Ayah 2:48جَزٰی عَنۡہُ کے معنی ہیں، اس کی طرف سے ادا کر دیا، یا اس کی طرف سے کافی ہوگیا۔ لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا کے معنی ہوں گے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہوگی کوئی دوسرا اس کی طرف سے وہ ادا نہ کرسکے گا۔ یہ مضمون قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں میں بیان ہوا ہے مثلاً
وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی (۱۶۴ انعام)
اور کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گی۔
وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَلَدِہٖ وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْْءًا (لقمان ۳۳)
اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ اپنی اولاد کے کام نہ آسکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔
اس دن ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُغْنِیْہِ (۳۷ عبس)
شفاعت ، شفع سے ہے۔ شَفَعَ الشَئ کے معنی ہیں، اس کے ساتھ اسی طرح کی کوئی چیز ملا کر اس کو جوڑا کر دیا۔ شفع لفلان یا شفع فیہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کی بات یا درخواست کے ساتھ کوئی شخص اپنی تائید یا سفارش ملا کر اس کو موید کر دے۔
عدل کے معنی انصاف کے ہیں۔ فرمایا
اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ (نساء ۵۸)
یہ کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔
پھر یہیں سے یہ لفظ مساوی اور برابر کے معنی میں استعمال ہوا۔ فرمایا
اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا (۹۵ مائدہ)
یا اس کے برابر روزے۔
نیز فدیہ کے معنی میں استعمال ہوا کیونکہ فدیہ جس کا فدیہ ہوتا ہے اس کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
لَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُوۡنَ میں عربی زبان کا وہ اسلوب ملحوظ ہے جس میں بظاہر تو ایک شے کے لازم کی نفی ہوتی ہے لیکن مقصود درحقیقت ملزوم کی نفی ہوتی ہے۔ امرء القیس نے اپنے ایک شعر میں ایک صحرائی راستہ کی تعریف کی ہے کہ لا یھتدی بمنارہ (اس کی برجیوں سے رستہ معلوم نہیں کیا جاتا) ظاہر ہے کہ اس طرز تعبیر سے اس کا مقصود یہ بتانا ہےکہ اس صحرا میں رہنمائی کے لئے برجیاں اور منارے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اسی اسلوب پر یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دن نہ کوئی ان کے لئے شفاعت کرنے والا ہوگا، نہ کوئی شفاعت قبول ہو گی، نہ کسی کے پاس دینے کے لئے معاوضہ ہو گا، نہ کسی سے معاوضہ لیا جائے گا، نہ کسی کے حامی اور مددگار ہوں گے، نہ کسی کی حمایت ومدد کی جاسکے گی۔ یہی حقیقت دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔
فَمَا تَنفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ (۴۸ مدثر)
پس ان کوشفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہیں دے گی۔
اور پھر دوزخیوں کی زبان سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں۔
فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ، وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ (۱۰۰۔۱۰۱ شعراء)
نہ ہمارے کوئی سفارش کرنے والے ہیں اور نہ سرگرم دوست۔
بنی اسرائیل کو حضرت ابراہیم علیہ اسلام، حضرت اسحٰق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام جیسے انبیاء کی اولاد میں سے ہونے کا جو گھمنڈ تھا اور جس کی بنا پر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ان کی نجات کے لئے ان بزرگوں کی نسبت اور سفارش ہی کافی ہو گی، یہ آیت ان کے اس واہمہ کی جڑ کاٹ رہی ہے اور ان کو اس بات کی یاد دہانی کر رہی ہے کہ خدا کے ہاں کام آنے والی اصل چیز عہد الہٰی کی پابندی اور ایمان وعمل صالح ہے۔ اس سے بے پروا ہو کر محض آرزوؤں کے ہوائی قلعہ پر اعتماد نہ کرو۔
Ayah 2:49آل فرعون، یعنی قوم فرعون۔ آل سے مراد صرف کسی شخص کی اولاد نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ لفظ آل و اولاد ، قوم وقبیلہ اور اتباع وانصار سب پر حاوی ہے۔
نابغہ ذبیانی کا شعر ہے:
من آل میہ رایح اومغتدی
عجل نذازاد وغیر مزود
میہ کے قبیلہ کے لوگوں میں کوئی صبح روانہ ہوا کوئی شام، کوئی زاد راہ کےساتھ، کوئی بغیر زادراہ کے۔
سورہ مومن ۴۵ میں ہے،
وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوْءُ الْعَذَابِ
اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔
وَلَقَدْ اَخَذْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ (۱۳۰)
اور ہم نے آل فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کر دیا۔
ان آیات میں جس عذاب کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ وہ فرعون اور اس کی ساری قوم ہی پر آیا، نہ کہ صرف اس کی اولاد پر، اس کی اولاد کا تو کہیں ذکر بھی نہیں ہے۔ بلکہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ اس کا بے اولاد ہونا ثابت کرتے ہیں۔ تورات میں یہ ذکر ضرور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں دریا سے جس نے نکلوایا تھا وہ فرعون کی لڑکی تھی لیکن قرآن نے اس غلطی کی بھی تصحیح کر دی کہ یہ اس کی لڑکی نہیں بلکہ اس کی بیوی تھی۔ چنانچہ فرمایا ہے۔
وَقَالَتِ امْرَاۃُ فِرْعَوْنَ قُرَّۃُ عَیْْنٍ لِّیْ وَلَکَ لَا تَقْتُلُوْہُ عَسٰی اَنْ یَّنفَعَنَا اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (۹ قصص)
اور فرعون کی بیوی نے کہا، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،اس کو قتل نہ کرو، ممکن ہے ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں اور وہ اس بات کے انجام کا احساس نہیں رکھتے تھے۔
“سَوم”کے معنی کسی پر کوئی بوجھ یا بار ڈالنے کے ہیں، کہیں گے سامہٗ ظلما وسامہٗ خسفا اس کو ظلم کا یا ذلت کا مزہ چکھایا۔
يُذَبِّحُوۡنَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوۡنَ نِسَاءَكُمْ
وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے۔
یہ اس عذاب ظلم و ذلت کی تفصیل ہے جس میں فرعونیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل مبتلا ہوئے۔ اگرچہ مصر میں بنی اسرائیل پر طرح طرح کے ظلم توڑے جاتے تھے اور بے شمار قسم کی ذلتوں سے انہیں سابقہ تھا جن کی تفصیل ان کی تاریخ میں موجود ہے لیکن یہاں ذکر صرف دو ہی باتوں کا بطور نمونہ فرمایا ہے، ان نمونوں سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ بنی اسرائیل وہاں کس شکنجہ میں تھے۔
بیٹوں کے قتل کے اسباب اور اس کی نوعیت کی تفصیل تو کسی موزوں مقام پر آئے گی البتہ بلاغت کا ایک نکتہ ملحوظ رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ لڑکوں کے ذبح کا جو ذکر کیا ہے تو بیٹوں کے لفظ سے کیا ہے تاکہ شفقت پدری کا جذبہ ابھرے اور لڑکیوں کے زندہ رکھنے کا ذکر کیا ہے تو ان کے لئے تمہاری عورتوں کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے کہ غیرت کو حرکت میں لانے کے لئے یہ تعبیر زیادہ موثر تھی۔
وَفِيۡ ذَٰلكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ (اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی) اس آزمائش کے کٹھن ہونے کی طرف یہاں اشارہ اس لئے فرمایا کہ اس نجات کی اہمیت کا انہیں کچھ اندازہ ہو سکے جو انہیں حاصل ہوئی کہ کیسا عظیم ابتلا تھا جس سے ان کے رب نے ان کو چھڑوایا، اگر وہ نہ چھڑاتا تو کوئی دوسری طاقت اس عذاب سے ان کو نہیں چھڑا سکتی تھی۔
Ayah 2:50فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ: کا ترجمہ یہ ہو گا کہ ہم نے تمہیں ساتھ لے کر دریا کو پھاڑتے ہوئے عبور کیا۔ مطلب یہ ہو گا کہ جس طرح کوئی کسی کو گود میں اٹھا کر دریا پار کرا دے اسی طرح ہم نے تمہیں پار کرایا۔
وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ: یعنی اپنی نجات کے بعد فرعون اور اس کے غرق ہونے کا ماجرا تم نے ساحل پر کھڑے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہاں تاریخ بنی اسرائیل کے جن واقعات کی طرف اشارات کئے جارہے ہیں ان کے متعلق دو باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔
ایک یہ کہ تمام واقعات بنی اسرائیل کی تاریخ کے نہایت اہم اور مشہور واقعات ہیں جن سے ان کا بچہ بچہ واقف تھا اس وجہ سے ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف اشارات کافی تھے۔
دوسری یہ کہ زمانہ نزول قرآن کے بنی اسرائیل ان واقعات کو اپنی تاریخ کے واقعات کی حیثیت سے نہ صرف مانتے تھے بلکہ ان پر فخر کرتے تھے اس بنا پر قرآن نے ان واقعات کو ان کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے گویا یہ انہی کے ساتھ پیش آئے ہیں۔ یہ بلیغ اسلوب اتمام حجت کے نقطۂ نظر سے نہایت موثر اور مفید ہے۔
Ayahs 2:51–52یہ اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو مصر سے نکلنے اور دریا کو پار کر چکنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام و ہدایات دینے کےلئے فرمایا اور اس مقصد کے لئے ان کو طور پر بلایا۔ یہ چالیس دن کی مدت اس قلبی و روحانی تیاری کے لئے تھی جو کتاب الہٰی کے بار عظیم کے متحمل ہونے کے لئے ضروری تھی۔ ابتداءً یہ وعدہ تین دنوں کا تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ ان کی اس جلدی کے سبب اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت مقتضی ہوئی کہ یہ مدت ۳۰ دنوں سے بڑھا کر چالیس دن کی کردی جائے۔ مذکورہ آیت میں یہ پوری مدت جمع کر دی گئی ہے۔ سورہ اعراف میں اس کی تفصیل اس طرح درج ہے۔
وَوٰعَدْنَا مُوسٰی ثَلاَثِیْنَ لَیْْلَۃً وَّاَتْمَمْنَاہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖ اَرْبَعِیْنَ لَیْْلَۃً
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس راتیں بڑھا کر۔ اس طرح اس کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی۔
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظٰلِمُوۡنَ: یعنی موسیٰ کے پہاڑ پر چلے جانے کے بعد تم دھات کا ایک بچھڑا بنا کر اس کی پرستش میں لگ گئے۔ کتاب خروج باب ۳۲ میں اس واقعہ کی تفصیلات موجود ہیں لیکن یہود نے اپنی عادت کے مطابق اس میں حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی ملوث کر دیا جس کی قرآن نے دوسرے موقع پر تردید فرمائی ہے:
“اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی ہے تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جو ہم کوملک مصر سے نکال کر لایا کیا ہو گیا۔۔۔۔۔تب خداوند نے موسیٰ کو کہا نیچے جا کیوں کہ تیرے لوگ جن کو تو ملک مصرسے نکال لایا بگڑ گئے ہیں۔ وہ اس راہ سے جس کا میں نے حکم دیا تھا بہت جلد پھر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لئے قربانی چڑھا کر یہ بھی کہا کہ اے اسرائیل یہ تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ یہ گردن کش قوم ہے اس لئے مجھے چھوڑ دے کہ میرا غضب ان پر بھڑکے اور میں ان کو بھسم کر دوں۔”(باب ۳۲ آیات ۱-۷)
وَأَنْتُمْ ظٰلِمُوۡنَ: یعنی اس گوسالہ پرستی کا ارتکاب کر کے تم نے خود اپنی جانوں پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ چنانچہ دو ہی آیتوں کے بعد قرآن نے خود اس کی وضاحت کر دی ہے
یَا قَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ.
اے میری قوم کے لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
ظلم کی اصل حقیقت حق تلفی کرنا ہے۔ شرک کا ارتکاب کر کے انسان اپنے نفس کی سخت تحقیر کرتا ہے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ اور تمام مخلوقات سے اشرف ہونے کے باوجود اپنے ہی جیسی یا اپنے سے بھی کسی گھٹیا مخلوق کو اپنا خدا بنا بیٹھتا ہے۔ اپنے نفس کی اس سے بڑی حق تلفی اور کیا ہو سکتی ہے؟
Ayah 2:53فرقان کے معنی ہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز یہاں واو بیان اور تفسیر کے لئے ہے۔ یعنی کتاب تورات ہی کو فرقان کے لفظ سے تعبیر کر کے اس کے ایک اور پہلو کو واضح کر دیا ہے۔ قرآن مجید میں قرآن اور تورات دونوں کے لئے فرقان کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ مثلاً
وَلَقَدْ اٰتَیْْنَا مُوْسٰی وَہَارُوْنَ الْفُرْقَانَ (۴۸ انبیاء)
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان دی۔
اسی طرح قرآن مجید کے متعلق ہے۔
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ (۱۔ الفرقان)
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا۔
ان کتابوں کو فرقان کے لفظ سے تعبیر کرنے میں کئی پہلو مدنظر ہیں۔ ایک یہ کہ یہ تمام احکام وہدایات کی تفصیل پیش کرتی ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ حق وباطل اور حرام وحلال کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔ تیسرا یہ کہ اپنے مدعا ومقصد میں بالکل واضح ہیں۔ چوتھا یہ کہ ان سے انسان کو وہ حکمت حاصل ہوتی ہے جو زندگی کے تمام نشیب وفراز میں خیر وشر کی شناخت کے لئے روشنی بخشتی ہے۔
قرآن نے معرکہ بدر کو بھی فرقان کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس لئے کہ اس نے بھی حق وباطل کو اچھی طرح آشکارا کر دیا۔
Ayah 2:54“برء”کا مفہوم لفظ خلق کے مفہوم سے ملتا جلتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک ہی جگہ اللہ تعالیٰ کی صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ (ھُوَاللہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِیُ الۡمُصَوِّرُ) خلق کا مفہوم ہے کسی چیز کا خاکہ design تیار کرنا،“برء”کا مفہوم ہے اس کو ٹھیک ٹھاک کرنا، تصویر کے معنی ہیں اس کو مکمل کرنا۔ اس اعتبار سے اگرچہ خالق اور باری دونوں لفظوں کے لغوی مفہوم میں ایک باریک سا فرق ہے لیکن عام استعمال میں دونوں ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں۔
فَاقْتُلُوۡا أَنْفُسَكُمْ: پس اپنے آپ کو قتل کرو کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اپنی تلواریں خود اپنی گردنوں پر چلا دو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قبیلہ میں سے جو لوگ اس فتنہ شرک و گوسالہ پرستی سے الگ رہے ہیں اپنے اپنے قبیلہ کے ان لوگوں کی گردنیں اپنے ہاتھوں سے ماریں جنہوں نے قوم کے لئے اس فتنہ ارتداد کی راہ کھولی ہے۔ یہ حکم دینے میں چند عظیم مصلحتیں تھیں۔
ایک یہ کہ اس طرح اس توبہ نے ایک اجتماعی شکل اختیار کر لی۔ گویا بنی اسرائیل کے اجتماعی ضمیر نے ان لوگوں کو اپنے اندر سے کاٹ پھینکا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد توحید کی اہانت کی تھی۔
دوسری یہ کہ اس سے توحید کی حقیقی عظمت اور شرک کی حقیقی کراہت پورے طور پر واضح ہو گئی۔ گویا شرک ایک ایسی برائی ہے کہ اگر آدمی کا بایاں ہاتھ اس کا ارتکاب کرے تو اس کے داہنے ہاتھ پر فرض ہے کہ اپنے بائیں ہاتھ کو کاٹ پھینک دے۔ اس معاملہ میں نہ کسی مداہنت اور رواداری کو دخیل ہونے دے اور نہ کسی قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ کرے۔
تیسری یہ کہ ہر قبیلہ وخاندان کے اخیار اگر اپنے اپنے قبیلوں کے اشرار پر تلوار اٹھائیں گے تو اس سے خاندانی اور قبائلی عصبیت نہیں ابھرے گی بلکہ بغیر کسی فتنہ کے اندیشہ کے بنی اسرائیل کی تطہیر ہو جائے گی۔
تورات کے مطالعہ سے بھی قریب قریب یہی بات نکلتی ہے۔ چنانچہ کتاب خروج میں ہے۔
“جب موسیٰ نے دیکھا کہ لوگ بے قابو ہوگئے کیوں کہ ہارون نے ان کو بےلگام چھوڑ کر ان کو ان کے دشمنوں کے درمیان ذلیل کر دیا۱ تو موسیٰ نے لشکر گاہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا جو خداوند کی طرف سے ہے (یعنی عہد توحید پر قائم ہے) وہ میرے پاس آ جائے۔ تب سب بنی لاوی اس کے پاس جمع ہو گئے اور اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی اپنی ران تلوار سے لٹکا کر، پھاٹک پھاٹک گھوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو۔ اور بنی لاوی نے موسٰیؑ کے کہنے کے موافق عمل کیا چنانچہ اس دن لوگوں میں سے تین ہزار مرد کھیت آئے اور موسٰیؑ نے کہا آج خداوند کے لئے اپنے آپ کو مخصوص کرو (یعنی عہد توحید کی تجدید کرو) بلکہ ہر شخص اپنے ہی بیٹے اور اپنے ہی بھائی کے خلاف ہوتا کہ وہ تم کو آج ہی برکت دے۔”(باب ۳۲ آیات ۲۵۔۳۰)
اگر چہ توریت کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مرتدوں کے قتل کے کام پر صرف بنی لاوی کو مامور کیا تھا لیکن خود مذکورہ اقتباس کا آخری حصہ شہادت دے رہا ہے کہ معاملہ کی اصل حقیقت وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے یعنی ہر قبیلہ کے موحدین اس کام پر مامور کئے گئے کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے مرتدوں کی گردنیں مار دیں تاکہ یہ اہل ایمان کے مزید ایمان کی ایک شہادت ہو اور لوگ سبق حاصل کریں کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس معاملہ میں باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو بھی معاف کرنے والا نہیں ہے۔
تاریخ اسلام میں، یاد ہوگا، اسی قسم کا مشورہ حضرت عمر ؓ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق دیا تھا۔
اس حکم سے ایک بات تو یہ نکلتی ہے کہ توبہ کی قبولیت کے لئے اصل گناہ سے پوری پوری بیزاری ضروری ہے، دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ جو برائی معاشرہ کے ذمہ داروں کی غفلت سے معاشرہ میں پھیل جائے اس کا کفارہ سب کو ادا کرنا پڑتا ہے، اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ جرم معاف نہیں ہوتا۔ تیسری بات یہ نکلتی ہے کہ ارتداد کی سزا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بھی قتل ہی تھی۔
ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ: یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے یعنی تمہیں تو بظاہر یہ ایک بہت بڑا ظلم اور بہت بڑا قومی نقصان معلوم ہو گا کہ قوم کے اتنے برے حصہ کو قومی جسم سے کاٹ کر پھینک دیا جائے لیکن تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک اس حصہ کے کاٹ پھینکے جانے ہی میں تمہارے لئے دین ودنیا کی خیروبرکت ہے۔ اگر خاندانی جذبات اور قومی محبت کے جوش میں تم نے اس فاسد حصہ کو اپنے وجود قومی کے ساتھ چمٹائے رکھنے ہی کو بہتر سمجھا تو یاد رکھو کہ اس کا فساد تمہارے سارے وجود قومی کو فاسد کر کے چھوڑے گا۔ اصول وعقائد سے بنی ہوئی ایک جماعت کے ساتھ اگر ان اصولوں کے مخالف بھی محض نسلی تعلق کی بنا پر چپکے رہیں تو وہ پوری جماعت تباہ ہو کے رہتی ہے۔
۱ یہود نے حضرت ہارونؑ کو بدنام کرنے کے لیے تورات میں اس قسم کے جو اضافے کیے ہیں ان کی تردید ہم مناسب موقع پر کریں گے۔
Ayah 2:55ہم تمہارا یقین اس وقت تک نہیں کرنے کے جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ بنی اسرائیل شک کے ایسے مریض تھے کہ انہیں کسی طرح یقین ہی نہیں آتا تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے کلام بھی کرتا ہے اس وجہ سے جب موسیٰ علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ خداوند تمہیں یہ حکم دیتا ہے تو وہ کہتے کہ جب خدا تم سے کلام کرتا ہے تو وہ ہم سے بھی کلام کرے اور ہم بھی اس کو آنکھوں سے دیکھیں، اس کے بغیر ہم تمہاری بات کی صحت کس طرح تسلیم کر لیں؟
جہاں تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش کا تعلق ہے، یہ خواہش کوئی قابل ملامت خواہش نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہ خواہش کی تھی لیکن بڑا فرق ہے اس بات میں کہ یہ خواہش شرح صدر اور اطمینان قلب حاصل کرنے کے لئے ہو اور اس بات میں کہ اس کو انکار اور تکذیب کا بہانہ بنایا جائے۔ حضرت موسی علیہ السلام کی یہ خواہش اسی طرح تھی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دیکھنا چاہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے تاکہ آخرت کے باب میں انہیں پورا پورا شرح صدر حاصل ہو جائے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملامت نہیں فرمائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ تم ان ناسوتی آنکھوں سے میری ذات کو نہیں دیکھ سکتے، صرف میری صفات ہی کو دیکھ سکتے ہو۔ قرآن مجید میں اس کی تفصیل اس طرح ہے۔
وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْْکَ قَالَ لَن تَرَانِیْ وَلٰکِنِ انظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْْکَ وَاَنَاْ اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اعراف: ۱۴۳)
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر آیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا کہ اے خداوند مجھے تو اپنے آپ کو دکھا، میں تجھے دیکھوں گا۔ فرمایا تم مجھے نہیں دیکھ سکتے، البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہ سکے تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ تو جب اس کے رب نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو اس کو پاش پاش کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو بولے اے رب تو پاک ہے، میں نے توبہ کی اور میں پہلا ایمان لانے والا بنتا ہوں۔
برعکس اس کے بنی اسرائیل کے لوگوں کا یہ مطالبہ محض ان کی بے یقینی اور شک پرستانہ ذہنیت کا ایک مظاہرہ تھا اور یہ مظاہرہ وہ اللہ تعالیٰ کی نہایت کھلی کھلی نشانیاں دیکھنے کے باوجود قدم قدم پر کرتے تھے اس وجہ سے ان پر عتاب ہوا۔
یہ عتاب یہاں فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اور سورہ اعراف ۱۵۴ میں فَلَمَّا اَخَذَتۡھُمۡ الرَّجۡفَۃُ کے الفاظ سے لفظ صاعقہ کی تحقیق ہم سترھویں فصل میں بیان کر چکے ہیں۔ اس کے معنی گرج اور کڑک کے بھی ہیں اور اس بجلی کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جو کڑک کے ساتھ گرتی ہے۔ رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں۔ ایک ہی واقعہ سے متعلق قرآن نے دومقامات میں جو بظاہر دو الگ الگ لفظ استعمال کئے ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ ایک ہی حادثہ کے دومختلف اثرات ہیں جو بیک وقت ظاہر ہوئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مشاہدہ کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی جب پہاڑ پر ڈالی تو جس طرح پہاڑ پاش پاش ہو گیا اسی طرح بنی اسرائیل کے مطالبہ پر جب اس کی تجلی ظاہر ہوئی ہے تو وہ صاعقہ کی شکل میں نمودار ہوئی جس نے سارے پہاڑ میں زلزلہ ڈال دیا ور یہ لوگ بھوچکے ہو کر گر پڑے۔
Ayah 2:56اس صاعقہ اور زلزلہ سے ان ستر سرداروں پر جو اس ۱ موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ طور پر گئے تھے جو حالت طاری ہوئی، قرآن مجید نے اس کو موت سے تعبیر کیا ہے۔ اس موت سے موت بھی مراد ہوسکتی ہے اور بطریق استعارہ بے ہوشی بھی۔ عربی زبان میں موت کا لفظ استعارہ کے طور پر نیند اور بے ہوشی کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔۲ چنانچہ سو کر اٹھنے کے بعد کی جو مشہور دعا احادیث میں نقل ہوئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں، الحمد لِلہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور (اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے) اسی طرح بعثت کا لفظ بھی اصحاب کہف کے واقعہ میں ان کو نیند سے بیدار کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔
اگرچہ بنی اسرائیل اپنی سرکشی کے سبب سے سزاوار تو اسی بات کے تھے کہ ان کو دوبارہ اٹھنا نصیب نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کو مزید مہلت بخشی اور ان کے پیغمبر نے بھی اس موقع پر ان کے لئے بڑی دل سوزی کے ساتھ دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ سورہ اعراف میں اس کا حوالہ اس طرح آیا ہے۔
وَاخْتَارَ مُوۡسٰی قَوْمَهٗ سَبْعِيۡنَ رَجُلاً لِّمِيقَاتِنَا فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمۡ مِنۡ قَبْلُ وَاِيَّايَ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا اِنْ هِيَ اِلاَّ فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهْدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ وَاَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنۡتَ خَيْرُ الْغَافِرِيۡنَ۔ (اعراف: ۱۵۵)
اور موسیٰ علیہ السلام نے ہمارے مقررہ وقت پرحاضری کے لئے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب کئے تو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اے رب اگر توچاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی ہلاک کر چھوڑتا، کیا تو اس جرم میں ہم سب کو ہلاک کر دے گا جو ہم میں سے بے وقوفوں نے کیا ہے۔ یہ تو بس تیری آزمائش تھی۔ اس کے ذریعہ سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔ تو ہمارا مددگار ہے۔ تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہے۔
۱ قرآن مجیدسے واضح ہوتا ہے کہ یہ اس موقع کی بات ہے جب گوسالہ پرستی کے حادثہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ستر منتخب آدمیوں کو لے کر طور پر اس مقصد سے گئے ہیں کہ اپنی قوم کے لیے معافی مانگیں اور اس کام میں اپنی قوم کے ان لیڈروں کو بھی شریک کریں۔
۲ لسان العرب میں ہے، مات الرجل و ھمہ وھوم اذا نام۔۔۔ الموت السکون وکل ما سکن فقدمات۔۔۔ و فی حدیث دعاء الانتباہ: الحمدللہ الذی احیانا بعد ما اماتنا وا لیہ النشور۔سمی النوم موتا لا نہ یزدول معہ العقل والحرکۃ تمثیلاً وتشبیھا لا تحقیققا و قیل الموت فی کلام العرب یطلق علی السکون یقال ماقت الریح ای سکنت و منھا المنام لقولہ تعالیٰ والتی لم تمت فی منھا و قد قیل المنام الموت الخفیف والموت النوم الثقیل۔۔۔ الموتۃ جنس من الجنون والصرع یعتری الانسان فاذا افاق عادالیہ عقلہ کالنائم والسکون۔ والموتہ انعشی۔
Ayah 2:57یہ ان انعامات کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر صحرائے سینا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دھوپ اور فاقے کی مصیبت سے بچانے کے لئے کئے۔
“مَنّ”کے اصل معنی فضل واحسان کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ خاص غذا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے صحرائے سینا میں خاص اپنے فضل سے مہیا فرمائی، جس کے لئے نہ انہیں ہل چلانے پڑے، نہ تخم ریزی اور آب پاشی کی زحمتیں اٹھانی پڑیں۔ اس کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے:
“اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانپ لیا اور صبح کو خیمہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول چیز، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں، زمین پر پڑی ہے۔ بنی اسرائیل اس کو دیکھ کر آپس میں کہنے لگے مَن؟ کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔ تب موسٰیؑ نے ان سے کہا کہ یہ وہی روٹی ہے جو خداوند نے کھانے کو تم کو دی ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ ہر صبح اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کر لیتے اور دھوپ تیز ہونے ہی وہ پگھل جاتا۔”(خروج باب ۱۶ آیات ۱۳-۲۱)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبنم کی طرح ایک چیز زمین پر ٹپکتی تھی اور پالے کے دانوں کی طرح وہ جم جاتی تھی۔ آفتاب کی تمازت بڑھنے سے پہلے پہلے اس کا جمع کر لینا ممکن ہوتا تھا۔ تمازت بڑھنے کے بعد یہ دانے پگھل جاتے تھے۔ چونکہ یہ نعمت، جیسا کہ عرض کیا گیا ہے، بغیر کوئی زحمت ومشقت اٹھائے حاصل ہوئی تھی اور ایک ایسے بے آب وگیاہ صحرا میں حاصل ہوئی تھی جہاں فراہمی غذا کے اسباب ووسائل منقود تھے اس وجہ سے اس کا نام“مَنّ”قرار پایا (یہ واضح رہے کہ عربی اور عبرانی دونوں قریب الماخذ زبانیں ہیں)۔
“مَنّ”کے وجہ تسمیہ سے متعلق یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے لیکن تورات کا مذکورہ بالا اقتباس یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب اس عجیب وغریب چیز کو دیکھا تو ان کے اندر یہ سوال پیدا ہوا کہ“مَنۡ ھُوَ”یہ کیا ہے؟ ان کے اسی سوال کے جواب میں اس کا نام“مَن”پڑ گیا۔ ہمارے نزدیک یہ وجہ تسمیہ محض یہود کی بدمذاقی کی ایک ایجاد ہے۔ نہ لفظ اس کی تائید کرتا ہے، نہ عقل سلیم اس کو قبول کرتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چیز کو جو روٹی سے تعبیر فرمایا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سچ مچ کی روٹی کی قسم کی کوئی چیز تھی بلکہ روٹی یہاں غذا کے مفہوم میں ہے۔ غذا کے مفہوم کی تعبیر کے لئے یہ لفظ قدیم صحیفوں میں بہت استعمال ہوا ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
سَلویٰ:“مَن”کی طرح“سلویٰ”بھی عربی میں اہل کتاب کے واسطہ سے آیا ہے اور اہل عرب نے اس کو اپنے اشعار میں بھی استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ ان پرندوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے لئے بھیجے۔ یہ بٹیروں سے ملتے جلتے تھےاور بٹیروں ہی کی طرح ان کا شکار نہایت آسان تھا۔ خروج میں ان کی تفصیل اس طرح آئی ہے:
“پھر وہ ایلیم سے روانہ ہوئے اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت ملک مصر سے نکلنے کے بعد دوسرے مہینے کی پندرھویں تاریخ کو سین کے بیابان میں، جو ایلیم اور سینا کے درمیان ہے پہنچی اور اس بیابان میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت موسٰیؑ اور ہارونؑ پر بڑبڑانے لگی، اور بنی اسرائیل کہنے لگے کاش کہ ہم خداوند کے ہاتھ سے ملک مصر میں جب ہی ماردئیے جاتے جب ہم گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر دل بھر کر روٹی کھاتے تھے کیوں کہ تم تو ہم کو اس بیابان میں لے آئے ہو کہ سارے مجمع کو بھوکا مارو۔۔۔۔۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا، میں نے بنی اسرائیل کا بڑبڑانا سن لیا ہے۔ سو تو ان سے کہہ دے کہ شام کو تم گوشت کھاؤ گے اور صبح کو تم روٹی سے سیر ہو گے اور تم جان لو گے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانپ لیا۔”(خروج باب ۱۶ آیات ۱-۱۳)
كُلُوۡا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ: (کھاؤ ان چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو بخشی ہیں) اس طرح کے مواقع پر عام طور پر ہمارے مفسرین قلنا کا لفظ محذوف مانتے ہیں۔ یعنی ہم نے یہ چیزیں ان کو بخشیں اور کہا کہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو ہم نے بخشی ہیں۔ ہمارے نزدیک اس طرح کے مواقع پر“کہا”کا لفظ محذوف کر دینے میں ایک خاص بلاغت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اپنی صورت و ہیئت یا بالفاظ دیگر اپنی زبان حال سے بھی یہ دعوت دیتی ہے کہ اس نعمت الہٰی سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے پروردگار کے شگرگزار رہو۔ یہ اشارات قرآن مجید میں کہیں کہیں کھول دئے گئے ہیں اور بعض جگہ، جیسا کہ یہاں ہے، مخفی چھوڑ دئے گئے ہیں جن کے اندر اس کائنات کی پھیلی ہوئی نعمتوں کی اشارات سمجھنے والی عقل ہوتی ہے وہ ان اشارات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یہاں کلام کا سیاق وسباق اس امر کو واضح کر رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا حق نہیں پہچانا۔۔ وہ ان نعمتوں کو پاکر شکرگزار بننے کے بجائے ان کی ناقدری اور خدا کی نافرمانی کرتے رہے۔ یہ بات چوں کہ سیاق کلام سے واضح ہے اس وجہ سے لفظوں میں ظاہر نہیں کی گئی بلکہ اس کی جگہ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ“انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے”۔ اس فقرہ سے بنی اسرائیل کا ان نعمتوں سے متعلق رویہ بھی واضح ہو گیا ہے اور یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ جو لوگ خدا کی کسی نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی بگاڑتے ہیں۔ یہ آخری بات اوپر کی باتوں کی طرح یہود کو براہ راست مخاطب کر کے کہنے کے بجائے ان سے منہ پھیر کر غائب کے صیغہ سے کہی گئی ہے جس سے ان کی طرف سے متکلم کی بیزاری کا اظہار ہو رہا ہے۔
Ayah 2:58قریہ کے معنی اصل لغت میں جمع ہونے کی جگہ کے ہیں۔ عربی میں کہیں گے قری الماء فی الحوض (اس نے حوض میں پانی جمع کر دیا) یہیں سے یہ لفظ بستی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کے مجتمع ہونے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس لفظ کے استعمالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف چھوٹے دیہات ہی کے لئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ بڑے بڑے شہروں اور مرکزی آبادیوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اس قریہ سے یہاں مراد سرزمین فلسطین ہی کا کوئی شہر ہوسکتا ہے اس لئے کہ آگے فَكُلُوۡا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا کے الفاظ سے اس کی جو تعریف وارد ہے وہ اسی سرزمین کے کسی شہر پر منتطبق ہو سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد اریحا یا یریحو ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن زید کی یہی رائے ہے۔ فلسطین کے علاقہ کا یہی شہر بنی اسرائیل کے قبضہ میں سب سے پہلے آیا ہے۔
اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا: سجدہ کے اصل معنی سر جھکانے کے ہیں۔ اس سر جھکانے کے مختلف درجے ہوسکتے ہیں۔ اس کی کامل شکل زمین پر پیشانی رکھ دینے کی ہے جو ہم نماز میں اختیار کرتے ہیں۔ عمرو بن کلثوم نے اپنے مشہور فخریہ شعر میں اس کا یہی کامل مفہوم لیا ہے۔
اذا بلغ الفطام لناصبی
تخرلہ الجبا برسا جدینا
جب ہماری قوم کا کوئی چھوٹا بچہ دودھ چھوڑنے کی مدت کو پہنچتا ہے تو بڑے بڑے جبار اس کے آگے سجدوں میں گرتے ہیں۔
یہاں آیت میں اس سے مراد صرف سر جھکانا ہے۔ موقع کلام اس پر دلیل ہے۔
الباب سے مراد بعض لوگوں نے بستی کا دروازہ لیا ہے۔ بعض لوگوں نے خیمہ عبادت کا دروازہ،۱ میں اس دوسرے قول کو ترجیح دیتا ہوں۔ مفتوح شہر کے دروازوں میں متواضعانہ داخل ہونے کی نصیحت بھی اگرچہ ایک قیمتی نصیحت ہے لیکن یہ نصیحت ایک ایسی قوم کے لئے موزوں ہو سکتی ہے جو بہادر اور زورآور ہو۔ بنی اسرائیل کا حال تو یہ تھا کہ جب دشت فاران میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو فلسطین پر فوج کشی کا حکم دیا ہے توان کے دل بیٹھ گئے اور انہوں نے صاف صاف جواب دے دیا کہ اس ملک میں جبار اورزورآور لوگ ہیں، ہم ان سے مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہیں، تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو، جب ان جباروں سے علاقہ خالی ہوجائے گا تو ہم داخل ہوجائیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ نصیحت کچھ غیرضروری ہی سی معلوم ہوتی ہے کہ شہر کے دروازے میں فاتحانہ تمکنت کے ساتھ نہ داخل ہوں بلکہ عاجزانہ اور سرفگندہ ہو کر داخل ہوں۔ اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ یہاں دروازہ سے مراد خیمہ عبادت کا دروازہ ہے اور مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس شہر میں داخل ہوں، اس کی زرخیزی اور شادابی سے پوری آزادی کے ساتھ فائدہ اٹھائیں اور خیمہ عبادت میں عاجزانہ حاضر ہو کر خدا کا شکر ادا کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں، لیکن جس طرح انہوں نے ہر نعمت کی ناقدری اور ہر ہدایت کی خلاف ورزی کی اسی طرح اس نعمت اور اس ہدایت کی بھی ناقدری کی۔
قُولُوۡا حِطَّةٌ: حِطّۃ کا لفظ ایک جملہ کے قائم مقام ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے۔ یَقُوۡلَوۡنَ طَاعَۃٌ- (نساء: ۸۱) اس وجہ سے یہاں مبتداء کو محذوف ماننا پڑے گا۔ زمحشری نے اس کی پوری وضاحت یوں کی ہے کہ مسئلتنا حطۃ (ہماری درخواست حطہ ہے) حِطّۃ حَطّ سے ہے جس کے معنی جھاڑو دینے کے ہیں۔ یہاں مراد اس سے گناہوں کا جھاڑ دینا ہے۔ عربی اور عبرانی دونوں کے قریب الماخذ ہونے کے سبب سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ مادہ جھاڑو دینے اور بخش دینے ہی کے مفہوم میں عبرانی میں بھی استعمال ہوا ہے اور یہ ان کے ہاں استغفار اور توبہ کے کلمات میں سے تھا۔ وہیں سے یہ عربی میں منتقل ہوا۔
محسنین: عربی میں احسن الی فلان کے معنی ہوں گے فلاں کے ساتھ احسان کیا، اور احسن الشی کے معنی ہوں گے اس چیز کو بہت خوبی کے ساتھ کیا۔ اس وجہ سے محسن کا لفظ عربی میں احسان کرنے والے کے لئے بھی آتا ہے اور کسی عمل کو نہایت خوبی کے ساتھ انجام دینے والے کے لئے بھی۔ موقع کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ لفظ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اردو میں اس کے لئے کوئی خوبصورت لفظ سمجھ میں نہیں آیا ہے۔ اس وجہ سے ترجمہ میں صرف مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۱ ملاحظہ ہو تفسیر علامہ ابی السعود۔
Ayah 2:59یعنی دعا کے لئے جو لفظ ان کو تلقین کیا گیا تھا اس کو انہوں نے بالکل مختلف مفہوم رکھنے والے لفظ سے بدل لیا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں مراد الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ رویہ کی تبدیلی ہے۔ پرانوں میں سے ابو مسلم اصفہانی کا یہی خیال ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے اس خیال کی تائید نہیں ہوتی۔“بدل”کا لفظ جب اپنے دو مفعولوں کے ساتھ آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اگرچہ ایک محذوف ہے، تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کی جگہ دوسری چیز رکھ دی۔ پھر جب واضح الفاظ میں یہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ ظالموں نے اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا ایک دوسرے قول سے بدل دیا جو ان سے نہیں کہا گیا تو اس سے مراد صرف رویہ اور عمل کی تبدیلی مراد لینا قرآن سے صریح انحراف ہے۔
ہمارے نزدیک یہاں صرف رویہ اور عمل کی تبدیلی کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ قرآن کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کے کچھ بدبختوں نے ‘حطّۃ’ کے لفظ کو اس سے بالکل مختلف مفہوم رکھنے والے لفظ سے بدل لیا تھا۔ رہا یہ سوال کہ انہوں نے کس لفظ سے اس کو بدلا تھا تو قرآن میں اس کی کوئی صراحت نہیں ہے۔ اہل تاویل سے مختلف اقوال منقول ہیں جن میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی جزم کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔
مجھے کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ جس طرح نصاریٰ نے اپنی سورہ فاتحہ کے فقروں کے مفہوم میں تبدیلی کر دی اسی طرح کی تبدیلی بنی اسرائیل نے اپنی اس دعا کے مفہوم میں کر دی۔ نصاریٰ کی فاتحہ مندرجہ لوقا باب ۱۱، ۱-۴ میں یہ الفاظ آتے ہیں۔“ہماری روز کی روٹی ہمیں دیا کر”ظاہر ہے کہ اصل دعا کے مفہوم سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں۔ اصل دعا تو یوں ہو گی کہ ہمیں وہ روح ہدایت بخش جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔۱ لیکن چونکہ عبرانی میں روٹی کے لئے جو لفظ ہے وہ روحانی غذا اور مادی روٹی دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے ہدایت کی تعبیر کے لئے یہی مشترک لفظ استعمال ہوا ہوگا۔ بعد میں ترجموں میں آ کر ہدایت کی روح غائب ہو گئی صرف روٹی بچ رہی۔ اسی طرح کی کوئی تبدیلی بنی اسرائیل نے بھی دعا کے الفاظ میں کر دی جس سے دعا کی اصل روح بالکل بدل گئی۔
فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ: رجز اور رجس، دونوں ایک ہی لفظ کی دوشکلیں ہیں۔ ان کا اصل مفہوم اضطراب اور ارتعاش ہے۔ یہیں سے یہ گندگی اور نجاست کے لئے استعمال ہوئے کیوں کہ گندگی اور نجاست کو دیکھ کر طبیعت میں ایک قسم کا اضطراب اور سنسنی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر یہ عذاب کے لئے استعمال ہوئے کیونکہ عذاب بھی دلوں میں ایک قسم کا اضطراب اور کپکپی پیدا کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ مِنَ السَّمَاءِ (آسمان سے) کا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس حادثہ کی نوعیت عام حوادث سے بالکل مختلف نوعیت کی تھی۔ اس میں قدرت کی غضبناکی کا پہلو بہت نمایاں تھا۔ تورات کے بعض مقامات میں اس مخصوص نوعیت کی یوں وضاحت کی گئی ہے:
“اگر یہ آدمی ویسے ہی موت سے مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا ان پر ویسے ہی حادثے گزریں جو سب پر گزرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہوں پر اگر خداوند کوئی نیا کرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور ان کو اس کے گھر بار سمیت نگل جائے اور جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جاننا کہ ان لوگوں نے خداوند کی تحقیر کی۔”(گنتی باب ۱۶ – آیات ۲۹-۳۰)
قرآن نے مذکورہ عذاب کی اس مخصوص نوعیت کو مِنَ السَّمَاءِ کے لفظ سے ظاہر کیا ہے جس طرح ہم کسی ہولناک آفت کو قہر آسمانی سے تعبیر کرتے ہیں۔
رہا یہ سوال کہ یہ عذاب کیا تھا تو خاص اس قریہ سے متعلق جس کا یہاں ذکر ہے، اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ البتہ تورات کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس سفر کے دوران متعدد بار بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی شدید نافرمانیاں کیں، اور ان نافرمانیوں کی پاداش میں وہ مختلف وباؤں کا شکار ہوئے۔ مثلاً جس زمانہ میں بنی اسرائیل شیطم میں (جو ارض فلسطین کے بالکل پاس کا ایک شہر تھا) تھے تو ان لوگوں نے موآبی عورتوں کے ساتھ بدکاریاں کیں، ان کی دعوت پر یہ لوگ ان کی مشرکانہ قربانیوں میں شریک ہونے لگے اور اس طرح بالواسطہ ان کے دیوتا“بعل فغور”کی پرستش شروع کر دی جس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سخت وبا بھیجی جس میں ان کے چوبیس ہزار نفوس ہلاک ہوئے۔
کتاب گنتی کے باب ۳۳ میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موآب کے میدانوں میں بنی اسرائیل کو یہ ہدایت بھی کر دی تھی کہ جب تم یرون کو عبور کر کے ملک کنعان میں داخل ہونا تو تم یہاں کے سب مشرکوں کو نکال دینا، ان کے شبیہ دار پتھروں اور ان کے ڈھالے ہوئے بتوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے اونچے مقامات کو مسمار کر دینا۔ اگر تم نے اس کی خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ جیسا میں نے تم کو ان کے ساتھ کرنے کے لئے کہا ہے ویسا ہی تمارے ساتھ کروں گا۔ معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق پیغمبر کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی جس کی پاداش میں ان پر اسی قسم کی کوئی وبا آئی جس قسم کی وبا شیطم میں آئی تھی۔
۱ ملاحظہ ہو مولانا فراہیؒ کی تفسیر سورۂ فاتحہ۔
Ayah 2:60تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی کے لئے یہ دعا دشت صین میں کی ہے۔ کتاب گنتی باب ۲۰ میں ہے:
“اور پہلے مہینہ میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آ گئی اور وہ لوگ قاوس میں رہنے لگے۔۔۔۔ اور جماعت کے لوگوں کے لئے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسٰیؑ اور ہارونؑ کے خلاف اکٹھے ہوئے اور لوگ موسٰیؑ سے جھگڑنے اور یہ کہنے کہ کاش ہم بھی اس وقت مر جاتے جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے۔ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پینے کے لئے پانی تک میسر نہیں اور موسٰیؑ اور ہارونؑ جماعت کے پاس سے جا کر خیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا اجلال ان کے اوپر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسٰیؑ سے کہا کہ اس کی لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارونؑ تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو ان کے لئے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔ یوں جماعت کو اور ان کے چوپایوں کو بلانا۔ چنانچہ موسٰیؑ نے خداوند کے حضور سے اسی کے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسٰیؑ اور ہارونؑ نے جماعت کو اس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اس نے ان سے کہا اے باغیو کیا ہم تمہارے لئے اس چٹان سے پانی نہ نکالیں۔ تب موسٰیؑ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس چٹان پر دوبار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور ان کے چوپایوں نے پیا۔ ”(گنتی باب ۲۰ آیات ۱-۱۲)
قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ: قَدْ عَلِمَ یعنی جان لیا، متعین کر لیا۔ چوں کہ پہاڑی سے بارہ چشمے پھوٹے تھے اور بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے اس وجہ سے ہر خاندان نے اپنے اپنے گھاٹ الگ الگ متعین کر لئے اور اس چیز کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا کہ پانی کے لینے پر کوئی جھگڑا برپا ہو۔ اگر بہتات کے ساتھ پانی کا انتظام نہ ہوتا تو اس صحرا میں ان لوگوں کے اندر روز پانی پینے پلانے پر ہی تلواریں کھنچی رہتیں۔ اس وجہ سے یہ واقعہ صرف ایک عظیم معجزہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم احسان بھی تھا۔
كُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا۔۔۔ الآیہ: جس طرح من وسلویٰ کی نعمت کے ذکر کے بعد آیت ۵۷ میں فرمایا،
کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ.
ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے بخشی ہیں کھاؤ۔
اسی طرح اس پانی کے انتظام کا حوالہ دینے کے بعد فرمایا
كُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ
کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد مچاتے ہوئے نہ پھیلو۔
یہ اس عظیم نعمت کا حق بیان ہوا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے زبان حال سے ہمیں اس حق کی یاد دہانی بھی کرتی ہے جو اس سے بہرہ مند ہونے کے سبب سے ہم پر عائد ہوتا ہے۔ یہ اس حق کی تعبیر ہے اور انسان کی فطرت اگر کفران نعمت کی سیاہی سے مسخ نہ ہو چکی ہوتی تو وہ اس حق سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ یہ اس کی فطرت ہی کی صدا ہے جو وحی الہٰی اس کے کانوں کو سنا رہی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رکھنے کا ہے کہ من وسلویٰ کے بعد صرف کُلُوا (کھاؤ) کا لفظ وارد ہوا ہے اس لئے کہ اس وقت تک بہتات کے ساتھ صرف غذا کا اہتمام فرمایا تھا۔ جب اسی بہتات اور فراوانی کے ساتھ پانی کا بھی انتظام فرما دیا تو کُلُوا کے ساتھ وَاشۡرَبُوۡا (اور پیو) کا بھی اضافہ کر دیا۔
Ayah 2:61بقل کا لفظ سبزیوں اور ترکاریوں کے تمام اقسام کے لئے عام ہے۔
قثاء کے معنی ککڑی اور کھیرے کے ہیں۔
فوم اور ثوم ایک ہی چیز ہے۔ اس کے معنی لہسن کے ہیں۔ اہل عرب ث کو کبھی کبھیسے بدل دیا کرتے ہیں مثلاً عاثور کو عافور اور اثافی کو اثاثی کر دیتے ہیں لہسن کے لئے یہ لفظ اس قدر مشہور ہے کہ اس سے روٹی یا گندم یا غلہ وغیرہ مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید کی تاویل ہمیشہ الفاظ کے مشہور معانی کے لحاظ سے کرنی چاہئے۔
اس آیت میں بنی اسرائیل کے جس مطالبہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا ذکر تورات کی کتاب گنتی کے باب ۱۱ میں اس طرح ہے۔
“اور جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھِی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی اور بنی اسرائیل بھی پھر رونے اور کہنے لگے کہ ہم کو کون گوشت کھانے کو دے گا۔ ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں مفت کھاتے تھے اور ہائے وہ کھیرے اور خربوزے اور وہ گندنے اور پیاز اور لہسن لیکن اب تو ہماری جان خشک ہوگئی۔ یہاں کوئی چیز میسر نہیں اور مَن کے سوا ہم کو اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔”(۴-۷)
قَالَ أَتَسْتَبْدِلُوۡنَ الَّذِيۡ هُوَ أَدْنٰى بِالَّذِيۡ هُوَ خَيْرٌ:“ادنیٰ”دناء ت سے ہے، یعنی کیا تم ایک اعلیٰ غذا کو ایک ادنیٰ اور گھٹیا غذا سے بدلنا چاہتے ہو۔ یہ من وسلویٰ کی غذا تمہارے لئے تمہارے پروردگار نے مہیا فرمائی ہے اور تمہیں اس صحرا میں اس حالت میں مل رہی ہے کہ تم فرعونیوں کی غلامی اور شرک وکفر کی اطاعت کی ذلت سے بالکل آزاد ہو، روکھی اور پھیکی غذا جو آزادی کے ساتھ نصیب ہو رہی ہے غلامی اور ذلت کے حلوے سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے لیکن یہ تمہاری بدقسمتی ہے کہ تم چٹخاروں کے ایسے رسیا ہو کہ ان کے پیچھے تمہاری نگاہوں میں اس کی آزادی بھی، جس میں خدا کے سوا تمہارے اوپر کسی کی حکومت باقی نہیں رہی ہے، کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔
بنی اسرائیل کے اس رویہ میں ان مسلمان قوموں کے لئے ایک بہت بڑا درس عبرت ہے جنہوں نے تمدن کے لوازم وتنوعات کے پیچھے اپنی آزادی کی نعمت خطرے میں ڈال دی اور اس بات پر دھیان نہیں کیا کہ اس طرح جو لذائذ دنیا انہوں نے حاصل کئے ہیں ان کے ساتھ ذلت کے کتنے گھناونے مفاسد چپکے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید کے اس مقام سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کا ضمیر زندہ ہو تو وہ کھانے کی لذت دستر خوان کے تنوعات کے اندر نہیں ڈھونڈتا بلکہ ضمیر اور ارادہ کی آزادی کے اندر ڈھونڈتا ہے۔ یہ چیز اگر اس کو حاصل ہو تو خشک روٹی بھی اس کے لئے جملہ الوان نعمت فراہم کر دیتی ہے۔
اِهْبِطُوۡا مِصْرًا: ‘ھبط’ کے اصلی معنی گرنے کے ہیں اور استعمال میں یہ کسی مسافر کے کسی منزل میں اترنے کے لئے بھی آتا ہے مثلاً کہیں گے ھبطنا الوادی (ہم وادی میں داخل ہوئے) یہیں سے اھبطوامصرًا کا محاورہ رائج ہوا اور ھبوط کا لفظ نزول کے مرادف کی حیثیت سے استعمال ہونے لگا۔ اس استعمال کی وجہ غالباً یہ ہوئی ہو گی کہ مسافر جب کسی مقام پر قیام کا ارادہ کرتا ہے تو وہاں وہ اپنے مرکب سے اترتا ہے۔
اس خاص موقع پر اس لفظ میں یہ موزونیت بھی ہے کہ بنی اسرائیل نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا وہ کسی ہموار نشیبی اور زرخیز علاقہ ہی میں مل سکتی تھیں۔
مصرًا سے مراد کوئی شہر ہے۔ اس سے ملک مصر مراد نہیں ہو سکتا۔ مصر، ملک مصر کے لئے قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے لیکن ہر جگہ غیر منصرف آیا ہے۔ صرف اس آیت میں یہ منصرف کی صورت میں آِیا ہے۔ اس وجہ سے لازمًا یہ شہر کے عام مفہوم میں آِیا ہے۔ البتہ شہر کے لئے خاص طور پر یہاں مصر کے لفظ کے استعمال میں بلاغت کا یہ پہلو ہو سکتا ہے کہ اس لفظ کے ذریعہ سے ان کو وہ ذلتیں اور مصیبتیں یاد دلائی گئی ہوں جن میں وہ مصر میں مبتلا رہ چکے تھے اور مقصود اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اگر تم ان چٹخاروں کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے تو ان کے لئے تو تمہیں کسی مصر ہی کے شکنجہ میں اپنی گردن دینی پڑے گی۔ اس لئے کہ جو قوم کسی اعلیٰ نصب العین کے لئے اپنے اندر صبرواستقامت نہیں پیدا کرسکتی وہ اپنے آپ کو ذلت سے نہیں بچا سکتی۔
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوۡا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ: مسکنت کے معنی عجزو بے بسی، پست ہمتی اور بدحالی کے ہیں۔ ان کے اوپر ذلت اور پست ہمتی مار دی گئی، کی تعبیر اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ جس طرح دیوار پر گیلی مٹی تھوپ دی جاتی ہے اسی طرح ان کی مسلسل ناشکریوں اور آیات الہٰی کی ناقدریوں کے سبب سے ان پر ذلت و مسکنت تھوپ دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے دشمنوں کے لئے نہایت ہی نرم چارہ بن کر رہ گئے، حالات وخطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے اندر کوئی عزم وحوصلہ باقی نہ رہا۔
وَبَاءُوۡا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ (اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو مواقع اس لئے فراہم کئے کہ وہ ان سے سرخروئی اور فائز المرامی حاصل کریں اپنی پست ہمتی اور نالائقی کے سبب سے وہ وہاں سے خدا کی لعنت اور پھٹکار لے کر لوٹے۔
ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوۡا يَعْتَدُوۡنَ: یہ ان کے اوپر ذلت اور مسکنت کے تھوپے جانے کی علت بیان ہوئی ہے کہ ان کے کسی ایک ہی گناہ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان کی پوری تاریخ سرمستیوں اور نافرمانیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ اپنی سرکشی اور تعدی کی فطرت کے سبب سے برابر اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار اور اس کے نبیوں کو قتل کرتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا یہ زعم کہ یہ خدا کے بڑے چہیتے اور محبوب ہیں اور کوئی ان کو ان کے اس مقام سے کھسکا نہیں سکتا ایک بالکل بے بنیاد گھمنڈ ہے، یہ تو اپنی کرتوتوں کے سبب سے خدا کی درگاہ سے راندے ہوئے ہیں۔
انبیا علیہم السلام میں سے جن جن کا یہود کے ہاتھوں قتل ہونا خود یہود کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے سب سے پہلا نام تو حضرت زکریا علیہ السلام کا ہے جن کو شاہ یہود داہ یوآس کے حکم سے عین ہیکل میں مقدس اور قربان گاہ کے درمیان سنگسار کر دیا گیا۔
اس کے بعد حضرت یحیٰی علیہ السلام کا نام ملتا ہے جو کو یہودیہ کے فرمانروا ہیرو ددیس کے حکم سے قتل کیا گیا اور ان کا سر بادشاہ نے ایک تھال میں رکھ کر اپنی معشوقہ کو نذر کیا۔
پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کا نام آتا ہے جن کو یہود نے اپنے زعم کے مطابق سولی پر لٹکا دیا، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان کے شر سے بچا لیا۔
یہاں انبیا علیہم السلام کے قتل کے ذکر کے ساتھ بغیر الحق ناحق، کی قید بھی لگی ہوئی ہے۔ اس سے مقصود ان کے اس جرم کی سنگینی کو واضح کرنا ہے۔ اس لئے کہ قتل نفس خود انسانی معاشرے کا سبب سے بڑا جرم ہے، یہ جرم مزید سنگین ہو جاتا ہے اگر اس کا ارتکاب انبیاء و مصلحین کے خلاف کیا جائے، پھر اس کی سنگینی میں مزید اضافہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب بغیر کسی وجہ جواز کے کی اجائے۔ یہاں قرآن نے یہود کے اس جرم میں تمام سنگینیاں جمع کر دی ہیں۔