Ayah 2:189اَھِلۃ ہلال کی جمع ہے۔ ہلال شروع ماہ کے چاند کو بھی کہتے ہیں اور اس سے مراد مہینہ بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر جمع کی صورت میں تو اس کا استعمال مہینوں ہی کے لیے معروف ہے۔ اہلہ پر الف، لام اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کچھ مخصوس مہینوں سے متعلق ہے اور سیاق وسباق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال اشہر حرم اور ان کے احکام و آداب سے متعلق تھا۔ چناچہ آگے کی آیات میں اس سوال کے جو جواب دئیے ہیں وہ تمام تر حج اور اشہر حرم ہی سے متعلق ہیں۔ قرآن مجید، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، سائلوں کے سوالات چونکہ اجمال و اختصار کے ساتھ نقل ہوئے ہیں اس وجہ سے عام اہل تاویل کو یہ گمان ہوا کہ یہ سوال چند کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق تھا۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اس کے صحیح نہ ہونے کے مختلف وجوہ ہیں جن میں سے بعض کا ہم ذکر کریں گے۔
اول یہ کہ اس قسم کا سائنسی اور فلکیاتی سوال عربوں کے مذاق اور ان کی عام افتادِ مزاج کے خلاف ہے۔ اہل عرب سورج اور چاند کو خدا کی مخلوق اور اس کے قانون طبیعی کے تحت ان کو مسخر اور محکوم مانتے تھے، پھر اس نامعقول سوال کی کیا گنجائش تھی کہ چاند گھٹتا بڑھتا کیوں ہے ؟ وہ خود سمجھ سکتے تھے کہ یہ سوال پیغمبر کو زچ کرنے والا نہیں بن سکتا، وہ بڑی آسانی سے اس کا جواب یہ دے سکتے ہیں کہ یہ خدا کے حکم سے گھٹتا بڑھتا ہے اور یہ اس کے مسخر و محکوم ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ یہ جواب اس سے پہلے مختلف اسلوبوں اور شکلوں میں مکی سورتوں میں دیا بھی جا چکا تھا بلکہ وہ دلیلیں بھی ان کے سامنے موجود تھیں جو چاند کے طلوع و غروب سے حضرت ابراہیم نے توحید کے حق میں نکالی تھیں۔ پھر اس قسم کے سوال کا کیا موقع تھا ؟ دوسری یہ کہ یہاں سیاق وسباق دلیل ہے کہ سوال عام عربوں یا اہل کتاب کی طرف سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی طرف سے ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے چاند یا سورج کے گھٹنے بڑھنے کا سوال ایک بالکل ہی بعید از قیاس سوال ہے۔ وہ سوال کرسکتے تھے تو مہینوں کے احکام و آداب سے متعلق کرسکتے تھے نہ کہ ایک بالکل ہی غیر ضروری اور لا یعنی سوال۔ تیسری یہ کہ اگر سوال چاند کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق ہوتا تو یہ یوں نقل ہوتا کہ يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الہلال (وہ تم سے چاند کے بابت سوال کرتے ہیں)۔ يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ۭ کے الفاظ نہ ہوتے کیونکہ اس کے معروف معنی تو، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہوں گے کہ وہ تم سے مخصوص مہینوں کی بابت سوال کرتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ قرآن نے یہ سوال نقل کر کے اس کے جو جوابات دیے ہیں وہ تمام تر جیسا کہ آگے کی ایات سے واضح ہوگا، حج اور اشہر حرم کے احکام و آداب ہی سے متعلق ہیں، ان میں کوئی ادنی اشارہ بھی چاند کے گھٹنے بڑھنے کی علت کی طرف نہیں ہے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ قرآن نے ان کے اس سوال کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اس وجہ سے اس سے بالکل صرف نظر کر کے ان کو مہینوں سے متعلق کچھ مفید باتیں بتا دیں تو کم از کم یہاں کوئی اشارہ اس بات کی طرف ضرور ہونا تھا کہ لوگوں کو غیر ضروری سوالات نہیں کرنے چاہئیں جیسا کہ دوسرے بعض مقامات پر اس قسم کی تنبیہ لوگوں کو کی گئی ہے۔ بہرحال ہمارے نزدیک اس سوال کا کوئی تعلق بھی چاند اور اس کے اتار چڑھاؤ سے نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان محترم مہینوں سے اس کا تعلق ہے جو حضرت ابراہیم کے وقت سے محترم چلے آ رہے تھے اور جن میں لڑنا بھڑنا جاہلیت کے زمانے بھی حرام سمجھا جاتا تھا۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوا کہ خانہ کعبہ کے قبلہ قرار پا جانے اور کفار کے قبضہ سے اس کا چھڑانا ضروری ہوجانے کے بعد ان کے احترام کے ملحوظ رکھنے کے حدود وقیود کیا ہوں گے ؟ اس سوال کو قرآن نے اجمال کے ساتھ نقل کر کے اس کا تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ اوپر آیت 186 کے تحت ہم یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ قرآن میں بالعموم لوگوں کے سوالات نہایت اختصار کے ساتھ نقل ہوتے ہیں اور یہی بلاغت کا تقاضا ہے کیونکہ سوال کی اصلی نوعیت تو خود اس جواب ہی سے اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے جو اس کے بعد دیا جاتا ہے، پھر سوال کے نقل کرنے میں طول بیان کی کیا ضرورت ہے ؟ یہی اسلوب عربی زبان میں پسندیدہ اسلوب ہے۔ دوسری زبانوں میں بھی ماہرین زبان کا معروف طریقہ یہی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قرآن میں اس اختصار کی وجہ سے لوگوں کو تاویل میں الجھنیں پیش آئیں۔ بہت سے لوگوں نے سوال کی نوعیت جواب سے متعین کرنے کے بجائے خود سوال کے مجمل الفاظ سے کرنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے سوال اور جواب میں " سوال از آسمان جواب از ریسمان " کی شتر گرہگی پیدا کردی۔ لیکن یہ قرآن کا قصور نہیں ہے بلکہ تاویل کرنے والوں کا اپنا قصور ہے۔
قُلْ ھِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ، یہ سوال کے جواب کا ایک حصہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ محترم مہینے لوگوں کی عوامی بہبود اور خاص کر حج وعمرہ کی سہولتوں کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ ہم اوپر قبلہ کی بحث میں یہ وضاحت کر آئے ہیں کہ اشہر حرم نہ صرف عبادت کے نقطہ نظر سے اہل عرب کے لیے بڑی اہمیت رکھتے تھے بلکہ ان کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا تمام تر انحصار بھی انہیں مہینوں پر تھا۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں سارا سال لرنے بھڑنے میں گزارتے اس وجہ سے ملک میں تجارتی نقل و حرکت تقریباً معطل رہتی۔ یہ صرف اشہر حرم کا فیض تھا کہ سال میں پورے چار مہینے امن وامان سے گزرتے اور ان مہینوں میں اہل ملک حج وعمرہ کی برکتوں سے بھی سعادت اندوز ہوتے اور ملک و بیرون ملک کی تجارتی منڈیوں تک بھی بغیر کسی خطرہ کے پہنچتے اور ان سے لین دین کرتے۔ بالخصوص قریش کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے تو یہ مہینے گویا بہار کے مہینے تھے۔ سارا عرب ان مہینوں میں مکہ کا رخ کرتا اور یہ وادی غیر ذی زرع سارے ملک کی تجارت کا مرکز بن جاتی۔ خانہ کعبہ اور اشہر حرم کی روحانی برکتوں کے ساتھ ساتھ قرآن نے ان کی ان مادی برکتوں کا بھی جگہ جگہ ذکر کیا ہے اور قریش کو اپنے اس احسان عظیم کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف یہاں مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ یعنی ان محترم مہینوں کے اندر لوگوں کے لیے گوناگوں فوائد و مصالح مضمر ہیں اس وجہ سے ان کا احترام ہر حال میں ملحوظ رہنا چاہیے۔ اس عام فائدے کے ذکر کے بعد اس کے خاص فائدہ، حج، کا بھی ذکر فرمایا کہ یہی مہینے ہیں جن میں لوگ امن وامان کے ساتھ اس سنت ابراہیمی کی برکتوں سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں۔ یہ پہلو بھی خاص طور پر ان کی حرمت کا متقاضی ہے۔
وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ۔ ایک تجدیدی اصلاح : یہ حج کے ذکر کے ساتھ اسی طرح کی ایک تجدیدی اسلاح و تنبیہ ہے جس طرح کی اصلاح و تجدیدی تنبیہ و تذکیر آیت 177 میں دین کی بنیادی باتوں کے ذکر کے ساتھ گزر چکی ہے کہ تقوی یہ نہیں ہے کہ تم مشرق و مغرب کی طرف رخ کرو بلکہ تقوی ان کا تقوی ہے جو ایمان لائیں۔ یہاں ارشاد ہوا کہ " تقوی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو بلکہ تقوی ان کا تقوی ہے جو حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھیں "
اہل عرب کی حج کے سلسلہ کی بدعتیں : امتوں کی یہ عام بیماری رہی ہے کہ آہستہ آہستہ لوگ دین کے اصلی احکام و فرائض تو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور ان کی خانہ پری بدعات و رسوم سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل عرب پر بھی یہی گزری۔ یہ لوگ حج تو زمانہ جاہلیت میں بھی کرتے رہے لیکن اس کی اصل روح سے اس کو بالکل خالی کر کے اور رسوم و اوہام کا ایک گورکھ دھندا بنا کر۔ ازاں جملہ انہوں نے حج کے سلسلہ میں یہ بدعت ایجاد کرلی تھی کہ حج کے لیے احرام باندھ چکنے کے بعد اگر انہیں گھروں میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آتی یا حج کے بعد جب گھروں کو واپس ہوتے تو ان دروازوں سے گھروں میں داخل نہ ہوتے جن دروازوں سے نکلتے بلکہ مکانوں کے پچھواڑوں سے کسی دوسرے راستے سے داخل ہوتے۔ اس عجیب و غریب حرکت کا محرک یہ وہم رہا ہوگا کہ جن دروازوں سے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے نکلے ہیں، پاک ہوجانے کے بعد انہی دروازوں سے گھروں میں داخل ہونا خلاف تقوی ہوگا۔ یہ وہم اسی طرح کا ایک وہم تھا جس طرح کے وہم میں وہ طواف کے معاملہ مبتلا ہوگئے تھے۔ بہت سے عرب جاہلیت میں ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ غالباً ان کا خیال یہ رہا ہوگا کہ لباس، جو زینت و آرائش کی چیزوں میں داخل ہے، اس کی کوئی دھجی بھی زہد و رہبانیت کی اس عبادت میں جسم سے لگی کیوں رہ جائے۔ قرآن نے اس بدعت کی تردید کی اور فرمایا کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو، اس سے تقوی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا البتہ آخرت کی فلاح اور خدا کی خوشنودی مطلوب ہے تو اس کے حدود کی پاسداری میں ملحوظ رکھو اور اس سے برابر ڈرتے رہو۔ حج سے اصل مقصود یہی تقوی ہے۔
Ayah 2:190اشہر حرم میں رفاعی جنگ جائز ہے : یہ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر حج کے سلسلہ میں جنگ کی نوبت آجائے تو اشہر حرم میں دفاعی جنگ جائز ہے۔ البتہ حدود سے تجاوز اللہ کو پسند نہیں ہے۔ یعنی نہ تو یہ بات جائز ہے کہ تم خود اشہر حرم میں جنگ کے لیے پہل کرو اور نہ یہ جائز ہے کہ مدافعت کے لیے جتنی کارروائی ضروری ہے، اس سے آگے کوئی قدم اٹھاؤ البتہ مدافعت کرنے کے تم پورے طور پر مجاز ہو، اشہر حرم یا خود حرم کا حترام اس میں کسی پہلو سے مانع نہیں ہے بلکہ یہ عین ان کے احترام کا تقاضا ہے۔ اس نکتہ کی تفصیل آگے کی آیات میں آرہی ہے۔ حج کے ذکر کے ساتھ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہوئی کہ اس وقت تک حرم پر مشرکین کا قبضہ تھا اس وجہ سے اس بات کا اندیشہ نہایت قوی تھا کہ اگر مسلمان حج کے لیے جائیں گے تو کفار روکیں گے اور جنگ کی نوبت آجائے گی۔ بالخصوص جب کہ مشرکین پر اس دوران میں یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی تھی کہ مسلمانوں نے بیت اللہ کو اپنا قبلہ قرار دے لیا ہے اور ان کا دعوی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے بنائے ہوئے اس گھر کی تولیت کے اصلی وارث وہی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہوا کہ مسلمانوں کو حرم اور اشہر حرم ہے احکام و آداب سے متعلق وہ ضروری ہدایات دے دی جائیں جو آگے کے امکانی حالات میں ان کی رہنمائی کرسکیں۔ یہ حقیقت یہاں پیش نظر رہے کہ حرم اور اشہر حرم کے احترام کے باب میں پوری قوم عرب کے احساسات نہایت نازک تھے۔ ان میں لڑنا بھڑنا سب ہی کے نزدیک سب سے بڑی معصیت تھی اس وجہ سے مسلمان بھی اس وقت تک ان میں کسی جنگ کے لیے، اگرچہ وہ مدافعت ہی میں کیوں نہ ہو، تیار نہیں ہوسکتے تھے جب تک قرآن اس کی اجازت نہ دے۔
Ayah 2:191یعنی بیت اللہ کا حج تم پر فرض ہے اور ملت ابراہیم کے اصلی وارث ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا حق بھی ہے بلکہ اس کے اصلی حق دار تم ہی ہو اس وجہ سے اگر تمہارے اس حق و فرض کی راہ میں قریش مزاحم ہوں تو ان کا مقابلہ کرو اور جہاں کہیں ان سے تصادم ہو وہیں ان کو قتل کرو۔ اگرچہ اس قتال کی نوبت حرم اور حدود حرم ہی میں پیش آجائے اور جس مکہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم بھی ان کو وہاں سے نکالو، اس لیے کہ ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کی وراثت صرف نسل و نسب کی بنا پر کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ خود حضرت ابراہیم ؑ کے ارشاد کے موجوب اس کے اصلی حق دار وہ ہیں جو ان کی ملت پر قائم ہیں۔ یہ درجہ تم کو حاصل ہے نہ کہ ان کو اس وجہ سے اس گھر سے نکالے جانے کے مستحق وہ ہیں نہ کہ تم۔
وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (اور فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے)۔ فتنہ کے معنی یہاں کسی کو جبر و ظلم سے اس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں۔ انگریزی میں اس کو (Persecution) کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ اس معنی میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً " إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ : بیشک جن لوگوں نے ایمان لانے والوں اور ایمان لانے والیوں کو دین سے پھیرنے کے لیے اذیتیں پہنچائیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے " (بروج :10)۔ " عَلَى خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَنْ يَفْتِنَهُمْ : فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتوں ہوئے کہ مبادا وہ ان کو مصیبت میں مبتلا کردیں " (یونس :83)۔ " ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا : پھر تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ طرح طرح کی ایذاؤں میں مبتلا کیے گئے " (نحل : 110)۔ اوپر مشرکین قریش سے قتال کی جو اجازت دی گئی ہے یہاں تک کہ اگر حدود حرم اور اشہر حرم میں بھی وہ جنگ کریں تو ان کو قتل کرنا اور مکہ سے ان کو بےدخل کرنا جائز ٹھہرا گیا ہے، یہ اس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے کا مطلب یہ ہے کہ ہرچند حدود حرم اور اشہر حرم میں قتل و قتال بڑی سنگین بات ہے لیکن جس گھر میں اللہ کے بندوں اور بندیوں کو اس بنا پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان کیوں لائے، یہ ظلم و ستم اس قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اس سنگین تر فتنہ کو مٹانے کے لیے تمہیں یہ اجازت دی جاتی ہے کہ اگر نوبت جنگ پیش آجائے تو تم کفار کو ترکی بہ ترکی جواب دو اور جہاں کہیں وہ تمہارے مقابل میں آئیں ان کو قتل کرو۔ یہ چیز نہ احترام حرم کے منافی ہے نہ حرمت اشہر حرم کے۔ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ، یہ تاکید ہے اس بات کی کہ مسلمان مسجد حرام کے پاس جنگ میں پہل نہ کریں۔ ہاں اگر ان کو مسجد حرام سے روکنے کے لیے ان پر کفار کی طرف سے حملہ کیا جائے تو اس کا منہ توڑ جواب دیں۔ مسجد حرام کا احترام ایک مشترک ذمہ داری ہے اگر کفار مسلمانوں کی دشمنی میں اس کے احترام کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں تو پھر وہ خود بھی اس کے احترام کے ناپ کسی رعایت کے مستحق نہیں رہتے ہیں۔ یہ درحقیقت ان کے اپنے کیے کی سزا ہے۔ ۭكَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ، یعنی ایسے کافروں کا ایسا ہی بدلہ ہے۔
Ayah 2:192" پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ غفور رحیم ہے "۔ " باز آجائیں " سے مراد صرف جنگ سے رک جانا نہیں ہے۔ یہاں اس باز آجانے کا صلہ یہ بتایا ہے کہ " پھر اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے " ظاہر ہے کہ کفار اگر مسلمانوں سے جنگ نہ کریں تو اس کا زیادہ سے زیادہ صلہ یہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان بھی ان کو مہلت دیں اور بالفعل ان سے جنگ نہ کریں، یہ صلہ تو اس کا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام کفر و فسق کو معاف کردے۔ اس سے یہاں باز آجانے سے مقصود اس عناد و مخالفت، اور اس جبر و ظلم (Persecution) سے باز آجانا ہے جس کے قریش مرتکب ہوئے تھے اور جس کے ذریعہ سے انہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تھا اور ساتھ ہی بیت اللہ سے مسلمانوں کو روکنے سے باز آجانا ہے جس کے وہ کسی پہلو سے بھی حق دار باقی نہیں رہ گئے تھے۔
اس سورة میں قبلہ کی بحث سے لے کر یہاں تک کے مباحث پر اگر آپ کی نظر ہے تو یہ حقیقت آپ سے مخفی نہیں ہوسکتی کہ یہ ساری بحث عام کفار سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق خاص کفار قریش سے ہے۔ ان کی اور مسلمانوں کی نزاع کسی جزوی معاملہ کے لیے محض ایک وقتی نزاع نہیں تھی بلکہ اصلاً یہ نزع بیت اللہ کی تولیت کے لیے تھی۔ قرآن کا دعوی یہ تھا کہ حضرت ابراہیم کے بنائے ہوئے اس گھر کی تولیت کے اصلی حقدار اہل ایمان ہیں نہ کہ کفار و مشرکین جنہوں نے اس گھر کو اس کے بنیادی مقاصد کے بالکل خلاف شرک و کفر کا ایک گڑھ بنا کے رکھ دیا ہے۔ قرآن کا یہ بھی دعوی تھا کہ حضرت ابراہیم کی دعا اور وعدہ الٰہی کے بموجب جس آخری نبی کے ذریعہ سے اس گھر کے مقاصد کی تجدید و تکمیل ہوتی تھی، محمد رسول اللہ ﷺ کے ظہور قدسی نے اس وعدے کی تکمیل کردی اور اب یہ لازمی ہے کہ یہ گھر کفار و مشرکین کے تسلط سے آزاد اور کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک ہو کر ملت ابراہیم، اسلام، کا مرکز اور تمام اہل ایمان کا قبلہ بنے۔ یہ دعوی جن دلائل وبراہین اور جس زور و قوت کے ساتھ اس پوری سورت میں پیش ہوا ہے اس میں کہیں کسی لچک اور کسی نرمی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ واضح الفاظ میں بات یوں کہی جاسکتی ہے کہ بیت اللہ کو کفار کے قبضہ سے چھڑانا اور اس کو شرک و کفر کی تمام آلائشوں سے پاک کر کے از سرِ نو اس کو توحید واسلام اور ملت مسلمہ کا مرکز بنانا رسالت محمدی کا اصلی نصب العین تھا اور اس نصب العین کا حصول ہی گویا آنحضرت ﷺ کے مقدس مشن کا آخری کام تھا۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آجائے گی کہ فَاِنِ انْتَهَوْا کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ کفار قریش جنگ سے رک جائیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی ان تمام مخالفانہ و معاندانہ حرکتوں سے، جن کے وہ آج اس دعوت حق کی مزاحمت کے لیے مرتکب ہو رہے ہیں، باز آکر اس کے حامی و معاون بن جائیں۔ اگر وہ یہ راہ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے وہ تمام جرائم معاف کر دے گا جن کے وہ اب تک مرتکب ہوئے ہیں۔ بعینہ یہی بات کفار قریش ہی کو مخاطب کر کے سورة انفال میں یوں فرمائی گئی ہے " لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الأوَّلِينَ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ: ان کافروں کو بتا دو کہ اگر وہ باز آگئے تو جو جو کچھ وہ پہلے کرچکے ہیں وہ معاف کردیا جائے گا اور اگر انہوں نے پھر اسی طرح کی حرکتوں کا اعادہ کیا تو ہمارے اس طریقہ کو یاد رکھیں جو ہم نے پچھلی قوموں کے معاملے میں اختیار کیا اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ بالکل باقی نہ رہا جائے اور اس سرزمین پر سارا دین صرف اللہ کا ہوجائے۔ پس اگر وہ باز رہے تو جو کچھ وہ کریں گے اللہ اس کو دیکھ رہا ہے " (انفال :38-39)۔ یہی حقیقت سورة توبہ میں اس طرح واضح کی گئی ہے کہ بیت اللہ کی تولیت میں کفار قریش کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ خاص مسلمانوں کا حق ہے " مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ (17)إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (18): مشرکین کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے منتظم بنے رہیں جب کہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال اکارت ہیں اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کی مسجدوں کے منتظم تو وہی ہوسکتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی چیز سے نہ ڈریں۔ انہی لوگوں کے متعلق توقع ہے کہ وہ بامراد ہوں " (توبہ :17-18)۔ یہی خاص پہلو ہے جس کے سبب سے عام کفار کے برخلاف کفار قریش کے لیے یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ توبہ کر کے نماز نہ قائم کریں اور زکوۃ نہ دیں اس وقت تک ان کے لیے کوئی ڈھیل نہیں ہے " فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ : پس جب اشہر حرم گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات میں بیٹھو پس اگر وہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑو، بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے " (توبۃ :5)۔ یہاں ہم ان اجمالی اشارات پر کفایت کرتے ہیں۔ سورة توبہ میں انشاء اللہ کفار قریش کے اس مسئلہ پر پوری تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔
Ayah 2:193سرزمین حرم میں اسلام کے سوا کسی اور دین کے لیے گنجائش نہیں : اس آیت سے اوپر والی آیت کے مضمون کی مزید وضاحت ہوگئی کہ کفار قریش سے یہ جنگ اس وقت تک جاری رہنی ہے جب تک سرمین حرم پر فتنہ کا کوئی اثر باقی ہے اور اللہ کے دین کے سوا کسی دوسرے دین کے لیے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اور اب یہ کام حضرت ابراہیم کی دعا اور اللہ کے وعدے کے مطابق ہونا ہے، کفار اس کو پسند کریں یا ناپسند۔ اسی بات کو سورة صفت میں یوں فرمایا ہے " هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ : وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا اپنی ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس دین کو سارے دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرکین اس چیز کو ناپسند کریں "۔ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ کا صحیح موقع و محل اور اس کا اصلی زور سمجھنے کے لیے یہاں بالاجمال اس سنت اللہ کو سمجھ لینا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے باب میں پسند فرمائی ہے۔ وہ سنت اللہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ رسول اس قوم کے لیے خدا کی ٓخری اور کامل حجت ہوتا ہے۔ جس کے بعد کسی مزید حجت وبرہان کی اس قوم کے لیے ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اس کے بعد بھی اگر وہ قوم ایمان نہیں لاتی بلکہ تکذیب رسول اور عداوت حق ہی پر اڑی رہ جاتی ہے تو وہ فنا کردی جاتی ہے۔ عام اس سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی عذاب کے ذریعہ سے فنا ہو یا حق کے اعوان و انصار اور رسول کے ساتھیوں کے ہاتھوں اور عام اس سے کہ یہ واقعہ رسول کی زندگی ہی میں ظہور میں آئے یا اس کی وفات کے بعد۔ ـلاغلبن انا ورسلی جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے اور اس کے ظہور کے لیے قرآن میں ایک مخصوص ضابطہ بیان ہوا ہے جس کی تفصیل کے لیے موزوں مقامات ہماری اس کتاب میں آئیں گے۔ (یہ ملحوظ رہے کہ میں نے یہاں جس سنت اللہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا تعلق خاص طور پر رسولوں سے ہے، ان انبیاء سے نہیں ہے جو صرف نبی تھے رسول نہیں تھے۔ نبی اور رسول کے اس فرق پر بھی مفصل بحث اپنے مقام میں آئے گی)
اسی سنت اللہ کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ اس آخری رسالت کے مقصد کی تکمیل اس بات پر ہوتی ہے کہ سرزمین حرم پر دین حق کے سوا اور کوئی دین باقی نہیں رہنے پائے گا۔ چناچہ اسی بنیاد پر قرآن نے کفار عرب کے سامنے، جن کے لیے آنحضرت ﷺ کی بعثت براہ راست تھی اور جو بیت اللہ پر بالکل ناجائز طور پر قابض تھے، صرف دو ہی راہیں باقی رکھی تھیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔ دوسرے کفار کی طرح ان کے لیے جزیہ کی گنجائش نہیں تھی۔ چناچہ جب اتمام حجت کا تقاضا پورا ہوگیا نبی ﷺ نے مکہ پر فوج کشی کی اور بیت اللہ پر قبضہ کر کے اس کو کفر و شرک کی تمام آلائشوں سے بالکل پاک کردیا اور جاء الحق و زھق الباطل کا اعلان فرما دیا۔ پھر حرم الٰہی کو مستقل طور پر کفر و شرک کے غلبہ سے پاک رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوا کہ اس پورے علاقہ کو غیر اسلامی قبضہ یا مداخلت سے بالکل محفوظ کردیا جائے جس میں یہ حرم واقع ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے پورے جزیر عرب کے متعلق یہ ہدایت دے دی کہ " لایجتمع فیہ دینان " اس میں دین حق کے ساتھ کوئی اور دین جمع نہیں ہوسکتا۔ اور آخر وقت میں آپ نے یہود و نصاری کو بھی اس سرزمین سے نکال دینے کی وصیت فرمائی جس کی تعمیل میں حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانے میں کی۔ یہ تدبیر مرکز اسلام کے سیاسی تحفظ کے لیے ضوری تھی اور یہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس گھر کے تحفظ کے لیے ہمیشہ بیدار رہیں اور کسی بھی غیر اسلامی طاقت کے قدم اس سرزمین پر جمنے نہ دیں۔
انْتَهَوْا کا مفہوم ہمارے نزدیک وہی ہے جن کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ عدوان کے اصلی معنی تو تعدی اور زیادتی کے ہیں لیکن یہاں یہ لفظ مجرد اقدام (Action) کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں کبھی کبھی بعض الفاظ محض مجانست و ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوجاتے ہیں۔ ان کا مفہوم موقع و محل سے متعین ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں " دنا ہم کما دانوا " ہم نے ان کو بدلہ دیا جیسا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہاں دانوا محض دِنّا کی مشابہت کی وجہ سے لایا گیا ہے ورنہ موقع " فعلوا " یا اس کے ہم معنی کسی لفظ کا ہے، یا قرآن میں ہے " جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا : برائی کا بدلہ اسی کے مانند بدلہ ہے " ہر شخص جانتا ہے کہ کسی برائی کا بدلہ کوئی برائی نہیں ہے لیکن محض سابق لفظ کی ہم آہنگی کی وجہ سے جرم کے ساتھ اس کی سزا کو بھی سیئہ سے تعبیر کردیا۔ اسی طرح آگے والی آیت میں ہے فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ (جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کی زیادتی کے برابر اس کے خلاف اقدام کرو)۔ اس آیت میں کسی کی زیادتی کے جواب میں جو اقدام کیا جائے اس کو بھی اعتداء کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، حالانکہ یہ معنی میں محض اقدام کے ہے، صرف اپنے ما سبق کے ساتھ ہم آہنگی کی وجہ سے اس شکل میں استعمال ہوا۔ عربی زبان کے اسی معروف اسلوب کے مطابق زیر بحث آیت میں بھی لفظ عدوان استعمال ہوا لیکن مراد اس سے مجرد وہ اقدام ہے جو جوابی کارروائی کے طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز آکر اسلام کی راہ اختیار کرلیں تو ان کے پچھلے جرائم کی بنا پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، پھر صرف انہی کے خلاف کوئی اقدام ہوگا جو اپنے کفر و شرک اور اپنے ظلم وعدوان پر جمے رہ جائیں۔
Ayah 2:194اوپر بیان کیے ہوئے احکام کی یہ دلیل ارشاد ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اشہر حرم میں یا حدود حرم میں لڑائی بھڑائی ہے تو بہت بڑا گناہ لیکن جب کفار تمہارے لیے اس کی حرمت کا لحاظ نہیں کرتے تو تمہیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ قصاص کے طور پر تم بھی ان کو ان کی حرمت سے محروم کردو ہر شخص کی جان شریعت میں محترم ہے لیکن جب ایک شخص دوسرے کی جان کا احترام نہیں کرتا، اس کو قتل کردیتا ہے تو اس کے قصاص میں بھی حرمت جان کے حق سے محروم کر کے قتل کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح اشہر حرم اور حدود حرم کا احترام مسلم ہے بشرطیکہ کفار بھی ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان میں دوسروں کو ظلم و ستم کا ہدف نہ بنائیں لیکن جب ان کی تلواریں ان مہینوں میں اس بلد امین میں بےنیام ہوتی ہیں تو وہ سزا وار ہیں کہ ان کے قصاص میں وہ بھی ان کے امن و احترام کے حقوق سے محروم کیے جائیں۔ مزید فرمایا کہ جس طرح اشہر حرم کا یہ قصاص ضروری ہے، اسی طرح دوسری حرمتوں کا قصاص بھی ہے۔ یعنی جس محترم چیز کے حقوق حرمت سے وہ تمہیں محروم کریں تم بھی اس کے قصاص میں اس کے حق حرمت سے انہیں محروم کرنے کا حق رکھتے ہو۔ پس جس طرح کے اقدامات حرم اور اشہر حرم کی حرمتوں کو برباد کر کے وہ تمہارے خلاف کریں، تم ان کے جواب ترکی بہ ترکی دو۔ البتہ تقوی کے حدود کا لحاظ رہے۔ کسی حد کے توڑنے میں تمہاری طرف سے پیش قدمی نہ ہو اور نہ کوئی اقدام حد ضروری سے زائد ہو۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ہر طرح کے حالات میں اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 2:195انفاق کا حکم جہاد کے لیے : انفاق کا یہ حکم، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس جہاد کے لیے ہے جس کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔ جہاد، جان اور مال دونوں کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے قرآن میں جہاں کہیں بھی جہاد و قتال کا بیان ہوا ہے انفاق کا حکم بھی اس کے ساتھ ضرور ہوا ہے۔ " تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم : اور تم جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے "۔ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ، میں بایدیکم، کے الفاظ سے ایک ایسے شخص کی تصویر نگاہوں کے سامنے آتی ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے، کسی دریا یا غار میں چھلانگ لگا رہا ہو۔ بعض عرب شاعروں نے بھی بہ اسلوب استعمال کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے سے جی چراتے ہیں، بظاہر تو وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خطرات سے بچا رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت کے جہنم میں جھونکتے ہیں انسان کے لیے زندگی اور بقا کا اصلی خزانہ خدا کی راہ میں جان اور مال کی قربانی میں ہے نہ کہ ان کے۔۔۔۔ قرآن نے جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارے کیے ہیں۔ سورة توبہ میں منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے " وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ : اور وہ عنقریب تمہیں اللہ کی قسمیں کھا کر یقین دلائیں گے کہ اگر ہم سامان کر پاتے تو ضرور آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلتے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں " (توبہ :42)۔ اس آیت میں " يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ " کے الفاظ سے اسی بخل اور بزدلی کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے بچنے کی تاکید وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ کے ٹکڑے میں فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو زندگی اور مال کے حریص کامیابی سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ موت اور ہلاکت ہے۔ ٻوَاَحْسِنُوْا کا عطف اَنفقوا پر ہے۔ یہاں اس احسان کے معنی کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں فیاضی اور خوش دلی کے ساتھ خرچ کرو اور وہ مال خرچ کرو جو تمہیں عزیز و محبوب ہو۔ انفاق کے معاملے میں اس احسان کی تاکید قرآن نے جگہ جگہ فرمائی ہے، " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ : اے ایمان والو، ان پاکیزہ مالوں سے کرچ کرو جو تم نے تجارت وغیرہ سے کمائے ہو اور جو ہم نے زمین سے تمہارے لیے پیدا کیے ہیں اور اس میں سے برے مال کے خرچ کرنے کا خیال نہ کرو، جسے خرچ تو کرو لیکن اگر وہی مال تمہیں لینا پڑجائے تو آنکھ میچے بغیر نہ لے سکو اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ رکھو کہ اللہ بےنیاز اور حمید ہے " (بقرہ :267)۔ انفاق میں جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے یہ جوش و جذبہ اور یہ احتیاط شامل نہ ہو اس وقت تک اس کو احسان کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مال کا محتاج نہیں ہے۔ وہ سب سے بےنیاز و بےپروا ہے۔ البتہ ہم خود اس کے جود و کرم کے ہر وقت محتج ہیں۔ وہ اگر ہم سے انفاق کا مطالبہ کرتا ہے تو اپنے لیے نہیں بلکہ خود ہمارے لیے کرتا ہے تاکہ اس طرح وہ ہمارے خلوص کا امتحان کرے اور ہمارے خزف ریزوں کو قبول فرما کر ان کو ایک ابدی اور لازوال خزانے کی شکل میں ہمیں ایک دن واپس لوٹائے۔
Ayah 2:196عمرہ کی نوعیت : جس طرح فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں اور نوافل ہیں جن سے اصل نماز کے لیے طبیعت میں بیداری اور آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو ان سے اس کسر کا جبر بھی ہوتا ہے اسی طرح عمرہ کی نوعیت بھی حج کے لیے ایک ریہرسل کی ہے۔ اس سے حج کے لیے طبیعت میں آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور بعض حالات میں اس کے کسر کا جبر بھی ہوتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ لفظ تعمیر، رونق اور آبادی کے مضمون طرف اشارہ کرتا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے گھر کی رونق بھی ہے اور دلوں کی زندگی اور بیداری بھی۔ اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ میں اصل زور " لِلّٰہِ " کے فظ پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب جنگ و جہاد کے مراحل سے گزر کر حج وعمرہ کی سعادت حاصل ہو تو تم یہ حج وعمرہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لیے پورا کرو۔ اس تاکید و تنبیہ کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ حج وعمرہ تو اہل عرب اسلام سے پہلے بھی کیا کرتے تھے لیکن یہ حج وعمرہ صرف اللہ واحد کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں ان کے وہ معبودان باطل بھی شریک تھے جن کے بت انہوں نے عین بیت اللہ میں بھی اور مناسک حج کے دوسرے مقامات میں بھی نصب کر رکھے تھے۔ چناچہ جب یہ حرم میں نماز کے لیے جاتے یا حج وعمرہ کے قصد سے وہاں پہنچتے تو ان کے پیش نظر صرف اللہ ہی کی عبادت نہ ہوتی بلکہ اللہ سے زیادہ ان بتوں کی خوشنودی اور ان کی پرستش ہوتی۔ وہ ان کی پوجا بھی کرتے، ان کے آگے نذر و نیاز بھی پیش کرتے اور ان کے لیے قربانیاں بھی کرتے۔ چونکہ آیت زیر بحث کے نزول کے وقت یہ حالات مکہ میں موجود تھے اس لیے مسلمانوں کو یہ تاکید کی گئی کہ جب تم حج وعمرہ کرو تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرو، اس میں کسی شرک و بدعت کی کوئی آلائش شامل نہ ہونے پائے۔ اس حقیقت کی طرف سورة کوثر میں بھی ارشاد فرمایا۔ " انا اعطینک الکوثر، فصل لربک وانحر : ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا تو تم اپنے رب ہی کے یلے نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو "۔ مولانا فراہی نے اپنی تفسیر سورة کوثر میں وضاحت کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ کوثر سے یہاں مراد خانہ کعبہ ہے، جو آخرت کے حوض کوثر کا اس دنیا میں مجاز ہے اور اللہ ہی کے لیے نماز اور قربانی کی تاکید اس لیے ہوئی کہ اسلام سے پہلے نماز اور قربانی دونوں ہی بیشتر غیر اللہ کے لیے تھیں۔ علاوہ ازیں " للہ " پر زور دینے کی ایک دوسری وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ اہل عرب کے لیے حج وعمرہ عبادت سے زیادہ تجارت کا ذریعہ بن گئے تھے۔ ان کے لیے ان کی حیثیت تجارتی میلوں کی رہ گئی تھی اور وہ مقاصد امتداد زمانہ سے ان کی نظروں سے بالکل اوجھل ہوگئے تھے جن کے لیے حضرت ابراہیم ؑ نے اس گھر کی تعمیر فرمائی تھی۔ چناچہ اس تجارتی مقصد ہی کے تحت انہوں نے نسیئ کا قاعدہ ایجاد کر کے حج کے مہینے کو قمری کے بجائے شمسی حساب کے مطابق کرلیا تھا تاکہ یہ مہینہ تجارتی نقطہ نظر سے ان کے لیے مناسب زمانہ میں پڑے۔ یہاں " للہ " کے لفظ سے مسلمانوں کو حج وعمرہ کے اصل مقصود کی طرف توجہ دلائی گئی کہ یہ عبادتیں اللہ کی رضا حاصل کرنے اور تقوی کی تربیت کے لیے مقرر کی گئی ہیں نہ کہ میلوں کے انعقاد اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے اس وجہ سے تم کفار و مشرکین کے بر خلاف اللہ کو اپنا مقصود بناؤ۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو تجارتی فوائد حاصل کرنے کی جو محدود اجازت دی گئی ہے، اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ " فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ "، احصار کے معنی گھیر لینے کے ہیں اور یہاں گھیر لیے جانے سے مراد دشمن کی طرف سے گھیر لیے جانے کے ہیں۔ آگے " فاذا امنتم " کے الفاظ سے بھی اسی مضمون کا اشارہ نکلتا ہے اور وقت کے حالات بھی اسی بات کے حق میں ہیں، اس لیے کہ ان آیات کے نزول کے زمانہ میں مکہ پر مشرکین قریش کا قبضہ تھا اور انہوں نے وہاں سے مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ نکال چھوڑا تھا بلکہ کسی قیمت پر بھی ان کو دوبارہ مکہ آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے، اس امر کا سخت اندیشہ تھا کہ مسلمان اگر حج یا عمرہ کے لیے مکہ کا رخ کرتے تو وہ پوری قوت سے مزاحم ہوتے۔ چناچہ ہوا بھی ایسا ہی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبی ﷺ ور آپ کے صحابہ نے عمرہ کا ارادہ فرمایا تو کفار نے سخت مزاحمت کی۔ یہ صورت حال متقاضی تھی کہ پہلے اس امکانی خطرے کے لیے مسلمانوں کو ہدایت دے دی جائے۔ چناچہ یہ ہدایت دے دی گئی کہ اگر دشمن تمہیں گھیر لے اور بیت اللہ تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو جو قربانی تمہیں میسر ہو وہ وہیں پیش کر دو ، جہاں گھر جآ۔ حضور نے اسی ہدایت کے بموجب حدیبیہ ہی میں قربانی کر کے احرام کھول دیا۔ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ ، مَحِلَّ ، جیسا کہ صاحب لسان العرب نے تصریح کی ہے۔ حَلَّ یَحِلُّ سے ظرف ہے اور وقت اور جگہ دونوں کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک قربانی ٹھکانے نہ لگ جائے اور نذر پوری نہ ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ امن اور احصار کی دو مختلف حالتوں میں قربانی کے ٹھکانے لگنے کی شکلیں دو مختلف ہوں گی اور نبی ﷺ کے عمل سے دونوں کے ثبوت موجود ہیں۔ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے اس صورت پر عمل فرمایا جس پر مجبوری کی صورت میں عمل کرنے کی اجازت ہے اور بعد میں حج اور عمرہ دونوں کے موقع پر وہ طریقہ اختیار فرمایا جو عام حالات کے لیے ہے۔۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہاں جس امن یا احصار کا ذکر ہے اصلاً س کا تعلق دشمن سے ہے۔ دوسری مزاحمتیں جو مرض یا کسی اور مجبوری کے سبب پیش آجائیں ان کا حکم اصلاً نہیں بلکہ تبعاً یہاں سے نکلتا ہے اور اس کا تعلق اجتہاد سے ہے۔
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖٓ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ : کسی بیماری یا تکلیف کے سبب سے اگر کوئی قربانی سے پہلے ہی سر منڈانے پر مجبور ہوجائے تو اس صورت میں اس کے اوپر کفارہ ہے۔ قرآن میں اس کفارے کی تین صورتیں بالاجمال بیان ہوئی ہیں۔ روزے یا صدقہ یا قبرانی۔ نبی ﷺ نے اس اجمال کی تشریح فرما دی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھ دے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دے دے۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ ۪ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ۭتِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ آفاقی احتجاج کے لیے ایک رخصت : یہ آفاقی حاجیوں یعنی حدود حرم سے باہر کے عازمین حج کے لیے ایک رخصت بیان ہوئی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایک ہی سفر میں حض اور عمرہ دونوں کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات حدود حرم کے اندر رہنے والوں کے لیے تو ٹھیک تھی۔ اس لیے کہ ان کے لیے حج اور عمرہ کے لیے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہ تھا لیکن دور سے آنے والے حجاج کے لیے اس میں زحمت تھی اس وجہ سے شریعت نے ان کو یہ رخصت مرحمت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں حج وعمرہ دونوں ادا کرسکتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ وہ پہلے عمرہ کر کے احرام کی پابندیوں سے فارغ ہوجائیں پھر حج کی تاریخوں میں اس کے لیے نیا احرام باندھیں اور مناسک حج ادا کریں۔ البتہ اس صورت میں ان کے لیے قربانی ضروری ہے۔ اگر قربانی میسر نہ آئے تو دس دن کے روزے رکھنے ضروری ہیں۔ تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے حج سے لوٹنے کے بعد۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، یہ احکام و ہدایات کی تفصیل کے بعد احکام کی اصل روح کی طرف تو جہ دلا دی کہ اصل مقصود ان تمام احکام سے تقویٰ ہے۔ یہی ان کا حاصل ہے اور اسی سے ان کے اندر زندگی پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان اس چیز کو نگاہ میں نہ رکھے تو نہ تو ان کا حق ہی ادا کر پاتا ہے اور نہ ان سے کچھ حاصل ہی کرتا بلکہ اس کی ساری زندگی خدا سے جھوٹی آرزوئیں باندھنے اور اپنے نفس کو ناروا الآنس دینے میں گزر جاتی ہے حالانکہ خدا کے طبعی قوانین جس طرح اپنے نتائج میں بےلاگ ہیں اسی طرح اس کے شرعی و اخلاقی قوانین بھی اپنے نتائج میں بےلاگ ہیں۔
Ayah 2:197موقع دلیل ہے کہ حج کا لفظ یہاں حج اکبر اور حج اصغر یعنی حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ لفظ قصاص پر بحث کرتے ہوئے ہم الفاظ کی اس مخصوص نوعیت استعمال کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ سے مقصود، ایام معدودات، کی طرح ان کے معین و محدود ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ کچھ ایسی غیر محدود و غیر معین مدت نہیں ہے کہ حج یا عمرہ کی نیت کرنے والا ان کی پابندیوں کے تصور سے گھبرا اٹھے۔ بس چند معلوم و متعین مہینے ہیں تو جو شخص ان میں حج یا عمرہ کا عزم کرے وہ ان کی پابندیوں کو نبا ہے اور شہوت و نافرمانی اور لڑائی جھگڑے سے بچے اور زیادہ سے زیادہ نیکی اور تقوی کی کمائی کرنے کی کوشش کرے اگرچہ انسان کو اس جہاد میں اپنے جذبات و شہوات کی قربانی ضرور دینی پڑتی ہے لیکن یہ چیز ہراساں ہونے کی نہیں۔ انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جو چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی کرتا ہے وہ اللہ کے علم میں رہتی ہے اور وہ اس کا ایک دن بھر پور صلہ دے گا۔۔ یہاں رفث، فسوق اور جدال تین چیزوں کی نفی کی ہے۔ رفث سے مراد شہوانی باتیں ہیں، اس لفظ کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ فسوق کے معنی خدا کی نافرمانی کے ہیں اور جدال سے مراد آپس کے لڑائی جھگڑے ہیں۔ ان تینوں چیزوں کی ممانعت سے نفسانی محرکات کے وہ تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے انسان گناہ میں داخل ہوتا ہے۔ حج میں ان چیزوں کی قطعی ممانعت کے بعض خاص وجوہ ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلام میں یہ عبادت انسان کو ترک دنیا اور زہد کی اس آخری حد سے آشنا کرنے والی ہے جس سے آشنا ہونا اسلام میں مطلوب و مرغوب ہے اور جو تربیت و تزکیہ کے لیے ضروری ہے اس سے آگے رہبانیت کی حدیں شروع ہوجاتی ہیں جن میں داخل ہونے سے اسلام نے روکا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ احرام کی پابندیوں کی وجہ سے ان چیزوں کے لیے نفس کے اندر اکساہٹ بہت بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ جس چیز سے وہ روک دیا جائے اس کی خواہش اس کے اندر دو چند ہوجاتی ہے اور شیطان اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ سفر کی حالت ہونے کے سبب سے ان چیزوں کے مواقع بہت پیش آتے ہیں۔ آدمی اگر چوکنا نہ رہے تو ہر قدم پر فتنہ میں پڑ سکتا ہے۔
زبان کا ایک خاص اسلوب : وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى میں ہمارے نزدیک اصل ترکیب کلام یوں ہے کہ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۔ یعنی سفر حج کے لیے نکلو تو تقوی کا زاد راہ لے کر نکلو کیونکہ بہترین زاد راہ تقوی ہے۔ پہلی جگہ ایجاز اور بلاغت کے تقاضے تحت تقوی کے لفظ کو حذف کردیا اس لیے کہ آگے اس کا اظہار ضروری تھا، اگر پہلے مقام میں بھی اس کا اظہار کردیا جاتا تو اس سے کلام میں تکرار کا عیب پیدا ہوجاتا اور قرآن مجید ہر عیب سے پاک ہے۔ اکثر لوگ یہاں تقوی کے لفظ کو محذوف نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک تَزَوَّدُوْا کے لفظ سے لوگوں کو حج کے لیے مادی زاد راہ لے کر نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ان کے خیال میں اس تاکید کی وجہ یہ پیش آئی کہ اکثر اہل عرب بغیر کسی زاد راہ ہی کے حج کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور اس طرح خود بھی زحمت اٹھاتے تھے اور دوسروں کے لیے بھی موجب زحمت بنتے تھے۔ اس وجہ سے ان کو یہ ہدایت کی گئی کہ جب حج کے لیے نکلا کریں تو اس کے لیے زاد راہ کا انتظام کر کے نکلا کریں۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ہے کہ حج کے لیے زاد راہ کا انتظام مقدم ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ شریعت نے حج فرض ہی ان لوگوں پر کیا ہے جو ہر پہلو سے اس کے لیے استطاعت رکھتے ہیں لیکن یہاں یہ معنی لینا عربیت کے بالکل خلاف ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں " فان " کا لفظ جب اس طرح آیا کرتا ہے جس طرح اس آیت میں آیا ہے تو وہ اپنے ماسبق کی توجیہہ و تعلیل کے لیے آیا کرتا ہے۔ اگر تَزَوَّدُوْا سے مراد مادی زاد راہ ہوتا تو اس کے بعد اس کی توجیہہ و تعلیل میں بھی اسی کی حکمت بیان ہوتی کہ کیوں اس سفر کے لیے زاد راہ کا اہتمام ضروری ہے لیکن یہاں حکمت بیان ہوئی تقوی کے زاد راہ کی۔
اس ہدایت کے موقع و محل سے بھی اسی مضمون کی تائید نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ اوپر والے ٹکڑے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو شخص حج کے عزم سے نکلے تو وہ شہوانی باتوں، فاسقانہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے سے کلیۃً احتراز کرے۔ اس مضمون کے ساتھ اگر سب سے زیادہ قریبی جوڑ ہوسکتا ہے تو اسی بات کا ہوسکتا ہے کہ اس مقدس سفر کے لیے آدمی کو رفث، فسوق اور جدال کے بجائے تقوی کا زاد راہ لے کر نکلنا چاہیے اس لیے کہ بہترین زاد راہ تقوی ہی کا زاد راہ ہے۔
Ayah 2:198یعنی حج سے اصل مقصود تو تقوی ہے، اس لیے اس کے واسطے اصلی زاد راہ تقوی ہی کا ہونا چاہیے لیکن اس امر میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ کوئی شخص اس سفر سے کوئی چھوٹا بڑا تجارتی فائدہ بھی اٹھا لے۔ یہاں َضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ سے مراد تجارتی فائدہ ہے۔ اس قسم کے معاشی فوائد کے لیے قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ خدا کے حدود کے اندر رہتے ہوئے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہوئے بندہ جو معاشی فتوحات حاصل کرتا ہے وہ سب فضلِ رب میں داخل ہیں۔ اوپر والی آیت کے تحت ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ جاہلیت میں حج کا اجتماع ایک بہت بڑے تجارتی میلے کی نوعیت اختیار کر گیا تھا جس کے سبب سے حج کا اصل مقصد بالکل دب کر رہ گیا تھا۔ قرآن نے یہاں واضح کیا ہے کہ حج کا اصل مقصد عبادت ہے نہ کہ تجارت۔ اس وجہ سے اس سفر میں اسی کے شان شایان زاد راہ لو، اور وہ ہے تقوی، لیکن اس کے اصلی مقصد کے اہتمام کے ساتھ اگر کوئی شخص کوئی نفع بخش کاروبار بھی کرے تو اس سے اس عبادت میں کوئی خرابی واقع نہ ہوگی۔ یہ چیز جائز ہے۔ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ، عرفات سے واپس ہوتے ہوئے مشعر حرام (مزدلفہ) میں رات گزارنے اور وہاں اللہ کی یاد کرنے کا حکم ہے۔ اس یاد کرنے کے متعلق یہ ہدایت فرمائی کہ یہ اس طریقہ پر ہو جو اللہ نے تمہیں بتایا اور سکھایا ہے، یعنی تسبیح و تہلیل اور ذکر و عبادت کی صورت میں، اس طریقہ پر نہ ہو جو تم نے جاہلیت کے زمانے میں اختیار کر رکھا تھا۔ جس طرح اس زمانے میں لوگ عید وغیرہ کے موقعوں پر چراغاں کرتے ہیں، پکنک کے پروگرام بناتے ہیں، مشاعروں کی مجلسیں منعقد کرتے ہیں، یہاں تک کہ رقص و سرود کی محفلیں بھی کہیں کہیں آراستہ ہوجاتی ہیں، اسی طرح جاہلیت میں بھی لوگ مزدلفہ میں جگہ جگہ آگ جلاتے اور قصیدہ خوانی، داستان گوئی اور مفاخرت کی مجلسیں منعقد کرتے۔ قرآن نے ان چیزوں کی جگہ ان کو تسبیح و تہلیل کی ہدایت فرمائی اس لیے کہ اصلاً ان مقامات کی حاضری اسی مقصد کے لیے ہے۔ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ بطور امتنان و احسان کے ارشاد ہوا ہے۔ جس طرح سورة جمعہ میں ہے " وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین : بیشک یہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے " مطلب یہ ہے کہ ان مقامات کے احکام و آداب سے متعلق تمہیں جو رہنمائی کی جا رہی ہے اس کی قدر کرو، اس لیے کہ اب تک تم ان مقامات کو کھیل تماشے کی جگہیں بنائے بیٹھے تھے حالانکہ یہ مقامات انوارِ معرفت کی جلوہ گاہ ہیں لیکن تم نے اپنی جہالت کے سبب سے جواہرات کے معاون کو کوئلے کی کانیں سمجھا۔
Ayah 2:199قرینہ دلیل ہے کہ یہاں خطاب خاص قریش سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مناسک حج کے معاملہ میں جو پابندیاں دوسروں پر ہیں بعینہ وہی پابندیاں تمہارے اوپر بھی ہیں اس وجہ سے جس طرح دوسرے تمام لوگ عرفات جاتے اور وہاں سے لوٹتے ہیں اسی طرح تم بھی عرفات جا کر وہاں سے لوٹا کرو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ قریش زمانہ جاہلیت میں حج کے موقعہ پر خاص اپنے لیے عرفات کی حاضری ضروری نہیں سمجھتے تھے، صرف مزدلفہ تک جاتے اور وہیں سے لوٹ آتے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بیت اللہ کے پروہت اور مجاور ہیں اس وجہ سے ان کے لیے حدود حرم سے باہر نکلنا مناسب نہیں۔ بندگی میں انہوں نے اپنے لیے ایک امتیاز قائم کرلیا تھا۔ قرآن نے ان کے اس خود ساختہ امتیاز کو ختم کر کے سب کو ایک سطح پر کردیا۔
Ayah 2:200مناسک حج سے فراغت کے بعد لوگوں پر، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، تفریحات اور دلچسپیوں کا موڈ طاری ہوتا تھا اور شعر و شاعری اور مفاخرت کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں، خاص کر قیام منیٰ کے ایام تو انہی چیزوں کے لیے خاص ہو کر رہ گئے تھے۔ شعرا اور خطباء اپنے اپنے قبیلوں اور اپنے اپنے آباء و اجداد کے مفاخر نثر و نظم میں بیان کرتے اور طلاقت لسانی سے ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی کوشش کرتے۔ قرآن نے اس لغویت کی بھی اصلاح کی اور اس کی جگہ اس سے زیادہ اہتمام اور اس سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔
طالبین دنیا کو تنبیہ : فمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ لایۃ، یہ اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جن کے دل و دماغ کے ہر گوشے پر محبت دنیا کا غلبہ ہوتا ہے اور اس غلبہ کی وجہ سے وہ ہر جگہ اسی چیز پر نگاہ رکھتے ہیں جو ان کے دل میں سر فہرست ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر انہیں حج جیسی عظیم عبادت کا موقع بھی نصیب ہوتا ہے تو اس میں بھی قبولیت دعا کے ہر موقع و محل میں خدا سے اپنی دنیوی آرزؤوں ہی کی تکمیل کے دعا کرتے ہیں۔ در آنحالیکہ ان کی آخرت کا خانہ بالکل ہی خالی ہوتا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو حج کرتے ہی اپنے کسی نہ کسی دنیوی مقصد کے لیے ہیں۔ وہ جس مقام کو بھی سمجھتے ہیں کہ یہاں دعا قبول ہوتی ہے وہاں وہ اپنی وہی درخواست پیش کرتے ہیں جو ان کے دل پر غالب ہوتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ اخروی فلاح کا کوئی ذکر بھی پسند نہیں کرتے کہ مبادا یہ چیز ان کی اصل آرزو کے لیے خدا کے سامنے کوئی حجاب بن جائے۔ اسی طرح کے لوگ ہیں جنہوں نے دین کی ہر چیز کو دنیوی مفادات کے سانچوں میں ڈھالنے کی وشش کی ہے، جس سے دین کا حلیہ بگڑا ہے، اسی طرح کے لوگ تھے جن کی دنیا پرستیوں نے حج جیسی عظیم عبادت کو بھی زمانہ جاہلیت میں، جیسا کہ اوپر گزرا، ایک تجارتی میلے کی شکل میں بدل دیا، اور یہی رحجان ہے جو اس دور میں حج کو صرف ایک سالانہ کا نگریس کی حیثیت سے نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ حج کی اصل ابراہیمی روح ہجرت الی اللہ ہے۔ اس کے دنیوی فوائد صرف ضمنی ہیں۔
Ayah 2:201یہ اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جن کے ذہن دنیا اور آخرت دونوں کے معاملہ میں بالکل متوازن ہیں اور جو دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی اپنے رب سے مانگتے ہیں۔ پہلے گروہ کے بعد اس گروہ کا ذکر یہ بتانے کے لیے ہے کہ اس گروہ کی طلب اللہ کی نگاہوں میں پسندیدہ ہے اور اہل ایمان کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے اس دعا سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ بندے کو اپنے رب سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنی چاہئے اور اس بھلائی کا فیصلہ اور انتخاب اسی پر چھوڑنا چاہیے، وہی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر جانتا ہے کہ ہماے لیے حقیقی خیر کس چیز میں ہے۔ خاص طور پر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کا خیر ہونا تو منحصر ہے اس امر پر کہ وہ چیز ہمارے لیے آخرت کی کامیابی کا وسیلہ و ذریعہ بن سکے اور کسی چیز کے اس پہلو کو جاننا صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ اس وجہ سے بندے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس معاملے کو اللہ تعالیٰ ہی پر چھورے، اپنی طرف سے کوئی تجویز پیش نہ کرے۔ البتہ دوزخ کے عذاب سے برابر پناہ مانگتا رہے۔ یہ بڑی سخت چیز ہے بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے پناہ میں رکھے۔