Ayah 2:40یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ: اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے، یہودی علما اس کے معنی بطل اللہ کے بتاتے ہیں۔ یہ معنی لینے میں غالباً اس روایت کو بڑا دخل ہو گا جو یہود نے تورات میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کشتی لڑنے کی داخل کر رکھی ہے۔
استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ عبرانی زبان سے بھی واقف تھے۔ ان کی تحقیق میں یہ دولفظ دو جزوں سے مرکب ہے۔ اِسر اور اِیل۔ اِسر کے معنی ان کی تحقیق میں بندہ کے ہیں اور ایل عبرانی میں الٰہ کے معنی کے لئے مشہور رہی ہے۔ اس طرح مولانا کے نزدیک اسرائیل کے معنی عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ کے ہوئے۔
یہود نے اسرائیل کی وجہ تسمیہ معین کرنے میں جس قسم کی ذہانت دکھائی ہے اسی قسم کی ذہانت انہوں نے یعقوب علیہ السلام کی وجہ تسمیہ معین کرنے میں بھی دکھائی ہے۔ ان کے نزدیک یعقوب علیہ السلام کا نام یعقوب اس لئے ہوا کہ وہ اپنے بھائی عیسو کی ایڑیاں پکڑے ہوئے پیدا ہوئے۔ استاذ امام کے نزدیک اس کی توجیہ بھی یہود کی توجیہ سے بالکل مختلف ہے۔ وہ قرآن مجید کے ارشادات کی روشنی میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے یعقوب نام پانے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بعد ان کے پیدا ہونے کی بشارت بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سنا دی تھی۔
اُذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ: یاد کرو۔ یہ بنی اسرائیل کو دعوت بانداز ملامت ہے یعنی یاد کر لو اس لئے کہ تم بالکل بھولے بیٹھے ہو اور جو فضل میں نے تم پر کئے تھے ان کو تم نے اپنے استحقاق ذاتی و خاندانی کا ثمرہ سمجھ لیا۔
نعمت سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے جن افضال وعنایات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کی تفصیل بھی بیان فرما دی ہے۔ ہم چند آیتیں یہاں نقل کرتے ہیں ان سے اس اجمال کی وضاحت ہو جائے گی۔
اسی سورہ کے آگے والے رکوع میں فرمایا ہے:
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ. (۴۷ بقرہ)
اے بنی اسرائیل میرے اس انعام کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا اور میں نے تم کو دنیا والوں پر فضیلت دی۔
اس آیت میں اس آانعام کا حوالہ دیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی سیادت وامامت کی صورت میں عطا فرمایا تھا۔
پھر سورہ مائدہ میں فرمایا ہے:
وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ. (۷ مائدہ)
اور یاد کرو اپنے اوپر اللہ کے انعام کو اور اس کے اس عہد کو جو اس نے تمہارے ساتھ ٹھہرایا۔
اس آیت میں اس انعام کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ان کو اپنی شریعت دے کر فرمایا۔ یہ شریعت اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان ایک میثاق اور معاہدے کی حیثیت رکھتی تھی، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی شریعت کی پابندی کا عہد لیا اور اس پابندی کے صلہ میں اپنی طرف سے ان کے لئے دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کی ضمانت دی۔
پھر اسی مائدہ میں آگے چل کر اس انعام کی مزید وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوْکًا وَاٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ. (۲۰ مائدہ)
اور یاد کرو جب کہ موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم کے لوگو اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد رکھو کہ اس نے تمہارے اندر انبیا اٹھائے۔ تم میں بادشاہ بنائے اور تم کو وہ کچھ بخشا جو تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم کو نہیں دیا۔
ان آیات سے اس اجمال کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے جو زیر بحث آیت میں ہے۔ مزید جو چیز اس آیت کے پیش نظر رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اول تو فرمایا کہ میرا انعام اور پھر اس پر مزید اضافہ یہ فرمایا کہ جو میں نے تم پر انعام کیا، یہ تاکید اس لئے ہے کہ بنی اسرائیل کی تمام گمراہیوں کی جڑ، جیسا کہ آگے چل کر واضح ہو گا، یہی چیز تھی کہ ان کو جو بڑائیاں محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حاصل ہوئیں ان کو انہوں نے اپنی اہلیت واستحقاق کا کرشمہ اور اپنے نسل ونسب کا ایک قدرتی حق سمجھ لیا۔ یہاں نِعۡمَتِیۡ اور اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ کے الفاظ سے ان کی اسی ذہنیت کی اصلاح مقصود ہے اور آگے یہ چیز بالتدریج کھلتی جائے گی۔
وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ: عہد سے مراد یوں تو پوری شریعت ہی ہے اس لئے کہ شریعت درحقیقت بندوں اور خدا کے درمیان ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام آسمان وزمین کا خالق ومالک ہے کسی کی بھی یہ شان نہیں ہے کہ تمام آسمان وزمین کا بادشاہ اس سے کوئی معاہدہ کرے، اس کے باوجود اگر وہ کسی کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی طرف سے اس کو ایک بہت بڑا شرف بخشتا ہے لیکن یہاں اس عام معاہدہ کے ساتھ ساتھ اس خاص عہد کی طرف بھی اشارہ ہے جو بنی اسرائیل سے آنحضرت ﷺ کے متعلق لیا گیا تھا۔ اس عہد کا ذکر تورات میں بھی ہے اور اس کی طرف قرآن میں بھی ارشادات کئے گئے ہیں۔ کتاب استثنا ۱۵-۱۹ میں ہے:
“خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کو سننا۔۔۔۔ میں ان کےلئے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔“
قرآن مجید میں اس عہد کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے لئے رحمت کی جو دعا کی، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْءٍ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہُ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلاَلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْْہِمْ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیَ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. (۱۵۶۔۱۵۷ اعراف)
اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے میں اس کو لکھ رکھوں گا ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کریں گے، زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جو پیروی کرتے ہیں رسول نبی امی کی جن کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں۔ وہ ان کو حکم دیتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں منکر سے اور ان کے لئے جائز کرتے ہیں پاکیزہ چیزیں اور حرام کرتے ہیں ان پر ناپاک چیزیں اور دفع کرتے ہیں ان پر سے بوجھ اور پھندوں کو جو ان پر تھے۔ پس جو ان پر ایمان لائے اور جنہوں نے ان کی حمایت کی اور مدد دی اور اس روشنی کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتاری گئی ہو تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی ﷺ سے متعلق بنی اسرائیل سے جو عہد اللہ تعالیٰ نے لیا تھا اس میں بنی اسرائیل پر کیا ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے کیا وعدے کئے گئے تھے۔
وَاِيَّايَ فَارْهَبُوۡنِ: کسی کی عظمت وجلالت کے تصور سے دل پر جو لرزش اور کپکپی کی حالت طاری ہوجاتی ہے اس کے لئے عربی زبان میں رھبت کا لفظ ہے اور یہ بات اِیَّاکَ نَعۡبُدُ کی تفسیر کرتے ہوئے ہم واضح کر چکے ہیں کہ اگر فعل کے مفعول یا اس کے متعلق کو فعل پر مقدم کیا جائے تو یہ اس کے اہتمام اور اس پر زور دینے کی ایک شکل ہوتی ہے۔ علاوہ بریں اگر فعل پر“ف”آ جائے تو یہ مزید اہتمام کی ایک دلیل ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر فعل کے بعد ضمیر بھی آ جائے تو اسی پہلو کی مزید وضاحت ہو گی۔ اس لحا ظ سے وَاِيَّايَ فَارْهَبُوۡنِ کے معنی ہوں گے، پس صرف مجھی سے ڈرو۔
صرف مجھی سے ڈرو کا مطلب یہاں یہ ہے کہ میرے عہد کے تقاضوں کو پورا کرنے میں تمہاری دوسری مصلحتوں اور دوسرے اندیشوں پر میری عظمت وجلالت کے تصور کو غالب ہونا چاہئے۔ تم ڈرتے ہو کہ اگر تم نے نبی آخر الزمان کی دعوت قبول کر لی تو تمہاری سیادت وریاست ختم ہو جائے گی، امیوں کو تم پر فضیلت حاصل ہو جائے گی، تمہارے عوام تمہارے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور جو فوائد تم ان سے اب تک حاصل کرتے رہے ہو ان کے دروازے بند ہو جائیں گے حالاں کہ ڈرنے کی چیزیں یہ نہیں ہیں۔ ڈرنا تو صرف مجھ سے چاہئے جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اور جس نے تم سے عہد لیتے وقت پہاڑ کو تمہارے سروں پر چھتری کی طرح اوڑھا دیا تھا۔
Ayah 2:41وَاٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ: مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ اس چیز کی تصدیق کرتا ہوا جوتمہارے پاس ہے۔ یعنی قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کو سچی ثابت کر رہا ہے جو تورات میں آخری نبی ﷺ کی بعثت اور اس بعثت کی خصوصیات سے متعلق وارد تھی۔ مقصود یہ ہے کہ اگر سمجھ سے کام لو تو قرآن مجید اور یہ پیغمبر تمہارے لئے چڑنے کی چیز نہیں ہیں بلکہ سر اور آنکھوں پر بٹھانے کی چیز ہیں کیوں کہ ان کے ظہور سے سب سے زیادہ تمہارا ہی سر بلند ہوا ہے۔ تمہارے صحیفوں میں ان کی پیشین گوئیاں موجود تھیں اور یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے حقیقی مصداق کے ظہور کی منتظر تھیں اب اس کتاب اور اس کے پیغمبر کے ظہور نے ان کا مصداق دنیا کے سامنے پیش کر کے تمہاری کتاب کو سند تصدیق عطا کر دی تو تمہیں تو سب سے پہلے اس پر ایمان لانے کے لئے آگے بڑھنا چاہئے۔
اس تصدیق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں تک تورات یا انجیل کے آسمانی صحیفے ہونے کا تعلق ہے قرآن مجید آشکارا طور پر ان کے آسمانی ہونے کی تصدیق کرتا ہے، ان کے لانے والوں کی نبوت ورسالت کی بھی نہایت غیر مبہم الفاظ میں تصدیق کرتا ہے، ان کی تعلیمات کی بھی اصولی طور پر تصدیق کرتا ہے۔ قرآن اگر تردید کرتا ہے تو صرف ان چیزوں کی تردید کرتا ہے جو غلط طریقوں سے ان صحیفوں میں شامل کر دی گئی ہیں یا تحریف کر کے جن کی اصلی شکل بگاڑ دی گئی ہے۔ اس طرح غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جہاں تک اصل تورات کا تعلق ہے قرآن مجید اس کی سچائی کا گواہ بن کر نازل ہوا ہے وہ اس کو جھٹلاتا نہیں بلکہ ان چیزوں سے اس کو بری قرار دیتا ہے جو اس کو جھٹلانے والی ہیں۔
وَلَا تَكُونُوٓا۟ اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهِ: افعل کا مضاف الیہ اگر نکرہ مفرد ہو تو وہ تمیز کے مفہوم میں ہوا کرتا ہے لیکن اگر اس کی اضافت معرفہ کی طرف ہو تو اس شکل میں مضاف الیہ جمع ہو گا۔ مثلاً
قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ. (۸۱ زخرف)
کہہ دو، اگر خدا کے کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلا عبادت کرنے والا ہوں۔
اَوَّلَ كَافِرٍۭ اور اَوَّلَ الۡکَافِرِیۡن دونوں کے مواقع استعمال ہیں، استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ ایک لطیف فرق بتاتے ہیں۔ جب اول کافر کا استعمال ہو گا تو اس میں اس سے بحث نہیں ہو گی کہ اس کے علاوہ کوئی اور کافر پایا جاتا ہے یا نہیں اور دوسری شکل میں مفہوم یہ ہو گا کہ وہ کفرکرنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہے۔
“کفر”کا لفظ جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں حق کے انکار کے معنی میں بھی آتا ہے اور کفران نعمت کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ یہاں یہ لفظ دونوں ہی مفہوموں پر حاوی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ قرآن پر ایمان لانے کا ان سے عہد لیا جاچکا تھا اس وجہ سے اس کا حق ہونا ان پر اچھی طرح واضح تھا، اس بنا پر یہ ایک عظیم حق کا انکار ہوا۔ پھر قرآن مجید ان کے لئے ایک بہت بڑی نعمت بن کا نازل ہوا تھا، اس پر ایمان لانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے ابدی نعمتوں کے وعدے تھے، اس وجہ سے اس سے اعراض درحقیقت ایک بہت بڑا کفران نعمت بھی تھا۔
سب سے پہلے اس کے کفر کرنے والے نہ بنو، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب دوسرے کفر کر لیں تو تمہارے لئے کفر کرنا جائز ہو جائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ یہ قرآن تمہاری کتاب کی تصدیق کرتا نازل ہوا ہے اور اس پر ایمان لانے کا تم سے اس کے نزول سے پہلے ہی عہد لیا جا چکا ہے اس وجہ سے اس کو قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے کی سب سے پہلے تم ہی سے توقع کی جاسکتی تھی لیکن یہ عجیب صورت حال ہے کہ دوسرے تو اس سے ناآشنا ہونے کے باوجود اس پر ایمان لانے کے لئے سبقت کریں اور تم اس سے پہلے سے آشنا ہو کر اس کی مخالفت کی راہ میں سبقت کرو۔
اس طرح کے مواقع پر انہی کے ساتھ جو قید لگی ہوئی ہوتی ہے استاذ امام رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا مقصود محض صورت واقعہ کے گھناؤنے پن کو ظاہر کرنا ہوتا ہے، انہی کا اصل تعلق تو فعل سے ہوتا ہے، قید اس کے ساتھ محض اس لئے بڑھا دی جاتی ہے تاکہ وہ صورت حال سامنے آجائے جو اس کے ارتکاب میں مضمر ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ارشا د ہوا ہے:
لاَ تَاْکُلُوا الرِّبٰوا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً. (۱۳۰ اٰل عمران)
سود نہ کھاو، دگنا چوگنا کرتے ہوئے۔
اس آیت میں مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر سود در سود کی شکل پیدا نہ ہو تو سود مباح ہے بلکہ مقصود اس صورت حال کے پیش کرنے سے اصل فعل کی نفرت انگیز شکل کو سامنے کر دینا ہے۔
اس طرح زیر بحث ٹکڑے کے بعد فرمایا، وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًا قَلِيلًا (اور میری آیتوں کو حقیر پونجی کے عوض نہ بیچو) تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر اچھے دام مل جائیں تو بیچ سکتے ہو، بلکہ نہی کا تعلق یہاں بھی اصل فعل سے ہے، یعنی روکا جس چیز سے گیا ہے وہ دین فروشی ہے، لیکن ثَمَنًا قَلِيلًا کی قید نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ دین فروشی کا یہ کاروبار نہایت ذلیل طریقہ سے ہو رہا ہے کیوں کہ اللہ کی آیات کے بدلے میں اگر تمام دنیا بھی حاصل ہو جائے تو وہ بہرحال ایک متاع حقیر ہی ہے۔
ممکن ہے یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کے انکار میں یہود سے پہلے تو قریش نے سبقت کی تو قرآن نے سبقت کا الزام یہود پر کیوں عائد کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات یہاں یہود سے بہ حیثیت قوم کے کہی جارہی ہے اور مقابل میں یہاں امی عرب بہ حیثیت قوم کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ عدنانی ہیں یا قحطانی۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قریش نے قرآن کا انکار کرنے میں سبقت کی۔ پھر قریش کے انکار کی نوعیت بھی بہرحال یہ نہیں تھی کہ سارا قریش اس کے انکار ہی کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ہو۔ ان میں قرآن کے انکار کرنے والے بھی تھے اور قرآن پر جان نثار کرنے والے بھی تھے، لیکن بنی اسرائیل کا حال اس سے بالکل مختلف تھا، یہ قرآن اور نبی کریم ﷺ کی تکذیب اور مخالفت کے لئے من حیث القوم اٹھ کھڑے ہوئے اور آخر دم تک اس مخالفت پر اڑے رہے۔ درآنحا لیکہ دین الہی کے وارث اور نبی خاتم ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں کے امین ہونے کے سبب سے امی عربوں کے مقابل میں ان کو اَوَّل الۡمُؤُمِنِیۡنَ کا درجہ حاصل کرنا تھا۔
وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًا قَلِيلًا: میری آیات کو حقیر قیمت کے عوض نہ بیچو، یعنی اپنے دینی مفادات ومصالح پر تورات اور اس کے احکام وہدایات کو قربان نہ کرو۔ یہ ایک جامع اسلوب بیان ہے جس میں یہود کی ان تمام عہد شکنیوں کی طرف اشارہ ہو گیا ہے جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے اور جن کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آرہی ہے۔ یہود سے اللہ تعالیٰ نے جو آگے عہد لیا تھا اس میں تین چیزیں خاص طو پر بہت نمایاں تھیں، ایک یہ کہ وہ تورات کی شریعت پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں گے، دوسری یہ کہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے جو ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتا ہوا نازل ہوگا جو تورات میں موجود ہیں، تیسری یہ کہ ان کو جو کتاب عطا ہوئی ہے خلق کے سامنے اس کی شہادت دیں گے، اس کے کسی جزو کو چھپائیں گے نہیں۔
یہاں جب فرمایا کہ میری آیتوں کو حقیر معاوضے کے عوض نہ بیچو تو دوسرے الفاظ میں گویا یہ فرمایا کہ اپنے دنیوی معاملات کی خاطر ان تمام عہود کو خاک میں نہ ملاؤ جو تم خدا سے کرچکے ہو۔
نقض عہد کے مفہوم کو تعبیر کرنے کے لئے قرآن مجید نے یہ اسلوب دوسرے مقامات میں بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً ارشاد ہے:
اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَنُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ وَکَانُوْا عَلَیْْہِ شُہَدَآءَ فَلاَ تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ. (۴۴ مائدہ)
ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت اور روشنی ہے، اسی کے مطابق یہود کے معاملات کے فیصلے کرتے رہے وہ انبیا جنہوں نے خدا کی فرمانبرداری کی اور رِبِّیُّوۡن اور علما نے بھی اسی کے مطابق فیصلے کئے کیوں کہ وہ کتاب الٰہی کے امین بنائے گئے تھے اور اس کے گواہ ٹھہرائے گئے تھے تو تم لوگوں سے نہ ڈرو صرف مجھی سے ڈرو۔ اور میری آیات کو حقیر قیمت کے عوض نہ بیچو اور جس نے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہی لوگ کافر ہیں۔
اس آیت میں لَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًا قَلِيلًا کے موقع ومحل کو دیکھئےتو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کے عہد کو، جو اس نے تورات میں تم سے لیا ہے، نہ توڑو۔ یہ مفادات تمہاری نگاہوں میں کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں لیکن خدا کے عہدوپیمان اور اس کے احکام وآیات کے بالمقابل بالکل ہی ہیچ ہیں۔
اس ٹکڑے کے مخاطب یہود کے عوام بھی ہیں اور خواص بھی۔ عوام اس وجہ سے کہ وہ اگرچہ بہ ظاہر تورات کو مانتے تھے لیکن اس کی ساری دینداری محض رسمی ورواجی تھی۔ اصل شریعت انہوں نے اپنی خواہشات نفس پر قربان کر دی تھی۔ خواص اس وجہ سے کہ ان کے صحیفوں میں انحضرت ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق جو پیشین گوئیاں تھیں انہوں نے ان پر یا تو تاویل کے پردے ڈال دیے تھے یا ان پر تحریف کی قینچی چلا دی تھی اور محرک اس تاویل وتحریف کی دو چیزیں تھیں۔ ایک بنی اسماعیل کے خلاف حسد کا جذبہ، دوسری اس بات کا خوف کہ اگر اصل حقیقت ظاہر کر دی تو عوام بگڑ کھڑے ہوں گے اور جوعزت وسرداری اس وقت ان کو حاصل ہے وہ خطرے میں پڑ جائے گی۔
وَاِیَّايَى فَٱتَّقُوۡنِ: اتقا اور تقویٰ کی تحقیق ہم ھُدۡی لِلۡمُتَّقِیۡن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے بیان کر چکے ہیں۔ اوپر والی آیت میں وَاِیَّايَى فَارۡھَبُوۡنِ فرمایا تھا۔ یہاں وَاِیَّايَى فَٱتَّقُوۡنِ فرمایا۔ پھر آگے کی ایک آیت میں خشوع کا لفظ آرہا ہے۔ رہبت، تقویٰ، خشوع سب ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ کسی کی عظمت وجلال کے تصور سے دل پر جو لرزش اور کپکپی طاری ہوتی ہے وہ رہبت ہے۔ اس لرزش وکپکپی سے صاحب عظمت وجلال کے لئے دل میں جو عجزوفروتنی اور پستی ونیازمندی کی حالت پیدا ہوتی ہے اور طبیعت میں بے نیازی کی جگہ فقر کا اور گھمنڈ کی جگہ اخبات کا جو احساس ابھرتا ہے وہ خشوع ہے۔ اسی طرح اس صاحب عظمت وجلال کے قہروغضب سے بچنے، اس کے مقرر کردہ حدود کی مخالفت سے احتراز اور اس کے احکام وآیات کی خلاف ورزی سے اجتناب واحتیاط کی جو بے چینی طبیعت میں پیدا ہوتی ہے اور جو خلوت وجلوت ہر جگہ آدمی کو بیدار اور چوکنا رکھتی ہے وہ تقویٰ ہے۔
“مجھ ہی سے بچو”کا ٹکڑا بیک وقت دوحقیقتوں پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ مجھے کوئی بہت نرم چیز سمجھ کر میری گرفت اور میرے غضب سے بے پروا نہ ہو جاؤ۔ جو میری نعمت کی ناقدری کرتے ہیں، میرے عہد کو پامال کرتے ہیں، میری آیات کو مال بیع وشرا سمجھتے ہیں۔ جب میرا غضب ان پر نازل ہوتا ہے تو وہ ان کی کمر توڑ کے رکھ دیتا ہے اور اس وقت کوئی نہیں ہوتا ہے جو ان کو میرے غضب سے چھڑانے کے لئے کھڑا ہو سکے۔
دوسری حقیقت جو مفعول کی تقدیم سے یہاں پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تم ڈرتے ہوکہ اگر تم نے اصل حقیقت ظاہر کر دی تو تمہارے عوام بگڑ کھڑے ہوں گے تمہاری سرداری وپیشوائی خطرے میں پڑ جائے گی، تمہارے مقابل میں بنی اسماعیل کا سراونچا ہوجائے گا اور تمہارے دوسرے دنیوی مفادات کو نقصان پہنچ جائے گا حالانکہ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ڈرنے اور بچنے کی نہیں ہے۔ اصل ڈرنے کی چیز اگر کوئی ہے تو صرف میرا غضب ہے کیوں کہ اس سے کوئِی پناہ نہیں دے سکتا۔ البتہ میں اگر چاہوں تو اپنے غضب سے ڈرنے والوں کو ہر خطرہ سے بچا سکتا ہوں۔
Ayah 2:42وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ: لبس الثوب کے معنی ہیں اس نے کپڑا پہن لیا۔ لبس الامر علیہ کے معنی ہیں اس نے معاملہ کو گڈمڈ کر دیا۔ لَبَسَھُمۡ کے معنی ہوں گے، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کر دیا یا باہمدگر ٹکرا دیا۔ قرآن مجید میں ہے اَوۡیَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا (یا تمہیں گروہ در گروہ کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے)۔
لبس الشیئی بالشیئی کے معنی ہوتے ہیں جو ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط اور گڈ مڈ کر دیا۔ آیت زیر بحث میں حق پر باطل کو ڈھانک دینے کا مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے۔ لبس کے اصل معنی میں یہ دونوں مفہوم مضمر ہیں اور یہاں یہ دونوں ہی بنتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ اسلوب دوسری جگہ بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ. (۸۲ انعام)
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ان کے لئے امن ہے اور وہ راہ یاب ہونے والے ہیں۔
آیت زیر بحث میں اشارہ ہے یہود کی اس بات کی طرف کہ انہوں نے تورات میں اپنی رائیں اور بدعتیں داخل کر کے اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے حق اور اپنے داخل کئے ہوئے باطل کو ایک ساتھ گڈ مڈ کر دیا ہے۔ قرآن مجید نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً فَوَیْْلٌ لَّہُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْْدِیْہِمْ وَوَیْْلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ. (۷۹ بقرہ)
پس ہلاکی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب تصنیف کرتے ہیں، پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آئی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے حاصل کریں حقیر قیمت، پس ان کی تباہی ہے اس چیز کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لئے ہلاکی ہے اس چیز کے باعث جو وہ کما رہے ہیں۔
یہود نے حق پر پردہ ڈالنے کے لئے تورات میں ہر قسم کے تصرفات کرڈالے تھے۔ بعض چیزیں انہوں نے اس میں اپنی طرف سے داخل کر دی تھیں، بعض چیزیں اس میں سے نکال دی تھیں اور بعض چیزوں میں انہوں نے تبدیلیاں کر دی تھیں اور ان تمام تصرفات سے مقصود ان کا ان حقائق پر پردہ ڈالنا تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی، ان کی قربان گاہ اور ان کے قبلہ وغیرہ سے متعلق تورات میں بیان ہوئے تھے اور جو آخری نبی ﷺ کی بعثت کی نشان دہی کرنے والے تھے۔ یہود کو چونکہ یہ بات دل سے ناپسند تھی کہ آنحضرت ﷺ کی کوئی نشانی تورات سے ظاہر ہو اس وجہ سے انہوں نے ان تمام باتوں کو چھپانے کی کوشش کی۔ ۱ (۱ اس قسم کی بعض باتوں کی طرف اشارہ آگے اس سورہ میں آئے گا۔ جو لوگ زیادہ تفصیل کے طالب ہوں ، استاذ امام مولانا حمید الدین فراہیؒ کے رسالہ ’’ذبیح‘‘ کا مطالعہ کریں۔)
وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ: اس ٹکڑے میں کوئی خاص لغوی اشکال نہیں ہے البتہ وَتَكْتُمُوا کے اعراب کے بارے میں اہل تاویل نے اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگ یہاں“اِنۡ”کو پوشیدہ مانتے ہیں اس وجہ سے وَتَكْتُمُوا کو نصب کی حالت میں قرار دیتے ہیں بعض اس کوسابق پرعطف قرار دے کر اس کو جزم کی حالت میں مانتے ہیں۔ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ عطف کی صورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہاں حرف“لا”کا اعادہ نہ کرنا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیقت کو ظاہر کر رہی ہیں۔ پہلی بات کے بعد یہ دوسری بات صرف ایک وضاحت اور ایک بیان کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہود نے حق اور باطل کو گڈ مڈ کرنے کی جو کوشش کی اس سے اصل مقصود ان کا حق چھپانا ہی تھا۔ تورات میں ان کو جس چیز سے روکا گیا تھا وہ تو یہی حق کو چھپانا تھا لیکن اس حق کو چھپانے کی جو شکل ظاہر میں انہوں نے اختیار کی تھی وہ حق اور باطل دونوں کو گڈمڈ کرنے کی تھی اس وجہ سے قرآن نے ان کو پہلے حق وباطل کو گڈمڈ کرنے سے روکا، پھر اس کتمان حق سے روکا جو درحقیقت حق وباطل کے التباس کی اس تمام کوشش کا اصل مقصود ومدعا تھا۔
استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ اسی اصول پر وَلاَ تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَا اِلَی الْحُکَّامِ اور لاَ تَخُوْنُوْا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ والی آیات کی بھی تاویل کرتے ہیں۔ تفصیل ان کی اپنے مقام پر آئے گی۔
لفظ حق کی پوری تحقیق اسی سورہ میں آگے آ رہی ہے۔ یہاں موقع کلام سے واضح ہے کہ حق سے مراد وہ حقائق ہیں جو تورات میں واضح کر دیے گئے تھے اور جو اب قرآن نے اپنی تائید وتصدیق سے واضح سے واضح تر کر دیے ہیں۔ ان حقائق کا زیادہ تر تعلق نبی آخر الزمان کی نشانیوں سے تھا، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جاچکا ہے، یہود ان نشانیوں پر پردہ ڈالنے سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔
Ayah 2:43وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوۡا مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ: اقامت صلوٰۃ کی پوری تحقیق شروع میں بیان ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
زکوٰۃ: زکوٰۃ کا لفظ زکا – یزکوا سے ہےجس کے معنی پاک ہونے کے ہیں۔ عربی میں نفس زکیہ اس نفس کو کہتے ہیں جو گناہوں سے پاک صاف ہو۔ دوسرا مفہوم اس مادے کے اندر بڑھنے اور نشوونما پانے کا ہے۔ زَکَا الزَّرۡعُ کے معنی ہوں گے، کھیتی بڑھی اور اپجی۔ زکوٰۃ کے اندر پاکیزگی اور نشوونما دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے کہ زکوۃ نفس اور مال دونوں کو پاکیزگی بھی بخشی ہے اور اس سے مال میں برکت اور بڑھوتری بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی بعض آیات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
مثلاً فرمایا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا (۱۰۳ توبہ)
ان کے مالوں کا صدقہ قبول کرلو ان کو اس کے ذریعہ سے تم پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔
دوسری جگہ فرمایا ہے:
وَمَآ اٰتَیْْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ وَمَاْ اٰتَیْْتُمْ مِنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ. (۳۹ روم)
اور جو تم دیتے ہو سود تاکہ لوگوں کے مالوں میں بڑھوتری ہو تو یہ چیز اللہ کے ہاں نہیں بڑھتی اور جو تم دیتے ہو زکوٰۃ، اللہ کی رضا جوئی کے لئے تو یہی لوگ اپنے دئے ہوئے کو اللہ کے ہاں بڑھانے والے ہیں۔
زکوٰۃ کا لفظ ابتداء میں تو انفاق فی سبیل اللہ کی تمام قسموں کے لئے استعمال ہوتا رہا اور اس کا مفہوم وہی تھا جو لفظ صدقہ کا ہے لیکن بعد میں قرآن وحدیث کے استعمالات نے اس کو انفاق کی ان متعین مقداروں کے لئے خاص کر دیا جو اللہ اور رسول ﷺ نے ہرحال میں غربا وفقراء کے لئے واجب کر دی ہیں۔
رکوع: کے معنی آگے کی طرف جھک پڑنے، تواضع ظاہر کرنے اور فقروغربت سے پست ہوجانے کے ہیں۔ قرآن مجید میں اس سے مراد نماز ہوتی ہے اس لئے کہ یہ نماز کے اہم ترین ارکان میں سے ہے۔ اس کے ساتھ مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ (رکوع کرنے والوں کے ساتھ) کی قید، نماز باجماعت کی اہمیت اور اس کی تاکید کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ نماز باجماعت کا مفہوم أَقِيمُوا الصَّلٰوةَ کے الفاظ کے اندر بھی موجود ہے لیکن مخاطب کے خاص حالات کی وجہ سے اس مضمون کو واضح الفاظ میں الگ بھی بیان کر دیا ہے۔
نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کے اس حکم کے مخاطب، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے، یہود ہیں، اور اشارہ ان کے عوام وخواص سب کی طرف ہے جس میں عہد الٰہی کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اس کے بنیادی احکام یہی تھے اور یہود نے ان کو بالکل ترک کر رکھا تھا۔ قرآن مجید نے یہاں یہود کو ان احکام کے ازسرنو زندہ ہونے کی طرف توجہ دلائی اور اشارہ اس بات کی طرف بھی کر دیا کہ انہوں نے عہد الٰہی کے ان بنیادی احکام کو بالکل ختم کر رکھا ہے، لیکن صرف اشارہ کیا، اس بات کو صراحت کے ساتھ نہیں کہا تاکہ وہ بحث وتردید کے لئے نہ الجھ پڑیں۔
یہود کے متعلق یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ انہوں نے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام تقریباً ختم کر دئے تھے۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے اس کا حکم تو ان کے صحیفوں میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے یہاں تک کہ ان کے ایک فرقے کا تو یہ خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چیز کا حکم ہی نہیں دیا تھا، یہ محض بعد والوں کی بدعت ہے۔
زکوٰۃ کا اگرچہ انہوں نے انکار تو نہیں کیا لیکن ان کے علما اور کاہنوں نے اس کا مصرف فقرا اور مساکین کے بجائے اپنے آپ کو قرار دے لیا۔ چنانچہ کتاب احبار، جس میں کاہنوں کے حقوق وفرائض اور نذر اور قربانیوں وغیرہ کا بیان ہے، فقرا اور مساکین کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔ پیداوار کے عشر، پہلوٹھی کے فدیے اور ہر قسم کی نذریں اس میں کاہنوں کے لئے مخصوص کر دی گئی ہیں اور اس طرح زکوٰۃ کے اصلی حق دار فقرا اور غربا کے بجائے علما اور کاہن بن کے رہ گئے۔ قرآن مجید نے نماز اور زکوٰۃ دونوں معاملوں میں شریعت الہٰی کا حکم بھی واضح کیا اور یہود کی زیادتیوں پر نہایت واضح الفاظ میں ان کو ملامت بھی کی۔
نماز کے متعلق قرآن مجید نے یہ واضح کیا کہ سب سے پہلی چیز جو یہود پر فرض کی گئی وہ نماز ہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلا حکم نماز کا ہی دیا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ. (۱۴ طٰہٰ)
بے شک میں ہی اللہ ہوں، نہیں ہے کوئی معبود مگر میں۔ میری ہی بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔
دوسری جگہ فرمایا:
وَاَوْحَیْْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ. (۸۷ یونس)
اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ تم اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر مقرر کر لواور اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔
ان آیات سے صاف واضح ہے کہ یہود کی جماعتی شیرازہ بندی سب سے پہلے نماز باجماعت کے ذریعہ سے ہوئی تھی لیکن اس کی اہمیت بعد میں انہوں نے بالکل ختم کر دی۔
وَارْكَعُوۡا مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ کے الفاظ کی روشنی میں استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہاں یہود کو رکوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے رکوع کو بالکل ترک کر دیا تھا۔۱ (۱ استاذ امام رحمتہ اللہ کے نزدیک یہود اپنے اوپر سال میں صرف ایک مرتبہ سجدہ کرنا واجب سمجھتے تھے اور اس کے لیے بھی ان کے علما نے یہ اجازت دے رکھی تھی کہ اگر کوئی شخص کھڑے کھڑے کسی دیوار یا کھمبے پر اپنی پیشانی رکھ دے تو ادائے فرض کے لیے یہ بھی کافی ہے۔ معلوم نہیں مولانا ؒ کے اس بیان کا ماخذ کیا ہے لیکن تورات میں یہود کو بار بار جو گردن کش کہا گیا ہے اس کی وضاحت ان کے اس طرزِ عمل کی روشنی میں بہ خوبی ہو جاتی ہے۔)
دوسرے نماز باجماعت کے اہتمام کی طرف، وہ اس طرح کہ لیڈروں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ نمازوں میں غربا اور عوام کے ساتھ شریک ہوں اور ان کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں، کیوں کہ پہلی چیز جو نماز کو ڈھانے والی ہے وہ یہی ترک جماعت ہے۔ امراء عوام کے ساتھ مسجدوں کی حاضری کو کسر شان سمجھنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کی عزت کم ہوجاتی ہے اور مسجدوں کی حاضری صرف غربا کےساتھ مخصوص ہوجاتی ہے۔ نماز باجماعت کی اسی اہمیت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کو بھی جماعت کے اہتمام کی تاکید فرمائی۔
یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ. (۴۳ اٰل عمران)
اے مریم اپنے رب کی فرمانبردار رہ اور سجدہ اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔
Ayah 2:44بِرّ:“بِرّ”عربی زبان میں ایفائے عہد، وفاداری اور ادائے حقوق کے معنی میں آتا ہے۔ حقوق میں ہر قسم کے حقوق شامل ہیں۔ بنیادی اور حقیقی بھی۔ مثلاً خدا کی فرمانبرداری، والدین کی اطاعت اور خلق کے ساتھ ہمدردی۔ پھر آگے چل کر اس میں وہ حقوق بھی شامل ہوجاتے ہیں جو قول واقرار اور معاہدات سے پیدا ہوتےہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ احسان اور نیکی کی تمام قسموں پر حاوی ہے اور عدم کا بھی ہم معنی ہے۔ اپنے استعمالات کے لحاظ سے یہ لفظ اثم (حق تلفی) عقوق (والدین کی نافرمانی) غدر (بے وفائی) اور ظلم کا ضد ہے۔ بَرٌّ اور بَارٌُ اس سے صفت کے صیغے استعمال ہیں مثلاً کہیں گے بَرٌُ بِوَالِدِہ وہ اپنے باپ کا فرمانبردار ہے۔ برَّ بِالۡقَسم کے معنی ہیں اس نے اپنی قسم پوری کی۔ قرآن مجید میں حضرت یحیٰی علیہ السلام کی تعریف میں وارد ہے۔
وَکَانَ تَقِیًّا، وَبَرًّا بِوَالِدَیْْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا (۱۳۔۱۴ مریم)
وہ پرہیزگار اور اپنے ماں باپ کا فرمانبردار تھا، سرکش اور نافرمان نہ تھا۔
دوسری جگہ فرمایا ہے
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (۹۲ اٰل عمران)
تم خدا کی فرمانبرداری کا حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ہے
اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ (۲۸ طور)
بے شک وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا اور مہربان ہے۔
نیز فرمایا ہے
وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (۲ مائدہ)
اور تعاون کرو ایفائے حقوق اور تقویٰ کے کاموں میں اور نہ تعاون کرو حق تلفی اور تعدی کے کاموں میں۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ“بِرّ”کا لفظ ایک پہلو سے نیکی اور بھلائی کے تمام کاموں پر مشتمل ہے لیکن اپنے خاص مفہوم کے لحاظ سے یہ حقوق اور فرائض کے ایفا کے لئے آتا ہے۔
اس آیت کے مخاطب یہو د کے علماء اور اکابر ہیں۔ آخر کا ٹکڑا وَأَنْتُمْ تَتْلُوۡنَ الْكِتٰبَ- اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، ہمارے اس خیال کی نہایت واضح طور پر تائید کر رہا ہے۔ ان علما اور اکابر کو مخاطب کر کے یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم عوام کو تو بڑے زوروں سے حقوق اور فرائض ادا کرنے کی تلقین کرتے ہو لیکن یہ تلقین کرتے وقت اپنے آپ کو بالکل بھول جاتے ہو۔ لوگوں کو تو نصیحت کرتے ہو کہ اپنے مال تمہارے حوالہ کریں لیکن خود تمہارے اوپر خدا کے اور غریبوں کے جو حقوق ہیں ان کا خیال تمہیں کبھی نہیں آتا، بلکہ تم لوگوں کا دیا ہوا مال ہڑپ کر کے بیٹھ جاتے ہو۔ تم نے دوسروں پر تو اپنی اطاعت پوری سطوت کے ساتھ واجب کر رکھی ہے، یہاں تک کہ تم ان کے رب بن بیٹھے ہو لیکن خود خدا کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری سے بالکل آزاد ہو، نماز اور زکوٰۃ کو ضائع کر کے تم نے پورے دین کو بالکل برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ علمائے یہود کی اس حالت کی طرف حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی نہایت بلیغ الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
“اس نے کہا اے شرع کے عالمو، تم پر بھی افسوس کہ تم ایسے بوجھ جن کا اٹھانا مشکل ہے آدمیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے۔”(لوقا باب ۱۱: ۴۷)
غور کیجئے، انجیل کے ان الفاظ اور قرآن مجید کے مذکورہ بالا الفاظ میں کتنی مطابقت ہے۔
وَأَنْتُمْ تَتْلُوۡنَ الْكِتٰبَ (اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو) یعنی تم دین و شریعت کے عالم ہو اور جانتے ہو کہ ازروئے عقل و نقل تم پر شریعت کی ذمہ داریاں دوسروں کی نسبت سے کہیں زیادہ ہیں۔
Ayah 2:45لفظ صلوٰۃ کی تحقیق بقرہ کی آیت ۳ کی تفسیر کرتے ہوے بیا ن ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم صرف لفظ صبر کی تحقیق پر کفایت کریں گے۔
لفظ صبر کے اصل معنی روکنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ، مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ قرآن مجید میں اسی حقیقت نے کچھ زیادہ پاکیزہ صورت اختیار کر لی ہے۔ یعنی قرآن میں عموماً اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ بندہ پوری طمانیت قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد پر ڈٹا رہے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور اس راہ میں اس کو جن مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہ دے۔
صبر کا مفہوم لوگ عام طور پر عجزومسکنت سمجھتے ہیں لیکن لغت عرب اور استعمالات قرآن میں اس کا یہ مفہوم نہیں ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر سورہ والعصر میں کلام عرب کی روشنی میں اس عام خیال کی تردید مندرجہ ذیل الفاظ میں فرماتے ہیں:
“لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عربوں کے نزدیک صبر عجزوتذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو بے بسوں اور درماندوں کا شیوا ہے بلکہ یہ عزم اور قوت کی بنیاد ہے کلام عرب میں اس کا استعمال بہت ہے اور اس کے تمام استعمالات سے اسی مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ حاتم طائی کہتا ہے:
وغمرۃ موت لیس فیھا ھوادۃ
یکون صدور المشرفی جسورھا
اور موت و ہلاکت کے کتنے ہولناک دریا ہیں جن پر تلواروں کے پل ہیں۔
صبرنالہ فی نھکھا ومصابھا
باسیافناحتٰی یبوخ سعیرھا
ہم نے ان کے تمام آفات و شدائد کے مقابل اپنی تلواروں کے ساتھ ثابت قدمی دکھلائی۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے پڑ گئے۔
اصبغ کا شعر ہے۔
یا ابن الجحاجحۃ المدارہ والصابرین علی المکارہ اے شریف سرداروں اور شدائد پر صبر کرنے والوں کی اولاد۔ زہیر بن ابی سلمیٰ نے کہا ہے کہ۔
قود الجیاد واصھار الملوک وصبر فی مواطن لوکانوا بھا سئموا اصیل گھوڑوں کی سواری، پادشاہوں کی دامادی اور ایسے مورچوں میں ثابت قدمی جہاں دوسرے ہمت ہار بیٹھیں۔ صبر کے اصلی معنی قرآن مجید نے خود بھی واضح کر دئیے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے: وَالصَّابِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ (۱۷۷ بقرہ) اور ثابت قدمی دکھانے والے سختی میں، تکلیف میں اور لڑائی کے وقت۔ اس آیت میں صبر کے تین موقعے ذکر کئے ہیں۔ غربت، بیماری اور جنگ۔ غور کیجئے تو تمام مصائب وشدائد کے سرچشمے یہی تین ہیں۔ اوپر عہد الہٰی کو ازسر نو استوار کرنے کے لئے بنی اسرائیل کو جن باتوں کا حکم دیا ہے یا جن سے روکا ہے ان کا اختیار کرنا یا ان سے بچنا نفس کے لئے نہایت شاق ہے اس وجہ سے وہ نسخہ بھی بتا دیا ہے جو اس مشکل کام کو آسان بنا سکتا ہے۔ یہ نسخہ صبر اور نماز کے دو جزوں پر مشتمل ہے۔ ان دوچیزوں کے اختیار کرنے سے نفس کے لئے یہ چڑھائی آسان ہو جاتی ہے۔ صبر کا تعلق اخلاق وکردار سے ہے اور نماز کا تعلق عبادات سے ہے۔ انسان کے اندر اگر مشکلات وموانع کے علی الرغم حق پر ڈٹے رہنے کی خصلت موجود نہ ہو تو وہ دنیا میں کوئی اعلی کام تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا، لیکن مشکلات وموانع کے علی الرغم کسی صحیح موقف پر ڈٹے رہنے کی خصلت انسان کے اندر آسانی سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ ریاضت سے پیدا ہوتی ہے جس کا طریقہ نماز ہے۔ آدمی اگر ایک صحیح راہ پر چلنے کا عزم کر لے اور اس پر چل کھڑا ہو اور ساتھ ہی برابر اپنے رب کو یاد رکھے اور اس سے مدد مانگتا رہے (جس کی بہترین شکل نماز ہے) تو اس کے عزم کی قوت ہزار گنی بڑھ جاتی ہے، کوئی مشکل سے مشکل حالت بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا ہونے نہیں دیتی، اگر حالات کی نزاکت سے آدمی کے پاوں لڑکھڑانے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا وہ تعلق جو نماز کے واسطہ سے قائم ہوتا ہے، اس کو گرنے سے بچا لیتا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہاں صبر کا جو حکم دیا ہے وہ اس لئے دیا ہے کہ اس وصف کو پیدا کئے بغیر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے عہد پر قائم نہیں رہ سکتی اور نماز کا حکم اس لئے دیا ہے کہ یہی چیز صبر کے پیدا کرنے، اس کو ترقی دینے اور اس کو درجہ کمال تک پہنچانے کا وسیلہ وذریعہ ہے۔ آگے ان آیات پر تدبر کے سلسلہ میں چونکہ اس مسئلہ پر ہم تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اس وجہ سے یہاں صرف اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے، اگرچہ اس کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے لیکن ہے وہ نہایت لطیف۔ آگے ہم اس کی وضاحت کریں گے۔ وَاِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ: اس ٹکڑے میں سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ“وَاِنَّهَا”میں“ھَا”کا مرجع کیا ہے؟ مجاہد کے نزدیک اس کا مرجع صلوٰۃ ہے۔ اسی قول کو امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے ترجیح دی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ نماز نفس پر بہت بھاری ہے۔ صرف وہی لوگ اس بارگراں کو اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر خدا کا خوف ہو اور جن کے دل آخرت کی بازپرس کے ڈر سے ہروقت خدا کے آگے جھکے رہتے ہوں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا مرجع وہ ہدایت ونصیحت ہے جو پچھلے جملہ میں مذکور ہوئی ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ پہلے قول کے حق میں ہیں اور اس کی تائید میں انہوں نے چند دلیلیں بھی پیش کی ہیں ان کے نزدیک یہاں“صبر”کو نظر انداز کر کے، صرف نماز کے بھاری ہونے اور مشکل ہونے کے ذکر کرنے کی تین وجہیں ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ صبر کا شاق اورگراں ہونا بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی مثال وہ آیت وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ۱ (مدد چاہو صبر اور نماز کے ذریعہ سے، بے شک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔ ۱۵۳ بقرہ) پیش کرتے ہیں کہ اس میں یہ فرمایا کہ اللہ صابروں کے ساتھ ہے، یہ نہیں فرمایا کہ نماز پڑھنے والوں کےساتھ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہونا اس قدر واضح ہے کہ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح صبر کا مشقت طلب ہونا چونکہ واضح تھا اس وجہ سے اس کا ذکر نہیں کیا، صرف نماز کا ذکر کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صبر نماز کے لازمی شرائط میں سے ہے۔ صرف وہی لوگ نماز پر قائم رہ سکتے ہیں جن کے اندر صبر کی خصلت موجود ہے۔ نماز کی اس خصوصیت کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جب یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ نماز ایک بھاری اور مشکل چیز ہے تو گویا اس کے بھاری اور مشکل ہونے کے پہلو کی طرف خودبخود اشارہ ہو گیا کہ یہ اس وجہ سے بھاری اور مشکل ہے کہ اس کے لئے صبر درکار ہے۔ اس اشارہ نے صبر کے تصریح کےساتھ ذکر کرنے کی ضرورت سے مستغنی کر دیا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ صبر کا ایک سخت چیز ہونا چونکہ واضح ہے اس وجہ سے اس کی سختی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا حکم دینا مخاطب کی طبیعت پر گراں گزرتا اس وجہ سے اس کی سختی کا حوالہ نہیں دیا۔ صرف نماز کی سختی کا حوالہ دیا جو بہ ظاہر ایک آسان چیز ہے۔ یہ نکتے اگرچہ نہایت لطیف ہیں اور ان سے زیر بحث آیات کے بعض نہایت اہم گوشے روشنی میں آتے ہیں لیکن میرا اپنا رجحان دوسرے قول کی طرف ہے۔ یعنی“ھا”کا مرجع میرے نزدیک صبر و صلوٰۃ سے استعانت کی وہ تلقین ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں وارد ہوئی ہے۔ عربی زبان اور قرآن مجید میں اس اسلوب بیان کی بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں۔ ہم قرآن مجید سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ فرمایا۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقَّاہَا اِلَّا الصَّابِرُوْنَ (۸۰ قصص) اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا تھا انہوں نے کہا، تمہارا برا ہو، اللہ کا اجر ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لئے ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے لیکن ایمان اور عمل صالح کا مرتبہ عطا نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرنے والے ہوں۔ دوسری جگہ فرمایا ہے۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّءَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْْنَکَ وَبَیْْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (34) وَمَا یُلَقّٰہَا اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقّٰہَا اِلَّا ذُوْ حَظِّ عَظِیْمٍ (۳۴۔۳۵ حٰم السجدہ) اور بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہو سکتیں، تم ان کی برائی کو بھلائی سے دفع کرو تو تم دیکھو گے کہ جس کے درمیان اور تمہارے درمیان شدید عداوت ہے، وہ تمہارا سرگرم حامی بن گیا ہے اور یہ حکمت نہیں عطا ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کریں اور یہ دانش نہیں ملتی مگر نصیبہ ور کو۔ علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ مذکور بالا آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ ای وما یلقی ھٰذہ الوصیۃ الا الذین صبروا وما یلقا ھا ای یوتا ھا ویلھمھا الا ذوحظ عظیم- یعنی یہ ہدایت نہیں عطا ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرنے والے ہوں وما یلقٰھا کے معنی ہیں کہ یہ ہدایت نہیں ملتی یا نہیں الہام ہوتی مگر ان کو جو بڑے نصیب والے ہوں۔ اس قول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں“ھا”کی ضمیر کا تعلق صرف نماز سے نہیں رہ جاتا بلکہ صبر اور نماز دونوں سے ہو جاتا ہے۔ یہ بات عربی زبان کے قواعد کے بھی مطابق ہے اور اصل حقیقت کے بھی، کیوں کہ نفس پر شاق درحقیقت یہ دونوں ہی چیزیں ہیں۔ صبر کے مشکل ہونے میں تو کسی کو کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ نماز بھی مداومت اور پابندی کی شرط کے ساتھ اتنی سخت چیز بن جاتی ہے کہ اہل توفیق ہی ہیں جو اس کو نباہ سکتے ہیں۔ لَكَبِيۡرَةٌ: کبرۃ کے معنی یہاں بھاری، ثقیل اور شاق کے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلاَّ عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ (۱۴۳ بقرہ) بے شک بھاری چیز ہے مگر ان کے لئے جن کو خدا ہدایت دے دے- وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکَ اِعْرَاضُہُمْ (۳۵ انعام) اور اگر ان کا اعراض تم پر گراں گزر رہا ہے۔ اِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ: خشوع کی اصل حقیقت پستی اور فروتنی اور عجز وتدلل ہے۔ آواز پست ہو تو یہ لفظ اس کے لئے بھی بولا جائے گا، نگاہ جھکی ہوئی ہو تو اس کے لئے بھی بولا جائے گا۔ اونٹ کا کوہان لاغری کے سبب سے بیٹھ جائے تو اس کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو گا۔ اوپر عہد الہٰی پر استوار رہنے کے لئے صبر اورنماز سے استعانت کی جو نصیحت کی گئی ہے اس کے متعلق یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ راہ سہل انہی کے لئے ہے جن میں خشوع ہو، جو خدا سے ڈرنے والے ہوں، جو غروروسرکشی کی بیماری سے پاک ہوں اور جن کے دل خدا کے حضور جواب دہی کے تصور سے ہر وقت اندیشہ ناک رہتے ہوں۔ وہ لوگ اس راہ پر نہیں چل سکتے جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہوں، جو قومی و نسلی غرور کے گھمنڈ میں مبتلا ہوں اور جو خدا اور آخرت سے زیادہ اپنی امارت وسیادت کی ساکھ جمائے رکھنے کی فکروں میں مبتلا ہوں۔ یہ خشوع صبر اور نماز دونوں کی بنیاد ہے۔ صبر سے یہاں مراد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، ہر طرح کے مصائب وشدائد اور ہر قسم کے ایذاواستخفاف کے باوجود خدا کے عہد پر جمے رہنا ہے اور یہ بات وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل پر خدا کی ایسی ہیبت وعظمت طاری ہو کہ اس کے مقابل میں ہر مصیبت وذلت اس کو اَہۡوَن معلوم ہوتی ہو۔ اسی طرح نماز کے متعلق ہر صاحب علم پر یہ حقیقت واضح ہے کہ اس کی بنیاد ہی خشوع وخضوع پر ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے۔ مثلاً۔ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ، الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلٰوتِہِمْ خَاشِعُوْنَ (۱۔۲ مومنون) ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں۔ دوسرے مقام میں ہے: وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا وَکَانُوْا لَنَا خَاشِعِیْنَ (۹۰ انبیاء) وہ ہمیں پکارتے ہیں امید وبیم کے ساتھ اور وہ ہم سے عاجزی کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:46آدمی کسی چیز کے متعلق اس کے دیکھے بغیر جو رائے قائم کرتا ہے اس کو ظن کہتے ہیں۔ اس طرح کی رائے پر بالعموم چونکہ یقین نہیں ہوا کرتا اس وجہ سے ظن کا لفظ کچھ شک کے ہم معنی سا بن گیا ہے۔ چنانچہ عربی زبان اور قرآن مجید میں یہ لفظ اس معنی میں بہت استعمال ہوا ہے۔ طرفہ کا مشہور شعر ہے۔
واعلم علمًا لیس بالظن انہ
اذا ذل مولَی المرء فھو ذلیل
میں ایک بات جانتا ہوں جو محض گمان نہیں ہے کہ جب آدمی کا چچا زاد بھائی ذلیل ہوجائے تو وہ خود بھی ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں ہے۔
اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْْقِنِیْنَ (جاثیہ : ۳۲)
ہم محض ایک گمان کر رہے ہیں اور ہم یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
لیکن ایک بن دیکھی چیز کے متعلق جو رائے قائم کی جاتی ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ مشکوک ہی ہو۔ بسااوقات یہ رائے یقین پر مبنی ہوتی ہے لیکن ظن کا لفظ اس کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ ظن کا یہ استعمال اس کے عام معنی کے لحاظ سے ہوتا ہے، اس میں شک کا مفہوم مضمر نہیں ہوتا۔ اوس بن حجر کا ایک یہ شعر ہے:
الا لمعی الذی یظن الظن
کان قد راٰی وقد سمعا
وہ ذہین کہ اگر تمہارے بارے میں کوئی گمان بھی کرے تومعلوم ہوتا ہے دیکھ کر اور سن کر کرتا ہے۔
دریدبن صمہ کہتا ہے:
فقلت لھم ظنوا بالفی مدجج
سراتھم فی القارسی المسرد
میں نے ان سے کہا کہ دوہزار سلاح پوش سواروں کا یقین کرو جن کے سردار باریک کڑیوں کی زرہیں پہنے ہوں گے۔
یہ خاشعین کی مزید تعریف ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اپنے رب سے ملنے کا گمان رکھتے ہیں، آخرت سے بے پروا اور بے فکر نہیں ہیں۔
خاشعین کی تعریف میں یہ بات ان کے باطن پر روشنی ڈالتی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے اوپر عجزومسکنت اور پستی وفروتنی کی جو حالت طاری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں آخرت کا خوف اور خدا کے سامنے حاضری کا ڈر سمایا ہوا ہے۔
خاشعین کی اس باطنی حالت کی تعبیر کے لئے ظن کے لفظ کے استعمال میں ایک خاص خوبی یہ ہے کہ یہ لفظ اندیشہ اور گمان غالب سے لے کر یقین اور قطعیت تک کی حالت کی تعبیر کے لئے کافی اور آخرت کا معاملہ ایک ایسا اہم معاملہ ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی کو جب اس کے بارہ میں یقین حاصل ہوجائے تب ہی اس کے لئے تیاری کرے، بلکہ اس کا اندیشہ اور گمان بھی اس بات کے لئے کافی ہے کہ آدمی اس کے لئے تیار رہے۔ ایک عظیم بند جس کے ٹوٹ جانے سے پورے شہر کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہو ہماری توجہ کا طالب صرف اسی وقت نہیں ہوتا جب کہ پانی اس کی دیواروں میں دراڑیں پیدا کر دے بلکہ اس کے ٹوٹنے کے ہولناک اندیشہ کے پیش نظر اس وقت بھی اس کی حفاظت کا اہتمام ہوتا ہے جب کہ وہ بظاہر بالکل محفوظ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے سے خطرے کے معاملہ میں جب انسان کی پیش بینی کا یہ حال ہے تو آخر مرنے کے بعد کی زندگی اور آخرت کے معاملہ میں ، جس کا تعلق ایک ابدی زندگی سے ہے، وہ اتنا بے حس اور بلید کیوں ہو جائے کہ اس کے تمام آثار وعلامات سے آنکھیں بند کئے ہوئے رہے اور اس وقت تک اس کے لئے کسی تیاری کی ضرورت نہ سمجھے جب تک اس کو اس کا پورا پورا یقین ہو جائے۔
وَأَنَّهُمْ اِلَيْهِ رَاجِعُونَ:“اور یہ کہ اسی طرف لوٹنے والے ہیں”کے الفاظ بیک وقت توحید اور تفویض کی دوحقیقتوں کو ظاہر کر رہے ہیں۔
توحید کا پہلو یہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آخرت میں سارے معاملات صرف اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے پیش ہوں گے، وہی جزا اور سزا دے گا اور وہ جو کچھ دے گا پورے عدل وانصاف کے ساتھ دے گا، کسی دوسرے کی مجال نہ ہو گی کہ اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے یا اس کے غضب سے بچا سکے۔ یہ مضمون“اِلَيْهِ”کی تقدیم سے پیدا ہوتا ہے اور اس توحید کا حوالہ یہاں اس لئے ضروری ہوا کہ اگر عقیدہ شرک کا کوئی شائبہ دل میں موجود رہے تو خدا کی ملاقات کا عقیدہ بالکل بے جان ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ مشرک یہ سمجھتا ہے کہ اول تو خدا اپنے شرکاء کے لحاظ میں اس کے اوپر ہاتھ ہی نہیں ڈالے گا اور اگر ڈالے گا تو اس کے شرکاء اس کو اپنی سعی وسفارش سے بچالیں گے۔
تفویض کا پہلو یہ ہے کہ اللہ کے عہد بندگی پر قائم رہنے والوں کو جو مشکلیں اور اذیتیں پیش آتی ہیں وہ ہر چیز کو خندہ پیشانی کےساتھ قبول کرتے ہیں اس لئے کہ انہیں یہ اعتماد ہوتا ہے کہ وہ جس کی راہ میں یہ سب کچھ جھیل رہے ہیں، ہر قدم پر اسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پھر جب آگے وہ ہے جس کی طلب ہے تو پیچھے کے اس سارے شوروغوغا کی کیا پروا۔
کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
Ayah 2:47لفظ نعمت کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ یہاں اس پر وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ کو عطف کیا ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس اجمال کی وضاحت کر رہا ہے جو نعمت کے لفظ کے اندر موجود ہے۔ اس فضیلت سے مراد قوموں کی ہدایت ورہنمائی کا وہ منصب ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک خاص دور میں منتخب فرمایا۔ جو فضیلت کسی منصب کی ذمہ داری کو ادا کرتی ہے تو یہ فضیلت اس کو حاصل رہتی ہے اور اگر اس کو چھوڑ بیٹھتی ہے تو صرف اس فضیلت ہی سے محروم نہیں ہو جاتی جو اسے بخشی گئی تھی بلکہ کفران نعمت کی پاداش میں اس کو مزید براں ذلت بھی نصیب ہوتی ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ جس فضیلت پر تمہیں ناز ہے وہ فضیلت خدا ہی کی عطا کردہ تھی، اگر اس کو باقی رکھنا چاہتے ہو تو خدا کے عہد پر قائم رہو اور اس کا حق ادا کرو۔ خدا کے عہد سے نکل کر تم اس فضیلت کو ادا نہیں کر سکتے۔
قوموں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بنی اسرائیل کے منتخب کئے جانے کا ذکر قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی ہے۔ مثلاً فرمایا
وَلَقَدِ اخْتَرْنَاہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (دخان : ۳۲)
یعنی ہم نے ان کو دنیا والوں کی رہنمائی کے لئے منتخب کیا، دیکھ بھال کر۔
یہاں“علیٰ علم”کے الفاظ سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ انتخاب کسی اندھے کا انتخاب نہیں تھا کہ جس پر ہاتھ پڑ گیا اس کو اس نے منتخب کر دیا۔ بلکہ یہ کام ایک صاحب علم وبصیرت نے کیا ہے جو اپنے علم وبصیرت سے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ کب یہ اس منصب کے اہل ہیں اور کب نہیں ہیں۔