Ayah 2:178آیت 178 تا 179 کا خلاصہ مضمون : قیام امن و عدل کی دو بنیادیں : برّ وتقویٰ کی اصلی حقیقت واضح کرنے کے بعد ان معاملات کی طرف توجہ فرمائی جو اسی برّ وتقوی پر مبنی ہیں اور جن کی اس اعتبار سے بڑی اہمیت ہے کہ انہی پر معاشرہ کے امن و عدل اور اس کے تحفظ و بقا کا انحصار ہے۔ اگر ایک متوسط درجہ کا ذہن رکھنے والا آدمی بھی غور کرے گا تو وہ نہایت آسانی سے اس حقیقت تک پہنچ سکتا ہے کہ انسانوں اور انسانوں کے تعلقات کی استواری کی بنیاد اصلاً دو چیزوں پر ہے۔ ایک اس چیز پر کہ ہر شخص دوسرے کی جان کا احترام کرے۔ دوسرے اس چیز پر کہ ہر شخص دوسرے کے مال کا احترام کرے۔ اسی وجہ سے حرمت جان اور حرمت مال کے قانون کو ہمیشہ سے دوسرے تمام قوانین پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ اسی اصل کے تحت، جو تمام تر فطرت انسانی پر مبنی ہے، قرآن نے بھی برّ اور تقوی کی بنیاد استوار کرنے کے بعد سب سے پہلے احترام جان کے قانون کو لیا اور قصاص کو پورے معاشرے کی ذمہ داری قرار دیا۔ یعنی اگر کوئی شخص قتل ہوگیا ہے تو یہ صرف اس کے عزیزوں اور رشتہ داروں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اس کے قاتل کا کھوج لگائیں اور اس کو سزا دیں بلکہ پورے معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا تعاقب کرے اور اس کو کیفر کردار کو پہنچائے۔ گویا ایک شخص کا قتل ہونا سب کا قتل ہونا اور اس کا زندہ ہونا سب کا زندہ ہونا ہے۔ قصاص کا یہ قانون موجود تو اہل کتاب کے ہاں بھی تھا اور اہل عرب کے ہاں بھی۔ مگر انہوں نے جس طرح یہ قانون کی روح کچل کے رکھ دی تھی اسی طرح اس قانون کی روح بھی ختم کردی تھی۔ اس قانون کی اصل روح بےلاگ انصاف اور کامل مساوات ہے۔ یعنی اس معاملے میں ادنی و اعلی، امیر و غریب، شریف ووضیع اور آقا و غلام سب ایک ہی سطح پر رکھے جائیں اور قانون اور عدالت، ہر ایک کے ساتھ بالکل یکساں معاملہ کریں۔ لیکن یہ بات نہ اہل کتاب کے یہاں باقی رہ گئی تھی نہ اہل عرب کے یہاں بلکہ یہ کہنا بھی شاید بےجا نہیں ہے کہ آج بھی تہذیب و تمدن کی اس ترقی کے باوجود، دنیا کے کسی ملک اور کسی قانون میں بھی احترام جان اور مساوات کا یہ تصور نہیں پایا جاتا جو قرآن نے پیش کیا ہے۔
تفسیر : قصاص کا مفہوم : قصاص، قصص سے ہے جس کے اصل معنی کسی کے پیچھے، اس کے نقش قدم کے ساتھ ساتھ چلنے کے ہیں۔ مثلاً“ وَقَالَتْ لأخْتِهِ قُصِّيهِ فَبَصُرَتْ بِهِ عَنْ جُنُبٍ وَهُمْ لا يَشْعُرُونَ : اور اس نے اس کی بہن سے کہا، اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وہ دور سے اس کو دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوا ”(قصص :11)۔ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا : اس نے کہا یہی تو ہمیں مطلوب تھا، پس دونوں اپنے نقش قدم کا تعاقب کرتے ہوئے پیچھے پلٹے، (کہف :64)۔ پس وہ دونوں اپنے نقش قدم کا تعاقب کرتے ہوئے پیچھے پلٹے۔ اسی سے قصہ کو قصہ کہتے ہیں۔ کیونکہ جس کا قصہ بیان کیا جاتا ہے، قصہ بیان کرنے والا گویا اس کے قدم بقدم اس کے حالات کا تعاقب کرتا ہے۔ اسی سے قصاص نکلا اس لیے کہ قاتل کا بھی کھوج لگایا جاتا اور اس کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ پھر قصاص اس سزا کو کہنے لگے جس میں مجرم کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے جس کا مرتکب وہ خود ہوا ہے۔ اس قصاص کی دو صورتیں ہیں۔ ایک جانی، دوسری مالی جس کو دیت یا خونبہا کہتے ہیں۔ قصاص کا لفظ اپنے وسیع معنی میں ان دونوں ہی صورتوں پر حاوی ہوجاتا ہے اس لیے کہ دیت بھی درحقیقت قصاص ہی کی ایک شکل ہے۔ اصل قانون تو جان کے بدلے جان ہی کا ہے۔ لیکن اولیائے مقتول کی بہبود کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں اتنی رعایت فرما دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو جان کے بدلے دیت بھی لے سکتے ہیں۔ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي میں کُتِبَ کے بعد علی کا استعمال اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں اس کے اندر فرضیت اور وجوب کا مضمون موجود ہے۔ قَتْلٰی، قتیل کی جمع ہے جس کے معنی مقتول کے ہیں یہ لفظ مذکر اور مونث دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب : یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوگا کہ اگر کُتِبَ عَلَیْکُمْ سے قصاص کی فرضیت ثابت ہوتی ہے تو اس حکم کا مخاطب کون ہے ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ بات اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ قصاص کا معاملہ قابل راضی نامہ ہے۔ اگر مقتول کے ورثا چاہیں تو قاتل کو قتل بھی کرسکتے ہیں، چاہیں تو دیت بھی لے سکتے ہیں، چاہیں تو کچھ معاف بھی کرسکتے ہیں، تو جب وہ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں یہ کہنے کے کیا معنی کہ ”تم پر قصاص لینا فرض کیا گیا ہے ”۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس حکم کا مخاطب پورا اسلامی معاشرہ بحیثیت مجموعی یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت ہے۔ اس کے اوپر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ اس کے علاقہ میں اگر کوئی قتل ہوجائے تو اس کے قاتلوں کا سراغ لگائے، ان کو گرفتار کرے اور قانون کے مطابق ان پر سزا نافذ کرے۔ یہ ذمہ داری معاشرہ یا حکومت پر اس اصول کے تحت ڈالی گئی ہے کہ جو شخص کسی شخص کو بغیر کسی حق کے قتل کردیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص ہی کا قاتل نہیں ہے بلکہ سب کا قاتل ہے اس لیے کہ اس نے تحفظ جان کے اس قانون کو ہدم کردیا ہے جو سب کے لیے حرمت جان کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس وجہ سے یہ پورے معاشرے اور پورے نظام اجتماعی کی ذمہ داری ٹھہری کہ سب اس کے قصاص کے درپے ہوں اور اس وقت تک دم نہ لیں جب تک حرمت جان کے اس قانون کو زندہ کر کے سب کی زندگی کی ضمانت کو بحال نہ کرلیں۔ اسی حقیقت کی طرف سورة مائدہ میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے“ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا : کہ جس نے کسی جان کو، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان ماری ہو یا زمین میں فساد مچایا ہو، قتل کردیا تو گیوا اس نے سارے ہی لوگوں کو قتل کردیا اور جس نے اس کو زندہ کیا تو گویا سب کو زندہ کیا ”(مائدہ :32)۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قصاص کی اصل ذمہ داری حکومت ہی پر ہونی چاہیے نہ کہ قتول کے وارثوں پر۔ اس لیے کہ اس کا بھی امکان ہے کہ ایک شخص قتل ہوجائے اور اس کا کوئی والی وارچ نہ ہو، اس کا بھی اکان ہے کہ ایک شخص کے کچھ ورثا ہوں تو سہی لیکن کسی سبب سے ان کو مقتول کے قصاص کے معاملہ سے کچھ دلچسپی نہ ہو۔ بلکہ امکان تو خاصی حد تک اس بات کا بھی ہے کہ ورثا کی اصل ہمدردی اور دلچسپی کس سبب سے مقتول کے بجائے قاتل اور اس کے شرکائے کار ہی کے ساتھ ہوجائے۔ علاوہ ازیں کسی اس طرح کے معاملہ میں تحقیق و تفتیش کی ذمہ داریاں اور پھر حدود کی تنفیذ بڑے وسیع اختیارات کی مقتضی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے جہاں تک قصاص لینے کے فرض کا تعلق ہے وہ تو اسلامی حکومت ہی پر عائد کیا ہے لیکن اس سلسلے میں اس نے حکومت پر یہ پابندی بھی عائد کردی ہے کہ وہ بجائے خود فیصلہ کرنے کے مقتول کے اولیاء کو یہ اختیار دے دے کہ وہ اسلامی قانون کے حدود کے اندر مجرم کے ساتھ جو معاملہ پسند کریں وہ کرلیں۔ خواہ اسے قتل کردیں، خواہ اس سے خونبہا قبول کرلیں۔ ورثا کو یہ اختیار دے دینا اور ان کے اختیار کو نافذ کردینا حکومت کو اس فرض سے سبکدوش کردے گا جو اس پر كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي کی رو سے عائد ہوتا ہے۔
قصاص میں اولیائے مقتول کی مرضی کے لحاط کی حکمت : قصاص کے معاملہ میں مقتول کے اولیاء کی مرضی کو اسلام نے یہ اہمیت جو دی ہے، یہ مختلف پہلوؤں سے نہایت حکیمانہ ہے۔ قاتل کی جان پر مقتول کے وارثوں کو براہ راست اختیار مل جانے سے ایک تو ان کے بہت بڑے زخم کے اندمال کی ایک شکل پیدا ہوتی ہے، دوسرے اگر اس صورت میں یہ کوئی نرم رویہ اختیار کریں تو قاتل اور اس کے خاندان پر یہ ان کا براہ راست احسان ہوتا ہے جس سے نہایت مفید نتائج کی توقع ہوسکتی ہے، تیسرے دیت کی شکل میں مقتول کے ورثا کی، بالخصوص جب کہ وہ غریب ہوں، ایسی مدد ہوجاتی ہے جس سے ان کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔ اگر ورثا کو اس میں کوئی دخل نہ رہا جائے، سارا اختیار پولیس اور عدالت ہی کو سونپ دیا جائے جیسا کہ موجودہ قوانین میں ہے تو وہ ان تمام فوائد سے یکسر محروم ہوجاتے ہیں جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا لیکن ان کے اس حق کے تسلیم کیے جانے باوجود قصاص کی اصل ذمہ دار اور اس کی نافذ کرنے والی ہے حکومت ہی۔ اس وجہ سے اگر وہ کسی خاص معاملہ میں محسوس کرے کہ وارثوں کی سرد مہری یا ان کی قاتلوں کے ساتھ ہمدردی کی وجہ سے قصاص کا حق ادا نہیں ہورہا ہے جس سے حرمت جان کا قانون متاچر ہورہا ہے تو وہ اس نقصان سے قانون کو بچانے کے لیے مناسب اقدام کرے گی۔
قصاص میں مساوات کا اہتمام :“ آزاد ”آزاد کے بدلے، غلام، غلام کے بدلے، عورت، عورت کے بدلے ”: یہ اس کامل مساوات کا بیان ہے جو قصاص میں لازماً ملحوط رکھنی ہے۔ یعنی اگر ایک آزاد نے دوسرے آزاد کو قتل کیا ہے تو النفس بالنفس کے قانون کے بموجب وہ آزاد ہی اس آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا اور بصورت خونبہا ایک آزاد ہی کی دیت اس کے بدلے میں واجب ہوگی۔ عرب جاہلیت کے طریقہ کے مطابق یہ نہیں ہوگا کہ مقتول کے ورثا اپنی شرافت و برتری کے زعم میں یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنے ایک مقتول کے بدلے میں قاتل کے خاندان کے دو یا اس سے زیادہ آزادوں کو قتل کریں گے، یا عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کریں گے یا غلام کے بدلے میں آزاد کو قتل کریں گے یا بصورت دیت عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر وصول کریں گے یا غلام کی دیت آزاد کی دیت کے معیار سے لیں گے۔ اسی طرح قاتل اور اس کے خاندان و قبیلہ والوں کو بھی اپنی شرافت و نجابت اور برتری کے زعم میں یہ دعوی کرنے کا حق نہیں ہے کہ ہمارا غلام دوسروں کے آزاد کا کفو یا ہماری ایک عورت دوسروں کے مرد کے برابر ہے اس وجہ سے ہم قصاص جانی یا مالی میں اسی نسبت کا لحاظ کرتے ہوئے مقتول کے ورثا سے معاملہ کریں گے۔ اسلام نے اس کامل مساوات کا اعلان کر کے زمانہ جاہلیت کی مذکورہ تمام برابریوں کا خاتمہ کردیا۔ یہود نے بھی اس معاملے میں شریک و رذیل اور اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کے درمیان امتیاز قائم کر رکھا تھا۔ اس اعلان سے اس امتیاز کی بنیاد بھی ڈھے گئی۔ ایک طرف اسلام کے اس قانون کو ملاحظہ فرمائیے، جو چودہ سو سال سے اسلا کی کتاب تعزیرات میں موجود ہے، دوسری طرف عدل و مساوات کے علمبردار امریکہ میں کالوں اور گوروں کے اس امتیاز پر نظر ڈالیے جو زندگی کے ہر شعبہ میں آج اس بیسویں صدی میں بھی برتا جا رہا ہے۔
فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ : یعنی اگر مقتول کے ورثا کی طرف سے قاتل کو کچھ جھوٹ دے دی جائے تو اس کو چاہیے وہ اس کی قدر کرے۔ اس چھوٹ کی شکل یہی ہوسکتی ہے کہ وہ قصاص جانی کے بجائے قصاص مالی پر راضی ہوجائیں تو قاتل اور اس کے خاندان والوں کا فرض ہے کہ وہ احسان مندی اور شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ معروف کے بموجب دیت ادا کریں اور ادائیگی نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کریں۔ معروف سے مراد یہاں اہل عرب کا رواج اور دستور ہے جس کو دیت کے معاملے میں اسلام نے قانون کی حیثیت دے دی۔ حسن و خوبی کے ساتھ ادائیگی کی تاکید اس لیے فرمائی کہ عرب میں دیت کی ادائیگی بالعموم نقد کی صورت میں نہیں بلکہ جنس و مال کی شکل میں ہوتی تھی۔ اس وجہ سے اگر ادائیگی کرنے والوں کی نیت اچھی نہ ہوتی تو وہ اس میں بہت کچھ چالیں چل سکتے تھے۔ یہ بات بڑی آسانی سے ممکن ہے کہ اونٹوں یا بکریوں کی تعداد یا غلہ اور کھجور کی مقدار و کمیت کے لحاظ سے تو دیت کا مطالبہ پورا کردیا جائے لیکن باعتبار حقیقت و کیفیت اس کی حیثیت محض خانہ پری ہی کی ہو۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان لوگوں کے احسان کی کوئی قدر نہیں کی گئی جنہوں نے ایک شخص کی جان پر شرعی اختیار پا کر اس کو معاف کردیا اور اس کی طرف سے مال قبول کرلینے پر راضی ہوگئے۔ ان کے احسان کا جواب تو احسان ہی ہونا چاہیے۔ یعنی دیت کی ادائیگی اس خوبی، فیاضی اور کشادہ دلی کے ساتھ کی جائے کہ ان کو یہ صدمہ نہ اٹھانا پڑے کہ انہوں نے اپنے ایک عزیز کے خون کے بدلے میں بھیڑ بکریاں قبول کر کے کوئی غلطی یا بےغیرتی کی۔
قصاص کے حکم کے تحت یہاں بغیر کسی سابق قرینہ کے جو خونبہا کا ذکر آگیا ہے تو اس کی بڑی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے یعنی قصاص کا لفظ اپنے عام مفہوم میں قصاص جانی اور قصاص مالی دونوں ہی پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ چھوٹ ملنے کے معنی جیسا کہ فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ کے الفاط سے واضح ہے، یہ ہے کہ اولیائے مقتول جان کے بدلے جان لینے کے بجائے رواج کے مطابق خونبہا لینے پر راضی ہوجائیں۔ یہ خونبہا کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رعایت و رحمت ہے۔ حرمت جان کا اصل حق تو یہی تھا کہ جان کے بدلے جان لی جاتی لیکن یہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مہربانی سے اس میں رعایت فرما دی ہے تو اس رعایت کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔۔ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : یعنی جو لوگ اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کے بعد کسی ظلم و زیادتی کی راہ کھولیں گے تو وہ یاد رکھیں کہ پھر ان کے لیے آخرت کا عذاب دردناک ہی ہے جس سے چھڑانے والی کوئی چیز بھی نہیں ہوگی۔ اس میں قاتل اور اس کے خاندان والوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کے بعد یہ انتہائی کفرانِ نعمت ہوگا کہ اس کے پردے میں مقتول کے خاندان پر کسی نئے ظلم کے لیے اسکیم بنائی جائے۔ مثلاً یہ کہ قاتل اور اس کے اعزا یہ منصوبہ بنائیں کہ اس وقت تو کسی طرح مقتول کے ورثا کو راضی کر کے اپنی جان بچا لو پھر موقع پیدا کر کے اس کو مزید نقصان پہنچائیں گے اسی طرح اس میں مقتول کے وارثوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ انہیں اپنے دل میں یہ منصوبہ رکھ کے دیت کا راضی نامہ نہیں کرنا چاہیے کہ اس وقت تو قاتل سے دیت لے لیتے ہیں، بعد میں موقع ملنے پر اس کی جان بھی ٹھکانے لگا دیں گے۔ خدا کی بخشی ہوئی ایک رعایت کے تحت جو راضی نامہ ہوگیا ہے، دونوں فریقوں کو سچے دل سے اس کا احترام کرنا چاہیے، جو بھی یہ راضی نامہ ہوچکنے کے بعد کوئی زیادتی کرے گا وہ اللہ کے غضب کا مستحق ٹھہرے گا۔
Ayah 2:179قانون جذبات سے بالا تر ہے : یہ معاشرہ کو تلقین ہے کہ قصص کے معاملہ میں کسی سہل انگاری، کسی جانب داری، کسی چشم پوشی اور کسی بےجا رحم و مروت کو حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جو کسی کو قتل کردیتا ہے وہ صرف ایک شخص ہی کو قتل نہیں کرتا بلکہ ایک قانون کو قتل کرتا ہے جو سب کی جان کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اس وجہ سے وہ گویا سب ہی کو قتل کردیتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا قصاص لے کر اس ضمانت کو بحال کریں جس میں سب کی زندگی ہے۔ معاشرے کا جو شخص کسی قاتل کو پکڑتا ہے، یا اس کا سراغ لگاتا ہے یا اس کے جرم کے ثبوت فراہم کرتا ہے اور اس طرح مقتول سے قصاص کی راہ کھولتا ہے وہ گویا اس مقتول کو بھی زندہ کرتا ہے اور ساتھ ہی پورے معاشرے کو بھی زندگی بخشتا ہے کیونکہ وہ اپنی اس خدمت سے اس قانون کو زندہ کرتا ہے جو سب کے لیے زندگی ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کی طرف سورة مائدہ میں یوں اشارہ فرمایا ہے جس کا حوالہ اوپر بھی گزر چکا ہے“ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا : یہ کہ جس نے قتل کردیا کسی جان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی جان کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سب کو قتل کردیا اور جس نے اس کو زندہ کیا تو گویا اس نے سب ہی کو زندہ کیا ”(مائدہ :32)۔ اس میں ان لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے جو بےجا قسم کی مروت و پاسداری یا ناروا قسم کے احترام شرافت و امارت کے جذبے کے تحت بسا اوقات مقتول کے بجائے قاتل ہی کی ہمدردی کو ثواب قرار دے بیٹھتے ہیں حالانکہ اصلی ہمدردی ہر ایک کے ساتھ، غریب ہو یا امیر، شریف ہو یا رذیل، قریب ہو یا بعید، جیسا کہ سورة نساء کی آیت 135 میں ہے، یہی ہے کہ اس کو خدا اور اس کے قانون کے حوالہ کیا جائے نہ کہ خدا کے قانون سے چھڑا کر شیطان کے حوالہ، لیکن اس حقیقت کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اہل عقل ہیں۔ اس وجہ سے آیت میں اہل عقل کو خاص طور پر خطاب فرمایا ہے۔
کیا تعزیرات خلاف عقل ہیں ؟ اہل عقل کو خاص طور پر توجہ دلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح جذبات بعض اوقات قانون قصاص کے نفاذ میں مزاحم ہوتے ہیں اسی طرح جذبات سے مرعوب و مغلوب عقل میں بھی اس قانون کی اصلی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں تو تمام جسمانی سزاؤں کے خلاف ایک مستقل فلسفہ بن گیا ہے جس کو پیش تو کیا جاتا ہے عقلیت اور فلسفہ کے روپ میں لیکن تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر بھی اصلی روح عقل کی نہیں بلکہ جذبات ہی کی ہے۔ ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ مجرموں سے جو جرم سرزد ہوتے ہیں وہ اصلاً جذباتی بےاعتدالی، عقلی عدم توازن اور ذہنی انتشار اور الجھاؤ کے نتیجہ میں صادر ہوتے ہیں اور یہ حالتیں آدمی کی بیماری کی حالتیں ہیں جن میں وہ مستحق اصلاح و تربیت اور علاج و دوا کا ہوتا ہے نہ کہ سزا کا۔ اس وجہ سے اس گروہ کے نزدیک کسی قاتل کو قتل کی سزا دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی مریض کو بیمار ہونے پر اس کے علاج کے بجائے کوئی سزا دے دینا۔ اس گروہ کے نزدیک اس طرح کے مجرموں یا خود ان کے الفاظ میں اس طرح کے مریضوں کا علاج تعلیم و تربیت اور اصلاح نفسی و ذہنی کے ذریعہ سے ہونا چاہیے نہ کہ سولی اور پھانسی سے۔ یہ نظریہ موجود تو دنیا میں ایک خاص گروہ میں شروع سے رہا ہے لیکن اس کو عملی اعتبار سے کبھی اہمیت حاصل نہیں ہوسکی اور نہ شاید کبھی حاصل ہوسکے۔ تاہم اس دور آخر میں چونکہ ٹالسٹائی اور مہاتما گاندھی جیسے لوگوں نے اس کی وکالت کی ہے اس وجہ سے بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہن اس سے متاثر ہیں۔ ایسے لوگوں کی الجھن دور کرنے کے لیے قانون قصاص کی اس حکمت کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے خاص طور پر اہل عقل کو مخاطب کر کے یہ فرمایا ہے کہ اس کے اندر زندگی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ زندگی فرد کے لحاظ سے نہیں بلکہ معاشرے کے لحاظ سے ہے۔ اگر ایک شخص قتل کے جرم میں قتل کردیا جاتا ہے تو بظاہر تو ایک جان کے بعد یہ دوسری جان بھی گویا تلف ہی ہوتی ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اگر دیکھیے تو اس کے قتل سے پورے معاشرے کے لیے زندگی کی ضمانت پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس سے قصاص نہ لیا جائے، تو یہ جس ذہنی خرابی میں مبتلا ہو کر ایک بےگناہ کے قتل کا مرتکب ہوا ہے وہ خرابی پورے معاشرے میں متعدی ہوجائے بیماری اور بیماری میں فرق ہوتا ہے۔ جو بیماریاں قتل، ڈکیتی، چوری اور زنا وغیرہ جیسے خطرناک جرائم کا سبب بنتی ہیں ان کی مثال ان بیماریوں کی ہے جن میں پورے جسم کو بچانے کے لیے بسا اوقات جسم کے کسی عضو کو کاٹ کر الگ کردینا پڑتا ہے۔ اگرچہ کسی عضو کو کاٹ پھینکنا ایک سنگ دلی کا کام معلوم ہوتا ہے لیکن ایک ڈاکٹر کو یہ سنگ دلی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ طبیعت پر جبر کر کے یہ سنگ دلی اختیار نہ کرے تو اس میں ایک عضو کی ہمدردی میں اسے مریض کے پورے جسم کو ہلاکت کے حوالہ کرنا پڑے گا۔ معاشرہ اپنی مجموعی حیثیت میں ایک جسم سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس جسم کے بعض اعضا میں بھی بسا اوقات اسی قسم کا فساد و اختلال پیدا ہوجاتا ہے جس کا علاج مرہم و ضماد سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ عضو مریض پر آپریشن کر کے اس کو جسم کے مجموعے سے الگ کردینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ یہ عضو مریض ہے اس وجہ سے نری اور ہمدردی کا مستحق ہے تو اس نرمی کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ایک دن یہ عضو سارے جسم کو سڑٓ اور گلا کر رکھ دے۔ یہی نکتہ ہے کہ قرآن مجید نے اس قسم کی سزاؤں کو، جو سخت نوعیت کی ہیں ، ‘ نکال ’ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ نکال، عربی میں اس سزا کو کہتے ہیں جو دوسرے کو عبرت دلانے والی ہو۔ جس کو دیکھ کر دوسرے نصیحت پکڑیں اور اس قسم کے جرم کے ارتکاب سے باز رہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی سزائیں نافذ کر کے گویا پورے معاشرہ کو ایسے ٹیکے لگا دئیے جاتے ہیں جس سے وہ متعدی جراثیم کے اثرات سے محفوظ ہوجائے۔ اسی حقیقت کی طرف یہاں بھی قرآن نے لعلکم تتقون کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے جس کے معنی ہیں تاکہ تم بچو یعنی اللہ کے حدود کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے پر ظلم وتعدی سے بچو۔
Ayah 2:180آیات 180 تا 182 کا خلاصہ مضمون : حرمت جان کے اس قانون کے بعد حرمت مال کے قانون کی طرف توجہ فرمائی۔ یہ دونوں مضمون قرآن و حدیث دونوں میں بالعموم ساتھ ساتھ آتے ہیں اور عقل و فطرت میں بھی ان دونوں کے درمیان بڑا قریبی رشتہ ہے۔ حرمت مال کے سلسلے میں بنیادی چیز یہ ہے کہ ایک قانون کے تحت ہر شخص کے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے حقق متعین و مھفوط ہوں اور دوسرے ان حقوق کا احترام کریں۔ اہل عرب میں اگرچہ معروف کے تحت والدین اور اعزا و اقربا کے حقوق کا فی الجملہ تعین تھا لیکن ان کی زندگی کے ہر پہلو میں جس طرح خرابیاں پید اہوگئیں اسی طرح اس پہلو میں بھی فساد رونما ہوا اور ان کے زور آور لوگوں میں کمزور وارثوں اور حق داروں کے حقوق ہڑپ کرنے کا رجحان اس شدت کے ساتھ زور پکڑ گیا کہ معروف کی ان کے ہاں کوئی قدر و قیمت ہی باقی نہیں رہ گئی۔ سورة فجر میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے وتاکلون التراث اکلا لما (اور تم وراثت کو سمیٹ کر کھاتے ہو) یہ صورت تقاضا کر رہی تھی کہ قانون کے ذریعہ سے اعزا و اقربا کے حقوق کا تعین کر کے ان کی حفاظت کا سامان کیا جائے لیکن اس سورة کے زمانہ نزول تک معاشرہ ابھی اتنا مستحکم نہیں ہوا تھا کہ تقسیم وراثت کا وہ مستقل قانون نافذ ہوسکے جو سورة نساء میں ہے، اس وجہ سے عبوری دور کے یے مورثوں کو دستور کے مطابق والدین اور قرابت مندوں کے لیے وصیت کی ہدایت ہوئی اور وارثوں کو اس وصیت کی تعمیل کی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حقوق کے تعین سے متعلق خود اپنی وہ وصیت نازل فرما دی جو سورة نساء میں مذکور ہے تو بندوں کی وصیت منسوخ ہوگئی، صرف اللہ تعالیٰ کی وصیت باقی رہ گئی۔ پھر بندوں کے لیے وصیت کا حق صرف ایک محدود دائرہ کے اندر رہ گیا جس کا ذکر سورة نساء کی مذکورہ آیت کے تحت آئے گا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
‘ وصیت ’ کا مفہوم : كُتِبَ عَلَيْكُمْ فرض کردینے کے معنی میں قرآن اور کلام عرب دونوں میں معروف ہے۔ وصیت کے لفظ کی تحقیق پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے کہ عربی میں یہ لفظ کسی بڑے کی طرف سے چھوٹوں کو تلقین و ہدایت کے معنی میں آتا ہے۔ عام اس سے کہ یہ تلقین و ہدایت کوئی شخص اپنے آخری وقت میں کرے یا عام حالات میں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں، قرآن میں ان کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہاں لفظ وصیت چونکہ مصدری معنی میں ہے، نیز اپنے فعل سے فاصلہ پر واقع ہے، اسی وجہ سے تذکیر و تانیث کا لحاظ نہ تو فعل میں ضروری ہوا نہ بعد کی ضمیروں ہی میں۔ اس وصیت کی فرضیت کے ساتھ دو شرطیں لگائی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اس وقت کرے جب اسے اپنی موت قریب ہوتی نظر آنے لگے اور دوسری یہ کہ جب وہ کچھ مال اپنے پیچھے چھوڑ رہا ہو۔ پہلی شرط کا ذکر“ اذا ”کے ساتھ کیا ہے اس لیے کہ موت کا مرحلہ سب کو پیش آتا ہے۔ دوسری کا ذکر ‘ ان ’ کے ساتھ کیا ہے اس لیے کہ مال کا ہونا ہر ایک کے پاس ضروری نہیں۔ ‘ ان ’ اور ‘ اذا ’ کے استعمال کا یہ فرق عربی زبان کے طلبہ سے مخفی نہیں۔ وصیت میں یہ دونوں پہلو بڑی اہمیت رکھنے والے ہیں۔ جو لوگ اپنی چلتی پھرتی زندگی میں وصیت کردیتے ہیں وہ بسا اوقات بڑی الجھنوں میں پڑجاتے ہیں اور جو لوگ مال رکھتے ہوئے وصیت سے گریز کرتے ہیں وہ بسا اوقات اپنے پیچھے جھگڑے چھوڑ جاتے ہیں۔
خیر کے اصل معنی مطلوب و مرغوب شے کے ہیں اس وجہ سے علم، عقل، حکمت، عدل، نیکی اور بھلائی سب کے لیے اس کا استعمال ہے۔ پھر یہیں سے یہ مال کے لیے بھی استعمال ہونے لگا اس لیے کہ مال بھی ایک مرغوب و مطلوب شے ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کئی جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حوالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن نے مال کے لیے اس لفظ کو کو اختیار کر کے گویا بالواسطہ اس غلط فہمی کی اصلاح کردی ہے جو عام طور پر رہبانی تصور کے زیر اثر لوگوں میں پھیلی ہوئی تھی کہ مال فی نفسہ ایک ناپاک و نجس چیز ہے اس وجہ سے اللہ والوں کے لیے اس سے آلودہ ہونا جائز نہیں۔
معروف، کے لغوی معنی جانی پہچانی ہوئی چیز کے ہیں، یعنی جس کو عقل مانتی ہو، جو عدل پر پوری اترتی ہو، اچھے لوگ جسے پہچانتے ہوں، سوسائٹی کے شریفوں میں جس کا چلن اور رواج ہو۔ یہ معروف بہت سے معاملات میں اسلامی قانون کا درجہ رکھتا ہے اور اس حیثیت سے قرآن میں اس کا جگہ جگہ حوالہ آیا ہے۔ اوپر دیت کے سلسلہ میں بھی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ قانون کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو معروف پر مبنی ہے، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر مبنی ہے۔ جس چیز کے بارے میں خدا کا قانون موجود نہ ہو اس میں معروف معتبر ہوتا ہے لیکن جس باب میں خدا کا قانون نازل ہوگیا اس میں معروف کا اعتبار ختم ہوگیا۔ اس لیے کہ سورج کے طلوع ہوجانے کے بعد ستاروں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
یہ حکم وصیت عبوری دور کے لیے تھا : اس آیت میں والدین اور اقربا کے لیے جو وصیت کا حکم دیا گیا وہ معروف کے تحت تھا اور اس عبوری دور کے لیے تھا جب کہ اسلامی معاشرہ ابھی اس استحکام کو نہیں پہنچا تھا کہ تقسیم وراثت کا وہ آخری حکم دیا جائے جو سورة نساء میں نازل ہوا۔ اس حکم کے نزول کے لیے حالات کے ساز گار ہونے سے پہلے یہ عارضی حکم نازل ہوا اور اس سے دو فائدے پیش نظر تھے۔ ایک تو فوری طور پر ان حصہ داروں کے حقوق کا ایک حد تک تحفظ جن کے حقوق عصبات کے ہاتھوں تلف ہو رہے تھے۔ اور دوسرے اس معروف کو از سرِ نو تازہ کرنا جو شرفائے عرب میں زمانہ قدیم سے معتبر تھا لیکن اب وہ آہستہ آہستہ جاہلیت کے گرد و غبار کے نیچے دب چلا تھا تاکہ یہ معروف اس قانون کے لیے ذہنوں کو ہموار کرسکے جو اس باب میں نازل ہونے والا تھا۔۔
اور وصیت کے متعقل فرمایا کہ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ۔ حقاً فعل محذوف کی تاکید کے لیے ہے۔ یعنی یہ تمام اہل ایمان پر جو خدا سے ڈرنے والے ہیں واجب اور ضروری ہے، جو اس سے گریز کریں گے ان کے سینے خوفِ خدا سے خالی ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس عبوری مدت میں، جو اصل قانونِ وراثت سے پہلے گزری، ہر مسلمان پر اس کی تعمیل ضروری تھی۔ اس کی حیثیت صرف ایک نیکی اور فضیلت کی نہیں تھی۔
Ayah 2:181شاہدوں کی عظیم ذمہ داری : چونکہ اس قانون کے ٹھیک ٹھیک نفاذ کا تمام تر انحصار شاہدوں اور گواہوں کی امانت و دیانت ہی پر تھا، شریعت میں وارثوں کے حقوق کا ابھی تعین نہیں ہوا تھا۔ اس وجہ سے شاہدوں کی عظیم ذمہ داری واضح فرما دی کہ اگر وہ صاحب وصیت کی وصیت میں کوئی رد و بدل کریں گے تو اس کا سارا بار گناہ انہی کے سر ہوگا۔ اس کی کوئی ذمہ داری نہ تو صاحب وصیت پر عائد ہوگی نہ اس کو نافذ کرنے والوں پر، سمیع وعلیم کی صفات کے حوالہ میں تبدیلی کی جسارت کرنے والوں کے لیے تنبیہ اور دھمکی ہے کہ وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے، وہ اس جرم عظیم کی سزا دئیے بغیر نہ رہے گا۔
Ayah 2:182‘ خوف ’ کے معنی : خوف کے اصل معنی گمان کرنے، خیال کرنے، توقع کرنے، اندیشہ کرنے کے ہیں۔ پھر یہیں سے یہ ڈرنے کے معنی کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ایک حماسی شاعر کا شعر ہے۔ ولو خفت انی ان کففت تحیتی۔ تنکب عنی رمت ان یتنکبا (اگر مجھے توقع ہوتی کہ میں بڑھاپے کا خیر مقدم نہ کروں گا تو وہ مجھ سے رک جائے گا تو میں اپنے خیر مقدم سے باز رہ کر اس کو روکنے کی کوشش کرتا)۔ یہاں زیر بحث آیت میں یہ لفظ اندیشہ گمان اور علم ہی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ صاحب کشاف نے اس معنی کی طرف اشارہ تو کیا ہے لیکن اس کی کوئی دلیل نہیں دی ہے۔ ہم نے اس کی دلیل پیش کردی ہے۔
‘ جنف ’ کے معنی : جَنَفٌ کے اصل معنی مائل ہونے کے ہیں لیکن اس کا غالب استعمال نیکی اور حق سے ہٹ کر برائی اور ناانصافی کی طرف مائل ہونے کے لیے ہے۔ آیت میں یہ بےجا پاسداری اور ناروا جانب داری کے لیے استعمال ہوا۔ ہے۔“ اثم ”کے معنی : اثم میں اصلا تاخر یعنی پیچھے رہ جانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چناچہ آثمہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تھک جانے کی وجہ سے پیچھے رہ جائے۔ پھر یہ لفظ ادائے حقوق میں پیچھے رہ جانے کے لیے استعمال ہوا، عام اس سے کہ وہ خدا کے حقوق ہوں یا بندوں کے۔ اپنے اس مفہوم کے لحاظ سے یہ بِر کا ضد ہے۔ بِر کا اصل مفہوم، جیسا کہ ہم آیت 177 کے تحت واضح کرچکے ہیں، ایفائے حق ہے۔ یہ لفظ عدوان کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے کہ حقوق کے معاملہ میں گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک کوتاہی اور حق تلفی کی نوعیت کے، دوسرے دست درازی اور تعدی کی نوعیت کے۔ پہلی قسم کے لیے اثم کا لفظ ہے۔ دوسری کے لیے عدوان کا۔ آیت زیر بحث میں یہ لفظ جنف کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ جنف کے معنی ہم واضح کرچکے ہیں کہ جانب داری کے ہیں اس کے بالمقابل اثم کا ٹھیک مفہوم حق تلفی کا ہوگا۔ اور ایک نا منصف وصیت کرنے والے سے انہی دونوں باتوں میں سے کسی ایک بات کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ یا تو وہ وارثوں میں سے کسی ایک کی جانبداری کرے گا یا کسی کی حق تلفی کا مرتکب ہوگا۔
تبدیلی کی ممانعت اصلاح کی ممانعت کے ہم معنی نہیں ہے : اوپر والی آیت میں وصیت کرنے والے کی وصیت میں کسی تبدیلی کرنے کی نہایت شدت کے ساتھ ممانعت فرمائی گئی تھی، اب اس آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ تبدیلی کی یہ ممانعت اصلاح کی ممانعت کے ہم معنی نہیں ہے۔ اگر کسی وصیت کرنے والے کے اندر جانب داری یا حق تلفی کا رجحان محسوس ہورہا ہے یا اس کی وصیت واضح طور پر جانب داری اور حق تلفی کا پہلو لیے ہوئے ہے تو وصیت کے گواہوں کی طرف سے اس جانب داری اور حق تلفی کی اصلاح کی کوشش اس تبدیلی کے حکم میں نہیں ہے جس کی ممانعت کی گئی ہے بلکہ یہ چیز جائز ہے۔ البتہ یہ اصلاح انہیں بطور خود کردینے کا حق نہیں ہے بلکہ اس کے لیے انہیں فریقوں کے درمیان سمجھوتے اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اگر اس کا موقع ہے کہ خود وصیت کرنے والے کو سمجھا بجھا کر عدل و انصاف کی راہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے تو یہ راہ اختیار کی جائے ورنہ بصورت دیگر وارثوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوشش کی جائے۔ یہ مفہوم فَاَصْلَحَ بَینَھُم کے الفاظ سے نکلتا ہے۔ اس لیے کہ ان الفاظ کا واضح مفہوم ان کے درمیان مصالحت کرا دینا ہے نہ کہ بطور خود کوئی اصلاح کردینا۔
اگلی آیات 183 تا 187 کا مضمون :
روزے کا بیان تربیت نفس کے لیے : حرمت ِ جان اور حرمت مال کے مذکورہ بالا قوانین کے بعد اب یہ روزے اور اس سے متعلق احکام بیان ہو رہے ہیں۔ ہماری معروف فقہی ترتیب کے لحاظ سے تو روزہ عبادات کی فہرست میں شامل ہے اس وجہ سے خیال دل میں یہ گزرتا ہے کہ اس کا ذکر اوپر کی اس آیت کے ساتھ ہونا تھا جس میں نماز اور انفاق کا ذکر ہے لیکن قرآن حکیم میں احکام کے بیان کی ترتیب وہ نہیں ہے جو ہماری فقہ کی کتابوں میں ملحوظ رکھی گئی ہے بلکہ حکمت شریعت، اصلاح معاشرہ، تزکیہ نفوس اور رعایت احوال کے تقاضوں کے تحت ہے۔ ان پہلوؤں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حرمت جان و حرمتِ مال کے قوانین کے بعد یہ روزے کا بیان اس عبادت کو سامنے لا رہا ہے جو ضبط نفس اور تربیت تقویٰ کے لیے اسلام نے مقرر کی ہے تاکہ طمع اور اشتعال، لالچ اور انتقام، خواہش اور ہیجان کے غیر معتدل رجحانات و داعیات کو انسان لگام لگا سکے اور اپنے رہوار نفس کو اس راستے پر ڈال سکے جو تقوی کا راستہ ہے۔ روزہ صبر اور تقوی پیدا کرنے کی خاص عبادت ہے اور یہی صفات ہیں جو انسان کو دست درازی اور حق تلفی سے بچاتی بھی ہیں اور بر و احسان اور حق و عدل کے قیام پر ابھارتی بھی ہیں۔ چناچہ یہاں روزے کا حکم جس طرح پچھلے احکام پر عمل کے لیے تربیت کی بنیاد قائم کرتا ہے اسی طرح اس کے بعد جو احکام رشوت دہی کی ممانعت اور حج و جہاد سے متعلق آ رہے ہیں ان کے لیے بھی صبر کی اساس فراہم کرتا ہے۔ گویا ترتیب میں اس کے موقع و محل ہی نے یہ حقیقت واضح کردی کہ روزہ اسلام میں کیوں فرض کیا گیا اور اس کے مقاصد و فوائد کیا ہیں، زندگی کن پہلوؤں سے اس سے متاثر ہوتی ہے اور پھر حیات اجتماعی پر اس کے اثرات کیا پڑتے ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:183لفظ ‘ صوم ’ کی تحقیق : صوم اور صیام مصدر ہیں۔ صوم کے لغوی معنی کسی شے سے رک جانے اور اس کو ترک کرنے کے ہیں۔ صام الفرس صوماً کے معنی ہیں گھوڑے نے چارہ نہیں کھایا۔ نابغہ کا شعر ہے۔ حیل صیام و خیل غیر صائمۃ۔ تحت العجاج واخری تعلک اللجما۔ (بہت سے بھوکے اور بہت سے آسودہ گھوڑے میدان جنگ کے غبار میں کھڑے تھے اور دوسرے بہت سے اپنی لگامیں چبا رہے تھے)۔
مولانا فراہی ؒ لفظ صوم کی تحقیق کے سلسلے میں اپنی کتاب اصول الشرائع میں فرماتے ہیں۔“ اہل عرب اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو بھوک اور پیاس کا عادی بنانے کے لیے باقاعدہ ان کی تربیت کرتے تھے تاکہ مشکل اوقات میں وہ زیادہ سختی برداشت کرسکیں۔ اسی طرح وہ اپنے گھوروں کو تند ہوا کے مقابلے کی بھی تربیت دیتے تھے۔ یہ چیز سفر اور جنگ کے حالات میں، جب کہ ہوا کے تھپیڑوں سے سابقہ پیش آجائے، بڑی کام آنے والی ہے۔ جریر نے اپنے ایک شعر میں ان دونوں باتوں کا حوالہ دیا ہے۔ وہ کہتا ہے۔ ظللنا بمستن الحرور کا ننا۔ لدی فرس مستقبل الریح صائم۔ (ہم لو کے تھپیڑوں کی جگہ جمے رہے گویا ہم ایک ایسے گھوڑے کے ساتھ کھڑے ہوں جو باد تند کا مقابلہ کر رہا ہو اور روزہ رکھے ہوئے ہو)۔ اس شعر میں اس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے حال کی تشبیہ ایک ایسے شخص سے دی ہے جو اپنے گھوڑے کے ساتھ کھڑا ہو اور اس کو بھوک اور باد تند کے مقابلے کی تربیت دے رہا ہو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اہل عرب تشبیہ کے لیے انہی چیزوں کو استعمال کرتے ہیں جو ان کے عام تجربے میں آئی ہوں۔ ان کو نادر چیزوں کی تلاش زیادہ نہیں ہوتی۔ الغرض گھوڑوں کے صوم کے بارے میں اشعار بہت ہیں ”۔ اسی سے صائم ہے جس کے معنی ہیں وہ شخص جو کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جائے۔ اس کے لیے کچھ مخصوص شرعی حدود وقیود ہیں جن کی تفصیل قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
روزہ تربیت نفس کی قدیم ترین عبادت ہے : كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ : یعنی روزہ کی یہ عبادت صرف تمہارے ہی اوپر پہلی بار فرض نہیں ہوئی ہے بلکہ تم سے پہلے دوسری امتوں پر بھی فرض کی گئی تھی۔ آسمانی شریعتوں میں یہ ابتدا سے تربیت نفس کی خاص ریاضت رہی ہے۔ مقصود اس بات کا حوالہ دینے سے صرف عام طبیعتوں کو گھبراہٹ دور کرنا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، شرائع الٰہی کی یہ قدیم وراثت ہے جو تمہاری طرف منتقل ہو رہی ہے اور تم اس کو اختیار کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ اہل اور حق دار ہو۔
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ : روزے کا مقصد : یہ روزے کی اصل غایت بیان ہوئی ہے۔ تمام شریعت کی بنیاد تقوی پر ہے، تقوی پیدا ہوتا ہے جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت سے اور اس قوت و صلاحیت کی سب سے بہتر تربیت روزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔
Ayah 2:184“ گنتی کے چند دن ”: یعنی روزے کی یہ مشقت تم پر کچھ زیادہ مدت کے لیے نہیں ڈالی گئی ہے بلکہ سال میں صرف گنتی کے چند دن اس کے لیے خاص کیے گئے ہیں جس طرح اوپر والی آیت میں کما کتب علی الذین من قبلکم کے الفاظ تالیف قلوب کے طور پر آئے ہیں۔ اسی طرح، ایاما معدودات، کے الفاظ بھی بطور تالیف قلب وارد ہیں کہ تربیت تقوی اور تزکیہ نفس کا یہ کورس چند روزہ ہے، اس سے پست ہمت اور دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے، نفس پر شاق ہونے والی عبادت کے بیان میں قرآن مجید نے تالیف قلب کا یہ انداز اکثر مقامات میں ملحوظ رکھا ہے۔ انفاق اور زکوۃ کے سلسلہ میں بعض چیزوں کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ آگے زیادہ واضح مثالیں اس کی آئیں گی۔
‘ ایام معدودات ’ سے مراد :“ گنتی کے چند دنوں ”سے یہاں کیا مراد ہے ؟ اہل تاویل کے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد ہر مہینے میں تین کے روزے ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے ہر ماہ میں یہی تین دنوں کے روزے فرض ہوئے تھے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد رمضان کے روزے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اسلام میں فرض روزوں کی حیثیت سے صرف رمضان ہی کے روزوں کا علم ہے۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے آنحضرت ﷺ ہر ماہ میں جو تین دن کے روزے رکھتے تھے ان کی حیثیت فرض روزوں کی نہیں بلکہ نفلی روزوں کی تھی۔ امام ابن جریر ان دونوں گروہوں کے اقوال نقل کر کے اپنی رائے دوسرے گروہ کے حق میں دیتے ہیں، ہمیں چونکہ ان کی اس رائے سے اتفاق ہے اس وجہ سے ہم اس کو یہاں نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔“ ہمارے نزدیک حق سے قریب تر بات ان لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ ایاما معدودات سے مراد ماہ رمضان ہی کے ایام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی قابل اعتماد روایت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مسلمانوں پر رمضان کے روزوں کے سوا کوئی اور روزہ فرض کیا گیا ہو جو رمضان کے روزوں سے منسوخ ہواہو۔ آیت کا سیاق خود اس بات پر دلیل ہے کہ جو روزے ہم پر فرض ٹھہرائے گئے وہ رمضان ہہی کے روزے ہیں۔ کوئی اور روزے نہیں ہیں۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ القرآن کے الفاظ خود ان ایام کی بلا کسی اشتباہ کے تعین کیے دیتے ہیں۔ اس وجہ سے جو لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ رمضان کے سوا کوئی اور روزے مسلمانوں پر فرض تھے، جو رمضان کے روزوں سے منسوخ ہوئے ان سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی ایسی روایت پیش کریں جو حجت بن سکے ”۔۔ بارہ مہینوں میں سے صرف 30 یا 29 دن کے روزے، روزوں کی روحانی برکات کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ کوئی بڑی مدت نہیں ہے بلکہ گنتی کے چند دن ہی ہیں، اس وجہ سے خدا کی رضا جوئی اور اصلاح نف کے طالب اس مدت کو کوئی طویل مدت نہیں سمجھتے بلکہ نہایت قلیل اور چند روزہ سمجھتے ہیں۔ قرآن نے اس کی اس قدر و قیمت نیز تالیف قلب کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ سے تعبیر فرمایا ہے۔
ایک غلط تاویل : وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ شروع شروع میں جب روزوں کا حکم ناز ہوا تو چونکہ اہل عرب اس سخت عبادت کے عادی نہیں تھے۔ اس وجہ سے ان کی آسانی کے لیے یہ گنجائش رکھی گئی کہ جو شخص روزہ رکھنے کی قدرت کے باوجود روزہ نہ رکھنا چاہے وہ ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ بعد میں یہ اجازت منسوخ کردی گئی۔ لیکن یہ تاویل کسی طرح بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اول تو روزے کی فرضیت کیا ہوئی جب کہ اس بات کی کھلی اجازت موجود تھی کہ کوئی شخص چاہے تو روزہ رکھے، نہ چاہے تو نہ رکھے، اس کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ اگر روزے کے ابتدائی حکم کی نوعیت یہ تھی تو كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ (تم پر روزے فرض کیے گئے) کا ٹکڑا بالکل غیر ضروری سا ہوجاتا ہے کیونکہ اس صورت میں اس کی فرضیت بالکل بےاثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ کس قدر عجیب و غریب بات ہے کہ ایک طرف تو مریض اور مسافر دونوں کے لیے دوسرے دنوں میں اپنے قضا کیے ہوئے روزوں کی تعداد روزے رکھ کر پورے کرنے کا حکم ہو، جیسا کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخر کے الفاظ سے واضح ہے اور دوسری طرف یہ آزادی ہو کہ جو شخص چاہے روزے رکھے اور جو شخص چاہے مقدرت کے باوجود، نہ رکھے، صرف ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مریض اور مسافر پر تو یہ پابندی ہے کہ وہ روزے ضرور رکھیں، یہاں تک کہ اگر سفر یا مرض کے سبب سے معین دنوں میں نہ رکھ سکیں تو دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کریں در آنحالیکہ دوسروں پر کسی حالات میں بھی روزے رکھنا ضروری نہیں، ایک تندرست اور مقیم بھی چاہے تو روزے کا بدل ایک مسکین کو کھانا کھلا کر پورا کرسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس مشکل سے بچنے کے لیے يُطِيْقُوْنَهٗ کے معنی یہ لیے ہیں کہ“ جو لوگ مشکل سے طاقت رکھتے ہیں ”یہ معنی لے لینے سے اوپر کے اعتراضات تو رفع ہوجاتے ہیں اور كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ الایۃ کے ٹکڑے کا ایک محمل نکل آتا ہے لیکن اس صورت میں مذکورہ بالا اعتراضات سے بھی بڑا اعتراض اس پر یہ وارد ہوتا ہے کہ يُطِيْقُوْنَ کے یہ معنی لغت میں ہیں بھی یا محض اپنے جی سے گھڑ لیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک عربی لغت اس لفظ کے اس معنی سے بالکل خالی ہے۔ بعض لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ باب افعال کا ایک خاصہ سلب ماخذ بھی ہے اس وجہ سے“ اطاقت ”کے معنی طاقت نہ رکھنے کے بھی آسکتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے تو انکار نہیں ہے کہ باب افعال کے خواص میں سے سلب ماخذ بھی ہے لیکن خاصیات ابواب کا معاملہ، جیسا کہ اہل علم جانتے ہیں، قیاسی نہیں بلکہ سماعی ہے اس وجہ سے اصل شے لفظ کا استعمال ہے۔ اگر اہل زبان نے اس لفظ کو مذکورہ معنی میں استعمال کیا ہو اور اس کی مثالیں موجود ہو تب تو بلاشبہ اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اگر اس معنی میں اس لفظ کے استعمال کی کوئی نظیر کلام عرب اور قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے تو محض اس مفروضہ پر کہ باب افعال کے خواص میں ایک خاصہ سلب ماخذ نامی بھی ہے، لفظ کو اثبات کے بجائے نفی کے معنی میں لے لینا عربی زبان پر بھی بہت بڑا ظلم ہے اور یہ چیز دین میں بھی ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ اگر کوئی صاحب اس اصول کو بےدھڑک استعمال کرنے لگ جائیں تو وہ دین کے ایک بہت بڑے حصہ کو بڑی آسانی سے امر و حکم کے بجائے نفی و نہی سے بدل سکتے ہیں۔ بعض کم سواد یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کہنا کہ“ فلاں شخص فلاں چیز کی طاقت رکھتا ہے ”اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ اس چیز کی مشکل سے طاقت رکھتا ہے۔ یہ بات بالکل طفلانہ ہے اس وجہ سے اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتے ہیں کہ طاقت رکھنے کے مفہوم میں مشکل کا یہ مضمون موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ طاقت آدمی کو تکالیف شرعیہ اور احکام دینیہ کے اٹھانے کا ذمہ دار بناتی ہے یا اس کو شریعت کی ذمہ داریوں سے بری قرار دیتی ہے۔ جہاں تک اسلامی شریعت کا تعلق ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ یہ طاقت آدمی کو مکلف بناتی ہے نہ کہ اس کو بری قرار دیتی ہے۔ جب آپ یہ کہیں کہ میں فلاں چیز کی طاقت رکھتا ہوں تو اس کے واضح معنی یہی ہیں کہ آپ اس کے لیے مکلف ہونے کے درجہ میں ہیں نہ کہ اس سے استثنا کے درجہ میں، قطع نظر اس سے کہ آپ اس کی طاقت آسانی سے رکھتے ہیں یا مشکل سے۔
پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر کہنا یہ تھا کہ“ جو لوگ روزہ رکھنے کی مشکل سے طاقت رکھتے ہیں ”تو اس کے لیے عربی زبان میں بیسیوں اسلوب اور الفاظ نہایت معلوم و مشہور موجود ہیں جو اہل زبان استعمال کرتے ہیں آخر ان کو چھوڑ کر قرآن نے ایک ایسا لفظ کیوں استعمال کیا جس کا استعمال اس معنی کے لیے کسی کو معلوم نہیں۔ اگر ایک شخص کہتا ہے کہ ان اطیق حمل السلاح، تو ہر شخص اس کا مطلب یہی سمجھے گا کہ وہ ہتھیار اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ مطلب کوئی بھی نہیں سمجھے گا کہ وہ ہتھیار اٹھانے کی مشکل سے طاقت رکھتا ہے، اس وجہ سے مستحق ہے کہ اسے جہاد کی ذمہ داریوں سے بری رکھا جائے۔ اسی طرح فرض کیجیے کہ کہا جائے کہ ‘ لنا طاقۃ بجالوت و جنودہ ’ تو اس کا واضح مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ ہمیں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلہ کی طاقت ہے۔ اگر اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا کہ“ ہمیں طاقت نہیں ہے، یا ہم مشکل سے طاقت رکھتے ہیں ’ تب تو قرآن میں بنی اسرائیل کا جو قول نقل ہوا ہے کہ ‘ لا طاقۃ لنا الیوم بجالوت و جنودہ ’ اس میں لائے نفی کی مطلق ضرورت نہیں تھی بلکہ اثبات کی صورت میں ان کا مطلب صحیح طور پر ادا ہوجاتا۔ بہر حال جن لوگوں نے ‘ یطیقون ’ کے یہ معنی لیے ہیں انہوں نے بالکل غلط معنی لیے ہیں لیکن یہ معنی اگر غلط ہیں تو اس کے معروف معنی لینے کی صورت میں آیت کی تاویل کیا ہوگی ؟
اصل اشکال اور اس کا حل : اس کا جواب یہ ہے کہ اس ٹکڑے میں جو اشکال ہے وہ یطیقون کے لفظ میں نہیں ہے، اس کے معنی تو وہی ہیں جو معروف و مشہور ہیں۔ اس کے سوا کسی اور معنی کے لیے اس لفظ میں کوئی ادنی گنجائش بھی نہیں ہے، در اصل اس میں اگر اشکال ہے تو یطیقونہ کی ضمیر مفعول میں ہے کہ اس کا مرجع کیا ہے ؟ عام طور پر لوگ اس کا مرجع صوم کو مانتے ہیں اس وجہ سے وہ سارے اشکالات پیدا ہوتے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ لیکن اس کا مرجع صوم نہیں بلکہ طعام ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یہ تایل ہمارے پچھلے اہل تاویل میں سے بھی بعض لوگوں نے لی ہے اور یاد پڑتا ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب ؒ وسلم کی تاویل بھی یہی ہے۔ یہ تاویل ہمارے نزدیک بالکل واضح ہے لیکن ممکن ہے بعض لوگوں کو یہ بات کھٹکے کہ طعام کا لفظ چونکہ اوپر کہیں مذکور نہیں ہوا ہے اس وجہ سے اس کے ذکر سے پہلے اس کے لیے ضإیر لانا اضمار قبل الذکر ہے، جو کلام کا ایک عیب ہے جس سے قرآن کو پاک ہونا چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اضمار قبل الذکر کلام کا ایک عیب ہے لیکن یہ عیب اس شکل میں ہے جب ضمیر کا مرجع متکلم کی نیت میں مقدم نہ ہو اور وہ اس کے لیے ضمیر لائے لیکن اگر مرجع متکلم کی نیت میں مقدسم ہو اور محض تکرار سے بچنے کے لیے یا بلاغت کے کسی اور تقاضے کے تحت وہ مرجع کو موخر کرنے پر مجبور ہو تو اس صورت میں اضمار قبل الذکر نہ صرف یہ کہ عیب نہیں ہے بلکہ کلام کی ایک خوبی ہے اور اس کی نہایت عمدہ مثالیں کلام عرب میں موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ضمیر بھی جس کو ہمارے اہل نحو ضمیر شان کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں اسی نوعیت کی چیز ہے۔ اس میں بھی متکلم ضمیر در حقیقت اس مرجع کے لیے لاتا ہے جو اس کے مافی الضمیر میں مضمر ہوتا ہے۔ یہاں پوری بات یوں تھی کہ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَ طَعَامَ مِسکِین فَفِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ (اور جو لوگ ایک مسکین کو کھانا کھلا سکتے ہیں تو ان کے لیے بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلادینا ہے)۔ لیکن اس صورت میں جملہ نہایت ثقیل ہوجاتا تھا اس وجہ سے کلما کی روانی، ایجاز اور بلاغت کا تقاضا یہ ہوا کہ ایک جگہ طعام مسکین کو حذف کر کے اس کی جگہ ضمیر لادی جائے اور دوسری جگہ جہاں اس کا اظہار ناگزیر ہے اس کو ظاہر کردیا جائے تاکہ کلام غیر ضروری تکرار کے عیب سے پاک رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس سے اضمار قبل الذکر کی صورت تو ضروری پیدا ہوئی لیکن دیکھ لیجئے ضمیر اصلاً جس چیز کے لیے لائی گئی ہے وہ صرف عبارت میں موخر ہے متکلم کی نیت میں موخر نہیں ہے۔ اس تاویل کو قبول کرلینے کے بعد مسئلہ کی جو شکل سامنے آتی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ پہلے جو روزے فرض ہوئے تھے اس میں اس بات کی بھی گنجائش تھی کہ اگر لوگ روزے نہ رکھنا چاہیں تو اس کا بدل مسکین کو کھانا کھلا کر پورا کردیاکریں بلکہ قرآن کے الفاظ سے اس کی اصلی شکل یہ سامنے آتی ہے کہ جو لوگ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان کے روزے پورے نہیں کرسکتے تھے ان کو اس بات کی اجازت ہے کہ دوسروں دنوں میں یا تو روزے رکھ کر ان چھوڑے ہوئے روزوں کی تلافی کردیں یا ایک روزے کی جگہ ایک مسکین کھانا کھلا کر اس کا بدل پورا کردیں، گویا اس وقت تک قضا روزوں کی تلافی مسکین کو کھانا کھلا کر بھی ہوسکتی تھی، بعد میں یہ اجازت، جیسا کہ آگے والی آیت سے واضح ہوگا، منسوخ ہوگئی، یعنی قضا شدہ روزوں کی جگہ بھی روزے رکھنا ہی ضرور قرار دے دیا گیا۔
“ جو کوئی از خود کچھ مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور یہ کہ تم روزہ رکھو تو یہ زیادہ بہتر ہے ”کا مطلب یہ ہے کہ قضا روزے کا یہ فدیہ جو مذکور ہوا یہ ایک مستطیع سے کم سے کم مطالبہ ہے جس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا ان کے ساتھ کوئی اور نیکی کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ نیز یہ کہ اس فدیہ کی نوعیت صرف ایک رخصت اور رعایت کی ہے، اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر یہی ہے کہ آدمی فدیہ کے بجائے دوسرے دنوں میں یہ روزے ہی پورے کردے۔ یہ گویا اس رخصت کے ساتھ ساتھ ایک اشارہ اس بات کی طرف بھی کردیا گیا تھا کہ یہ اجازت عارضی اور وقتی ہے جو منسوخ ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ کو پسند یہی ہے کہ روزوں کی تعداد پوری کی جائے چنانچہ، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا اور آگے آ رہا ہے، کچھ عرصے کے بعد یہ فدیہ کی اجازت منسوخ ہوگئی اور فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ کا اصل حکم باقی رہ گیا۔