Ayah 2:80“اور وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند دنوں سے زیادہ نہیں چھوئے گی”۔ یہ ان جھوٹی آرزوؤں کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے۔ یہود اپنے لئے کسی صورت میں ابدی عذاب دوزخ کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے جنت و دوزخ کو اعمال کا نتیجہ اور اعمال پر مبنی سمجھنے کے بجائے یہ سمجھ لیا کہ وہ خدا کی برگزیدہ امت ہیں اس وجہ سے خواہ ان کے اعمال کچھ بھی ہوں اول تو وہ دوزخ میں بھیجے ہی نہیں جائیں گے اور اگر بھیجے بھی گئے تو معمولی طور پر کچھ سزا بھگت کر جنت کو واپس کر دیے جائیں گے۔ ان کے اس واہمہ نے ان کے عوام اور خواص سب کو شریعت کی ذمہ داریوں سے بالکل بے پروا کر دیا۔ نجات کے معاملہ میں ان کا سارا اعتماد عمل اور عقیدہ کے بجائے اپنی گروہی نسبت پر رہ گیا تھا اور بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی کچھ اس قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ:“یا تم اللہ کی طرف وہ بات منسوب کر رہے ہو جو جانتے نہیں”۔“جانتے نہیں”یعنی جس کی سند تمہاری کتاب میں موجود نہیں، بس ایک بات تم نے اپنے جی سے گھڑ کر اپنے خدا کی طرف منسوب کر دی ہے حالانکہ تم سے عہد لیا گیا تھا کہ تم خدا کی طرف حق بات کے سوا کوئی بات منسوب نہیں کرو گے۔
اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْْہِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ اَنْ لاَّ یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلاَّ الْحَقَّ (اعراف: ۱۶۹)
Ayahs 2:81–82یہ یہود کے اس واہمہ کی تردید ہے جس کا اوپر ذکر گزرا ہے۔ یعنی جنت اور دوزخ کا تعلق خاندانی اور گروہی نسبتوں سے نہیں بلکہ تمام تر عمل سے ہے۔ جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور وہ برائی اس کو اپنے گھیرے میں لے لے تو اس کے لئے خلود فی النار ہے خواہ اس کا تعلق کسی گروہ سے ہو۔ برعکس اس کے جو شخص ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہے اس کے لئے خلود فی الجنۃ ہے خواہ اس کا تعلق کسی خاندان سے ہو۔
جس طرح اس سورہ کے پہلے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا الآیۃ والی آیت وارد ہوئی تھی اسی طرح اس دوسرے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر یہ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ الآیہ والی آیت وارد ہوئی ہے۔ ان دونوں آیتوں کا موقع اور مقصد بالکل ایک سا ہے اس وجہ سے ان دونوں کو ایک دوسرے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آگے مناسب مقام پر اس مزید شرح آے گی۔
Ayah 2:83یہ اس ابتدائی عہد کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل سے شرک سے اجتناب، والدین کے ساتھ حسن سلوک اعزا و اقربا اور یتامیٰ و مساکین کے حقوق کی ادائیگی اور نماز و زکوٰۃ کے قیام سے متعلق لیا گیا۔ اس میں سب سے پہلے لَا تَعْبُدُوۡنَ اِلَّا اللهَ کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو گے۔ یہ جملہ اگرچہ ہے تو بظاہر خبر کے قالب میں لیکن معنی میں ہے نہی کے۔ اس وجہ سے بعد کے انشائیہ جملوں کا عطف اس کے اوپر موزوں ہوا۔
وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا: اللہ تعالیٰ کے حق کے بیان کے بعد یہ معًا والدین کے حق کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا حق انسان پر اگر کوئی ہے تو ماں باپ ہی کا ہے اور کسی کا بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ حق صرف احسان یعنی حسن سلوک کا متقاضی ہے عبادت کا نہیں۔ اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عبادت میں والدین کو شریک کرنے کی اجازت نہیں دی جن کا درجہ خدا کے بعد سب سے اونچا ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
وَذِی الْقُرْبٰى: کو احسان کے تحت بھی رکھ سکتے ہیں جن کا ذکر والدین کے لئے ہوا ہے اور اس کے لئے کوئی دوسرا مناسب فعل محذوف بھی مان سکتے ہیں۔ قرآن مجید میں ان دونوں ہی شکلوں کے لئے نظیر موجود ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا ہے۔
وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْْءًا وَبِالْوَالِدَیْْنِ اِحْسَانًا وَبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتَامٰی وَالْمَسَاکِیْنِ (۳۶ النساء)
اور اللہ کی بندگی کرو اس کا کسی کو ساجھی نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت مندوں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ۔
اس آیت میں ”وَذِی الْقُرْبٰى”کو“اِحْسَانًا”کے تحت ہی رکھا ہے لیکن دوسری جگہ فرمایا ہے۔
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاّآاِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ اِحْسَانًا ........ وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (۲۳، ۲۶ بنی اسرائیل)
اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ تم نہ بندگی کرو مگر اس کی۔ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ........ اور قرابت مند اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔
یہاں والدین کے لئے احسان اور ذی القربیٰ اور مسکین و مسافر کے لئے ایتائے حق کے الگ الگ فعل استعمال کئے ہیں ان دونوں مواقع کو ملانے سے یہ بات نکلتی ہے کہ احسان درحقیقت نام ادائے حقوق ہی کا ہے۔ اگر حقوق ادا نہ کئے جائیں تو محض خالی خولی باتوں سے احسان کا فرض ادا نہیں ہو سکتا۔
وَالْيَتَامٰى وَالْمَسٰكِينِ: حقوق کی ترتیب میں والدین، پھر اقربا اور ان کے بعد فوراً ہی یتامیٰ اور مساکین کا ذکر اس اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جو اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام میں یتامیٰ اور مساکین کو حاصل ہے۔ اسلامی نظام میں ہر صاحب استطاعت پر اس کے والدین اوراقربا کے حقوق کے بعد یتیموں اور مسکینوں کے حقوق ہیں جن کو ادا کئے بغیر کوئی شخص اسلام کی عائد کی ہوئی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔
ان حقوق کے لئے حقوق کا لفظ ہم نے اپنی طرف سے صرف ایک استعارہ کے طور پر نہیں استعمال کیا ہے بلکہ یہ لفظ خود قرآن مجید نے استعمال کیا ہے اور اسلامی نظام میں حقوق ہی کی حیثیت سے ان کی حفاظت بھی کی گئی ہے۔
وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ اس ٹکڑے کا ایک تو وہ عام مفہوم ہے جو اس کے ظاہر الفاظ سے نکلتا ہے۔ اس اعتبار سے نیکی و شرافت اور پند و نصیحت کی ہر وہ بات اس کے تحت داخل ہو گی جس کی تعلیم وتبلیغ کی ہر موقع پر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کے عام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہمارے اہل تاویل نے اس کو عام ہی رکھا بھی ہے۔ لیکن بعینہٖ یہ بات اسی سیاق وسباق میں، تھوڑے سے الفاظ کے ردوبدل کے ساتھ، قرآن مجید میں دوسرے مقامات میں بھی کہی گئی ہے۔ ان تمام آیتوں کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سیاق میں یہاں یہ الفاظ وارد ہیں ان کا ایک خاص مفہوم بھی ہے جس سے قرآن کے ایک طالب علم کو بے خبر نہیں رہنا چاہئے۔ ہم یہاں تمام ہم معنی آیات جمع کر کے اس خاص مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
سورہ نساء میں یتیموں سے متعلق ان کے اولیاء کی بعض ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَامًا وَارْزُقُوْہُمْ فِیْہَا وَاکْسُوْہُمْ وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (۵ النساء)
اور تم ناسمجھ یتیموں کے حوالہ اپنے وہ مال نہ کرو جس کو اللہ نے تمہارے معاشی قیام و بقا کا وسیلہ بنایا ہے۔ البتہ تم اس مال سے ان کوفراغت کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ اور معروف طریقہ پر ان کی دلداری کرتے رہو۔
اسی سورہ نساء میں دوسری جگہ فرمایا۔
وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنُ فَارْزُقُوْہُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (8) وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوْا عَلَیْْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (۸۔۹ النساء)
اور اگر تقسیم میراث کے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آ موجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور معروف طریقہ پر ان سے دلداری کی بات کرو۔ اگر یہ اپنے پیچھے کمزور اولادیں چھوڑتے تو ان کے بارے میں ڈرتے تو انہیں چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔
آگے سورہ بقرہ میں ہے۔
الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لاَ یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَلاَ اَذًی لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (262) قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَمَغْفِرَۃٌ خَیْْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ (۲۶۲۔۲۶۳ بقرہ)
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے اس خرچ کے پیچھے اظہار احسان اور ایذارسانی کی بلا نہیں لگا دیتے ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ نہ ان کےلئے خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ دستور کے مطابق دلداری کاایک کلمہ اور معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزادی کی بلا لگی ہوئی ہو۔ اللہ بڑا بے نیاز اور حلیم ہے۔
انفاق ہی کے سلسلہ میں سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا۔
وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْہَا فَقُلْ لَّہُمْ قَوْلًا مَّیْْسُوْرًا (۲۸ بنی اسرائیل)
اگر تم کو اپنے رب کے کسی فضل کے انتظار میں جس کے تم متوقع ہو ان سے اعراض ہی کرنا پڑے تو ان سے نہایت نرم بات کہو۔
ان تمام آیات پر غور کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہاں قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا کے الفاظ میں وہی بات کہی گئی ہے جو یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے متعلق اوپر کی آیات میں کہیں وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا کے الفاظ میں اور کہیں وَلۡیَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا اور قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَۃٌ وغیرہ کے الفاظ میں کہی گئی ہے۔
قرآن مجید نے والدین، اقربا، یتامیٰ اور مساکین سے متعلق ایک طرف حسن سلوک اور ادائے حقوق کی تاکید کی ہے، دوسری طرف اس امر کی ہدایت کی ہے کہ ان کے ساتھ بات شریفانہ انداز میں کی جائے۔ ان کے خلاف دل میں برہمی ہو تو اس کو ضبط کیا جائے اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اخلاق کے بغیر کوئی شخص ان کے حقوق و فرائض سے کماحقہٗ عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ بسااوقات آدمی ان کی حالت کی کمزوری کی بنا پر ان کی عزت نفس ملحوظ رکھنے میں کوتاہی کر جاتا ہے جس سے ان کے مجروح دل اور زیادہ زخمی ہو جاتے ہیں، بعض اوقات آدمی کے دل میں ان کے خلاف کوئی رنجش ہوتی ہے جو ان کو مجبور اور بے بس پا کر زیادہ کرخت انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ بعض حالات میں خود ان ضرورت مندوں کا رویہ بھی کچھ ناگوار سی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ چیز بھی آدمی کے لئے ترش کلامی کا باعث بن جاتی ہے۔ قرآن نے ان تمام چیزوں سے روک کر ان سے اچھے انداز میں بات کرنے کی ہدایت کی ہے اور تسلی و تسکین کے ایک کلمہ کو اس خیرات سے بھی بہتر قرار دیا ہے جس کے ساتھ تلخ کلامی، توہین، اور دل آزادی شامل ہو۔ اسی بات کو یہاں قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن سیاق کلام اور نظم دلیل ہے کہ مفہوم یہی ہے۔ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ: (نماز قائم کرو اور زکٰوۃ دو) یہاں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر تفصیل کے بعد اجمال کی نوعیت رکھتا ہے۔ یعنی یہ دونوں چیزیں اوپر کی تمام باتوں کو اپنے اندر سمیٹ لینے والی ہیں۔ اوپر اللہ ہی کی عبادت کرنے، نیز اعزا و اقربا اور مساکین و یتامیٰ کے ساتھ حسن سلوک کی جو ہدایت کی گئی ہے اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ سے ان تمام نیکیوں کی شیرازہ بندی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اجزا کے ذکر کے بعد ان اصولی چیزوں کا بھی ذکر کر دیا ہے، جس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو رہی ہے کہ اگر تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے تو تمہارے لئے اوپر بیان کی ہوئی نیکیوں کا انجام دینا آسان رہے گا اور اگر نماز اور زکوٰۃ ضائع کر دو گے تو پھر سب کچھ ضائع کر بیٹھو گے۔
ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَا قَلِيۡلًا مِنْكُمْ وَاَنْتُمْ مُعْرِضُوۡنَ: پھر تم نے منہ موڑ لیا مگر تم میں سے تھوڑے لوگ اور تم منہ موڑنے والے ہی لوگ ہو۔ یہی وہ بات ہے جس کو واضح کرنے کے لئے اوپر کی میثاق کی یاد دہانی کی گئی ہے۔ یعنی یہ عہد جو اتنے اہتمام سے تم نے باندھا، تم نے اس کو توڑ تاڑ کے رکھ دیا۔ صرف تھوڑے سے لوگ تم میں سے ایسے نکلے جو اس پر استوار رہ سکے۔
قرآن مجید نے یہاں ان کی اس عہد شکنی کو پہلے فعل کی شکل میں بھی بیان کیا ہے اور پھر وَاَنْتُمْ مُعْرِضُوۡنَ کہہ کر اس کو ان کی ایک مستقل صفت کی حیثیت سے بھی ذکر کر دیا ہے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں ہے جو ان سے اتفاقی طور پر صادر ہو گیا بلکہ یہ اعراض و انحراف ان کے قومی مزاج کی ایک خصوصیت بن چکا ہے۔ قرآن مجید نے ان کی جس مزاجی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے۔ انہوں نے بار بار بنی اسرائیل کی نافرمانیوں پر ان کو ملامت کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ تم بڑے ہی سرکش اور گردن کش لوگ ہو۔
یہاں نظم کلام کی اس حقیقت کوذہن سے اوجھل نہیں ہونا چاہئے کہ بنی اسرائیل کو اس نقض عہد کی یاد دہانی ان کے اس پندار پر ضرب لگانے کے لئے کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو کتاب الٰہی کا امین، شریعت خداوندی کا حامل اور اللہ تعالیٰ کی تمام دنیوی اور اخروی نعمتوں کا واحد اجارہ دار سمجھے ہوئے بیٹھے تھے اس وجہ سے نہ تو نئی نبوت و رسالت کی ضرورت کے قائل تھے اور نہ اپنے دائرے سے باہر کسی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کے لئے تیار تھے۔ ان لوگوں کو اس آیت میں نیز اس کے بعد والی آیتوں میں یہ یاد دہانی کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عہد و میثاق ان سے لیا تھا اور جس پر ان کو اس قدر فخر و ناز ہے اس عہد و میثاق کی انہوں نے کس طرح دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
Ayah 2:84یہ ایک اور عہد کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا۔ یہ عہد اس بات کے لئے تھا کہ یہ آپس میں نہ تو ایک دوسرے کا خون بہائیں گے اور نہ اپنے بھائیوں کو ان کے گھروں سے جلاوطن کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انہوں نے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، اس عہد کو بھی نہایت بےدردی سے پامال کیا۔
اس عہد کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے فرمایا ہے ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوۡنَ۔ جس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں اور دونوں سے اس کی اہمیت اور اس کے نقض کی شناعت واضح ہوتی ہے۔ ایک مفہوم تو، جیسا کہ عام مفسرین نے لیا ہے، یہ ہے کہ تم کو اس عہد کا اقرار ہے اور تم آج بھی اس کے گواہ ہو اس لئے کہ اس کا ذکر تورات میں موجود ہے اور اس کا دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ تم نے اس عہد کا اقرار کیا اور تم اس اقرار کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے۔
یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے احکام سے ہمیشہ پوری جماعت کے سامنے آگاہ کرتے اور پھر پوری جماعت سے ان احکام کی اطاعت اور پابندی کا اقرار لیتے تاکہ اس جماعتی اقرار سے لوگوں کے اندر اس کی پابندی کا احساس پوری اہمیت حاصل کر لے اور نسلاً بعد نسلٍ ان کے اندر یہ روایت زندہ رہے کہ اس عہد کا اقرار ہم نے فلاں جگہ من حیث الجماعت کیا ہے۔ یہاں قرآن نے اپنے زمانۂ نزول کے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ تم اپنے جن آباؤاجداد کی روایات پر فخر کرتے ہو۔ جب ان کی پوری جماعت کا یہ اقرار تمہاری کتاب میں موجود ہے تو تم اس کی ذمہ داری سے کس طرح انکار کر سکتے ہو۔
Ayah 2:85یعنی جس عہد کو تم نے اس اہتمام کے ساتھ باندھا اب تم ہی لوگ ہو کہ اس کو اس سرگرمی کے ساتھ توڑ رہے ہو۔ اس توڑنے کی شکل یہاں قرآن مجید نے یہ بیان کی ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے خلاف ان کے دشمنوں سے ساز باز کرتے ہو اور پھر ان کے مددگار بن کر اپنے بھائیوں کو ان کی بستیوں سے جلاوطن کراتے ہو۔ اس طرح ان کو ذلیل وخوار کرا لینے کے بعد جب وہ دشمنوں کے ہاتھوں قیدی ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں تو تم اپنی ملت پروری اور قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ان کو فدیہ دے کر چھڑاتے بھی ہو کہ یہ تورات کا حکم ہے، حالانکہ تورات میں جس طرح فدیہ دے کر چھڑانے کا حکم ہے، اسی طرح یہ ممانعت بھی موجود ہے کہ اپنے بھائیوں کو ان کی بستیوں سے نہ نکالنا۔
بنی اسرائیل کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہود اور اسرائیل کی سلطنتیں الگ الگ قائم ہوجانے کے بعد سے بنی اسرائیل میں اس طرح کے واقعات بہت پیش آئے۔ دونوں سلطنتوں کے درمیان حریفانہ کاوشیں رہتیں اور ایک دوسری سے انتقام لینے کے لئے آسان نسخہ یہی ہوتا کہ مخالف طاقتوں کو ابھار کر ان سے حریف پر چڑھائی کرا دی جائے اور جب وہ قتل ونہب کے بعد دشمنوں کے ہاتھوں میں اسیر ہو کر طالب مدد ہوں تو ان کو چھڑا کر قرمی ہمدردی و بہی خواہی کی دھونس بھی عوام پر جمائی جائے۔
اسی طرح کے حالات ان یہودیوں کے بھی تھے جو زمانہ نزول قرآن میں عرب میں آباد تھے۔ ان کی مختلف شاخوں نے انصار کی مختلف شاخوں کے ساتھ حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ مثلاً بنو قینقاع اور بنو نضیر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اوس کے۔ اوس اور خزرج کے درمیان برابر قبائلی جنگیں برپا رہتیں۔ اور ان جنگوں میں یہود بھی اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ شریک ہوتے اوربھائیوں کے قتل اور ان کی جلاوطنی کا سبب بنتے لیکن اس برادرکشی کے ساتھ ساتھ اپنی دینداری کی نمائش کے لئے یہ بھی کرتے کہ جب ان کے دینی بھائی دشمنوں کے ہاتھوں میں قید ہوتے تو ان کو فدیہ دے کر چھڑاتے بھی کہ یہ تورات کا حکم ہے۔ ۱
ایک طرف اللہ کے دین کی یہ مخالفت اور دوسری طرف دینداری کا یہ مظاہرہ صریح منافقت ہے کیونکہ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کتاب الٰہی کی جو بات اپنی خواہشات کے مطابق ہو وہ مانی جائے اور جو بات خواہشات کے خلاف ہو اس کا انکار کر دیا جائے۔ اس طرح کا من مانا ایمان اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے جو لوگ شریعت الٰہی کے معاملہ میں یہ رویہ اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی رسوا کرتا ہے اور ایسے لوگ آخرت میں بھی سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔
۱ ان آیات کی تلاوت کرتے وقت مسلمان حکومتوں اور مسلم جماعتوں کی ان سازشوں پر بھی نگاہ رہے جو وہ ایک دوسرے کے خلاف کرتی رہتی ہیں اور اس معاملہ میں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانون کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرنے میں بھی ان کو کوئی عار نہیں ہوتا۔
Ayah 2:86یہاں اشتراء کے معنی خریدنے یا بیچنے کے نہیں بلکہ مجرد ترجیح دینے کے ہیں۔ آدمی جب ایک شے کو قیمت دے کر خریدتا ہے تو اس کو قیمت کے بالمقابل ترجیح دیتا ہے۔ لسان العرب نے آیت اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ سے متعلق ابو اسحاق کا یہ قول نقل کیا ہے کہ“یہاں بیع و شرا مراد نہیں ہے بلکہ محض اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ جس طرح ایک مشتری اپنا مال دے کر اپنی مطلوب و مرغوب چیز لیتا ہے اسی طرح ان کفار نے ضلالت کو اپنی ایک مرغوب ومحبوب چیز کی طرح پکڑ لیا ہے۔ اہل عرب ہر اس موقع پر جب ایک چیز چھوڑ کر دوسری چیز اختیار کی جائے کہیں گے اِشۡتَرَاہ اس نے اس چیز کو خریدا یعنی اس کو ترجیح دی۔ قرآن مجید میں یہ لفظ اس معنی میں ایک سے زیادہ مقامات میں استعمال ہوا ہے۔
لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُوۡنَ: نہ تو ان کا عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کوئی مدد ہی پہنچے گی۔ یعنی نہ تو ان کے ساتھ اندر سے کوئی رعایت کی جائے گی اور نہ باہر سے ان کو کوئی مدد حاصل ہو سکے گی۔ اللہ کے اس ابدی عذاب میں گرفتار ہوجانے کے بعد ان کے لئے امید کے سارے دروازے بند ہو جائیں گے۔
Ayah 2:87اوپر والے عہد کی برابر یاد دہانی کراتے رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے“بَیِّنٰت”کے ساتھ بھیجا۔“بَیِّنٰت”سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے اور جو اس قدر واضح تھے کہ ان کے خدا کی طرف سے ہونے میں کوئی ہٹ دھرم ہی شک کر سکتا تھا لیکن یہود نے ان کھلے کھلے معجزات کو بھی تائید ربانی اور فیض روح القدس کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے نعوذ باللہ شیطانی تصرف کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ معجزے شیطانوں اور بھوتوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے دکھاتے تھے۔ قرآن مجید نے یہود کے اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بار بار فرمایا ہے کہ اَیَّدْنٰہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (ہم نے روح القدس سے اس کی مدد کی) یعنی اس سے جو معجزے صادر ہوئے یہ تائید روح القدس کا نتیجہ ہیں نہ کہ کسی شیطان یا جن کی مدد کا جیسا کہ یہود سمجھتے ہیں۔
انجیل میں یہود کے اس الزام کا ذکر بار بار آیا ہے۔ اور ان کے اس الزام کا جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیا ہے وہ بھی نقل ہوا ہے۔ ہم یہاں ایک اقتباس متی سے پیش کرتے ہیں جس سے اس خیال کی پوری پوری تائید ہوتی ہے جو ہم نے اوپر پیش کیا ہے۔ متی باب ۱۲ میں ہے۔
“اس وقت اس کے پاس لوگ ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بدروح تھی اس نے اسے اچھا کر دیا چنانچہ وہ گونگا بولنے اور دیکھنے لگا اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کہ کیا یہ ابن داؤد ہے۔ فریسیوں نے سن کر کہا کہ یہ بدروحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔ اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔ اور اگر شیطان ہی سے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں۔ پس وہی تمہارے منصب ہوں گے لیکن اگر میں خدا کے روح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔ یا کیوں کر کوئی آدمی کسی زورآور کے گھر میں گھس کر اس کا اسباب لوٹ سکتا ہے جب تک پہلے اس زورآور کو نہ باندھ لے۔ پھر وہ اس کا گھر لوٹ لے گا۔ جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے۔ جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہے وہ معاف نہ کیا جائے گا۔ اور جو کوئی ابن آدم کے برخلاف کوئی بات کہے گا تو وہ معاف کی جائے گی لیکن جو کوئی روح القدس کے خلاف کوئی بات کہے گا وہ معاف نہ کی جائے گی، نہ اس عالم میں اور نہ آنے والے عالم میں۔ یا تو درخت کو بھی اچھا کہو اور اس کے پھل کو بھی اچھا۔ یا درخت کو بھی برا کہو اور اس کے پھل کو بھی برا کیونکہ درخت پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔”(متی باب ۱۲- آیات ۲۲-۲۳)
اس پس منظر کو سامنے رکھ کر وَاٰتَیْْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ کے الفاظ پر غور کیجئے تو آیت کا اصلی زور سمجھ میں آجائے گا کہ اس میں کس بات کا اثبات اور کس بات کی تردید ہے۔ جہاں تک روح القدس کی تائید کا تعلق ہے وہ ہر پیغمبر کو حاصل ہوتی ہے اور پیغمبر سے جو معجزات صادر ہوتے ہیں وہ اسی تائید کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باب میں اس بات کا بار بار اظہار اس لئے فرمایا گیا کہ یہود ان پر مذکورہ بالا الزام لگاتے تھے۔ روح القدس سے مراد وہ پاکیزہ روح ہے جو خدا کی طرف سے آتی ہے اور عبرانی میں اس سے مراد جبریل ہیں۔
Ayah 2:88یہ قول یہود کی طرف سے بطور ایک عذرلنگ کے بھی ہوسکتا ہے اور بطور اظہار تکبر کے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ باتیں، جو پیغمبر پیش کرتے ہیں، ہمارے دل میں تو کسی طرح اترتی نہیں۔ اگر یہ خدا کی طرف سے ہیں تو خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے۔ آخر وہ ہمارے دلوں کو ان باتوں کے لئے کھول کیوں نہیں دیتا۔
دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے دل ودماغ اس قسم کی لایعنی باتوں کے لئے نہیں بنے ہیں اس وجہ سے یہ کسی طرح بھی ہمارے دلوں میں نہیں دھنستی ہیں، اگر ان میں ذرا بھی معقولیت ہو تو معقول باتوں کے قبول کرنے کے معاملہ میں ہم سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید کے نظائر وشواہد ان دونوں ہی مفہوموں کی تائید میں موجود ہیں لیکن ہم یہاں دوسرے مفہوم کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اس قول کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ بَلْ لَعَنَهُمُ اللّٰہُ بِكُفْرِهِمْ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کر دی) اس سے واضح تائید اسی مفہوم کی نکلتی ہے، یعنی وہ تو اپنے گھمنڈ اور غرور کے سبب سے یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ کی باتیں ہی ایسی ہیں جو کسی معقول آدمی کے دل میں نہیں اتر سکتیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل خلاف ہے۔ یہ باتیں تو نہایت معقول اور دل نشین ہیں لیکن، ان لوگوں کے کفر اور ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کر دی ہے اس وجہ سے اب ان کے اندر ان معقول باتوں کو قبول کرنے کے لئے کوئی صلاحیت باقی نہیں رہ گئی ہے۔
Ayah 2:89کتاب سے یہاں مراد قرآن مجید ہے جو ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتا ہوا نازل ہوا تھا جو اس کے بارے میں یہود کے صحیفوں میں وارد تھیں۔ اس پہلو سے قرآن کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا احسان خود یہود پر تھا کہ اس نے ان کے صحیفوں کی بہت سے باتوں کو سچا ثابت کیا۔ اس احسان کا حق تو یہ تھا کہ وہ سب سے آگے بڑھ کر اس کتاب عزیز کو ہاتھوں ہاتھ لیتے۔ لیکن انہوں نے اس کو قبول کرنے کے بجائے ضد اور حسد کے سبب سے اس کی مخالفت کی راہ میں سبقت کی۔ قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں کے مصدق کہنے کی حقیقت اسی سورہ کی آیت ۴۱ کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں۔
قرآن اور نبی آخرالزمان ﷺ کی پیشین گوئیاں چونکہ یہود کے صحیفوں میں موجود تھیں اس وجہ سے ان کو ان پیشین گوئیوں کے ظہور کا بڑی شدت کے ساتھ انتظار تھا۔ ان کو امید تھی کہ جب اس نبی موعود کی بعثت ہو گی تو ان کی بدبختی اور مصیبت کے دن دور ہو جائیں گے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان کو ان کے تمام دشمنوں پر فتح دے گا۔ اس فتح کے لئے وہ دعائیں بھی کرتے تھے لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ جب یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی جس کا انتظار تھا وہ آ چکا اور اس کے کارناموں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ وہی ہے جس کی علامتیں پچھلے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں اور یہود نے اس کو اچھی طرح پہچان لیا تو محض ضد اور حسد کی وجہ سے اس کا انکار کر دیا۔ یہود کے اس رویہ کو حضرت مسیح علیہ السلام نے دس کنواریوں والی تمثیل میں واضح فرمایا ہے جو متی کے باب ۲۵ میں منقول ہے۔
Ayah 2:90یہاں اشتراء کے معنی بیچنے اور مبادلہ کرنے کے ہیں۔ بعینہٖ یہی مضمون اسی سورہ میں دوسری جگہ اس طرح وارد ہے۔
وَلَبِءْسَ مَا شَرَوْا بِہٖ اَنفُسَہُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (بقرہ: ۱۰۲)
کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جان کو بیچا۔
عام طور پر اہل لغت اس لفظ کا اضداد میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے اضداد میں سے ہونے کی امام راغب نے بڑی معقول توجیہ کی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔
فاما اذا کان بیع سلعۃ بسلعۃ صح ان یتصوّر کل واحدٍ منھما مشتریا وبائعا ومن ھذا الوجہ صار لفظ البیع والشراء یستعمل کل واحد منھما فی موضع الاخر-
لیکن جب شے کا مبادلہ شے سے ہو تو فریقین میں سے ہر ایک کو مشتری اور ہر ایک کو بائع سمجھنا صحیح ہو گا، اس پہلو سے بیع اور شرا کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں۔
اس تحقیق کی روشنی میں مذکورہ بالا آیت کا ترجمہ ہو گا۔۔(کیا ہی بری ہے وہ چیز جس سے انہوں نے اپنی جانوں کا مبادلہ کیا) یعنی اپنی نجات و فلاح کی فکر سے بےنیاز ہو کر دوسروں کی ضد میں مبتلا ہوئے اور پرائے شگون پر خود اپنی ناک کٹوا بیٹھے۔
أَنْ يَكْفُرُوۡا بِمَا اَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا اَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ: یہ وضاحت ہے اس چیز کی جس کو ان لوگوں نے اختیار کیا، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لانے کے بجائے اس کے انکار اور مخالفت کی راہ اختیار کی اور چونکہ انکار اور مخالفت کی یہ راہ دیدہ و دانستہ اختیار کی گئی اس وجہ سے اس کا سبب اس ضد اور عناد کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ ان کو اللہ تعالیٰ پر غصہ تھا کہ اس نے آخری دین اور آخری رسول کی نعمت سے بنی اسماعیل کو کیوں نوازا خود ان کے اندر سے کسی کو رسول کیوں نہیں بنایا؟ گویا اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کے اجارہ دار یہی ہیں اور انہی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بتائیں کہ وہ کس منصب کے لئے کس کو منتخب کرے اور کس کو منتخب نہ کرے۔
بغی کے معنی یہاں ضد کے ہیں۔ یہ ضد ان کی سرکشی اور ان کے استکبار کا نتیجہ تھی عَلٰى مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ کے الفاظ اگر چہ عام ہیں لیکن اشارہ یہاں خاص طور پر بنی اسماعیل کی طرف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار کی وسعت کو ظاہر کرنے کے لئے یہ عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
فَبَاءُوۡا بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ وَّلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ:“وہ اللہ کا غضب در غضب لے کر لوٹے”کا اصلی مفہوم یہ ہے کہ جہاں سے ان کو سب سے بڑی رحمت لے کر لوٹنا تھا وہاں سے وہ اپنی شامت اعمال کے باعث خدا کا غضب لے کر لوٹے۔ ان کے لئے دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت و کامرانی آخری نبی پر ایمان کے ساتھ وابستہ تھی۔ اور یہ اس کے متوقع اور منتظر بھی تھے بلکہ اس کے لئے، جیسا کہ اوپر گزرا، دعائیں بھی کرتے رہتے تھے۔ لیکن جب اس نعمت سے متمتع ہونے کا موقع آیا تو ان کی بدبختی نے ان کو ٹھوکر کھلائی اور وہ اس کی مخالفت کی پاداش میں غضب الٰہی کے مستحق قرار پائے۔ پھر صرف غضب ہی کے نہیں بلکہ غضب درغضب کے مستحق قرار پائے۔ ایک غضب کے مستحق تو وہ اس عہد کو توڑنے کے سبب سے ٹھہرے جو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واسطہ سے باندھا تھا اور دوسرے غضب کے مستحق اس وجہ سے ہوئے کہ جب ان کے لئے پھر خدا کے عہد میں داخل ہونے کا موقع آیا تو انہوں نے ضد اور حسد میں مبتلا ہو کر اس سے فائدہ اٹھانے سے انکار کر دیا۔
عَذَابٌ مُهِيۡنٌ: سے مراد ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ یہ ذلیل کرنے والا عذاب ان کو اس لئے دیا جائے گا کہ ان کے جرائم کا اصل محرک استکبار تھا جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
اَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُوۡلٌ بِمَا لَا تَهْوٰى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ
کیا جب جب کوئی رسول تمہارے پاس کوئی ایسی بات لے کر آئے گا جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوئی تو تم استکبار کے ساتھ اس کا انکار کر دو گے۔
Ayah 2:91یعنی جب ان کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ بڑے غرور کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتری ہے۔ اس کے بعد ان کے قول کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ تورات کے بعد وہ کسی چیز پر ایمان لانے کے قائل نہیں ہیں حالانکہ اب تورات کی اپنی پیشین گوئیوں کے مطابق بھی صحیفہ حق وہی ہے جو کو قبول کرنے کی ان کو دعوت دی جارہی ہے نہ کہ تورات۔
قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوۡنَ اَنْبِيَآءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: یہ واضح کرنے کے بعد کہ قرآن کے نازل ہو جانے کے بعد معتبر ایمان وہی ہے جو قرآن پر ہو نہ کہ صرف تورات پر۔ یہ واضح فرمایا کہ ان یہود کا تورات پر ایمان کا دعویٰ بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ اگر یہ فی الواقع تورات پر ایمان رکھنے والے ہوتے تو اللہ کے ان نبیوں کو قتل کرنے کی جسارت کس طرح کرتے جو اسی تورات کی تجدید و تصدیق کے لیے آئے۔
Ayah 2:92یہ یہود کے دعوائے ایمان کی مزید تردید ہے اور اس تردید کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان کی ابتدائی تاریخ کے واقعہ گوسالہ پرستی کو یاد دلا کر نہ ان کو سرزنش کی گئی ہے کہ آج تم نے اپنے ایمان اور اپنی دین داری کی حکایت اتنی بڑھا رکھی ہے کہ نہ قرآن کو خاطر میں لانے کے لئے تیار ہو نہ پیغمبر آخرالزمان ﷺ کو، حالانکہ تمہارے اس ایمان کا حال آج تو درکنار شروع سے یہ رہا ہے کہ عین موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں، ان کے کھلے کھلے معجزات کو دیکھتے ہوئے تم نے اپنے رب کو چھوڑ کر ایک بچھڑے کی عبادت شروع کر دی۔
یہود کے اسی قسم کے فخر پر بعض انبیاء نے بھی ان کو سرزنش کی ہے اور اسی واقعہ گوسالہ پرستی کی طرف تعریض کرتے ہوئے یہ الفاظ تک فرمائے کہ“اے اسرائیل (بنی اسرائیل) تو تو وہ ہے کہ تو نے پہلی شب میں بے وفائی کی”۔ قرآن کے الفاظ اس کے اپنے مرتبہ کے شایان شان ہیں لیکن بات وہی کہی گئی ہے جو سابق انبیاء نے فرمائی تھی۔
وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوۡنَ ٹھیک ٹھیک وَاَنْتُمْ مُشْرِکُوْنَ کے معنی میں ہے۔ قرآن میں شرک کو متعدد مقامات میں ظلم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ظلم کا اصلی مفہوم حق تلفی ہے۔ خدا کے حقوق اور خود اپنے نفس کی جو حق تلفی آدمی شرک کا ارتکاب کر کے کرتا ہے وہ کسی بھی اور دوسرے طریقہ سے نہیں کرتا۔ اس کی وضاحت قرآن مجید نے متعدد مقامات میں کی ہے۔ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم۔
Ayah 2:93اسی سورہ کی آیت ۶۳ کی تفسیر کرتے ہوئے اس ٹکڑے کے تمام اہم اجزا کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہود کا یہ جواب جو نقل ہوا ہے، قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْْنَا (انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی) یہ صورت حال کی تعبیر ہے۔ انہوں نے عہد تو یہی کیا تھا کہ“ہم نے سنا اور ہم اطاعت کریں گے”۔ لیکن عمل ان کا یہی ہوا کہ انہوں نے جو کچھ سنا اس کی نافرمانی کی۔ اس صورت حال کو، جو ان کے عمل سے ظاہر ہوئی، قرآن نے ان کے قول کی جگہ رکھ دیا ہے۔ گویا انہوں نے شروع ہی میں اقرار و اطاعت کا نہیں بلکہ نافرمانی کا کیا تھا۔
منافقین اور یہود آنحضرت ﷺ کی مجلس میں جب کبھی آتے تو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کی جگہ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْْنَا ہی کہتے لیکن ادا اس طرح کرتے کہ سننے والا عَصَیْْنَا کو اَطَعْنَا سمجھے۔ یہ روش انہوں نے اپنے اسلاف ہی سے سیکھی تھی۔ بس فرق یہ تھا کہ وہ اَطَعْنَا کہتے اور اس سے عَصَیْْنَا مراد لیتے اور یہ عَصَیْْنَا کہتے اور یہی مراد بھی لیتے لیکن زبان کو توڑ مروڑ کر مغالطہ یہ دیتے کہ مسلمان ان کے عَصَیْْنَا کو اَطَعْنَا سمجھیں۔
Ayah 2:94اوپر کی آیت ۹۰ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ یہود اس بات سے بہت برافروختہ ہوتے تھے کہ خدا کے کسی فضل وانعام کا حق دار ان کے سوا کسی اور کو سمجھا جائے۔ وہ دنیا میں بھی ہر خدائی نعمت کا حق دار اپنے ہی کو سمجھتے تھے اور آخرت کی نعمتوں کا حق دار بھی تنہا اپنے ہی کو سمجھتے تھے۔ قرآن نے ان کو متنبہ کیا کہ اگر تم فی الواقع آخرت کی تمام کامیابیاں اپنا ہی حصہ سمجھتے ہو، اس میں دوسروں کا کوئی حصہ تسلیم نہیں کرتے تو ا س کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ تمہیں لقائے رب کا شوق ہو اور تم اس کے لئے موت کی آرزوئیں کرو۔ لیکن تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم زندگی کی محبت میں اہل کتاب ہو کر عرب کے مشرکوں کو بھی مات دے گئے ہو۔
قرآن نے یہود کی یہ ایک بہت دکھتی رگ پکڑی ہے تاکہ خدا کے محبوب ومقرب ہونے کا ان کو جو گھمنڈ تھا اس پر ذرا وہ شرمائیں۔ اگرچہ وہ اپنی عادت کے مطابق بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس بات کے جواب میں کہہ سکتے تھے کہ ہم تو موت کی بڑی آرزو رکھنے والے لوگ ہیں لیکن آدمی سے خود اپنے دل کا حال چھپا ہوا نہیں ہوتا اس وجہ سے یہ حقیقت ان کے لئے بڑی تلخ اور ان کو خود ان کی نگاہوں میں بڑی رسوا کرنے والی تھی۔
Ayah 2:95یعنی اللہ تعالیٰ سے قرب اور آخرت کی اجارہ داری کے ادعا کے باوجود موت کی آرزو یہ کبھی نہیں کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور اس کی شریعت کے ساتھ جو بدعہدیاں اور غداریاں انہوں نے کی ہیں وہ دوسروں کے سامنے ہوں یا نہ ہوں لیکن خود ان سے یہ ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے موت کے تصور سے ان پر لرزہ طاری ہوتا ہے لیکن موت سے یہ کب تک بھاگیں گے۔ اور اس سے بھاگ کر کہاں جائیں گے۔ بالآخر ایک دن موت سے دوچار ہونا اور اس رب کے سامنے حاضر ہونا ہے جو ان ظالموں کے تمام اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس حقیقت کو سورہ جمعہ میں اس طرح واضح فرمایا ہے۔
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہُ مُلَاقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عَالِمِ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۸)
کہہ دو وہ موت جس سے تم بھاگ رہے ہو تمہیں پا کے رہے گی، پھر تم غیب اور حاضر کے جاننے والے کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور وہ تمہیں ان ساری باتوں سے آگاہ کرے گا جو تم کر رہے ہو۔
Ayah 2:96یعنی ایک طرف تو خدا کے ساتھ محبت و محبوبیت کے یہ دعوے ہیں دوسری طرف زندگی کی محبت کا یہ حال ہے کہ ساری دنیا سے زیادہ زندگی کے حریص یہ ہیں۔ یہاں تک کہ اس معاملہ میں یہ عرب کے ان مشرکوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں جن کے ہاں یہ دنیا ہی دنیا ہے، آخرت کا جن کے سامنے سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
قرآن نے ایک سے زیادہ مقامات میں یہود کا موازنہ مشرکین عرب سے کر کے یہ دکھایا ہے کہ یہ عقیدہ اور عمل دونوں ہی اعتبارات سے مشرکین سے بھی گئے گزرے ہوئے ہیں۔ مشرکین کتاب و شریعت سے بے بہرہ ہونے کے سبب سے قدرتی طور پر فکری اور اخلاقی حیثیت سے نہایت پست سطح پر تھے۔ قرآن نے یہ واضح کیا ہے کہ کتاب اور شریعت کے نہایت بلند و بانگ دعاوی کے باوجود اخلاقی اعتبار سے یہ یہود مشرکین کو بھی شرماتے ہیں حالانکہ یہ ان کو نہایت حقیر سمجھتے ہیں۔
وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ: اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہو سکتا ہے جو ہم نے کیا ہے۔ دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو اس کی عمر کی درازی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ معنی کے اعتبار سے دونوں ترجموں میں کوئی فرق نہیں ہے اور زبان کے قواعد کے لحاظ سے بھی میرے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔ لیکن اکثر اہل تاویل نے اختیار اسی دوسرے کو کیا ہے۔
وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ: یعنی لمبی سے لمبی عمر بھی کسی کے اعمال کو خدا سے نہیں چھپا سکتی۔ خدا ان ساری چیزوں کو دیکھ رہا ہے جو یہ کر رہے ہیں اور جب دیکھ رہا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان کا بدلہ نہ دے۔ یہاں دیکھنے سے مراد وہ چیز ہے جو اس دیکھنے سے لازم آتی ہے۔ کلام کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بے شمار مواقع میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 2:97اس جملہ میں فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ جو اب شرط کے محل میں ہے۔ عربی زبان میں جب کبھی شرط کا جواب اس طرح آئے تو اس کے اندر ایک تفصیل پوشیدہ ہوتی ہے جس پر بعد کے جملہ سے روشنی پڑتی ہے۔ یہاں سیاق کلام سے جملہ کا مطلب یہ واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ جبریل کے مخالف ہیں ان پر یہ حقیقت واضح رہنی چاہئے کہ جبریل کی مخالفت درحقیقت اللہ کی مخالفت ہے۔ کیونکہ جبریل نے خدا کا کلام جو پیغمبر ﷺ پر اتارا ہے تو اپنے جی سے نہیں اتارا ہے بلکہ خدا ہی کے حکم سے اتارا ہے۔ جبریل کوئی کام بھی من مانے طور پر نہیں کرتے، بلکہ جو کچھ کرتے ہیں خدا کی مرضی کے مطابق اور اس کے حکم کے تحت کرتے ہیں۔ نَزَّلَہٗ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر آیت ۹۱ وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ سے چلا آ رہا ہے اس وجہ سے یہاں اضمار قبل الذکر کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ یہ بات اوپر والی بات ہی کا ایک جزو ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہود، قرآن اور نبی ﷺ کی ضد میں جبریل علیہ السلام کو بھی اپنا مخالف ظاہر کرنے لگے تھے۔ ممکن ہے یہود کے علماء اور لیڈروں کو جب یہ اندیشہ ہوا ہو کہ قرآن کی دعوت ان کے عوام کو کہیں متاثر نہ کر دے تو انہوں نے یہ اشقلہ چھوڑا ہو کہ محمد ﷺ کے پاس ان کے اپنے بیان کے مطابق جبریل فرشتہ آتا ہے اور یہ فرشتہ ہمارا دیرینہ مخالف ہے ہمارے اوپر فلاں فلاں آفتیں اسی کے ہاتھوں آئیں۔ اس وجہ سے ہم کسی ایسے شخص پر ایمان نہیں لا سکتے جس کی ہمارے مخالف فرشتہ سے ساز باز ہے۔
اگرچہ یہ بات بہت عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ یہود حماقت کی اس حد کو پہنچ جائیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام کو بھی اپنا دشمن سمجھنے لگ جائیں لیکن انسان جب ضد، حسد اور فرقہ سازی کے جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس سے کوئی بات بھی بعید نہیں رہ جاتی۔ روافض کے ایک فرقہ کا بھی عقیدہ ہے کہ قرآن دراصل اترنا تو تھا حضرت علی ؓ پر لیکن جبریل غلطی سے محمد ﷺ کے پاس اس کو لے کر چلے گئے۔ اس فرقہ کے لوگ اس گناہ پر، نعوذ باللہ، حضرت جبریل امین پر لعنت بھی کرتے ہیں۔ ۱
قرآن نے یہود کی اس حماقت پر جو گرفت کی ہے وہ بڑی برمحل اور بڑی ہی سخت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس غصہ میں جبریل کے مخالف بن بیٹھے ہو کہ انہوں نے یہ وحی محمد ﷺ پر کیوں اتاری، تمہارے کسی آدمی پر کیوں نہ اتاری تو یہ تو سوچو کہ تمہاری یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ تم اللہ کو بھی اپنا مخالف سمجھتے ہو کیونکہ جبریل بہرحال تمہارے اپنے عقیدہ کے مطابق بھی خدا کے فرشتے ہیں۔ وہ کوئی کام خدا کے حکم کے بغیر نہیں کر سکتے۔ لازماً یہ کام بھی انہوں نے خدا ہی کے حکم سے کیا ہے۔ پھر تم تنہا جبریل ہی کے نہیں بلکہ خدا کے بھی مخالف ہوئے اور خدا بھی تمہارا مخالف ٹھہرا۔
مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَہُدًی وَبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں قرآن کی مزید تین صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پچھلے صحیفوں کا مصدق ہے۔ دوسری یہ کہ وہ راہ حق کی طرف رہنمائی کر رہا ہے۔ تیسری یہ کہ جو اس کی رہنمائی قبول کر لیں وہ ان کو آخرت کی فوزوفلاح کی بشارت سنا رہا ہے۔ یہ تفصیل یہاں اس لئے پیش کی گئی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہود کی یہ مخالفت صرف قرآن ہی کی مخالفت نہیں ہے بلکہ خود ان کی اپنی کتاب کی بھی مخالفت ہے۔ وہ اس ہدایت کے بھی مخالف ہیں جو پہلے نازل ہوئی اور اس ہدایت کے بھی دشمن ہیں جو اب دنیا کی رہنمائی کے لئے نازل ہوئی۔
۱ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے رسالہ ’’ردِ روافض‘‘ میں روافض کے مختلف فرقوں کے عقائد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’وطائفۂ غرابیہ از ایشاں می گوئند کہ محمدؐ بہ علیؓ مشابہ تر بود از مشابہت غراب بہ غراب و مگس بامگس و حق تعالیٰ وحی بجانب علی فرستادہ بود۔ جبریل از کمال مشابہت غلط کردہ وحی بحمد رسانید۔۔۔ وایشاں جبریل رالعن می کند۔
Ayah 2:98حضرت جبریل علیہ السلام کی مخالفت سے جس جس کی مخالفت لازم آتی ہے۔ یہ اس کی تفصیل بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شرارت کی جو سزا ہے اس کا بیان بھی۔ اول درجہ میں تو اس سے خود اللہ تعالیٰ جل شانہ کی مخالفت لازم آتی ہے اس کی وجہ اوپر والی آیت میں بیان ہو چکی ہے کہ جب یہ ایک ایسے کام کی بنا پر جبریل ہی سے خفا ہیں جو جبریل نے خدا کے حکم سے کیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ خود خدا کے بھی مخالف ہیں۔ پھر اس سے تمام فرشتوں، تمام رسولوں اور جبریل ومیکائیل سب کی مخالفت لازم آتی ہے اس لئے کہ خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں میں کامل ہم آہنگی ہے۔ فرشتے اور انبیاء سارے کام خدا کی مرضی کے مطابق اور اس کے احکام کے تحت ہی کرتے ہیں اور ایک ہی حزب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہو سکتی۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک کا بھی مخالف ہوا وہ سب کا مخالف ہوا اور جس نے کسی ایک کی بھی تکذیب کی اس نے سب کی تکذیب کی۔ یہاں یہ اجمالی اشارہ کافی ہے آگے اس کی مزید تفصیل آئے گی۔
یہاں عام فرشتوں کا ذکر کرنے کے بعد جبریل اور میکائیل کا ذکر خاص طور پر ایک تو ان کی اہمیت کے سبب سے ہے جس طرح عام کے بعد خاص کا ذکر ہوتا ہے۔ اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل، جیسا کہ بعض روایات سے واضح ہوتا ہے، میکائیل فرشتہ کو حضرت جبریل کے برعکس اپنا ہمدرد فرشتہ سمجھتے تھے۔ قرآن نے یہاں حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ حضرت میکائیل علیہ السلام کو بھی شامل کر کے یہ واضح کیا ہے کہ جبریل کا مخالف جس طرح اللہ اور اس کے تمام نبیوں اور رسولوں کا مخالف ہے اسی طرح وہ میکائیل کا بھی مخالف ہے اس لئے کہ خدا کے تمام فرشتوں اور تمام رسولوں کی ملت ایک ہے۔ جبریل اور میکائیل دونوں اسی ملت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی رقابت اور چشمک نہیں ہے کہ جبریل سے جن کی لڑائی ہو میکائیل سے دوستی گانٹھی رکھیں۔
فَاِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكٰفِرِينَ: کے ٹکڑے سے بیک وقت دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں اور اس کے فرشتوں کے مخالف اور دشمن ہیں وہ کافر ہیں اور دوسری یہ کہ اللہ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے۔ قرآن کے ایجاز بیان نے ان دونوں باتوں کو اس طرح سمیٹ دیا ہے کہ بات بھی پوری ہو گئی اورمخاطب کے لئے انکار اور بحث کی کوئی گنجائش بھی پیدا نہیں ہونے پائی ہے۔
Ayah 2:99خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے۔ آیات بیّنات سے مراد آپ کی نبوت ورسالت کی وہ واضح اور قطعی دلیلیں ہیں جو آپ پر نازل ہوئیں۔ عام اس سے کہ وہ قرآن کے مدلل بیانات کی صورت میں ہیں یا ان کارناموں، علامات، شواہد اور معجزات کی شکل میں جو آپ کے ذریعہ سے ظہور میں آئے۔ فرمایا کہ یہ چیزیں آپ کی نبوت کے ثبوت میں اس قدر واضح ہیں کہ جس کے اندر ذرا بھی معقولیت ہو وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا، صرف وہی لوگ ان کا انکار کر سکتے ہیں جو نافرمان اور عہد شکن ہوں۔
فسق کا اصلی مفہوم خدا کی نافرمانی ہے۔ نافرمانی چھوٹی بھی ہوسکتی ہے، بڑی بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بڑی سے بڑی نافرمانیوں کے لئے استعمال ہوا ہے ہمارے نزدیک اس کا یہی مفہوم یہاں بھی ہے سیاق سباق سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مطلب ہے کہ اگر بات دلائل وشواہد کی ہو تب قران کی صداقت واضح ہے لیکن جو لوگ خدا کے عہد و پیمان کو توڑ ڈالنے کا فیصلہ کر چکے ہوں ان کے نزدیل دلائل وشواہد کی کیا اہمیت ہے۔
Ayah 2:100یہ اسلوب کلام اظہار تعجب اور اظہار حسرت کا ہے۔ اوپر یہود کی عہد شکنیوں کا ذکر کرتے ہوئے بات یہاں تک پہنچی تھی کہ یہی عہد شکنی کی روش انہوں نے اس عہد کے معاملہ میں بھی اختیار کی ہے جو آخری کتاب اور آخری رسول سے متعلق ان سے لیا گیا تھا۔ پھر بانداز تعجب واظہار حسرت فرمایا کہ کیا ان کی یہی روش ہمیشہ باقی رہے گی کہ جب کبھی یہ خدا سے کوئی عہد باندھیں گے تو وقت آنے پر یہ اس کو توڑ تاڑ کے رکھ دیں گے۔ صرف تھوڑے سے لوگ اس پر قائم رہ سکیں گے۔ پھر اصل حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دینے کے بعد فرمایا کہ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوۡنَ یعنی ان کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو سرے سے ایمان ہی سے عاری ہیں۔ یہ تورات پر ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ایمان کسی چیز پر بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 2:101اوپر والی آیت میں یہود کی عہد شکنی کی جس روش کا ذکر ہوا ہے اس آیت میں اسی کی واقعاتی شہادت پیش کر دی گئی ہے کہ دیکھو جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آیا جو ان پیشین گوئیوں کے بالکل مطابق ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہیں تو ان کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا اس سے کبھی آشنا ہی نہیں ہیں۔
“رسول”سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ لفظ اگرچہ نکرہ کی صورت میں استعمال ہوا ہے لیکن بعد کی صفات اور سیاق وسباق سے مراد متعین ہو جاتی ہے۔ نیز اس سے رسول کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔
“کتاب اللہ”سے مراد تورات بھی ہو سکتی ہے اور قرآن بھی۔ تورات مراد لینے کی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ان اہل کتاب نے اہل کتاب ہو کر اللہ کی کتاب کو نبی آخرالزمان ﷺ کے معاملہ میں اس طرح نظر انداز کیا ہے گویا اس کو جانتے ہی نہیں۔ قرآن مجید مراد لینے کی صورت میں یہ مطلب ہو گا کہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ایک کتاب کو شناخت کرنے کے سب سے زیادہ اگر اہل تھے تو یہ تھے اس لئے کہ یہ ایک آسمانی کتاب کے وارث اور امین ہونے کے مدعی بھی تھے اور اس طرح کی ایک کتاب کے نزول کی ان کو پہلے خبر بھی تھی لیکن ضد اور حسد کا برا ہو کہ اہل کتاب ہو کر وہ اللہ کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک رہے ہیں گویا اس کو جانتے ہی نہیں۔