Ayah 2:26تمثیل کی اصل قدر و قیمت: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلاً: ضرب مثل کے معنی ہیں کسی حقیقت کو تمثیل کے پیرایہ میں سمجھانا۔ اعلیٰ حقائق اور روحانی لطائف کو جب تک تمثیل کا جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک وہ عام عقل کی گرفت میں نہیں آتے اس وجہ سے روحانی حقائق کی تعلیم میں اس صنفِ کلام کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ چناں چہ انبیا اور حکما کے کلام میں اس کی بڑی کثرت ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ تورات اور انجیل پر ایک نظر ڈالنے سے ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا کلام تمثیلات سے بھرا ہوا ہے۔ نبی ﷺ کی احادیث میں بھی بے شمار تمثیلات ہیں۔ قرآن میں بھی اس صنفِ کلام کی نہایت اعلیٰ مثالیں موجود ہیں۔
تمثیل میں جو چیز دیکھنے کی ہوتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس میں جو حقیقت پیش کی گئی ہے وہ کتنی خوبی کے ساتھ پیش ہوئی ہے۔ اس چیز سے کچھ زیادہ بحث نہیں ہوتی کہ تمثیل کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔ ایک حقیقت کو نگاہوں کے سامنے مصور کر دینے کے لیے جو چیز بھی مفید مقصد ہو سکتی ہے اس سے تمثیل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے خواہ وہ مکھی ہو یا مچھر یا مکڑی۔ قرآن مجید نے مشرکین کے معبودوں کی بے بسی کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مکھی بھی ان خداؤں سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس کا بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اسی طرح شرکا اور شفعا پر ان کو جو اعتماد تھا، اس کی بے حقیقتی کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے۔ یہود، دین کے اصولوں سے بے پروا ہو کر اس کی جزئیات کا جو اہتمام کرتے تھے، حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کو مچھر کے چھاننے اور اونٹ کے نگل جانے سے تشبیہہ دی ہے۔
یہ ساری تشبیہیں اور تمثیلیں اس اعتبار سے نہایت اعلیٰ درجے کی ہیں کہ ان میں جو حقائق پیش کیے گئے ہیں وہ ان تمثیلوں کے پیرایہ میں نہایت خوبی کے ساتھ ایک عام آدمی کی سمجھ میں بھی آ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے علم اور معرفت کے قدردان ان تمثیلوں کی بڑی قدر کرتے ہیں اور ان سے بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جو لوگ علم و معرفت کے دشمن اور خواہشات نفس کے غلام ہوتے ہیں وہ ان تمثیلات سے بہت چڑتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمثیلات ان کے لیے وہ چیزیں بے نقاب کرتی ہیں جن کا بے نقاب ہونا ان کے نفس کی خواہشات کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ اپنا یہ غصہ جب نکالنا چاہتے ہیں تو براہِ راست اس حقیقت پر حملہ کرنا تو ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا جو وہ تمثیل پیش کر رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ اس قدر واضح ہوتی ہے کہ اس کے خلاف کچھ کہنا آفتاب پر خاک ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ البتہ تمثیل کے کسی جزو کی آڑ لے کر وہ اس کے خلاف اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔ مثلاً فرض کیجئے تمثیل میں مکھی یا مچھر کا ذکر آ گیا ہے تو خواہ وہ تمثیل کتنی ہی حقیقت افروز ہو لیکن وہ کہیں گے کہ ’’یہ کیا فضول تمثیل ہے، اگر یہ خدا کا کلام ہے تو کیا خدا کو تمثیل کے لیے مکھی اور مچھر ہی ملتے ہیں۔‘‘۔۔۔ اس طرح وہ خود اپنے ضمیر کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے کی کوشش کریں گے اور دوسروں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکیں گے۔
’فسق‘ کے معنی: وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ: فسق کے اصل معنی خروج کے ہیں۔ یہاں سے یہ لفظ معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے لیے استعمال ہوا۔ قرآن مجید میں ابلیس کے متعلق ہے۔
’کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ‘ (50۔ کہف)
’’ وہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔‘‘
معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے مختلف مدارج ہو سکتے ہیں۔ منکر چھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور بڑا بھی، اسی طرح نافرمانی معمولی درجہ کی بھی ہو سکتی ہے اور بغاوت کے درجہ کی بھی۔ چناں چہ قرآن میں یہ لفظ عام منکرات سے لے کر کفر و بغاوت تک سب کے لیے استعمال ہوا ہے بلکہ زیادہ تر اس کا استعمال ان بڑی نافرمانیوں ہی کے لیے ہوا ہے جن کے ساتھ ایمان جمع نہیں ہوتا اس وجہ سے قرآن میں اس لفظ کو اس ہلکے معنی میں ہر جگہ نہیں لینا چاہیے جس معنی میں اس کو عام طور پرہمارے فقہا اور متکلمین نے لیا ہے۔
Ayah 2:27رشتۂ رحم کی اہمیت: وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ: اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، ہمارے نزدیک اس سے مراد رشتۂ رحم اور رشتۂ قرابت کا کاٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان توڑنے کے بعد دوسرا قدم جو ایک نافرمان اٹھاتا ہے وہ حقوق رحم سے بے پروائی یا ان میں بے اعتدالی اور نا انصافی ہے۔ چونکہ تمام صلاح و فلاح اور تمام تمدن و معاشرت کی بنیاد اسلام نے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ پر اور رشتہ رحم کے احترام پر رکھی ہے اس وجہ سے جو شخص ان دونوں پابندیوں سے آزاد ہوا اس کا ہر اقدام لازماً فساد فی الارض کا موجب ہو گا۔ چناں چہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے اور رشتہ رحم کے کاٹنے کا لازمی نتیجہ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں ان دونوں چیزوں کا ذکر اس طرح ساتھ ساتھ ہوتا ہے گویا یہ لازم و ملزوم ہیں۔ مثلاً
فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ (22۔ محمد)
’’پس اغلب ہے کہ اگر تم اعراض کرو تو زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رحمی رشتوں کو کاٹو‘‘
ان دونوں کے اسی لزوم کے سبب سے قتادہ نے یہاں رشتہ رحم ہی مراد لیا ہے اور ابن جریر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس سے ہر اس چیز کا کاٹنا مراد لیا ہے جس کو خدا نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ جہاں تک ظاہری الفاظ کا تعلق ہے اس معنی کو بھی غلط نہیں قراردیا جا سکتا لیکن سوال صرف ظاہری الفاظ کا نہیں بلکہ قرآن مجید کے طرزِ بیان کا ہے۔ قرآن نے یہ طرزِ بیان جہاں جہاں بھی اختیار کیا ہے موقع و محل دلیل ہے کہ رشتہ رحم ہی کے لیے اختیار کیا ہے۔ اس طرزِ بیان میں جو ابہام ہے اس سے رشتہ رحم کی عظمت و اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ ایسی واضح، بدیہی اور معروف حقیقت ہے کہ بغیر اس کے کہ اس کا نام لیا جائے ہر شخص جانتا اور سمجھتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو خدا نے کاٹنے کا نہیں بلکہ جوڑنے کا حکم دیا ہے اور تمدن اور معاشرے کی صلاح و فلاح کے پہلو سے جس کی اہمیت یہ ہے کہ جس نے اس کو کاٹا اس نے گویا تمدن اور معاشرے کی جڑ ہی پر کلہاڑا رکھ دیا۔
Ayah 2:28کفر کا ایک خاص پہلو: کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ: کفر کے معنی کی تحقیق آٹھویں فصل میں بیان ہو چکی ہے۔ یہاں اس لفظ کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ دلانی ہے وہ یہ کہ یہ لفظ ان لوگوں کو مخاطب کرکے استعمال کیا گیا ہے جو خدا کے منکر نہیں تھے بلکہ صرف اس کے شریک ٹھہراتے تھے۔ البتہ قیامت کے یا تو وہ منکر تھے یا کم از کم یہ کہ اس کو بہت ہی بعید از قیاس اور بعید از عقل چیز سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کو مخاطب کرکے سوال یہ کیا گیا ہے کہ تم اللہ کا کفر کس طرح کرتے ہو؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اس لفظ کا استعمال وسیع معنوں میں ہوا ہے جس طرح خدا کا صریح انکار کفر ہے اسی طرح اس کا وہ ماننا بھی کفر ہے جو اس کی حقیقی صفات مثلاً وحدانیت، قدرت اور علم وغیرہ کی نفی کے ساتھ ہے۔
Ayah 2:29’استوا ‘ ’ تسویۃ‘ اور ’سماء‘ کا مفہوم: ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰبھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ: استوا کے معنی سیدھے کھڑے ہونے کے ہیں اور الٰی کے ساتھ اس کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لفظ توجہ کرنے یا اس کے ہم معنی کسی مفہوم پر مشتمل ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ زمین کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا۔ محض تصویرِ حال کے لیے یہ اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں کھڑے ہونے یا متوجہ ہونے کا وہی مفہوم لینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کے شایانِ شان ہے۔
تسویہ کے معنی کسی شے کو برابر کرنے، ہموار کرنے اور اعتدال و توازن کے ساتھ قائم کردینے کے ہیں۔ اس سقف نیلگوں کو جس حد تک ہماری نگاہیں دیکھ سکتی ہیں، خواہ مجرد حالت میں یا سائنس کے ایجاد کیے ہوئے اسلحہ سے مسلح ہو کر، اس کے اندر کوئی رخنہ نہیں تلاش کر سکتیں۔ اسی چیز کو فرمایا ہے:
مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ. (4-3 ملک)
تم خدائے رحمان کی صنعت کے اندر کوئی کسر نہ پا سکو گے، اپنی نگاہ دوڑاؤ کیا پاتے ہو کوئی رخنہ، پھر بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر پلٹ آئے گی لیکن کوئی رخنہ نہ پا سکے گی۔
سما کا لفظ سما یسمو سے ہے جس کے معنی بلندی کے ہیں۔ یہ شامیانہ، جو ہمارے اوپر تنا ہوا نظر آتا ہے ، قرآن اس کے عجائب اور اس کی نیرنگیوں کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے اور ان سے جن واضح نتائج کی رہبری ہوتی ہے ان کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کائنات کے مشاہدات سے متعلق قرآن کا مستقل اصول یہ ہے کہ جو چیزیں ہماری عام نگاہوں سے مخفی ہیں یا صرف گمان اور قیاس پر مبنی ہیں یا جو صرف خوردبینوں اور دوربینوں کی مدد سے ہی دیکھی جا سکتی ہیں، قرآن ان سے تعرض نہیں کرتا۔ اس لیے کہ ان میں بہت کچھ نزاع اور اختلاف کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ قرآن ہمیں صرف انھی حقائق کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے جن میں کسی انصاف پسند کے لیے کسی نزاع اور اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ آسمان کے حقائق کی طرف توجہ دلانے میں بھی قرآن نے یہی روش اختیار کی ہے۔ ان باتوں کی طرف توجہ دلا دی ہے جن کو ثابت کرنے کے لیے صرف توجہ دلا دینا ہی کافی ہے۔ البتہ یہ اشارہ کر دیا ہے کہ یہ آسمان سات ہیں تاکہ انسان اس غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جائے کہ خدا کی خدائی بس اس نظر آنے والی چھت اور ان چمکنے والے ستاروں ہی تک محدود ہے بلکہ اس پر واضح رہے کہ اس کے ولولہ تفتیش و تحقیق کی جولانیوں کے لیے ان ستاروں سے آگے اور بھی میدان ہیں۔
Ayah 2:30وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ: عربی زبان میں جب کلام کا آغاز“اذ”سے ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس سے پہلے خیال کرو، تصور کرو، یاد کرو یا ان کے ہم معنی کوئی فعل یہاں محذوف ہے۔ عموماً اس کے بعد کسی ایسی ہی سرگزشت یا واقعہ کا حوالہ آتا ہے جو یا تو مخاطب کے علم میں ہو یا خود متکلم اس کی قطعیت پر اس درجہ مطمئن ہو کہ ایک معلوم ومعروف حقیقت کی حیثیت سے اس کا حوالہ دے سکے۔ یہاں اگرچہ آدم، ملائکہ اور ابلیس سے متعلق ایک ایسے ماجرے کا حوالہ دیا گیا ہو جو عالم غیب میں پیش آیا ہے اور جس کا علم خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ لیکن مخاطب یہاں اول تو آنحضرت ﷺ ہیں جن کے لئے زبان وحی کی ہر بات ایک امر واقعی اور ایک حقیقت ثابتہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ ثانیاً اس سرگزشت کا اصلی رخ، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے، یہود کی طرف ہے اور یہود تورات کے ذریعہ سے اس ماجرے سے واقف تھے اگرچہ انہوں نے تحریف کر کے اس کی اصل شکل بہت کچھ بدل ڈالی تھی۔
مَلٰٓئِكَةِ: مَلَک کی جمع ہے۔ عربی زبان میں اَلوکہ کے معنی پیغام کے آتے ہیں اور مَلَک، جس کی اصل ملائک سے ہے، کے معنی رسول اور پیغام بر کے ہیں۔ یہ لفظ ان روحانی پیغام بروں کے لئے مخصوص ہے جن کو ہم اپنی زبان میں فرشتہ کہتے ہیں۔ فرشتے اللہ تعالیٰ اور اس کی دوسری مخلوقات کے درمیان قابل اعتماد واسطہ ہیں۔ یہ اپنی روحانیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے بھی غایت درجہ قرب واتصال رکھتے ہیں اور مخلوق ہونے کے سبب سے مخلوقات سے بھی نسبت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے انوار وترشحات کے بلاواسطہ قبول کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور یہ ان انوار وترشحات کو اللہ تعالیٰ کے بندوں تک منتقل کرنے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبیوں اور رسولوں کے پاس وحی بھی لاتے ہیں اور اس کی مخلوق کے اندر اس کے احکام کی تنفیذ بھی کرتے ہیں۔ قرآن میں ان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ تمام تر ایک ذی عقل، ذی ارادہ اور ذی شعور مخلوق کی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ صفات ہیں۔ اس وجہ سے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مجرد قوتیں ہیں جن کو ملائکہ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔
اِنِّي جَاعِلٌ فِي الۡاَرْضِ خَلِيفَةً: خلیفہ اس کو کہتے ہیں جو کسی کے بعد اس کے معاملات سرانجام دینے کے لئے اس کی جگہ لے۔ اس وجہ سے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے زمین میں کس کا خلیفہ بنانے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ اپنا یا زمین میں بسنے والی کسی پیشرو مخلوق کا؟ ایک رائے یہ ہے کہ انسان سے پہلے زمین میں جنات آباد تھے جب انہوں نے اس میں فساد مچایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پراگندہ ومنتشر کر دیا اور ان کی خلافت بنی نوع انسان کے سپرد فرمائی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں خود اپنا خلیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ پہلی رائے اگرچہ بالکل بے بنیاد تو کہی نہیں جا سکتی لیکن قرآن یا تورات یا کسی قابل اعتماد حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ انسان سے پہلے زمین میں جنات کی حکمرانی تھی، اس کی تائید میں اگر کوئی چیز پیش کی جاسکتی ہے تو اس کی حیثیت اشارہ وکنایہ سے زیادہ نہیں ہے اور محض کسی اشارہ وکنایہ پر ایک حقیقت کی بنیاد رکھ دینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
دوسری رائے مختلف اعتبارات سے قوی معلوم ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی فضیلت کے بہت سے پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں، فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں، نیز اس کے بارہ میں فرمایا کہ جو امانت زمین اور آسمان اٹھانے سے قاصر رہے اس کو انسان نے اٹھا لیا۔ یہ ساری باتیں اس امر کے حق میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہو۔ لیکن ان تمام دلائل کے باوجود ایک سوال اس رائے سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ خلیفہ تو اس کو مقرر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے جو غائب یا غیر حاضر ہوتا ہے، خدا تو نہ کبھی غائب ہوتا ہے نہ غیر حاضر، آسمان اور زمین میں ہر جگہ اس کی حکومت ہمیشہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ پھر اس کے کسی کو خلیفہ مقرر کرنے کے کیا معنی؟
یہ سوال ہمارے نزدیک کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیفہ بنانے کا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو زمین کے انتظام وانصرام کے معاملہ میں کچھ اختیارات دے کر یہ دیکھے گا کہ انسان ان اختیارات کو خدا کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے یا خلافت پا کر وہ مطلق العنان بن جاتا ہے اور اپنی من مانی کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ گویا اصل حکمران کی طرف سے ایک نائب مقرر کئے جانے کی شکل ہوئی اور اس نائب کے تقرر کی ضرورت یہ نہیں تھی کہ اصل حکمران کو غائب یا غیر حاضر ہونا تھا بلکہ اس نائب کو کچھ اختیارات دے کر مقصود اس کی اطاعت و وفاداری کا امتحان کرنا تھا۔
قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ: قرآن مجید کی اصطلاح میں فساد فی الارض کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کا نظم و نسق، اللہ تعالیٰ کے احکام وقوانین کے مطابق چلانے کے بجائے اس کو من مانے طریقہ پر چلایا جائے، خدا کی شریعت کی نافرمانی کی جائے اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جائے، زمین کے اصلی حکمران کی مرضی نظر انداز کی جائے اور خود اپنی مرضی چلائی جائے۔ یہ چیز بجائے خود فساد فی الارض اور بغاوت ہے، عام اس سے کہ یہ دھینگا مشتی اور سرکشی کے ساتھ واقع ہو یا کسی فکر وفلسفہ کے تحت پر امن طریقہ پر۔ اس زمین کا اصلی حکمران اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان کی حیثیت اس کے اندر اصل حکمران کی نہیں بلکہ اصل حکمران کے نائب کی ہے۔ اس وجہ سے اس زمین کے امن وعدل کا انحصار اس چیز پر ہے کہ اس کے ہر گوشے میں خدا ہی کا قانون چلے۔ اگر اس کے کسی حصہ میں بھی خدا کا قانون باقی نہیں رہا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حصے میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے اور یہ چیز اس پوری زمین کے لئے ایک خطرہ ہے۔
خونریزی فساد فی الارض کا قدرتی نتیجہ ہے۔ جب خدا کا قانون عدل باقی نہیں رہے گا تو لازماً اس کی جگہ انسان کی اپنی خواہشات کی فرمانروائی ہو گی۔ اس چیز کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ کسی شخص کے بھی جان یا مال یا اس کی آبرو کے لئے کوئی ضمانت باقی نہیں رہے گی۔ کسی خاص خطہ زمین کے مفسدین بالفرض کوئی ایسا نظام بنا بھی لیں جس میں باہمدگر ایکد دوسرے کے جان ومال کی حفاظت کی ضمانت دے دیں تو اس سے وہ اپنے لئے تو ایک تحفظ کی شکل پیدا کر لیں گے لیکن دوسروں کے لئے وہ بدستور خطرہ ہی بنے رہیں گے۔ ان کی مثال ڈاکوؤں کے ایک جتھے کی ہو گی جس کے افراد نے آپس میں تو یہ سمجھوتہ کر رکھا ہے کہ ایک دوسرے کے جان ومال پر دست درازی نہیں کریں گے لیکن ان کے جتھے سے باہر والوں کے جان ومال کو ان کی چیرہ دستیوں سے بچانے والی کوئی چیز بھی نہیں ہو گی۔ تمام عالم انسانی اور پورے کرہ ارض کے تحفظ کی ضمانت صرف خدا کا قانون ہی دے سکتا ہے جو سب کے جان ومال کی حفاظت کرتا ہے اور سب کو یکساں پابند کرتا اور یکساں آزادی بخشتا ہے۔
فرشتوں نے انسان کے بارے میں اس اندیشہ کا اظہار اس کے خلیفہ ہونے کی بنا پر کیا، اس لئے کہ خلیفہ کے لفظ کے اندر یہ چیز چھپی ہوئی ہے کہ اس کو ایک خاص حد کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیارات تفویض ہوں گے۔ فرشتوں نے محسوس کیا کہ اختیار کو استعمال کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس کو پاکر انسان بہک سکتا ہے اور اس بہکنے کا نتیجہ زمین میں بدامنی اور فساد کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے۔
وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ: تسبیح کی اصل حقیقت، لغت کے اعتبار سے، کسی کے سامنے عجز و تذلل کے ساتھ بچھ جانا ہے۔ تسبیح قول سے بھی ہوتی ہے اور عمل سے بھی ہوتی ہے۔ عمل سے خدا کی تسبیح کا مفہوم خدا کے احکام کی تعمیل میں ہر وقت سرفگندہ رہنا ہے۔ یہ تسبیح اس کائنات کی وہ چیزیں بھی کرتی ہیں جو غیر ذی روح اور غیر ذی ارادہ ہیں۔ انسان کے جس عمل کو قرآن مجید نے خاص طور پر تسبیح سے تعبیر کیا ہے وہ نماز ہے اس کے لئے کہ نماز سرفگندگی اور عجز و تذلل کی نہایت مکمل تصویر ہے۔ قولی تسبیح سے مراد خدا کی پاکی بیان کرنا ہے۔ یعنی خدا کو ان باتوں سے منزہ اور بالاتر قرار دینا جو اس کی شان الوہیت کے خلاف ہیں۔ اس اعتبار سے تسبیح میں منفی پہلو غالب ہے لیکن جب اس کے ساتھ حمد کی قید بڑھا دی جائے، جیسی کہ یہاں ہے، تو اس میں تنزیہہ کے ساتھ اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے، یعنی خدا کو منافیء شان الوہیت صفات سے پاک قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان صفات سے متصف بھی قرار دینا جن کی بنا پر وہ سزاوار حمد و شکر ہے۔
“نُقَدِّسُ لَكَ”کا مفہوم یہ ہے کہ ہم تیری پاکی، تیری برتری اور تیری قدوسیت بیان کرتے ہیں۔ تسبیح میں، تو جیسا کہ بیان ہوا، تنزیہہ کا مفہوم غالب ہے لیکن تقدیس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کو پاکیزگی اور قدوسیت کی تمام صفات سے متصف قرار دینا ہے۔ تسبیح کے ساتھ تقدیس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک انکار کے ساتھ یہ اقرار نہ ہو اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی تعریف کا حق نہیں ادا ہوتا۔
انسان کے متعلق مذکورہ بالا اندیشہ ظاہر کرنے کے بعد فرشتوں کی طرف سے اپنی اس تسبیح وتقدیس کا حوالہ دینا اس لئے نہیں تھا کہ انسان کے مقابل میں وہ خود اپنے حقدار خلافت ہونے کاا ظہار کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ اصل مقصود ان کا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی حکمت ومصلحت معلوم کرنا تھا۔ اس غرض کے لئے انہوں نے ایک طرف تو اس اندیشہ کو ظاہر کر دیا جو انسان کی خلافت کے اندر ان کو مضمر نظر آیا دوسری طرف اس بات کو بھی ظاہر کر دیا کہ انسان کی تخلیق سے مقصود محض تسبیح وتقدیس تو ہو نہیں سکتا، اس لئے کہ کام تو ہم کر ہی رہے ہیں۔
قَالَ اِنِّي اَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُوۡنَ: فرشتوں کے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس اسکیم کے سارے پہلوؤں پر تمہاری نظر نہیں ہے۔ اس وجہ سے تمہارے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ جب پوری اسکیم تمہارے سامنے آجائے گی تو تم پر واضح ہوجائے گا کہ اس کے اندر اس اندیشہ کے سدباب کا اہتمام بھی ہے جو تم نے ظاہر کیا ہے۔
Ayah 2:31وَعَلَّمَ اَدَمَ الۡاَسْمَاءَ كُلَّهَا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو کن کے نام سکھائے؟ اس سوال کے جواب میں تین قول ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد تمام چیزوں کے نام ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے نام ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد آدم کی ذریت کے نام ہیں۔
ان میں سے جہاں تک دوسرے قول کا تعلق ہے اس کی تائید میں قرآن میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس پر کسی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی رہا پہلا اور تیسرا قول تو ان میں سے تیسرا قول ہمارے نزدیک زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے وجوہ یہ ہیں:
اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اسماء پر الف لام عہد کا ہے۔ اگر اس کو عہد کا الف لام مانا جائے تو پھر اس سے کچھ خاص ناموں کا مراد لینا صحیح نہیں ہوگا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے ضمیریں اور اشارے وغیرہ جو استعمال ہوئے ہیں وہ تمام تر وہ ہیں جو عربی زبان میں عام چیزوں کے لئے نہیں بلکہ خاص طور پر عقل وادراک اور شعور وارادہ رکھنے والی چیزوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً فرمایا ہے ثُمَّ عَرَضَھُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ (پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا) اَنۡبِؤُنِیۡ بِاَسۡمَاءِ ھٰؤُلَاءِ (مجھے ان لوگوں کے نام بتاو) یٰٓاَدَمُ اَنۡبِئۡھُمۡ بِاَسۡمَائِھِمۡ (اے آدم ان کو ان کے ناموں سے آگاہ کرو) فَلَمَّا اَنۡبَاَھُمۡ بِاَسۡمَائِھِمۡ (تو جب ان کو ان کے ناموں سے آگاہ کیا)۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں موقع فرشتوں کو قائل کرنے کا ہے۔ فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت کے متعلق یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ خلافت پاکر زمین میں فساد مچائے گی اور خونریزیاں کرے گی۔ ان کے اس گمان کی تردید اگر ہو سکتی تھی تو اسی طرح ہو سکتی تھی کہ ان کو ذریت آدم علیہ السلام کا مشاہدہ کرایا جائے اور اولاد آدم میں جو انبیاء ورسل، جو مجددین مصلحین اور جو شہدا وصدیقین پیدا ہونے والے تھے ان سے ان کو آگاہ کیا جائے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہو سکے کہ اگر اولاد آدم علیہ السلام کے اندر ایسے لوگوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے جو اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیارات کو بے جا طور پر استعمال کریں گے تو ساتھ ہی ان کے اندر ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جو خود بھی اس ذمہ داری کا حق ادا کریں گے اور دوسروں کو بھی ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لئے سردھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔
یہ تینوں باتیں بڑی اہمیت رکھنے والی ہیں اگر چہ ان میں سے الگ الگ ہر ایک کے متعلق کوئی نہ کوئی کمزور قسم کا اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے لیکن یہ تینوں مجموعی طور پر مل کر نہایت مضبوط دلیل اس بات کی بن جاتی ہیں کہ اسماء سے مراد حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت کے نام اور خاص کر ان لوگوں کے نام ہیں جو دنیا میں فساد کو مٹانے اور عدل کو قائم کرنے کے لئے آنے والے تھے۔
رہا یہ سوال کہ آدم علیہ السلام کی یہ ذریت تھی کہاں کہ ان کا مشاہدہ کرایا گیا اور ان کے نام بتائے گئے تو اس سوال کا جواب خود قرآن مجید سے معلوم ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں تصریح موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نسل آدم علیہ السلام کو ایک مرتبہ نکال کر ان سے اپنے رب ہونے کا اقرار لیا ہے۔
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتَ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا (۱۷۲ اعراف)
اور یاد کرو جب کہ تیرے رب نے تمام بنی آدم یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی ذریت کو نکالا اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں ہم گواہ ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عالم غیب میں ایک مرتبہ تمام نسل آدم علیہ السلام کے ایک اجتماع عام میں ان سے اپنی ربوبیت کا اقرار کرایا ہے۔ اسی اجتماع عام میں آدم علیہ السلام کو ان کی ذریت کے نام بھی بتائے گئے ہوں گے اور اسی موقع پر فرشتوں کے سامنے ان کو پیش کر کے وہ سوال وجواب بھی ہوا ہو گا جس کا یہاں حوالہ ہے۔
أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ: یعنی اگر تم اس گمان میں سچے ہو کہ اولاد آدم علیہ السلام خلافت پاکر زمین میں فساد برپا کرے گی تو ان لوگوں کے نام بتاو کہ یہ کون لوگ ہیں، یہ زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں یا اس میں امن اور عدل قائم کرنے والے ہیں؟ اس میں فرشتوں کو قائل کرنے والا پہلو یہ ہے کہ نسل آدم علیہ السلام کے رویہ سے متعلق اگر کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے تو اسی شکل میں قائم کی جاسکتی ہے جب بہ حیثیت مجموعی ان کے بارے میں تمہیں واقفیت ہو۔ لیکن جب اس طرح کی کوئی واقفیت تمہیں نہیں ہے تو پھر اس طرح کی بدگمانی کے لئے بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 2:32سُبْحٰنَكَ: قرآن مجید میں یہ کلمہ مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے۔
نامناسب اور خلاف شان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کے لئے مثلاً
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ. (۶۸ قصص)
اللہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
دعا کے موقع کے لئے مثلاً
دَعْوَاہُمْ فِیْہَا سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ. (۱۰ یونس)
ان کی دعا اس میں یہ ہو گی کہ تو پاک ہے اے اللہ۔
امر کے معنی کے لئے۔ مثلاً
فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ. (۱۷ روم)
پس اللہ کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔
تعجب کے ساتھ کسی چیز کے انکار کے لئے۔ مثلاً
سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ. (۱۶ نور)
تو پاک ہے یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔
یہاں یہ کلمہ اپنے پہلے مفہوم کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی فرشتوں کا مطلب یہ تھا کہ تیری شان اس سے ارفع ہے کہ تیرے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہو جو حکمت ومصلحت سے خالی ہو، ہم نے جس شبہ کا اظہار کیا ہے وہ محض ہمارے علم کی کمی کا نتیجہ ہے، ہمارے پاس تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں بخشا ہے۔ علم اور حکمت کا اصلی خزانہ تو تیرے ہی پاس ہے۔
Ayah 2:33اَلَمْ اَقُلْ لَكُمْ اِنِّي اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کا حوالہ دیا ہے جو اوپر آیہ ۳۰ میں گزر چکا ہے یعنی اِنِّي اَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُوۡنَ (میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے) پہلے یہ بات اجمال کے ساتھ کہی گئی تھی لیکن جب فرشتوں کو اچھی طرح قائل کر دیا گیا اور وہ قائل ہو بھی گئے تو پھر اسی بات کو مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اس کارخانہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ساری حکمتیں اور مصلحتیں صرف اسی کو معلوم ہیں جس نے اس کارخانے کو بنایا ہے اور جو اس کو چلا رہا ہے۔ان حکمتوں اور مصلحتوں کو فرشتے بھی، جو خدا سے اس قدر قرب رکھتے ہیں، نہ جانتے ہیں اور نہ خدا کے بتائے بغیر جان سکتے ہیں۔ اس وجہ سے قدرت کا کوئی فعل اگر بے حکمت و بے مصلحت نظر آئے تو اس کی بنا پر قدرت کو نشانہ اعتراض یا خود اپنے آپ کو شکوک وشبہات کا مریض بنا لینے کے بجائے آدمی کو چاہئے کہ اس چیز کو اپنے علم کی کمی پر محمول کرے اور فرشتوں کی طرح سُبۡحَانَکَ لَاعِلۡمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡم۔ کا اقرار کرے، کیونکہ خدائے علیم وحکیم کا کوئی فعل بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہے لیکن اس کے سارے کاموں کی حکمتوں اور مصلحتوں کو سمجھنا نہ فرشتوں کے لئے ممکن ہے، نہ جنوں کے لئے اور نہ انسانوں کے لئے۔
اس کے ساتھ یہ جو فرمایا ہے کہ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوۡنَ (اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپا رہے تھے) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے سوال کو بھی سمجھتا تھا اور اس اصل وجہ کو بھی جانتا تھا جس سے یہ سوال پیدا ہوا تھا۔ وہ وجہ یہ تھی کہ تم آدم علیہ اسلام کی خلافت کی اسکیم کے مضمرات سے بے خبر تھے، تم چاہتے تھے کہ وہ تم پر ظاہر کئے جائیں اس مقصد کے لئے تم نے اس اسکیم کے برے پہلوؤں کی طرف جو واضح طور پر تمہیں نظر آئے تم نے بہ شکل سوال اشارہ کیا تاکہ تم پر اس کے وہ پہلو کھولے جائیں جو خیر کے ہیں۔ چنانچہ آدم کی ذریت کا مشاہدہ کرا کے اور ان کے ناموں سے تمہیں آگاہ کر کے تمہاری یہ خواہش پوری کر دی گئی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اپنے ایک احسان کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ تمہارے سوال کے ظاہر وباطن کا جواب تمہیں دے دیا گیا۔ اس میں فرشتوں کے لئے کسی علامت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔
Ayah 2:34وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوا لِاٰدَمَ: سجدہ کا لفظ عربی زبان میں جھکنے کے معنی میں آتا ہے، جھکنے کے مختلف مدارج ہو سکتے ہیں۔ کسی کے آگے تعظیم کے طور پر سر نیہوڑا دینا بھی جھکنا ہے اور پیشانی اور ناک کو زمین پر رکھ دینا بھی جھکنا ہے۔ پچھلے مذاہب میں تعظیم کی یہ قسم غیر اللہ کے لئے جائز تھی لیکن عموماً اس کی حد وہی تھی جو ہمارے ہاں رکوع کی ہے۔ بنی اسرائیل میں اس طرح کے تعظیمی سجدے کا عام رواج تھا اور تورات کے مختلف مقامات سے اس کی جو شکل معین ہوتی ہے وہ رکوع سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اسلام نے تعظیم کی اس شکل کو خدائے رب العزت کے لئے خاص کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام خدا کا آخری اور کامل دین ہے، اس نے توحید کی حقیقت کو مکمل طور پر اجاگر کر دینے کے لئے خدا کے لئے تعظیم وتذلل کی شکلیں بھی خاص کر دی ہیں تاکہ اس کے اندر شرک کے داخل ہونے کے لئے کوئی رخنہ باقی نہ رہ جائے۔
فرشتوں کو آدم کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینے میں شرک کا کوئی پہلو نہیں ہے اس لئے کہ اولاً تو یہ سجدہ خدا کے حکم کی تعمیل میں تھا اس لئے گویا خدا ہی کو سجدہ تھا، ثانیاً سجدہ شرک کی علامت، جیسا کہ عرض کیا گیا، اسلام میں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے اس کی اہمیت تعظیم کے ایک طریقہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی۔ اگر یہ کہا گیا ہے کہ آدم کو سجدہ کرو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آدم کو تعظیم بجا لاو، اس سے زیادہ اس کا مفہوم نہیں ہے۔
فرشتوں کو آدم کی تعظیم بجالانے کا حکم کیوں دیا گیا؟ ہمارے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کی اطاعت اور بندگی کا امتحان تھا۔ کسی کا امتحان اسی چیز میں لیا جاتا ہے جو اس کے نفس پر شاق ہوسکے۔ فرشتوں کی خلقت چونکہ نور سے ہوئی ہے اور وہ خدا کی تسبیح وتقدیس کے لئے پیدا ہوئے ہیں، اس وجہ سے آدم علیہ السلام خاکی کی تعظیم بجا لانے کے حکم میں ان کے لئے ایک بڑی آزمائش تھی لیکن فرشتے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اصلی عزت و سرفرازی نور یا نار سے پیدا ہونے میں نہیں ہے بلکہ پیدا کرنے والے کے احکام کی بے چون وچرا تعمیل میں ہے۔ چنانچہ وہ اس امتحان میں پورے اترے۔
اس میں شبہ نہیں ہے کہ فرشتوں کے اس سجدے سے آدم علیہ السلام کی بڑائی کا ایک پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے لیکن یہاں مقصود آدم کی بڑائی کا اظہار نہیں بلکہ فرشتوں کی بندگی و اطاعت کا اظہار ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ جو خدا کے مطیع وفرمانبردار ہوتے ہیں وہ نسل ونسب کے غرور میں مبتلا ہو کر ابلیس کی طرح اکڑا نہیں کرتے بلکہ وہ اس طرح کی ہر چیز کو خدا کا فضل واحسان سمجھتے ہیں اور اس فضل واحسان کا احساس ان کے اندر غرور وتکبر کے بجائے تواضع اور بندگی پیدا کرتا ہے۔
موقع کلام کے لحاظ سے یہ بات ان بنی اسرائیل کے لئے ایک سبق ہے جو نبی امی ﷺ کے معاملہ میں فرشتوں کی سی روش اختیار کرنے کے بجائے شیطان کی پیروی میں غرور نسل ونسب کے فتنے میں مبتلا ہو گئے تھے۔
جو لوگ فرشتوں کی طرف سے آدم کی اس تعطیم کو آدم کی علمی فضیلت کا نتیجہ سمجھتے ہیں میرے نزدیک ان کے اس خیال کے لئے کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ اپنی ذریت کے اسماء کا علم جس طرح خدا کے بتانے سے آدم علیہ السلام کا حاصل ہو گیا اسی طرح آدم کے بتانے سے فرشتوں کو حاصل ہو گیا، پھر اس میں آدم علیہ السلام کی ایسی فضیلت کا کیا پہلو ہے جس کی بنا پر فرشتوں کو ان کے سجدہ کا حکم دیا جائے۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی کوئی قوی ثبوت موجود نہیں ہے کہ فرشتوں کو آدم کی اس تعظیم کا حکم اسی وقت دیا گیا جب آدم علیہ السلام نے ان کو ناموں سے آگاہ کیا ہے۔ بلاشبہ سجدہ کے حکم کا ذکر یہاں تعلیم اسماء کے ذکر کے بعد ہی آیا ہے لیکن محض اتنی سی بات اس امر کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہے کہ پہلی چیز اس دوسری چیز کا نتیجہ ہے۔ اول تو سجدے کے حکم کا بیان لفظ“اذ”سے شروع ہوتا ہے جو اس بات کے لئے ایک قوی قرینہ فراہم کرتا ہے کہ یہ ایک مستقل بات ہو، ضروری نہیں ہے کہ یہ پہلی بات کے بعد ہی پیش آئی ہو۔ ثانیاً قرآن مجید کے دوسرے مواقع سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو آدم کے سجدے کا حکم نہ صرف آدم کی علمی فضیلت کے اظہار سے پہلے بلکہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے دیا گیا تھا۔ مثلاً فرمایا ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ۔ (حجر : ۲۸-۳۱)
اور یاد کرو جب کہ تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گرجانا تو سارے فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔
اس مضمون کی آیتیں قرآن مجید میں اور بھی ہیں جن سے واضح ہے کہ فرشتوں کو آدم کے سجدے کا حکم آدم کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا اور ان آیات سے ضمنًا یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اصل مقصود اس سجدے سے فرشتوں کی اطاعت ووفاداری کا امتحان ہی تھا، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدم علیہ السلام کے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کئے جانے کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے تاکہ اس امتحان میں فرشتوں کے لئے آزمائش کا جو پہلو ہے وہ ان کے سامنے واضح ہو کر آجائے۔ ہم اوپر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ امتحان ہمیشہ اس چیز میں ہوا کرتا ہے جو نفس پر شاق ہو۔ فرشتوں کے لئے یہ بات بڑی ہی آزمائش کی تھی کہ وہ نور کے مخلوق ہونے کے باوجود آدم خاکی کو، جو سڑی ہوئی کیچڑ سے وجود میں آیا ہے سجدہ کریں لیکن وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ عزت وشرف بخشنے والی چیز درحقیقت خدا کی فرمانبرداری ہے نہ کہ نور یا نار سے پیدا ہونا، اس وجہ سے اس امتحان کے سخت ہونے کے باوجود اس میں پورے اترے لیکن ابلیس اپنے غرور کے سبب سے اس امتحان میں ناکام ہو گیا۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ بعض آیات میں سجدے کا ذکر آدم کی پیدائش اور ا ن کی صورت گری کے بعد آیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض آیات میں ترتیب مضمون اس طرح بھی ہے لیکن اس طرح کے مواقع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود انسان پر اپنی نعمتوں کا بیان ہے نہ کہ یہ واضح کرنا کہ فلاں واقعہ فلاح واقعہ کے بعد پیش آیا ہے۔
اِلَّا اِبْلِيسَ: ابلیس، ابلَسَ سے افعیل کے وزن پر ہے۔ ابلس کے معنی غمگین ہونے، انکار کرنے اور مایوس ہونے کے ہیں۔ ابلیس دراصل اس جن کا لقب ہے جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ قرآن مجید میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ جنات میں سے تھا۔ سورہ کہف میں ہے:
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّا اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ
اور یاد کرو جب کہ ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدو کرو آدم کو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے، وہ جنات میں سے تھا، اس نے اپنے رب کے حکم سے انحراف کیا۔
قرآن مجید نے مکلف مخلوقات کی حیثیت سے تین مخلوقات کا ذکر کیا ہے۔ فرشتے، جنات اور بنی آدم۔ شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ خدا کی نافرمانی کی روش اختیار کر لیتے ہیں وہ لوگ ابلیس کی ذریت اور اس کے اولیاء میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے جنات اور انسان گمراہی پر پیدا نہیں کئے گئے، پیدا تو یہ ہوئے ہیں اسی فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام جنوں اور انسانوں کو اختیار کی نعمت سے نوازا ہے، اس وجہ سے ان میں سے جو لوگ اپنے لئے گمراہی کے راستے ہی کو پسند کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اسی راستے پر چلنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی قرآن مجید میں جگہ جگہ تفصیل فرمائی ہے۔ ہم اس کے مختلف پہلوؤں کی مناسب مواقع پر وضاحت کریں گے۔
یہاں ایک بات بعض لوگوں کو کھٹکے گی۔ وہ یہ کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا نہ کہ جنات کو تو ابلیس کو جو جنات میں سے تھا سجدہ نہ کرنے پر لعنت کا مستحق کیوں قرار دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جنات اور فرشتوں میں اصلی فرق خصائص اور صفات کے پہلو سے ہے اپنی خلقت کے لحاظ سے جنات فرشتوں سے زیادہ دوری نہیں رکھتے، فرشتے نور سے پیدا ہوئے اور جنات نار سے۔ اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علی سبیل التغلیب جنات بھی اس حکم سجدہ میں شامل تھے، لیکن ان کے گمراہ فرد ابلیس نے سجدہ سے انکار کیا۔ یہ رائے ہمارے بعض پچھلے مفسرین نے بھی ظاہر فرمائی ہے اور مجھے یہ رائے قوی معلوم ہوتی ہے۔۱
(۱ قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
او الجن ایضًا کانوا مامورین مع الملئکۃ لکنہ استغنی بذکر الملئکۃ عن ذکرھم فانہ اذا علم ان الاکابر مامورون بالتذلل لاحد والتوسل بہ علم ان الا صاغر ایض مامورون بہ والضمیر فی فسجدوا راجع الی القبیلتین
(یا جن بھی فرشتوں کے ساتھ سجدہ کے حکم میں شامل تھے لیکن فرشتوں کے ذکر کے بعد جنات کے ذکر کی ضرورت اس وجہ سے باقی نہیں رہی کہ جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ بڑوں کو کسی کی تعظیم و تکریم کا حکم ہوا ہے تو اس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ چھوٹے بھی اس حکم میں شامل ہیں۔ اس صورت میں فسجدوا کی جو ضمیر ہے وہ دونوں کی طرف لوٹے گی)۔
Ayah 2:35وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ: شجرہ پر الف لام داخل ہے جس سے یہ بات تو واضح ہے کہ جہاں تک آدم اور حوا علیہما السلام کا تعلق ہے، ان کو یہ درخت تعین اور تخصیص کے ساتھ بتا دیا گیا تھا۔ رہا یہ سوال کہ یہ درخت کس چیز کا تھا؟ تو اس سوال کا جواب نہ تو قرآن مجید نے دیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی میں اس کا جواب موجود ہے اس وجہ سے اس کو معلوم کرنے کی کوشش ایک لاحاصل کوشش ہے۔ ہمارے نزدیک اس بارے میں صحیح مسلک امام ابن جریر کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ“ہم تعین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ درخت کس چیز کا تھا کیونکہ اس کے تعین کے لئے کوئی دلیل نہ تو ہمیں قرآن ہی میں ملتی ہے اور نہ حدیث ہی میں، پھر آخر کوئی شخص کوئی بات کہے تو کس سند پر”۔
ہمارے نزدیک اس درخت کو معلوم کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔ اصل چیز جو یہاں قرآن مجید بتانی چاہتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح فرشتوں اور جنات کی وفاداری اور اطاعت کا امتحان آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر لیا اسی طرح آدم علیہ السلام کی اطاعت و وفاداری کا امتحان ان کے لئے جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کو حرام ٹھہرا کر لیا۔ نعمتوں سے بھری ہوئی اس جنت میں صرف ایک درخت ایسا تھا جس سے فائدہ اٹھانے سے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا گیا تھا۔ لیکن انسان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ جس چیز سے وہ روک دیا جاتا ہے اسی کا وہ زیادہ حریص بن جایا کرتا ہے۔ چنانچہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور ان کو یہ سمجھانا شروع کر دیا کہ زندگی جاوداں اور ملک لازوال کا راز اگر مضمر ہے تو بس اسی درخت کے پھلوں میں ہے جس سے ان کو محروم کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام شیطان کے اس چکمے میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھا بیٹھے۔ لیکن یہ غلطی کر گزرنے کے بعد شیطان کی طرح اپنی غلطی پر ضد نہیں کی بلکہ اس پر نادم ہوئے اور توبہ کی۔
بالکل اسی طرح کی صورت حال اس دنیا میں ہمارے سامنے ہے۔ اس زمین کی ہر نعمت ہمارے لئے مباح ہے۔ صرف گنتی کی چند چیزیں جن سے خدا نے ہمیں روکا ہے لیکن ہم میں سے بہتوں کا حال یہ ہے کہ وہ شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے سبب سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اور دنیا کی ساری ترقی اور کامیابی کا راز بس انہی چند چیزوں کے اندر چھپا ہوا ہے جن سے خدا نے روک دیا ہے اور پھر ستم یہ ہے کہ نافرمانی کر کے اپنے باپ کی طرح نادم ہونے اور توبہ کرنے کے بجائے ابلیس کی طرح اکڑتے اور ضد کرتے ہیں۔
تورات میں اس درخت کو خیروشر کی معرفت کا درخت کہا گیا ہے۔ یہ بات ہے تو دلچسپ لیکن ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ غالباً اہل تورات نے یہ بات اول اول بطور ایک تاویل کے اس وجہ سے اختیار کی ہوگی کہ اس درخت کے پھل کھانے کا اثر یہ بیان کیا گیا ہے کہ آدم وحوا دونوں ننگے ہو کے رہ گئے۔ ابتداءً تو یہ بات ایک تاویل کی حیثیت سے سامنے آئی ہو گی لیکن بعد میں دل پسند ہونے کے سبب سے تحریف کے چور دروازے سے اس نے اصل متن کی جگہ حاصل کر لی ہوگی قرآن مجید نے اس بات کا ذکر تو کیا ہے کہ اس درخت کے پھل کھانے کے بعد آدم علیہ السلام ننگے ہوگئے لیکن قرآن سے یہ اشارہ نہیں نکلتا کہ یہ ننگے ہوجانا ان کے اندر دفعۃً عقل وشعور کے بیدار ہوجانے کا نتیجہ تھا بلکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے اپنے اوپر جو ظلم کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جنت کے لباس سے محروم ہوگئے۔
اگر آدم علیہ السلام اس درخت کے پھل کھانے سے پہلے اتنے بے شعور تھے کہ ان کو اپنی ستر کا بھی کوئی احساس نہیں تھا تو اس وقت ان کا کسی امتحان میں ڈالا جانا اور وہ بھی ابلیس جیسے زیرک دشمن کے ہاتھوں ایک بالکل خلاف عقل بات معلوم ہوتی ہے۔ اس امتحان سے پہلے ان کے اندر اتنی سوجھ بوجھ کا ہونا ناگزیر تھا کہ وہ شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے مقابل میں اپنے خیروشر کو سمجھ سکیں۔ اگر وہ اس سوجھ بوجھ سے عاری تھے تو ان کا شیطان کے فتنے میں پڑ جانا بالکل واضح تھا اور خدا کے انصاف سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ ان کو شیطان کے مقابل میں لاکھڑا کرتا اور پھر ان کی لغزش پر ان کی گرفت کرتا۔
Ayah 2:36اِهْبِطُوۡا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ: اِهْبِطُوۡا کا یہ خطاب حضرت ابن عباسؓ ا ور بعض دوسرے اہل تاویل کے نزدیک حضرت آدم، حوا اور ابلیس سے ہے اور ابن زید کے نزدیک آدم وحوا اور ان کی ذریت سے۔ ہمارے نزدیک ان میں سے صحیح تاویل حضرت ابن عباس رضی اللہ کی ہے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہاں یہ جو فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے تو یہ دشمنی اپنی فطری بنیاد اگر رکھتی ہے تو آدم اور ابلیس کے اندر ہی رکھتی ہے، آدم وحوا کے اندر نہیں رکھتی۔ آدم وحوا کے درمیان تو فطری ربط الفت اور مودت کا ہے،اسی طرح اولاد آدم کے اندر بھی فطری ربط وتعلق دراصل اخوت اور محبت کا ہے۔ ان کے اندر دشمنی اور عداوت کا بیج اگر پڑتا ہے تو شیطان کی کوششوں سے پڑتا ہے اور اسی کی فساد انگیزیوں سے یہ پرورش بھی پاتا ہے۔ انسان کی اپنی فطرت کے اندر اس تخم فساد کی پرورش کے لئے کچھ زیادہ صلاحیت نہیں ہے۔ شیطان اور آدم کی اس فطری عداوت کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا بھی ہے۔
فَقُلْنَا یَاآدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ. (۱۱۷ طٰہٰ)
ہم نے کہا اے آدمؑ یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو کہیں یہ تمہیں جنت سے نکلوا نہ چھوڑے۔
اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ. (۵۰ کہف)
تو کیا تم ابلیس اور اس کی اولاد کو میرے بالمقابل اپنا دوست بناؤ گے حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔
اولاد آدم میں سے اگر بہت سے لوگ ابلیس اور اس کی ذریت سے دوستی قائم کر لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے درمیان فطری تعلق درحقیقت دوستی ہی کا ہے۔ فطری تعلق تو ان کے درمیان دشمنی کا ہے اور دشمنی ہی کا رہنا چاہئے، جیسا کہ اوپر کی کہف والی آیت سے اشارہ نکلتا ہے، لیکن بہت سے لوگ اپنی نادانی اور ناعاقبت اندیشی کے سبب سے اپنے دشمنوں ہی کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتے ہیں اور ان کے آلہ کار بن کر خود اپنے آپ کو تباہ کر لیتے ہیں۔
اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں دوسرے مقامات میں اس بات کی تصریح ہے کہ جس طرح آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا اسی طرح ابلیس کو بھی بعینہٖ انہی الفاظ میں یہ حکم دیا گیا تھا۔ سورہ اعراف میں ہے۔
قَالَ فَاھۡبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ. (۱۳)
خدا نے کہا تو یہاں سے اتر، تجھے کوئی حق نہیں ہے کہ تو یہاں گھمنڈ کر، سو تو نکل، تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہوگا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض جگہ اس حکم کے ساتھ جمیعًا کا لفظ بطور تاکید آ گیا ہے۔ مثلاً سورہ طٰہٰ میں ہے اھبطا منھا جمیعا، خود اس سورہ میں بھی آگے چل کر ہے قُلۡنَا اھۡبِطُوۡ مِنۡھَا جَمِیۡعًا- اگر یہ خطاب صرف آدم و حوا سے مانا جائے تو پھر جمیعًا کا لفظ کچھ غیر ضروری سا ہو کے رہ جاتا ہے۔ اور اگر اس کو مفید بنانے کے لئے یہ فرض کیا جائے کہ آدم وحوا کے ساتھ یہ حکم ان کی اولاد کے لئے بھی تھا تو یہ ایک تکلف سا ہوگا، کیونکہ ذریت آدم کے متعلق اس مرحلے تک اگر کوئی بات سامنے آئی ہے تو صرف اس حد تک آئی ہے کہ ان سے خدا کی ربوبیت کا اقرار لیا گیا اور آدم اور فرشتوں کو ان کا مشاہدہ کرایا گیا۔ یہ ماننے کے لئے قرآن میں مشکل ہی سے کوئی دلیل مل سکے گی کہ آدم کی ذریت آدم کے ساتھ جنت میں تھی اور وہ اپنے باپ کے گناہ میں جنت سے نکالی بھی گئی۔
رہی یہ بات کہ بعض جگہ قرآن مجید میں مثنٰی کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور یہ ایک واضح دلیل ہے اس بات کی کہ خطاب حضرت آدم اور حوا ہی ہے تو ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی کچھ زیادہ وزنی نہیں ہے۔ بلاشبہ بعض جگہ مثنٰی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
اِہْبِطَا مِنْہَا جَمِیْعًا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُم مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰی. (۱۲۳ طٰہٰ)
اس سے اترو سب، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، پس اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے وہ نہ تو گمراہ ہوں گے اور نہ محروم۔
لیکن یہ مثنٰی کا صیغہ حضرت آدمؑ اور حواؑ کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہ آدم اور ابلیس دونوں کو بحیثیت دو فریقوں اور دو پارٹیوں کے خطاب کر رہا ہے اور یہاں ہدایت کی پیروی کے بارے میں جو حکم ہے وہ جس طرح بنی نوع انسان کے لئے موزوں ہے اسی طرح بنی نوع جن کے لئے بھی موزوں ہے۔
Ayah 2:37فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ: توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ جب اس کا صلہ علیٰ کے ساتھ آتا ہے تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر رحم کا مضمون چھپا ہوا ہے۔
“تَلَقّٰی”کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے یہ الفاظ حضرت آدم علیہ السلام کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ان الفاظ کا حوالہ بھی ہے۔
قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (اعراف : ۲۳)
اور ان دونوں نے دعا کی کہ اے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا تو ہم برباد ہونے والوں میں سے بن جائیں گے۔
توبہ کے لئے حضرت آدم علیہ السلام کا بے قرار ہونا اور توبہ کے الفاظ کا ان کے دل میں ڈالا جانا اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا پتہ دیتا ہےجو توبہ سے متعلق اس نے پسند فرمائی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کر گزرتا ہے تو ندامت وشرمندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا ایک احساس اس کے اندر خود بخود ابھرتا ہے۔ یہ احساس اس کی فطرت کا ایک تقاضا ہے اور یہ اس وقت تک برابر ابھرتا ہے جب تک انسان غلطیوں اور گناہوں پر اصرار کر کے اپنے اس احساس کو بالکل کچل کے نہ رکھ دے۔ اسی خاص کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نفس لوامہ کو ودیعت فرمایا ہے۔ اس سے متعلق دوسری تفصیلات مناسب مواقع پر آئیں گی۔
Ayah 2:38قُلْنَا اهْبِطُوۡا مِنْهَا جَمِيۡعًا: یہ الفاظ دو مرتبہ دہرائے گئے ہیں ایک مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش کے بعد اور پھر دوبارہ ان کی تو بہ کے بعد- لغزش کے بعد اس کا ذکر اس لغزش کا نتیجہ بیان کرنے کے لئے ہوا ہے اور توبہ کے بعد اس امتحان کی حکمت بیان کرنے کے لئے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اب تمہیں دنیا میں بھیج کر تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے تاکہ تمہارے برے اور بھلے میں امتیاز ہو سکے تو جو اس امتحان میں پورے اتریں گے وہ اس جنت کے وارث ہوں گے اور جو اس امتحان میں فیل ہو جائیں گے وہ اس جنت سے محروم رہیں گے۔
فَاِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّيۡ هُدًى: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کے لئے نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری کرنے کا پہلا وعدہ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش سے انسانی فطرت اور انسانی عقل کا وہ ضعف ظاہر ہو گیا جو انسان کو وحی الٰہی کی رہنمائی اور انبیا علیہم السلام کی دستگیری کا محتاج ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ انسان کی اس کمزوری پر نگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بطور تسکین وتسلی یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے انسان کی رہنمائی کے لئے روشنی بھیجے گا تو جو لوگ اس روشنی کی قدر کریں گے ان کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا نہ کوئی غم۔
“نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم”کے الفاظ قرآن مجید میں جنت کی تعبیر کے لئے خاص ہیں۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جنت کی تعبیر کے لئے یہ الفاظ بہت جامع ہیں۔ خوف کسی پیش آنے والے خطرے کا ہوا کرتا ہے اور حزن ماضی یا حاضر کے کسی خسارہ کا۔ ایسی جگہ، جہاں نہ ماضی کا کوئی غم ہو نہ مستقبل کا کوئی خطرہ، جنت ہی ہو سکتی ہے۔
Ayah 2:39وَالَّذِينَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا: یہ آیت اوپر والی آیت کے بالمقابل ہے۔ اوپر والی آیت میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی ہدایت کی پیروی کریں گے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کریں گے۔
آیات کا لفظ آیت کی جمع ہے۔ آیت کے اصل معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ ان دلائل اور نشانیوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو آسمان وزمین اور آفاق ونفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور جو خدا کی قدرت وحکمت اس کی توحید اور اس کے قانون جزاوسزا کی گواہی دے رہی ہیں۔
ان معجزات کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرات انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے ظاہر ہوئے ہیں یا جن کے لئے کفار مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
قرآن مجید کی ان آیتوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جن سے قرآن کی سورتیں مرکب ہیں۔ قرآن مجید کی آیات کے لئے اس لفظ کا استعمال اس حقیقت پر دلیل ہے کہ ان کی حیثیت بے دلیل احکامات کی نہیں ہے بلکہ ان میں سے ہر آیت ایک دلیل وشہادت اور ایک حجت وبرہان کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔