Ayah 2:153منصب امامت کی مشکلات اور ان کا علاج : اب اس آیت اور آگے کی چار آیات میں ان خطرات و مشکلات کے مقابلہ کی تدابیر بتائی جا رہی ہیں، جو اس منصب امامت کے بعد پیش آئیں گی یا پیش آسکتی ہیں۔ یہود کو مسلمانوں کے ساتھ جو عناد تھا وہ تو اچھی طرح اوپر واضح ہوچکا ہے مگر قبلہ کے اس اشتراک کی وجہ سے یہود اب تک اس تمام اختلاف و نزاع کے اندر اتفاق کی بھی ایک جھلک دیکھتے تھے۔ لیکن تحویل قبلہ کے بعد انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان اب ملت ابراہیم کے وارث کی حیثیت سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ ان سے بالکل ممیز ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ اس چیز نے قدرتی طور پر مسلمانوں کے خلاف ان کے غیظ و غضب کو دو چند کردیا۔ اسی طرح قریش جو مسلمانوں کو مکہ سے نکال کر اس طمع خام میں مبتلا ہوگئے تھے کہ یہ دعوت ایک اجنبی ماحول میں آپ سے آپ دب جائے گی، اب یہ محسوس کرنے لگے کہ ان کی توقعات کے خلاف، مسلمان مدینہ میں ایک طاقت بنتے جا رہے ہیں اور ان کا عوے یہ ہے کہ ملت ابراہیم کے اصلی وارث اور خانہ کعبہ کے جائز متولی وہی ہیں۔ چناچہ انہوں نے اب اس گھر کو اپنا قبلہ بھی بنا لیا ہے، جس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب وہ اس پر قبضہ بھی کرنے کی کوشش کریں۔ اس احساس نے انہیں بھی چوکنا کیا اور وہ اس خطرے کے سدباب کی تدبیریں سوچنے لگے، جس کے نتیجہ میں تحویل قبلہ کے دو ہی مہینوں کے بعد انہوں نے اس جنگ کے اسباب پیدا کردیے جو تاریخ اسلام میں غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ کے متعلق ہماری تحقیق، جیسا کہ ہم سورة انفال کی تفسیر میں پیش کریں گے، یہ ہے کہ یہ یہود مدینہ اور قریش مکہ کی باہمی سازش سے ہوئی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان، جو اب ایک مستقل امت کی حیثیت سے ملت ابراہیمی اور قبلہ ابراہیمی کے دعوے دار بن کر اٹھ رہے ہیں، ان کا زور اٹھنے سے پہلے ہی توڑ دیا جائے۔ یہ حالات اگرچہ ابھی پس پردہ تھے لیکن اس خدائے علام الغیوب سے مخفی نہیں تھے جو کھلے اور چھپے سب سے باخبر ہے اس وجہ سے اس کی رحمت اور حکمت مقتضی ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو آنے والے خطرات سے متنبہ بھی فرما دے اور ان خطرات کے مقابلہ میں جو چیز ان کے عزم و حوصلہ کو برقرار رکھ سکتی ہے، اس کی ہدایت بھی فرما دے۔ اس سلسلہ کی پہلی بات جو، آیت زیر بحث میں ارشاد ہوئی، یہ ہے کہ پیش آنے والی مشکلات میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ صبر اور نماز کی لغوی تحقیق، ان کے باہمی تعلق اور اقامت دین کی جدو جہد میں ان کی عظمت و اہمیت پر تفصیلی گفتگو ہم اسی سورة کی آیت 45 کے تحت کرچکے ہیں۔ نیز فصل 32 میں بھی ان کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا چکی ہے اس وجہ سے یہاں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ بعض باتیں مخصوص اس مقام سے متعلق ہیں جن کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ مشکلات و مصائب میں جس نماز کا سہارا حاصل کرنے کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد صرف پانچ وقتوں کی مقررہ نمازیں ہی نہیں ہیں بلکہ تہجد اور نفل نمازیں بھی ہیں۔ اس لیے کہ یہی نمازیں مومن کے اندر وہ روح اور زندگی پیدا کرتی ہیں جو راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات پر فتح یاب ہوتی ہے، انہی کی مدد سے وہ مضبوط تعلق باللہ پیدا ہوتا ہے جو کسی سخت سے سخت آزمائش میں بھی شکست نہیں کھاتا، اور انہی سے وہ مقام قرب حاصل ہوتا ہے جو خدا کی اس معیت کا ضامن ہے جس کا اس آیت میں صابرین کے لیے وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس حقیقت کی پوری وضاحت مکی سورتوں میں آئے گی اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ دوسری یہ کہ نماز تمام عبادات میں ذکر اور شکر کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نماز کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی شکر گزاری ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اوپر اس امت سے یہ عہد جو لیا گیا ہے فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ ، اس کے قیام میں نماز سب سے بہتر وسیلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تیسری یہ کہ نماز دعوت دین اور اقامت حق کی راہ میں عزیمت و استقامت کے حصول کے لیے مطلوب ہے۔ اس وجہ سے اس نماز کی اصلی برکت اس صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب آدمی راہ حق میں باطل سے کشمکش کرتا ہوا اس کا اہتمام کرے۔ جو شخص سرے سے باطل کے مقابل میں کھڑے ہونے کا ارادہ ہی نہیں کرتا ظاہر ہے کہ اس کے لیے یہ ہتھیار کچھ غیر مفید ہی بن کر رہ جاتا ہے۔ چوتھی یہ کہ یہاں صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ " اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے " یہ نہیں فرمایا کہ اللہ نماز پڑھنے والوں اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کی وجہ استاذ امام ؒ کے نزدیک یہ ہے کہ نماز میں خدا کی معیت کا حاصل ہونا اس قدر واضح چیز ہے کہ اس کے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، واضح کرنے کی بات یہی تھی کہ جو لوگ راہ حق میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اس ثابت قدمی کے حصول کے لیے نماز کو وسیلہ بناتے ہیں، الہ ان کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ پانچویں یہ کہ اللہ کی معیت جس کا یہاں ثابت قدموں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ موقع کلام گواہ ہے کہ یہاں ان دو لفظوں کے اندر بشارتوں کی ایک دنیا پوشیدہ ہے، تمام کائنات کا بادشاہ حقیقی اور تمام امر و اختیار کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے تو جب وہ کسی کی پشت پر ہے تو اس کو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی کس طرح شکست دے سکتی ہے۔
Ayah 2:154زندگی اور موت سے متعلق صحیح تصور : راہ عزیمت و استقامت میں استوار رہنے کے لیے دوسری چیز جو مطلب ہے، یہ اس کی طرف اشارہ ہے یعنی زندگی اور موت سے متعلق صحیح اسلامی تصور کا استحضار۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک تو زندگی نام بس اسی دنیا کی زندگی کا ہے، جو آدمی مرا یا مارا گیا بس وہ ختم ہوگیا۔ لیکن مومن کے نزدیک تو یہ زندگی چند روزہ اور فانی زندگی ہے، اصلی زندگی کا، جو ابدی ہے آغاز تو اس کے نزدیک اس وقت سے ہوتا ہے، جب یہ زندگی ختم ہوتی ہے، یہ زندگی عالم برزخ اور پھر عالم آخرت میں حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک موت کے بعد زندگی کا تعلق ہے یہ حاصل تو کافر و مومن سب ہی کو ہوتی ہے لیکن کفار کی زندگی چونکہ کلفت اور عذاب کی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ قابل ذکر نہیں۔ البتہ اہل ایمان برزخ کی زندگی چونکہ کلفت اور عذاب کی ہوتی ہے اس وجہ سے وہ قابل ذکر نہیں۔ البتہ اہل ایمان برزخ کی زندگی میں بھی اپنے اپنے اپنے مراتب و مدارج کے لحاظ سے مسرور و شادکام ہوتے ہیں۔ بالخصوص ان میں سے جو لوگ راہ حق میں شہادت کا مرتبہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کی برزخی زندگی کی کامرانیوں کا تو اس ناسوتی زندگی میں کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اپنے مقدس خون شہادت سے اس دنیا کی کشت حق کو جو سیرابی اور زندگی بخشتے ہیں اس کے انعامات ان کو عالم برزخ ہی سے ملنے شروع ہوجاتے ہیں، چناچہ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے ولا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (ال عمران : 169) ، جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں ان کو مردے نہ خیال کرو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی پا رہے ہیں۔
Ayah 2:155آگے کی مشکلات کی طرف اجمالی اشارہ : یہ ان آزمائشوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے جو آگے کے مراحل میں پیش آنے والی ہیں۔ یہ آزمائشیں اگرچہ پیش تو آئیں گی دشنوں کی شرارتوں اور سازشوں کے باعث لیکن چونکہ یہ اس سنت اللہ کے تحت ہیں جو ازل سے اللہ تعالیٰ نے اہل حق اور اہل باطل میں امتیاز کے لیے مقرر کر رکھی ہے اس وجہ سے ان کو منسوب اپنی طرف فرمایا ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے، اور بات بصیغہ تاکید فرمائی ہے۔ اس لیے کہ اہل حق کے لیے یہ امتحان و آزمائش قانون الٰہی میں ناگزیر ہے۔ اس قسم کے امتحانوں سے گزر کر ہی بندوں کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور ان کے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوتا ہے۔ اس امتحان کے بغیر کوئی گروہ اللہ تعالیٰ کی اخروی نعمتوں کا سزا وار قرار نہیں پاتا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے خوف کا ذکر فرمایا ہے۔ خوف سے مراد دشمنوں کے حملہ و ہجوم کا اندیشہ ہے۔ اوپر اشارہ گزر چکا ہے کہ ایک مستقل امت کی حیثیت سے نمایاں ہوتے ہیں قریش نے بھی مسلمانوں پر حملے کے لیے بہانے پیدا کرنے شروع کردئیے اور یہود نے بھی ریشہ دوانیاں شروع کردیں، پھر آہستہ آہستہ ان کی طرف سے حملوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہاں تک کہ باہر کی قوموں نے بھی اس میں دلچسپی لینی شروع کردی اور یہ سلسلہ اس وقت جا کر ختم ہوا جب مسلمانوں نے اپنی عزیمت و استقامت سے اپنے تمام حریفوں کا زور اچھی طرح توڑ دیا۔ اس خوف کا ذکر " بشیء " یعنی " کسی قدر " کی قید کے ساتھ کیا ہے جس سے مقصود مسلمانوں کی ہمت افزائی ہے کہ یہ حالت پیش تو ائے گی لیکن یہ اس مقدار سے زیادہ نہ ہوگی جو تمہاری عزیمت و اسقامت کی جانچ کے لیے ضروری ہے، اس وجہ سے اس سے دل شکستہ اور پست ہمت ہونے کے بجائے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ جوع سے مراد وہ معاشی مشکلات ہیں جو قریش اور یہود کی مشترکہ مخالفت، خوف و خطرے کی حالت اور ان کی طرف سے غذائی ناکہ بندیوں کے سبب سے پیش آسکتی ہیں۔ اس وقت ملک کی تمام تجارت اور دوسرے معاشی وسائل و ذرائع سے پر عملاً یہود اور قریش ہی قابض تھے۔ اس وجہ سے ان کے ساتھ جھگڑا مول لینا، دریا میں رہتے ہوئے مگرمچھوں سے بیر مول لینے کے ہم معنی تھا۔ لیکن حق کی رفاقت مقتضی تھی کہ مسلمان یہ خطرہ بھی مول لیں۔ چناچہ انہوں نے یہ خطرہ بھی مول لیا اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ خطرہ ظاہر تو ہوا بعض حالات میں بہت ہی بھیانک شکل میں لیکن عزم و ایمان کے مقابل میں یہ بھی ٹھہرا پرکاہ (بشیء) ہی کے برابر۔۔ اس کے بعد اموال وانفس یعنی مال اور جان کی کمی کی آزمائش کی طرف اشارہ فرمایا اس لیے کہ جنگ و جہاد میں یہی دونوں چیزیں وسیلہ کار بنتی ہیں جس کے سبب سے سب سے زیادہ قربانی انہی کی دینی پڑتی ہے۔ نیز امن و اطمینان کے فقدان کے سبب سے یہ اس نگہداشت سے بھی محروم ہوجاتی ہیں جو ان کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔۔ ثمرات کا ذکر اگرچہ اموال کے ذکر کے بعد بظاہر کچھ زائد سا معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ یہ بھی اموال میں شامل ہے۔ لیکن اس کے ذکر میں موقع کلام کی رعایت ملحوظ ہے۔ اہل عرب کی دولت یا تو اونٹ اور بھیڑ بکریاں تھیں جن کے لیے اموال کا لفظ اتعمال ہوتا تھا یا پھر پھل خصوصاً کھجور۔ ملک کی اس مخصوص حالت کی وجہ سے اموال کے ساتھ ثمرات کا ذکر بھی ہوا۔۔ آخر میں ان لوگوں کو خوش خبری دی گئی ہے جو ان تمام آزمائشوں کے باوجود حق پر جمے رہیں، اور اپنے عزم و ایمان میں کوئی ضعف پیدا نہ ہونے دیں۔ یہ خوش خبری قرآن کی دوسری جگہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پر مشتمل ہے، مثلاً فرمایا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ۔ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (صف :10-13) ، اے ایمان والو، کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ نہ دوں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے نجات دینے والی ہے ؟ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے کہیں بہتر ہے، اگر تم اس بات کو سمجھو، اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور ایسے اچھے مکانوں میں اتارے گا جو ابد کے باغوں میں ہیں، یہ در اصل سب سے بڑی کامیابی ہے۔ مزید برآن ایک دوسری چیز بھی تمہیں حاصل ہوگی جس کو تم عزیز رکھتے ہو، وہ ہے اللہ کی مدد اور عنقریب حاصل ہونے والی فتح اور اس بات کی ایمان والوں کو بشارت سنا دو۔
Ayah 2:156صابرین کی ڈھال : یہ صابرین کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ آزمائشوں کا مقابلہ بد دلی اور پست ہمتی کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ خندہ پیشانی اور عزم و استقلال کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہاں جو ان کا یہ قول نقل ہوا ہے، یہ درحقیقت ان کے اس عقیدے کا اظہار ہے جس کی چٹان پر صبر و استقامت کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اس عقیدے کا ایک جزو تو یہ ہے کہ آدمی اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ اس دنیا میں اللہ ہی کا اور اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کا دوسرا جزو یہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ جو شخص ان دو حقیقتوں پر مضبوط ایمان رکھتا ہے کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس کے قدم کو جادہ حق سے ہٹا نہیں سکتی۔ جب ہم اس دنیا میں خدا ہی کے بھیجے ہوئے آئے ہیں، اسی کے لیے ہمارا مرنا اور جینا ہے اور مرنے کے بعد وہی ہے جس کی طرف ہمیں جانا ہے تو پھر اس کی خاطر تو ہم ہر چیز سے منہ موڑ سکتے ہیں لیکن وہ کون سی طاقت ہو سکتی ہے جو ہمری رخ کو اس سے موڑ دے۔ یہی کلمہ صابرین کی ڈھال اور سپر ہے۔ اس پر وہ مصیبت کے ہر وار کو روکتے ہیں۔ اس میں اللہ کی طرف جو تفویض و سپردگی ہے وہ سرفروشی اور جاں بازی کی سپردگی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ بندہ مومن جب وقت آجاتا ہے تو یہی نعرہ لگاتا ہوا اپنے رب کے لیے دریا اور پہاڑ سے بھی لڑ جاتا ہے۔ وہ سب کے قدم اکھاڑ دیتا ہے لیکن اس کے قدم کو کوئی چیز بھی اکھاڑ نہیں سکتی۔
Ayah 2:157صلوات کا مفہوم : صَلَوات، صلوۃ کی جمع ہے ہے جس کے اصل معنی لغت میں " اقبال الی الشیء " یعنی کسی چیز کی طرف بڑھنے کے ہیں، اسی مفہوم کے اعتبار سے یہ لفظ نماز کے لیے استعمال ہوا کہ بندہ نماز میں اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے۔ اسی طرح یہ لفظ اس التفات و توجہ کے لیے بھی آتا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف فرماتا ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی الطاف و عنایات الٰہی کے ہوجاتے ہیں۔ لفظ کی روح تو ایک ہی رہتی ہے لیکن نسبت کے بدل جانے سے ایک میں نیاز مندی کا اور دوسرے میں لطف و عنایت کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا ترجمہ ہم نے " عنایتیں " کیا ہے۔ نسبت کے بدل جانے الفاظ کے مفہوم میں اس قسم کی تبدیلیوں کی مثالیں عربی زبان میں بہت ملتی ہیں۔ یہاں ان صابرین کے لیے جس عنایت ور حمت اور جس ہدایت کی بشارت ہے اس کا تعلق دین اور دنیا اور دنیا اور آخرت، جیسا کہ اوپر گزرا، دونوں ہی سے ہے۔ صبر و استقامت سے اہل ایمان اپنے رب کے افضال و عنایات کے مستحق قرار پاتے ہیں اور انہی افضال و عنایات سے انہیں اس صراط مستقیم کی ہدایت حاصل ہوتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی ضامن بنتی ہے۔
Ayah 2:158اصل سلسلہ کلام کی طرف رجوع : یہ آیت اصل سلسلسہ بحث یعنی قبلہ کی بحث سے متعلق ہے، اوپر والا مضمون، جیسا کہ واضح ہوا، ضمناً محض ایک تنبیہ کے طور پر آگیا تھا کہ یہ قبلہ کی تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے بہت سی آزمائشوں کا پیش خیمہ ہے جن سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے صبر اور نماز وسیلہ کا رہیں۔ اس ضمنی مضمون کے بعد اصل سلسلہ بحث کو پھر لے لیا اور صفا ومروہ کے شعائر اللہ میں سے ہونے اور ان سے متعلق احکام وہدایات کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ یہود نے جس طرح بیت اللہ کے قبلہ ابراہیمی ہونے کے معاملہ کو چھپانے کی کوشش کی، جس کا ذکر تفصیل سے اوپر ہوچکا ہے، اسی طرح مروہ کو بھی جو حضرت ابراہیم کی اصل قربان گاہ ہے، چھپانے کی کوشش کی جس کی تفصیل آگے والی آیت کے تحت آرہی ہے۔
صفا اور مروہ بیت اللہ کے پاس کی وہ دونوں پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حج وعمرہ کے موقع پر سعی کی جاتی ہے۔ مولانا فراہی نے اپنی کتاب ‘ الرای الصحیح فی من ہو الذبیح ’ میں پوری تفصیل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ اصل قربان گاہ، جہاں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کی قربانی کی، یہی مروہ ہے جس کا ذکر تورات میں آیا ہے لیکن یہود نے بیت اللہ سے حضرت ابراہیم کا تعلق کاٹ دینے کے لیے اس لفظ کو تحریف کر کے کچھ سے کچھ کردیا۔
یہ واضح رہے کہ اصل قربان گاہ تو یہی مروہ ہے لیکن امت کی وسعت کے پیش نظر اس کو منی تک وسعت دے دی گئی۔ اس سلسلسلے کی تفصیلات کے لیے استاذ مرحوم کا رسالہ ذبیح ملاحظہ فرمائیے۔
شعائر سے مقصود : شعائر، شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی کسی ایسی چیز کے ہیں جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی، اور اس کا مظہر اور نشان اصطلاح دین میں اس سے مراد شریعت کے وہ مظاہر ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی معنوی حقیقت کا شعور پیدا کرنے کے لیے بطور ایک نشان اور علامت کے مقرر کیے گئے ہوں۔ ان مظاہر میں مقصود بالذات تو وہ حقائق ہوا کرتے ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتے ہیں، لیکن یہ مقرر کیے ہوئے اللہ اور رسول کے ہوتے ہیں اس وجہ سے ان حقائق کے تعلق سے یہ مظاہر بھی تقدیس کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ مثلاً قربانی حقیقتِ اسلام کا ایک مظہر ہے۔ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالہ کردے۔ اپنی کوئی محبوب سے محبوب چیز بھی اس سے دریغ نہ رکھے۔ اس حقیقت کا عملی مظاہرہ جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کر کے فرمایا، وہ تاریخ انسانی کا ایک بےنظیر واقعہ ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی یادگار میں جانوروں کی قربانی کو ایک شعیرہ کے طور پر مقرر فرما دیا تاکہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے اندر اسلام کی اصل حقیقت برابر تازہ ہوتی رہے۔ اسی طرح حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ یہ پتھر حضرت ابراہیم ؑ کے عہد سے اس روایت کا ایک نشان ہے کہ اس کو بوسہ دے کر یا اس کو ہاتھ لگا کر بندہ اپنے رب کے ساتھ اپنے عہد بندگی اور اپنے میثاق اطاعت کی تجدید کرتا ہے۔ چناچہ بعض حدیثوں میں اس کو یمین اللہ (خدا کا ہاتھ) سے تعبیر کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب اس کو ہاتھ لگاتا ہے تو گویا وہ خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اس سے تجدید بیعت کرتا ہے۔ اور جب اس کو بوسہ دیتا ہے تو گویا یہ اس کی طرف سے خدا کے ساتھ عہد محبت و وفاداری کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح جمرات بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ یہ نشانات اس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ حجاج ان پر کنکریاں مار کر اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کے دشمنوں اور اسلام کے دشمنوں پر، خواہ وہ ابلیس کی ذریات سے تعلق رکھنے والے ہوں یا انسانوں کے کسی گروہ سے، لعنت کرتے ہیں اور ان کے خلاف جہاد کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔ علی ہذا القیاس بیت اللہ بھی ایک شعیرہ بلکہ سب سے بڑا شعیرہ ہے جو پوری امت کا قبلہ اور توحید و نماز کا مرکز ہے۔ اس کے ارد گرد طواف کر کے اور اپنی نمازوں اور اپنی تمام مسجدوں کا اس کو قبلہ قرار دے کر ہم اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ جس خدائے واحد کی عبادت کے لیے یہ گھر تعمیر ہوا ہم اسی کے بندے، اسی کی طرف رخ کرنے والے، اسی کے عبادت گزار اور اسی کی شمع توحید پر پروانہ وار نثار ہیں۔ اسی طرح صفا اور مروہ بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔ ان کے شعائر میں سے ہونے کی وجہ عام طور پر تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہی دونوں پہاڑیوں کے درمیان حضرت ہاجرہ نے حضرت اسمعیل کے لیے پانی کی تلاش میں تک و دو کی تھی لیکن استاذ امام کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ اصل قربان گاہ مروہ ہے۔ یہیں حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں فرمانبردارانہ اور غلامانہ سرگرمی دکھائی اس وجہ سے سے ان دونوں پہاڑیوں کو شعائر میں سے قرار دے دیا گیا اور ان کی سعی کی یادگار ہمیشہ کے لیے محفوظ کردی گئی۔
شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں۔ ان شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔ ایک یہ کہ یہ شعائر، اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ ہیں۔ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی چیز کو دین کے شعائر میں سے قرار دے دے دیا جو چیز شعائر میں داخل ہے اس کو شعائر کی فہرست سے خارج کردے۔ دین میں اس قسم کے من مانے تصرفات سے شرک و بدعت کی راہیں کھلتی ہیں۔ جن قوموں نے اپنے جیسے شعائر قرار دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اس طرح شرک و بت پرستی کی راہیں کھول دی۔ دوسری یہ کہ جس طرح شعائر اللہ کے مقرر کردہ ہیں اسی طرح اسلام میں ان شعائر کی تعظیم کے حدود بھی خدا اور رسول ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ جس شعیرہ کی تعظیم کی جو شکل شریعت میں ٹھہرا دی گئی ہے وہی اس حقیقت کے اظہار کی واحد شکل ہے جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے، اس سے سرِ مو انحراف نہ صرف اس شعیرہ کی حقیقت سے انسان کو محروم کردینے والی بات ہے بلکہ اس سے شرک و بدعت کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ اس کی تعظیم کے لیے اس کو حالت طواف میں بوسہ دینے یا اس کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوم لینے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی شکلیں کود دین کے لانے والے کی طرف سے مقرر کردی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص تعظیم کی صرف انہی شکلوں پر قناعت نہ کرے بلکہ تعظیم شعائر اللہ کے جوش میں وہ اس پتھر کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگے یا اس کے سامنے نذریں پیش کرنے لگے یا اس پر پھول نثار کرنے لگے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کرنے لگے تو ان باتوں سے وہ نہ صرف یہ کہ اس حقیقت سے بالکل دور ہوجائے گا جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے بلکہ وہ شرک و بدعت میں بھی مبتلا ہوجائے گا۔ تیسری یہ کہ ان شعائر میں اصل مطمح نظر وہ حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہے۔ ان حقیقتوں کے اظہار کے لیے یہ شعائر گویا قالب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ملت کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں یہ حقیقتیں برابر زندہ اور تازہ رکھی جائیں۔ اگر یہ اہتمام سرد پڑجائے تو دین کی اصل روح نکل جاتی ہے، صرف قالب باقی رہ جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی اصل توجہ صرف قوالب پر مرکوز ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین صرف ایک مجموعہ رسوم بن کے رہ جاتا ہے۔ زیر بحث آیت میں یہ جو فرمایا کہ“ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ”تو اس سے مقصود ایک طرف تو یہ ہے کہ ان دونوں شعائر کو جاہلیت کے گرد و غبار سے پاک کر کے ان کو وراثت ابراہیمی کی حامل امت کے لیے از سر نو اجاگر کیا جائے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عرب جاہلیت نے ان دونوں پہاڑوں پر، جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، دو بت رکھ دیے تھے اور ان بتوں کے لیے سعی و طواف کرنے لگے تھے جس کے سبب سے ان شعائر کا نہ صرف شعائر ابراہیمی میں سے ہونا مشتبہ ہوگیا تھا بلکہ یہ علانیہ شرک و بت پرستی کے مظہر بھی بن گئے تھے۔ قرآن نے اوپر کی آیاتیں جس طرح بیت اللہ کو، تمام مشرکانہ آلودگیوں سے پاک صاف کر کے، اس کے اصل ابراہیمی جمال میں پیش کیا اسی طرح یہاں صفا اور مروہ کی اصل تاریخ بیان فرمائی کہ یہ حضرت ابراہیم کے وقت سے شعائر اللہ میں سے ہیں اور ان کے سعی و طواف کی سنت حضرت ابراہیم ؑ کی سعی و طواف کی یادگار ہے لیکن مشرکین نے جس طرح توحید کے مرکز بیت اللہ میں سینکڑوں بت لا کر رکھ دیے اسی طرح ان شعائر کو بھی بت پرستی سے ملوث کیا۔ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم گندگی کے اس ڈھیر کو ہٹا کر ان شعائر کو از سرِ نو اجاگر کرو اور ان کے سعی و طواف کو صرف اللہ ہی کے لیے خاص کرو۔ دوسری طرف یہود نے ان شعائر پر تحریف اور کتمان کا جو پردہ ڈال دیا تھا، جیسا کہ آگے والی آیت میں ذکر آ رہا ہے قرآن نے وہ پردہ بھی اٹھا دیا۔ اوپر ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ تورات میں یہ ذکر صراحت کے ساتھ موجود تھا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی مروہ کے پاس کی لیکن یہود نے محض اس خیال سے اس لفظ کا صحیح تلفظ بالکل مسخ کرڈالا کہ کسی طرح اس مقام کو مکہ کے بجائے بیت المقدس میں ثابت کردیں۔ اور اس طرح آخری نبی کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں تورات میں موجود ہیں وہ حضرت اسماعیل کی نسل کی جگہ حضرت اسحاق کی نسل کی طرف منتقل ہوسکیں۔ قرآن نے یہاں مروہ کا حوالہ دے کر اس نشان کی طرف انگلی اٹھا دی جس کو محض حسد اور شرارت کی بنا پر غائب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان دونوں پہاڑیوں کے طواف کا جو حکم دیا گیا ہے اس کی صحیح شکل اور اس کے حدود کا تعین دوسرے مناسک حج کی طرح نبی ﷺ کی سنت سے ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں لفظ طواف کا استعمال ہوا ہے لیکن اس سے مراد وہ سعی ہی ہے جو ان دونوں کے درمیان کی جاتی ہے۔ اس سعی کو طواف کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی شکل اس طواف سے ملتی جلتی ہوئی ہے جو خانہ کعبہ کے اردگرد ہوتا ہے۔ اس سعی کو حج وعمرہ کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ حج وعمرہ کے مجموعہ ہی کا ایک جزوہ ہے، ان سے علیحدہ اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ اس سے ان مشرکانہ رسوم کی بالکل نفی ہوجاتی ہے جن کا اضافہ ان شعائر کے سلسلہ میں مشرکین نے کردیا تھا۔ اس طواف کا حکم جن الفاظ میں وارد ہے وہ کسی قدر وضاحت طلب ہیں۔ فرمایا ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ ، پس جو حج یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے۔ اس اسلوب بیان سے بظاہر یہ بات نکلتی ہے کہ اس سعی کے لیے شریعت میں صرف اجازت ہے، اگر کوئی شخص یہ نہ کرے یا نہ کرسکے تو اس میں بھی کوئی خاص قباحت نہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں۔ اگر مراد یہ ہوتی تو اسلوبِ کلام، جیسا کہ حضرت عائشہ صدیق نے فرمایا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بھما کے بجائے اَنْ لايَّطَّوَّفَ بھما ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ فرمانے کے بعد کہ صفا اور مروہ دونوں شعائر اللہ میں سے ہیں یہ کہنا کچھ ناموزوں اور بےجوڑ سا ہوجاتا ہے کہ ان کا طواف کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہے۔ پہلی بات کے بعد ان کے ہم وزن اور اس سے ہم آہنگ بات تو یہی ہوسکتی ہے کہ ان کا طواف ضروری قرار دیا جائے۔ رہا یہ سوال کہ یہ کس درجہ میں ضروری ہے، اس کی حیثیت فرض کی ہے یا واجب کی یا مستحب کی، اس میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یہ خیال کرنے کی تو کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کہ اس قدر شاندار تمہید کے بعد اصل بات اتنے کمزور درجہ کی ہو۔ اسی وجہ سے ہمارا خیال یہی ہے کہ یہاں سعی کا حکم ہے اور یہ حکم وجوب کے درجہ میں ہے۔ لیکن اس پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر مدعا یہی ہے تو یہاں فَلَا جُنَاحَ کا مطلب کیا ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس رفع حرج کا تعلق سعی کے حکم سے نہیں ہے بلکہ اس قباحت سے ہے جو اس حکم کے نزول کے وقت مقام سعی میں بتوں کی موجودگی کی وجہ سے پائی جاتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اس وقت صفا اور مروہ میں یہ قباحت موجود ہے لیکن چونکہ یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے شعائر حج میں سے ہیں اس وجہ سے حج وعمرہ کے موقع پر ان کے درمیان سعی کرو، تمہارا عمل تمہاری نیت کے مطابق ہوگا۔ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ میں تطوع سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی فرض سے سبکدوش ہوچکنے کے بعد خدا کی خوشنودی اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مزید اس کو ایک نفلی نیکی کی حیثیت سے انجام دے۔ یہاں اس تطوع کا تعلق صرف سعی کے حکم سے نہیں ہے۔ اوپر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سعی کوئی مستقل عبادت نہیں ہے بلکہ یہ حج وعمرہ ہی کا ایک ضمیمہ ہے، اس وجہ سے اس تطوع کا تعلق بھی حج وعمرہ ہی سے ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو حج وعمرہ وہ ہے جو ادائے فرض کے طور پر انجام دیا جائے، دوسرے تطوع کے طور پر بھی حج وعمرہ کیے جاسکتے ہیں، جو لوگا یسا کریں گے اللہ ان کی اس نیکی کو قبول فرمائے گا اور یہ اس کے علم میں رہے گی۔ ایک دن وہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ شکر کا لفظ صلوۃ یا تو بہ کے الفاظ کی طرح ان الفاظ میں سے ہے جن کے معنی میں نسبت کی تبدیلی سے فرق ہوجایا کرتا ہے۔ جب بندے کی طرف اس کی نسبت ہوتی ہے تو اس کے معنی شکر گزاری کے ہوتے ہیں۔ لیکن جب اس کی نسبت خدا کی طرف ہو تو اس کے معنی قبول کرنے کے ہوجاتے ہیں۔
Ayah 2:159یہود کا کتمانِ حق : یہ اشارہ یہود کی طرف ہے اور آیت میں بینات اور ہدی سے مراد اگرچہ وہ عام تعلیمات بھی ہیں جن کو یہود نے چھپانے کی کوشش کی لیکن یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ اس سے خاص طور پر وہ نشانیاں مراد ہیں جو تورات میں اللہ تعالیٰ نے اس لیے واضح فرمائی تھیں کہ ان کی مدد سے یہود کو آخری پیغمبر کے باب میں رہنمائی حاصل ہوسکے۔ لیکن یہود نے ان نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کو چھپانے کی کوشش کی۔ اس کی بعض مثالیں ہم اس کتاب کے پچھلے صفحات میں پیش کرچکے ہیں۔ یہاں ہم استاذ امام کی عظیم تصنیف الرای الصحیح فی من ہوا لذبیح کی آٹھویں فصل کا حوالہ دیں گے جس میں انہوں نے مروہ سے متعلق یہود کی تحریفات پر بحث کی ہے اور نہایت تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم کی قربانی کی جگہ کو تورات سے غائب کرنے کے لیے کیا کیا تدبیریں کیں اور کس بیدردی کے ساتھ لفظ مروہ کا حلیہ بگاڑا تاکہ آخری نبی کی پیشین گوئیوں سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں گھپلا پیدا کیا جاسکے۔ ایک عظیم حقیقت کا چھپانا جب کہ وہ ان کی اپنی کتاب میں اچھی طرح واضح کی جا چکی ہو اور جس کو خلق کے سامنے واضح کرنے کا ان سے عہد بھی لیا جا چکا ہو، جیسا کہ آل عمران 187 میں حوالہ ہے وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ (اور یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے میثاق لیا کہ اس کتاب کو اچھی طرح لوگوں کے سامنے واضح کرنا) یہود کا ایک ایسا جرم تھا جس پر وہ خدا کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور کتاب الٰہی کی امانت جو ان کے سپرد کی گئی تھی ان سے چھین کر دوسروں کے سپرد کردی گئی۔ اس لعنت کے متعلق فرمایا ہے کہ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح اصطفاء یعنی کسی امت کا دنیا کی امامت کے لیے منتخب کیا جانا اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اسی طرح یہ لعنت اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑی سزا ہے۔ جس قوم کو یہ سزا دی جاتی ہے وہ دنیا میں توفیق ہدایت اور منصب امامت سے محروم کر کے ذلت و خواری میں مبتلا کردی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لیے ابدی عذاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی حق پوشی سے صرف اپنی ہی ضلالت کا سامان نہیں کرتی بلکہ راہ کے نشانات ہدایت غائب کر کے دوسرے بیشمار لوگوں کو بھی گمراہی اور ہلاکت میں مبتلا کرتی ہے۔
Ayah 2:160توبہ کے لیے شرط : یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس لعنت سے محفوط رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس حق پوشی کے جرم سے توبہ کرلیں۔ اس توبہ کے ساتھ ـاصلحواـ کی شرط لگائی ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ توبہ اس وقت تک معتبر نہیں ہے جب تک آدمی اس غلطی کی اصلاح نہ کرے جس کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مزید شرط اس کے ساتھ“ بینوا ”کی لگائی۔ یہ موقع کی مناسبت سے ہے اور سابق الذکر“ اصلحوا ”کی وضاحت کر رہی ہے۔ یعنی آخری نبی سے متعلق تورات کے جن حقائق و بینات کو انہوں چھپایا ہے اس کو ظاہر کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ تک کم از کم یہود کے خواص اور علماء ان تحریفات سے بیخبر نہیں تھے جو حق پوشی کی سازش کے تحت کی گئی تھیں یا کی جا رہی تھیں۔ اس کا ثبوت اس امر سے بھی بہم پہنچ رہا ہے کہ یہود کے اہل علم میں سے جو لوگ نعمت اسلام سے بہرہ یاب ہوئے انہوں نے اس قسم کے بہت سے حقائق سے پردے اٹھائے بھی۔ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ میں توبہ کے ساتھ علی کا صلہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس کے اندر رحمت کا مضمون بھی پوشیدہ ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا اور ان پر رحم کرتا ہوں۔ لفظ کی اس مخفی حقیقت کواَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ کہہ کر واضح فرما دیا ہے۔
Ayah 2:161“ جن لوگوں نے کفر کیا اور حالت کفر ہی میں مرے ”سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی ضد پر اڑے رہ گئے اور توبہ و اصلاح اور اظہار واعلان حق سے محروم ہی دنیا سے اٹھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی ایک ایسا جرم ہے جو ان کی دینداری کی دوسری باتوں اور ان کے ایمان و محبت الٰہی کے تمام دعو وں کو بالکل باطل کردے گا۔ اور اس کی پاداش میں وہ اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کے سزاوار ہوں گے۔ یہاں اللہ کی لعنت کے ساتھ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت کا ذکر اس اجمال کو واضح کر رہا ہے جو اوپر والی آیت کے الفاظ و َيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ میں موجود تھا اور الناس کے ساتھ اجمعین کی قید یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ قیامت کے روز جب اصل حقیقت سے پردہ اٹھے گا تو صرف نیک لوگ ہی ان پر لعنت نہیں بھیجیں گے بلکہ وہ گنہگار بھی ان پر لعنت بھیجیں گے جو ان کی پیروی میں گمراہ ہوں گے۔
Ayah 2:162یعنی نہ تو جس عذاب میں وہ ڈالیں جائیں گے اس میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ اس کے تسلسل میں کوئی وقفہ یا انقطاع واقع ہوگا کہ اس سے انہیں ذرا دم لینے ہی کا موقع مل جائے۔
Ayah 2:163آیات 163 تا 176 کا خلاصہ مضامین :
سورة کے مطالب کا دوسرا باب : آیت 162 پر اس سورة کا پہلا باب ختم ہوا۔ اس باب میں یہود منصب امامت سے معزول ہوئے اور ایک نئی امت اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ نمایاں ہوئی۔ اب آگے آیت 163 سے اس سورة کے مطالب کا دوسرا باب شروع ہورہا ہے جس میں اس نئی امت کے لیے از سرِ نو شریعت الٰہی کی تجدید کی جا رہی ہے۔ اس باب میں ایک مناسب ترتیب کے ساتھ امت کو وہ احکام دیے گئے ہیں جن کے لیے سورة کے زمانہ نزول کے حالات متقاضی تھے اور ساتھ ہی ہر حکم کے تحت ان بدعا کی تردید کی گئی ہے جو یہود یا مشرکین نے شریعت الٰہی میں ملا دی تھیں۔ اس باب کا آغاز توحید کے بیان سے ہو رہا ہے اس لیے کہ تمام دین کی بنیاد اسی چیز پر ہے۔ توحید کے دعوے کے ذکر کے بعد اس کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ توحید کی یہ دلیل وہی دلیل ہے جس کی طرف اس کتاب کی فصل 23 میں ہم دلیل توافق کے نام سے اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں یہ دلیل اپنے بعض نئے پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہوئی ہے جن کی وضاحت آیات کی تفسیر کے تحت آئے گی۔ پھر شرک کی تردید فرمائی ہے اس ضمن میں کسی چیز کو خدا کے حکم کے بغیر حرام یا حلال ٹھہرانے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ چیز بھی شرک ہی میں داخل ہے۔ پھر ان چیزوں کی طرف ایک سرسری اشارہ فرمایا جو فی الواقع اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ مشرکین یا اہل کتاب نے بعض چیزیں جو اپنے جی سے محض اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت یا اپنی خواہشوں کے لیے حرام یا حلال کی ہیں ان کی تحریم وتحلیل کو شریعت الٰہی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بعد چند آیات میں مشرکین کو ان کی اندھی بہری تقلید آبا پر اور اہل کتاب کو ان کی حق پوشی پر سرزنش فرمائی ہے کہ اگر یہ عقل سے کام لیتے اور محض خواہشات نفس کی پیروی میں ضلالت کو ہدایت پر ترجیح نہ دیتے تو وہ توحید کی مخالفت اور شرک کی حمایت نہ کرتے لیکن انہوں نے اپنی شامت اعمال سے اپنے لیے ابدی ہلاکت کی یہی راہ اختیار کی ہے۔ اس روشنی میں اب آگے کی آیات کا ترجمہ و تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
الٰہ کے معنی معبود کے ہیں۔ اسی پر الف لام تعریف کا داخل کر کے لفظ اللہ، اللہ تعالیٰ کے لیے بطور اسم ذات استعمال ہوا۔ رحمان اور رحیم کی تحقیق اور ان دونوں کے فرق کے وضاحت سورة فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
یہ توحید ہی سب سے پہلی اور سب سے بڑی چیز ہے جو ملت ابراہیم کی وراثت کی حیثیت سے اس امت مسلمہ کی مطرف منتقل ہوئی۔ اس کا ذکر یہاں مثبت اور منفی دونوں ہی پہلوؤں سے فرمایا ہے تاکہ اس میں کسی رخنہ کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس میں اگر کوئی رخنہ پیدا ہوجائے تو یہ بنیاد کا رخنہ ہے جس سے شیطان کو پورے دین میں رخنہ اندازی کے لیے راہ مل جاتی ہے۔ " رحمان اور رحیم کے ذکر کے پہلو " : اس توحید کے ذکر کے ساتھ اسمائے حسنی میں سے رحمان اور رحیم کا حوالہ دو مختلف پہلو اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ شرک کے اسباب و محرکات میں سے ایک بہت بڑا سبب خدا کے ہر قسم کے شغل وعمل اور ہر نوع کے تعلق سے ارفع اور بالا تر ہونے کا غلط تصور بھی ہے۔ یہ تصور ہے تو ایک تنزیہی تصور لیکن بعض صورتوں میں یہ خدا کی بےہمگی کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ خلق سے اس کا تعلق بالکل ہی منقطع ہوجاتا ہے اور اس تک رسائی حاصل کرنا یا خلق کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق رکھنا اس کی شان الوہیت کے منافی قرار پایا جاتا ہے۔ خدا کے بےہمگی کا یہ تصور فطری طور پر دلوں میں اس کی طرف سے ایک مایوسی پیدا کرتا ہے اور یہ مایوسی بالآخر ان وسائل و وسایط کو جنم دیتی ہے جن کو انسان خدا کے نہ پاسکنے کی شکل میں اپنے لیے تسلی و طمانیت کا ذریعہ بناتا ہے۔ قرآن نے معرفت الٰہی کی راہ کے اس مغالطے کو دور کرنے کے لیے جگہ جگہ یہ کیا ہے کہ خدا کی وحدانیت، اس کی بےہمگی اور اس کی برتری کے بیان کے ساتھ ساتھ اس کی ایسی صفات کا بھی حوالہ دے دیا ہے جو خلق کے ساتھ اس کے تعلق کو واضح کرنے والی ہیں تاکہ انسان وسائل و وسائط کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے خود خدا کے دامن رحمت کو پکڑنے اور اسی میں چھپنے کی کوشش کرے۔ چناچہ اس پہلو سے سورة اخلاص میں، جو توحید کی سب سے بڑی سورة ہے، اگر ایک طرف خدا کی بےہمگی کو واضح کرنے کے لیے ھو اللہ احد (وہ اللہ بےہمہ ہے) فرمایا تو ساتھ ہی اس کی باہمگی کو واضح کرنے کے لیے اللہ الصمد (اللہ باہمہ ہے) بھی فرما دیا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ خدا سب سے بےنیاز اور بالا تر ہونے کے باوجود سب کے لیے پناہ، سب کے لیے مرجع اور سب کے لیے سہارے کی چٹان بھی ہے۔ اسی اصول پر زیر بحث آیت میں بھی خدا کی وحدانیت کو مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے بیان کرنے کے بعد یہ بھی واضح فرما دیا کہ وہ خدا رحمان اور رحیم ہے۔ ہم سورة فاتحہ میں ان دونوں لفظوں کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ان میں سے پہلا لفظ خدا کی رحمت کے جوش پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا اس کی رحمت کے تسلسل اور دوام پر۔ مقصد یہ ہے کہ خدا ہے تو واحد اور یکتا، سب سے بےنیاز، اور سب سے بالا تر لیکن وہ رحمان اور رحیم بھی ہے۔ اس نے اپنے جوش رحمت سے تمہیں وجود بخشا ہے، اپنی رحمت ہی کے آغوش میں تمہاری تربیت اور پرورش کر رہا ہے اور اپنی اس رحمت ہی کے لیے اس نے تمہارے واسطے جزا اور سزا کا ایک دن مقرر کیا ہے پس تم اسی کے لیے جیو اور اسی کے لیے مرد اور اپنی تمام آرزوئیں اور امیدیں اکیلے اسی سے وابستہ کرو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ مشرک اور بت پرست قوموں نے ہمیشہ قہر و غضب کو الوہیت کے ضروری لوازم میں سے سمجھا ہے۔ انہوں نے کائنات کے بادشاہ کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ جب دنیا کے بادشاہ صرف ایک ایک علاقے کے بادشاہ ہو کر یہ جلال وجبروت رکھتے ہیں کہ ان کے مقربین اور درباریوں کے سوا کسی کے لیے بھی ان کے سامنے مجال دم زدن نہیں ہوتی، وہ جس کو چاہیں اور جب چاہیں دار پر چڑھا دیتے ہیں تو جو سارے جہان کا بادشاہ ہے اس کے جلال و جبروت اور اس کے قہر و غضب کا اندازہ کون کرسکتا ہے اس طرح انہوں نے خدا کا تصور ایک نہایت خوفناک اور ہولناک ہستی کی حیثیت سے کیا اور پھر اس کے کچھ مقربین اور درباری محض اپنے ذہن سے ایجاد کر کے ان کی پرستش شروع کی تاکہ یہ ان کو اس ہولناک خدا کی آفتوں سے محفوظ رکھیں۔ آسمانی مذاہب رکھنے والی قومیں اگرچہ خدا کے صحیح تصور سے نا آشنا نہیں تھیں لیکن امتدادِ زمانہ نے مشرک قوموں کے اثرات سے انکے عقائد کو بھی آلودہ کردیا اور ان کے یہاں بھی خدا کی جمالی صفات پر اس کی جلالی صفات کا رنگ غالب ہوگیا۔ چناچہ تورات کے مطالعہ سے یہ حقیقت صاف عیاں ہوتی ہے کہ یہود نے بھی خدا کے قہر و جلال کی داستان اتنی بڑھا دی تھی کہ اس کے مقابل میں خدا کے رحمان و رحیم ہونے کا تصور بالکل دب گیا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ بھی مشرک قوموں کی طرح خدا کی رحمت حاصل کرنے کے لیے مقربین اور سفارشیوں کے محتاج ہوئے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ان بزرگوں کو وسیلہ ٹھہرایا جن کے تقدس و تقرب کی روایتیں ان کے ہاں موجود تھیں اور پھر آہستہ آہستہ خاندان اسرائیل کو تو انہوں نے خدا کے چہیتوں اور محبوبوں میں شامل کرلیا اور غیر بنی اسرائیل خدا کے قہر و غضب کے لیے رہ گئے۔ چونکہ آیت زیر بحث میں توحید کی یہ امانت بنی اسرائیل سے واپس لے کر امت مسلمہ کے حوالے کی جا رہی ہے اس وجہ سے یہ ضروری ہوا کہ خدا کی صفاتِ رحمانیت و رحیمیت پر سے وہ پردہ اٹھا دیا جائے جو مشرکین تقلید میں یہود نے ان پر ڈال دیا تھا تاکہ یہ امت صفاتِ الٰہی کے باب میں اس نقطہ اعتدال پر آجائے جو امت وسط ہونے کے پہلو سے اس کے مزاج کی خصوصیت ہے اور اس طرح شرک کے فتنوں کا سد باب ہوجائے۔ ہم یہاں صرف انہی دو پہلوؤں کے ذکر پر قناعت کرتے ہیں۔ اس کے کچھ اور پہلو بھی توجہ کے قابل ہیں لیکن ان کے ذکر کے لیے ہماری اس کتاب میں زیادہ موزوں مواقع آگے آئیں گے۔