Ayah 2:263یہاں اگرچہ صرف“ اذیً ”(دل آزاری) کا ذکر ہوا، احسان جتانے کا ذکر نہیں ہوا لیکن ظاہرہ کہ مراد دونوں ہی باتیں ہیں۔ ایک کے حذف کردینے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ یہ درحقیقت ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جہاں احسان جتانا ہے وہاں ایذا ہے، جہاں ایذا ہے وہاں احسان جتانا بھی ہے۔
دلداری کا ایک کلمہ اس خیرات سے بہتر ہے جس کے ساتھ دل آزاری ہو : فرمایا کہ دلداری کا ایک کلمہ اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ سائلوں اور محتاجوں سے اچھے انداز میں بات کرنے اور ان کے غلط رویہ سے درگزر کرنے کی ہدایت قرآن میں بار بار ہوئی ہے اس کے وجوہ پر ہم اسی سورة کی آیت 83 کے تحت تفصیل کے ساتھ نظائر قرآن کی روشنی میں بحث کرچکے ہیں۔ آدی میں اگر غنا کے ساتھ حلم نہ ہو تو وہ انفاق کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اگر وہ انفاق کرتا بھی ہے تو بسا اوقات ثواب کمانے کے بجائے الٹٓ اس سے گناہ کما لیتا ہے۔ جن کے پاس مال ہوتا ہے ان کے اندر عموماً ایک احساس برتری پیدا ہوجاتا ہے اس وجہ سے وہ محتاجوں اور سائلوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ اکثر مانگنے والوں کو جھڑک دیتے ہیں۔ بعض اوقات سائلوں کا رویہ بھی کچھ ناگوار ہوتا ہے جو تنک مزاج مال داروں کے پارے کو اور بھی گرم کردیتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ اصلی مستحقین کو اس لیے نظر انداز کرجاتے ہیں کہ کسی صحیح یا غلط بنیاد پر ان کو ان سے شکایت ہوتی ہے۔ یہ تمام خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ اکثر مالداروں کے پاس مال تو ہوتا ہے لیکن ان کے مال کی نسبت سے ان کے اندر عفو و درگزر کی صفت نہیں ہوتی۔ قرآن نے اسی بنیاد پر جہاں انفاق کی تاکید کی ہے وہاں اس صفت کی بھی تاکید کی ہے۔ اس کے بغیر کوئی انفاق و احسان کا درجہ حاصل نہیں کرتا۔ آل عمران کی ایک آیت ملاحظہ ہو الذین ینفقون فی السراء والضراء والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین : جو خرچ کرتے ہیں خوش حالی اور تنگ دستی میں اور غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں یہی لوگ خوب کار ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے (آل عمران 134)۔
غنی اور حلیم کی صفات کا تقاضا : یہاں غنی و حلیم کی صفات کے حوالے میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ اللہ چونکہ غنی ہونے کے ساتھ ساتھ حلیم بھی ہے اس وجہ سے اپنے بندوں کی تمام کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے باوجود ان کو اپنے جود و کرم سے نوازتا رہتا ہے، اگر وہ بندوں کی کوتاہیوں پر ان کو اپنے فضل سے محروم کردیا کرے تو کون ہے جو کسی فضل کا مستحق قرار پا سکے۔ یہ اس غنی کا حلم ہی ہے جس کی بدولت نیکوکار اور گنہگار سب اس کے خزانے سے رزق پا رہے ہیں۔ جب اس کی صفات یہ ہیں تو وہ چاہتا ہے کہ انہیں صفات کا عکس اس کے بندوں کے اندر بھی نمایاں ہو۔ یعنی جن کو اس نے غنی بنایا ہے، ان کے اندر ان کے غنا کے بقدر بردباری بھی ہو۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ غریبوں کی آستینوں کے اندر سے جو ہاتھ مالداروں کے سامنے پھیلتا ہے وہ جیسا کہ مشہور حدیث قدسی میں وارد ہے، درحقیقت خدا ہی کا ہاتھ ہوتا ہے اس وجہ سے اس ہاتھ کی تحقیر کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ جس ہاتھ کو رد کرد رہے ہیں یہ درپردہ اسی غنی کا ہاتھ ہے جس کے ہاتھ سے انہوں نے سب کچھ پایا ہے۔ اگر ان کی طرف سے اس طرز عمل کے باوجود بھی وہ ان سے درگزر فرما رہا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ حلیم ہے۔ ورنہ حق تو یہ تھا کہ ایسے ناشکرے لوگ خدا کی ہر نعمت سے محروم کردیے جاتے۔
Ayah 2:264“ وابل ”کے معنی : وابل کے عنی ہیں زور کی بارش۔ زور کا دونگڑا۔
“ صلد ”کے معنی :‘ صلد ’ کے معنی سخت اور چکنی چیز کے ہیں۔ ارض صلد، یا مکان صلد، اس زمین کو کہیں گے جہاں کوئی چیز اگتی نہ ہو۔ راس صلد، ایسے سر کو کہیں گے جس پر بال نہ اگتے ہوں۔
تمثیل میں مدنظر صورت : پہاڑوں پر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی بڑی چٹان پر ادھر ادھر سے مٹی آ خر جم جاتی ہے جس سے ایک موٹی تہ بن جاتی ہے۔ کسان بعض اوقات اس کو زرخیز پا کر اس پر کھیتی شروع کردیتے ہیں۔ اس قسم کی زمینوں کو کبھی یہ خطرناک صورت پیش آتی ہے کہ پہاڑ کے بالائی حصے میں زور کی بارش ہوئی اور اس کا ریلا جو آیا تو اس نے ساری مٹی والی سطح وادی کی طرف پھسلا دی اور نیچے صرف سخت چٹان رہ گئی۔ پہاڑ علاقوں سے اس قسم کے حوادث کی اطلاعات اخبارات میں وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ یہاں تمثیل میں یہ صورت مد نظر ہے۔
فرمایا کہ جو لوگ انفاق کر کے احان جتاتے یا دل آزاری کرتے ہیں ان کی خیرات بالکل اکارت جاتی ہے، آخرت میں ان کو اس کا کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔ ایمان پر ہونے کے باوجود ان کا یہ عمل اسی طرح ضائع ہوجائے گا جس طرح اس شخص کا عمل ضائع ہوجائے گا جو محض دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس سے احسان جتانے اور ایذا دینے کی غایت درجہ سنگین واضح ہوتی ہے کہ آدمی کے انفاق کو برباد کردینے کے معاملے میں یہ باتیں بالکل کفر کے برابر ہیں۔
ایسے شخص کی تمثیل اس کسان سے دی ہے جس نے اپنی فصل ایک ایسی زمین پر بوئی جس کے نیچے سخت اور چکنی چٹان تھی۔ بارش کا جو ایک زور کا دونگڑا پڑا تو اوپر کی ساری مٹی فصل سمیت وادی میں بہ گئی اور نیچے سے گنجے سر کے مانند چٹان نکل آئی۔ فرمایا کہ جس طرح اس محروم القسمت کسان کی ساری محنت رائگاں چلی جاتی ہے اسی طرح اس خیرات کرنے والے کی خیرات برباد ہو کر رہ جاتی ہے جو خیرات کرنے کے بعد احسان جتاتا اور دل آزاری کرتا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اپنی ساری خیر خیرات ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ اس کا کوئی حصہ بھی وہ بچا نہیں پاتے۔
ہدایت کی مختلف صورتیں : وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الایۃ میں جس ہدایت کا ذکر ہے وہ غایت و مقصود کی ہدایت ہے۔ ہم تفسیر کے شروع میں بیان کر آئے ہیں کہ ہدایت کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ہدایت جبلت و فطرت کی ہدایت ہے جو سب حیوانات اور انسانوں کو عطا ہوئی ہے۔ ایک ہدایت وہ ہے جو اللہ بندوں کو ان کی تدبیروں اور کوششوں میں بخشتا ہے جس سے وہ کسی کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایک ہدایت وہ ہے جو انبیاء اور شرائع کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور جس سے بندہ قبول حق کی توفیق پاتا ہے۔ ان کے علاوہ ایک وہ ہدایت ہے جو آخرت میں حاصل ہوگی جس سے بندے اپنی کوششوں کے آخری ثمرات و نتائج کی طرف کی طرف رہنمائی حاصل کریں گے۔ ہدایت کا لفظ قرآن میں ان تمام مقاصد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ آیت زیر بحث میں یہ لفظ ہمارے نزدیک اسی آخری معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو کافر اور ناشکرے لوگ ہیں وہ اپنے اعمال میں بامراد نہ ہوں گے بلکہ ان کے سارے کیے کرائے پر پانی پھرجائے گا۔
Ayah 2:265تَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ :“ تثبیت ”کا مفہوم : تثبیت کے معنی مضبوط کرنے، جمانے اور مستحکم کرنے کے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مال خدا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ اس مقصد سے بھی خرچ کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے نفس کی تربیت کریں کہ وہ دین کے احکام کی تعمیل میں اچھی طرح پختہ ہوجائے۔ مِنْ یہاں گویا تَثْبِیتاً کے مفعول پر داخل ہے۔
انفاق تربیت نفس کے لیے ریاضت ہے : جس طرح روزے سے مقصود نفس کی تربیت ہے کہ آدمی تقوی کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اچھی طرح مضبور ہجائے اسی طرح انفاق بھی ایک ریاضت ہے جس سے انسان اپنے نفس پر قابو پاتا ہے اور خدا کے قرب کی راہ اس کے لیے آسان ہوتی ہے۔ اس سے ایک طرف تو یہ بات نکلی کہ تمام دوسری عبادات کی طرح انفاق کا حقیقی فائدہ بھی خدا کی طرف نہیں بلکہ بندے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ سب سے اعلی انفاق وہ ہے جو قحط کے زمانے میں ہو، جو غربت کے باوجود ہو، جو اپنی ذاتی ضروریات کو نظر انداز کر کے ہو، جو عزیز و محبوب مال میں سے ہو اور خاص طور پر ان حق داروں کے لیے ہو جن سے آدمی کا دل خوش نہ ہو اس لیے کہ یہی انفاق ہے جس سے نفس کو حق پر جمائے رکھنے کی حقیق تربیت حاصل ہوتی ہے۔ انسان اپنے آپ کو خواہشات نفس کے خلاف چلانے میں جتنا مشاق ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کے لیے خدا کا قرب حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
رَبوۃ، کے معنی بلندو مرتفع سطح زمین کے ہیں۔ استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتفع ہونے کے ساتھ مسطح اور ہموار ہونا بھی اس کی خصوصیات میں سے ہے۔ قرآن میں اس کی صفت ایک دوسرے مقام میں“ ذات قرار و معین ”آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلندی کے ساتھ ہمواری بھی اس کے لوازم میں سے ہے۔ بلند اور ہموار زمین کے لیے آب و ہوا کی خوشگواری ایک مسلم شے ہے۔ اگر ایسی زمین پر باغ ہو تو اس کی بلندی ایک طرف تو اس کی خوش منظری کا باعث ہوتی ہے، دوسری طرف اس کو سیلاب وغیرہ سے محفوظ کرتی ہے۔ نیز ہموار زمین پر ہونے کے سبب سے اس کے لیے اس طرح پھسل کر فنا ہوجانے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا جو ڈھلوان زمینوں کے باغوں اور فصلوں کے لیے ہوتا ہے۔ پھر آب و ہوا کی خوبی اس کی بار آوری کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر موسم ساز گار رہا تو پوچھنا ہی کیا ہے، اگر ساز گار نہ ہوا جب بھی وہ پھل دے جاتا ہے۔
اس انفاق کی تمثیل جو رضائے الہی کے لیے ہو : یہ اوپر والے گروہ کے بالمقابل ان لوگوں کے انفاق کی تمثیل ہے جو اپنے مال اللہ کی رضا جوئی اور اپنے نفس کی تربیت کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ بلاشبہ اپنے افناق کا اجر پائیں گے۔ انہوں نہ بہہ جانے والی زمین پر باغ لگانے کے بجائے ایسی بلند، مسطح اور اچھی آب و ہوا والی زمین پر اپنا باغ لگایا ہے کہ بارش ہو تو اس کو برباد کرنے کے بجائے اس کی بار آوری کو دوگنا کردیتی ہے اور اگر بارش نہ ہو تو ہلکی پھوار بھی آب و ہوا کی خوبی کی وجہ سے اس کے لیے کفایت کرجاتی ہے۔
وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ، تسکین و تسلی کے یلے ہے، یعنی اللہ کے نیک بندے اس کی رضا جوئی اور اپنے نفس کی تربیت کے لیے جو ریاض کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ہے، وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے ہر بندے کو اس کی محنت اور اس کے ایثار کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
Ayah 2:266باغ کے معاملے میں اہل عرب کا ذوق : جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ یہ عرب کے تصور کے مطابق ایک اچھے باغ کی تصویر ہے۔ ان کے ہاں اچھے باغ کا تسور یہ ہے کہ اس کے کنارے کنارے کھجوروں کے درخت ہوں، بیچ میں انگور کی بیلیں ہوں، مناسب مواقع سے مختلف فصلوں کی کاشت کے لیے قطعات ہوں، باغ بلندی پر ہو، اس کے نیچے نہر بہہ رہی ہو جس کی نالیاں باغ کے اندر دوڑا دی گئی ہوں۔ قرآن نے دوسری جگہ ایک باغ کی تصویر اس طرح کھینچی ہے۔ جَعَلْنَا لأحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا (32) كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلالَهُمَا نَهَرًا (33): ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ بنائے، اور ان کو گھیر دیا کھجوروں سے اور ان کے درمیان کھیتی بھی رکھی، دونوں باغ خوب پھل لائے، ذرا کمی نہ کی، اور ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کی (کہف :32-33)۔ اس سے معلوم ہوا کہ باغ کے کناروں پر کھجوروں کے درخت ہوتے تھے تاکہ ان سے پھل بھی حاصل ہوسکے، گرمی، بو، باد تند اور تمازت آفتاب سے باغ محفوظ بھی رہ سکے اور باغ کی رونق میں بھی اضافہ ہوسکے۔ پھر بیچ بیچ میں انگور اور دوسرے پھل دار درخت بھی لگائے جاتے اور مناسب ٹکڑوں میں مختلف فلوں کی کاشت بھی ہوتی۔ زیر بحث آیت میں لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ سے اسی آخری چیز کی طرف اشارہ ہے۔ ہم ایک دوسرے مقام میں یہ بات وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ عربی میں ثمرات کا لفظ صرف میوہ جات کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ غلہ جات بھی اس میں شامل ہیں۔
لفظ ‘ اعصار ’ کی تحقیق : اِعْصَارٌفِيْهِ نَارٌ، اعصار کے معنی گردباد اور بگولے کے ہیں۔ اس کے ساتھ جس آگ کا ذکر ہے وہ ہماری معروف آگ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد سموم اور لوہے جو بسا اوقات گردباد کے اندر پائی جاتی ہے اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جو باغ اس کی زد میں آجاتا ہے وہ بالکل جھلس کے رہ جاتا ہے۔
اوپر ریا کاری، احسان داری اور ایذا رسانی کی آفتوں سے اپنے انفاق کو برباد کرنے والوں کی تمثیل سنائی ہے۔ یہ تمثیل اس کی مزید وضاحت ہے۔ اس میں یہ دکھایا ہے کہ اس طرح اناق کرنے والے عین اس وقت اپنی امیدوں کے باغ کی بربادی کا حسرت انگیز منظر دیکھیں گے جب وہ اس کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے اس لیے کہ اس وقت ان کے لیے سعی و عمل کے دروازے بند ہوچکیں گے۔
یہ تمثیل ایک ایسے شخص کی ہے جس نے انگور اور کھجوروں کا باغ لگایا، اس باغ کے نیچے نہر جاری تھی جو اس کی شادابی کی ضامن تھی، باغ میں دوسرے مختلف قسم کے پھل بھی تھے اور اس سے ہر قسم کی اجناس بھی حاصل ہوتی تھیں۔ باغ کا مالک بوڑھا ہوگیا اور اس کے بچے سب چھوٹے چھوٹے تھے۔ اسی دوران میں ایک روز سموم کا ایک بگولا اس باغ پر گزرا اور سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال آخرت میں ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے انفاق کو برباد کرنے والی آفتوں سے نہیں بچاتے۔ ان کے خرمن کے لیے بجلی خود ان کی آستینوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور وہ ٹھیک اس وقت ظاہر ہوگی جب ان کے لیے کھو کر پھر پانے کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا۔
Ayah 2:267‘ طیبات ’ کا مفہوم : مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (اپنی کمائی کے پاکیزہ حصے میں سے) طیبات کا لفظ بیک وقت دو باتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنی کمائی میں سے وہی مال خرچ کرو جو پاکیزہ طریقہ سے آیا ہو، غلط یا مشتبہ طریقہ سے نہ آیا ہو۔ دوسری یہ مال بجائے کود اچھا ہو، بےوقعت، گھٹیاں اور نکما نہ ہو۔ غلط طریقہ سے آئے ہوئے یا نکمے مال سے نہ تو خدا کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ نفس کی وہ تربیت ہوسکتی جس کا ذکر اوپر تثبیت کے لفظ سے ہوا ہے۔
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ کا علیحدہ ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ مما کسبتم والے ٹکڑے سے مراد وہ مال ہے جو تجارت وغیرہ کے طریقوں سے حاصل ہوتا ہے۔ زمین کی پیداوار کے علیحدہ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی پیداوار پر زکوۃ کا نظام دوسرے اموال سے بالکل مختلف ہے۔
مالِ خبیث کا انفاق قبول نہیں ہوتا : وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ ، میں ناپاک اور گھٹیاں مال سے بچنے کی غایت درجہ تاکید ہے جس طرح ‘ لاتقربوا ’ کا لفظ ہے کہ فلاں چیز کے پاس بھی نہ پھٹکو، اسی طرح لاتیمموا، کا مفہوم یہ ہے کہ برے مال کے دینے کا تو ارادہ بھی نہ کرو۔ پھ ربرے مال کی وضاحت بھی فرما دی کہ اس سے مراد اس طرح کا مال ہے جو خدا کی راہ میں دینے کے لیے تو تیار ہوجاؤ لیکن اگر وہی مال تمہیں لینا پڑجائے تو آنکھیں میچے اور دل پر جبر کیے بغیر نہ لے سکو۔ جس چیز کو آدمی اپنے لیے پسند نہ کرسکے وہ خدا کو پیش کرنا، در آں حالیکہ سب کچھ اسی کا بخشا ہوا ہے انتہائی دناءت کی بات ہے اور اس سے خدا کی خوشنودی یا نفس کی تربیت حاصل ہونا تو الگ رہا اس سے مزید دوری و مہجوری کے بڑ جانے کا اندیشہ ہے۔
غنی اور حمید کی وضاحت : خدا غنی اور حمید ہے، یعنی اللہ کسی کے مال اور کسی کی خیرات کا محتاج نہیں، وہ اگر لوگوں سے یہ چاہتا ہے کہ خدا کی راہ میں کرچ کریں توا اس لیے نہیں کہ اس کے خزانے میں کمی ہے بلکہ اس سے لوگوں کی وفاداری کا امتحان مقصود ہے کہ دیکھے کہ لوگ اس کے بخشے ہوئے مال کو جب خود اس کو دینے کا وقت آتا ہے تو کس طرح دیتے ہیں ہیں۔ پھر غنی کے ساتھ حمید کی صفت لگائی ہے۔ حمید کے معنی ہیں وہ ذات جو سزاوار حمد و تعریف کامون کا منبع ہے۔ یعنی سب سے بےنیاز ہونے کے ساتھ اس کی ذات ستودہ صفات ہے، اس کا فیض ہمیشہ جاری رہتا ہے اور سب اس سے فیضیاب ہوتے ہیں، نیک بھی اور بد بھی۔
Ayah 2:268“ فحشاء ”سے مراد : فحشاء کے معنی کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کے ہیں ہیں۔ قرآن میں اس سے زنا، لواطت اور عریانی وغیرہ جیسے کھلے جرائم کو تعبیر کیا گیا ہے، امر کا لفظ جس طرح حکم دینے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح مشورہ دینے اور سمجھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تحقیق اس کی ہم دوسری جگہ بیان کر آئے ہیں۔
انفاق کی راہ کی مزاحمتیں : یہ ان مزاحمتوں کی طرف اشارہ ہے جو شیطان اور اس کی ذریات کی طرف سے انفاق کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ آدمی جب کسی نیک کام میں خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کو دو طرح سے اس کے ارادے سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہیں۔ ایک تو مستقبل کے موہوم خطرات سے اس کو ڈراتے ہیں کہ فلاں اور فلاں مشکل کام اس کے آگے پڑے ہیں اس وجہ سے وہ اپنے ہاتھ روکے رکھے، ورنہ سخت دشواریوں میں پھنس جائے گا۔ دوسرے اس کو عیاشی، مے نوشی، سینما بینی اور اسراف و تبذیر کی دوسری لتوں میں پھنساتے ہیں تاکہ کسی اعلی مقصد میں خرچ کرنے کے لیے کوئی گنجائش اس کے پاس باقی ہی نہ رہ جائے۔ شیطان کا فتنہ بڑا ہی سخت و شدید ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ اپنی بدمستیوں میں اس طرح ڈوب جاتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے بندوں میں سے کسی کا حق ادا کرنے کے قابل رہ ہی نہیں جاتے۔ چناچہ سورة بنی اسرائیل میں جہاں انفاق کا حکم دیا ہے وہاں شیطان کے اس ہتھکنڈے سے بچتے رہنے کی خاص طور پر تاکید فرمائی ہے۔ وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (26)إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (27): قرابت مند اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو اور اپنے مال کو عیاشیوں میں نہ اڑاؤ، بے اس طرح اپنے مال کو اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔ (اسراء :26-27)۔ بعینہ یہی مضمون اسی طرح کے سیاق وسباق کے ساتھ آل عمرا کی آیات 134-135 میں بیان ہوا ہے۔
وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ : مغفت یہاں فحشاء کے مقابل میں ہے اور فضل کا لفظ فر کے مقابل میں ہے۔ یعنی شیطان تو تمہیں اللہ کی راہ میں انفاق کے بجائے نفس کی راہ میں فضول خرچی اور عیاشی کی راہ سجھاتا ہے تاکہ تمہیں سیدھے جہنم میں لے جائے لیکن اللہ اپنی راہ میں خرچ کی دعوت دے کر تمہیں مغفرت اور جنت کی طرف بلاتا ہے۔ اسی طرح شیطان تمہیں فق کے ہوے سے ڈرا کر تمہارے دل بٹھاتا ہے لیکن اللہ تم سے اس انفاق کے عوض میں دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے بےپایاں فضل و انعام کا وعدہ فرماتا ہے۔ اللہ بڑا سمائی رکھنے والا اور تمہارے ایک ایک عمل سے واقف ہے۔ نہ اس کے پاس دینے کے لیے کمی ہے اور نہ وہ تمہارے راہ خدا میں دیے ہوئے کسی پیسے دھیلے سے بیخبر ہے۔
Ayah 2:269انفاق کی حکمت کے خزانے کی کلید ہے : لفظ“ حکمت ”کی تشریح ہم اسی سورة کی آیت 151 کے تحت کرچکے ہیں۔ یہاں اس کا دہرانا باعث طوالت ہوگا۔ البتہ اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس کی اصل روح ایمان اور عمل کی وہ پختگی ہے جس کی بنیاد گہری بصیرت پر ہو۔ جس کو یہ چیز حاصل ہوتا ہے وہ اپنا خزانہ اس دنیائے فانی میں نہیں جمع کرتا بلکہ اپنے خدا کے پاس جمع کرتا ہے۔ وہ شیطان کے ڈراو وں سے نہیں ڈرتا بلکہ اپنے پروردگار کے وعدوں پر اعتماد کرتا ہے اور اس دنیا کے خزف ریزے نہیں جمع کرتا بلکہ ان کے بدلے میں حکمت کے خزانے کا طالب بنتا ہے اور یہ حکمت کا خزانہ بہت بڑی چیز ہے۔ اتنی بڑی کہ دنیا کا کوئی خزانہ بھی اس کے آگے کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ یہ خزانہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ یعنی اس کو دیتا ہے جو اس خزانے کے پانے کا استحقاق پیدا کرتے ہیں اس لیے کہ اللہ کا کوئی چاہتا بھی حکمت سے خلاف نہیں ہوسکتا۔ چناچہ اس کی سنت یہ ہے کہ جو اس دنیائے فانی کی لذتوں پر فریفتہ ہونے کے بجائے خدا کی مغفرت اور اس کے فضل کے حصول کے لیے اپنے مال لٹاتے ہیں وہ اس کے صلے میں اپنے دل کے خزانے حکمت کے لعل و گہر سے بھرتے ہیں۔
آخر میں فرمایا کہ یہ بات ہر ایک کے سمجھنے کی نہیں ہے۔ اس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ یعنی جن کی حکمت عقل حکمت کے نور سے منور ہے۔ اس دنیا کی نقد لذوں کو چھوڑ کر ایک نادیدہ عالم کی کامرانیوں کے لیے اپنی کمائی کو لٹانا انہی لوگوں کا حوصلہ ہوسکتا ہے جن کو حکمت سے بہرہ وافر ملا ہو۔
Ayah 2:270نذر کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی منت مانے کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں فلاں عبادت یا ریاضت یا اتنا صدقہ کروں گا۔ اسلام میں میں جیسا کہ احادیث سے واضح ہے، منت ماننے کو مستحسن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو منت ماننے والا اپنے رب سے کر رہا ہے اور عہد چھوٹا ہو یا بڑا اگر خلاف شریعت نہیں تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے اس لیے کہ خدا کے ہاں ہر عہد سے متعلق، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پرسش ہونی ہے۔ ہم سورة مائدہ میں بتائیں گے کہ تمام شریعت اور اور تمام اخلاق کی بنیاد عہد ہی پر ہے اس وجہ سے اسلام نے اس پہلو میں کسی ڈھیل کو گوارا نہیں کیا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ، یہ ٹکڑا شرط کے جواب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی جو شخص خدا کی راہ میں کچھ خرچ کرتا ہے یا اس کے لیے کوئی منت مانتا ہے تو وہ یہ اطمینان رکھے کہ خدا اس کی خیرات اور اس کی نذر ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ‘ جانتا ہے ’ سے مقصود اس کا لازم ہے یعنی جب وہ جانتا ہے تو لازماً وہ اس کا اپنے وعدے کے مطابق صلہ بھی دے گا۔ زبان کا یہ اسلوب عربی زبان اور قرآن میں بہت عام ہے۔
وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ، ظالم سے مراد یہاں خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں یعنی وہ لوگ جو یا تو دولت دنیا ہی کو معبود بنائے بیٹھے ہیں، خدا کی راہ میں سرے سے خرچ کرتے ہی نہیں یا خرچ کرتے ہیں تو ریا، احسان داری اور دل آزاری سے اس کو برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ بدقسمت ہیں، ان کا سارا اعتماد انفاق و ایثار اور خدا کے فضل و رحمت کے بجائے اپنے مال اور اپنے جھوٹے معبودوں پر ہے یہ ان پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں، حالانکہ خدا کے ہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 2:271علانیہ اور پوشیدہ انفاق کے درجے : یہاں چونکہ زیر بحث عام صدقات و خیرات ہیں، صدقاتِ واجبہ نہیں ہیں جو علانیہ دیے جاتے ہیں، اس وجہ سے ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو پوشیدہ طور پر دینا بہتر ہے یا علانیہ، قرآن نے یہ اس سوال کا جواب دیا ہے کہ اگر ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے، اس لیے کہ اس کے بھی بعض پہلو مفید ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے دوسروں کو بھی انفاق کی ترغیب ہوتی ہے۔ خاص طور پر ان مواقع میں، جب کسی اجتماع مہم کے لیے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا ہو، لیکن جب اس طرح کے حالات نہ ہوں تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ پوشیدہ طور پر غریبوں کو دے دو تاکہ ریا و نمائش کے فتنہ سے بھی محفوظ رہ سکو اور خود دار حاجت مندوں کی خود داری کی لاج بھی قائم رہ سکے۔ یہاں یکفر عنکم کا عطف فھو خیر لکم کے مفہوم پر ہے۔ یعنی اس پوشیدہ انفاق کا اجر بھی سوا ملے گا اور یہ تمہارے دامن سے گناہوں کو جھاڑنے میں بھی زیادہ کار گر ہوگا۔ پھر فرمایا کہ انفاق کا اجر بھی سوا ملے گا اور تمہارے دامن سے گناہوں کو جھاڑنے میں بھی زیادہ کارگر ہوگا۔ پھر فرمایا کہ پوشیدہ اور علانیہ کا مسئلہ تمہارے لحاظ سے ہے۔ خدا سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں، تم جو کچھ بھی کروگے، جہاں بھی کروگے، جس جگہ بھی کروگے، خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔
Ayah 2:272خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ : اس آیت میں کوئی خاص لفظ تحقیق طلب نہیں ہے صرف وما تنفقون الایہ کے اسلوب کے باب میں کچھ تردد سا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ یہ خبر کے اسلوب میں انشائیہ جملہ ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ معروف ہے۔ قرآن میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں کہ امر یا نہی کے مضمون کو ان مواقع میں خبریہ اسلوب میں کردیتے ہیں جب مخاطب کو کوئی بات شفقت اور التفاتِ خاص کے ساتھ سمجھانی ہو۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ کیا ہے۔ پچھلوں میں سے بھی بعض لوگوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ لیکن مجھے اس پر پورا پورا جزم نہیں ہے۔ اہل علم اس کو نگاہ میں رکھیں۔
پوری آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں بیک وقت نبی ﷺ کو بھی بطریق التفات مخاطب فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو بھی۔
نبی ﷺ کو مخاطب کر کے اس سنت اللہ کییاد دہانی کی گئی ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اور جس کا ذکر اس سورت میں بھی ایک سے زیادہ مقامات میں ہوا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی مختلف اسلوبوں اور شکلوں میں ہوا ہے۔ وہ سنت اللہ یہ ہے کہ نبی کی ذمہ داری لوگوں کی ہدایت کے معاملے میں صرف یہ ہے کہ وہ ان کو اللہ کی تعلیمات اور ہدایات سے اچھی طرح آگاہ کردے۔ اگر یہ کام اس نے کردیا تو اس کا فرض پورا ہوگیا۔ یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ لوگ ان تعلیمات و ہدایات کو قبول بھی کرلیں۔ ان کو قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا کام ہے اور وہ یہ توفیق ان کو دیتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس چاہنے کے لیے خود اس کا مقرر کیا ہوا ایک ضابطہ ہے جس کی وضاحت ہم آیت 256-260 کے تحت کرچکے ہیں۔
مقصود اس سنت اللہ کی طرف اشارہ کرنے سے یہ ہے کہ درباب انفاق جو باتیں بتانی تھیں وہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بتا دیں۔ آپ کا فرض ادا ہوگیا۔ اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ ان کو قبول کریں یا رد کریں۔ آپ اس چیز کے لیے پریشان نہ ہوں۔ اگر لوگ ان کی قدر نہ کریں گے تو اس کا خمیازہ خود ہی بھگتیں گے۔
خدا کو دینا اپنے لیے جمع کرنا ہے : مسلمانوں کو خطاب کر کے آخری تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ جو مال بھی تم خدا کی راہ میں خرچ کروگے یہ نہ سمجھو کہ یہ کسی دوسرے کو دے رہے ہو بلکہ یہ تم اپنے ہی لیے جمع کر رہے ہو جو تمہیں سات سو گنے تک بڑھ کر ایک دن واپس ملنا ہے۔ بس یہ شرط ہے کہ تمہارا یہ خرچ کرنا اللہ کی خوشنودی کے سوا کسی اور مقصد سے نہ ہو۔ اللہ کی خوشنودی کے سوا کسی اور مقصد سے نہ ہو۔ اللہ کی خوشنودی کے لیے جو کچھ خرچ کروگے سب تمہارا پورا کردیا جائے گا اس میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی۔
Ayah 2:273للفقراء سے پہلے مبتداء محزوف ہے۔ یعنی یہ صدقہ وانفاق جس کی دعوت دی جا رہی ان فقراء کے لیے ہے جن کی صفات یہ یہ ہیں۔ مبتداء کے حذف کردینے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ قرینہ خود اس پر دلیل ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے صدقے کی اخفا کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہو رہا ہے۔ گویا آیت نے انگلی اٹھا کر محتاجوں کی طرف تو اشارہ کردیا لیکن یہ بات کہ کس کام کے لیے اشارہ کیا گیا ہے، مخاطب کے فہم پر چھوڑ دی ہے۔ اس طرح صدقہ کے اخفا کے ساتھ ساتھ محتاجوں کے اس خود داری کی بھی آن محفوظ رہ گئی جس کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے۔
اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ یعنی کسی دینی مقصد نے ان کو کسب معاش کی جدوجہد سے روک رکھا ہے۔ یہ لوگ تجارت وغیرہ کے لیے ادھر ادھر سفر نہیں کرسکتے۔ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ کے معنی سفر کرنے کے ہیں، مثلا فرمایا ہے واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ : اور کچھ دوسرے ایسے بھی ہوں گے جو فضل الٰہی کی تلاش میں زمین پر سفر کریں گے۔
يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ : جاہل کے معنی یہاں بیخبر کے ہیں اور تعفف کے معنی خود داری کے ہیں، یعنی یہ لوگ خود داری کے سبب سے کسی کے آگے نہ تو دست سوال دراز کرتے نہ اپنے فقر و فاقہ کا اظہار کرتے، اس وجہ سے جو شخص ان کے حالات سے بیخبر ہے ان کو مستغنی خیال کرتا ہے۔rnۚ تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ ۚ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا، سیما کے معنی علامت اور ہیئت کے ہیں، جیسا کہ فرمایا“ سیماھم فی وجوہہم من اثر السجود : ان کی پہچان، ان کے چہروں پر سجدوں کا نشان ہے ”۔ الحاف کے معنی لپٹ کر سوال کرنے کے ہیں۔ لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے) میں اصل مقصود سوال کرنے کی نفی ہے، الحافا کی قید اس کے ساتھ صرف سوال کرنے والوں کی عام حالت کی تصویر اور اس کے گھنونے پن کے اظہار کے لیے لگائی ہے۔ مثلاً فرمایا ہے کہ لاتقتلوا اولادکم خشیۃ املاق (اپنی اولاد کو فقر کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس میں ممانعتدر حقیقت قتل کی ہے، خشیۃ املاق کی قید محض اس کے گھنونے پن کو واضح تر کرنے کے لیے ہے۔ یا فرمایا ہے کہ لاتاکلوا الربا اضعافا مضاعفۃ (اور سود نہ کھاؤ دوگنا چوگنا کر کے)۔ اس میں ممانعت در اصل سود کھانے کی ہے۔ اضعافا مضاعفۃ کی قید محض اس کی کراہت کو نمایاں کرنے کے لیے ہے، یا فرمایا ہے لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا (اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ قید نکاح میں آنا چاہتی ہیں) اس میں بھی مقصود مطلق اکراہ کی ممانعت ہے، ان اردن تحصنا کی قید محض اس گھنونے پن کے اظہار کے لیے ہے۔
اسی طرح لایسئلون الناس الحافا میں مقصود ان کے سوال کرنے کی نفی ہے۔ الحافا، کی قید محض سوال کرنے والوں کی عام حالت کے اظہار کے لیے ہے کہ بھلا جو لوگ اتنے خود دار ہیں کہ جو ان کے حال سے بیخبر ہو وہ ان کو غنی سمجھتا ہے وہ گداگروں اور بھک منگوں کی طرح کی حرکت کس طرح کرسکتے ہیں ؟ چناچہ ان کی اسی خود داری اور پردہ داری کی وجہ سے قرآن نے اہل انفاق کو ان کا سراغ دینے کے لیے ان کی پہچان یہ بتائی ہے کہ ان کو صرف چہرے بشرے سے پہچان کر ڈھونڈھنے کی کوشش رکو اور ان کے پاس خود پہنچو، یہ توقع نہ رکھو کہ عام گداگروں کی طرح یہ لوگ تمہارے پیچھے پیچھے بھاگیں گے۔
قرآن کے زمانہ نزول میں اس آیت کے بہترین مصداق اہل صفہ تھے اور اس میں شبہ نہیں کہ احادیث میں ان کی جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں وہ ٹھیک ٹھیک قرآن کے ان اشارات کے مطابق ہیں۔ قرآن نے ان آیات میں وہ نمونہ بھی دکھا دیا ہے جو باایمان فقراء کا ہونا چاہیے اور اس طریقے کی طرف بھی رہنمائی کردی ہے جو ان فقراء کے معاملے میں باایمان اغنیا کو اختیار کرنا چاہئے۔ آج کے فقرا اور آج کے اغنیا اس آئینہ میں اپنی شکلیں دیکھیں۔
آخر میں فرمایا کہ“ جو تم خرچ کروگے، اللہ اس سے باخبر ہے ”یعنی ایسے خود دار سائلوں کو تلاش کر کے چپ چپاتے ان کی حاجت روائی کرنا خلق سے چھپا رہے گا لیکن خالق سے چھپا نہیں رہے گا، وہ تمہارے ہر انفاق سے باخبر ہے اور وہ اس کا بھرپور صلہ دے گا۔
Ayah 2:274اس آیت میں رات اور دن، پوشیدہ اور علانیہ میں جو مناسبت اور تقابل ہے وہ ملحوظ رہے۔ اوقات بھی سب احاطہ میں آگئے ہیں۔ اور حالتیں بھی دونوں اس میں جمع ہوگئی ہیں۔ نیز اہل ایمان کے اندر انفاق کے لیے جو جوش ہونا چاہئے اسلوب کلام سے وہ خود بخود ابلا پڑ رہا ہے۔ علاوہ بریں انفاق کا خدا کے ہاں جو صلہ ہے وہ بھی پورا پورا بیان ہوگیا ہے یہ آیت انفاق کا سلسلے میں خاتمہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگلی آیات 275 تا 283 کا مضمون : انفق کے مضمون کے بعد اب آگے سود کی حرمت کا بیان ہوا۔ سود کا تعلق چونکہ قرض سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرض کے لین دین سے متعلق جو ضروری ہدایات ہیں اسی سلسلے میں وہ بھی دی گئیں۔ رہن بھی اسے سی تعلق رکھنے والی چیز ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ اس کا حکم بھی بیان ہوا۔
سود کے متعلق یہ امر محتاجِ بیان نہیں ہے کہ یہ انفاق کا بالکل ضد ہے۔ انفاق کی محرک بلند ہمتی، ہمدردی، فیاضی، ایثار، رحم دلی ہے اور سود کی محرک بزدلی، خود غرضی، سنگ دلی اور دوسروں کی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہے۔ انفاق ضرورت مندوں کو سہارا دینا چاہتا ہے اور سود گرے ہوؤوں کا خون چوسنا چاہتا ہے۔ دونوں میں نسبت ضدین کی ہے اور فطرت کا اصول یہ ہے کہ کسی شے کی حقیقت اس وقت تک اچھی طرح واضح نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ اس کے ضد کا بیان نہ ہو۔ اسی اصول کی بنا پر قرآن نے اکثر چیزوں کے بیان میں یہ طریقہ ملحوظ رکھا ہے کہ ضدین کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے۔ مثلاً اہل ایمان کا بیان ہے تو اس کے ساتھ اہل کفر کا بھی بیان ہوا ہے۔ جنت کا ذکر آیا ہے تو اکثر اس کے ساتھ دوزخ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ یہ چیز قرآن کے نظم کی ایک خصوصیت بن گئی ہے۔ اسی اصول پر قرآن نے انفاق کے ساتھ اکثر یا تو بخل کا ذکر کیا ہے یا سود خوری کا۔ یہاں اس کا ذکر انفاق کے بعد آیا ہے۔ سورة آل عمران آیت میں انفاق کے بیان سے پہلے ہے۔ لیکن مقصود دونوں جگہ ایک ہی ہے کہ ایک کی تاریکی دوسرے کی روشنی کو اور ایک کا جمال دوسرے کی بدصورتی کو بےنقاب کرسکے۔ اس نظم کلام سے حکمت کے بعض ایسے گوشے آشکارا ہوجاتے ہیں جو کسی اور طریقے سے آشکارا نہیں ہوسکتے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیت کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:275لفظ“ رِبوا ”کا مفہوم : رَبَا یَرْبُوْ رِبَاءً کے معنی بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں۔ اسی سے رِبوٰ ہے جس سے مراد وہ معین اضافہ ہوتا ہے جو ایک قرض دینے والا مجرد مہلت کے عوض اپنے مقروض سے اپنی اصلی رقم پر وصول کرتا ہے۔ جاہلیت اور اسلام دونوں میں یہ اصطلاح مذکورہ مفہوم کے لیے مشہور رہی ہے۔ اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ لیکن اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ قرض دینے والا قرضدار سے ایک معین شرح پر صرف اس حق کی بنا پر اپنے دیے ہوئے روپے کا منافع وصول کرے کہ اس نے ایک خاص مدت کے لیے اس کو روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اس امر کو اس کی حقیقت کے تعین میں کوئی دخل نہیں ہے کہ قرض کسی غریب و نادار کو دیا گیا ہے یا کسی امیر و تاجدار کو اور نہ اس بات سے اس میں کوئی فرق واقع ہوتا ہے کہ قرض کسی میت کی تجہیز و تکفین کے لیے دیا گیا ہے یا کسی رفاہی اسکیم کے لیے دیا گیا ہے، یا تجارت، زراعت اور صناعت کے کسی انفرادی یا اجتماعی منصوبے کے لیے دیا گیا ہے۔ جاہلیت اور اسلام دونوں میں ربوٰ کی اصطلاح کا جو مفہوم مسلم رہا ہے اس میں ان ظاہری اختلافات سے سرِ مو فرق واقع نہیں ہوتا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مقصد قرض یا قرضدار کی نوعیت و حیثیت کی تبدیلی ربوٰ کی عرفی حیثیت کو بدل دیتی ہے ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ خود قرآن کے الفاظ سے اس خیال کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے۔
“ خبط ”کی تحقیق :‘ تخبط ’ کا لفظ ‘ خبط اللیل ’ سے ہے جس کے معنی رات کی تاریکی میں بھٹکنے کے ہیں، خابط اللیل اس شخص کو کہیں گے جسے داہنے بائیں کا کچھ ہوش نہ ہو، بس یوں ہی ہرزہ گردی کر رہا ہو۔ اسی سے یَخْبِطُ خبط عشواء کا محاور ان لوگوں کے لیے پیدا ہوا جو بصیرت سے بالکل محروم ہوں اور اندھے بھین سے کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھر رہے ہوں۔ اسی سے تخبطہ الشطان نکلا جس کے معنی ہیں مسہ الشیطان بخبل او جنون، اس کو شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل اور دیوانہ بنا دیا۔
‘ مس ’ کے اصل معنی چھونے کے ہیں۔ اس کا غالب استعمال کسی برائی، آفت اور دکھ کے پہنچنے اور لاحق ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ ہم نے موقع کے لحاظ سے اس کا ترجمہ چھوت کیا ہے۔ جو لفظی بھی ہے اور معنی خیز بھی۔ تو دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے خدا ہی کے اذن سے ہوتا ہے لیکن شیطان کو جن کاموں کے لیے مہلت ملی ہوئی ہے ان کی نسبت بعض اوقات اس کی طرف کردی جاتی ہے۔ جیسے حضرت ایوب کی دعا میں ہے۔ انی مسنی الشیطان بنصب و عذاب : شیطان نے مجھے دکھ اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔ نیک بندوں پر تو ارواح خبیثہ کا اثر اس سے زیادہ نہیں ہوتا کہ ان کو کوئی اذیت یا آزمائش پیش آجائے لیکن جن کی روحیں خود خبیث ہوتی ہیں، جس طرح ان کا قلب شیطان کی مٹھی میں ہوتا ہے اسی طرح کبھی کبھی ان کے عقل و دماغ سب پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے اور وہ ظاہر میں بھی بالکل پاگل ہو کر کپڑے پھاڑتے، گریبان چاک کرتے، منہ پر جھاگ لاتے اور پریشان حال پراگندہ بال جدھر سینگ سمائے ادھر آوارہ گردی اور خاکبازی کرتے پھرتے ہیں۔
اوپر اہل انفاق کے متعلق آپ پڑھ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی تربیت فرماتا ہے، ان کو علم اور عمل دونوں میں رسوخ و عزیمت عطا فرماتا ہے، ان کے انفاق میں برکت بخشتا ہے، ان کا کارساز بن کر ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، ان کو حکمت کا لازوال خزانہ بخشتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آخرت میں ان کو لاخوف علیہم ولا ھم یحزنون کے سرور ازلی و ابدی سے نوزے گا۔
اب یہ اس کے بالکل مخالف کردار رکھنے والوں یعنی سود خوروں کا بیان ہے۔ ان کی نسبت فرمایا کہ یہ جب روز قیامت کو اٹھیں گے تو بالکل اس طرح اٹھیں گے جس طرح وہ شخص اٹھا کرتا ہے جس پر کسی جنات یا بھوت کا سایہ ہو، جس سے وہ بالکل مخبوط الحواس ہو رہا ہو۔ اس تشبیہ کی زیادہ وضاحت نہیں فرمائی ہے اس لیے کہ اس کے اجمال ہی میں ساری وضاحت موجود ہے۔ جس طرح قرآن میں ایک جگہ“ رؤوس الشیاطین ”کی تشبیہ ہے جس کے الفاظ کو سن کر ہی دل پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے، اسی طرح ‘ تخبطہ الشیطان من المس ’ کے الفاظ سے خود ہی وحشت زدگی اور پریشان حالی کی ایک ایسی تصویر سامنے آجاتی ہے جو کسی وضاحت کی محتاج نہیں رہ جاتی۔
آگے فرمایا کہ ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ سود کی حرمت پر وہ اعتراض اٹھاتے تھے کہ بیع بھی تو سود ہی کی مانند ہے تو پھر بیع کو اللہ نے حلال اور سود کو حرام کیوں ٹھہرایا، چونکہ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو بالکل مخبوط الحواس ہو، جس کی عقل ماری گئی ہو اور شیطان نے جس کو اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو اس وجہ سے عمل اور جزا کی مشابہت کے قانون کے تحت، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے“ من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی۔ جو دنیا میں عقل اور دل کا اندھا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی اٹھے گا ”۔ ایسا شخص جب قیامت میں اٹھے گا تو پاگلوں اور دیوانوں کی طرح اٹھے گا۔
وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا کا موقع و محل : یہاں ان کے قول کا حوالہ دے کر اس کو نظر انداز کردیا ہے، اس کی تردید نہیں کی ہے۔ اس کہ اس قول کی لغویت اتنی واضح ہے کہ اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو بالکل پاگل ہوچکا ہو اور پاگلوں کی کسی بات کی تردید کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ ہمارے اہل تاویل نے عام طور پر وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا کے ٹکڑے کو ان کی اس بات کی تردید کے معنی میں لیا ہے اور اسی پہلو سے اس کی تاویل کی ہے۔ اگرچہ اس بات کا بھی ایک محل ہے کیونکہ اللہ کا کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا بجائے خود اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ عقل و فطرت اور معاش و معاد کے نقطہ نظر سے اس چیز کی حلت یا حرمت بالکل معقول ہے لیکن یہ دلیل صرف مومن کے لیے قابل اعتماد ہے، منکر کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اس وجہ سے مجھے بار بار یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ ٹکڑا الگ نہیں ہے بلکہ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا کے تحت ہی ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں بیع بھی تو ربوٰ ہی کی طرح ہے، جب ایک تاجر اپنے سرمایہ پر نفع لیتا ہے تو ایک سرمایہ دار اگر اپنے سرمایہ کا نفع حاصل کرتا ہے تو آخر وہ مجرم کیوں ٹھہرے، پھر اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیوں ٹھہرایا ؟ ہرچند یہ جملہ بشکل سوال نہیں ہے لیکن اس کے اندر وہی سوال یا اعتراض پوشیدہ ہے جو پہلے ٹکڑے کے اندر ہے۔
تاجر اور سود خوار کے سرمایہ میں فرق : اس اعتراض سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی کہ سود کو بیع پر قیاس کرنے والے پاگلوں کی نسل دنیا میں نئی نہیں ہے بلکہ بڑی پرانی ہے۔ قرآن نے اس قیاس کو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، لائق توجہ نہیں قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بداہۃً باطل اور قیاس کرنے والے کی دماغی خرابی کی دلیل ہے۔ ایک تاجر اپنا سرمایہ ایک ایسے مال کی تجارت پر لگاتا ہے جس کی لوگوں کو طلب ہوتی ہے، وہ محنت، زحمت اور خطرات مول لے کر اس مال کو ان لوگوں کے لیے قابل حصول بناتا ہے۔ جو اپنی ذاتی کوشش سے اول تو آسانی سے اس کو حاصل نہیں کرسکتے تھے اور اگر حاصل کرسکتے تھے تو اس سے کہیں زیادہ قیمت پر جس قیمت پر تاجر نے ان کے لیے مہیا کردیا۔ پھر تاجر اپنے سرمایہ اور مال کو کھلے بازار میں مقابلہ کے لیے پیش کرتا ہے اور اس کے لیے منافع کی شرح بازار کا اتار چڑھاؤ مقرر کرتا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اس اتار چڑھاؤ کے ہاتھوں بالکل دیوالیہ ہو کر رہ جائے اور ہوسکتا ہے کہ کچھ نفع حاصل کرلے۔ اسی طرح اس معاملے میں بھی اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کہ وہ ایک بار ایک روپے کی چیز ایک روپے دو آنے یا چار آنے میں بیچ کر پھر اس روپے سے ایک دھیلے کا بھی کوئی نفع اس وقت تک نہیں کما سکتا جب تک اس کا وہ روپیہ تمام خطرات اور سارے اتار چڑھاؤ سے گزر کر پھر میدان میں نہ اترے اور معاشرے کی خدمت کر کے اپنے لیے استحقاق نہ پیدا کرے۔
بھلا بتائیے کیا نسبت ہے ایک تاجر کے اس جانباز غیور اور خدمت گزار سرمایہ سے ایک سود خوار کے اس سنگ دل، بزدل، بےغیرت اور دشمن انانیت سرمایہ کو جو جوکھم تو ایک بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن منافع بٹانے کے لیے سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ سود خور کا سرمایہ دو بھیسوں میں ظاہر ہوتا ہے اور دونوں ہی میں وہ یکساں بزدل اور خونخوار ہے۔ ایک تو یہ سودی کاروبار کرنے والے نبیوں، پٹھانوں اور یہودیوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے، اس شکل میں تو اس کی خونخواری سے کسی کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ ایک بنیا یا پٹھان جب ایک مرتبہ اپنے جال میں کسی کو پھنسا پاتا ہے تو چاہے اس مظلوم کے جسم پر گوشت کی ایک بوٹی بھی باقی نہ رہ گئی ہو لیکن وہ اپنی ہر میعاد پر آ کر اپنا ایک پونڈ گوشت کاٹ لے گا اور مدت العمر کی اس قطع و برید کے بعد بھی بسا اوقات ہوتا یہ ہے کہ نہ صرف بنیے کا اصل سرمایہ قرضدار پر لدا رہتا ہے بلکہ وہ اصل سے کئی گنا ہو کر آکاس بیل کی طرح مظلوم قرض دار کے گھر در، اس کے اثاث البیت اور اس کے زن و فرزند ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور خاندان کے خاندان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ بتائیے کس تاجر کے سرمایہ میں یہ سکت ہے کہ وہ کسی پر یہ ظلم ڈھا سکے ؟ وہ تو زیادہ سے زیادہ اگر کرسکتا ہے تو یہ کہ بازار کے سارے اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کر کے اگر موقع پائے تو اپنی ایک روپیہ کی چیز ڈیڑھ یا دو روپے میں بیچ لے اور وہ بھی ایک مرتبہ۔
سود خور کے سرمایہ کا دوسرا بھیس وہ ہے جس میں وہ رفاہی کاموں، اجتماعی منصوبوں اور ملکی اسکیموں کی سرپرستی کے نام سے اٹھتا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے سادہ لوح اس بھیس میں اس کو بڑا معصوم سمجھتے ہیں لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کی بزدلی اور خود غرضی کی فطرتِ بد اس کے اس جامے میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرھ پہلے بھیس میں موجود ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ فرض کیجیے ملک کی حکومت ملک کے کسی حصے کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے یا کسی اور خطرے سے بچانے کے لیے کوئی بڑا منصوبہ عمل میں لانا چاہتی ہے اور اس کے لیے پانچ یا سات فی صد کی شرح پر لوگوں سے قرض لیتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت کا منصوبہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد کسی ارضی و سماوی آفت کی زد میں آ کر تباہ ہوجائے۔ اب بتائیے کہ ملک نے تو بحیثیت مجموعی ایک شدید قسم کا نقصان اٹھایا لیکن جن سود خوروں نے اس کے لیے قرض دیے تھے نہ صرف ان کا سرمایہ محفوظ ہے بلکہ ایک معین شرح کے ساتھ اس کا سود بھی دم بدکم اس میں اضافے پر اضافہ کیے چلا جا رہا ہے۔ آخر یہ قومی خدمت کی کون شکل ہوئی ؟ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ پہلی صورت میں اور اس دوسری صورت میں حقیقت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ پہلی صورت میں سود خور کو صرف اس امر سے بحث ہے کہ اس کا سرمایہ محفوظ رہے اور منافع کا ایک پونڈ گوشت بغیر کسی غل و غش کے فصل فصل پر اس کو ملتا رہے، چاہے قرض دار کی سات پشتیں فاقہ کرتی مر جائیں۔ اور اس صورت میں بھی اس کے سامنے یہی چیز ہے کہ اس کا اصل سرمایہ بےداغ محفوظ رہے، معین سود اس کے حساب میں جمع ہوتا رہے، رہا قوم کا مردہ تو وہ چاہے دوزخ میں جائے یا بہشت میں۔
برعکس اس کے ایک تاجر کا سرمایہ قوم اور ملک کی خدمت کے لیے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اگر حالات کے رد و بدل، بازار کے اتار چرھاؤ، یا کسی اور سبب سے اس کو نقصان پہنچ جائے تو اس نقصان کو وہ اپنے ہی اوپر برداشت کرتا ہے۔ اس کے لیے ایک لمحہ کے واسطے بھی اس بات کا امکان نہیں ہوتا کہ وہ سود خور کے سرمائے کی طرح کسی کمین گاہ میں چھپ کر بیٹھے اور دوسروں سے اپنا نفع وصول کرتا رہے۔ اگر اس کو ساز گار سے ساز گار حالات بھی میسر آجائیں تب بھی بہرحال اس کے منافع کی شرح پا بزار کا فیصلہ ناطق ہوتا ہے اور اس طرح جو کچھ وہ حاصل کرپاتا ہے درحقیقت وہ اس کا جائز حق المحنت ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاجر کے منافع کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تعبیر فرمایا ہے اور سود خور کے سرمایہ کو، جیسا کہ ہم سورة روم کی تفسیر میں واضح کریں گے، اس سانڈ سے تشبیہ دی ہے جو دوسروں کی چراگاہ میں چر کر فربہ ہو رہا ہو۔
سود خوروں کے لیے تنبیہ : فَمَنْ جَاۗءَهٗ مَوْعِظَةٌ الایہ : موعظت کے لفط میں زجر و تنبیہ کا پہلو غالب ہے اس وجہ سے اس کی اصل روح کو پیش نظر رکھ کر ہم نے اس کا ترجمہ تنبیہ کیا ہے، اس کی تانیث چونکہ غیر حقیقی ہے اس وجہ سے لفظ کے مفہوم کے لحاظ سے اس کے لیے فعل مذکر آیا ہے۔ ‘ من ربہ ’ کے الفاظ نے اس تنبیہ کے اندر ایک خاص زور پیدا کردیا ہے۔ یعنی یہ تنبیہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے بلکہ یہ سب کے مالک و آقا کی طرف سے تنبیہ ہے اس وجہ سے اس کو سہل نہیں خیال کرنا چاہیے۔ فَلَهٗ مَا سَلَفَ ، یعنی اس تنبیہ کے بعد جو سودی لین دین سے رک گیا، اس سے اس کے پچھلے لیے ہوئے سود کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اس قانون کا نفاذ اگر ماضی پر بھی اثر انداز ہوتا تو اس سے ناقابل حل مشکلات پیدا ہوجاتیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ یعنی ایسے شخص سے اسلامی حکومت تو اس کے سابق سودوں پر کوئی گرفت نہیں کرے گی لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خدا سے بھی اس کو معافی مل گئی، بلکہ اس کا معاملہ خدا کے حوالے ہے۔ خدا کے حوالے کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کی پکڑ سے بچنے کے لیے مجرد یہ بات کافی نہیں ہے کہ آدمی سود نہ لے بلکہ یہ بھی ضرور ہے کہ آدمی کے دل سے بھی سود کا ہر شائبہ نکل جائے۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس طرح کے لوگ آخرت سے بےخوف ہو کر نہ بیٹھ رہیں بلکہ جس حد تک بھی ہوسکے اپنے پچھلے مظالم کی تلافی کی کوشش کریں، اس لیے کہ یہ مظالم حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے ہیں اور حقوق العباد کا معاملہ خدا کے ہاں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ یعنی اس واضح تنبیہ کے بعد بھی جو لوگ سودی کاروبار کریں گے وہ دوزخی ہیں اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے دائمی دوزخ کی سزا کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ وہ خدا کے اس حکم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی اگر جذبات کے غلبے کے سبب سے ہوجاتی ہے تو توبہ کے ذریعے سے اس کی اصلاح کی راہ کھلی ہوئی ہے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ توبہ سے غفلت کے باوجود اللہ تعالیٰ کسی کو معاف کردے یا اس کے گناہوں کے بقدر اس کو سزا دے کر رہائی دے۔ لیکن نہایت واضح تذکری و تنبیہ کے بعد بھی ایک شخص کسی حکم کی خلاف ورزی پر اصرار کیے چلا جا رہا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کے اس حکم کا منکر ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ ایمان کا بھی دعوی کرتا ہے تو یہ محض ایک منافقانہ قسم کی حرکت ہے جو اس عالم الغیب سے مخفی نہیں ہے جو دلوں کے تمام بھیدوں سے بخوبی واقف ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔ یعنی ان کو جہنم کے اس دائمی عذاب میں جھونک دے گا جو کفار و منافقین کے لیے مقرر ہے۔
گناہ کا احاطہ دائمی عذاب کا موجب ہے : یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھان چاہئے کہ ایک چیز تو ہے کسی جرم کا مرتکب ہونا اور ایک چیز ہے کسی جرم کو اوڑھنا بچھونا بنا لینا۔ جو جرم اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے وہ مجرم کی زندگی کے کسی ایک ہی پہلو کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کی زندگی کا ہر پہلو اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ اس کا ظاہر، اس کا باطن، اس کا عقیدہ، اس کا عمل اور اس کا ایمان و اسلام سب اس جرم کی چھاپ قبول کرلیتا ہے۔ اس حالت کو قرآن نے ‘ احاطہ ’ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے دائمی عذاب نار ہے۔ مثلاً ارشاد ہے“ بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ : البتہ جس نے کوئی بدی کمائی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ”(بقرہ :81)