2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 2:106

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

جو کوئی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اس کو نظر انداز کراتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مانند دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

نسخ کا مفہوم : نسخ کے اصل معنی ہٹانے اور مٹانے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ”فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ“ (پس اللہ مٹا دیتا ہے اس چیز کو جو شیطان داخل کردیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو محکم کرتا ہے) (الحج : 52)۔ یہاں یہ ایک قانون کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا قانون لانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ انساء کے معنی فراموش کردینے کے ہیں۔ یہود کی وسوسہ اندازی کی تردید : یہود مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے تھے کہ جب قرآن حضرت موسیٰ ؑ کو خدا کا پیغمبر اور تورات کو خدا کی کتاب تسلیم کرتا ہے تو پھر تورات کے احکام کے ردوبدل کے کیا معنی ؟ کیا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو خود اپنے ہی ہاتھوں بدلتا ہے۔ کیا اب تجربہ کے بعد خدا پر اپنی غلطیاں واضح ہورہی ہیں اور وہ ان کی اصلاح کر رہا ہے ؟ اس قسم کے اعتراضات اٹھا کر یہود مسلمانوں کو قرآن اور آنحضرت ﷺ سے بدگمان کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ قرآن نے یہ ان کا جواب دیا ہے کہ تورات کا جو قانون منسوخ کیا جاتا ہے اس سے بہتر قانون اس کی جگہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تورات کے جو احکام یہود نے فراموش کردیے تھے، ان کی تجدید کی جاتی ہے اور اگر تجدید نہیں کی جاتی بلکہ ان کو نظر انداز کرایا جاتا ہے تو ان سے ملتے جلتے احکام دیے جاتے ہیں۔ یعنی اس تبدیلی سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک تو خوب سے خوب تر کی طرف بڑھا رہا ہے، دوسرے دین کی جو دولت ضائع کردی گئی تھی اس کی جگہ دین کے خانہ کو نئی دولت سے معمور کر رہا ہے۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جو قابل اعتراض قرار دی جاسکتی۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: یہ خطاب عام ہے۔ ان لوگوں سے بھی جو یہ وسوسہ اندازی کر رہے تھے اور ان لوگوں سے بھی جو اس وسوسہ اندازی سے متاثر ہو رہے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود کو شریعت دے کر اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے مستعفی نہیں ہوبیٹھا تھا کہ اب نہ تو وہ دنیا میں کسی کو شریعت دے گا، نہ اس میں کسی قسم کی ترمیم و تبدیلی کرے گا اور نہ اب وہ اس کی تجدید کرے گا اگرچہ یہ اس کو بالکل ہی برباد کر کے رکھ دیں۔ بلکہ وہ بدستور اپنے تمام اختیارات کا مالک ہے اور اپنی حکمت کے مطابق ان کو ہمیشہ استعمال کرتا رہا ہے اور کرے گا۔ نسخ کی حقیقت اور اس کی ضرورت : نسخ کا مسئلہ جو اس آیت میں بیان ہوا ہے وہ مزید وضاحت کا محتاج ہے۔ ہم اس کے بعض پہلوؤں پر یہاں روشنی ڈالیں گے اور اس سلسلہ میں استاذ امام مولانا فراہی ؒ کے فکر سے بھی استفادہ کریں گے۔ فرمایا ہے ”مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا“ (جو آیت (حکم) بھی ہم منسوخ کرتے ہیں یا اس کو نظر انداز کراتے ہیں اس سے بہتر یا اس کے مانند دوسری لاتے ہیں)۔ سیاق وسباق اور نظم کلام کی روشنی میں ہم نے اس آیت کا تعلق صرف ادیان سابقہ سے مانا ہے۔ اہل کتاب نے یہ اعتراض جو اٹھایا تھا کہ قرا ان جب ہماری کتابوں کو آسمانی تسلیم کرتا ہے تو ان کی تعلیمات کو منسوخ کیوں کرتا ہے، قرآن نے یہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ اب آئیے اس جواب کی نوعیت پر غور کیجیے اور دیکھیے کہ یہ ہر پہلو سے معقول اور اطمینان بخش ہے یا نہیں۔ آیت پر تدبر کرنے سے جواب کے دو پہلو واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ یہ نسخ خوب سے خوب تر کی طرف عروج اور ترقی کے نقطہ نظر سے ہے۔ بالفاظ دیگر یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل ہے جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سے فرمایا تھا کہ وہ اپنا آخری نبی بھیجے گا جو اللہ کی شریعت کو کامل کرے گا، تمام طیبات کو حلال کرے گا، تمام خبائث کو حرام ٹھہرائے گا اور لوگوں کو ان بہت سی پابندیوں سے آزاد کرے گا، جو اس وقت ان پر ہیں۔ اس حقیقت کو واضح طور پر ذہن نشین کرنے کے لیے مندرجہ ذیل امور پیش نظر رکھیے۔ (الف) یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہوئی اس نقطہ کمال تک ہپنچی ہے جس نقطہ کمال پر وہ قرآن حکیم میں نظر آتی ہے۔ اس تدریجی ترقی کے لیے جو چیز مقتضی ہوئی ہے وہ انسان کی فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ تدریجی تربیت ہی کے ذریعہ سے اس مقام تک پہنچ سکتا تھا جس مقام پر پہنچ کر وہ خدا کے دین کامل کا اہل بن سکا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے سے پہلے تک اس کو جو دین ملا وہ بنیادی طور پر تھا تو اسلام ہی لیکن اپنی ظاہری شکل و صورت یا بالفاظ دیگر اپنی شریعت کے اعتبار سے بہت کچھ انہی سانچوں پر ڈھلا ہوا تھا جو سانچے اس عہد کے ذہنی، عقلی اور اجتماعی و تمدنی تقاضوں سے مناسبت رکھتے تھے۔ تدریجی تربیت کے ذریعہ سے جب اس کی فطرت کے تمام مضمرات واضح ہوگئے اور اس کی عقل بلوغ کو پہنچ گئی، محسوسات ور سوم کی قیدوں اور قومی و قبائل تنگنائیوں سے آزاد ہو اس نے سونچنا سمجھنا شروع کیا تب اللہ تعالیٰ نے اس کو اسلام اس شکل و صورت اور اس کے شریعت کے لباس میں دیا جو غھیک ٹھیک اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ کوئی چیز نہ اس سے کم ہے نہ اس سے زیادہ۔ یہ ترقی اس امر کی مقتضی ہوئی کہ پچھلی شریعتوں کی بہت سی چیزیں بدلیں اور اسلام میں وہ اپنی ان شکلوں میں نمودار ہوں جو ان کی بالکل معیاری اور فطری شکلیں ہیں۔ (ب) تورات کے بہت سے احکام کی ظاہر شکل بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ جس وقت نازل ہوئے تھے خام حالت میں تھے، ان کو پختہ ہونے کے لیے کسی اور فصل و موسم کا انتظار تھا۔ اسلام کے ظہور نے ان کے لیے وہ منتظر موسم فراہم کیا اور وہ پختگی کو پہنچے۔ مثلاً شراب ان کے ہاں صرف عبادت خانہ کے ذمہ داروں کے لیے حرام تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ یہ چیز تقوی و طہارت کے منافی ہے اور ایک دن آئے گا کہ یہ سب کے لیے حرام ہو کر رہے گی۔ چناچہ اسلام نے اس کی حرمت کے سلسلہ میں پہلا قدم اس مقام سے اٹھایا کہ نماز کے اوقات میں اس کو حرام ٹھہرایا۔ پھر بتدریج اس کو بالکل حرام کردیا۔ روایات بلکہ قرآن کے اشارات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر جو لوگ زیادہ ذہین اور روح دین کے ذوق آشنا تھے وہ پہلا ہی حکم سن کر ہوا کا رخ پہچان گئے اور اسی وقت سے وہ شراب سے بالکل تائب ہوگئے۔ اسی طرح کھانے پینے کی دوسری چیزوں کی حلت و حرمت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض چیزیں یا تو بنی اسرائیل کے خاص قومی ذوق کے تحت ان کے لیے حرام ٹھہرائی گئیں، یا ان کے بےجا قسم کے سوالات کی سزا کے طور پر مثلاً اونٹ یا ذبیحہ کے بعض حصوں کی چربی۔ یہ حرمتیں اپنی ہیئت ہی سے ظاہر کر رہی تھیں کہ یہ عارضی اور وقتی ہیں، ایک دن آئے گا کہ اس قسم کی تمام پابندیاں فطرت انسانی کے منافی ہونے کے سبب سے اٹھ جائیں گی۔ چناچہ دین فطرت نے ”الیوم احل لکم الطیبت ‘ (اب تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں) کا عام اعلان کر کے اس قس کی تمام پابندیوں کو منسوخ کردیا۔ تورات سے اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن مقصود یہاں تفصیل بلکہ ایک حقیقت کی طرف صرف اشارہ ہے۔ (ج)۔ تکیل و ترقی کی اس ضروت کی طرف حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں اشارہ بھی فرمایا تھا۔ مثلا حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ : ”خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی سننا۔ یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو اپنے خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا“۔ (تثنیہ 18: 15-20)۔ ان آیات میں جہاں ایک طرف نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کا صریح الفاظ میں وعدہ ہے وہیں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ دین کی تکمیل آپ ہی کے ذریعہ سے ہوگی، حورب کے مقام میں بنی اسرائیل نے خود اس امر کا اظہار کردیا تھا کہ وہ اب مزید شریعت کا بوجھ اٹھانے کی طاقت اپنے اندر نہیں پا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراف ضعف کی تحسین فرمائی اور وعدہ فرمایا کہ وہ ان کے بھائیوں میں سے حضرت موسیٰ کی مانند ایک دوسرا نبی برپا کرے گا اور اس کے ذریعہ سے اپنے دین کی تکمیل فرمائے گا۔ اس سے زیادہ واضح الفاظ میں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا۔ ملاحظہ ہو : ”مگر اب میں اپنے بھیجنے والے کے پاس جاتا ہوں اور تم میں سے کوئی مجھ سے نہیں پوچھتا کہ تو کہا جاتا ہے بلکہ اس لیے کہ میں نے تم سے یہ باتیں کہیں تمہارا دل غم سے بھر گیا۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اس کو تمہارے پاس بھیج دوں گا۔ وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ کے بارے میں اس لیے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔ راستبازی کے بارے میں اس لیے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھ پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت کے بارے میں اس لیے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا“ (یوحنا 16:5-14)۔ ان آیات میں ”مددگار“ اور ”سچائی کا روح“ یا بعض دوسرے ترجموں میں ”معزی“ اور ”وکیل“ کے الفاظ جو وارد ہوئے ہیں، ان کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ حضور ہی کے اوپر یہ بات منطبق ہوسکتی ہے کہ ”وہ تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا“ اور حضور ہی کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ ”وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا“ بعینہ یہی بات قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے کہ ”ماینطق عن الہوی ان ھو الا وحی یوحی“ (وہ یہ اپنے جی سے نہیں کہتا بلکہ یہ وحی ہے جو اس کی طرف کی جاتی ہے) اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ پیشین گوئی فرمائی کہ نبی موعود وہی کچھ کہے گا جو خداوند خدا اس کے منہ میں ڈالے گا اور جو خبر وہ دے گا اس میں وہ سچا ٹھہرے گا۔ تورات اور انجیل کی انہی پیشین گوئیوں کی طرف سورة اعراف کی مندرجہ ذیل آیتوں میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ۔ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْلالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ فرمایا کہ رہا میرا عذاب تو میں اس کو نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تو ہر چیز پر محیط ہے سو میں اس کو لکھ رکھوں گا ان لوگوں کے لیے جو مجھ سے ڈرتے رہیں گے، زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جو پیروی کریں گے اس رسول اور نبی امی کی جس کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ ان کو حکم دیتا ہے نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور ان کے لیے جائز کرتا ہے تمام پاکیزہ چیزوں کو اور حرام ٹھہراتا ہے ناپاک چیزوں کو، اور ان سے دور کرتا ہے ان کے بوجھ اور ان پابندیوں کو جو ان پر پہلے سے تھیں، پس جو ایمان لائے اس پر اور جنہوں نے اس کی تائید اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتاری گئی، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (اعراف :156-157) (2)۔ نسخ بغرض تجدید دین : جواب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ نسخ تجدید و احیائے دین کے تقاضے کے تحت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جو شریعت ملی تھی اس کے کچھ حصہ کو، جیسا کہ قرآن مجید میں تصریح ہے، انہوں نے فراموش کردیا تھا۔ اس فراموش کردہ حصہ میں سے جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ضروری ٹھہرایا اس دین کامل کے ذریعہ سے اس کی تجدید فرما دی تاکہ دین کے خزانہ سے جو دولت پاسبانوں کی غفلت اور نالائق سے ضائع ہوگئی تھی، وہ از سرِ نو محفوظ ہوجائے اور اگر اس کے کسی حصہ کو حکمت الٰہی نے ضروری نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اس حصہ کو نظر انداز کردیا جائ، تو اس کی جگہ اس کے ہم پایہ و ہم مرتبہ دوسرے احکام عنایت فرمائے۔ یہاں انساء کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ فراموش کرادینے کے معنی میں ہے۔ آیت زیر بحث میں اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ نسبت اسی طرح کی ہے جس طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ فرمایا ہے ”فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم“ (جب وہ کج ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کج کردیے) یہ اسلوب بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ اپنے قانون حکمت کے مطابق کیا اور اس لیے کیا کہ وہ اپنی شریعت کے معاملہ میں اپنی بےپروائی کے سبب سے اسی چیز کے مستحق تھے۔ لیکن چونکہ شریعت الٰہی تمام انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے، اس وجہ سے جس طرح اس کے وقتی احکام کی اسلام کے دائمی اور اعلی احکام کے ذریعہ سے تکمیل کی گئی، اسی طرح اس کے فراموش کردہ اور ضائع شدہ احکام کی ان کے مماثل احکام کے ذریعہ سے قرآن میں تجدید کی گئی۔ (3)۔ تطہیر شریعت : نسخ کی یہ ضرورت تکمیل دین اور تجدید شریعت کے پہلو سے بیان ہوئی اور یہ ایسی واضح ہے کہ یہود اور نصاری کے لیے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی، لیکن قرآن مجید نے نسخ کے صرف انہی دو پہلوؤں کے بیان پر اکتفا نہیں فرمایا ہے، بلکہ ایک تیسرے پہلو سے بھی اس کی ضرورت بیان فرمائی ہے۔ یہ پہلو دین و شریعت کی تطہیر کا پہلو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی شریعت کو ان بدعتوں اور ملاوٹوں سے پاک کرنا جو اہل بدعت اور خواہش پرستوں نے ان میں ملا دی ہوں۔ اس کا ذکر سورة حج کی اس آیت میں ہوا ہے جس کا حوالہ ہم اوپر دے آئے ہیں۔ فرمایا ہے ”فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان ثم یحکم اللہ آیتہ“ (پس اللہ مٹا دیتا ہے اس چیز کو جو شیطان داخل کردیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے)۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نسخ رد بدعات اور ابطالِ باطل کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اشرار و مفسدین نے آسمانی صحیفوں اور الٰہی شریعتوں میں جو بدعتیں اور من گھڑت چیزیں ملائیں، انبیاء ؑ نے ان سے دین کو پاک و صاف کیا اور اس کی اصل تعلیمات کو از سر نو زندہ کر کے ان کو قائم کیا۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائے ان کی اکثریت انہی انبیا پر مشتمل تھی جو کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے۔ بلکہ ان میں سے بیشتر کا مشن صرف یہی تھا کہ وہ پہلے سے نازل شدہ شریعت کو بدعتوں اور تحریفات سے پاک کر کے اس کو اس کی اصلی حالت پر لوٹا دیں۔ اس امت میں یہ خدمت اللہ و رسول کی طرف سے علما کے سپرد کی گئی ہے کہ وہ برابر دین کو بدعات و تحریفات سے پاک کرتے اور امت کو کتاب و سنت کی طرف لوٹاتے رہیں۔ پچھلی شریعتوں میں اس قسم کے جو اضافے کیے گئے اور اسلام نے جن کو منسوخ کر کے ان کی اصل حقیقت پیش کی، یہاں ہم ان کی چند مثالیں ذکر کرتے ہیں تاکہ اس پہلو سے نسخ کی جو ضرورت و اہمیت ہے وہ اچھی طرح واضح ہو کر سامنے آجائے۔ عقائد و ایمانیات کے باب میں یہود اور نصاریٰ نے جس قسم کی لغویات کا اضافہ کیا اور قرآن نے جس کی اصلاح کی ان میں سے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا تین کا تیسرا ہے یا مثلاً یہ کہ یہود اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اس بات کا اقرار لے رکھا ہے کہ جب تک کوئی نبی وہ قربانی پیش نہ کرے جس کو کھانے کے لیے آسمان سے آگ اترے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں یا یہ کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں برص کی بیماری تھی۔ قرآن مجید نے اس قسم کی تمام باتوں کی تردید کر کے اصل حقائق واضح فرمائے۔ اسی طرح یہود نے اپنی بدکارانہ زندگی کو جائز ٹھہرانے کے لیے اکثر انبیاء (علیہم السلام) سے متعلق نہایت بےہودہ قسم کی روایات اپنے صحیفوں میں شامل کردیں جو ان کے اخلاق کو بالکل مجروح کردینے والی تھیں۔ قرآن مجید نے ان ابیاء کو اس قسم کے تمام اتہامات سے بری کر کے ان کی زندگیوں کو ان کے اصلی رنگ میں پیش کیا۔ اعمال کے باب میں ان لوگوں نے جس قسم کی بدعتیں کیں ان کی بعض مثالیں اس سورة میں گزر چکی ہیں اور بعض کا ذکر آگے آرہا ہے۔ مثلاً ان کا وہ رویہ جو انہوں نے اپنی قوم کے قیدیوں کے بارے میں اختیار کیا، یا جو روش انہوں نے سود کے معاملہ میں اختیار کی۔ نصاری نے خنزیر اور گردن مروڑے ہوئے جانور کو جائز کرلیا۔ اسی طرح ان لوگوں نے تاریخ اور واقعات کو بھی مسخ کر کے اپنی خواہشات کے رنگ میں پیش کیا۔ مثلاً حضرت ابراہیم ؑ اور خانہ کعبہ کی تاریخ کے اکثر حصہ پر پردہ ڈال دیا گیا تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کا تعلق بیت اللہ سے ثابت نہ ہوسکے اور اس طرح آنحضرت ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں کو مسخ کیا جاسکے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ سے متعلق بیانات میں بھی اسی مقصد کے تحت بہت سے تصرفات کیے گئے۔ قرآن مجید نے ان تمام تحریفات کا پردہ چاک کیا اور اصل حقائق بےنقاب کیے۔ استاذ امام نے رسالہ ذبیح میں ان چیزوں پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ آگے ہم بھی مناسب مواقع سے بعض مفید باتوں کی طرف اشارے کریں گے۔ شریعت اسلامی میں نسخ کی نوعیت : مذکورہ بالا تفصیل سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ سورة بقرہ کی زیر بحث آیت کا تعلق تمام تر ادیانِ سابقہ سے ہے اور اس میں جس نسخ کا حوالہ ہے اس کی ضرورت اور اس کی حکمت اس قدر واضح ہے کہ کسی انصاف پسند کے لیے اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ رہا یہ سوال کہ اسلامی شریعت میں بھی نسخ ہے یا نہیں تو اس بارے میں ہمارے یہاں تین گروہ ہیں۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو نہ صرف نسخ کے قائل ہیں، بلکہ اس کو بہت زیادہ وسعت دیتے ہیں، دوسرا گروہ اس کا یک قلم منکر ہے۔ تیسرا گروہ اس کا قائل تو ہے لیکن اس کو صرف چند احکامات تک محدود مانتا ہے۔ ان میں سے پہلے گروہ نے اس کے دائرے کو جو بہت زیادہ وسعت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک نسخ کا ایک خاص مفہوم ہے۔ یہ لوگ ان تمام مواقع میں بھی نسخ مان لیتے ہیں، جہاں کوئی بات کسی عام کو خاص یا خاص کو عام کر رہی ہو یا کسی اجمال کو تفصیل کا رنگ دے رہی ہو، حالانکہ اس طرح کے مواقع میں نسخ ماننے سے زیادہ معقول بات یہ ہے کہ عام و خاص اور مجمل و مفصل کے درمیان توفیق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ توفیق نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کی جاسکتی ہے۔ جو گروہ نسخ کا یک قلم منکر ہے اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے احکام حالات کے تابع ہیں، جو احکام منسوخ ہوئے ہیں وہ صرف اس وجہ سے منسوخ ہوئے ہیں کہ جن حالات کے اندر وہ نازل ہوئے تھے، وہ حالات تبدیل ہوگئے۔ اب اگر وہی حالت دوبارہ پلٹ آئیں تو وہ احکام بھی از سر نو بحال ہوجائیں گے اس وجہ سے جو احکام بظاہر منسوخ ہیں، وہ فی الحقیقت منسوخ نہیں ہیں بلکہ اپنے مخصوص حالات کے اندر بدستور قائم و زندہ ہیں۔ یہ گروہ اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں یہ بات بھی پیش کرتا ہے کہ اسلامی شریعت کا ارتقا بتدریج نرمی سے سختی کی طرف وا ہے۔ اس وجہ سے جب حالات اس بات کے مقتضی ہوجائیں کہ نرمی کی طرف پلٹا جائے تو یہ پلٹنا اسلامی شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہوگا۔ ہمارے نزدیک اس رائے میں متعدد غلطیاں ہیں۔ اول تو بجائے خود یہ دعویٰ ہی بالکل بےبنیاد ہے کہ اول اول شریعت ہلکی تھی، بعد میں یہ سخت ہوئی ہے، قرآن مجید پر غور کرنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض احکام میں اس کا ارتقا اگر نرمی سے سختی کی طرف ہوا ہے۔ مثلاً تحریم شراب اور حکم صیام وغیرہ۔ تو بعض احکام میں سختی سے نرمی کی طرف بھی ہوا ہے۔ مثلاً صلوۃ اللیل اور تعداد مقاتلین کے معاملہ میں۔ اس وجہ سے یہ فارمولا بنا کر کہ شریعت کا ارتقا نرمی سے سختی کی طرف ہوا ہے نسخ کے بارے میں کوئی نتیجہ نکال لینا مغالطہ سے محفوظ نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ آنحضرت ﷺ کے دور میں اور ہمارے دور میں جو فرق ہے اس کو اس میں ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب اسلامی شریعت کی دنیا کو دعوت دی ہے اس وقت اسلام کی تعلیمات لوگوں کے لیے بالکل اوپری اور انوکھی تھیں، آپ کے صحابہ کی تعداد بہت تھوڑی تھی، لوگ جاہلی رسوم و عادات کے اتنے خوگر تھے کہ ان سے ان کے لیے نکلنا آسان نہ تھا۔ برعکس اس کے اس زمانہ میں حالات اس سے بہت مختلف ہیں۔ دنیا میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اسلامی احکام و قوانین لوگوں کے لیے کوئی نامانوس اور اجنبی چیز نہیں ہیں، اس وجہ اس زمانہ کو اس زمانہ پر قیاس کر کے ایک کے احکام کو دوسرے پر منطبق کرنا ہمارے خیال میں کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ تیسری یہ کہ اگر حالات کی تبدیلی کے بہانے شریعت کے منسوخات کی طرف پلٹنے کے جواز کو تسلیم کرلیا جائے تو اس سے فتنہ پسند طبائع کے لیے شریعت سے فرار کی ایک ایسی راہ کھل جاتی ہے جس کا بند کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس زمانے میں بڑی آسانی کے ساتھ اس دلیل کے سہارے روزہ، نماز، حرمت شراب اور حد زنا وغیرہ کے بارے میں سہولت پسند لوگ ایسے اجتہاد شروع کردیں گے کہ دین کے معاملہ میں امان ہی اٹھ جائے گی۔ چناچہ ماضی میں بھی گمراہ داعیوں کے ہاتھوں اس کا تجربہ ہوچکا ہے اور آج بھی اس کا تجربہ ہورہا ہے۔ اسی چیز کی آڑ لے کر مبتدعین نے اپنے پیروؤں کے لیے شریعت کی حرام کی ہوئی بہت سی چیزوں کو جائز ٹھہرا دیا۔ اور پھر ان کے اندر سے ان چیزوں کی حرمت کا احساس بھی رخصت ہوگیا۔ اس امر میں شبہ نہیں کہ بگڑے ہوئے ماحول میں بعض مرتبہ اچھے داعیان دین نے بھی نوواردوں اور نومسلموں کے لیے شریعت کے بعض معاملات میں نرمی برتی ہے۔ لیکن اس نرمی کی وجہ ہرگز یہ نہیں تھی، کہ وہ حالات کی تبدیلی کے تحت شریعت کے منسوخات کے اختیار کرلیتے ہیں۔ اس نوع کی مسامحت حکیمانہ تربیت کا ایک جزو ہے۔ یہ اس توقع پر اختیار کی جاتی ہے کہ بالتدریج اس طرح کے خام لوگوں کی حالت صحبت اور تربیت سے اصلاح پذیر ہوجائے گی۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر حالات میں یہ توقع پوری بھی ہوئی ہے۔ بشرطیکہ تربیت کرنے والے خود تقویٰ کی صفات سے متصف رہے ہیں، محض گندم نمائی اور جو فروشی کی دکان نہیں چلاتے رہے۔ اس چیز کو اس امر پر محمول کرنا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے کہ یہ لوگ حالات کی تبدیلی کے تحت محکمات شریعت کو چھوڑ کر منسوخات کے اختیار کرنے کے قائل تھے۔ ان وجوہ کی بنا پر ہم نسخ کے باب میں مذکورہ بالا دونوں مسلکوں کو کمزور سمجھتے ہیں۔ اب رہ گیا تیسرا مسلک یعنی ان لوگوں کا مسلک جو قرا ان کی بعض آیات کو منسوخ مانتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہی مسلک صحیح ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ آیات کون کون سی ہیں، وہ کن آیات سے منسوخ ہوئی ہیں اور ان کے منسوخ ہونے کی علت کیا ہے تو ان سوالوں کے جواب دینے کا یہ موقع نہیں ہے۔ اس کتاب میں اپنے اپنے موقع پر یہ بحثیں اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آئیں گی، یہاں صرف چند اصولی باتیں ذہن نشین کرلیجیے۔ ایک تو یہ کہ قرآن کا کوئی حکم اگر منسوخ ہوا ہے تو قرآن ہی سے منسوخہوا ہے اور یہ ناسخ و منسوخ دونوں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ قرآن کے کسی حکم کو قرآن کے سوا کوئی دوسری چیز منسوخ نہیں کرسکتی۔ بعض فقہا نے حدیث کو بھی قرآن کے لیے ناسخ مانا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ مسلک صحیح نہیں ہے۔ اس مسلک کا ضعف اس قدر واضح ہے کہ اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ اس نسخ کا تعلق تمام تر صرف احکام و قوانین سے ہے، عقائد و ایمانیات یا اخلاق وصفات یا واقعات و حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عقائد و ایمانیات اور واقعات و حقائق ایسی چیزیں نہیں ہیں جو آج کچھ ہوں اور کل کچھ اور بن جائیں۔ لیکن احکام و قوانین میں اگر کوئی ترمیم و اصلاح خود قانون کا دینے والا کردے تو اس سے قانون کے مقصد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلکہ اس سے اصل مقصد کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ تیسری یہ کہ اس نسخ کی ضرورت اس وجہ سے نہیں پیش آئی کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی نقص ہے جس کے سبب سے اس کے نازل کیے ہوئے قانون کو تجربات اور آزمائشوں کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ بلکہ اس کی وجہ صرف بندوں کی بعض فطری خامیاں اور کمزوریاں ہیں، جن کے سبب سے وہ بسا اوقات کسی قانون کے قبول کرنے میں تدریج اور تربیت کے محتاج ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہے اس وجہ سے اس نے یہ پسند فرمایا کہ وہ اپنے قانون میں اس تدریج و تربیت کو ملحوظ رکھے۔ یہ تدریج اور تربیت قرآن کے ناسخ اور منسوخ احکام پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے، کہ مختلف تقاضوں کے تحت مختلف طرز عمل کی مقتضی ہوئی ہے۔ مثلاً بعض حالات میں یہ اس بات کی مقتضی ہوئی ہے کہ معاشرہ کے ابتدائی حالات کے تقاضوں کی مناسبت سے کسی باب خاص میں کوئی عارضی حکم دیا جائے اور جب معاشرہ اپنے بلوغ کو پہنچ جائے تو اس عارضی حکم کو آخری اور کامل حکم سے بدل دیا جائے۔ مثلاً ابتداء ورثہ کے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وصیت کا حکم دیا گیا، بدکاری کے سدباب کے لیے پنچائتی قسم کی تعزیر کی ہدایت کی گئی، انصار و مہاجرین کی اخوت کو اخلاقی اخوت سے بڑھا کر قانونی اخوت کا درجہ دیا گیا۔ لیکن بعد میں جب معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ کی حیثیت سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تو وراثت کے آخری اور حتمی قانون اور زنا کی معین اور قطعی حد نے ان عارضی قوانین کو منسوخ کر کے خود ان کی جگہ لے لی۔ بعض حالات میں یہ اس امر کی مقتضی ہوئی کہ عام انسانی فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے کوئی قانون درجہ بدرجہ اپنی آخری حد پر پنچے، مثلا شراب چونکہ اہل عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، اس وجہ سے ابتداءً یہ صرف نماز کے اوقات کے لیے حرام ہوئی، روزہ چونکہ عرب جیسے گرم ملک کے لیے بڑی سخت چیز تھا اس وجہ سے شروع شروع میں سفر اور مرض کی صورت میں فدیہ دے دینے کے بھی گنجائش رکھی گئی۔ لیکن بعد میں جب طبائع کو ان چیزوں سے انس ہوگیا تو شراب کے قطعی حرمت کے حکم، ماہ رمضان کی تعداد کی تکمیل کی ہدایت اور فدیہ کی اجازت کی منسوخی نے ان ابواب میں بھی شریعت کو کامل کردیا۔ ان احکام کے بعد صرف اضطرار کے تحت ایک محدود و مشروط اجازت باقی رہ گئی۔ بعض صورتوں میں اس کا اقتضاء یہ بھی ہوا ہے کہ پیغمبر ﷺ کو سابقہ شریعت کے کسی حکم پر عمل کرنے کے لیے کچھ عرصہ تک آزاد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن بعد میں اس اجازت کو منسوخ کر کے اس کی جگہ اسلامی شریعت کا مستقل حکم دے دیا گیا۔ مثلاً قبلہ کے معاملہ میں اس سے مقصود جیسا کہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے مسلمانوں کا امتحان لینا تھا کہ کون خدا اور رسول کی وفاداری میں پختہ ہے اور کون اب تک اپنی پچھلی روایات ہی کا اندھا پرستار ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ امتحان تربیت ہی کا ایک جزو ہے۔ اسی طرح بعض حالات میں یہ اس بات کی مقتضی ہوئی کہ معاشرہ کی افرادی قوت کی کمی کی تلافی کے لیے وقتی طور پر بعض ایسے احکام بھی دیے جائیں جو کیفیت کو بڑھانے والے اور قلت تعداد کی حالت میں زیادہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنے والے ہوں۔ مثلاً ابتداء عام مسلمانوں کو بھی تہجد کی پابندی کا حکم دیا گیا، میدان جہاد میں ایک کو دس کفار کا مد مقابل قرار دیا گیا، جماعتی استحکام و تطہیر کے تقاضوں کے تحت نبی ﷺ سے کوئی راز دارانہ بات کرنے سے پہلے صدقہ کی ہدایت کی گئی۔ بعد میں جب مسلمانوں کی افرادی قوت بڑھ گئی اور تطہیر جماعت کا وقتی مقصد حاصل ہوگیا تو ان چیزوں میں تخفیف کر کے ان کو اسی عام سطح پر کردیا گیا جو پہلے سے ان کے لیے شریعت میں مقرر تھی۔ یہ ہم نے صرف بعض اصولی باتوں کی طرف اشارات کیے ہیں۔ یہاں پیش نظر تمام ناسخ و منسوخ آیات کا استقصا اور ان کے مصالح کی وضاحت نہیں ہے۔ تفصیلی بحث منسوخ آیات کے تحت جیسا کہ عرض کیا گیا اپنے اپنے مقام میں آئے گی۔ اس تمام تفصیل سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ خدا کی شریعت قرآن مجید میں اپنے ترقی و کمال کے آخری درجہ پر پہنچ چکی ہے اب اس کے بعد کسی نسخ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس شریعت میں تمام احکام کے ساتھ مشکل اور مجبور کن حالات کے لیے رخصتیں اور رعایتیں بھی بیان کردی گئی ہیں۔ اس وجہ سے حالات کی تبدیلی کے عذر پر منسوخ احکام کی طرف پلٹنے کے لیے بھی کوئی وجہ جواز باقی نہیں رہی، البتہ اہل بدعت کی پیدا کردہ ضلالتوں کے نسخ کام قیامت تک باقی رہے گا اور یہ کام اسلام میں علماء اور مصلحین کے سپرد ہے۔
Ayah 2:107

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

تردید کا ایک خاص پہلو : یہاں بھی مخاطب وہی ہیں جو اوپر والی آیت میں مخاطب ہیں۔ البتہ جواب میں اس ذہنیت کو ملحوط رکھ کر جو مذکورہ بالا سوال کے پس پردہ چھپی ہوئی تھی، تھوڑی سی تفصیل آگئی ہے۔ یہود نسخ کے سوال کو اٹھا کر سادہ لوح لوگوں کے اندر جو وسوسہ اندازی کر رہے تھے اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات کو تاڑ گئے تھے کہ یہ تورات کے احکام کا منسوخ ہونا اور ان کی جگہ دوسرے احکام کا آنا محض تورات کے بعض احکام ہی کا منسوخ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کے اندر یہود کی منصب امامت سے معزولی اور ان کی جگہ ایک دوسری امت کے نصب و تقرر کا پیام بھی مضمر ہے۔ در اصل اس چیز کا غم و غصہ تھا جو انہیں کھائے جا رہا تھا اور اس کے اظہار کے لیے وہ نسخ کے سوال کو ایک پردہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ قرآن نے اس پردے کو اٹھا کر ان کو یہ جواب دیا کہ آسمان و زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ جس سے چاہتا ہے اس کو چھینتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اب اگر تم اس منصب کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہو جس پر اس نے تم کو سرفراز کیا تھا اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ تمہارا جگہ اس منصب پر کسی اور کو سرفراز فرمائے تو تمہارے غم و غصہ کے علی الرغم یہ بات ہو کے رہے گی اور تمہارا کوئی حامی و مددگار خدا کے اس فیصلہ سے تمہیں نہیں بچا سکتا۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل لیں گے وہ شاہراہ سے بھٹک گئے

لفظ ’ سوال ‘ کا مفہوم : لفظ سوال کے اندر کئی مفہوم ہیں۔ مثلاً مانگنا، درخواست کرنا، مطالبہ کرنا، پوچھنا، پرسش کرنا، سوال کرنا۔ سوال، بعض صورتوں میں اعتراض کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کے مفہوم میں اعتراض کرنا بھی داخل ہے۔ بعض حالات میں تحقیق کی نوعیت کا ہوتا ہے، اس صورت میں اس کا صلہ عن کے ساتھ آتا ہے۔ بعض حالات میں سوال استہزاء کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، اس صورت میں اس کا صلہ ’ ب ‘ کے ساتھ آتا ہے مثلا سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِع (ایک مذاق اڑانے والے نے مذاق اڑایا، ہونے والے عذاب کا) (معارج :1)۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مذکورہ تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ لفظ معترضانہ سوال کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مسلمانوں کو ایک تنبیہ : یہاں مخاطب مسلمانوں کے اندر کے وہ کمزور لوگ ہیں جو یہود کے القاء کیے ہوئے مذکورہ بالا سوال سے متاثر ہو کر اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کرتے اور اس طرح اس سوال کے اٹھانے اور پھیلانے میں مسلمانوں کے اندر یہود کی نمائندگی کرتے۔ قرآن نے سوال کا جواب تو اوپر دے دیا تاکہ یہود کے پروپیگنڈے کا رد ہوجائے لیکن جس طرح اوپر والی آیت میں یہود کو تنبیہ کی اسی طرح مسلمانوں کے اندر ان کی نمائندگی کرنے والوں کو یہاں تنبیہ کی۔ یہ سوالات اپنی ذہنیت اور نوعیت کے اعتبار سے اسی طرح کے سوالات ہیں جس طرح کے سوالات یہود حضرت موسیٰ سے کرتے رہے ہیں اور یہ روش ایمان وہدایت کی روش نہیں ہے بلکہ ایمان کو کفر سے بدلنے کی روش ہے۔ جو لوگ یہ روش اختیار کرتے ہیں وہ یہود ہی کی طرح جادہ مستقیم سے بھٹک کے رہتے ہیں۔ چونکہ اس سوال کے پس پردہ در حقیقت یہود ہی تھے اس وجہ سے قرآن نے یہ کہہ کے کہ اسی طرح کے سوالات اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے، بڑی بلاغت کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کردیا ہے تاکہ ان پر واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی وسوسہ اندازیوں سے بیخبر نہیں ہے۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر تمہیں کفر کی حالت میں پلٹٓ دیں، محض اپنے حسد کی وجہ سے، حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود تو درگزر کرو اور نظر انداز کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مزید تنبیہ ہے کہ یہود کی یہ تمام سرگرمیاں صرف اس غرض سے ہیں کہ تمہیں ایمان سے ہٹا کر پھر کفر کی حالت میں پلٹا دیں۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کی یہ تمام بھاگ دور تمہاری خیر خواہی میں ہے یا یہ تمہاری سابق دین کو برحق سمجھتے ہیں اس کی حمایت ہے یا اسلام کے باب میں انہیں کوئی غلط فہمی ہے اس وجہ سے ہے بلکہ یہ محض حسد کا دورہ ہے جو ان کے نفس کے تحریک سے ان پر پڑا ہے باوجودیکہ اسلام کا حق ہونا ان پر اچھی طرح واضح ہوچکا ہے۔ یہ تنبیہ اس لیے ضروری تھی کہ بعض نیک دل یا سادہ لوح مسلمان اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے تھے کہ یہ اہل کتاب محض ان کی خیر خواہی میں یا ایک دینی خدمت کے طور پر ان کے ایمان کے معاملہ میں اتنے سرگرداں ہیں۔ قرآن نے اس غلط فہمی کو رفع کردیا کہ یہ سب کچھ محض حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ ہے۔ یعنی یہ کسی جذبہ دینی کے تحت نہیں ہے بلکہ محض نفس کے ابھارے ہوئے جذبہ حسد کی کرشمہ سازی ہے۔ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : یہود کو تہدید : عفو کے ایک معنی تو دل سے معاف کردینے کے ہیں اور دوسرے معنی کسی کو ظر انداز کردینے کے بھی ہیں۔ مثلا ً يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (اور تمہارے لیے بیان کرتا ہے بہت سی وہ چیزیں جو تم کتاب کی چھپاتے تھے اور بہت سی چیزوں کو نظر انداز کرتا ہے) (مائدہ : 15)۔ صفح کے معنی چشم پوشی کرنے اور نظر انداز کرنے ہیں، کسی حماسی کا شعر ہے۔ ”صفحنا عن بنی ذھل۔ وقلنا القوم اخوان“ (ہم نے بنی ذہل کی شرارتوں سے چشم پوشی کی اور خیال کیا کہ یہ لوگ اپنے ہی بھائی ہیں)۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کچھ دنوں ان یہودیوں کی شرارتوں کو نظر انداز کرو۔ یہاں تک کہ اللہ ان کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ یہ پوری آیت یہود کے لیے تہدید و وعید ہے اور اس ”بامرہ“ کے اجمال کے اندر وہ ساری باتیں چھپی ہوئی ہیں جو بعد میں یہود کے ساتھ جنگ کے حکم، ان کی ہزیمت اور قتل و جلاوطنی اور ادائے جزیہ وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوئیں۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کرو گے اسے اللہ کے پاس پاؤ گے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

مخالفین کی مخالفتوں کا علاج : یہ مسلمانوں کو معاندین اسلام کی مخالفتوں کا علاج بتایا گیا ہے کہ اگر تم ان فتنوں پر غالب آنا چاہتے ہو تو نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اسی سے تمہاری وہ روحانی و اخلاقی تربیت ہوگی جو تمہیں ایک طرف تو مخالفین کی وسوسہ اندازیوں سے بالکل مامون کردے گی، دوسری طرف تم کو جماعتی حیثیت سے ایک ایسی بنیان مرصوص بنا دے گی کہ کوئی طاقت بھی تمہیں ہلا نہ سکے گی۔ قرآن مجید میں نماز اور زکوۃ کو تمام دین کی بنیاد، تمام تربیت و اصلاح کی اساس اور تمام قوت و طاقت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری ساری چیزوں کو ان کے تابع قرار دیا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں جہاں آنحضرت ﷺ کو دشمنوں کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے وہاں نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی بقرہ میں تحویل قبلہ کے حکم کے بعد جب مخالفت کا طوفان اٹھا ہے تو فرمایا گیا کہ ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ“۔ ”اے ایمان والو۔ صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے“ (بقرہ : 153)۔ اسی طرح جو لوگ مضبوط تربیت کے بغیر جنگ و جہاد کے لیے جلدی مچاتے تھے ان کو نماز و زکوۃ کے ذریعہ سے اپنی تربیت کرنے کی ہدایت کی گئی ”کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ“ ”ابھی اپنے ہاتھ روکو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو“۔ سورة حج میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ہدایت فرمائی کہ ”فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ“۔ ”پس نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ کو مضبوط پکڑو“ (الحج : 78) ، یہاں بھی نماز اور زکوۃ کا حکم اسی پہلو سے ہے۔ اس پر مزید بحث آگے آئے گی۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جنت میں نہیں داخل ہوسکتے مگر وہ جو یہودی ہیں یا نصرانی۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ کہو اس بات پر اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو

ھود، ھائد کی جمع ہے اس کی تحقیق آیت 62 میں گزر چکی ہے۔ مسلمانوں کو بہکانے کے لیے یہود و نصاری کا مشترکہ پروپیگنڈا : جس طرح نسخ کا اعتراض مسلمانوں کے دلوں میں شک اور تردد پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا اسی طرح یہ پروپیگنڈا بھی یہود اور نصاریٰ دونوں کی طرف سے کیا گیا کہ نجات حاصل کرنے کا اگر کوئی راستہ ہے تو یہ ہے کہ آدمی یہودیت اختیار کرے یا نصرانیت، یہ دونوں خدائی دین ہیں، ان کے ہوتے ہوئے کسی نئے دین کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش۔ یہود اور نصاری یوں تو آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، آئے دن ان کے اندر مذہبی اختلاف کی بنا پر خون خچر ہوتا رہتا تھا، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی مخالفت کے لیے دونوں آپس میں بڑے روادار بن گئے تھے۔ دونوں نے مل کر ایک متحد محاذ قائم کرلیا تھا اور ہم زبان ہو کر یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ جس کو نجات مطلوب ہو وہ یہودی بنے یا نصرانی۔ یہ نیا دین بھلا کیا ہے، یہ تو محض ایک فتنہ ہے۔ یہود نے اسلام کی مخالفت میں رواداری کی یہ روش مشرکین تک کے معاملہ میں اختیار کرلی تھی، نصاریٰ تو بہرحال ان کے اپنے ہی بھائی بند تھے۔ چناچہ قرآن مجید میں ان کی اس حق دشمنی کا ذکر اس طرح ہوا ہے ”أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا“۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا، وہ جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پر ہیں“ (نساء :51)۔ اس پروپیگنڈے کو اس چیز سے تقویت پہنچی ہوگی کہ اہل عرب اہل کتاب سے پہلے سے حسن ظن رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں وہ اپنی تائید میں یہ بھی کہتے رہے ہوں گے کہ یہودیت اور نصرانیت کے آسمانی دین ہونے سے تو قرآن کو بھی انکار نہیں ہے۔ ان وجوہ سے قرآن نے اس کی بھی تفصیل کے ساتھ تردید کی، فرمایا کہ ”تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ“ یہ ان کی باطل آرزوئیں ہیں، یعنی یہ محض ان کی من گھڑت باتیں ہیں جو بغیر کسی سند اور دلیل کے انہوں نے محض اپنے جی سے گھڑ رکھی ہیں۔ خدا نے یہودیت اور نصرانیت کسی کے حق میں بھی یہ پروانہ جاری نہیں کیا ہے کہ جو یہودی یا نصرانی بن گیا اس کے لیے جنت ہے۔ اگر وہ یہ دعوی کرتے ہیں تو اپنے اس دعوے کی سچائی پر اپنی کتاب سے کوئی دلیل پیش کریں۔ اس طرح کی ان کی بہت سی تمنائیں اور خواہشیں تھیں جو انہوں نے دین اور عقیدہ بنا کر بلا کسی سند کے اپنے دلوں میں پال رکھی تھیں۔ قرآن نے اگرچہ یہاں ذکر ایک ہی کا کیا ہے لیکن جمع کا لفظ استعمال کر کے اشارہ ان سب کی طرف کردیا ہے۔ ہم اسی سورة کی آیات (81-87) کی تفسیر کرتے ہوئے ان ”امانی“ کی تفصیل پیش کرچکے ہیں
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں بلا شبہ جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا اور وہ ٹھیک طرح سے عمل کرنے والا ہے تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ نہ ان کو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

نجات کی اصلی راہ : یعنی نجات یافتہ اور مستحق جنت ہونے کے لیے یہودی یا نصرانی ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آدمی ایک تو مسلم بنے دوسرے یہ کہ محسن بنے۔ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو پورے طور پر خدا کے حوالہ کردے۔ اس کے نبیوں اور رسولوں میں کوئی تفریق کیے بغیر اپنی پوری زندگی کو اس کی شریعت کے تابع کردے۔ احسان کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے احکام کی تعمیل پورے خلوص، پوری دیانت داری اور کامل راستبازی کے ساتھ کرے۔ جو لوگ اس طرح خدا کی بندگی اور اس کی اطاعت کا حق ادا کریں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، ایسے لوگوں کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا، نہ کوئی غم، یہی تمام انبیاء اور تمام آسمانی صحیفوں کی تعلیم ہے اور یہی عقل اور فطرت کا تقاضا ہے۔ یہ پورا مضمون اسی سورة کی آیات 78 تا 81 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے مختلف پہلوؤں پر وضاحت کی ساتھ بحث کی ہے۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود نے کہا کہ نصاری کی کوئی بنیاد نہیں اور نصاری نے کہا یہود کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور یہ دونوں کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ اسی طرح کی بات ان لوگوں نے بھی کہی جن کو علم نہیں ہے۔ تو اللہ قیامت کے دن اس معاملہ کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے ہیں

یہود و نصاری کی باہمی جنگ وجدال : یعنی اسلام کی مخالفت کے لیے یہود اور نصاری دونوں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے اور ایک دوسرے کو بڑی فیاضی کے ساتھ نجات یافتہ اور جنتی قرار دے رہ ہے ہیں۔ لیکن اس پلیٹ فارم سے الگ ان کی باہمی تکفیر و تفسیق اور جنگ و جدل کا یہ حال ہے کہ یہود، نصاری کی کوئی جڑ بنیاد تسلیم نہیں کرتے اور نصاری، یہود کے لیے کوئی بنیاد تسلیم نہیں کرتے، حالانکہ دونوں ایک ہی کتاب کی پیروی کے مدعی ہیں، تورات دونوں میں مشترک ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ آج جو ان کے اندر یہ گٹھ جوڑ ہوگیا ہے یہ نہ تو دین کے تحفظ کے لیے ہے نہ کسی اخلاص اور نیک نیتی پر مبنی ہے بلکہ محض اسلام دشمنی کا جذبہ ہے جس نے ان کو متحد کردیا ہے۔ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (جو علم نہیں رکھتے) سے مراد مشرکین بنی اسماعیل ہیں، اس لیے کہ یہ کتاب و شریعت سے نا آشنا امی تھے۔ ان کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے بھی انہی لوگوں کی سی بات کہی۔ یعنی یہ بھی اپنے سوا سب کو باطل پر سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام کی مخالفت کے لیے آج یہ بھی اس مشترکہ محاذ میں شامل ہیں وہ ایک کے علم اور عمل کے مدعی ہوتے ہوئے دین کی یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اور یہ بغیر کسی علم ہی کے پانچوں سواروں میں جا شامل ہوئے ہیں۔ ”کذالک“ اور ”مثل قولہم“ کے الفاظ بظاہر دونوں ایک ہی مفہوم کے حامل نظر آتے ہیں لیکن غور کرنے سے دونوں سے یہ حقیقتیں ظاہر ہوتی ہیں، ایک سے محرک اور جذبہ کا اشتراک ظاہر ہوتا ہے، دوسرے سے تعبیر کا۔ یعنی یہ بھی نیت اور عمل دونوں میں انہی یہود و نصاری کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ آخر میں بطور وعید کے فرمایا کہ ان کی اس نزاع کا فیصلہ اب آخرت میں خدا کی عدالت میں ہوگا۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لیے یہ تسلی بھی ہے کہ تم اس نزاع میں صرف تبلیغِ حق کے ذمہ دار ہو۔ اس سے زیادہ تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مساجد کو اس بات سے محروم کریں کہ ان میں اس کا ذکر کیا جائے اور ان کی ویرانی کے درپے ہوں۔ ان کے لیے زیبا نہ تھا کہ ان میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے

ایک دوسرے کے معابد کی تخریب : یہ اشارہ ہے ان مدعیان جنت کے ان کارناموں کی طرف جو انہوں نے باہمی عناد و عداوت کی بنا پر ایک دوسرے کے معابد کو تباہ و برباد کرنے کے سلسلہ میں انجام دیے۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ یہود و نصاری کے درمیان بیت المقدس میں بھی ایک دوسرے کو ذکر و عبادت سے روکنے کے لیے نہایت خونریز جنگیں ہوچکی ہیں اور باہر بھی جہاں جہاں اور جب جب ان میں سے کسی کو موقع ملا ہے اس نے مخالف فریق کے عبادت خانے برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ نصاریٰ نے لوگوں کو حج بیت اللہ سے روکنے کی سعی کی لیکن جب اس کوشش میں ان کو ناکامی ہوئی تو ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کردی اور خانہ کعبہ کو منہدم کردینے کا ارادہ کرلیا جس کی پاداش میں اس پر اور اس کی فوجوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیات۔ ان واقعات کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود یہ دکھانا ہے کہ جو لوگ آج اسلام کی مخالفت میں یوں ہم زبان ہوگئے ہیں ان کے باہمی تعصبات کا کیا حال رہا ہے۔ اور نجات و ہدایت کے ان ٹھیکیداروں کے کارنامے خدا کی مساجد کے معاملہ میں کتنے سیاہ ہیں۔ ساتھ ہی مساجد الٰہی کا مرتبہ و مقام واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ دنیا میں سب زیادہ ظالم وہ مدعیان ہدایت وتقوی ہیں جو اللہ کی مسجدوں سے اللہ کا ذکر کرنے والوں کو روکیں اور ان مساجد کی بربادی کے درپے ہوں۔ جو گھر خدا کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا ہے وہ خدا کا گھر ہے کسی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ خدا کے گھر میں اس کی تخریب کی جسارت کے ساتھ داخل ہو۔ اللہ کے گھر میں داخل ہونے کا واحد طریق یہ ہے کہ جو بھی اس میں داخل ہو ڈرتے ہوئے اور لرزتے ہوئے داخل ہو۔ جو لوگ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کی نسب فرمایا ہے کہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے۔ مساجد الٰہی کے احترام کے اسی اصول کے تحت مسلمانوں کو یہود و نصاری کے ساتھ جنگ کی حالت میں بھی ان کے گرجوں اور معابد کے ہدم یا ان کی توہین کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ مقام ان مسلمانوں کے لیے خاص طور پر قابل غور ہے جو محض گروہی تعصبات کے تحت اپنے سے ذرا مختلف مسلک رکھنے والوں کو اپنی مساجد سے روکتے ہیں اور بعض اوقات دوسرے مسلک رکھنے والوں کی مساجد کی بےحرمتی کرنے کی جسارت بھی کر گزرتے ہیں۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق ہو یا مغرب دونوں اللہ ہی کے ہیں تو جدھر بھی رخ کرو اسی طرح اللہ ہے، اللہ بڑی گنجائش رکھنے والا اور علم والا ہے

تفسیر آیت 115: وجہ نزاع کی طرف اشارہ : یہ اس وجہ نزاع و اختلاف کی طرف اشارہ ہے جو یہود و نصاریٰ کے درمیان معابد و مساجد کی توہین کا سبب ہوئی۔ یہود و نصاری دونوں کا قبلہ بیت المقدس تھا لیکن نصاریٰ نے خاص طور پر اس کی شمرقی سمت کو اپنے قبلہ کے لیے انتخاب کیا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہوئی ہو کہ وہ حصہ جس میں حضرت مریم نے اعتکاف فرمایا تھا اسی سمت میں تھا۔ بیت المقدس کے اس عہد کے نقشہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وہ حصہ جو خواتین کی عبادت کے لیے مخصوص تھا، اسی جانب تھا اور قرآن سے بھی کچھ ایسا ہی اشارہ نکلتا ہے۔ سورة مریم میں فرمایا ہے ”وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا“۔ ”اور کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو، جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب میں معتکف ہو بیٹھی“ (مریم :16)۔ اس ضد میں یہود نے اس کی مغربی سمت کو اختیار کیا ہوگا اور پھر اندرون بیت المقدس کی یہ تقسیم اس سے باہر بھی۔ اور اس کے نتیجہ میں دونوں فریق نے ایک دوسرے کے معابد کی پوری بےدردی کے ساتھ بےحرمتی کی۔ قرآن مجید نے یہاں اس سبب اختلاف و نزاع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی لغویت کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ مشرق ہو یا مغرب، دونوں سمتیں اللہ ہی کی ہیں۔ ان میں سے جس سمت کو بھی انسان رخ کرے اگر وہ خدا کی طرف متوجہ ہے تو اس کا رخ خدا ہی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس چیز کو یہود و نصاریٰ نے سر پھٹول اور ہدم معابد و مساجد کا سبب بنایا تو یہ ان کی جہالت و حماقت ہے۔ سمتوں اور جہتوں میں سے کسی سمت و جہت کو بھی خدا کے ساتھ اختصاص نہیں ہے۔ وہ بیت المقدس کو قبلہ قرار دے کر جدھر بھی رخ کرتے، خدا ہی کی طرف رخ کرتے۔ خدا کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت ہر چیز کو محیط ہے۔ ہر جا کنیم سجدہ بداں آستاں رسد۔ یہ بحث مزید تفصیل کے ساتھ آگے تحویل قبلہ کی آیات کے تحت آرہی ہے۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ اس کی شان ان باتوں سے ارفع ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ سب اسی کے تابع فرمان ہیں

’ ولد ‘ کا مفہوم : اوپر اسلام کے خلاف محاذ قائم کرنے والوں کے ان کارناموں کا حوالہ دیا تھا جو انہوں نے خدا کی مساجد کی تخریب کے سلسلہ میں انجام دیے ہیں، اب یہ ایک اشارہ ان کے مشرکانہ عقائد کی طرف بھی فرما دیا تاکہ ہدایت اور نجات کی اجارہ داری کے ان مدعیوں کا یہ پہلو بھی سامنے آجائے کہ عقیدہ کے اعتبار سے یہ کس سطح پر ہیں۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ یہ لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، نصاری مسیح کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان سب کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سبحانہ خدا اس طرح کی تمام نسبتوں سے پاک اور ارفع ہے۔ کوئی چیز کسی پہلو سے بھی اس کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں شریک وسہیم نہیں ہے۔ بلکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں اس کی مخلوق و مملوک ہیں۔ کسی کا یہ درجہ نہیں ہے کہ وہ اس کی بندگی اور اطاعت کے قلادہ سے آزاد ہو بلکہ سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔

’ بدع ‘ کی تحقیق : بَدَع کے معنی کسی شے کو عدم سے وجود میں لانے اور بغیر کسی مادہ و مثال کے ایجاد کرنے کے ہیں۔ اسی سے ’ بدعت ‘ کا فظ ہے جس کے معنی ہیں دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرنا جس کے لیے کوئی مثال، نظیر اور کوئی ماخذ ومصدر نہ ہو۔ بدیع اسی سے فعیل کا وزن ہے اور معنی میں فاعل کے ہے۔ تنزیہہ باری تعالیٰ کی مزید وضاحت : اوپر والی آیت کے مضمون میں تنزیہ باری کی یہ مزید وضاحت ہے کہ یہ بیٹے بیٹیاں جو خدا کے لیے فرض کیے گئے ہیں اس واہمی کی بنیاد پر فرض کیے گئے ہیں کہ جس طرح دوسرے اپنے معاملات کے انتظام و انصرام میں معاونین اور شرکا کے محتاج ہوتے ہیں اسی طرح خدا بھی شرکا اور معاونین کا محتاج ہے۔ حالانکہ خدا اس قسم کے شرکا اور معاونین سے بالکل بےنیاز و مستغنی ہے۔ وہ آسمان و زمین کو تنہا اپنی قدرت و حکمت سے وجود میں لایا اور جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو بس فرما دیتا ہے کہ ہوجا اور ہو ہوجاتی ہے۔ ایسی بےنیاز و مستغنی اور ایسی بےہمہ وباہمہ قادر مطلق ذات کے ساتھ آل و اولاد کا کیا جوڑ !۔