپنا حق چھوڑو، یہ زیادہ تقوی سے قریب ہے اور تم میں سے ایک کو دوسرے پر جو ترجیح حاصل ہے اس کو نہ بھولو ”(بقرہ :237)۔
خلع کے احکام : اس کے بعد وہ شکل بیان ہوئی ہے جو اس ممانعت سے مستثنی ہے، یہ وہ شکل ہے جب کہ بیوی کو بھی میاں سے ایسا اختلاف ہو کہ صاف نظر آ رہا ہو کہ ازدواجی زندگی نباہ کے لیے جن حدود وقیود کی نگہداشت ضروری ہے ان کو فریقین ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو اس امر میں کوئی حرج نہیں ہے کہ بیوی کوئی مال یا رقم فدیہ کے طور پر دے کر ایسے میاں سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ شریعت کی اصطلاح میں اس کو خلع کہتے ہیں۔ اس صورت میں چونکہ غالب مصلحت عورت کی ہوتی ہے اس وجہ سے کمزور عنصر ہونے کے باوجود اس معاوضہ کو لینے کی اجازت دی گئی۔
قرآن کے الفاظ سے اس خلع کے متعلق دو باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ 1۔ ایک تو یہ کہ اگر میاں بیوی آپس میں کوئی بات طے نہ کرسکیں تو عورت لازماً یہ معاملہ عدالت میں لے جاسکتی ہے اور عدالت خلع اور معاوضہ دونوں کا فیصلہ کرے گی۔ اس کا ثبوت فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ (پس اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ میاں بیوی اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو۔۔۔) سے ملتا ہے۔ اس میں خِفْتُم کا خطاب ظاہر ہے کہ اسلامی معاشرہ سے بحیثیت مجموعی ہے اور معاملات و نزاعات میں معاشرے کی مداخلت عدالت ہی کے واسطے سے ممکن ہے۔ 2۔ دوسری یہ کہ خلع یا فسخ نکاح کے مطالبہ کا حق عورت کو اسی صورت میں ہے جب یہ ثابت ہوسکے کہ ازدواجی زندگی میں جن حدود اللہ کا قیام مطلوب ہے مرد ان کو قائم رکھنے کے قابل نہیں یا ان کو قائم نہیں رکھنا چاہتا اور عورت کے لیے ان کے قیام کے بغیر حدود اللہ پر قائم رکھنے کے قابل نہیں یا ان کو قائم نہیں رکھنا چاہتا اور عورت کے لیے ان کے قیام کے بغیر حدود اللہ پر قائم رہنا ناممکن یا دشوار ہے۔ اس کا ثبوت اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ سے ملتا ہے۔ اگر اختلاف محض ذوقی اور سطحی نوعیت کا ہے جس کو انگیز کیا جاسکتا ہے تو ایسی صورت میں عورت کو خلع یا فسخ نکاح کا مطالبہ لے کر نہیں اٹھنا چاہئے۔ اگر چھوٹی چھوٹی ابتوں پر بھی عورت کو یہ حق استعمال کرنے کی راہ کھول دی جائے تو اس سے خاندانی نظام کی چولیں ہل جائیں گی در آنحالیکہ خاندان کے اس نظام ہی کو اسلام میں سیاسی نظام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ معاملے کی اس اہمیت کی وجہ سے خلع یا فسخ نکاح کے مطالبے کی شکل میں عدالت یہ دیکھے گی کہ کیا فی الواقع صورت معاملہ ایسی ہے کہ فریقین کے لیے نباہ ناممکن یا دشوار ہے یا محض کندھا بدلنے اور ذائقہ تبدیل کرنے کی خواہش ہے جس کے تحت عورت نے مرد کو عدالت میں کھینچ بلایا ہے۔
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ الایہ : یہ ان تمام احکام و ہدایات سے متعلق ہے جو آیت (222) سے لے کر یہاں تک بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ تمہاری ازدواجی زندگی سے متعلق خدا کی حدبندیاں ہیں، جس طرح تم اپنے رقبوں اور اپنی چراگاہوں کے اردگرد حدبندیاں کرتے ہو اور یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان حدوں کو توڑے اور اگر کوئی ان حدود میں مداخلت کرتا ہے تو تم اس کو اپنی ملکیت میں مداخلت اور اپنی عزت و غیرت کے لیے ایک چیلنج سمجھتے ہو اسی طرح خدا نے بھی اپنے محارم کے ارد گرد یہ حدیں قائم کردی ہیں، تم ان سے باہر آزاد ہو لیکن ان کے اندر تمہیں مداخلت کی اجازت نہیں ہے، اگر کسی نے ان حدوں کو توڑنے یا لانگنے کی جسارت کی تو وہ یاد رکھیں کہ وہی لوگ ظالم ہیں۔ یعنی اس کے نتیجے میں جو کچھ اس دنیا میں یا آخرت میں ان کے سامنے آئے گا اس کی ساری ذمہ داری خود انہیں پر ہے، خدا پر نہیں ہے اور اس سے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھائیں گے خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ خدا کے قوانین تمام تر فطرتِ انسانی کے تقاضوں اور بندوں کے اپنے مصالح پر مبنی ہیں اسی وجہ سے جو لوگ ان کو توڑتے ہیں وہ اپنی ہی فطرت اور اپنے ہی مصالح کی دھجیاں خود اپنے ہی ہاتھوں بکھیرتے ہیں۔
Ayah 2:230ایک پر حکمت پابندی : آخری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو یہ اس کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے اور وہ اس کو طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں ہوسکتی۔ جس طرح اوپر والا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ طلاق کا فیصلہ غصہ یا عجلت میں نہ کیا جائے اسی طرح اس پابندی سے مقصود طلاق کو ایک سہل کھیل بنانے سے بچانا ہے۔ اگر طلاق کے بعد بھی طلاق دینے والے کے لیے اس عورت سے نکاح کی آزادی باقی رہتی تو بہت سے لوگ طلاق کی حقیقی اہمیت نہ سمجھ سکتے لیکن جب یہ پابندی لگ گئی کہ چھوڑی ہوئی بیوی دوبارہ اسی صورت میں مل سکتی ہے جب وہ کسی اور کی بیوی بنے اور وہ کسی سبب سے چھوڑے اور عورت اس سے نکاح پر راضی ہو تو گویا بیچ میں ایک پورا ہفتخواں حائل ہوگیا، ظاہر ہے کہ اب اس پابندی کے سامنے آجانے کے بعد جو طلاق دے گا وہ سو بار سوچ کر طلاق دے گا اور اسلام کا منشا یہی ہے کہ جو بھی طلاق دے وہ خوب سوچ سمجھ کر طلاق دے، دور تک سارے نتائج کو سامنے رکھ کر۔
لفظ نکاح عقد نکاح کے مفہوم میں : حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ میں نکاح کا لفظ ہمارے نزدیک عقد نکاح ہی کے معنی میں ہے۔ جن لوگوں نے اس کو وطی کے معنی میں لیا ہے انہوں نے ایک غیر ضروری سا تکلف کیا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ یہ معنی لینے سے بھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہاں اس لفظ کا طریق استعمال اس معنی سے ابا کر رہا ہے۔ یہاں تَنْکِحَ کا فاعل ظاہر ہے کہ عورت ہے، اگر اس کے معنی وطی کے لیے جائیں تو اس کا ترجمہ ہوگا کہ“ یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے وطی کرے ”۔ وطی کرنا مرد کا کام ہے نہ کہ عورت کا۔ اور اگر یہ ترجمہ کریں کہ یہاں تک کہ“ وہ کسی اور شوہر سے وطی کرائے ”تو اس نادر معنی کے لیے ثبوت کہاں سے لائیں گے ؟
نکاح کا اصل مقصد : اصل یہ ہے کہ لفظ نکاح شریعتِ اسلامی کی ایک معروف اصطلاح ہے جس کا اطلاق ایک عورت اور مرد کے اس ازدواجی معاہدہ پر ہوتا ہے جو زندگی بھر کے نباہ کے ارادے کے ساتھ زن و شو کی زندگی گزارنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ارادہ کسی نکاح کے اندر نہیں پایا جاتا تو وہ فی الحقیقت نکاح ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک سازش ہے جو ایک عورت اور ایک مرد نے باہم مل کر کرلی ہے۔ نکاح کے ساتھ شریعت نے طلاق کی جو گنجائش رکھی ہے تو وہ اصل اسکیم کا کوئی جزو نہیں ہے بلکہ یہ کس ناگہانی افتاد کے پشی آجانے کا ایک مجبورانہ مداوان ہے۔ اس وجہ سے نکاح کی اصل فطرت یہی ہے کہ وہ زندگی بھر کے سنجوگ کے ارادے کے ساتھ عمل میں آئے۔ اگر کوئی نکاح واضح طور پر محض ایک معین و مخصوس مدت تک ہی کے لیے ہو تو اس کو متعہ کہتے ہیں اور متعہ اسلام میں قطعی حرام ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس نیت سے کسی عورت سے نکاح کرے کہ اس نکاح کے بعد طلاق دے کر وہ اس عورت کو اس کے پہلے شوہر کے لیے جائز ہونے کا حیلہ فراہم کرے تو شریعت کی اصطلاح میں یہ جلالہ ہے اور یہ بھی اسلام میں متعہ ہی کی طرح حرام ہے۔ جو شخص کسی کی مقصد برآری کے لیے یہ ذلیل کام کرتا ہے وہ درحقیقت ایک قرم ساق یا بھڑوے یا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے“ کرایہ کے سانڈ ”کا رول ادا کرتا ہے اور ایسا کرنے والے اور ایسا کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
‘ متعہ ’ اور ‘ حلالہ ’ میں فرق : البتہ متعہ اور حلالہ میں اس اشتراک کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا فرق بھی ہے۔ وہ یہ کہ متعہ صریح طور پر ایک متعین مدت کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے متعلق واضح طور پر ایک فقیہ یہ حکم لگا سکتا ہے کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوا لیکن حلالہ کی نوعیت ایک درپردہ سازش کی ہوتی ہے، اس کے متعلق کوئی ظاہری ثبوت اس بات کا موجود نہیں ہوتا کہ نکاح کے نام سے یہ اللہ کی شریعت کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے اللہ کے نزدیک تو یہ نکاح اور یہ طلاق سب باطل ہوگا لیکن ایک فقیہ جو صرف ظاہر حالات کو سامنے رکھ کر فتوی دینے پر مجبور ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس طرح کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ چناچہ اسی بنیاد پر بعض فقہا اس کے انعقاد کو مانتے ہیں اور مجھے ان کی یہ بات قوی معلوم ہوتی ہے۔
ایک بےدلیل بات : رہی یہ بات کہ ایسی عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے صرف اس صورت میں جائز ہوگی جب اس کا دوسرا شوہر اس کو وطی کے بعد طلاق دے تو کم از کم اس وطی کے لیے قرآن سے کوئی ثبوت نہیں نکلتا۔ تَنْکِحَ کے لفظ سے جو دلیل دی جاتی ہے اس کا بےبنیاد ہونا، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بالکل واضح ہے، پھر دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ فعل وطی کے واقع ہوجانے سے حلالہ کی سنگینی اور اس کی ملعونیت میں کیا کمی ہوجائے گی ؟ اگر ایک نکاح حلالہ کی سازش کے تحت ہوا ہے تو اس بات سے اس کی نوعیت میں کیا فرق پیدا ہوتا ہے کہ طلاق قبل از وطی دی گئی یا بعد از وطی ؟ اگر بغیر وطی کے دی گئی تو یہ بھڑوا پن ہے اور اگر وطی کے بعد دی گئی تو ایسے شخص کو حدیث کے الفاظ میں“ تیس مستعار ”یعنی کرائے کا سانڈ سمجھیے، بہرحال دونوں ہی صورتوں میں یہ نکاح و طلاق کا ڈرامہ شریعت الٰہی کے ساتھ ایک مذاق ہوا۔ اس آیت میں ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عورت فی الواقع زندگی بھر کے نباہ کے ارادہ کے ساتھ کسی دوسرے شوہر کے حبالہ عقد میں داخل ہو اور یہ دوسرا شوہر اسی طرح کی کسی مجبوری کے تحت اس کو طلاق دے جس طرح کی مجبوریوں میں کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے۔ اگر یہ صورت ہوگی تو بلاشبہ یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔ لیکن اگر اس نکاح و طلاق میں کسی سازش کو دخل ہے تو یہ نکاح و طلاق اور اس کے سارے شرکاء عند اللہ ملعون و مغضوب ہیں، اس سے کچھ بحث نہیں کہ یہ سب کچھ وطی کے بعد ہوا ہے یا وطی کے بغیر۔
یہ مسئلہ در حقیقت پیدا ایک حدیث کی بنا پر ہوا ہے، قرآن سے اس کے لیے استدلال تو محض ایک نکتہ بعد الوقوع ہے، لیکن ہمارے نزدیک حدیث سے جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت کمزور ہے۔ حدیث کے مختلف طریقوں کو جمع کر کے جو نتیجہ سامنے آتا ہے ہم نے دیکھا ہے کہ وہ قرآن کے بالکل موافق ہے۔ اگر ہم نے اپنی اس کتاب میں فقہی مباحث کے لیے ایک خاص حد نہ مقرر کرلی ہوتی تو ہم اس حدیث پر بھی تفصیل کے ساتھ بحث کر کے دکھاتے کہ اصل حقیقت کیا بیان ہوئی ہے اور لوگوں نے اس کو کیا بنا دیا ہے لیکن یہ بحث ہمارے دائرہ سے باہر ہے۔
آگے فرمایا کہ دوسرے شوہر سے طلاق مل جانے کے بعد اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ دونوں سابق میاں بیوی آپس میں پھر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجائیں بشرطیکہ یہ توقع رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اس تنبیہ کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ نکاح و طلاق بہرحال بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ جب بھی عمل میں آئے، سچے ارادے اور سازگاری کی مخلصانہ خواہشوں کے ساتھ ہی عمل میں آئے۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ نے اپنی مقرر کی ہوئی حدوں کو اچھی طرح لوگوں کے لیے واضح کردیا ہے کہ جو لوگ حدود الٰہی کے علم کے طالب ہیں ان کی قدر کریں اور ان کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچیں۔ يَّعْلَمُوْنَ کا ترجمہ ہم نے“ جو لوگ علم کے طالب ہیں ”کیا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ عربی میں فعل کے استعمالات کے مواقع پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فعل جس طرح اپنے ظاہری یا ابتدائی معنی کے لیے آتا ہے یا جس طرح اپنے کامل اور حقیقی معنی کے لیے آتا ہے اسی طرح ارادہ فعل اور طلب فعل کے لیے بھی آتا ہے اور امتیاز ان کے درمیان موقع کلام اور سیاق وسباق سے ہوتا ہے۔
Ayah 2:231شریعت الٰہی سے مذاق کا انجام :
ایک مطلقہ کے لیے انتظار کی جو مدت شریعت نے مقرر کی ہے وہ آیت 228 میں بتا دی گئی ہے اور آیت 229 میں طلاق کا صحیح طریقہ بھی بتا دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ تیسرے طہر میں یا تو دستور کے مطابق بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کرلو اور اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر حسن و خوبی کے ساتھ اس کو رخصت کردو۔ اب اس آیت میں اس امر کی مزید وضاحت فرما دی کہ“ دستور کے مطابق روکنے ”سے شریعت کا کیا منشا ہے ؟ اس منشا کی وضاحت یوں فرمائی کہ یہ روکنا ہرگز ہرگز اس ارادے کے ساتھ نہ ہو کہ اس طرح بیوی تمہارے پنجہ ستم میں اسیر رہے اور تم اس کو اپنی خواہش کے مطابق اذیت پہنچا سکو۔ مثبت پہلو سے بات اوپر کہہ چکنے کے بعد منفی پہلو سے بھی اس کی وضاحت اس لیے کردی گئی کہ ظالم لوگ طلاق اور طلاق کے بعد مراجعت کے شوہری حق کو اس ظلم کے لیے استعمال کرسکتے تھے حالانکہ یہ صریح اعتداء یعنی اللہ کے حدود سے تجاوز اور اس کی شریعت کو مذاق بنانا ہے۔ فرمایا کہ جو ایسی جسارت کرتے ہیں بظاہر تو وہ ایک عورت کو نشانہ ظلم بناتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ظلم اپنی جان پر کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے حدود کو پھاندنے اور اس کی شریعت کو مذاق بنانے کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں ایک برگزیدہ امت کے منصب پر سرفراز فرمایا، تمہاری ہدایت کے لیے تمہارے اندر اپنا نبی بھیجا، تمہیں خیر و شر اور نیک و بد سے آگاہ کرنے کے لیے تمہارے اوپر اپنی کتاب اتاری جو قانون اور حکمت دونوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد اگر تم نے ان کا یہی حق ادا کیا کہ خدا کے حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو سوچ لو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوسکتا ہے ! پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ وہ تمہاری ہر بات سے باخبر ہے، یعنی وہ لوگوں کی شرارتوں کے باوجود ان کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن جب وہ پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی چھوٹ نہ سکے گا۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ شریعت کو مذاق بنانے سے صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جائے بلکہ اس کی ایک نہایت سنگین شکل یہ بھی ہے کہ ظاہری اعتبار سے تو کام ایسا کیا جائے کہ اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جاسکے لیکن مقصد و منشا کے لحاظ سے وہ کام شریعت کے مقصد کے بالکل خلاف ہو، مثلاً تیسرے طہر میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مراجعت کرلے تو ازروئے شریعت اس کو اس کا حق تو حاصل ہے لیکن اگر اس سے اس کا مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اللہ کی آیات کے پردے میں اللہ ہی کی مخالفت کی ظاہر ہے کہ یہ اللہ اور اس کی شریعت کے ساتھ صریح مذاق ہے۔
اگلی آیات 232 تا 237 کا مضمون : نکاح و طلاق سے متعلق جو مضمون اوپر بیان ہوا اسی سلسلے کی مزید ہدایات آگے بیان ہورہی ہیں۔
Ayah 2:232‘ عضل ’ کا مفہوم :‘ عضل ’ کے معنی رکاوٹ پیدا کرنے اور اڑنگے ڈالنے کے ہیں اور اَزْوَاجَهُنَّ میں ازواج مراد ان کے وہ ہونے والے شوہر ہیں جن سے آئندہ وہ نکاح کرنے کی خواہش مند ہیں۔
مطلقہ کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے : جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں پسند کرے نکاح کرے۔ اس کے ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کرنی چاہیے، عام اس سے کہ یہ رکاوٹ صریح ممانع کے قسم کی ہو اندرونی سازش اور جوڑ تور کی نوعیت کی۔ بعض خاندانوں اور برادریوں میں یہ جہالت پائی جاتی ہے کہ اگر ان کے اندر کوئی عورت بیاہی جا چکی ہو تو اس کے طلاق پا جان یا اس کے شوہر کے وفات پا جانے کے بعد بھی یہ لوگ برداشت نہیں کرتے کہ ایسی عورت کہیں اور نکاح کرے، اس میں وہ اپنی توہین خیال کرتے ہیں اور طرح طرح کے اڑنگے اس کے راستے میں ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے سبب سے بسا اوقات قتل و فساد کے نہایت سنگین حادثے ہوجاتے ہیں۔ جس طرح یہ جہالت ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے، اسی طرح عرب میں بھی پائی جاتی تھی قرآن نے اس سے روکا کہ جس نے ایک عورت کو طلاق دے چھوڑی اب اسے اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کا کوئی حق نہیں رہا، وہ جہاں چاہے اور جس کے ساتھ اس کا معاملہ طے پا جائے اگر معاملہ دستور کے مطابق طے پایا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔
‘ دستور کے مطابق ’ سے مراد یہاں عرب کے شرفاء کا وہ رواج و دستور ہے ج کو اسلام نے برے رواجوں سے پاک کر کے اسلامی شریعت کا جزو بنا لیا تھا اور بہت سے معاملات میں لوگوں کو انہی پر عمل کرنے کی یا تو ہدایت کی یا ان پر عمل کی آزادی دے دی۔ یہاں معاملہ طے کرنے کے لیے معورف کی جو شرط لگائی ہے تو اس سے مقصود یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاملہ طے کرنے میں کوئی ایسی بات نہ کریں جو شریف خاندانوں کی روایات کے خلاف ہو اور جس سے سابق شوہر یا ہونے والے شوہر یا خود عورت کے خاندان کی عزت و شہرت کو بٹہ لگنے کا اندیشہ ہو۔
فرمایا کہ یہ نصیحتیں ان لوگوں کو کی جا رہی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی جن لوگوں کے اندر خدا اور آخرت پر ایمان موجود ہے ان کے ایمان کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان نصیحتوں پر عمل کریں۔ پھر فرمایا کہ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے۔ یعنی اگر عورت کی حسب مرضی نکاح کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اس سے خاندان اور پھر معاشرے میں بہت سی برائیاں پھیلنے کے اندیشے ہیں۔ یہیں سے خفیہ روابط، پھر زنا، پھر اغوا اور فرار کے بہت سے چور دروازے پیدا ہوتے ہیں اور ایک دن ان سب کی ناک کٹ کے رہتی ہے جو ناک ہی اونچی رکھنے کے زعم میں فطری جذبات کے مقابل میں بےہودہ رسوم کی رکاوٹیں کھری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر میں فرمایا ‘ کہ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ’ یعنی تمہارا علم اور تمہاری نظر بہت محدود ہے، تمہارے لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز کو سمجھ لینا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے جو کچھ تمہیں خدا کی طرف سے حکم دیا جا رہا ہے اس پر عمل کرو۔
Ayah 2:233رضاعت سے متعلق مسائل : اس آیت میں ضاعت سے متعلق اکٹھے بہت سے مسائل بیان ہوگئے ہیں جو بالترتیب یہ ہیں۔
1۔ مطلقہ پر اپنے بچے کو پورے دو سال دودھ پلانے کی ذمہ داری ہے اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ عورت یہ رضاعت کی مدت پوری کرے۔
2۔ اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے اور اس معاملہ میں دستور کا لحاظ ہوگا یعنی شوہر کی حیثیت، عورت کی ضروریات، اور مقام کے حالات پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طور پر کیا دیا جائے۔
3۔ فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، نہ بچے کے بہانے سے ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی ناروا دباؤ ڈالا جائے گا۔
4۔ اگر بچے کا باپ وفات پا چکا ہو تو بیعنہ یہی پوزیشن مذکورہ ذمہ داریوں اور حقوق کے معاملے میں اس کے وارث کی ہوگی۔
5۔ اگر باہمی رضا مندی اور مشورہ سے دو سال کی مدت کے اندر ہی اندر بچے کا دودھ چھڑا دینے کا عورت مرد فیصلہ کرلیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔
6۔ اگر باپ یا بچے کے ورثا بچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہیں بشرطیکہ بچے کی والدہ سے دینے دلانے کی جو قرار داد ہوئی ہے وہ پوری کردی جائے۔
آخر میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب خدا کے سامنے کرتے ہو، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں رہتی۔
مذکورہ بالا معاملات عام حالات میں تو عورت اور مرد اور متعلقہ خاندان کے ذمہ داروں کے خود طے کرلینے کے ہیں لیکن اگر کوئی نزاع پیدا ہوجائے تو انہی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر پنچائتیں اور عدالتیں فیصلہ کردیں گی۔
Ayah 2:234بیوہ کی عدت : اگر کسی عورت کے شوہر کی وفات ہوجائے تو ایسی عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے (اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل) عام مطلقہ کی نسبت سے بیوہ کی عدت میں یہ اضافہ استبرائے رحم، عورت کی سہولت اور سوگ وغیرہ کی مختلف مصلحتوں سے ہے۔ عورت کمزور فریق، نازک دل اور شدید الاحساس ہونے کی وجہ سے شوہر کے صدمہ کو محسوس بھی زیادہ کرتی ہے اور حالت بیوگی میں وہ ہمدردی کی محتاج بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کا زمانہ عدت زیادہ رکھا گیا ہے تاکہ شوہر کی وفات کے صدمے کے ساتھ ساتھ معاً اس کو شوہر کی ڈیوڑھی چھوڑنے کا صدمہ بھی نہ اٹھانا پڑجائے۔ چناچہ اسی مصلحت کے تحت آگے اسی آیت کی مزید توضیح کے طور پر ایک عارضی ہدایت یہ بھی ہوئی کہ“ وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ښ وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ: اور جو تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ رہے ہوں، وہ اپنی بیویوں کے لیے وصیت کرجائیں کہ انہیں گھر سے نکالے بغیر ایک سال تک نان و نفقہ دیا جائے اور اگر وہ خود نکلیں تو جو کچھ وہ اپنے معاملے میں دستور کے مطابق کریں اس میں تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ غالب اور حکیم ہے ”(بقرہ :240)۔
مذکورہ عدت گزار چکنے کے بعد وہ آزاد ہیں کہ اپنے معاملہ میں دستور کے مطابق جو قدم مناسب خیال کریں اٹھائیں۔ اس کے بعد نہ اولیاء پر کوئی الزام ہے اور نہ انہی پر کوئی الزام ہے، اگر انہوں نے معروف کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غیر شرعی رسوم کو شریعت کا درجہ دے کر خواہ مخواہ ایک دوسرے کو مورد طعن و الزام نہیں بنانا چاہئے۔ نہ شوہر کے وارثوں اور عورت کے اولیاء کو یہ طعنہ دینا چاہئے کہ عورت اپنے شوہر کا پورا سوگ بھی نہ مناچ کی کہ وہ اس سے تنگ آگئے اور نہ عورت کو یہ طعنہ دینا چاہئے کہ ابھی شوہر کا کفن بھی میلا نہ ہونے پایا تھا کہ یہ شادی رچانے اٹھ کھڑی ہوئی۔ خدا نے جو حدود مقرر کردیے بس انہیں کی پابندی کرنی چاہیے اور اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ بندوں کے ہر عمل سے باخبر ہے۔
عورت کے لیے معروف کی پابندی کی جو شرط لگائی ہے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نکاح کے معاملے میں کفو کا بھی لحاظ ہونا چاہئے تاکہ متعلق خاندانوں کی وجاہت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
Ayah 2:235اسلامی معاشرے میں جذبات کا احترام : اسلامی معاشرے میں ایک دوسرے کے جذبات کے لحاظ و احترام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس وجہ سے ممانعت فرمائی گئی کہ اگر کوئی انتقال کر جائے تو کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوہ سے اس کے زمانہ عدت ہی میں نکاح کی پینگیں بڑھانا شروع کردے۔ اپنے ایک مرحوم بھائی کے لیے ایک حساس اور دردمند بھائی کے اندر جو جذبات ہونے چاہئیں، یہ بات اس کے بھی منافی ہے اور ایک غمزدہ بیوہ کے جذبات کا ایک شریف آدمی کو جو لحاظ ہونا چاہیے یہ اس کے بھی خلاف ہے۔ مسلمانوں کا معاشرہ رحماء بینہم کا معاشرہ ہے، جانوروں کا گلہ نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر کوئی شخص بیوہ سے نکاح کا طلب ہو تو وہ یہ تو کرسکتا ہے کہ کوئی کلمہ بطور اشارہ زبان سے نکال دے یا اپنے دل میں نکاح کا ارادہ کرے لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ پوشیدہ طور پر نکاح کا قول وقرار کرلے۔ بس تعزیت و ہمدردی تک بات محدود رہنی چاہئے جو اس طرح کے حالات کے لیے معروف ہے، اگر اس ہمدردی کے سلسلہ میں کوئی کلمہ ایسا تراوش کردی جائے جو غمازی کردے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ بطور جملہ معترضہ ہے اور مقصود اس سے تنبیہ ہے کہ دلوں کے مخفی ارادوں کے متعلق یہ گمان نہ رکھ کہ یہ خدا سے مخفی رہتے ہیں۔ خدا خوب جانتا ہے کہ تم اس ارادے کو ظاہر کرو گے، سو ظاہر کرو تو اس طرح نہ کرو کہ وہ قول وقرار اور عہد و پیمان کی شکل اختیار کرلے بلکہ اسی انداز میں ہو جو اس طرح کے حالات کے لیے پسندیدہ اور دستور کے موافق ہے۔
کتاب کا لفظ ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں کہ قرآن میں کسی متعین شرعی قانون کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد چار ماہ دس دن کی عدت کا وہ قانون ہے جو ایک بیوہ کے لیے اوپر بیان ہوچکا ہے۔ کسی خاص قانون کو کتاب کے لفظ سے تعبیر کرنا اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ فرمایا کہ جب تک قانون کی مدت پوری نہ ہوجائے اس وقت تک عقد نکاح کا عزم نہ کرو۔
اخیر میں اپنی صفت علم کا حوالہ دیا جس کی یاد داشت ہی پر خدا کے قوانین کا صحیح احترام مبنی ہے۔ اور ساتھی ہی فرمایا کہ خدا سے ڈرتے رہو، اس کی ڈھیل سے دھوکے میں نہ پڑو، وہ غفور اور بردبار ہے اس وجہ سے درگزر کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 2:236اہل احسان پر ایک حق : اس آیت میں ‘ لاجناح علیکم ’ کا تعلق ایک محذوف سے ہے۔ پوری بات یوں ہے کہ اگر صورت یہ ہو کہ ایک شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دے کہ اس نے ابھی اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کیا ہو نہ اس کے لیے مہر ہی مقرر کیا ہو تو ایسی صورت میں در باب مہر اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ مہر کے بجائے اسے چاہئے کہ وہ دستور کے مطابق اس کو کچھ دے دلا کر رخصت کرے۔ دستور کے موافق سے مراد یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی حد معین نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار آدمی کے معیار زندگی پر ہے۔ ایک غریب اپنی وسعت کے مطابق دے، امیر اپنی وسعت کے مطابق۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی بنانے اور سنوارنے کے خواہش مند ہیں اور اہل احسان کے زمرے میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان پر یہ ایک حق ہے۔
Ayah 2:237یہ اوپر کی صورت سے مختلف ایک صورت بیان ہو رہی ہے۔ وہ یہ کہ مہر تو طے شدہ ہے لیکن طلاق ملاقات سے پہلے ہی دے دی گئی۔ ایسی صورت میں مقررہ مہر کا نصف دینا ہوگا۔ البتہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو الگ بات ہے یا مرد اپنا حق چھوڑ دے یعنی نصف کے بجائے پورا مہر ادا کردے۔ اگرچہ ایک محرک عورت کے لیے بھی مہر چھوڑنے کا موجود ہے کہ شوہر نے ملاقات سے پہلے ہی طلاق دی ہے لیکن قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہش مند نہ ہو بلکہ اس میدانِ ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلوؤں سے ابھارا ہے۔ ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ نکاح کی گرہ کو جس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے اسی طرح اس کو کھونے کا بھی مجاز ہے، دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی جو تقوی کے اعلی ترین اوصاف میں سے ہے وہ جنسِ ضعیف کے مقابل میں جنس قوی کے شایان شان زیادہ ہے، تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشات ہے اور اس کے سبب سے اس کو عورت کا قوّام اور سربراہ بنایا ہے یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہئے، اس فضیلت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت سے لینے والا نہیں بلکہ اس کو دینے والا بنے۔
اس دور کے معاشرتی مفکروں کے لیے ایک تنبیہ : یہاں ‘ بیدہ عقدۃ النکاح ’ کے الفاظ میں ایک اور نکتہ بھی ہے جو اس دور کے معاشرتی مفکروں اور مصلحتوں کو خاص طور پر نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ نکاح کی گرہ جس طرح مرد کے قبول سے بندھتی ہے اسی طرح اسی کی طلاق سے کھلتی ہے، گویا یہ سر رشتہ اصلاً شریعت نے مرد ہی کے اختیار میں رکھا ہے اس وجہ سے طلاق کے معاملے میں عورت کو مرد کے مساوی اختیار دینے کا رجحان، جو مغرب کی نقالی ہیں، ہمارے مسلمان ممالک میں بڑھتا جا رہا ہے، شریعت کے بالکل خلاف ہے اور اس سے خاندانی نظام کا شیرازہ بالکل پراگندہ ہو کر رہ جائے گا۔
اگلی آیات 238 تا 242 کا مضمون : احکام وقوانین کا باب جو آیت 163 سے توحید اور اس کے بعد نماز اور زکوۃ کے ذکر سے شروع ہوا تھا اب ان آیات پر ختم ہو رہا ہے۔ اس مجموعہ آیات کی ترتیب اس طرح ہے کہ ایک آیت، جو اصل خاتمہ باب کی حیثیت رکھتی ہے، خوف اور امن ہر طرح کے حالات میں نمازوں کی حفاظت سے متعلق ہے اور دو آیتوں میں بیوہ اور مطلقہ سے متعلق، جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا تھا، بعض ضمنی ہدایات ہیں جو بعد میں نازل ہوئیں۔ یہ دونوں آیتیں خاتمہ باب کے ساتھ ملحق کردی گئیں تاکہ کلام میں ان کی ترتیب ہی سے واضح ہوجائے کہ یہ آیات اصل احکام کے بعد بطور وضاحت نازل ہوئی ہیں چناچہ ان کے ساتھ کذالک یبین اللہ لکم ایتہ کا ٹکڑا لگا کر ان کے توضیحی آیات ہونے کی طرف اشارہ بھی فرما دیا تاکہ نظم کلام کے طالب کو ربط کلام کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہ پیش آئے۔
نماز سارے سارے دین کے لیے حصار ہے : گویا خاتمہ باب کی اصل آیت حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى والی آیت ہے۔ اب اس باب کے آغاز پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے آغاز میں توحید کے ذکر کے بعد احکامِ شریعت کے سلسلہ میں سب سے پہلے آیت 177 میں نماز اور ساتھ ہی زکوۃ کا ذکر آتا ہے۔ یہاں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس باب کا خاتمہ بھی نماز ہی کے ذکر پر ہوا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دین میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ دوسری کسی چیز کی بھی نہیں ہے۔ ساری شریعت کا قیام و بقا اسی کے قیام و بقا پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو شریعت کی اقامت اور اس کی محافظت کے لیے ایک حصار اور ایک باڑھ کی حیثیت دی ہے۔ جو شخص اس کی حفاظت کرتا ہے وہ گویا پوری شریعت کی حفاظت کرتا ہے اور جو شخص اس میں رخنے پیدا کردیتا ہے وہ، جیسا کہ حضرت عمر ؓ سے منقول ہے، باقی دین کو بدرجہ اولی ضائع کردیتا ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ شروع باب میں جس نماز کا ذکر ہے وہ امن و اطمینان کے حالات کی پنج وقت معروف نماز ہے اور یہاں امن و اطمینان کی نماز کے علاوہ خوف و خطرے کی نماز کا بھی ذکر ہے۔ یہ نماز کے احکام کے بیان میں حالات کی تبدیلی کے ساتھ ایک تدریجی ارتقا ہوا ہے۔ جس وقت باب کے آغاز کی آیتیں ناز ہوئی جنگ و جہاد کے حالات نہیں تھے لیکن تحویل قبلہ کے بعد سے آپ نے پڑھا کہ جنگ و جہاد کے احکام نہایت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اصلی سلسلہ کلام جو چل رہا تھا تو وہ جہاد اور انفاق ہی کا تھا، دوسرے مسائل تو، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، ضمناً پیدا ہوگئے ہیں۔ حالات کی یہ تبدیلی متقاضی ہوئی کہ امن کی نماز کے ساتھ خوف اور خطرے کی نماز کا بھی ذکر کردیا جائے چناچہ پہلی صورت کی نماز کا ذکر اقامتِ صلوۃ کے لفظ سے کیا ہے اور اس دوسری حالت کی نماز کا ذکر محافظت علی الصلوت کے الفاظ سے فرمایا۔ بیان کے ان دونوں اسلوبوں میں شدت اہتمام کا جو فرق نمایاں ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہوسکتا۔
یہ بات کہ نماز پورے دین کے لیے بمنزلہ حصار اور شہر پناہ ہے اگرچہ قرآن میں تدبر کرنے والوں سے مخفی نہیں ہوسکتی، اس کے شواہد و نظائر قرآن میں بہت ہیں، لیکن ممکن ہے، ایک عام قاری کو یہ شبہ ہو کہ یہاں ہم نے ربط کلام جوڑنے میں تکلف سے کام لیا ہے اس وجہ سے ہم سورة مومنون کا حوالہ دیتے ہیں جس میں اس ربط کلام کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ فرمایا ہے“ ’ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ (2) وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (3) وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ (4) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5)إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (7) وَالَّذِينَ هُمْ لأمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (8) وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (9): ان اہل ایمان نے فلاح پائی جو اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں، جو لغو سے منہ موڑنے والے ہیں، جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں، جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس سے آگے بڑھے تو وہ لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ کرنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی برابر نگہداشت رکھتے ہیں ’ (مومنون :1-9)
ان آیات پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان کا آغاز نماز سے ہوا ہے اور پھر دین و اخلاق کی چند بنیادی باتیں بیان کرنے کے بعد ان کا خاتمہ بھی نماز ہی پر ہوا ہے۔ علاوہ ازیں پہلی نماز کے ساتھ خشوع کا ذکر ہے جو نماز کی اصل روح ہے اور اس دوسری نماز کے ساتھ محافظ کا حوالہ ہے جو اس کے تمام ظاہری اہتمام کی ایک جامع تعبیر بھی ہے اور جس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ درحقیقت نمازوں کی حفاظت ہی ہے جو دین کی دوسری باتوں کی حفاظت کی ضامن ہے۔
بالکل اسی طرح کا نظر سورة معارج کی مندرجہ ذیل آیات میں بھی ہے“إِنَّ الإنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا (19)إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا (20) وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (21)إِلا الْمُصَلِّينَ (22) الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ (23) وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ (24) لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (25) وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (26) وَالَّذِينَ هُمْ مِنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُشْفِقُونَ (27)إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ (28) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (29)إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (30) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (31) وَالَّذِينَ هُمْ لأمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (32) وَالَّذِينَ هُمْ بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (33) وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (34): بیشک انسان جلد باز پیدا ہوا ہے جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے گھبرا اٹھتا ہے اور جب اس کو بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔ صرف وہ لوگ اس سے مستثنی ہیں جو اپنی نمازوں پر قائم و دائم رہنے والے ہیں، جن کے مالوں میں سائلوں اور محروموں کا ایک معین حق ہے، جو روز جزا کی تصدیق کرتے ہیں اور جو اپنے رب کے عذاب سے برابر ڈرتے رہنے والے ہیں۔ بیشک ان کے رب کا عذاب نچنت رہنے کی چیز نہیں۔ اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے، سو ان کے باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں البتہ جو اس حد سے آگے قدم بڑھائیں تو وہ لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں اور جو اپنی شہادتوں کے قائم کرنے والے ہیں اور جو اپنی نماز کی برابر نگہداشت رکھتے ہیں ”(معارج :19-34)۔
یہاں بھی دیکھیے نماز ہی سے آغاز اور نماز ہی پر اختتام ہے۔ جس طرح ایک شہر پناہ پورے شہر کر اپنی حفاظت میں لیے ہوئے ہوتی ہے اسی طرح نماز دوسری تمام نیکیوں کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے اور مقصود اس سے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ سارے دین کی محافظ نماز ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی اس نے سارے دین کی حفاظت کی اور جس نے اس کو ضائع کیا اس نے سارے دین کو ضائع کیا۔
بالکل اسی اصول پر سورة بقرہ میں بھی اس پورے باب کو جو احکام و قوانین سے متعلق ہے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے نماز کے حکم سے گھیر دیا ہے۔ اس روشنی میں اب آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:238نماز کی محافظت : نماز کی محافظت میں ان تمام چیزوں کی نگہداشت اور ان کا اہتمام شامل ہے جو اس کے لواز و شرائط اور اس کے آداب و ارکان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ اقامت صلوۃ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم ان چیزوں کا ذکر کتاب کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں اقامت کی جگہ محافظت کا لفظ جس نئے پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ مشکل اور پر خطر حالات میں بھی، ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کر کے، اس کی حفاظت کی جائے، چناچہ آگے والی آیت میں صلوۃ الخوف کا ذکر بھی ہے جس سے واضح ہے کہ تلواروں کی چھاؤ میں بھی جس چیز کو مومن نہیں بھولتا ہے، وہ یہی ہے۔
گو میں رہا رہین ستمہائے روزگار۔۔۔ لیکن تمہاری یاد سے غافل نہیں رہا۔
صلوۃ واسطی سے مراد : الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى کے لغوی معنی تو بیچ والی نماز کے ہیں اور اسلوب کلام صاف شہادت رہا ہے کہ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس خاص سے کیا مراد ہے تو اس کے جواب میں اہل تاویل نے بڑا اختلاف کیا ہے۔ زیادہ، لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ ہمارا اپنا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے۔ یہ نماز ہماری شب و روز کی تقسیم میں ایک ایسی نماز کی حیثیت رکھتی ہے جو رات اور دن دونوں کی سرحد پر واقع ہو۔ سرحد پر تو کہہ سکتے ہیں کہ فجر کی نماز بھی واقع ہے لیکن جس سرحد پر عصر کی نماز واقع ہے وہ عام حالات میں بھی پر خطر ہے اور اگر حالات جنگ کے ہوں تب تو یہ بہت ہی پر خطر بن جاتی ہے۔ عام حالات میں دیکھیے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ چونکہ عصر کے وقت دن کی تمام سرگرمیاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہوتی ہیں اس وجہ سے دنیا طلبوں کے لیے یہ بڑی آپا دھاپی کا وقت ہوتا ہے، مسافر رات آنے سے پہلے منزل پر پہنچنا چاہتا ہے، دکاندار دکان بڑھانے سے پہلے کچھ کمائی کرلینے کی دھن میں ہوجاتا ہے، نوکر اپنی مقررہ ڈیوٹی کے سر انجام دینے کے چکر میں پڑجاتا ہے، یہاں تک کہ میدانوں میں کھلاڑی بھی اپنے آخری داؤں اور اپنی آخری بازی کے منصوبوں میں ایسے غرق ہوتے ہیں کہ کسی دوسری چیز کا کوئی ہوش نہیں رہ جاتا۔
اب اسی پر قیاس کیجیے کہ اگر خدانخواستہ حالات جنگ کے ہوجائیں تو پھر یہ آپا دھاپی کتنی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر دن کے اس حصے میں جس عصر کی نماز واقع ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے عام نمازوں کی نگہداشت کا بھی حکم دیا اور ساتھ ہی عصر کی نماز نگہداشت کے لیے خاص طور پر تاکید فرمائی۔
رہا یہ سوال کہ اگر مقصود عصر کی نماز ہی تھی تو اس کو صاف صاف عصر کے لفظ ہی سے کیوں نہیں تعبیر کردیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے اس نماز کا وہ نازک جائے وقوع ہمارے سامنے آجاتا ہے جس کے سبب سے یہ خاص نگہداشت کی محتاج ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہی نماز ہے جس کے بارے میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) میں سے دو نبیوں کو ابتلا پیش آیا۔ ایک حضرت سلیمان ؑ کو فوجی پریڈ کے موقع پر، دوسرے ہمارے نبی کریم ﷺ کو غزوہ احزاب کے موقع پر۔
“ قنت ”کے معنی خضوع اور تذلل کے ہیں۔ یہاں اس کا موقع ذکر کا بات کی دلیل ہے کہ نماز کی محافظت کے حکم میں نماز کا یہ ادب بھی داخل ہے۔