Ayah 2:249فَصَلَ فَصُوْلاً کے معنی کہیں سے چلنے، نکلنے اور روانہ ہونے کے لیں۔ یعنی طالوت اپنی فوجیں لے کر مہم پر روانہ ہوئے۔ تورات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہم فلسطیوں کے مقابلہ کے لیے تھی جن کا سردار جاتی جو لیت تھا، جس کا ذکر قرآن نے جالوت کے نام سے کیا ہے۔ اس جنگ میں طالور اور جالوت کی فوجوں کے ایک دوسرے کے بالمقابل فوج آرائی کی جو شکل بیان ہوئی ہے وہ بالکل اس شکل سے ملتی ہے جو ہمارے ہاں بدر کے موقع پر کفار اور مسلمانوں کے مابین پیش آئی۔ سموئیل میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔“ پھر فلستیوں نے جنگ کے لیے اپنی فوجیں جمع کیں اور یہوداہ کے شہر شو کہ میں فراہم ہوئے اور شو کہ اور عزیقہ کے درمیان افسدمی میں خیمہ زن ہوئے اور ساؤل اور اسرائیل کے لوگوں نے جمع ہو کر ایلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لیے فلستیوں کے مقابل صف آرائی کی اور ایک طرف کے پہاڑ پر فلستی اور دوسری طرف کے پہاڑ پر بنی اسرائیل کھرے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان وادی تھی ”(سموئیل باب 17۔ 1-3)۔
اس نقشہ پر غور کیجیے اور پھر ایک نظر اس نقشہ پر ڈالیے جو سورة انفال میں بدر کے موقع پر کفار اور مسلمانوں کے آمنے سامنے ہونے کا بیان ہوا ہے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ بالکل جنگ بدر کی تصویر ہے۔ تحویل قبلہ کے بعد پہلی جنگ جو کم و بیش دو مہینوں کے بعد پیش آئی ہے وہ یہی بدر کی جنگ ہے۔ اس طرح گویا جنگ بدر کے پیش آنے سے پہلے اس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کی جنگ میں مسلمانوں کو دکھا دیا تھا۔ ہم سورة انفال میں یہ واضح کریں گے کہ یہود بدر کا نقشہ دیکھ کر اس حقیقت کو تاڑ گئے تھے لیکن انہوں نے مشرکین کو برانگیختہ کرنے کے معاملہ میں بالکل شیطان کی روش اختیار کی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اس جنگ میں طالوت کے ساتھیوں کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی تھی۔ جتنی بدر میں حضور کے ساتھیوں کی تھی۔
فوج کی اطاعت کا امتحان : اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ، دشمن کے آمنے سامنے ہونے سے پہلے طالوت نے اپنی فوج کے ڈسپلن اور ان کی اطاعت و وفاداری کا امتحان لینے کے لیے یہ اعلان کیا کہ سامنے جو فلاں ندی ہماری راہ میں آرہی ہے اس کے ذریعہ سے اللہ تمہاری جانچ کرے گا، تم میں سے جو اس کا پانی پی لے گا وہ میرا ساتھی نہ بن سکے گا، جو اس کو بالکل نہ پیے گا وہ میرا ساتھی ہوگا، اگر کسی نے ہاتھ سے ایک آدھ چلو پی لیا تو وہ قابل درگزر ہے۔ اس امتحان میں فوج کی اکثریت فیل ہوگئی۔ لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔ صرف تھوڑے سے لوگ اس امتحان میں پورے اتر سکے۔
بنی اسرائیل نے امری لشکر کا انتخاب تو بڑے ہمہمہ سے کرایا لیکن یہ لوگ نطم اور ڈسپلن کے معاملے میں، بالخصوص جہاں جان و مال کی قربانی کا سوال ہو، بڑے کچے تھے۔ اس کا اظہار، جیسا کہ اوپر گزرا، سموئیل نبی نے پہلے ہی دن کردیا تھا۔ چنانچ معلوم ہوتا ہے کہ انہی کی ہدایت سے طالوت نے اس امتحان کا اعلان کیا تاکہ ان کے کھرے کھوٹے میں پہلے ہی سے امتیاز ہوجائے اور عین میدانِ جنگ میں ان کے ہاتھوں دھوکا نہ کھانا پڑے، جو سچے ہیں وہ پہلے سے چھٹ کے الگ ہوجائیں۔ یہ امتحان چونکہ سموئیل نبی کی ہدایت کے تحت ہوا اس وجہ سے طالوت نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب فرمایا۔ جس ندی کے ذریعہ سے یہ امتحان ہوا اس کا نام یہاں مذکور نہیں اس لیے کہ مقصود امتحان کا ذکر ہے نہ کہ کسی ندی کا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ دریائے اردن ہو اور اس کا بھی امکان ہے کہ اس وادی کے درمیان کا کوئی چشمہ یا نالا ہو جو دونوں فوجوں کے درمیان حائل تھی۔
اس امتحان میں سو فی صدی کامیابی کے لیے تو شرط یہ تھی کہ اس کا پانی سرے سے کوئی چکھے ہی نہیں جیسا کہ ارشاد ہے وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ ، لیکن ایک آدھ چلو پی لینے کو قابل در گزر قرار دیا گیا تھا لیکن اسکے ساتھ بھی بیدہ کی قید لگی ہوئی تھی کہ مبادا یہ اجازت کٹورے، گلاس اور ڈونگے تک نوبت پنچا دے۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ سے وہ صداقت شعار اور کامل الایمان لوگ مراد ہیں جو اس امتحان میں پورے اترے۔ یہاں اٰمَنُوْا کا فعل اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ اس امتحان میں پھسڈی ثابت ہوئے وہ اپنے دعوائے ایمان میں بھی منافق تھے۔
قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ۔ ظاہر ہے کہ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو خوب پانی پی پی کے وہیں ڈھے گئے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ندی کو پار کرنے کی بھی زحمت نہیں اٹھائی بلکہ اسی پار سے کھڑے کھڑے انہوں نے آگے بڑھنے والے ساتھیوں کو سنا دیا کہ اب ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی ہمت نہیں۔ یہاں جالوت کے نام لینے سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ اس کی ہیبت ان لوگوں کے دلوں پر بہت تھی۔
فتح کا انحصار کثرت و قلت پر نہیں، بلکہ عزم و ایمان پر ہے : قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ الایۃ : لفظ ظن کی تحقیقی ہم آیت 46 کے تحت بیان کر آئے ہیں، یہ ہے کہ وہ حقیقی شجاعت جو خدا کی راہ میں موت کو زندگی سے بھی زیادہ عزیز و محبوب بنادیتی ہے وہ مومن کے اس عقیدے سے پیدا ہوتی ہے کہ خدا کی راہ میں قتل ہونے والے مرتے نہیں ہیں بلکہ حقیقی زندگی اور اپنے رب کی ملاقات سے مشرف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے ہمت چھوڑ بیٹھنے والے ساتھیوں کو ابھارا کہ فلسطینیوں کی کثرت تعداد سے مرعوب ہو کر ہمت نہ ہر او۔ اصل شے تعداد نہیں بلکہ اللہ کی تائید اور اس کی نصرت ہے۔ تاریخ اسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ نہایت قلیل التعداد گروہ محض اللہ کے حکم اور اس کی تائید سے دل بادل فوجوں پر غالب آگیا ہے۔ خدا کی تائید حاصل کرنے کے لیے جو چیز مطلوب ہے وہ صبر و استقامت اور عزم و ہمت ہے نہ کہ تعداد کی کثرت وقلت، شاید طالوت کے بیٹے یونتن نے اسی موقع پر وہ فقرہ کہا جو سموئیل میں نقل ہے۔
“ سو یونتن نے اس جوان سے جو اس کا سلاح برار تھا کہا آ ہم اوپر ان نامختونوں کی چوکی کو چلیں، ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے کیونکہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعے سے بچانے کی قید نہیں ”(سموئیل باب 14۔ 6)۔
تورات میں اس امتحان کا ذکر نہیں ہے لیکن اسی سے ملتے جلتے ایک امتحان کا ذکر ہے۔
فوج کے امتحان کے متعلق تورات اور قرآن کے بیانات کا اختلاف :“ اور اسرائیلی مرد اس دن بڑے پریشان تھے کیونکہ ساؤل نے لوگوں کو قسم دے کر یوں کہا تھا کہ جب تک شام نہ ہو اور میں اپنے دشمنوں سے بدلہ نہ لے لوں اس وقت تک اگر کوئی کچھ کھائے تو وہ معلون ہو۔ اس سبب سے ان لوگوں میں سے کسی نے کھانا چکھا تک نہیں اور سب لوگ جنگل میں جا پہنچے اور وہاں زمین پر شہد تھا اور جب یہ لوگ جنگل میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ شہد ٹپک رہا ہے پر کوئی اپنا ہاتھ اپنے منہ تک نہیں لے گیا اس لیے کہ ان کو قسم کا خوف تھا لیکن یونتن نے اپنے باپ کو ان لوگوں کو قسم دیتے نہیں سنا تھا سو اس نے اپنے ہاتھ کے عصا کے سرے کو شہد کے چھتے میں بھونکا اور اپنا ہاتھ اپنے منہ سے لگا لیا اور اس کی آنکھوں میں روشنی آئی۔ تب ان لوگوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ تیرے باپ نے لوگوں کو قسم دے کر سخت تاکید کی تھی اور کہا تھا کہ جو شخص آج کے دن کھانا کھائے وہ معلون ہو۔ اور لوگ بےدم سے ہو رہے تھے۔ تب یونتن نے کہا کہ میرے باپ نے ملک کو دکھ دیا ہے، دیکھو، میری آنکھوں میں ذرا سا شہد چکھنے سے کیسی روشنی آئی ! کتان زیادہ اچھا ہوتا اگر سب لوگ دشمن کی لوٹ میں سے جو ان کی ملی دل کھول کر کھاتے۔۔۔۔ سو وہ لوگ لوٹ پر گرے اور بھیڑوں، بکریوں، بیلوں اور بچھڑوں کو لے کر ان کو زمین پر ذبح کیا اور خون سمیت کھانے لگے ”(سموئیل باب 14۔ 24۔ 23)۔
اس واقعے سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ طالوت نے فلسطینیوں سے جنگ کے موقع پر اپنی فوج کا امتحان لیا تھا اور اس امتحان میں ان کی پوری فوج ناکام رہی تھی یہاں تک کہ طالوت کے بیٹے یونتن بھی، جن کا کردار تورات کے دوسرے بیانات سے نہایت بلند ثابت ہوتا ہے، اس امتحان میں نہ صرف یہ کہ ناکام رہے بلکہ مذکورہ بالا بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ انہی کی غلط رہنمائی سے ان کے باپ کی پوری فوج گمراہ ہوئی۔
قرآن کا بیان مندرجہ ذیل پہلوؤں سے تورات کے بیان سے مختلف ہے۔
ایک یہ کہ تورات سے ثابت ہوتا ہے کہ طالوت نے یہ امتحان اس وقت لیا ہے جب دشمن سے عملاً مڈبھیڑ ہوچکی ہے اور مقصود اس امتحان سے صرف یہ تھا کہ جب تک دشمن کا اچھی طرح قلع قمع نہ ہوجائے لوگ کھانے پینے میں مصروف نہ ہوں۔ برعکس اس کے قرآن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالوت نے یہ امتحان دشمن سے مڈھیڑ ہونے سے پہلے لیا ہے اور مقصود اس سے اپنی فوج کا جائزہ لینا تھا کہ اس میں کتنے ایسے ہیں جو کٹھن حالات میں ثابت قدم رہ سکیں گے اور کتنے محض دکھاوے کے مجنون ہیں جن کا دعوائے عشق آزمائش کی پہلی ہی چوٹ سے ہرن ہوجائے گا۔
دوسرا یہ کہ تورات سے ثابت ہوتا ہے کہ طالوت نے کھانے کی مناہی کی تھی۔ اس کے برعکس قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مناہی فوج کے مارچ کے دوران میں ایک خاص ندی یا نالے کے پانی کے لیے تھی۔
تیسرا یہ کہ تورات سے ثابت ہوتا ہے کہ طالوت کی پوری فوج اس امتحان میں ناکام رہی یہاں تک کہ خود ان کے فرزند ناکام رہے بلکہ انہی نے پوری فوج کے لیے اس ناکامی کی کی راہ کھولی۔ اس کے خلاف قرآن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اندر سے ایک جماعت اپنے عزم و ایمان پر قائم رہی اور اسی کے عزم و ایمان کی بدولت اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فلسطینیوں پر فتح دی۔
قرآن کا بیان صحیح اور بامقصد ہے : اب یا تو یہ مانا جائے کہ تورات میں جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ الگ ہے اور قرآن میں جو بیان ہوا ہے وہ الگ یا یہ مانا جائے کہ واقعہ تو ایک ہی ہے، تورات میں اس کو بےاحتیاط راویوں نے بالکل مسخ اور بےمقصد بنا کے رکھ دیا ہے قرآن نے اس کو بالحق یعنی بالکل ٹھیک ٹھیک اور اس کے فوائد و مصالح کے ساتھ سنا دیا۔ ان دونوں میں سے جو بات بھی صحیح ہو، یہ بہ ہر حال ہر صاحب ذوق تسلیم کرے گا کہ قرآن کا بیان ہر پہلو سے بامقصد، نتیجہ خیز اور پر حکمت ہے۔ برعکس اس کے تورات کا بیان ایک بالکل بےمقصد داستان سرائی ہے۔
Ayah 2:250جالوت، فلسطینیوں کا سپہ سالار تھا۔ تورات میں اس کا نام جاتی جو لیت آیا ہے۔ یہ بڑا گرانڈیل، دیوہیکل اور ماہر جنگ سپہ سالار مانا جاتا تھا، دشمنوں پر اس کا بڑا رعب تھا، خاص طور پر بنی اسرائیل اس سے بہت مرعوب تھے۔
حضرت داود کی زندگی کا آغاز : داوٗد، یہ وہی حضرت داود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا اور جن کی صلب سے حضرت سلیمان ؑ پیدا ہوئے۔ ان کی ابتداء غریبانہ لیکن انتہا نہایت شاندار ہوئی۔ انہوں نے اپنے بارے میں خود فرمایا ہے کہ خداوند نے مجھے بھیڑ سالے سے نکالا اور اسرائیل کے تخت پر لا بٹھایا۔ یہ طالوت کی اس فوج میں شامل تھے جس کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس شمولیت کے متعلق تورات میں دو مختلف روایتیں ہیں۔ ایک سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس جنگ کے پیش آنے سے پہلے ہی طالوت کے سلاح بردار کی حیثیت سے ان کے لشکر میں داخل ہوچکے تھے اور درپردہ یہ سموئیل کے ممسوح اور مستقبل کے بادشاہ بھی تھے۔ دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بالکل وقت کے وقت اپنی بکریاں چراگاہ میں چھوڑ کر اپنے بڑے بھائیوں کو، جو جنگ میں شریک تھے، اپنے باپ کے حکم سے کچھ کھانے کی چیزیں دینے آئے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ جالوت مقابلہ کے لیے چیلنج دے رہا ہے لیکن کوئی اس کے مقابلے کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر ان کی غیرت کر جوش آیا۔ انہوں نے طالوت سے اس کے مقابلہ کی اجازت مانگی۔ یہ اس وقت ایک نوخیز، سرخ رو اور خوش قامت نوجوان تھے۔ طالوت کو ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری کی بنا پر اجازت دینے تردد ہوا۔ لیکن جب انہوں نے کہا کہ میں اپنی برکیوں پر حملہ کرنے والے شیروں اور ریچھوں کے جبڑے توڑ دیا کرتا ہوں، بھلا اس نامختون فلسطینی کی کیا حیثیت ہے کہ یہ زندہ خداوند کی فوجوں کو رسوا کرے تو طالوت نے ان کے عزم و ہمت کو دیکھ کر ان کو اجازت دے دی اور خود اپنا جنگی لباس پہنا کر اپنے مخصوص اسلحہ سے ان کو لیس کیا۔ اس وقت تک ان کا زمانہ بھیڑوں بکریوں کی چرواہی میں گزرا تھا، اس جنگی لباس اور ان جنگی اسلحہ کا ان کو کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ ان کو پہن کر کچھ بندھا بندھا سا محسوس کرنے لگا۔ آخرت طالوت کی اجازت سے اس قید سے رہائی حاصل کی اور چرواہوں کی طرح اپنی فلاخن اٹھائی، چادر کے ایک کونے میں کچھ پتھر رکھے اور وقت کے سب سے بڑے دیو کے مقابل میں جا کے ڈٹ گئے۔ پہلے تو اس نے ان کا مذاق اڑایا۔ لیکن جب ان کی طرف سے اس کو ترکی بہ ترکی جواب ملا تو اس نے کہا کہ“ اچھا آ، آج تیرا گوشت چیلوں اور کو وں کو کھلاتا ہوں ”اتنے میں حضرت داود نے فلاخن میں پتھر رکھ کر جو اس کو مارا تو پتھر اس کے سر سے چپک کر رہ گیا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ اتنے بڑے سپہ سالار کا ایک الہڑ چرواہے کی فلاخن سے اس طرح مارا جانا ظاہر ہے کہ ایک عظیم واقعہ تھا۔ چناچہ فلسطینی فوج میں بھگدر مچ گئی اور ادھر بنی اسرائیل کی عورتوں کی زبان پر یہ گیت جاری ہوگیا۔“ ساؤل نے تو ہزاروں کو مارا پر داؤد نے لاکھوں کو مارا ”۔ بس اسی واقعہ سے حضرت داود کی زندگی کا آغاز ہوا اور پھر وہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس مقام پر پہنچے جو ان کے لیے مقدر تھا۔
Ayah 2:251فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ، میں اس حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے کہ فتح ہو یا شکست، جو کچھ بھی پیش آتا ہے اس کا اصل تعلق قلت و کثرت اور وسائل و تدابیر سے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اس وجہ سے اصل اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہئے نہ کہ اسباب وسائل پر۔ اس سے مقصود اسباب و وسائل کے اختیار کرنے کی نفی نہیں بلکہ تنہا انہی کو وسیلہ ظفر سمجھ لینے کی نفی ہے۔ حضرت داود جنہوں نے ایک دیوہیکل سورما کو ایک پتھر سے ڈھیر کردیا، اگرچہ اس زمانے تک نبی نہیں تھے، لیکن اس حقیقت سے آگاہ تھے، چناچہ انہوں نے جالوت کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ“ اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا اس لیے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا ”(سموئیل باب 17۔ 48)۔
یہی بات قرآن مجید کی آیت“ وما رمیت اذ رمیت۔ ولکن اللہ رمی ”سے ثابت ہوتی ہے۔
وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ : یہ ان انعامات کا بیان ہے جو اس واقعے کے بعد حضرت داود پر ہوئے۔ اس کے بعد وہ طالوت کے داماد بھی ہوگئے اور پھر بنی اسرائیل کے بادشاہ بھی۔ علاوہ ازیں ان کو حکمت کا وہ خزانہ بھی عطا ہوا جس کا مظہر زبور ہے۔ درحقیقت یہی حکمت ہے جس کا جور جب بادشاہی کے ساتھ ملتا ہے تو وہ بادشاہی زمین میں خدا کی خلافت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بادشاہی چنگیزی ہے۔ بادشاہی اور درویشی کا یہی امتزاج ہے جو اللہ کی نظروں میں پسندیدہ ہے۔ اور حضرت داود حضرت سلیمان، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبدالعزیز سب درویز بادشاہ تھے اس لیے کہ ان کی بادشاہی کا تخت و تاج سونے چاندی سے نہیں بلکہ حکمت کے لعل و گہر سے آراستہ ہوا تھا۔
یہاں ایک چھوٹا سا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ فرمایا عَلَّمَهٗ مِمَّا شَاء نہیں فرمایا۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسلوب اس لیے اختیار فرمایا کہ یہ بات حضرت داود کے ساتھ خاص ہو کے نہ رہ جائے۔ بلکہ یہ ایک سنت اللہ کے بیان کا اسلوب اختیار کرلے کہ اللہ نے اس کو وہ کچھ سکھایا اور بتایا جو وہ اپنے ایسے بندوں کے لیے چاہتا ہے کہ وہ ان کو بتائے اور سکھائے۔
جہاد ضرورت اور اس کی حکمت : وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ الایۃ : یہ جہاد کی ضرورت اور اس کا فلسفہ بیان ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جہاد کا حکم نہ دیتا اور اس کے صالح بندے زمین کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کے لیے تلوار نہ اٹھاتے تو اشرار و مفسدین دنیا کو شر و فساد سے بھر دیتے اور اللہ کی زمین نیکی اور تقوی کے تمام آثار سے خالی ہوجاتی۔ قرآن میں جہاد کی اس ضرورت و حکمت کی طرف مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ اشارے کیے گئے ہیں۔ مثلاً سورة حج میں فرمایا الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا : اور اگر اللہ ایک کو دوسرے سے دفع نہ کرتا رہتا تو صومعے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں، جن میں کثرت سے خدا کا ذکر ہوتا ہے، سب ڈھائے جا چکے ہوتے (حج :40)۔
اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ مذہب کے راہبانہ اور جوگیانہ تصور کے اثر سے عام طور پر جنگ اور جہاد کو تقوی اور دین داری کے منافی تصور کیا گیا ہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے تک تو قریش مسلمانوں کی کمزوری کو ان کے خلاف ایک دلیل ٹھہراتے رہے اور جنگ بدرے بعد ان کے جوشِ جہاد کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ اس کی تفصیلات اپنے مقام میں آئیں گی۔ یہاں قرآن نے پہلے سے اس طرح کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا کہ انبیاء اور صالحین جو جہاد کرتے ہیں اس سے مقصود حق اور عدل کا قیام اور شر و فساد کا استیصال ہوتا ہے ورنہ خدا کی زمین نیکی اور بھلائی کے لیے بالکل بنجر ہو کے رہ جائے۔ اس وجہ سے صالحین کا جہاد اہل زمین کے لیے خدا کی ایک بہت بڑی عنایت ہے۔
Ayah 2:252نبی ﷺ کی طرف التفات اور آپ کی رسالت کا اثبات : یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت، یہ دونوں آیتیں سلسلہ کلام کے بیچ میں بطور التفات وارد ہیں یعنی اصل سلسلہ کلام کو روک کر نبی ﷺ کو مخاطب فرمایا اور ارشاد ہوا کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت بالکل بےمقصد اور بےمعنی بنا کر رکھ دی تھی۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج و فوائد اور اس کے حکم و مصالح کے ساتھ تمہیں سنایا ہے تاکہ اس آئینے میں تم اور تمہارے ساتھی اپنے مستقبل کے نقشہ کار کو دیکھ سکو اور یہ اس بات کی نہایت روشن دلیل ہے کہ تم انبیاء و رسل کے مبارک سلسلے کی کڑی ہو ورنہ جس چیز کے تمہارے پاس جاننے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس کو تم کس طرح جان سکتے اور وہ بھی ایسے صحت و صداقت کے ساتھ کہ اصل واقعہ تمام غیر منطقی اور غیر فطری ملاوٹوں سے بالکل پاک ہو کر لوگوں کے سامنے آگیا۔ اگر اہل کتاب معاملے کے صرف اسی ایک پہلو پر غور کرتے تو تمہاری رسالت کے ثبوت کے لیے یہی دلیل کافی تھی لیکن ان کا اندھا بہرا تعصب اس امر میں مانع ہے کہ وہ اپنے نبی کے سوا کسی اور رسول کی رسالت اور اس کے لیے کوئی فضیلت تسلیم کرسکیں حالانکہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں میں سے کسی کے لیے بھی مطلق برتری کا دعوی صحیح نہیں ہے۔ اللہ نے اپنے تمام رسولوں کو کسی نہ کسی فضیلت سے مختص کیا ہے اور سب کے لیے مراتب و درجات ہیں لیکن اہل کتاب گروہی تعصبات میں مبتلا ہو کر اپنے سوا سب کی تکذیب اور سب کی مخالفت کے لیے کمر بسہ ہیں۔ سو اس حالت پر صبرو کرو اور ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں شر کو بھی مہلت دے رکھی ہے۔ بلاشبہ اگر وہ چاہتا تو یہ کچھ وہ نہ کر پاتے لیکن اس نے یہی چاہا ہے اور جو کچھ اس نے چاہا ہے اسی میں حکمت اور مصلحت ہے۔
Ayah 2:253تِلْكَ کا اشارہ ان رسولوں کی طرف ہے جن کا حوالہ اوپر اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔
رسولوں کے بارے میں صحیح روش : اس آیت میں اس صحیح رویے کی وضاحت ہے جو اللہ کے رسولوں کے بارے میں ان کی امتوں کو اختیار کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کو اختیار نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ ایک بالکل غلط رویہ اختیار کرلیا جس کے سبب سے ان کے درمیان تعصبات کی دیواریں کھڑی ہوگئیں اور وہ ایک دوسرے کی دشمن اور مخالف ہو کر باہم جنگ و جدل میں مبتلا ہوگئیں۔ مقصود اس بیان سے یہاں نبی ﷺ پر یہ واضح کرنا ہے کہ آج تمہاری مخالفت میں بھی یہ اہل کتاب جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ان کی یہی غلط روش ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر رسول کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اس فضیلت کے اعتبار سے وہ دوسروں پر ممتاز ہے۔ مثلاً موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے یہ ان کی فضیلت کا ایک خاص پہلو ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کو کھلے کھلے معجزات دیے اور روح القدس کی خاص تائید سے ان کو نوازا، یہ ان کے مخصوصات میں سے ہے۔ علی ہذا القیاس دوسرے رسولوں کو درجات و مراتب عطا ہوئے ہیں جو ان کے لیے خاص ہیں۔ انبیاء و رسل کے فضائل کے باب میں یہی نقطہ نظر حقیقت کے مطابق ہے۔ لیکن ان انبیاء کی امتوں نے جو روش اختیار کی وہ یہ ہے کہ ان میں سے جس نے جس نبی و رسول کو مانا سارے فضائل و خصوصیات کا جامع تنہا اسی کو بنا کر رکھ دیا اور دوسرے کسی نبی و رسول کے لیے کسی فضیلت کا تسلیم کرنا ان کے نزدیک ایمان کے منافی قرار پا گیا۔ اس تعصب و تنگ نظری کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلی امتوں میں سے ہر امت اپنے اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئی اور اس کے لیے دوسرے نبیوں اور رسولوں کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی راہ مسدود ہوگئی۔ اگر وہ صحیح روش اختیار کرتیں تو ہر رسول ان کا رسول اور ہر ہدایت ان کی ہدایت ہوتی اور وہ اس ہدایت میں سے بھی حصہ پاتیں جو اب قرآن مجید کی صورت میں آخری ہدایت کی حیثیت سے دنیا کے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة بنی اسرائیل میں بھی اشارہ فرمایا ہے“ ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض واتینا داود زبورا : اور ہم نے انبیا میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داود کو زبور عنایت کی ”(بنی اسرائیل)۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ نے اس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے اور جس کا قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ وہ سنت اللہ یہ ہے کہ اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں جبر کا طریقہ نہیں اختیار فرمایا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا تو اس میں شبہ نہیں کہ کسی کے لیے بھی ایمان کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ بندوں کو آزادی دی کہ وہ اپنی سوچ سمجھ اور اپنے اختیار و ارادہ کی آزادی کے ساتھ چاہیں کفر کی راہ اختیار کریں، چاہیں ایمان کی راہ اختیار کریں۔ اگر وہ ایمان کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا صلہ پائیں گے اور اگر کفر کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا انجام دیکھیں گے۔ آخر میں فرمایا کہ ۣوَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ (اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے) سو اس نے یہی چاہا کہ وہ اس معاملے میں بندوں پر جبر نہ کرے اور جب اس نے یہی چاہا تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ اسی کے اندر حکمت و مصلحت ہے، کیونکہ خدا کوئی ارادہ حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوسکتا۔
یہاں اس قانون کے بیان کرنے سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ لوگوں کی ہدایت و ضلالت کے معاملے میں آپ کی زمہ داری صرف اس قدر ہے کہ آپ لوگوں تک حق واضح الفاظ میں پہنچا دیں۔ اس کو قبول کرنا یا رد کرنا یہ ان کے اوپر چھوریے۔ یہ نہ تو آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ آپ اس کے لیے پریشان ہوں۔
آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کے جو الفاظ آئے ہیں ان کی حقیقت اسی سورة کی آیت 87 کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ سے جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد وہ براہ راست مخاطبہ الٰہی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرف فرمایا۔ اس مخاطبت کا ذکر تورات میں بھی بار بار ہوا ہے اور قرآن نے بھی اس کی طرف جا بجا اشارے کیے ہیں۔
اگلی آیات 254 تا 256 کا مضمون : اوپر سے مضمون جہاد اور انفاق کا چلا آ رہا تھا پھر ضمناً دو آیتیں التفات کی بطور تنبیہ و تذکیر آگئیں جن کی نوعیت جملہ معترضہ کی ہے۔ اس کے بعد انفاق کا مضمون از سرِ نو آگیا۔ اس مضمون کی وضاحت کے لیے جو استدلال اختیار فرمایا ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ خدا کے ہاں کام آنے والی اصل چیز تو خدا کی راہ میں جان اور مال کی قربانی ہے لیکن یہ منکرین یہ کرنے کے لیے تو تیار نہیں ہیں البتہ انہوں نے اپنے جی سے خدا کے شریک و شفیع بہت سے گھڑ لیے ہیں اور ان کی شفاعت و حمایت پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ جھوٹے سہارے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ جو لوگ اس حماقت میں مبتلا ہیں وہ اپنے اوپر بہت بڑا ظلم ڈھا رہے ہیں۔
اس کے بعد نہایت مختصر لیکن نہایت جامع الفاظ میں توحید کی حقیقت واجح فرمائی اور شرک کی تردید کی تاکہ ایک بالکل غلط سہارے پر جو لوگ جی رہے ہیں وہ چوکنّے ہوں اور خدا پرستی کی صحیح راہ اختیار کریں۔
اس کے بعد یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کو اچھی طرح واضح کردیا ہے۔ تبلیغ وتعلیم اور انذار وتبشیر کا جو حق تھا وہ ادا ہوچکا ہے۔ اب جس کا جی چاہے وہ غیر اللہ سے کٹ کر اللہ کی مضبوط رسی کو تھام لے اور جس کا جی چاہے اپنے غلط سہاروں کے اعتماد پر اپنی عاقبت برباد کرے، اللہ کو ایسے لوگوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی سمجھ بوجھ سے ایمان لائیں، اگر وہ سب کو نیکی کے راستے پر ہانک دینا چاہتا تو وہ ایسا کرسکتا تاھ لیکن ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس نے اس جبر کو پسند نہیں فرمایا۔
اس کے بعد یہ واضح فرمایا کہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور کون لوگ ہیں جو حق کی وضاحت کے بعد بھی گمراہی کی وادیوں ہی میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں۔
اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:254انفاق کی دلیل اور اس کی تسہیل : اوپر آیت 245 میں انفاق کی جو دعوت گزری ہے، یہ اس کی مزید تفصیل ہے۔ مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ میں جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ انفاق کی دلیل بھی ہے اور اس کی تسہیل بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تم سے انفاق کا جو مطالبہ کر رہا ہے تو یہ تم پر گراں نہ گزرے۔ وہ تم سے کوئی تہاری چیز نہیں مانگ رہا ہے بلکہ اپنی ہی بخشی ہوئی چیز مانگ رہا ہے۔ پھر یہ نہیں ہے کہ جو کچھ اس نے بخشا ہے اس سارے کے لیے اس کا مطالبہ ہے بلکہ وہ اس میں سے صرف ایک حصہ کے انفاق کا مطالبہ کر رہا ہے۔
پھر فرمایا کہ اس دنیا کے مال و متاع کا کوئی ابدی و دائمی نفع ہے تو صرف اسی صورت میں ہے جب آج اس کو خدا کی راہ میں خرچ کر کے اس کو ایک لازوال خزانے کی صورت میں تبدیل کرلو اس لیے کہ آگے جو دن آنے والا ہے اس میں نفع پہنچانے والی چیز اگر کوئی ہے تو صرف وہ نیکی ہے جو اس دنیا میں کمائی گئی ہو۔ اس کے سوا اس عالم میں کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ اس دنیا میں خریدو فروخت سے بھی کام چل جاتے ہیں، دوستیاں بھی کام دے جاتی ہیں اور سفارشیں بھی بعض اوقات نفع پہنچا دیتی ہیں لیکن اس دنیا میں ان چیزوں کی ساری راہیں بند ہوں گی، وہ صرف ایمان اور عمل صالح کے نتائج کے ظہور کی دنیا ہوگی۔
لفظ بیع کا مفہوم ہم نے یہاں خریدو فروخت دونوں لیا ہے اس کی وجہ، جیسا کہ ہم کسی دوسری جگہ اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہے کہ جب صورت چیز سے چیز کے مبادلہ کی ہو تو بیچنا اور خریدنا دونوں اس کے مفہوم میں شامل ہوجاتا ہے۔
الْكٰفِرُوْنَ سے مراد ہمارے نزدیک وہ لوگ ہیں جو اس طرح کے کسی دن کے ظہور کے منکر ہیں جس سے یہاں ڈرایا گیا ہے، جو لوگ آخرت کے منکر ہوں ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کل کے ادھار کے لیے آج کے نقد کو قربان کرسکیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ اگرچہ یہ لوگ اپنی دانست میں اپنے آپ کو بہت حقیقت پسند سمجھتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ وہ اپنے کو نفع پہنچا رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ اپنی جانوں پر سب سے بڑے ظلم ڈھانے والے ہیں۔
Ayah 2:255‘ قیوم ’ کے معنی : قیوم مبالغہ کا وزن ہے۔ اس کے معنی ہیں وہ ذات جو خود اپنے بل پر قائم اور دوسروں کے قیام و بقا کا واسطہ اور ذریعہ ہو۔
‘ سنۃ ’ کے معنی اونگھ اور نوم کے معنی نیند کے ہیں۔ ان دونوں کی نفی سے نیند کی ابتدا اور انتہا دونوں کی نفی ہوگئی جس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجہ پاک ہے۔
مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم لوگوں کے آگے اور پیچھے اور ان کے ماضی اور مستقبل سب پر حاوی ہے۔ برعکس اس کے دوسروں کی علمی ہپنچ صرف اس حد تک ہے جس حد تک خدا نے چاہا کہ وہ اس کے علم میں سے حصہ پائیں۔ اس سے آگے کسی کی رسائی نہیں۔ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاء۔
“ کرسی ”کے معنی :“ کرس ”کے معنی عربی لغت میں کسی چیز کی جمی جمائی تہ کے ہیں۔ اس سے کرسی کا لفظ بنا جو بیٹھنے کی جگہ یا چیز مثلاً تخت وغیرہ کے لیے استعمال ہوا۔ بیٹھنے کی جگہ یا چیز جب کہ وہ کسی صاحب اقتدار کے لیے خاص ہو اس کے اقتدار کا مرکز ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کرسی کا لفظ اقتدار کی تعبیر کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کے معنی ہوئے کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین کے تمام اطراف و اکناف پر حاوی ہے۔ کوئی گوشہ اور کونا بھی اس کے دائرہ اقتدار سے الگ نہیں ہے۔
اٰدَ یَؤُود اَوْداً کے معنی ہیں کسی چیز کا ایسا بھاری اور گراں ہونا کہ اس کا سنبھالنا مشکل ہوجائے۔ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا کے معنی یہ ہوئے کہ آسمان و زمین کی دیکھ بھال ذرا بھی خدا پر گراں نہیں ہے کہ اس کو کسی سہارے یا مددگار کی احتیاج پیش آئے۔
آیت الکرسی توحید کی ایک عظیم آیت ہے : اوپر والی آیت میں یہ فرمایا کہ“ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خدا کی راہ میں خرچ کرلو جس میں نہ خید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش کچھ نفع پہنچائے گی ”۔ یہ اسی مضمون کی مزید تفصیل ہے۔ گویا رد شفاعت اور رد شرک کے اس مضمون نے توحید خالص کی وضاحت کے لیے ایک تقریب پیدا کردی اور اس طرح توحید کے بیان میں ایک ایسی آیت نازل ہوئی جس کی خوبیوں اور بلاغتوں کا حاطہ کرنا ناممکن ہے۔
سب سے پہلے فرمایا کہ اللہ ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد اس کے لیے ان صفات کا اثبات کیا جو اس کی الوہیت کا لازمی تقاضا ہیں اور جن کے نہ ماننے سے اس کی الوہیت کی نفی ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی ان باتوں سے اس کو بری قرار دیا جن کے ماننے سے بھی اس کی الوہیت کو بٹہ لگتا ہے۔ جن صفات کا اثبات کیا ہے ان میں سب سے پہلے اس کے حی وقیوم ہونے کا ذکر کیا ہے۔ حَیّ کے معنی زندگہ کے ہیں اور قیوم کے معنی ہیں وہ ذات جو خود اپنے بل پر قائم اور سب کو قائم رکھنے والی اور سب کو سنبھالنے والی ہو۔ ظاہر ہے کہ جو خود زندہ نہ ہو وہ تمام دنیا جہان کے لیے زندگی بخش کس طرح ہوسکتا ہے اور جو خود اپنی ذات سے قائم نہ ہو وہ آسمان و زمین کو قائم رکھنے والا کس طرح ہوسکتا ہے اور جو ذات ان صفات سے عاری ہو اس کو خدا ماننے کے کیا معنی ؟ اور جب خدا ان صفات سے متصف ہے اور لازماً اس کو ان صفات سے متصف ہونا چاہئے بھی تو پھر کسی کو اس کا شریک وسہیم ماننا ایک بالکل بےجوڑ سی بات ہے۔
اس طرح قرآن نے ان تمام معبودوں کی نفی کردی جو نہ زندہ ہیں، نہ زندگی کا سرچشمہ اور نہ خود قائم ہیں اور نہ دوسروں کے قائم رکھنے والے بلکہ خود اپنی زندگی اور اپنے قیام و بقا کے ایک حیّ وقیوم کے محتاج ہیں۔
اس کے بعد فرمایا کہ نہ اس کو اونگھ لاحق ہوتی نہ نیند۔ یہ نیند کی ابتدا اور اس کی انتہا دونوں سے اس کو بری قرار دیا گیا ہے اور یہ اس کے حیّ وقیوم ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔ نیند، موت کے ظلال و آثار اور اس کے مظاہر و مبادیات میں سے ہے اس وجہ سے یہ خدا کی شان کے منافی ہے۔ پھر یہ اس کے قیوم ہونے کے بھی منافی ہے، جو خود نیند سے مغلوب ہو کر اپنے کو قائم نہ رکھ سکے گا وہ دنیا کو کیا قائم رکھے گا اور جب وہ ہر لمحہ خود بیدار ہے اور اپنی دنیا کی نگرانی کر رہا ہے تو پھر یہ کیوں فرض کیا جائے کہ وہ اس دنیا کے انتظام وانصرام میں کسی اور کا بھی محتاج ہے۔
‘ شفاعت ’ کی حقیقت : اس کے بعد ارشاد ہوا کہ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے اختیار میں ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے قرآن کے مخاطبوں میں سے نہ کسی کو انکار تھا اور نہ کسی کے لیے اس سے انکار کی گنجائش تھی، اس لیے کہ اس سے انکار کے معنی خدا کی خدائی کے انکار کے تھے۔ چناچہ اس مسلمہ حقیقت سے شفاعت کے اس عقیدے کے باطل ہونے کی طرف رہنمائی فرمائی جس میں عرب کے مشرکین اور اہل کتاب سب کسی نہ کسی نوعیت سے مبتلا تھے۔ فرمایا کہ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ، یعنی جب سب کے سب خدا ہی کے مملوک و محکوم اور اسی کے تابعدار و محکوم ہیں تو کس کی مجال ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں کسی کی سفارش کے لیے زبان کھول سکے۔ اس ارشاد نے شفاعت کے اس تصور کا بالکل خاتمہ کردیا جس کی بنیاد اس خیال پر تھی کہ بعض شرکا کو خدا کے ہاں اعتماد اور تدلل کا کا یہ درجہ حاصل ہے کہ وہ کسی کے لیے خود بڑھ کر خدا سے سفارش کرسکتے ہیں اور خدا ان کی ناز برداری میں لازماً ان کی سفارش قبول بھی فرمائے گا۔ فرمایا کہ نہ خدا کے ہاں کسی کا یہ درجہ ہے اور نہ کوئی اس کے دربار میں اس کی اجازت کے بغیر زبان کھولنے کی جرات کرسکے گا۔ اسی حقیقت کو دوسری جگہ اس طرح ظاہر فرمایا ہے وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ (26) لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ (27) اور مشرکین کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے، اللہ ان چیزوں سے پاک و برتر ہے فرشتے خدا کی اولاد نہیں بلکہ اس کے باعزت بندے ہیں، وہ اس کے آگے بات کرنے میں سبقت نہیں کرتے وہ بس اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗء، یعنی خدا کے سامنے کسی کے بارے میں زبان کھولنے کی جسارت تو وہ کرے جو خدا کی معلومات میں کچھ اضافہ کرسکتا ہو اور یہ کہنے کی پوزیشن میں ہو کہ فلاں کے بارے میں نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو پوری آگاہی نہیں ہے، اسے ہے۔ لیکن یہ حیثیت کس کی ہے ؟ اللہ تعالیٰ سب کے آگے اور پیچھے اور اس کے ماضی و مستقبل ہر چیز سے باخبر ہے۔ برعکس اس کے دوسرے کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم کے کسی حصے کا بھی احاطہ کرسکے۔ دوسروں کے لیے اس کے علم میں سے بس اتنا ہی ہے جتنا وہ از خود اپنے بندوں میں سے کسی پر کھول دے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی یہ وسعت اور دوسروں کے علم کی یہ محدودیت مشرکین کے تصور شفاعت کا بالکل خاتہ کردیتی ہے۔ چناچہ قرآن نے شفاعت کی تردید کرتے ہوئے اکثر مقامات میں علم الٰہی کی اس وسعت اور دوسروں کے علم کی محدودیت کا حوالہ دیا ہے مثلاً يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يَشْفَعُونَ إِلا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ : اللہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر ان کے لیے جن کے لیے اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کی خشیت سے ڈرتے ہوں گے۔ يَوْمَئِذٍ لا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلا (109) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا (110): اور اس دن کسی کو کسی کی شفاعت کچھ نفع نہ پہنچائے گی مگر جس کے لیے خدائے رحمان اجازت دے اور اس کے لیے کوئی بات کہنے کو پسند کرے، وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کے آگے ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
شفاعت کا یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے اس لیے کہ یہ بندے کا اعتماد خدا کے بجائے بندے پر جماتی ہے اور اس طرح یہ شرک کی راہ کھولتی ہے۔ اس کے بجائے قرآن نے شفاعت کا یہ تصور دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں میں سے جس کو چاہے گا اور جس کے لیے چاہے گا شفاعت کی اجازت دے گا اور وہ خدا سے ڈرتے ہوئے وہی بات زبان سے نکالے گا جو بالکل حق ہوگی۔ یہ شفاعت چونکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوگی نیز اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے، اور یہ نہ تو کسی ھق کو باطل بنائے گی اور نہ کسی باطل کو حق بلکہ ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہوگی اس وجہ سے یہ بندے کا اعتماد خدا پر جمانے والی اور توحید کے تقاضوں کے مطابق ہے چناچہ اس شفاعت کے لیے اس نے گنجائش رکھی ہے اور اس سے وہ اپنے ان بندوں کو نوازے گا جن کو چاہے گا۔ اس موضوع پر ہم انشاء اللہ سورة انعام میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ یہاں اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
جس طرح شفاعت میں یہ استثنا ہے اسی طرح علم کے باب میں بھی یہ استثنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم میں سے جتنا کسی بندے کے لیے چاہتا ہے، دیتا ہے۔ یعنی خدا کے تمام علم کا احاطہ کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے نبیوں، رسولوں اور اس کے فرشتوں کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ کسی کو بخشتا ہے۔
آگے ارشاد ہوا وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا یعنی اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین کے ہر گوشے اور کونے پر حاوی ہے۔ یہ صورت نہیں ہے کہ اس کی وسیع مملکت کے بعض دور دراز گوشے ایسے ہوں جہاں اس کو اپنا قتدار پوری طرح جمانے میں کامیابی نہ ہو رہی ہو اور وہ ان میں اقتدار جمانے کے لیے دوسرے معبودوں کو اپنا شریک اقتدار بنانے پر مجبور ہو۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے جو اپنی سلطنت کو سنبھالے رکھنے کے لیے نائبوں اور مددگاروں کے محتاج ہوتے ہیں، ان کے بغیر ان کے لیے حکومت کا انتظام دشوار ہوجاتا ہے بلکہ وہ غیر محدود علم، غیر محدود قدرت اور غیر محدود قوت تصرف کا مالک ہے اس لیے جس طرح ہم اپنے مکان کے صحن کی دیکھ بھال کرلیتے ہیں اس سے ہزاروں لاکھوں درجہ سہولت کے ساتھ وہ اپنی اس آسمان و زمین پر حاوی مملکت کا انتظام فرماتا ہے اور ذرا بھی اس کا بوجھ محسوس نہیں کرتا کہ وہ کسی کی طرف سے ہاتھ بٹانے کا محتاج ہو۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ“ علی ”اور“ عظیم ”یعنی اس کی ہستی بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہے اس کے علم، اس کی قدرت اور اس کی وسعت کو اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپو، یہیں سے اس کے بارے میں گمراہیاں پیدا ہوتی ہیں اور شرک کی راہیں کھلتی ہیں۔ اپنی صفات کے باب میں جو کچھ وہ خود بتاتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور ظن و قیاس اور تشبیہ و تمثیل کی خیال آرائیوں سے بچو۔