Ayah 2:217اشہر حُرُم سے متعلق مزید سوال اور ان کے جواب : اوپر آیات 190-195 میں اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا تھا کہ اگر مشرکین تمہارے ارادہ حج میں مزاحم ہوں اور ان کی مزاحمت کے سبب سے جنگ کی نوبت آجائے تو تم ان سے جنگ کرو اور ان کو قتل کرو اگرچہ یہ جنگ اشہر حرم میں بلکہ عین حدود حرم میں لڑنی پڑے یہ بات اگرچہ واضح تھی لیکن اشہر حرم کے معاملہ میں زمانہ جاہلیت سے عربوں کی روایات اتنی سخت تھیں اور ان میں جنگ و خونریزی کو وہ اتنا بڑا گناہ سمجھتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ بات آسانی سے نہیں اتر سکتی تھی۔ اس طرح کے معاملات میں چونکہ جذبات کو بڑا دخل ہوتا ہے اس وجہ سے مخالفین کو پروپیگنڈے کا بھی بڑا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ چناچہ اس کے متعلق لوگوں کی طرف سے سوال ہوا اور قرآن نے اس سوال کا تفصیل سے جواب جواب دیا۔
اشہر حُرُم کی حرمت کا قص اس : قرآن نے جس طرح اوپر کی آیات میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ اشہر حرم میں قتل و خونریزی بڑا سنگین گناہ ہے اسی طرح یہاں بھی اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ (کہہ دو کہ اشہر حرم میں جنگ کرنا بڑی سنگین بات ہے)۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرما دی ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنا، اللہ کا کفر کرنا، مسجد حرام سے اللہ کے بندوں کو محروم کرنا اور جو اپنے اعمال و عقائد کے اعتبار سے اس مسجد حرام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں ان کو یہاں سے ہجرت پر مجبور کرنا، اشہر حرم میں جنگ کرنے سے بھی بڑے جرائم ہیں۔ اس وجہ سے اگر ان سنگین تر جرائم کے سد باب کے لیے اشہر حرم میں جنگ کرنی پڑجائے تو یہ اشہر حرم کی حرمت کا قصاص ہوگا اور یہ گناہ نہیں بلکہ بہت بڑی نیکی ہے۔ پھر خاص طور پر“ فتنہ ”کا حوالہ دیا ہے کہ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ کہ یہ فتنہ جو مکہ میں پایا جا رہا ہے یہ تو قتل سے بھی کہیں زیادہ سنگین جرم ہے۔ فتنہ کی تحقیق ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ اس سے مراد وہ سنگدلانہ اذیتیں اور تکلیفیں ہیں جو کفار و مشرکین مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کے لیے پہنچا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ فتنہ تو قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ پھر جب یہ فتنہ آج عین بلد امین اور بلد حرام میں موجود ہے، نہ سرزمین حرم کا احترام اس سے ظالموں کو روک رہا ہے اور نہ اشہر حرم کا احترام اس میں مانع ہے تو آخر میں مظلوموں کی مدافعت ہی کے لیے اشہر حرم میں جنگ کیوں گناہ ٹھہرے !۔ پھر اس فتنہ کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ کفار و مشرکین مسلمانوں کو دین حق سے پھیرنے کے لیے جو مظالم کر رہے ہیں ان کی نوعیت صرف انفرادی واقعات ہی کی نہیں ہے جو کسی وقتی جوش کے تحت صادر ہوگئے ہوں بلکہ مسلمانوں کو دین سے پھیرنے کے لیے یہ لوگ خونریز جنگوں کا ایک سلسلہ چھیڑنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور یہ (اگر ان کے امکان میں ہو تو) اس وقت تک دم لینے والے نہیں ہیں جب تک تمہیں اسلام سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ کیا ایسے سخت و شدید فتنہ کے مقابلہ کے لیے بھی اشہر حرم میں لڑائی گناہ ہی رہے گی۔
یہاں تک تو اصل سوال کا جواب تھا۔ اس کے بعد ارتداد کے ذکر کے تعلق سے ایک مناسب موقع تنبیہ مسلمانوں کو بھی کردی کہ اگر ان کے ظلم و ستم سے مرعوب ہو کر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو اس کے تمام اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے اور وہ دوزخ میں پڑے گا جس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہاں اکارت ہونے کے لیے حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اعمال سے مراد وہ اعمال ہیں جو بظاہر نیکی کے ہیں اور حبط سے مراد ان کا بالکل بےنتیجہ اور بےاثر ہوجانا ہے۔ یعنی اس کفر کے بعد اس نے اسلام کے جو کام کیے اور بھی بالکل برباد ہو کر رہ جائیں گے۔
اس آیت میں ایک خاص نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ اعمال کے اکارت ہونے کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہو کر رہ جائیں گے۔ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ، آخرت میں مرتد ہوجانے والوں کے اعمال کا اکارت ہوجانا تو واضح ہے البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں ان کے اعمال کے اکارت ہونے کی شکل کیا ہوگی ؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہوجاتا ہے وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم ہوجاتا ہے، ریاست پر اس کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی چناچہ اسی اصول پر اسلامی تعزیرات کا وہ قانون مبنی ہے جو مرتدوں کی سزا سے متعلق ہے۔
Ayah 2:218اہل استقامت کا مقام : کفار کے ظلم و ستم سے گھبرا کر مرتد ہوجانے والوں کا انجام بتانے کے بعد ان لوگوں کا مقام بھی بتا دیا جو کفار کی ان تمام ستم رانیوں کے باوجود اپنے ایمان پر جمے رہیں گے اور ہجرت و جہاد کی بازیاں کھیلیں گے۔ ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ بیشک اس بات کے سزا وار ہیں کہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں۔ موقع و محل دلیل ہے کہ یہاں لفظ“ امنوا ”اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے، اسی وجہ سے ہم نے اس کا ترجمہ“ اپنے ایمان پر جمے رہے ”کیا ہے۔ اس وقت ہجرت اور جہاد مسلمانوں پر بیک وقت دونوں واجب تھے، بیت اللہ کی آزادی اور فتنہ کے قلع قمع کے لیے جہاد کا بھی حکم ہوچکا تھا اور نبی ﷺ کی نصرت اور ایمان کے تحفظ کے لیے ہجرت کا بھی، اور یہ دونوں ہی معرکے بڑے سخت تھے اس وجہ سے ان دونوں ہی باتوں کا ذکر فرمایا۔ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ رہنمائی بھی تھی کہ کفار کی ستم رانیوں کا جواب ارتداد نہیں بلکہ ہجرت اور جہاد ہے۔ جو لوگ یہ بازیاں کھیل سکیں ان کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ اللہ کی رحمت کے امید وار ہوسکتے ہیں۔ یعنی یقین تو ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد بھی کسی کو نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ کوئی بھی اپنے عمل سے نجات نہیں حاصل کرے گا بلکہ جس کو بھی نجات حاصل ہوگی خدا کی بخشش اور اس کی مہربانی ہی سے ہوگی، چناچہ آگے فرما دیا وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
Ayah 2:219جوئے اور شراب سے متعلق سوال کی نوعیت : اوپر فصل کی تمہید میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ شراب اور جوئے سے متعلق یہ سوال ان کے ان فوائد کو سامنے رکھ کر بعض لوگوں نے کیا جو اس وقت کی عرب کی مخصوص سوسائٹی کی روایات کی بنا پر ان میں پائے جاتے تھے۔ ہم بیان کرچکے ہیں عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں جوئے اور شراب کی نوعیت موجودہ قمار بازی اور موجودہ بادہ خواری سے بالکل مختلف تھی۔ ہمارے ہاں جوا نری قسمت آزمائی اور بربادی اور شراب نوشی نری عیاشی ہے لیکن عرب جاہلیت میں ان کے ہمدردی خلق کے بعض ایسے پہلو بھی تھے جن کی بنا پر اہل ان کو رذائل میں نہیں بلکہ فضائل میں گنتے تھے۔ اسی پہلو سے یہاں انفاق اور جہاد کے سلسلے میں ان کے متعلق بھی سوال پیدا ہوا کہ انفاق کی ایک راہ تو یہ بھی ہے کہ قحط کے زمانے میں مالدار لوگ شراب پیتے اور جوا کھیلتے ہیں اور جو کچھ جیتتے جاتے ہیں وہ غریبوں میں لٹاتے جاتے ہیں، پھر اس کے متعلق قرآن کا کیا ارشاد ہے ؟ قرآن نے اس کا جواب دیا کہ ٹھیک ہے، ان میں بعض پہلو فائدے کے بھی ہیں لیکن ان سے سوسائٹی کو جو نقصانا پہنچتے ہیں وہ ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اس وجہ سے اخلاقی بہبود کے نقطہ نظر سے یہ ناجائز ہیں۔ گویا قرآن نے یہاں اسلامی شریعت کا یہ مزاج بتا دیا کہ جن چیزوں کا نقصان ان کے نفع سے زائد ہے وہ اس شریعت میں ممنوع ہیں۔
ایک غلط فہمی : بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ قرآن نے یہاں جوئے اور شراب کے جن فوائد و منافع کا اعتراف کیا ہے وہ ان کے مادی اور طبی منافع ہیں لیکن یہ خیال غلط ہے۔ اول و قرآن کو اشیا یا اعمال کے طبع و مادی فوائد سے براہ راست کوئی تعلق نہیں اور اگر کسی پہلو سے ہو بھی تو آخر دنیا میں کون سی بری سے بری اور ناپاک سے ناپاک چیز ہے جس کے اندر مضرت کے ساتھ کچھ پہلو فوائد کے نہ ہوں، پھر جوئے اور شراب ہی کی کیا خصوصیت کہ قرآن نے ان کے ان فوائد کا اعتراف کیا ؟ آخر چوری، زنا، سود اور خنزیر وغیرہ کے اندر جو بعض پہلو فوائد کے ہیں قرآن نے ان کا اظہار کیوں نہیں کیا۔
غلط فہمی کے وجوہ : ہمارے نزدیک اس ساری غلط فہمی کے سبب تین ہیں۔ ایک تو یہ کہ لوگوں نے اس جوئے اور شراب کو بالکل اس جوئے اور شراب پر قیاس کی جس کا رواج ہماری سوسائٹی میں ہے اس وجہ سے وہ اس کے اندر کسی اخلاقی اور انسانی قدر کے پائے جانے کا تصور ہی نہیں کرسکے۔ دوسرا یہ کہ لوگوں کی نظر عام طور پر عرب جاہلیت کے کلام، ان کی روایات اور ان کے معروف و منکر پر بہت کم ہے اس وجہ سے قرآن کے ایسے اشارات تک مشکل ہی سے نگاہ پہنچتی ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ لوگ قرآن کے الفاظ پر بھی غور کرنے کا حق پورا پورا ادا نہیں کرتے سرسری طور پر جو بات سامنے آجاتی ہے اسی کو لے اڑتے ہیں۔ دیکھیے یہاں آیت میں“ نفع ”کا مد مقابل لفظ“ اثم ”استعمال کر کے قرا ان نے بالکل واضح کردیا تھا کہ یہاں زیر بحث ان کے مادی اور طبی فوائد نہیں بلکہ اخلاقی فائدے ہیں اس لیے کہ اثم کا لفظ طبی نقصانات کے لیے نہیں استعمال ہوتا بلکہ اخلاقی مفاسد اور گناہوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگر سوال شراب کے طبی نفع و نقصان سے متعلق ہوتا تو نفع کے مقابل میں“ ضرر ”کا لفظ استعمال ہوتا نہ کہ“ اثم ”کا۔
اس آیت نے اسلامی شریعت کا یہ مزاج واضح کردیا کہ جو چیز اخلاقی اعتبار سے مضر ہیں، اگر ان سے کوئی فائدہ بظاہر بنی نوع انسان کو پہنچتا بھی ہو یا پہنچایا بھی جاسکتا ہو جب بھی ان کے ضرر کے پہلو کے غلبہ کے سبب سے اسلام میں ان سے احتراز ہی واجب ہے۔ مثلاً ہوسکتا ہے کہ کسی جگہ لوگ لاٹری ڈالیں تاکہ اس کی یافت سے ایک شاندار مسجد تعمیر کریں یا فلم اسٹاروں کا ایک امدادی شو منعقد کریں تاکہ اس کے ٹکٹ فروخت کر کے کسی مصیبت زدہ علاقے کے مسلمانوں کی مدد کریں۔ بظاہر یہ کام نیکی اور خدمت خلق کے ہیں لیکن اسلام نے اس نیکی کو جائز نہیں رکھا کیونکہ اس نیکی کے پردے میں جو بدی پرورش پاتی ہے وہ اس نیکی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلِ الْعَفْوَ ۭ كَذٰلِكَ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ
جواب میں تدریج کی حکمت : ایک ہی چیز سے متعلق اس بار بار کے سوال کا سبب میں واضح کرچکا ہوں کہ یہ سوالات ان کمزور قسم کے لوگوں کی طرف سے ہیں جو انفاق میں مشقت محسوس کر رہے تھے۔ ان کی اسی کمزوری کا لحاظ تھا کہ قرآن نے ان کو جواب بھی درجہ بدرجہ دیا تاکہ ان پر زیادہ شاق نہ گزرے۔ دوا سے گھبرانے والے مریض کو اگر پوری خوراک ایک ہی مرتبہ میں نہ دی جاسکتی ہو تو تقاضائے حکمت یہی ہے کہ وہ دو تین مرتبہ میں دی جائے۔ چناچہ انفاق کے متعلق بار بار سوال کرنے والوں کو بھی قرٓان نے آخری اور فیصلہ کن جواب میں یہ تیسری مرتبہ میں دیا۔ یہ جواب اگر پہلی ہی مرتبہ دے دیا جاتا تو عجب نہیں کہ زیادہ کمزور قسم کے لوگوں کے ایمان کے لیے آزمائش بن جاتا۔
یہ جواب نہایت مختصر ہے مگر ساتھ ہی نہایت واجح اور قطعی ہے۔ فرمایا کہ قُلِ العفو، (جو فاضل بچے، وہ خرچ کرو)۔ فاضل سے مراد ظاہر ہے کہ آدمی کی اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی ناگزیر ضروریات سے جو فاصل بچے وہ ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں وہ انفاق زیر بحث نہیں ہے جو عام مستحقین کے لیے صدقاتِ واجبہ اور زکوۃ وغیرہ کی صورت میں ہر مسلمان پر ضروری ہے بلکہ یہ وہ انفاق ہے جس کا تعلق جہاد، اعلائے کلمۃ اللہ اور تحفظ و دفاعِ ملت سے ہے۔ ان مقاصد کے لیے ایک مسلمان پر انفاق کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی یہ آخری حد بتا دی گئی ہے کہ اگر ملت کی حفاظت و مدافعت کے لیے ضرورت پڑجائے تو اپنی ناگزیر ضروریات سے جو فاضل بچا سکو وہ سب اس جہاد میں قربان کردو۔ قومی زندگی میں ایسی حالت و واقعات بھی پیش آتے ہیں جب قوم و مذہب کے لی سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے اور دنیا کی ہر غیرت مند قوم خواہ کافر ہو یا مومن، یہ بازی کھیلنے پر مجبور ہوتی ہے، اسلام نے یہ چاہا ہے کہ ہم اس قربانی وہ جاں بازی کے لیے اپنی خوشی سے تیار رہیں۔rnَذٰلِكَ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ، یہ اوپر کے پورے سوال و جواب پر تبصرہ ہے۔ ہم عرض کر آئے ہیں کہ یہ سارے سوالات انہی مسائل سے متعلق ہیں جو اشہر حرم، جہاد اور انفاق سے متعلق حج کے سلسلہ میں مذکور ہوئے تھے۔ انہی مسائل سے متعلق بعد میں کچھ مزید سوالات پیدا ہوئے تو ان کی وضاحت فرمائی اور بطور ذکر نعمت کے اشارہ فرما دیا کہ یہ اوپر کے اجمالات کی توضیح اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل ہے جو اس نے سورة قیامہ میں فرمایا ہے کہ ان علینا جمعہ وقرانہ، فاذا قرناہ فاتبع قرانہ، ثم ان علینا بیانہ، کہ ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا سنانا، تو جب ہم سنا چکیں تو اس سنانے کی پیروی کرو، پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت۔ یہاں اس تبیین کا فائدہ یہ بتایا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ تاکہ تم غور و فکر کرو ،۔ قرآن مجید نے مسائل کے بیان کرنے میں یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ ہر بات کے ہر پہلو کو ایک ہی ساتھ نہیں پیش کیا بلکہ ان کے بعض پہلوؤں کو مجمل چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب ذہنوں میں ان سے متعلق سوالات پیدا ہوئے تو تدریج کے ساتھ ان کی وضاحت فرمائی، یہ محض اس لیے ہے کہ لوگوں کو غور و فکر کی تربیت حاصل ہو اور لوگ دین کے معاملات میں مجرد لکیر کے فقیر بن کر نہ رہیں بلکہ اس کے اسرار و رموز اور فوائد و مصالح تک پہنچنے کے لیے خود اپنی عقل بھی استعمال کریں۔
ایک پر حکمت اضافہ : بظاہر تو یہ آیت لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ پر ختم ہوجاتی ہے لیکن یہاں اس کے بعد فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ کا اضافہ بھی ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اضافہ نہایت قیمتی ہے۔ اوپر کے سارے سوالات پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ سوالات جو پیدا ہوئے تو محض اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ لوگوں کی نگاہوں میں عام طور پر وہ توازن نہیں ہوتا جو دین اور دنیا دونوں کے فوائد و مصالح کو صحیح تول سکے۔ اس عدم توازن کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر دینداری کی طرف میلان ہوا تو لوگ دین کو نری رہبانیت بنا کے رکھ دیتے ہیں، یہاں تک کہ جنگ و جہاد خواہ کسی حالت میں بھی ہو، ان کے خلافِ تقوی قرار پا جاتا ہے اور اگر دنیا داری کی طرف میلان ہوگا تو جوئے اور شراب جیسی چیزوں کو بھی محض اس خیال کی بنا پر نیکی قرار دینے کی کوشش کریں گے کہ آخر ان میں بھی تو کچھ پہلو فائدے کے ہیں۔ قرآن نے فکرِ انسانی کی تربیت کی جو راہ اختیار کی ہے وہ اس عدم توازن کو دور کر کے اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کا حق صحیح صحیح پہچان سکے۔
لفظ“ عفو ”سے اشتراکیت کا غلط استدلال :“ عفو ”کے لفظ سے اشتراکی نظریات سے متاثر لوگوں نے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ ناگزیر ضروریات سے فاضل آمدنی ایک اسلامی حکومت اجتاعی مقاصد کے لیے اپنے قبضہ میں لے سکتی ہے۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اول تو یہاں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا تعلق حکومت سے نہیں بلکہ عام افراد سے ہے کہ وہ اپنی آزادی رائے سے اس حد تک ایثار کے لیے تیار رہیں، دوسرے یہ کہ اس چیز کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوچکا ہے، عام حالات سے نہیں ہے بلکہ ایمرجنسی کے حالات سے ہے جب ملت کے تحفظ کا سوال سامنے آن کھڑا ہو۔ ایسے حالات میں اول تو افراد خود ہی ہر طرح کی قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور اگر حکومت کوئی پابندی عائد کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں سمجھتے اگرچہ اسلام کا حققی رجحان یہی ہے کہ افراد کی تربیت اس طرح کی جائے کہ ان کے اندر ارادہ اور اختیار کی آزادی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ اسلام کی نظر میں اس آزادی کی جتنی قدر ہے، اتنی قدر مجبور اور پابندی کی نیکی کی نہیں ہے۔
Ayah 2:220یتیموں کے بارے میں مسلم معاشرہ کی ذمہ داری : یتامیٰ سے متعلقیہ سوال بھی اس معاشرتی خدمت و تعاون کے تعلق سے پیدا ہوا جس کی ہدایت آیت 215 میں دی گئی ہے۔ اسلام نے جب ہر شخص پر اس کے وادین و اقربا کے ساتھ ساتھ یتامیٰ اور خاص کر خاندان کے یتامی کی ذمہ داری بھی ڈالی کہ اگر وہ محتاج و بےوسیلہ ہوں تو ان پر خرچ کرو اور اگر ان کے پاس مال ہو تو پوری احتیاط کے ساتھ (حتی الامکان بلا معاوضہ) اس کی نگرانی اور اس کو نشوونما دینے کی کوشش کرو تو لوگوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر ایک شخص انتظامی سہولت کے پیش نظر کسی یتیم کے مال یا اس کے کاروبار کو اپنے مال اور کاروبار میں شامل کرلے اور اس کے حقوق کی حفاطت کے پہلو سے ایسے یتیم کی ماں سے نکاح کرلے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے ؟ یہ سوال خاص طور پر اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اسلام نے یتیموں کے حقوق اور ان کے مال کے تحفط سے متعلق جن احتیاطوں کی تاکید فرمائی ہے وہ بڑی ہی سخت ہیں۔ قرا ان میں صاف ارشاد ہے کہ نیک مقصد کے سوا یتیموں کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، یہ بھی تبیہ ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھرتے ہیں، ایک متقی آدمی ان تنبیہات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی اجازت کے بغیر یہ جرات نہیں کرسکتا تھا کہ یتیموں کے معاملات اور اپنے معاملات کو یک جا کرسکے۔
اس سوال کے جواب میں قرآن نے اصولی بات جو فرمائی وہ یہ کہ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ، اصل مقصود یہ ہے کہ ہر پہلو سے یتیموں کی بہبود پیش نظر رہے، جس چیز میں ان کی بہتری ہو وہی بہتر ہے۔ اگر تمہارے حالات کے لحاظ سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان کے معاملات الگ رکھ کر ان کی دیکھ بھال کرو تو ایسا کرو، اور اگر محسوس کرو کہ اپنے ساتھ شامل کر کے زیادہ بہتر طریقہ سے یہ فرض انجام دے سکتے ہو تو تمہیں اس کی بھی اجازت دی جاتی ہے، آخر وہ تمہارے اپنے ہی بھائی بند تو ہیں، پھر علیحدگی کیوں لازم قرار دی جائے ؟ لیکن اس اجازت کے ساتھ یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ، یعنی ہر شخص یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ بات مخفی نہی رہ سکتی کہ اس اشتراک سے کس کے پیش نظر یتیم کی بہبود ہے اور کس کے پیش نظر اس پردے میں اس کے مال کو ہڑپ کرنا، اگر کسی نے اس اجازت سے غلط فائدہ اٹھایا تو وہ یاد رکھے کہ خدا عزیز و حکیم ہے، کوئی اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا۔ ساتھی ہی اس احسان کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس نے تمہاری سہولت کے پیش نظر تمہیں اس قسم کے اشتراک کی اجازت دے دی ورنہ یہ عین ممکن تھا کہ وہ تمہیں اس اشتراک سے روک دیتا اور ساتھ ہی یہ حکم دے دیتا کہ یتیم کے مال یا جائداد کی حفاظت کرو۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم ایک بڑی مشقت میں پڑجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر بڑا کرم فرمایا کہ اس نے بغیر کسی مشقت میں ڈالے تمہارے لیے خدمت اور نیکی کی ایک راہ کھولی تو تم میں سے ہر شخص خدا کے اس احسان کا شکر گزار ہو اور اس اجازت سے کوئی غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔
‘ عنت ’ کا مفہوم :“ عنت ”کے معنی زحمت اور مشقت کے ہیں اور“ اعنات ”کے معنی مشقت میں ڈالنے کے ہیں۔ اس سے اسلامی شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے کہ اس شریعت نے مشقت میں ڈالنے کی نہیں بلکہ مشقتوں سے بچانے کی راہیں کھولی ہیں۔
Ayah 2:221مشرکات سے نکاح کی ممانعت : اوپر یتیموں کی بہبود کے پہلو سے جس اشتراک کی اجازت دی گئی ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی یتیم کا ولی، یتیم کے حقوق ہی کے تحفظ کے نقطہ نظر سے یہ مناسب خیال کرے کہ اس یتیم کی ماں سے نکاح کرلے تاکہ اس طرح ایک بیوہ کی پرورش اور اس کی حفاظت و عصمت کا انتظام بھی ہوجائے اور یتیم کے حقوق کی نگہداشت کے لیے اس کے گھر میں ایک بیدار نگاہ رکھنے والی بھی آجائے تو اس کا حکم کیا ہے ؟ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ مصلحت بجائے خود اہمیت رکھنے والی ہے اور اس کو پیش نظر رکھ کر یتامی کی ماؤں سے نکاح کیا جاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مومنہ ہوں۔ یہ شرط اس جہ سے لگائی ہے کہ اس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ بہت سے ایسے یتیم بھی تھے جن کی مائیں اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں اس وجہ سے یہ ہدایت ہوئی کہ اس مصلحت کی خاطر بھی مشرکات سے نکاح کی اجازت بہرحال نہیں ہے کیونکہ اس سے دوسرے مفاسد کے پیدا ہونے کے اندیشے ہیں جن کی طرف آگے اشارہ فرمایا ہے۔
‘ مشرکین ’ اور ‘ مشرکات ’ کا استعمال بطور اصطلاح : یہ امر ملحوظ رہے کہ مشرکین اور مشرکات کا لفظ قرآن میں خاص عرب کے مشرکین اور مشرکات کے لیے بطور لقب یا علم کے استعمال ہوا ہے، دوسری قومیں جن میں شرک پایا جاتا ہے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشابہ اہل کتاب میں سے، وہ براہ راست اس لفظ کے تحت نہیں ہیں اس وجہ سے ان کے احکام کی تفصیل اپنی جگہ پر آئے گی۔
پسند اور ناپسند کے لیے اسلامی معیار : یہاں بنی اسماعیل کے مشرکین اور مشرکات سے متعلق یہ وضاحت فرما دی کہ نہ ان کی عورتوں کو اپنے نکاح میں لینا تمہارے لیے جائز ہے اور نہ اپنی لڑ کیا ان کو دینا جائز ہے۔ اس ممانعت کے ساتھ یہ وضاحت بھی بڑی تاکید کے ساتھ فرما دی کہ ایک مسلمان لوٹدی ایک آزاد مشرکہ پر ترجیح رکھتی ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنی ہی دلکش معلوم ہو، اسی طرح ایک غلام مومن ایک آزاد مشرک پر ترجیح رکھتا ہے، اگرچہ وہ تمہیں کتنا ہی بھلا لگتا ہو۔ پھر اس کی وجہ بتا دی کہ اسلام میں پسند اور ناپسند کے لیے معیار نہ ظاہر شکل و صورت ہے، نہ نسل و نسب اور نہ آزادی اور غلامی بلکہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ اس وجہ سے اب تمہارے رشتے ناتے ذاتوں اور برادریوں کے پابند نہیں رہ گئے بلکہ عقیدے اور عمل کے تابع ہوگئے ہیں۔ قریش کی ایک مہ جبین شہزادی تمہارے لیے دو کوڑی کی ہے اگر وہ ایمان کے زیور سے آراستہ نہیں ہے اور سواحلِ افریقہ کی ایک کالی کلوٹی لونڈی تمہارے لیے حور جنت ہے اگر اس کا دل جمالِ ایمان و اسلام سے نورانی ہے۔ اسی طرح تمہارے لیے یہ بات تو جائز ہے کہ تم اپنی لڑکی کا ہاتھ ایک غلام زادہ کے ہاتھ میں پکڑا دو اگر وہ دولت ایمان رکھتا ہے اور قریش کے ایک صاحب شوکت سردار کو بھی اپنی لڑکی دینے سے انکار کردو اگر وہ ایمان واسلام سے محروم ہے۔
زندگی پر رشتے ناتے کے اثرات : پھر اس کا فلسفہ بتایا کہ رشتے ناتے کے اثرات زندگی پر سطحی اور سرسری نہیں ہوتے بلکہ بڑے گہرے ہوتے ہیں۔ اگر آدمی ان چیزوں میں عقائد و اعمال کو کوئی اہمیت نہ دے، صرف حسن، یا مال، یا خانادان یا مصلحت ہی کو سامنے رکھے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ہی خرچ پر اپنے گھر میں ایک ایسی بلا پال لے جو صرف اسی کے نہیں بلکہ اس کی آئندہ نسلوں کے ایمان و اسلام کا بیج بھی مار دے۔ شادی بیاہ کے تعلقات نے مذہب، روایات اور تہذیب و تمدن میں جو عظیم تبدیلیا کی ہیں اس کی عملی مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بیشمار عقائدی گمراہیاں ان عورتوں کے ذریعہ سے پھیلیں جو وہ دوسری بت پرست قوموں میں سے بیاہ کے لائے۔ اسی طرح ہمارے ہاں مغل سلاطین نے ہند و راجاؤں کے ہاں سیاسی مصالح کے تحت جو شادیاں کیں تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد، اوہام، رسوم اور عبادت کے طریقے بھی اپنے گھروں میں گھسا لائے۔ آج بھی جو لوگ قوموں اور مذہبوں کے امتیازی نشانات و نظریات کو ختم کرنے کے درپے ہیں وہ اس کا سب سے زیادہ کارگر نسخہ آپس کی شادیوں ہی کو سمجھتے ہیں اس وجہ سے ایک مسلمان کو اس معاملے میں بےپروا اور سہل انگار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس عظیم حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جس رب پر وہ ایمان رکھتا ہے اس کی دعوت مغفرت اور جنت کی طرف ہے اور جو لوگ اس ایمان سے محروم ہیں وہ دوزخ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں، عام اس سے کہ عورت ہوں یا مرد۔
یہ آیت بھی چونکہ اوپر کے مباحث کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی ہے اس وجہ سے آخر میں فرمادیا کہ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَــتَذَكَّرُوْنَ ، اور اللہ اپنی آیتوں کی وضاحت کر رہا ہے تاکہ لوگ یا ددہانی حاصل کریں۔
اوپر کی دو آیتوں میں یتامیٰ سے متعلق جو باتیں کہی گئی ہیں سورة نساء میں بھی ان کی طرف اشارے ہیں۔ ہم متعلق آیات نقل کیے دیتے ہیں تاکہ دونوں کو سامنے رکھنے سے ہر پہلو واضح ہوجائے۔
وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (2) وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا (3) وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا (4) وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلا مَعْرُوفًا (5) وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا (6): اور یتیموں کا مال ان کے حوالہ کرو اور ان کے اچھے مال کے بدلے اپنا برا مال نہ دو اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ کما حقہ، انصاف نہ کرسکو گے تو جو راضی ہوں، عورتوں میں سے ان سے نکاح کرلو، دو تین چار تک۔ اگر یہ انیدشہ ہو کہ عورتوں میں عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی پر قناعت کرو، یا پھر جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔ اور یہ زیادہ اس بات کے قرین ہے کہ تم عدل سے نہ ہٹو۔ اور ان عورتوں کو راضی خوشی ان کے مہر دو ، اگر وہ اس کا کوئی حصہ تمہارے لیے بخوشی چھوڑ دیں تو اس کو باطمینان اپنے تصرف میں لاؤ اور بیوقوف یا نادان بچوں کو اپنا وہ مال حوالہ نہ کرو جو خدا نے تمہاری قیام معیشت کا ذریعہ بنایا ہے، البتہ اس میں ان کو کشادگی کے ساتھ کھلاؤ پہناؤ اور ان کو تسلی دیتے رہو اور یتیموں کو جانچتے رہو، جب وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان میں معاملات کی سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالہ کرو اور فضول خرچی اور جلد بازی کے ساتھ کہ کہیں وہ بڑے ہوجائیں ان کا مال ہڑپ نہ کرو۔ جو غنی ہو تو چاہیے کہ وہ احتراز کرے اور جو محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اس میں سے لے، پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالہ کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو، ویسے اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے (نساء :2-6)۔
اگلی آیت 222 تا 231 کا مضمون : اوپر آپ نے دیکھا کہ کس طرح حج کے تعلق سے جہاد، جہاد کے تعلق سے انفاق، انفاق کے تعلق سے جوئے اور شراب اور ساتھ ہی یتامیٰ کی ہمدردی کے مسائل یکے بعد دیگرے پیدا ہوگئے۔ اسی طرح یتامیٰ کی ماؤں کے ساتھ نکاح کے مسئلہ نے ایک طرف تو طلاق و نکاح سے متعلق بعض مناسبِ وقت مسائل کے بیان کے لیے تقریب پیدا کردی اور دوسری طرف عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے تقاضے سے بعض احکام و ہدایات کے نزول کے لیے نہایت ساز گار فضا پیدا ہوگئی اور قرآن مجید کا طریقہ یہی ہے کہ جب ایک بات کے بیان لیے موزوں حالات پیدا ہوگئے تو بارش کی طرح کلام ایک وسیع دائرے میں برس گیا ہے چناچہ یہاں بھی متعلق مسائل کا ایک نہایت اہم حصہ بیان ہوگیا ہے۔ ان مسائل کا آغاز ایّام ماہواری سے متعلق ایک سوال کے جواب سے ہوا ہے۔ اس خاص سوال کی اہمیت اس سلسلے میں یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے بہت سے مسائل کی، جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا، یہی چیز حد بندی کرتی ہے۔ اس وجہ سے اصل مسائل سے پہلے خود اس چیز سے متعلق شریعت کے احکام و ہدایات کا جاننا ضروری تھا۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 2:222ایام حیض کے احکام : ایام ماہواری سے متعلق یہ سوال صرف اسی پہلو سے نہیں پیدا ہوا کہ اس زمانے میں عورت سے قربت جائز ہے یا نہیں، اس زمانے میں قربت تو نہ صرف تمام آسمانی مذاہب میں ممنوع رہی ہے بلکہ عرب جاہلیت بھی اس کو ناجئز سمجھتے تھے، ان کے اشعار میں مختلف پہلوؤں سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اس سے متعلق دوسرے بہت سے مسائل تھے، جن میں بڑی افراط وتفریط پائی جاتی تھی مثلاً یہ کہ اس زمانے میں عورت سے اجتناب کے حدود کیا ہیں، اس کے لیے طہارت کے کیا آداب و شرائط ہیں اور طلاق و عدت وغیرہ کے معاملات میں اس کی اہمیت کیا ہے ؟ بالخصوص موخر الذکر سوال کی بڑی اہمیت تھی اس لیے کہ اس کے اثرات نکاح، طلاق، عدت وراثت تقریباً تمام عائلی مسائل پر پڑتے تھے اس وجہ سے نکاح و طلاق کی اس بحث میں قرآن نے سب سے پہلے اسی سوال کو لیا اور اس کا جواب دیا۔
علیحدگی کی حد : اس زمانے میں عورت سے علیحدہ رہنے (اعتزال) کا جو حکم دیا ہے اس کی صحیح حد آگے کے الفاظ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰى يَـطْهُرْنَ ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ (اور تم ان سے قربت نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں تو جب وہ پاکیزگی حاصل کرلیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے) سے خود واضح ہو رہی ہے کہ یہ علیحدگی صرف زن و شو کے خاص تعلق کے حد تک ہی مطلوب ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو بالکل اچھوت بنا کے رکھ دو ، جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے۔ اس چیز کی وضاحت احادیث اور نبی ﷺ کے عمل سے بھی ہوئی ہے۔
اس آیت میں“ طہر ”اور“ تطہر ”دو لفط استعمال ہوئے ہیں۔ طہر کے معنی تو یہ ہیں کہ عورت کی ناپاکی کی حالت ختم ہوجائے اور خون کا آنا بند ہوجائے اور تطہر کے معنی یہ ہیں عورت نہا دھو کر پاکیزگی کی حالت میں آجائے۔ آیت میں عورت سے قربت کے لیے طہر کو شرط قرار دیا ہے اور ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ جب وہ پاکیزگی حاصل کرلیں تب ان کے پاس آؤ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ چونکہ قربت کی ممانعت کی اصلی علت خون ہے اس وجہ سے اس کے انقطاع کے بعد یہ پابندی تو اٹھ جاتی ہے لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کرلے تب اس سے ملاقات کرو۔
تمام بدیہیاتِ فطت شریعت کے اجزاء ہیں : فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ (تو ان کے پاس آؤ، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے) سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام بدیہیات فطرت اللہ کے اوامر میں شامل ہیں اور اس پہلو سے وہ شریعت الٰہی کے اجزا ہیں اگرچہ لفظوں میں خدا کی طرف سے ان کا حکم دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو۔ مثلاً یہ کہ اگرچہ اس بات کا کہیں حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لقمہ منہ میں ہی ڈالنا چاہیے، ناک یا آنکھ میں نہیں ڈالنا چاہیے تاہم یہ خدا کا حکم ہے اس لیے کہ فاطر نے ہماری فطرت یہی بنائی ہے، اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرتے تو درحقیقت وہ خدا کے ایک واجح بلکہ واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس پر وہ خدا کے ہاں سزا کا مستحق ہوگا۔ ہم نے اس کو واضح کے بجائے واضح تر اس لیے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے معاملات کو صرف اس وجہ سے ہماری فطرت پر چھوڑ دیا ہے کہ فطرت ان کی وضاحت کی وجہ سے ان میں کسی رہنمائی کی محتاج نہیں تھی۔ بعینہ یہی معاملہ محل مباشرت کا ہے، اگر کوئی شخص اس میں اندھے پن کا ثبوت دیتا ہے تو وہ حیوانات سے بھی کیا گزرا ہے اس لیے کہ وہ اس میں کوئی غلطی نہیں کرتے اگرچہ وہ کسی قرآن اور کتاب سے آشنا نہیں ہیں۔
توبہ اور تَطَہُّر کی حقیقت : اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ، توبہ اور تطہر کی حقیقت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ توبہ اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنے کا نام ہے اور تطہر اپنے ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا ہے اس اعتبار سے ان دونوں کی حقیقت ایک ہوئی اور مومن کی یہ دونوں خصلتیں اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں اس کے برعکس جو لوگ ان سے محروم ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں۔ یہاں جس سباق میں یہ بات آئی ہے اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جو لوگ عورت کی ناپاکی کے زمانے میں قربت سے اجتناب نہیں کرتے یا یا قضائے شہوت کے معاملے میں فطرت کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک نہایت مبغوض ہیں۔ احادیث میں اس بات کی وضاحت موجود ہے۔
Ayah 2:223“ حرث ”کے معنی عربی میں کھیتی کے ہیں، عام اس سے کہ وہ باغوں کی نوعیت کی ہو یا دوسری فصلوں کی۔
عورت کے لیے کھیتی کا استعارہ : عورتوں کے لیے کھیتی کے استعارہ میں ایک سیدھا سادا پہلو تو یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے لیے قدرت کا بنایا ہوا یہ ضابطہ ہے کہ تخم ریزی ٹھیک موسم میں اور مناسب وقت پر کی جاتی ہے، نیز بیج کھیت ہی میں ڈالے جاتے ہیں کھیت سے باہر نہیں پھینکے جاتے، کوئی کسان اس ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اسی طرح عورت کے لیے فطرت کا یہ ضابطہ ہے کہ ایام ماہواری کے زمانے میں یا کسی غیر محل میں اس سے قضائے شہوت نہ کی جائے اس لیے کہ حیض کا زمانہ عورت کے حمام اور غیر آمادگی کا زمانہ ہوتا ہے، اور غیر محل میں مباشرت باعث اذیت و اضاعت ہے۔ اس وجہ سے کسی سلیم الفطرت انسان کے لیے اس کا ارتکاب جائز نہیں۔ اپنے اس پہلو سے یہ آیت اوپر والی آیت کی گویا توضیح مزید ہوئی۔
آزادی اور پابنندی کے حدود : فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ (پس انپی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ) میں بیک وقت دو ابتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک تو اس آزادی، بےتکلفی، خود مختاری کی طرف جو ایک باغ یا کھیتی کے مالک کو اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری اس پابندی، ذمہ داری اور احتیاط کی طرف جو ایک باغ یا کھیتی والا اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں ملحوظ رکھتا ہے۔ اس دوسری چیز کی طرف“ حرث ”کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اور پہلی چیز کی طرف اَنّٰى شِئْتُمْ کے الفاظ۔ وہ آزادی اور یہ پابندی، یہ دونوں چیزیں مل کر اس رویہ کو متعین کرتی ہیں جو ایک شوہر کو بیوی کے معاملہ میں اختیار کرنا چاہیے۔
ہر شخص جانتا ہے کہ ازدواجی زندگی کا سارا سکون و سرور فریقین کے اس اطمینان میں ہے کہ ان کی خلوت کی آزادیوں پر فطرت کے چند موٹے موٹے قیود کے سوا کوئی قید، کوئی پابندی اور کوئی نگرانی نہیں ہے۔ آزادی کے اس احساس میں بڑا کیف اور بڑا نشہ ہے۔ انسان جب اپنے عیش و سرور کے اس باغ میں داخل ہوتا ہے تو قدرت چاہتی ہے کہ وہ اپنے اس نشہ سے سرشار ہو لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس کے سامنے قدرت نے رکھ دی ہے کہ یہ کوئی جنگل نہیں بلکہ اس کا اپنا باغ ہے اور یہ کوئی ویرانہ نہیں بلکہ اس کی اپنی کھیتی ہے، اس وجہ سے وہ اس میں آنے کو تو سو بار آئے اور جس شان، جس آن، جس سمت اور جس پہلو سے چاہے آئے لیکن اس باغ کا باغ ہونا اور کھیتی کا کھیتی ہونا یاد رکھے، اس کے کسی آنے میں بھی اس حقیقت سے غفلت نہ ہو۔ اپنی کھیتی کے متعلق ہر کسان کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس سے اسے برابر نہایت اچھی فصل حاصل ہوتی رہے، مناسب وقت پر اس میں ہل چلتے رہیں، ضرورت کے مطابق اس کو کھاد اور پانی ملتا رہے، موسمی آفتوں سے وہ محفوظ رہے، آئند و رودن، چرند و پرند اور دشمن اور چور اس کو نقصان نہ پہنچا سکیں، جب وہ اس کو دیکھے تو اس کی طراوت و شادابی اس کو خوش کردے اور جب وقت آئے تو وہ اپنے پھوں اور پھولوں سے اس کا دامن بھر دے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے نظریے کی لغویت : قرآن نے عورت کے لیے کھیتی کے استعارے میں یہ ساری باتیں جمع کردی ہیں اور اس استعارے نے ان لوگوں کے نظریے کی تو جڑ ہی کاٹ دی ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کی اسکیمیں چلاتے ہیں۔ اس لیے کہ کھیتی سے متعلق یہ رہنمائی تو معقول قرار دی جاسکتی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ اور اچھی سے اچھی پیداوار کس طرح حاصل کی جائے لیکن یہ بات بالکل غیر منطقی ہے کہ لوگوں کو اس بات کے سبق پڑھائے جائیں کہ وہ بیج تو زیادہ سے زیادہ ڈالیں لیکن فصل کم سے کم حاصل کریں۔ اس قسم کی نامعقول منطق صرف نادانوں ہی کو سوجھ سکتی ہے۔
وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ (اور اپنے لیے آگے بڑھاؤ) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح زمین کی کھیتی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے تم اپنے مستقبل کی معاش کا انتظام کرو اسی طرح عورت کی کھیتی کی اصلی غایت یہ ہے کہ اس سے تم نسل انسانی کے مستقبل میں اپنی جگہ محفوظ اور اس کے قیام و بقا میں اپنا حصہ ادا کرسکو۔ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ، کے بعد ان الفاظ کے اضافے نے یہ حقیقت نہایت واضح الفاظ میں سامنے رکھ دی کہ عورت سے مواصلت کی اصل غایت بقائے نسل ہے، لذت اس کا صرف ضمنی فائدہ ہے اس وجہ سے ہر وہ طریقہ جو اس مقصد کو ضائع کرنے والا یا اس کو نقصان پہنچانے والا ہو اگرچہ لذت کے تقاضے اس سے پورے ہوجاتے ہیں، فاطر کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انسان جس طرح اپنی اولاد کے ذریعہ سے نسل انسانی کے اندر اپنا ایک مقام محفوظ کرتا ہے اسی طرح ان کے ذریعہ سے اگر وہ ان کی اچھی تربیت کرسکے، آخرت میں بھی اپنے سرمائے میں برابر اضافہ کرتا رہتا ہے اس لیے کہ اولاد صالح کی نیکی ایک خیر جاری ہے جس کا سلسلہ آدمی کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ احادیث میں اس کی دلیل موجود ہے۔ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ میں یہ دونوں ہی پہلو موجود ہیں۔
بعض اہل تاویل نے اس کی تاویل اس سے مختلف کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہی تاویل صحیح ہے۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اسی سورة میں، دوسری جگہ اس طرح وارد ہے، ”فالآن باشروھن وابتغوا ما کتب اللہ لکم : پس اب تم ان سے مباشرت کرو، اور وہ چیز چاہو جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کی ہے“ (بقرہ :187)۔ اس آیت کی تاویل اوپر گزر چکی ہے۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ (اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ بالآخر تمہیں اس سے ملنا ہے) کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تم فطرت کے ان قوانین اور اللہ کے ان حدود کو آض خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی توڑ سکتے ہو اور تمہیں اس کی مہلت ملی ہوئی ہے لیکن یاد رکھو کہ ایک دن تمہیں خدا کو بھی منہ دکھانا ہے جس کی آنکھیں تمہیں ہر جگہ دیکھ رہی ہیں اور جس کی پکڑ سے تمہیں کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ اس دھمکی کے ساتھ ان اہل ایمان کو بشارت بھی دے دی جو نفس کی تمام ترغیبات کے باوجود اس امر کو یاد رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ ۭوَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
Ayah 2:224اللہ کو قسموں کا ہدف بنانے کا مطلب :“ عُرْضَةً ”کے معنی ہدف اور نشانہ کے ہیں۔ اللہ کو قسموں کا ہدف بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نام پر بےضرورت اور لا یعنی قسمیں یا ایسی قسمیں کھائی جائیں جو نیکی وتقوی اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ خدا کے عظیم نام کو لا یعنی قسموں کے لیے استعمال کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مچھر مارنے کے لیے توپ داغتا پھرے اور نیکی اور تقوی کے خلاف قسموں کے لیے اس کے پاک نام کو استعمال کرنا گویا اسی کے نام سے نیکی اور تقوی کی جڑ کاٹنا ہے جو تمام نیکی اور تمام خیر کا سرچشمہ ہے۔
عربی زبان میں“ اَن ”سے پہلے بعض حالات میں مضاف اور بعض مواقع میں اس کے بعد حرف“ لا ”کو حذف کردیتے ہیں۔ اس محذوف کو سیاق وسباق سے سمجھتے ہیں۔ یہاں واضح قرینہ ہے کہ ‘ اَن ’ کے بعد ‘ لا ’ محذوف ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ استاذ امام نے اس کے شواہد اپنی کتاب الاسالیب میں جمع کردیے ہیں۔
‘ بر ’ ، ‘ تقوی ’ اور اصلاح سے مراد :‘ بر ’ تقوی اور اصلاح کے تینوں لفظوں نے یہاں خیر اور نیکی کے تمام اقسام کو جمع کرلیا ہے۔“ بر ”ان تمام نیکیوں پر حاوی ہے جن کا تعلق والدین، رشتہ داروں، مسکینوں، یتیموں اور دوسرے حقوق العباد سے ہے ،“ تقوی ”ان نیکیوں پر حاوی ہے جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں اور“ اصلاح ”سے مراد وہ نیکیاں ہیں جو معاشرہ سے تعلق رکھنے والی ہیں۔
یہ آیت آگے بیان ہونے والے مسائل کی تمہید ہے۔ آگے ایلاء کا اور اس کے بعد نکاح و طلاق سے متلعق بعض اہم مسائل کا ذکر آ رہا ہے۔ ایلاء اس قسم کو کہتے ہیں جو کوئی شخص بیوی سے ازداوجی تعلق نہ رکھنے کے لیے کھا بیٹھے، قسم چونکہ تمام معاشرتی، سماجی اور سیاسی معاملات و معاہدات میں اعتماد و استحکام کا ذریعہ ہے اور اس سے تمدن کے نہایت اعلی مقاصد پورے ہوتے ہیں اس وجہ سے ایلاء اور نکاح و طلاق کے مسائل سے پہلے خود قسم کی اہمیت واضح کرنے کے لیے یہ فرمایا کہ خدا کے نام کو کبھی ایسی قسموں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے جو نیکی وتقوی اور اصلاح کے منافی ہوں خدا کی قسم کھانے کے معنی اس کو گواہ ٹھہرانے کے ہیں، اگر کوئی شخص اس کے نام پر کوئی ایسی قسم کھاتا ہے جو نیکی یا سچائی یا عدل کی مخالفت کے لیے ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ خدا کو خود خدا کے خلاف اور شیطان کے حق میں گواہ بنانا چاہتا ہے۔ اس قسم کی تمام قسمیں خدا کے ساتھ مذاق کے ہم معنی ہیں اس وجہ سے ایسی قسمیں اول تو جائز ہی نہیں ہیں لیکن اتفاق سے کوئی شخص کھا بیٹھے تو اسلام نے اس کو توڑ دینے کا حکم دیا ہے۔
اخیر میں سمیع اور علیم کے حوالہ میں کچھ دھمکی کا نداز ہے کہ جو لوگ خدا کے قدوس نام کو اس طرح تختہ مشق ستم بنائیں گے وہ اس حقیقت کو نہ بھولیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے، وہ ایسے گستاخوں کو سزا دیے بغیر نہ رہے گا۔
Ayah 2:225ارادی اور غیر ارادی قسمیں : یعنی اس مواخذہ سے صرف وہی قسمیں مستثنی ہیں جو بالکل غیر ارادی طور پر زبان پر جاری ہوجاتی ہیں، جن کا تعلق دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے ہوتا ہے، جو کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر نہیں کھائی جاتی ہیں بلکہ محض سخن تکیہ کے طور پر زبان سے اثنائے کلام میں ٹپک پڑا کرتی ہیں۔ لیکن جو قسمیں دل کے قصد و ارادہ اور قلب کے تعمد کا نتیجہ ہوں گی اور جن کا کوئی قریب یا بعید اثر آدمی کے اپنے یا دوسرے کے حقوق و مفادات پر پڑنے والا ہوگا، اگر ان میں خدا کے نام کو غلط طور پر استعمال کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان قسموں پر ضرور مواخذہ فرمائے گا۔
“ لغو ”قسموں کو اگرچہ مواخذہ سے مستثنی رکھا ہے اس لیے کہ خدا غفور اور حلیم ہے لیکن ان کو“ لغو ”کے لفظ سے تعبیر کر کے واضح کردیا کہ ثقہ اور سنجیدہ لوگوں کو ان سے بھی احتراز کرنا واجب ہے۔ قرآن میں شریک و شائستہ لوگوں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں ان میں یہ بات خاص طور پر بیان ہوئی ہے کہ وہ لغو چیزوں سے احتراز کرتے ہیں۔
Ayahs 2:226–227تفسیر آیت 226 تا 227: ایلاء کے احکام : قسموں کے متعلق مذکورہ بالا تمہید کے بعد اب یہ ایک ایسا مسئلہ شرعی بیان ہو رہا ہے جس میں اصل عامل کی حیثیت قسم کو حاصل ہے۔ یہ مسئلہ ایلاء کا ہے۔“ ایلاء ”الا یالو سے باب افعال ہے۔ الا یالو کا اصل لغوی مفہوم کسی امر میں کوتاہی اور کمی کرنا ہے اور ایلاء کے معنی کسی چیز کے ترک کی قسم کھا لینے کے ہیں۔ یہ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم بیوی سے زن و شوہر کا تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینا ہے۔ چونکہ اس لفظ میں ترک کا مضمون خود موجود ہے اس وجہ سے قطع تعلق کے معنی کو ادا کرنے کے لیے کس اور لفظ کی اس کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
اس قِسم کی قسم چونکہ ازدواجی مقاصد کے خلاف اور بر وتقوی کے منافی ہے، اس سے بیوی بالکل معلق ہو کے رہ جاتی ہے، اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی قسم کھا بیٹھنے والوں کے لیے چار ماہ کی حد مقرر کردی ہے کہ اس کے اندر یا تو وہ بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کرلیں یا طلاق دینے کا فیصلہ ہے تو اس کو طلاق دے دیں۔ جو پہلی شکل اختیار کریں گے ان کے متعلق فرمایا کہ اللہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ یعنی اگرچہ ان کی یہ قسم ایک حق تلفی پر مبنی تھی اور قسم کو کسی حق تلفی کے لیے سپر بنانا جائز نہیں لیکن اصلاح حال کے بعد اللہ تعالیٰ اس کوتاہی کو معاف کردے گا۔ یہاں اگرچہ اس قسم کے توڑنے پر کسی کفارہ کا ذکر نہیں ہے لیکن قسموں کے توڑنے کے بارے میں قرآن نے دوسرے مقام میں جو عام ضابطہ بیان فرمایا ہے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ صورت اس سے مستثنی رہے ؟ اس وجہ سے ہم ان فقہاء کی رائے کو زیادہ قوی سمجھتے ہیں جو اس صورت میں بھی کفارہ کے قائل ہیں۔
دوسرے گروہ سے متعلق فرمایا کہ اگر انہوں نے طلاق کا فیصلہ کرلیا ہے تو وہ یہ راہ اختیار کرسکتے ہیں لیکن اس معاملے میں اللہ نے جو حدود وقیود مقرر کردئیے ہیں ان کی پوری پوری نگہداشت ملحوظ رہے۔ اللہ ہر چیز کو سنتا اور جانتا ہے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چار ماہ کی مذکورہ مدت گزر جائے اور اس دوران میں ایک شخص نہ رجوع ہی کرے اور نہ طلاق ہی دے تو کیا ہوگا ؟ فقہاء کا ایک گروہ اس سوال کا یہ جواب دیتا ہے کہ چار ماہ کی مدت زرتے ہی ایک طلاق آپ سے آپ پڑجائے گی، بعض کے نزیک دیہ ایک طلاق بائن ہوگی اور بعض کے نزدیک رجعی، دوسرے گروہ کے نزدیک چار ماہ کی مدت گزرنے پر معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوگا اور وہ شوہر کو حکم دے گا کہ یا تو وہ رجوع کرے یا طلاق دے۔ قرآن کے الفاظ سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے پر شوہر کو بہرحال یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔ اگر وہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہ کرے تو عورت ایسے شوہر سے بذریعہ عدالت طلاق حاصل کرلے گی۔
قرآن کے الفاظ سے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ عورت کو طلاق حاصل کرنے کا یہ حق صرف اس صورت میں حاصل ہوگا جب شوہر نے بربنائے بغض و نفرت بیوی سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہو اور پیش نظر اس کو معلق بنا کے رکھتا ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ کسی اور وقت اور عارضی مصلحت، خواہ بتقاضائے صحت یا بارادہ تنبیہ، کوئی شخص بیوی سے مخصوص ازدواجی تعلق منقطع رکے ہے تو یہ صورت اس حکم کے تحت نہیں آتی اگرچہ اس انقطاع کی مدت چار ماہ سے متجاوز ہی کیوں نہ ہوجائے۔