2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی پکڑی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

لفظ ‘ طاغوت ’ کی تحقیق : طاغوت بروزن ملکوت و جبروت، طغی، کے مادہ سے ہے جس کے معنی حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں۔ جو چیز اپنی حد مناسب سے آگے بڑھ جائے اس کے لیے عربی میں کہیں گے“ طغی ”۔ طغی الماء، پانی حد سے آگے بڑھ گیا۔ قوم ثمود جس آفت سے ہلاک ہوئی اس کے لیے طاغیہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی آفت کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ حدود عبدیت و بندگی سے نکل جانے کے لیے استعمال ہوا اور جو حدود بندگی سے نکل جائے اس کو طاغوت کہنے لگے۔ پھر وسعت اختیار کر کے یہ لفظ ان چیوں پر بھی حاوی ہوگیا جو حدود بندگی سے نکل جانے کا باعث یا ذریعہ بنیں۔ اہل لغت اسی وجہ سے اس کی تشریح عام طور پر یوں کرتے ہیں کہ الطاغوت عبارۃ عن کل معتد و کل معبود من دون اللہ : طاغوت سے مراد ہر وہ وجود ہے جو بندگی سے نکل جائے اور ہر وہ معبود ہے جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔ قرآن نے اس لفظ کو مختلف مقامات میں استعمال کیا ہے اور ہر جگہ اس کے مقابل کا ذکر کر کے اس کے مختلف مفہوموں پر روشنی ڈال دی ہے۔ مثلاً زیر بحث آیت میں ہے فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ یہاں اللہ کے تقابل سے واضح ہے کہ طاغوت سے مراد ماسوا اللہ ہے۔ سورة نحل میں ہے ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت۔ یہاں بھی اللہ کے سوا دوسرے معبودان باطل مراد ہیں۔ سورة نسا میں ہے الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت، اس کے معاً فرما فقاتلوا اولیاء الشیطان جس سے متعین ہوگیا کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے اور شیطان کا لفظ شیاطین انس اور شیاطین جن دونوں کو شامل ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام میں اس لفظ کو کتاب الٰہی اور طریقہ رسول کے مخالف طریقہ کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالا بَعِيدًا (60) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا (61) ، اس آیت میں يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ کے بالمقابل تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ کہہ کر یہ واضح کردیا کہ طاغوت سے یہاں مراد وہ چیزیں ہیں جو کتاب الٰہی اور سنت رسول کے خلاف ہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جو خدا کی بندگی و اطاعت سے نکل جائے یا نکل جانے کا باعث اور ذریعہ ہو، وہ سب اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہے۔ لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کا مفہوم : اوپر آیت وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْھُمُ الْبَيِّنٰتُ الایۃ میں نبی ﷺ کی تسلی کے لیے جس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا یہ اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ کے رسول کی اصل ذمہ داری صف حق کو واضح طور پر پہنچا دینا ہے اور جب یہ کام ہوچکا، حق باطل سے بالکل الگ ہو کر سامنے آگیا، تو رسول کی جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہوچکی۔ اب ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جن پر حجت تمام ہوچکی ہے۔ وہ چاہیں تو ایمان لائیں اور چاہیں تو کفر کی روش پر اڑے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں جبرِ فطری کی راہ نہیں اختیار فرمائی ہے بلکہ لوگوں کو اختیار و انتخاب کی آزادی بخشی ہے۔ اگر وہ چاہتا تو ساری دنیا کو نیکی کی ڈگر پر ہانک دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس نے لوگوں کو آزادی دی ہے جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اس کا صلہ پائیں گے جو کفر کی راہ اختیار کریں گے وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں مختلف مقامات میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے مثلا، وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلا آبَاؤُنَا وَلا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ (35) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلالَةُ فَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (36)إِنْ تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (37): اور یہ مشرکین کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کو نہ پوجتے، نہ ہم نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہرا سکتے۔ ایسا ہی سوال اٹھایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں تو کیا رسولوں پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری بھی ہے ؟ ہم نے تو ہر امت میں ایک رسول اٹھایا اس دعوت کے ساتھ کہ لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو، تو ان میں سے کچھ ایسے ہوئے جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کچھ ایسے ہوئے جو گمراہی کے سزا وار ٹھہرے۔ تو ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اگر تم ان لوگوں کی ہدایت کے حریص ہو تو یاد رکھو کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دینے والا نہیں ہے جن کو گمراہی کا سزا وار ٹھہرا چکا اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ (نحل :35-37)۔ یہ جبرِ فطری کی نفی ہے، جبر قانونی کی نہیں : قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے مختلف مقامات میں بیان ہوا ہے۔ ہم نے طوالت سے بچنے کے لیے صرف ایک آیت کے نقل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے ٹکڑے میں جس جبر واکراہ کی نفی کی گئی ہے اس سے مقصود جبر فطری کی نفی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں یہ طریقہ نہیں اختیار فرمایا ہے کہ وہ اپنی مشیت وقدرت کے زور سے لوگوں کو ہدایت پر چلا دے یا گمراہی کی طرف ہانک دے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا تو نہیں تھا لیکن یہ بات اس کی حکمت اور اس کے عدل کے خلاف ہوتی۔ اس نے اس کے برعکس یہ طریقہ اختیار فرمایا ہے کہ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل دونوں کو اچھی طرح واضح کردیتا ہے، پھر جو لوگ حق کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کو راہ حق اختیار کرنے کی توفیق ارزانی کرتا ہے اور جو لوگ باطل کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کو اس کے لیے ڈھیل دے دیتا ہے۔ مقصود اس حقیقت کے واضح کرنے سے ایک تو ان کفار و مشرکین کو جواب دینا تھا جو اس جبر کی آڑ لے کر اپنے کفر و شرک کو ثواب ٹھہرانا چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ان کا عقیدہ و عمل باطل ہے تو خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، وہ اپنی قدرت کاملہ سے کام لے کر ان کو ٹھیک کیوں نہیں کردیتا۔ دوسرے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، پیغمبر ﷺ پر واضح کرنا تھا کہ بحیثیت نبی اور رسول کے ان کی ذمہ داری صرف دین حق کو اچھی طرح واضح کردینا ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ لازماً ایمان و ہدایت کی راہ اختیار بھی کرلیں۔ اس زمانے میں بعض کم سواد اس آیت کو اس کے اس مفہوم سے ہٹا کر جبر قانونی کی نفی کے معنی میں لیتے ہیں اور اس سے یہ دلیل لاتے ہیں کہ چونکہ اسلام میں اکراہ نہیں ہے اس وجہ سے اسلام کے نام سے فلاں اور فلاں باتوں کو جو مستوجب سزا قرار دیا جاتا ہے یہ محض مولویوں کی من گھڑت باتیں ہیں، اسلام سے ان کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس گروہ کے اس استدلال کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلامی ریعت حدود و تعزیرات سے ایک بالکل خالی شریعت ہے جس میں ہر شخص کو سب کچھ کر گزرنے کی چھوٹ حاصل ہے۔ نہ زنا، تہمت اور چوری پر کوئی سزا ہے۔ نہ ڈکیتی، رہزنی، فساد فی الارض اور بغوت پر کوئی تعزیر، حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ اسلام میں حدود و تعزیرات کا ایک پورا نظام ہے جس کا نفاذ واجباتِ دین میں سے ہے۔ اگر ایک شخص نماز نہ پڑھے یا روزے نہ رکھے تو اسلامی حکوتم اس کو بھی سزا دے سکتی ہے یہ چیز لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے منافی نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان اسلام کے خلاف بغاوت کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی اسلامی قانون میں سزا ہے۔ یہ چیز بھی لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے خلاف نہیں ہے۔ فتنہ و فساد کو خدا کی زمین سے مٹانے کے لیے اسلام نے اہل ایمان پر جہاد بھی واجب کیا ہے، یہ چیز بھی لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کے منافی نہیں ہے۔ اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ ایک شخص اسلام کے دائرے میں داخل ہوجانے کے بعد بھی جو اس کے جی میں آئے کرتا پھر اور اس پر کوئی گرفت نہ ہو بلکہ وہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اسلام کے حدود وقیود کی پابندی کرے۔ لادینی نظاموں میں مذہب کو نجی زندگی سے متعلق مانا جاتا ہے اس وجہ سے ان میں حکومت کی نافرمانیوں پر تو سزائیں اور تعزیرات ہیں لیکن خدا سے بغاوت کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اسلام میں مذہب کے پرائیویٹ زندگی سے مخصوص ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت اصلاً خدا ہی کی حکومت ہوتی ہے اور ریاست کا سیاسی ادارہ صرف خدا کے احکام و قوانین کے اجرا ونفاذ کا ایک ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس میں خدا کی ہر نافرمانی قابل گرفت ہوتی ہے۔ خواہ وہ نافرمانی مخفی ہو یا ظاہر۔ فرق ہے تو یہ ہے کہ مخفی نافرمانیوں پر خدا کی اخروی عدالت گرفت کرے گی اور ظاہری نافرمانیوں پر اسلام کی دنیوی عدالتیں گرفت کرنے اور ان پر سزا دینے کی مجاز ہیں۔ ارتداد بھی اسی زمرے کا ایک جرم بلکہ بہت بڑا جر ہے اور اس پر جو سزا ایک اسلام نظام میں دی جاتی ہے وہ اس بات پر نہیں دی جاتی کہ ایک شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ اس بات پر دی جاتی ہے کہ اس نے خدا کی حکومت اور اس کے قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔ اسی طرح اس امر سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ مجرد کسی قوم کے اندر کفر کا وجود اس امر کے لیے کافی وجہ نہیں کہ اسلام کے علمبردار ان کے خلاف جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور تلوار کے زور سے ان کو اسلام پر مجبور کردیں۔ کافر قوموں کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق لازماً ہر شکل میں معاندانہ ہی نہیں بلکہ مصالحانہ بھی ہوسکتا ہے۔ جہاد اصلاً فتنہ اور فساد فی الارض کے مٹانے کے لیے شروع ہوا ہے اگر یہ چیز کہیں پائی جاتی ہے تو اہل ایمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ استطاعت رکھتے ہوں تو اس فتنہ اور فساد فی الارض کو مٹانے کے لیے جہاد کریں، خاص طور پر اس فتنہ کو مٹانے کے لیے جو اہل کفر کے ہاتھوں اس لیے برپا کیا جائے کہ اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرا جائے یا اسلامی نظام کو برباد کیا جائے۔ اس فتنے کے استیصال کے لیے بعد اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ اس نے اپنے نظام میں اس بات کی پوری گنجائش رکھی ہے کہ اہل کفر اپنے کفر پر قائم رہتے وہئے اسلامی حکومت کی رعایا رہ سکتے ہیں۔ اور ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت کے فرائض میں داخل ہے۔ صرف مشکرین بنی اسماعیل کا معاملہ اس کلّیہ سے ایک استثنا کی نوعیت رکھتا ہے۔ اس کے وجوہ تفصیل کے ساتھ اسی سورة کی آیات 192-193 کے تحت بیان کرچکے ہیں اور مزید وضاحت کے ساتھ اس پر ہم انشاء اللہ سورة براءت کی تفسیر میں بحث کریں گے۔ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے) یہ مذکورہ اکراہ کی نفی کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ خدا کی طرف سے اتمام حجت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے اپنے نبی کے ذریعے سے حق و باطل کو الگ الگ کردیا۔ اس کے بعد اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ جس کا جی چاہے حق کو اختیار کرے اور جس کا جی چاہے باطل کے ساتھ چمٹا رہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو لوگ اس وضاحت کے بعد بھی باطل سے چمٹے رہیں گے تو ایک دن آئے کہ خود یہ باطل ان کا ساتھ چھوڑ دے گا۔ نہ ٹوٹنے والی رسی صرف ان کے ہاتھ میں ہوگی جو آج غیر اللہ سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف یکسو ہوجائیں۔ آخر میں سمیع وعلیم کی صفت کا حوالہ اس حقیقت کو واجح کر رہا ہے کہ جو لوگ غیر اللہ کو چھوڑ کر اللہ ہی رسی پکڑتے ہیں وہ ایک ایسے کا دامن پکڑتے ہیں جو سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے اس وجہ سے وہ ہر قدم پر اور ہر مرحلے میں ان کا ملجا و ماوی ہے۔ برعکس اس کے جو غیر اللہ کی پرستش کر رہے ہیں وہ ایسوں کے سہارے پر جی رہے ہیں جنہیں ان کے آغاز و انجام کا تو درکنار خود اپنے آغاز و انجام کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ یہاں تک کہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ کچھ نادان لوگ ان کی پرستش کر رہے ہیں۔ چناچہ وہ اپنی اس بیخبر ی کا اظہار آخرت میں کریں گے اور اپنے ان پرستاروں پر لعنت بھیجیں گے۔ اگلی آیات 257-260 کا مضمون : لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ الایہ، میں ہدایت و ضلالت سے متعلق جس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے آگے کی چند آیات میں اس کی مزید وضاحت فرما دی ہے پھر کلام اصل سلسلہ بیان یعنی انفاق سے جڑ گیا ہے۔ یہ وضاحت تین واقعاتی مثالوں کے ذریعے سے کی گئی ہے۔ اس لیے کہ حقائق جب تک مثالوں سے نہ واضح کیے جائیں اس وقت تک وہ اچھی طرح ذہن نشین نہیں ہوتے۔ قرآن مجید کا عام اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ پہلے ہر مسئلے سے متعلق عقلی و فطری دلائل پیش کرتا ہے۔ پھر تاریخی اور واقعاتی مثالوں سے اس کو مددل اور دل نشین بناتا ہے چناچہ یہاں بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا ہے۔ ہدایت و ضلالت سے متعلق اصل قانونِ الٰہی اصولی شکل میں پیش کرنے کے بعد تین مثالیں پیش کی ہیں جن میں سے ایک سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جو شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور جن کو گمراہی سے نکل کر ہدایت کی طرف آنا نصیب نہیں ہوتا اور دو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ دستگیری فرماتا ہے اور ان کو ہر قسم کی الجھنوں سے نکال کر ایمان و یقین کی روشنی اور شرح صدر کی طمانیت بخشتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے کارساز طاغوت بناتے ہیں، وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

ولی کے معنی مددگار، کارساز، ساتھی اور حمایتی کے ہیں۔ نور سے مراد یہاں عقلی، ایمانی، عملی اور اخلاق روشنی ہے۔ اسی طرح ظلمات سے یہاں مراد عقلی و اخلاقی ظلمات ہیں۔ چونکہ حق کی روشنی کا منبع ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ، نیز حق میں اتنشار نہیں بلکہ وحدت پائی جاتی ہے اس وجہ سے یہ لفظ واحد استعمال ہوا۔ برعکس اس کے ظلمات جمع استعمال ہوا اس لیے کہ اس کے ظہور میں آنے کے راستے میں مختلف ہیں اور اس کے مزاج میں انتشار و اختلاف بھی ہے۔ لفظ“ طاغوت ”کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اصلی نکتہ : مطلب یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اصل اہمیت رکھنے والی شے یہ ہے کہ بندہ اپنے راب کا دامن پکڑتا ہے یا کسی غیر کا۔ اگر خدا دامن پکڑتا ہے تو خدا اپنے بندے کا کارساز و مددگار بن جاتا ہے اور اپنی توفیق بخشی سے درجہ بدرجہ اسے نفس و شہوات کی تمام تاریکیوں اور کفر، شرک اور نفاق کی تمام ظلمات سے نکال کر ایمان کامل و توحید خالص کی شاہراہ پر لا کھڑا کرتا ہے اور اگر بندہ اپنے رب سے منہ موڑ کر کسی اور راہ پر جا نکلتا ہے تو پھر وہ شیطان اور اس کی ذریات کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور وہ اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے کر عقل و فطرت کی ہر روشنی سے دور کر کے اس کو ضلالت کے کھڈ میں گرا دیتے ہی۔ مشہور مثل ہے“ خانہ خالی را دیو میگیرد ”جس گھر میں آدمی نہیں رہتا وہ شیطان کا مسکن بن جاتا ہے۔ اسی طرح جو دل ایمان سے خالی ہوتا ہے وہ شیطان کا اڈا بن جاتا ہے۔ اور پھر شیاطین ایسے شخص کو گمراہی کی وادیوں میں سرگشتہ و حیران رکھتے ہیں۔ سورة انعام میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَنْفَعُنَا وَلا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الأرْضِ حَيْرَانَ : کہہ دو کیا ہم اللہ کے سوا ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچاتے نہ نقصان اور اللہ کی ہدایت بخشی کے بعد پھر پیٹھے پیچھے پلٹا دیے جائیں، اس شخص کے مانند جس کو شیاطین نے بہکا کر کسی صحرا میں سرگشتہ و حیران چھوڑ دیا ہو، اعراف میں بھی اس کا ذکر ہے وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ : اور ان کو اسکا ماجرا سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتوں سے نوازا تو وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہوں میں سے بن گیا (اعراف :175)۔ یہی بات سورة زخر میں بھی ارشاد ہوئی ہے وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ : جو لوگ اللہ کے ذکر سے بےپروا ہوجاتے ہیں، ہم ان پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ ان کا ساتھی بن جاتا ہے (زخرف :36)
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے باب میں اس وجہ سے حجت کی کہ خدا نے اس کو اقتدار بخشا تھا، جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، وہ بولا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ یہ بات ہے تو اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تو اسے پچھم سے نکال دے، تو وہ کافر یہ سن کو بھونچکا رہ گیا اور اللہ ظالموں کو راہ یا ب نہیں کرتا۔

اَلَمْ تَرَ کے خطاب کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ اس آیت میں الَّذِيْ سے کون مراد ہے : الَّذِيْ سے اگرچہ یہاں واضح نہیں ہے کہ کون مراد ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر نمرود کو مراد لیا ہے۔ یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہم عصر بادشاہ تھا اور تالمود میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ اس کا وہ مناظرہ بھی مذکور ہے جس کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے۔ اوتار بادشاہوں کا تصور : فِيْ رَبِّهٖٓ ، رب کے بارے میں بحث کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ اس زمانے میں عام طور پر جو بادشاہ ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو اوتار باشاہ (God Kings) کی حیثیت سے نمایاں کرتے تھے۔ یعنی ان کی قوم کے لوگ جن دیوتاؤ کو پوجتے تھے بادشاہ ان میں سے سب سے بڑے دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا، اس طرح بادشاہ کو بیک وقت سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کا اقتدار حاصل ہوجاتا تھا۔ ہندوستان، چین اور مر وغیرہ کے قدیم بادشاہوں میں سے اکثر کی حیثیت یہی تھی۔ نمرود کی قوم جن دیوتاؤں کو پوجتی تھی، قدیم صحیفوں اور قرآن دونوں سے یہ بات معلوم ہوتا ہی ہے کہ ان میں سورج کو سب سے بڑے دیوتا کا درجہ حاصل تھا اس وجہ سے لازماً نمرود سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا رہا ہوگا۔ اس زعم کے ساتھ، ظاہر ہے کہ اپنی خدائی میں کسی اور خدا کی خدائی کی دعوت اس کے لیے ایک بالکل ناقابلِ برداشت چیز تھی، چناچہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اس بات کا اعلان کیا ہوگا کہ رب حقیقی صرف اللہ واحد ہی ہے، اس کے سوا کوئی رب نہیں تو اس دعوت کی زد اس نے اپنی خدائی پر بھی پڑتی محسوس کی ہوگی اور حضرت ابراہیم ؑ کو بلا کر ان سے باز پرس کی ہوگی کہ یہ کون رب ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو، رب تو میں ہوں کہ سورج دیوتا کا مظہر اور اس کا اوتار ہوں۔ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ میں عربی زبان کے اسلوب کے مطابق“ ان ”سے پہلے حرفِ جر محذوف ہے۔ مطلب یہ کے اس خدائی کے گھمنڈ میں وہ اس وجہ سے مبتلا ہوا کہ اللہ نے اس کو حکومت اور اقتدار بخشا۔ ہونا تو یہ تھا کہ اللہ کی بخشی ہوئی یہ نعمت پا کر وہ خدا کا شکر گزار اور فرمانبردار بندہ بنتا لیکن تنگ ظرفوں اور کم عقلوں کے لیے نعمت اکثر گمراہی کا باعث ہوئی ہے اور انہوں نے اس کو شکر کی جگہ کفر کا سبب بنایا ہے۔ جن لوگوں کو اقتدار حاصل ہوجاتا ہے جب وہ اس اقتدار کو اللہ کے فضل و کرم کے بجائے اپنے استحقاق اپنے علم اور اپنی تدبیر کا ثمرہ سمجھ بیٹھتے ہیں تو وہ اس بات کو بالکل بھول جاتے ہیں کہ خدا یہ اقتدار بخش کر ان کا امتحان کر رہا ہے بلکہ وہ استکبار میں مبتلا ہو کر خود اپنی خدائی کا تخت بچھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے تدبیر یہ اختیار کرتے ہیں کہ خدا کے اوتار یا مظہر یا ظل اللہ کے روپ میں اپنے کو پیش کرتے ہیں۔ چناچہ دولت و نعمت اور اقتدار کا گھمنڈ ہمیشہ ضلالت کے اسباب میں سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ بہت کم خوش قسمت ایسے نکلے ہیں جو اپنے آپ کو اس فتنہ سے بچا سکے ہیں۔ حضرات انبیاء کا طریق بحث : نمرود کے سوال کے جواب میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے رب کی تعریف میں سب سے پہلے وہی بات کہی جو سب سے زیادہ واضح تھی۔ یعنی میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ جو شخص بھی زندگی اور موت کے سوال پر غور کرتا ہے یہ سوال اس کو خدا کے ماننے پر مجوبر کردیتا ہے بشرطیکہ اس کے دماغ میں کوئی خلل نہ ہو لیکن نمرود کے ذہن میں اقتدار کا خناس سمایا ہوا تھا اس وجہ سے اس نے اس واضح حقیقت پر بھی یہ معارضہ کردیا کہ موت اور زندگی پر اختیار تو میں بھی رکھتا ہوں، جس کا چاہو سر قلم کردوں، جس کو چاہوں بخش دوں۔ ظاہر ہے کہ یہ معارضہ ایک بالکل ہی احمقانہ معارضہ تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ایک بالکل ہی دوسری بات فرمائی تھی اور یہ ایک بالکل ہی دوسری بات تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ چاہتے تو دونوں باتوں کے درمیان جو فرق ہے اس کو واضح کردیتے لیکن انہوں نے محسوس فرما لیا کہ ان کی واضح بات پر اس قسم کا احمقانہ معارضہ وہی کرسکتا ہے جو کٹ حجتی پر اتر آیا ہو اس وجہ سے انہوں نے اس کو مزید حجت کے لیے موقع دینا پسند نہیں فرمایا۔ انبیاء (علیہم السلام) مناظر نہیں بلکہ داعی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے خاص اس پہلو پر الجھنے کے بجائے اپنے رب کی ایک دوسری صفت بیان کردی جس میں نمرود کے لیے کسی بحث کی راہ بالکل مسدود تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا، اگر یہ بات ہے تو میرا رب روز سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم ایک دن ذرا اس کو مغرب سے نکال کر دکھا دو۔ حجت ابراہیمی کا یہ وار ایسا بھرپور تھا کہ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ یہاں بلاغت کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے خاص طور پر سورج کی تسخیر کا ذکر فرمایا جس کو نمرود کی نظر میں معبود اعظم کی حیثیت حاصل تھی اور وہ اپنے آپ کو اسی معبود اعظم کا مظہر بنائے ہوئے بیٹھا تھا۔ بہترین استدلال اور لطیف ترین طنز کی یہ ایک نہایت خوب صورت مثال ہے۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں سنت اللہ : آخر میں فرمایا کہ“ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں بخشا کرتا ”یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں بطور خلاصہ اصول بحث وہ اصول بیان ہوا ہے جس کو واضح کرنے ہی کے لیے اوپر والا واقعہ مذکور ہوا ہے۔ اس میں ظالم کا لفظ خاص طور پر قابل غور ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں ظالم سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی نعمتوں اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں اور صلاحیتوں کو بےجا استعمال کرتے ہیں، جو اللہ کے انعامات کو اس کا فضل قرار دینے کے بجائے ان کو اپنا حق سمجھتے ہیں، جو نعمتوں پر خدائے منع کے شکر گزار ہونے کے بجائے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوتے اور ابلیس کی طرح اکڑتے ہیں، جو خدا کی بندگی اور فرمانبرداری کی روش، اختیار کرنے کے بجائے خود اپنی خدائی کے تخت بچھاتے اور اپنے کو رب ٹھہراتے ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ اس ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں ان پر ہدایت کی راہ نہیں کھلا کرتی۔ ایسے لوگوں کے سامنے حق کتنے ہی واجح طریقہ پر آئے وہ اس کو قبول کرنے کے بجائے بحث اور کٹ حجتی کی کوئی نہ کوئی راہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کو اس کی کوئی راہ ملتی نظر نہیں آتی تو وہ نمرود کی طرح ہ کے بکے اور ششدر ہو کر تو رہ جاتے ہیں لیکن حق کو قبول پھر بھی نہیں کرتے
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا جیسے کہ وہ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی، اس نے کہا کہ بھلا اللہ اس کو اس کے فنا ہوچکنے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ توا للہ نے اس کو سو سال کی موت دے دی، پھر اس کو اٹھایا۔ پوچھا کتنی مدت اس حال میں رہے ؟ بولا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے۔ اب تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو، ان میں سے کوئی چیز بسی تک نہیں۔ اور اپنے گدھے کو دیکھو، ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں تاکہ تمہیں اٹھائے جانے پر یقین ہو اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، کس طرح ہم ان کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب اس پر حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں مانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

‘ او ’ کا محل استعمال : حرف“ او ”اصلا تقسیم کے لیے آیا کرتا ہے۔ پہلے ان لوگوں کی مثال پیش کی جن کا ذکر اوپر الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ کے الفاظ سے فرمایا تھا، اب یہ ان لوگوں کی مثال بیان ہو رہی ہے جن کا ذکر اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ سے فرمایا ہے۔ ایک بندہ مومن جو طالب یقین تھا۔ اس تقسیم کی مثال اسی سورة کی آیات 17-20 میں گزر چکی ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک صاحب کشاف کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہاں جس شخص کا حوالہ دیا گیا ہے وہ کافر تھا بلکہ یہ ایک ایسے بندہ مومن کا ذکر معلوم ہوتا ہے جو ایمان سے تو بہرہ ور تھا لیکن وہ اپنے اس ایمان میں اس اطمینانِ قلب اور یقین کا طالب تھا جس کو حق الیقین کہتے ہیں۔ اس کا یہ سوال کہ“ اس بستی کو خدا اس طرح فنا ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ”انکار کی نوعیت کا نہیں بلکہ اظہار حیرت کی نوعیت کا ہے انان بسا اوقات ایک چیز کو مانتا ہے اس لیے کہ عقل و فطرت اس کی گواہی دے رہی ہوتی ہے لیکن وہ بات بجائے خود ایسی حیران کن ہوتی ہے کہ اس سے متعلق دل میں بار بار یہ سوال ابھرتا رہتا ہے کہ یہ کیسے واقع ہوگی ؟ یہ سوال انکار کے جذبہ سے نہیں بلکہ جستجوئے حقیقت کے جوش سے ابھرتا ہے اور خاص طور پر ان مواقع پر زیادہ زور سے ابھرتا ہے جب سامنے کوئی ایسا منظر آجائے جو باطن کو جھنجھوڑ دینے والا ہو۔ یہ حالت ایمان کے منافی نہیں بلکہ اس ایمان کے مقتضیات میں سے ہے جس کی بنیاد عقل و بصیرت پر ہو۔ یہ سلوک باطن کی ایک ریاضت ہے جس سے ہر طالب حقیقت کو گزرنا پر تا ہے اور یہ سفر برابر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک حتی یاتیک الیقین کے انوار سے قلب و نظر جگمگا نہ جائیں۔ اس سفر میں ہر منزل اگرچہ خوب سے خوب تر کی طرف اقدام کی نوعیت کی ہوتی ہے لیکن عارف کی نظر میں اس کا ہر آج اس کے گزشتہ کل سے اتنا زیادہ روشن ہوتا ہے کہ وہ کل اس کو آج کے مقابل میں شب نظر آتا ہے۔ الَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ سے یہاں کس کی طرف اشارہ ہے ؟ اس سوال کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ ارباب تفسیر میں کسی نے خضر کا نام لیا ہے، کسی نے عزیر کا لیکن قدیم صحیفوں میں ان دونوں بزرگوں سے متعلق کوئی اس قسم کا واقعہ منقول نہیں ہے جس کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے۔ البتہ صحیفہ حزقی ایل میں اس سے ملتی جلتی ہوئی ایک چیز ملتی ہے جس کی نوعیت ایک مکاشفہ کی ہے۔ ملاحظہ ہو حزقی ایل نبی کا ایک مکاشفہ :“ خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے اپنی روح میں اٹھا لیا اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے پر تھی مجھے اتار دیا اور مجھے ان کے پاس چوگرد پھرایا اور دیکھ وہ وادی کے میدان میں بکثرت اور نہایت سوکھی تھیں اور اس نے مجھے فرمایا اے آدم زاد، کیا یہ ہڈیاں زندگہ ہوسکتی ہیں ؟ میں نے جواب دیا، اے خداوند تو ہی جانتا ہے، پھر اس نے مجھے فرمایا تو ان ہڈیوں پر نبوت کر اور ان سے کہہ اے سوکھی ہڈیو، خداوندی کلام سنو، خداوند خدا ان ہڈیوں کو یوں فرماتا ہے کہ میں تمہارے اندر روح ڈالوں گا اور تم زندہ ہوجاؤ گی اور تم پر نسیں پھیلاؤں گا اور گوشت چڑھاؤں گا اور تم کو چمڑا پہنچاؤں گا اور تم میں دم پھونکوں گا اور تم زندہ ہوگی اور جانو گی کہ میں خداوند ہوں۔ پس میں حکم کے مطابق نبوت کی اور جب میں نبوت کر رہا تھا تو ایک شور ہوا اور ایک زلزلہ آیا اور ہڈیاں آپس میں مل گئیں۔ ہر ایک ہڈی اپنی ہڈی سے۔ اور میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نسیں اور گوشت ان پر چڑھ آئے اور ان پر چمڑے کی پوشش ہوگئی پر ان میں دم نہ تھا، تب اس نے مجھے فرمایا کہ تو نبوت کر، تو ہوا نبوت کر اے آدم زاد اور ہوا سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اے دم تو چاروں طرف سے آ اور ان مقتولوں پر پھونک کہ زندہ ہوجائیں۔ پس میں نے حکم کے مطابق نبوت کی اور ان میں دم آیا اور وہ زندہ ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئیں۔ ایک نہایت بڑا لشکر ”(حزقی ایل باب 37-1-11)۔ قرآن اور تورات تورات کے اختلاف کی نوعیت : اگرچہ قرآن اور تورات کے بیان میں کچھ فرق ہے لیکن یہ فرق تضاد کی نوعیت کا نہیں بلکہ اجمال و تفصیل کی نوعیت کا ہے۔ اس طرح کا فرق بسا اوقات ایک ہی مقصد کی دو روایات میں پایا جاتا ہے جس کو تناقض پر نہیں بلکہ اجمال و تفصیل پر محمول کیا جاتا ہے۔ قرآن میں بعض باتیں زیادہ ہیں جو تورات میں نہیں ہیں۔ ایسے مواقع میں قرآن کے بیان کو ترجیح حاصل ہوگی اس لیے کہ وہ براہ راست خدا کا کلام اور بالل محفوظ ہے۔ مثلاً تورات میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ خود حزقی ایل پر بھی سو سال کے لیے موت طاری کدی گئی۔ اسی طرح ان کے کھانے کے نہ بسنے اور گدھے کے دوبارہ زندہ ہونے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن ان کے ذکر نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ مشاہدات حزقی ایل کو نہیں ہوئے۔ جو مشاہدات ان کو رائے گئے ان میں یہ بھی ہیں لیکن تورات میں یا تو ان کا ذکر نہیں ہوا یا ذکر تو ہوا لیکن اہل تورات نے اس کو ضائع کردیا۔ آیات الٰہی کے مشاہدہ کے لیے سیر ملکوت : اگر قرآن کے اس حوالہ کا علق حزقی ایل نبی کے اسی مشاہدہ ملکوت سے مان لیا جاجائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ آیات الٰہی کے مشاہدہ کے لیے ایک سیر ملکوت تھی جس طرح کی سیر ملکوت کی اس سے اعلی مثال ہمارے یہاں واقعہ معراج ہے۔ یہ معاملات چونکہ ایک ایسے عالم میں پیش آتے ہیں جو علمارے عالم کون و فساد کے ضابطوں اور زمان و مکاں کی حد بندیوں سے ماوری ہے اس وجہ سے ایک احکام کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس عالم میں صدیوں اور قوں کے معاملات منٹوں اور لمحوں میں انجام پاتے ہیں۔ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا، یہ گری ہوئی بستی کی تصویر ہے۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ کہنہ عمارتیں جب گرتی ہیں تو ان کے انہدام کا آٓتاز ان کے کنگروں میناروں اور ان کی چھتوں سے ہوتا ہے۔ پہلے بلندیاں پست ہوتی ہیں، اس کے بعد دیواروں کی باری آتی ہے۔ اَنّٰى يُـحْيٖ ھٰذِهِ کے سوال کی نوعیت : اَنّٰى يُـحْيٖ ھٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا، یہ سوال، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، انکار کی نوعیت کا نہیں بلکہ حیرت و استعظام کی نوعیت کا ہے۔ اس سے مقصود حق الیقین کی طلب تھی اس وجہ سے یہ ایمان کے منافی نہیں بلکہ اس کے مدارج و مقامات میں سے ہے۔ یقین کے مختلف مدارج ہیں اس وجہ سے اس کی طلب ہر درجے کے اشخاص میں پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء بھی جو ایمان و یقین کے بلند ترین مدارج پر فائز ہوتے ہیں، اس سے مستغنی نہیں ہوتے بلکہ اس میں اضافہ کے لیے وہ بھی برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے سوالات کے ابھرنے کا محل ایک طالب حقیقت کا اپنا ہی باطن ہوتا ہے۔ وہ یہ سوال دوسروں سے نہیں بلکہ خود اپنے ہی سے کرتا ہے اور اس کا جواب دوسروں سے نہیں بلکہ اس رہنمائے غیب سے چاہتا ہے جس کی تجلیات اس کے اپنے باطن کے افِ اعلی پر نمایاں ہوتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے، اسی نوعیت کی ایک خلش حزقی ایل بھی اپنے اندر محسوس فرماتے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا مشاہدہ کرا کے ان کی یہ الجھن دور فرما دی اور اس طرح ان کو نہ صرف حیات بعد الموت کے معاملے میں اطمینان قلب کی ٹھنڈک حاصل ہوگئی بلکہ بلکہ، جیسا کہ آگے واضح ہوگا، احیائے بنی اسرائیل کی اس مہم کے لیے بھی ان کا دل پوری طرح مضبوط ہوگیا جس پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے تھے یہ سنت الٰہی ہے کہ وہ ہدایت کے طالبوں پر اپنی راہیں کھولتا ہے اور ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ان کی تربیت فرماتا اور ان کو روشنی عطا کرتا ہے۔ كَمْ لَبِثْتَ ۭ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۭ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ ، یہ سوال و جواب اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ آدمی کا جو زمانہ عالم برزخ میں گزرے گا، اٹھنے پر اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا، ایسا معلوم ہوگا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ اٹھے ہیں۔ آج معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی، پھر موت، پھر برزخ، پھر قیامت ایک بہت دور کی بات ہے، اس کے لیے ابھی سے اپنا عیش مکدر کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن جب قیامت کو اٹھیں گے تو معلوم ہوگا جو کچھ گزرا ہے وہ بہت دور کی بات نہیں بلکہ بلکل صبح و شام کا قصہ ہے۔ وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ۔ یہاں انظر الی حمارک، کے بعد، کیف نحییہ کے الفاظ محذوف ہیں۔ یعنی دیکھو کہ کس طرح ہم اس گدھے کو زندہ کیے دیتے ہیں۔ اس حذف کی وجہ یہ ہوئی کہ آگے زندہ کرنے سے زیادہ عجیب ماجرے، اس کی سڑی گلی ہڈیوں کو جوڑنے اور ان پر گوشت اور کھال چڑھانے کی تفصیل آرہی ہے۔ اس مذکور کے اندر یہ محذوف آپ سے آپ موجود ہے۔ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ میں حرف عطف کا وجود، در آنحالیکہ یہاں کوئی لفظ ایسا موجود نہیں ہے جو اس کا معطوف علیہ بن سکے، اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ یہاں معطوف علیہ محذوف ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ہیں۔ آگے جگہ جگہ اس کی وضاحت ہوگی۔ اس حذف کا فائدہ یہ ہے کہ الفاظ بہت کم اسعمال ہوتے ہیں اور بت اس کے اندر بہت زیادہ سما سکتی ہے۔ اس لیے کہ ایسے مواقع میں وہ اسی بات حذف کی جاسکتی ہے جس پر سیاق وسباق دلیل بن سکے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ، لتومن بالبعث، اور اس معنی کے الفاط حذف ہیں۔ گویا پوری بات یوں ہوگی کہ“ اور تم اپنے گدھے کو دیکھو کہ کس طرح ہم اس کو زندہ کیے دیتے ہیں تاکہ حیات بعد الممات پر تمہارا ایمان پکا ہوجائے اور تاکہ تمہیں ہم لوگوں کے لیے نشانی بنائیں۔ یہ نشانی بنانا چونکہ اس کا ایک بعید فائدہ تھا جس کی طرف آسانی سے ذہن منتقل نہیں ہوسکتا تھا اس وجہ سے اس کو ظاہر کردیا اور ایمان بالبعث اس کا بالکل واضح اور قریبی فائدہ تھا اس وجہ سے اس کو حذف رکدیا اور حرف ربط کے ذریعہ سے اس کی طرف اشارہ کردیا۔ بنی اسرائیل کے لیے پیغام حیات : اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لیے نشانی بنائیں، یعنی ہم نے تم کو آیات الٰہی کا یہ مشاہدہ اس لیے بھی کرایا ہے کہ تم بنی اسرائیل کے لیے اس بات کی نشانی بن سکو کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ ان کو از سرِ نو غلامی و محکومی کی ذلت سے چھڑا کر آزادی اور قوت و عزت کی زندگی بخش دے۔ یہ امر یہاں واجح رہے کہ حزقی ایل نبی منکروں کی طرف نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے اور ان کا خاص مقصد بنی اسرائیل کو از سرِ نو زندہ کرنا تھا لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل اپنے مستقبل کی طرف سے بہت مایوس تھے۔ چناچہ اوپر ہم نے صحیفہ حزقی ایل کی جو عبارت نقل کی ہے اس کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے۔“ تب اس نے مجھے فرمایا اے آدم زاد یہ ہڈیاں تمام بنی اسرائیل ہیں، دیکھ یہ کہتے ہیں، ہماری ہڈیاں سوکھ گئیں اور ہماری امید جاتی رہی ہم تو بالکل فنا ہوگئے اس لیے تو نبوت کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے میرے لوگو، دیکھو میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تم کو ان سے باہر نکالوں گا تب تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں اور میں اپنی روح تم میں ڈالوں گا اور تم زندہ ہوجاؤ گے اور میں تم کو تمہارے ملک میں بساؤں گا تب تم جانوگے کہ میں خداوند نے فرمایا ”(حزقی ایل باب 37۔ 11-14)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حزقی ایل نبی کو ان آیات کا مشاہدہ کرانے سے مقصود ایک تو یہ تھا کہ موت کے بعد زندگی کے مسئلہ میں خود ان کو شرح صدر حاصل ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ ان کا یہ مشاہدہ بنی اسرائیل کے لیے پیغام حیات کا کام دے اور ان کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی دوبارہ ایک زندہ قوم بنانے پر قادر ہے۔ ایک سوال اور اس کا جواب : یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں کھانے پینے کی چیزوں سے متعلق تو فرمایا کہ لَمْ يَتَسَـنَّهْ ، ان میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا، برعکس اس کے گھدے کی ہر چیز سڑ گل گئی۔ ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ایک ہی طرح کے حالات میں یہ دو مختلف اثرات کیوں نمایاں ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ طالب کی جو اصلی ذہنی خلش تھی وہ یہی تھی کہ ایک چیز مر کھپ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد از سر نو زندگی کس طرح حاصل کرلے گی ؟ اس مشاہدے نے اس کی یہ خلش دور کردی۔ ساتھ ہی کھانے پینے کی چیزوں کا کوئی تغیر نہ قبول کرنا اس کے لیے اس بات کا ثبوت بن گیا کہ اصل شیئ اللہ کا حکم ہے، اگر اللہ چاہے تو کسی ایک شے کو اس کے گل سڑ جانے کے بعد بھی از سرِ نو زندگی بخش سکتا ہے اور اگر چاہے تو کسی شے کو تمام قوانین طبعی کے عمل سے بالا تر بھی رکھ سکتا ہے۔ قرآن میں اصحاب الکہف کا جو واقعہ مذکورہ ہے وہ اس کی مثال ہے۔ آخر میں فرمایا کہفَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ یعنی اس مشاہدے کے بعد جب ان پر حیات بعد الممات کا راز بےنقاب ہوگیا تو وہ پکار اٹھے کہ اب میں مانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہاں اَعْلَمُ کا لفظ اپنے کامل معنی میں ہے۔ یعنی وہ جاننا جس کو قرآن نے علم الیقین سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ علم الیقین ان کو قیامت سے متعلق بھی حاصل ہوگیا اور بنی اسرائیل کے مستقبل کے باب میں بھی گویا اس پردے میں انہوں نے بنیا سرائیل کی سوکھی ہڈیوں میں زنگی پیدا ہوتے اور ان پر گوشت پوست چڑھتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اپنے مشن کی کامیابی پر انہیں پورا اعتماد ہوگیا۔ اس پہلو سے وہ اپنی قوم کے لیے ایک نشانی ٹھہرائے گئے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے ؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا تو چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلا لو، پھر ان کو ٹکڑے کر کے ہر پہاڑی پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ، پھر ان کو بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے۔

لفظ ‘ اطمینان ’ کی حقیقت :“ اطمینان ”کے معنی ہیں کسی چیز کا اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ٹھیک ٹھیک اس طرح ٹک جانا کہ اس کے ادھر یا ادھر جھکنے یا لرھکنے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔ برتن اگر اپنی جگہ پر ٹھیک جم کر بیٹھ گیا ہے تو کہیں گے اطمانَّ ، اگر چراغ کی لو بالکل سیدھی ہے، اس میں ہوا کے سبب سے کسی طرف کو جھکاؤ نہیں ہے تو اس کے لیے بھی یہی لفظ لائیں گے۔ یہیں سے یہ لفظ نفس یا دل کی حالت کی تعبیر کے لیے استعمال ہونے لگا۔ جو نفس اپنے عقائد اور اعمال میں بالکل پا بر جار ہے، حالات کے تغیر و تلون سے اس کے اطمینان اور اس کی دلجمعی میں کوئی فرق واقع نہ ہو، اس کو نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ یہ اطمینان ایمان کے اعلی مدارج میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اس کو شرح صدر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد ہوا ہے“ الم نشرح لک صدرک : کیا ہم نے تمہارے سینے کو کھول نہیں دیا ”۔ سلوک باطن کے مدارج و مقامات درجہ بدرجہ طے ہوتے ہیں اس وجہ سے سیر باطن کے ایک دور میں حضرات انبیاء بھی اس مقام کے طالب ہوتے ہیں حالانکہ جہاں تک ایمان کا علق ہے وہ اس سے روز اول سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ طلب ایمان کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ اس کی تکمیل ہے۔ “ فَصُرْھُنَّ کی تحقیق ”:“ صَوَرٌ ”کے معنی میلان اور جھکاؤ کے ہیں۔ صرت الشیئ یا اصرت الشیئ کے معنی ہوں گے میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرلیا، جھکا لیا، اپنے سے اس کو ہلا لیا۔ اسی سے فَصُرْھُنَّ ہے۔ یعنی ان پرندوں کو اپنے سے ہلا لو۔ حضرت ابراہیم ؑ کی درخواست شرح صدر کے لیے تھی : جس طرح اوپر والے واقعے میں ایک بندہ مومن نے اپنی ایک باطنی خلش کا اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار کیا تو اس سنے اس کے لیے اپنی ملکوت کا ایک گوشہ بےنقاب کر کے اس کی خلش دور فرما دی اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے بھی اپنے سلوک باطن کے ایک دور میں (یہ دور ان کی زندگی کا ابتدائی دور ہی ہوسکتا ہے) اس بات کی خواہش کی کہ ان کو مشاہدہ کرا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ حشر کے وقت مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ یہ خواہش اسی طرح کی ایک خواہش ہے جس طرح کی خواہش حضرت موسیٰ ؑ کے اندر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے لیے پیدا ہوئی۔ اس خواہش کی وجہ یہ نہیں تھی کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیم ؑ کو قیامت کا اعتقاد نہیں تھا ؟ اعتقاد تو تھا۔ لیکن ایک حقیقت عقل کے نزدیک کتنی ہی واضح اور مدلل کیوں نہ ہو، جب تک وہ نادیدہ ہوتی ہے اس وقت تک اس کو ماننے کے باوجود انسان اس کے باب میں شرح صدر کا آرزومند ہی رہتا ہے۔ یہ آرزوا انبیاء کی شان کے خلاف نہیں ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی قرآن میں یہ دعا سکھائی گئی کہ ‘ وقل رب زدنی علما : دعا کرتے رہو کہ اے رب میرے علم کو بڑھا ”یہ تشنگی تو اسی وقت دور ہوسکے گی جب اسباب کے تمام پردے بیچ سے ہٹا دئیے جائیں گے اور اصل حقیقت بالکل بےنقاب ہو کر سامنے آجائے گی۔ لیکن یہ چیز اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں حاصل ہوگی۔ البتہ جہاں تک اطمینان قلب اور شرح صدر کا تعلق ہے س سے وہ اپنے ان بندوں کو محروم نہیں رکھتا جو صدق دل سے اس کے طالب ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ اپنے خاص بندوں کو اپنی قدرت کے بعض مخصوص گوشوں کا بھی مشاہدہ کرا دیتا ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص کی دلیل ہے۔ وہ اپنے اوپر ایمان رکھنے والوں کا مددگار اور ولی ہے۔ وہ ان کو کبھی حیرانگی و تشگی میں نہیں چھوڑتا بلکہ ان کو ہمیشہ تاریکی سے روشنی اور اضطراب سے اطمینان کی طرف بڑھاتا رہتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے ان کو یہ ہدایت ہوئی کہ چار پرندے لے کر ان کو پہلے اپنے سے ہلا لو، پھر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے گوشت کا ایک ایک حصہ اپنے گرد و پیش کی پہاڑیوں پر رکھ دو۔ پھر ان کو اپنی طرف بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے۔ چار پرندوں کی ہدایت اس لے ہوئی ہوگی کہ چاروں سمتوں سے ان کے مجتمع ہونے کا ان کو مشاہدہ کرایا جائے تاکہ اس بات پر ان کا یقین مستحکم ہوجائے کہ قیامت کے دن اسی طرح نفخ صور پر تمام مخلوق ہر سمت سے اپنے پروردگار کی طرف دوڑے گی۔ اپنے سے ہلا لینے کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی ہوگی کہ ان کو وہ اچھی طرح پہچان رکھیں تاکہ ان کو اس امر میں کوئی اشتباہ نہ پیش آئے کہ جو پرندے زندہ ہو کر آئے ہیں وہی ہیں جن کو انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کیا تھا، دوسرے نہیں ہیں۔ نیز یہ حقیقت بھی ان پر واضح ہوجائے کہ دوبارہ جو زندگی ہوگی اس میں دنیوی زندگی کی ساری یاد داشتیں بھی زندہ ہوجائیں گی۔ یہاں تک کہ مانوس پرندے اپنے مالکوں کی آواز بھی پہچانتے ہوں گے۔ اگرچہ یہاں پرندوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے معنی کے لیے کوئی خاص لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن اس سے یہ معنی لینے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اول تو یہا“ جزءا ”کا جو لفظ آیا ہے وہ واضح قرینہ اسی بات کا ہے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہی پہاڑوں پر ڈالنے کی ہدایت ہوئی تھی۔ اگر ایک ایک پرندے کو زندہ الگ الگ پہاڑ پر رکھوا دینا مقصود ہوتا تو اس مفہوم کے لیے زبان کا یہ اسلوب صحیح نہیں ہے۔ عربی میں اس معنی کو ادا کرنے کے لیے اسلوب اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ دوسرے یہ کہ حضرت ابراہیم کو تردد مردوں کے زندہ ہونے کے باب میں تھا، یہ تردد اس طرح تو دور نہیں ہوسکتا تھا کہ چند مانوس چڑیاں ان کی آواز پر ان کے پاس آجائیں۔ اس قسم کا تجربہ تو تیتر، بٹیر، کبوتر اور شکرے پالنے والے ہرو روز کرتے رہی رہتے ہیں۔ اگر یہی تجربہ حضرت ابراہیم ؑ کو کرا دیا جاتا تو اس سے ان کی وہ الجھن کس طرح دور ہوسکتی تھی جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے پیش کی تھی۔ یہ دور ہوسکتی تھی تو اسی شکل میں دور ہوسکتی تھی جب ایک شے کے اجزا فنا اور انتشار کے بعد از سر نو مختلف گوشوں سے جمع ہو کر حیات تازہ حاصل کریں۔ پرندوں کا واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کا مشاہدہ خاص تھا : البتہ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ واقعہ ان معجزات میں سے نہیں ہے جو حضرت ابراہیم کی طرف سے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے ظاہرہ ہوئے بلکہ یہ ان مشاہدات میں سے ہے جو ذاتی طور پر حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لیے کرائے گئے کہ ان کو اطمینانِ قلب اور شرح صدر کی دولت حاصل ہو۔ اس قسم کے مشاہدات حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اس لیے کرائے جاتے ہیں کہ ان کی تربیت ہو اور وہ اس بار عظیم کے اٹھانے کے لیے پوری اہل ہوجائیں جو قدرت کی طرف سے ان پر ڈالا جاتا ہے۔ دوسرے طالبین حق بھی اس میں سے حصہ پاتے ہیں لیکن ان کا حصہ ان کی استعداد اور ان کے درجے اور مرتبے کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا مشاہدہ عالم ظاہر میں بھی ہوسکتا ہے اور عالم روح میں بھی۔ مگر جس کو ہوتا ہے اس کے لیے موجب اطمینان و یقین ہوتا ہے اور یہی ان کا مقصود ہوتا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات، عزیز، حکیم، پر نگاہ جمائے رکھنے کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ انہی صفتوں کی یاد داشت سے یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دوبارہ ضرور اٹھائے گا اس لیے کہ وہ اس پر قادر بھی ہے اور ایسا کرنا اس کی حکمت کا مقتضی بھی ہے۔ اگلی آیات 261 تا 274 کا مضمون : ہم اوپر یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ یہاں اصل سلسلہ بیان تو جہاد و انفاق کا تھا لیکن آیت لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ میں ہدایت و ضلالت سے متعلق ایک سنت اللہ کا ذکر آگیا تھا جس کی وضاحت کے لیے مذکورہ مثالوں کا ذکر ضروری ہوا اور اس طرح اس بحث میں وسعت پیدا ہوگئی۔ اب یہ ضمنی بحث ختم ہوگئی اور انفاق کا مضمون جو سلسلے کا اصل مضمون تھا پھر سامنے آگیا اور نہایت تفصیل کے ساتھ انفاق کی برکات، اس کی خصوصیات اور اس کی آفات بیان ہوئیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

ان لوگوں کے مال کی تمثیل جو اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کے مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ برکت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ بڑی گنجائش والا اور علم والا ہے۔

‘ فی سبیل اللہ کا مفہوم ’: فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس کے تحت وہ سارے کام آتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جائیں۔ حالات کے اعتبار سے کوئی کام زیادہ اہم ہوسکتا ہے، کوئی کم، لیکن جو کام بھی رضائے الٰہی کے لیے اور شریعت کی ہدایات کے تحت کیا جائے وہ فی سبیل اللہ ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی تمثیل : یہ اس بڑھوتری کی تمثیل ہے جو راہ خدا میں خرچ کیے ہوئے مال کے اجر وثواب میں ہوگی۔ فرمایا کہ جس طرح ایک دانے سے ساتھ بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اسی طرح ایک نیکی کا صلہ سات سو گنے تک بندے کو آخرت میں ملے گا۔ اس مضمون کی وضاحت احادیث میں بھی ہوئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ نیکیوں کا بدلہ دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گا۔ یہ فرق ظاہر ہے کہ عمل کی نوعیت عمل کے زمانے اور عمل کرنے والے کے ظاہری و باطنی حالات پر مبنی ہوگا۔ اگر ایک نیکی مشکل حالات اور تنگ وسائل کے ساتھ کی گئی ہے تو اس کا اجر زیادہ ہوگا اور اگر ایک نیکی آسان حالات اور کشادہ وسائل کے ساتھ کی گئی ہے تو اس کا اجر کم ہوگا۔ پھر نیکی کرنے والے کے احساسات کا بھی اس پر اثر پڑے گا۔ ایک نیکی پوری خوش دلی اور پورے جوش و خروش کے ستھ کی گئی ہے اور دوسری سردمہری اور نیم دلی کے ساتھ۔ ظاہر ہے کہ دونوں کے اجر وثواب میں بھی فرق ہوگا۔ آیت میں اجر کی وہ شرح بیان ہوئی ہے جو سب سے اونچی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ یہ اس ضابطے کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی چاہتا بھی عدل و حکمت کے خلاف نہیں ہوتا اس وجہ سے یہ بڑھوتری انہی کے وہ چاہتا ہے جو اس کے ٹھہرائے ہوئے ضابطے کے مطابق اس کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ میں ایک تو یہ بات واضح فرمائی کہ اجر کی اس وسعت پر بندہ اپنی تنگ دامانی پر قیاس کر کے حیران ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ غیر محدود سمائی رکھنے والا ہے، دوسری یہ بات فرمائی کہ خدا کی راہ میں جو چھوٹی یا بڑی، پوشیدہ یا علانیہ نیکی کی جاتی ہے سب اس کے علم میں رہتی ہے اس وجہ سے ہر شخص اپنے اجر کی طرف سے مطمئن رہے۔ جب دینے والے کا خزانہ بھی غیر محدود ہے اور اس کا علم بھی غائب و حاضر سب پر محیط ہے تو تشویش کی گنجائش کہاں باقی رہی ؟
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خعچ کرتے ہیں پھ راس کے پیچھے نہ احسان جتاتے نہ دل آزاری کرتے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خو ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

“ اَذًى”کا لفظ ہر اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو باعث رنج و اذیت ہو عام اس سے کہ یہ ونج و اذیت جسمانی ہو یا جذبات و روحانی۔ یہاں اس سے مراد وہ طعن وتشنیع اور توہین و تحقیر ہے جو عموماً کم ظرفوں کی طرف سے ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوتی ہے جن پر وہ کبھی کوئی احسان کر بیٹھتے ہیں۔ انفاق کے اجر کے اصلی حق دار : فرمایا کہ یہ اجر عظیم جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا ان خرچ کرنے والوں کے لیے ہے جو خرچ کرنے کے بعد نہ تو ان لوگوں پر کوئی احسان جتائیں جن پر انہوں نے خرچ کیا ہے اور نہ کسی پہلو سے ان کی کوئی دل آزاری کریں۔ واضح رہے کہ یہ احسان جتانا اور دل آزاری کرنا دونوں چیزیں ایک ہی فاسد کردار کے دو پہلو ہیں۔ لئیم اور کم ظرف لوگ اگر کسی پر کچھ خرچ کر بیٹھتے ہیں تو اس کے بدلے میں ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص زندگی بھر ان کا ممنون احسان بلکہ زرخرید غلام بن کے رہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو رہی ہے تو پھر وہ اس کو اپنے طعنوں کا ہدف بنا لیتے ہیں اور جہاں ان کو موقع ملتا ہے اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اجر ان لوگوں کے لیے ہے جن کا انفاق اس بلا سے محفوط رہے۔ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ، دوسری جگہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ یہ جنت کی تعبیر ہے اس لیے کہ جنت ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا۔ یہاں جنت کی تعریف ان لفظوں میں جو کی گئی ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ انفاق کرنے والے اس جنگ کے سزاوار اس لیے ٹھہریں گے کہ نہ تو خدا کی راہ میں خرچ کر کے انہوں نے کبھی اس بات کا غم کیا کہ کیوں خرچ کردیا اور نہ کبھی شیطان کے ڈراو وں سے متاثر ہو کر مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہوئے کہ کل کیا کھائیں گے۔ ان کے اس حوصلے کے صلے میں خدا ان کو سات سو گنے تک اجر بھی دے گا اور وہ بہشت بھی جو ماضی اور مستقبل دونوں طرف سے انہیں مطمئن اور نچنت کردے گی۔