2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے، جو یہودی ہوئے اور نصاری اور صائبی، ان میں سے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور جس نے عمل صالح کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے اور ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

ھاد، یھود، ھوداً کے معنی رجوع کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَا اِلَیْْکَ- (اعراف: ۱۵۶) اور ہمارے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے۔ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ پھر ہَادَ اور تَہَوَّدَ یہودی ہونے کے معنی میں استعمال ہوئے اور یہ استعمال عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق نہیں ہے جس طرح تَنَصَّرَ نصرانی ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کی اصل حقیقت یہی ہے لیکن بعض مخالفین اسلام نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ قرآن نے یہ لفظ غلط استعمال کیا ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ یہود کا لفظ ہود کے مادہ سے نہیں ہے بلکہ یہ یہوذا کی طرف نسبت ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چوتھے بیٹے تھے۔ اس اعتراض کے سبب سے اس لفظ کی تحقیق ضروری ہے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب مفردات القرآن میں اس لفظ کی جو تحقیق بیان کرتے ہیں ہم اس کے ضروری حصہ کا اقتباس یہاں درج کرتے ہیں۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ اس لفظ کے اشتقاق پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “ہم یہاں اس لفظ کے اشتقاق پر گفتگو کریں گے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کے خلاف یہ اعتراض اٹھایا ہے انہوں نے نہ تو قرآن مجید کو سمجھا ہے اور نہ خود اپنے صحیفوں ہی کو سمجھا ہے۔ قرآن مجید نے یہ لفظ جو استعمال کیا ہے تو اپنی طرف سے ایجاد کر کے نہیں کیا ہے بلکہ عربی زبان کے ایک عام استعمال کردہ لفظ کو استعمال کیا ہے۔ اہل عرب ہاد یہود کا فعل یہودی ہونے کے معنی میں استعمال کرتے آئے ہیں اور قرآن مجید نے ھُدۡنَا کا لفظ جو استعمال کیا ہے تو لفظ یہود کا اشتقاق بیان کرنے کے لئے نہیں کیا ہے بلکہ یہ لفظ اپنے اصل معنی یعنی توبہ کرنے اور رجوع کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ خاص اس لفظ کے استعمال میں بلاغت کا ایک نکتہ ہے۔ وہ یہ کہ یہود کو ایک ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کر رہا ہے جس کو وہ بالکل فراموش کر بیٹھے تھے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔” “اس اعتراض سے انہوں نے خود اپنے صحیفوں سے جس بےخبری کا ثبوت دیا ہے اس کی حقیقت اس تفصیل سے واضح ہو گی جو ہم آگے پیش کر رہے ہیں۔” “یہوذا حضرت یعقوب علیہ السلام کے ان بارہ بیٹوں میں سے چوتھے بیٹے تھے جن سے بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کا ظہور ہوا ہے۔ یشوع کے زمانہ میں مفتوحہ علاقہ انہی لوگوں کے درمیان تقسیم ہوا اور اس تقسیم میں ارشلیم سے لے کر اس جنوب کا تمام علاقہ بنی یہوذا کے حصہ میں آیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اسی خاندان سے تھے۔ ان کے زمانہ میں تمام سلطنت بنی اسرائیل ان کے قبضہ میں آئی جس سے اس خاندان کی عظمت وشوکت کو چار چاند لگ گئے۔ ان کے بعد ان کے وارث ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام ہوئے جنہوں نے اپنے دارالسلطنت میں ہیکل کی تعمیر کی۔ اس سے بنی یہوذا کی عظمت میں مزید اضافہ ہوا۔” “حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد ان کے اندر اختلافات پیدا ہوئے اور یہ پوری قوم دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ یہوذا کے نام سے موسوم ہوا اور دوسرا بنی اسرائیل کے۔ بقیہ خاندانوں کے نام اس کے بعد بالکل غیر معروف ہو کر رہ گئے۔ بعد کی تاریخ میں یہوذا اور اسرائیل دو ہی نام آتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ کلدانیوں کی اسیری میں مبتلا ہوئے تو تمام بنی اسرائیل کے لئے یہود کا لفظ ایک مشترک نام کی حیثیت سے استعمال ہونے لگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہوذا اور یہود میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تھے۔” “لفظ یہوذا کے اشتقاق میں یہود کو بڑا اشتباہ پیش آیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ لفظ یہو اور ذا سے مرکب ہے۔ یہو کے معنی اللہ کے اور ذا کے معنی ہذا کے ہیں۔ چوں کہ اس طرح یہو کے ساتھ ترکیب پائے ہوئے نام ان کے ہاں موجود ہیں اس وجہ سے ان کو یہ غلط فہمی پیش آئی اور یہوذا کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کتاب پیدائش میں جو عبارت موجود ہے اس کو یہ لوگ نہ سمجھ سکے۔ سفرتکوین کی عبارت یہ ہے۔ اور وہ (لیہ زوجہ یعقوب علیہ السلام) پھر حاملہ ہوئی اور اس کے بیٹا ہوا۔ تب اس نے کہا کہ میں اب خداوند کی ستائش کروں گی اس لئے اس کا نام یہوذا رکھا۔ (پیدائش باب ۱۸ آیت ۳۵) اس سے یہود نے یہ سمجھا کہ یہ لفظ اس واقعہ اور یہود کے لفظ کی طرف اشارہ کر رہا ہے حالانکہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ الفاظ اس تاویل کے متحمل ہیں اور مندرجہ ذیل امور اس کی تائید میں ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں کے معانی کی طرف جس طرح ان کی ولادت کے ذکر کے سلسلہ میں اشارہ ہوا ہے اسی طرح اس موقع پر بھی اشارہ ہوا ہے جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کے لئے برکت کی دعا فرمائی ہے۔ مثلاً ولادت کے بیان کے سلسلہ میں کتاب پیدائش باب ۳۰ آیات ۱۹-۲۰ میں ہے۔ اور لیاہ پھر حاملہ ہوئی اور یعقوب سے اس کے چھٹا بیٹا ہوا۔ تب لیاہ نے کہا کہ خدا نے مجھے اچھا مہر بخشا۔ اب میرا شوہر میرے ساتھ رہے گا کیونکہ میرے اس سے چھ بیٹے ہو چکے ہیں سو اس نے اس کا نام زبولون رکھا۔ پھر اسی کتاب میں دعائے برکت کے سلسلہ میں یہ الفاظ وارد ہیں۔ زبولون سمندر کے کنارے بسے گا۔ ۴۹/ ۱۳ غور کر کے دیکھو، ان دونوں مواقع پر سکونت کے معنی کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اسی طرح یہوذا کے متعلق اس کتاب میں جو دعا مذکور ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: اے یہوداہ! تیرے بھائی تیری مدح کریں گے۔ تیرا ہاتھ تیرے دشمنوں کی گردن پر ہوگا۔ تیرے باپ کی اولاد تیرے آگے سرنگوں ہو گی۔ اس سے واضح ہوا کہ یہودا کے تسمیہ میں درحقیقت حمدوطاعت کا مفہوم ملحوظ ہے۔ اور لفظ یہوذا یہو اور ذا سے مرکب نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی لفظ ہے اور اس کا مادہ ہود ہے۔ دوسرا یہ کہ کلدانیوں کی اسیری کے بعد سے ان کے لئے مشترک طور پر جو نام استعمال ہوا ہے وہ یہود اور یہودی کا ہے۔ اس کے ثبوت عزرا، استیر، اشعیا، ارمیا، دانیال اور انجیل سب میں موجود ہیں یہاں تک کہ یہی نام زبان زد عوام وخواص ہو گیا۔ اگر اصل نام یہوذا ہوتا، جیسا کہ ان لوگوں کا دعویٰ ہے تو پھر اس کی طرف نسبت یہوذی، ذال کے ساتھ، ہونی چاہئے تھی نہ کہ دال کے ساتھ۔ تیسرا یہ کہ لفظ یہو کے ساتھ کسی ایسے ہی لفظ کو ملایا جاسکتا ہے جس کا ملایا جانا اس کے ساتھ موزوں ہو۔ لفظ ذا کوئی ایسا موزوں لفظ نہیں ہے جو کسی مخلوق کا نام رکھنے کے لئے اس کے ساتھ ملایا جائے۔ کیوں کہ اس کے ملانے سے جو معنی بنتے ہیں کہ یہ اللہ ہے۔ ظاہر ہے کسی مخلوق کے لئے اس لفظ کا استعمال ایک نہایت ہی مکروہ سی بات ہے۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ قرآن مجید نے یہاں اپنے عام قاعدے کے مطابق یہود کو ان کی ایک غلطی پر متنبہ کیا اور یہ واضح کیا کہ لفظ یہودا کی طرف سے وہ اپنے کو منسوب کرتے ہیں اس کی اصل مادہ ہود سے ہے اور اس میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کے نام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔”۱؂ نصاریٰ: لفظ نصاریٰ کی تحقیق استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں مندرجہ ذیل بیان فرمائی ہے: “نصاریٰ نصران کی جمع ہے جس طرح ندامی ندمان کی جمع ہے۔ شروع شروع میں نصاریٰ کا یہی نام تھا اور ان کے متقدمین اس نام کو پسند کرتے تھے لیکن متاخرین نے اپنے متقدمین کے برخلاف اس کو اپنی تحقیر سمجھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نصاریٰ بعد کے دور میں دو فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک فرقہ نے خلیفہ برحق شمعون (پیٹر) کی پیروی کی، اس نے اپنے آپ کو نصاریٰ سے موسوم کیا۔ اس گروہ کے لوگ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ یہی گروہ ہے جس کی قرآن نے مختلف مقامات میں تعریف فرمائی ہے۔ مثلاً وَلَتَجِدَنَّھُمۡ اَقۡرَبَھُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡٓا اِنَّا نَصَاریٰ (مائدہ: ۸۲) (اور تم اہل ایمان کی دوستی میں ان لوگوں کو زیادہ قریب پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو نصاریٰ کہا) اس آیت میں اس بات کی تصریح ہے کہ قرآن کا ممدوح گروہ وہی ہے جس نے اپنے آپ کو نصاریٰ سے موسوم کیا۔ ان کے دوسرے فرقہ نے متبدع بولوس (پال) کی پیروی کی۔ موجودہ عیسائی اسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ان لوگوں کے نزدیک نصاریٰ کا لفظ ایک تحقیر کا لفظ ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک گاؤں کی طرف نسبت ہے جو ایک نہایت حقیر سا گاؤں تھا۔ چنانچہ یوحنا باب ۴۵ میں ہے: “فلپس نے نتن ایل سے مل کر ان سے کہا کہ جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے وہ ہم کو مل گیا۔ وہ یوسف کا بیٹا یسوع ناصری ہے۔ نتن ایل نے اس سے کہا، کیا ناصرہ سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے۔”یہ بات اس گروہ کے تکبر کی ایک دلیل ہے۔ اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کا مولد ناصرہ ہی ہے تو اس کی طرف منسوب ہونے میں حقارت کا کون سا پہلو ہے۔ جب کہ ان لوگوں کا دعویٰ بھی ہے کہ ناصرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے اور یہ کہ وہ ناصری کے لقب سے پکارے جائیں گے۔ چنانچہ متی باب ۲-۲۴ میں ہے: “اور ناصرہ ایک شہر میں جا بسا تاکہ جو نبیوں کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔”بعض مخالفین قرآن نے اس لفظ کو بھی قرآن پر اعتراض کا بہانہ بنایا ہے۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ چوں کہ قرآن کو اس وجہ تسمیہ کا پتہ نہیں تھا اس وجہ سے اس نے نصاریٰ کو نصرت سے ماخوذ سمجھا ہے اور سورہ صف کی اس آیت میں اسی پہلو سے ان کا ذکر کیا ہے۔ وَاِذۡ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ (اور یاد کرو جب کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ خدا کی راہ میں میرا مددگار کون بنتا ہے، حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں) ہمارے نزدیک ان معترضین کا یہ اعتراض آیت کے مفہوم سے بالکل ناواقفیت پر مبنی ہے۔ یہاں قرآن مجید نے نصاریٰ کی وجہ تسمیہ بیان نہیں کی ہے بلکہ ایک امر واقعی بیان فرمایا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بات جو اس آیت سے نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف تلمیح اس بات کی طرف ہے کہ جو لوگ نصاریٰ کے نام سے موسوم ہیں انہیں حق کا مددگار ہونا چاہئے کیوں کہ اس کا اشارہ خود ان کے نام کے اندر موجود ہے۔ اس قسم کی لطیف تلمیحات انبیاء علیہم السلام کے کلام میں بکثرت موجود ہیں۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شمعون سے جن کا لقب صفا تھا فرمایا کہ“اور میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پطرس ہے اور میں اس پتھر پر اپنی کلیسا بناوں گا۔”باب ۱۶ آیت ۱۸”۲؂ صَابِئِیۡنَ: صابئین کے متعلق اہل تاویل کے متعدد اقوال منقول ہیں۔ مجاہد اور حسن کے نزدیک یہ لوگ کسی خاص دین کے پیرو نہیں تھے بلکہ یہودیت اور محبوسیت کے بین بین تھے۔ ان لوگوں کے نزدیک ان کا ذبیحہ حرام ہے۔ ابن زید کا قول ہے کہ یہ ایک مخصوص دین کے پیرو تھے اور جزیرہ موصل میں آباد تھے، ان کا عقیدہ توحید تھا لیکن نہ تو یہ کسی نبی اور کسی کتاب کے پیرو تھے اور نہ ان کے ہاں شرعی اعمال کا کوئی مخصوص نظام تھا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ملائکہ کی پرستش کرتے، قبلہ کی طرف نماز پڑھتے اور زبور کی تلاوت کرتے تھے۔ ابوالعالیہ اور سفیان کے نزدیک یہ لوگ اہل کتاب میں سے ایک فرقہ تھے۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ اقوال بظاہر متضاد نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ان میں تضاد نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ اول اول یہ لوگ دین حق پر تھے لیکن بعد میں یہ لوگ دین حق سے منحرف ہو کر ملائکہ اور ستاروں کی پرستش میں مبتلا ہو گئے، یہ بالکل اسی طرح کا معاملہ ہے جس طرح حضرت حضرت اسماعیل کی اولاد سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر تھی لیکن بعد میں شرک وبت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ قرآن مجید کی زیر بحث آیت سے مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ کے اس خیال کی تائید ہوتی ہے کیوں کہ قرآن نے اس گروہ کا جس انداز میں ذکر فرمایا ہے اس سے یہ امر تو بالکل واضح ہے کہ یہ لوگ ابتداءً دین حق پر تھے، بعد میں بدعتوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوئے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا قیاس یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر نماز کی عبادت معلوم ہوتا ہے بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ اسی اشتراک سے سبب سے مشرکین آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو صابئین کہتے تھے۔ ان کی وجہ تسمیہ سے متعلق مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا خیال یہ ہے کہ چوں کہ صباء کے معنی طلوع ہونے کے آتے ہیں اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ستارہ شناسی اور معرفت نجوم میں مہارت کے سبب سے اس نام سے موسوم ہوئے ہوں۔ چوں کہ اس مذہب کے پیروؤں کا وجود اب کہیں باقی نہیں رہا ہے اور نہ ان کی کوئی مستند تاریخ ہی موجود ہے اس وجہ سے ان کے متعلق اعتماد سے کوئی بات کہنا مشکل ہے لیکن قرآن مجید کے زمانہ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرقہ کی حیثیت سے ان لوگوں کا وجود بالکل معروف تھا۔ _______ ۱؂ اس تمام تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مولانا فراہیؒ کی مفردات القرآن میں تحقیق لفظ ’ھَادُوۡا‘۔ ۲؂ اس تفصیل کے ملاحظہ ہو مولانا فراہیؒ کی مفردات القرآن میں لفظ نصاریٰ کی تحقیق۔
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا اور اٹھایا تمہارے اوپر طور کو۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم خدا کے غضب سے محفوظ رہو۔

مَوثِق اور میثاق کے معنی عہدوپیمان کے ہیں۔ اس لفظ کی روح وثوق اور استحکام ہے اس وجہ سے یہ خاص طور پر اس عہدوپیمان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی اہم معاملہ کے لئے پورے شعور اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کی وفاداری کا تاکید کے ساتھ اظہار و اقرار کیا گیا ہو۔ یہاں اس سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات کی پابندی کا لیا گیا۔ شریعت الہٰی خدا اور بندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو میثاق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ سورہ اعراف میں اس میثاق کا حوالہ اس طرح آیا ہے: اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمۡ مِّيثَاقُ الْكِتَابِ اَن لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِيهِ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ اَفَلاَ تَعْقِلُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالْكِتَابِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ اِنَّا لاَ نُضِيعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيۡنَ وَاِذۡ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهٗ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُوۡا مَا اٰتَيْنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوۡا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ۔ اعراف : ۱۶۹-۱۷۱ کیا ان سے کتاب کے باب میں میثاق نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف نہیں منسوب کریں گے مگر حق بات اور انہوں نے اس کو اچھی طرح پڑھا جو اس میں ہے اور دار آخرت کی کامیابی ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کریں، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑیں گے اور نماز قائم کریں گے (وہی لوگ مصلح ہیں) ہم مصلحوں کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ اور یاد کرو جب کہ ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو اس طرح اٹھا لیا گویا وہ سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گر کر رہے گا۔ لو اس کو جو ہم نے تم کو دیا ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے اس کو برابر یاد رکھو تاکہ تم خدا کے غضب سے محفوظ رہو۔ یہ معاہدہ قرآن مجید اور تورات دونوں میں تصریح ہے کہ بنی اسرائیل کے سرداروں سے دامن کوہ میں لیا گیا اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک سخت زلزلہ نے پہاڑ کو ہلا دیا۔ اگر زلزلہ کے وقت آدمی کسی اونچی دیوار کے زیر سایہ یا پہاڑ کے دامن میں بیٹھا ہو تو ایسا معلوم ہو گا کہ پہاڑ یا دیوار سائبان کی طرح سر پر لٹک رہے ہیں اور اوپر گرا چاہتے ہیں۔ اس حالت کو قرآن نے طور کو ان کے سروں پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ پہاڑ ان کے سروں پر لٹکا دینا بنی اسرائیل کو معاہدہ پر مجبور کرنے کے لئے نہیں تھا اگر وہ یہ معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو اس پہاڑ سے کچل کر رکھ دئیے جائیں گے، معاہدہ کو قبول کرنا یا نہ کرنا ایک امر اختیاری ہے۔ دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے زبردستی اور جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے جو کچھ ہوا وہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا تاکہ بنی اسرائیل اس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ شریک معاہدہ ہو رہے ہیں وہ کوئی کمزور اور بے اختیار ہستی نہیں ہے بلکہ اس کی قدرت بے پناہ ہے۔ معاہدہ کی پابندی کی شکل میں جس طرح دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے انعامات کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے غضب کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ طور جیسے عظیم پہاڑ کو ان کے سروں پر لٹکا سکتا اور اس سے ان کو کچل کے رکھ دے سکتا ہے۔ خُذُوۡا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: یعنی اس تورات کا جو تمہارے لئے اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے پوری مضبوطی اور پوری عزیمت کے ساتھ لو اور زندگی کے تمام مراحل میں پورے استقلال اور پوری پامردی کے ساتھ اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو نباہو۔ اس کے احکام نرم بھی ہیں اور سخت بھی، نیز اس کی ذمہ داری یُسر میں بھی ہے اور عُسر میں بھی، اس وجہ سے کمزور ہاتھوں اور ڈھیلے ارادوں کے ساتھ اس کا حق ادا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے قوت اور عزیمت مطلوب ہے۔ وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ: جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، سے مراد احکام وہدایات بھی ہیں اور خاص طور پر وہ تنبیہات اور تہدیدات بھی جو اس میثاق کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق بنی اسرائیل کو سنا دی گئی تھیں۔ تورات میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس عہد پر قائم رہیں گے تو وہ زمین اور آسمان دونوں طرف سے خدا کا فضل پائیں گے اور اگر انہوں نے اس کی ناقدری کی تو دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی سزا بھی بڑی ہی سخت ہو گی۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، اس لئے کہ کتاب الہٰی کا اصل مقصد ہی راہ تقویٰ کی نشان دہی ہوتا ہے لیکن ہم نے موقع کلام اور سیاق وسباق کی روشنی میں اس سے خدا کے قہروغضب سے بچنا مراد لیا ہے۔ ہمارا ذہن اس طرف اس وجہ سے گیا ہے کہ اس سے پہلے ان کو خاص طور پر، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان تنبیہات وتحذیرات کو یاد رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے جو تورات میں میثاق الہٰی کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق اس کو سنائی گئی تھیں اور ان کے سنانے سے مقصود یہی تھا کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں خدا کے قہر وغضب سے محفوظ رہیں۔
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم نے اس سب کے بعد اعراض کیا، تو اگر تم پر اللہ کی عنایت اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے۔

پھر تم اس سب کے بعد پھر گئے۔ یہ خطاب ظاہر ہے کہ زمانہ نزول قرآن کے بنی اسرائیل سے ہے درآنحالیکہ یہ فعل اعراض ان کے پہلوں سے صادر ہوا تھا اور یہ لوگ اس راہ میں موجد نہیں بلکہ اپنے اگلوں کے مقلد تھے۔ یہ طرز خطاب اس حقیقت کی طرف نہایت بلیغ اشارہ کر رہا ہے کہ اگر اخلاف گمراہی یا ہدایت کے معاملہ میں ٹھیک ٹھیک اپنے اسلاف کے نقش قدم ہی پر چل رہے ہوں تو ان کی تاریخ اور ان کے اسلاف کی تاریخ گویا ایک ہی ہے۔ اسلاف کے افعال بے تکلف اخلاف کی طرف بھی منسوب ہوں گے اور اخلاف کی گمراہیوں کی تاریخ اسی وقت سے شروع ہو گی جب سے ان کے اسلاف نے اس برائی کی اپنے معاشرے میں طرح ڈالی۔ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ کا ترجمہ ہم نے اس سب کے بعد کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان اور قرآن میں اس اسلوب کے استعمالات سے واضح ہوتا ہے کہ ذٰلِكَ جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو اوپر بیان کی ہوئی پوری سرگزشت کی طرف ایک جامع اشارہ کر دیتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ تورات کی پابندی کا میثاق باندھ چکنے، خدا کا جلال دیکھ لینے اور تمام تنبیہات وتہدیدات سے اچھی طرح واقف ہو چکنے کے بعد تمہارے اسلاف نے اس عہد سے منہ موڑا اور تم نے اس معاملہ میں ٹھیک ٹھیک انہی کی روش کی تقلید کی۔ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ الآیہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے اعمال وافعال تو شروع ہی سے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دھتکار دیتا لیکن یہ محض اس کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے تمہیں آج تک مہلت دی۔ اس کے اس فضل و رحمت کا حق یہ ہے کہ اس کے شکرگزار بنو اور اپنی اس روش کو درست کرو لیکن تم الٹے اپنی اس روش پر فخر کر رہے ہو۔ اور اس فخر میں مبتلا ہو کر اس آخری موقع کو بھی ضائع کرنا چاہتے ہو جس کے بعد تمہارے لئے اصلاح حال کا کوئی موقع بھی باقی نہیں رہے گا۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا علم تو تمہیں ہے ہی جنہوں نے سبت کے معاملے میں حدود الٰہی کی بےحرمتی کی تو ہم نے ان کو دھتکارا کہ بن جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ،

یہ اس نقض عہد کی ایک مثال ہے جس کا اجمالی ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ بنی اسرائیل کے لئے سبت (ہفتہ) کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس دن ان کو کام کاج اور سیروشکار کی ممانعت تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو شریعت الہٰی کی ان پابندیوں سے آزاد کرنے کے لئے بہت سے شرعی حیلے ایجاد کر لئے۔ یہاں تک کہ سیروشکار وغیرہ کی بھی بہت سی راہیں کھول لیں۔ اس آیت میں ان کی اسی قسم کی حرکتوں کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ یہ باتیں ان کے درمیان شہرت رکھتی تھیں اس وجہ سے قرآن نے اس کی طرف ایک معلوم ومعروف حقیقت کی طرح اشارہ کر دیا ہے۔ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوۡا قِرَدَةً خَاسِئِيۡنَ، لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جن لوگوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں سبت کی حرمت برباد کی۔ اہل تاویل کے درمیان اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ اس لعنت کے نتیجہ میں ان کا ظاہر بھی بندروں کے مشابہ ہو گیا تھا یا یہ مسخ صرف عقلی اور روحانی مسخ تھا۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ اختلاف کچھ زیادہ اہمیت رکھنے والا اختلاف نہیں ہے۔ انسان اور بندر کے درمیان شکل وصورت کا فرق بہت زیادہ نہیں ہے۔ اصلی فرق جو ہے وہ عقل اور ارادہ کا ہے۔ انسان کی اصلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی کوئی خواہش پوری کرتے وقت پہلے سے یہ د یکھتا ہے کہ اس خواہش کو پورا کرنا جائز بھی ہے یا نہیں اور اگر جائز ہے تو اس کے لئے کیا شرعی اور اخلاقی حدودوقیود ہیں؟ برعکس اس کے بندر کی کسی خواہش اور اس کے فعل کے درمیان اخلاقی حدودوقیود کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جس چیز کو اس کا نفس چاہ بیٹھتا ہے اس کو وہ فوراً کر گزرتا ہے۔ اگر یہی حالت اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں کسی انسان کی یا کسی انسانی گروہ کی ہو جائے تو اس کے درمیان اور بندر کے درمیان کوئی معنوی فرق نہیں رہ جاتا۔ صرف ایک ظاہری فرق تھوڑا سا رہ جاتا ہے جو صرف اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک عقلی اور اخلاقی زوال اپنی آخری حد کو نہیں پہنچ جاتا۔ جب یہ زوال آخری حد کو پہنچ جاتا ہے تو یہ تھوڑا سا ظاہری فرق بھی بالآخر مٹ ہی کے رہتا ہے۔
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو نمونہ عبرت بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو اس کے آگے اور پیچھے تھے اور اس کو خدا ترسوں کے لیے نصیحت بنایا۔

نَکَال کے معنی نمونہ عبرت کے ہیں۔ یہاں اشارہ اس بستی کی طرف ہے جس بستی کے لوگوں نے سبت کی حرمت برباد کرنے کے لئے وہ ناروا جسارتیں کی تھیں جن کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ بستیوں اور مقامات کے لئے قرآن مجید میں اس طرح ایک سے زیادہ مقامات میں ضمیریں استعمال ہوئی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس لعنت کے نتیجہ میں یہ بستی اپنے آگے پیچھے اور گردوپیش کی بستیوں کے لئے نمونہ عبرت بنا دی گئی جس کو دیکھ کر عقل اور خوف خدا رکھنے والے نصیحت حاصل کرسکتے تھے۔ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بستی سمندر کے کنارے تھی۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ اس بستی کے لوگ تجارت اور تمدن میں بہت ترقی کر چکے تھے لیکن اس لعنت کی پاداش میں ان کے اوپر ایسا زوال آیا کہ ان کا ظاہر اور باطن سب کچھ مسخ ہو کر رہ گیا اور وہ گردوپیش کی بستیوں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک داستان عبرت بن کر رہ گئے۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو وہ بولے کہ کیا تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ اس نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے بنوں۔

یہ یہود کے نقض عہد کی دوسری مثال بیان ہو رہی ہے اور اس مثال کو بیان کرنے کے لئے قرآن نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک ہی بات کو دو حصوں میں اس نے تقسیم کر دیا ہے۔ ایک حصہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کی ذہنیت شروع ہی سے شریعت الہٰی کے قبول کرنے کے معاملہ میں کیسی حیلہ جویانہ اور فرارپسندانہ رہی ہے اور اس کے دوسرے حصے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہزار حیلہ وحجت کے بعد جب وہ کسی بات کو قبول بھی کر لیتے رہے ہیں تو اس کی تعمیل بھی صحیح طریقہ پر نہیں کرتے تھے بلکہ اس حکم سے گریز کی راہیں تلاش کرتے تھے۔ اس چیز کو واضح کرنے کے لئے قرآن نے بنی اسرائیل کی تاریخ سے قَسَّامہ کے ایک واقعہ کو منتخب کیا ہے۔ قرآن مجید کے اشارات سے واقعہ کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل میں کوئی شخص قتل ہو گیا جس کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی شریعت کے قانون کے مطابق اس علاقہ کے لوگوں کو جہاں قتل ہوا تھا، یہ حکم دیا کہ وہ ایک گائے کی قربانی کر کے اس پر قسمیں کھائیں۔ ان لوگوں نے اول تو اس حکم کو ماننے ہی میں لیت ولعل کیے کہ گائے کیسی ہو، اس کا رنگ کیسا ہو، عمر کتنی ہو وغیرہ وغیرہ لیکن بہ ہزار دقت کسی طرح گائے ذبح کی بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ قسم جھوٹی کھائی۔ یہ بات کہ شریعت موسوی میں قسامہ کا طریقہ موجود تھا، کتاب استثنا کی مندرجہ ذیل آیتوں سے ثابت ہوتا ہے۔ “اگر اس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا قاتل کون ہے تو تیرے بزرگ اور قاضی نکل کر اس مقتول کے اردگرد کے شہروں کے فاصلہ کو ناپیں اور جو شہر اس مقتول کے سب سے زیادہ نزدیک ہو اس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو اور نہ وہ جوئے میں جوتی گئی ہو۔ اور اس شہر کے بزرگ اس بچھیا کو بہتے پانی کی وادی میں جس میں نہ ہل چلایا گیا ہو اور نہ کچھ بویا گیا ہو لے جائیں اور وہاں اس وادی میں اس بچھیا کی گردن توڑ دیں۔ تب بنی لاوی جو کاہن ہیں نزدیک آئیں کیوں کہ خداوند تیرے خدا نے ان کو چن لیا ہے کہ خداوند کی خدمت کریں اور اس کے نام سے برکت دیا کریں اور ان ہی کے کہنے کے مطابق ہر جھگڑے اور مار پیٹ کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا کرے۔ پھر اس شہر کے سب بزرگ جو اس مقتول کے سب سے نزدیک رہنے والے ہوں اس بچھیا کے اوپر جس کی گردن اس وادی میں توڑی گئی اپنے اپنے ہاتھ دھوئیں اور یوں کہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ خون نہیں ہوا اور نہ یہ ہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا ہے۔”(استثنا باب ۲۱ آیت ۱-۸) قَالُوۡا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا: بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس حکم کو ایک مذاق تصور کیا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ قاتل کا سراغ لگانے کے لئے یہ تدبیر بھی کوئی کارگر تدبیر ہوسکتی ہےحالانکہ جہاں سراغ لگنے کی ساری راہیں بند ہوں وہاں اگر کوئی آخری تدبیر ہو سکتی تھی کہ مقام قتل کے آس پاس کے سربرآوردہ لوگوں کو جمع کر کے ان سے قسمیں لی جائیں اور قسم کو زیادہ سے زیادہ احترام اور تقدیس کا رنگ دینے کے لئے یہ قسم قربان کئے ہوئے جانور پر لی جائے۔ معاہدات اور قسموں کے معاملہ میں زمانہ قدیم سے یہ رواج رہا ہے کہ یہ عموماً معاہد کے سامنے انجام دیے جاتے تھے تاکہ فریقین جھوٹ اور منافقت سے احتراز کریں۔ بعض حالتوں میں یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاتا تھا کہ قربانی کے جانور کا خون قسم کھانے والوں پر چھڑک کر ان سے قسم لی جاتی۔ ممکن ہے بنی اسرائیل کے ہاں بھی قسامہ کی صورت میں یہ شکل اختیارکی جاتی رہی ہو اگرچہ اوپر کے حوالے میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب امعان فی اقسام القرآن میں اس قسم کی بعض صورتوں کا ذکر کیا ہے۔ قَالَ أَعُوۡذُ بِاللهِ اَنْ اَكُوۡنَ مِنَ الْجَاهِلِيۡنَ: جہل کا لفظ علم کے مقابل میں بھی آتا ہے اور حلم کے مقابل میں بھی۔ یہاں یہ حلم کے مقابل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ اللہ کے دین کے معاملہ میں کوئی ہنسی مسخری کی بات کروں، یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ خدا کا حکم ہے اور اسی میں تمہارے لئے خیروبرکت ہے۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں گھڑی ہے۔
Ayah 2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ واضح کرے کہ گائے کیسی ہو ؟ اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو، نہ بچھیا، بیچ کی راس ہو، تو کرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے

گائے کی قربانی کے حکم کے بعد یہ سوال جو بنی اسرائیل نے کیا یہ محض ان کے فساد مزاج کا پیدا کردہ تھا۔ فی الواقع یہ سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اگر ان کے مزاج میں سلامت روی ہوتی تو وہ متوسط درجہ کی کوئی سی گائے ذبح کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اس ذہنیت سے واقف تھا جو اس سوال کے پس پردہ چھپی ہوئی تھی اس وجہ سے سوال کا وہ جواب تو اس نے دے دیا جو ان کے اشتباہ کے دور کرنے کے لئے کافی تھا، یعنی یہ کہ گائے اپنی عمر کے لحاظ سے اوسط درجہ کی ہو لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی بے چون وچرا تعمیل کرو، اس قسم کے سوال کر کے نہ شریعت سے گریز کی راہیں تلاش کرو اور نہ اپنے لئے دین کی وسعتوں کو تنگ کرو۔
Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

بولے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ واضح کرے کہ اس کا رنگ کیا ہو ؟ اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ سنہری ہو، شوخ رنگ، دیکھنے والوں کے لیے دل پسند۔

گائے کے رنگوں میں سنہرا اور زرد رنگ سب سے زیادہ دل پسند رنگ ہے۔ عرب شعرا اسی پسندیدگی کے سبب سے محبوبہ کے لئے بھی یہ صفت لاتے ہیں۔“فاقع”کا لفظ اسی رنگ کی گہرائی اور شوخی کے لئے آتا ہے۔ اوپر کا سوال بھی اگرچہ غیر ضروری تھا لیکن عمر کی ایک حد معین ہوجانے کے بعد تو گائے سے متعلق کسی سوال کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی تھی لیکن اس کے بعد انہوں نے رنگ سے متعلق سوال کر دیا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اس رنگ کی گائے متعین فرمائی جس رنگ کی گائے سب سے زیادہ خوش رنگ اور پسندیدہ سمجھی جاتی تھی۔ ظاہر ہے کہ سوال کے جواب میں سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ ہی کی ہدایت ہونی تھی لیکن اسی طرح کے سوالات ہیں جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل نے اپنے آپ کو شریعت الہٰی کی وسعتوں اور رخصتوں سے محروم کر کے اس کو اصر و اغلال کا ایک مجموعہ بنا لیا۔
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

بولے اپنے رب سے دعا کرو کہ اچھی طرح واضح کردے کہ وہ کیسی ہو، اس لیے کہ گایوں کے امتیاز میں گھپلا ہوہا ہے۔ اور انشا اللہ اب ہم پتہ لگا لیں گے

رنگ کی وضاحت کے بعد بھی سوال کرنے والوں کی تشفی نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید وضاحت چاہی تو ہدایت ہوئی کہ گائے کمیری نہ ہو، اس سے کھیتوں میں ہل چلانے اور پانی دینے کی خدمت نہ لی گئی ہو۔ مزید یہ ہدایت ہوئی کہ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ اس طرح اپنے لئے گوناگوں قیدیں اور پابندیاں بڑھوا چکنے کے بعد بولے کہ ہاں اب بات اچھی طرح واضح ہوئی۔ حق کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ وہ چیز جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔ قیامت کو اسی معنی کے لحاظ سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو اخلاقی حیثیت سے واجب ہو۔ عدل کو اسی اعتبار سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو جھگڑے اور اختلاف کے درمیان قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن مجید کو حق کہنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ غایت اور مقصد کے مفہوم کے لئے بھی یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ آسمان وزمین کی خلقت کو اسی معنی کے لحاظ سے بالحق کہا گیا ہے۔ جو چیز اپنے ظہور کے لحاظ سے بالکل واضح ہو اور بین ہو اس کو بھی حق کہتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں حق کا لفظ اسی آخری معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس آخری سوال کے ساتھ ان کی زبان سے وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللهُ لَمُهْتَدُوۡنَ (اور اب ہم انشاء اللہ پتہ لگا لیں گے) کے الفاظ نکلے۔ یہ الفاظ ان کے باطن پر عکس ڈالتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پے درپے سوالات کے بعد خود ان پر بھی اپنے سوالات کی نامعقولیت واضح ہو چکی تھی چنانچہ ان کے اسی احساس کی شاید یہ برکت تھی کہ ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا اور اس کلمہ کی برکت سے انہیں اس حکم کی تعمیل کی توفیق نصیب ہوئی ورنہ جس ذہنیت کا ان کی طرف سے اظہار ہو رہا تھا اس سے تو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ کبھی بھی اس حکم کی تعمیل کریں گے۔
Ayah 2:71

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے کمیری، زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو سیراب کرنے والی نہ ہو۔ بالکل یکرنگ ہو، اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ بولے، اب تم واضح بات لائے۔ پھر انہوں نے ذبح کی اور وہ ذبح کرتے نظر نہ آتے تھے

رنگ کی وضاحت کے بعد بھی سوال کرنے والوں کی تشفی نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید وضاحت چاہی تو ہدایت ہوئی کہ گائے کمیری نہ ہو، اس سے کھیتوں میں ہل چلانے اور پانی دینے کی خدمت نہ لی گئی ہو۔ مزید یہ ہدایت ہوئی کہ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ اس طرح اپنے لئے گوناگوں قیدیں اور پابندیاں بڑھوا چکنے کے بعد بولے کہ ہاں اب بات اچھی طرح واضح ہوئی۔ حق کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ وہ چیز جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔ قیامت کو اسی معنی کے لحاظ سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو اخلاقی حیثیت سے واجب ہو۔ عدل کو اسی اعتبار سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو جھگڑے اور اختلاف کے درمیان قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن مجید کو حق کہنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ غایت اور مقصد کے مفہوم کے لئے بھی یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ آسمان وزمین کی خلقت کو اسی معنی کے لحاظ سے بالحق کہا گیا ہے۔ جو چیز اپنے ظہور کے لحاظ سے بالکل واضح ہو اور بین ہو اس کو بھی حق کہتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں حق کا لفظ اسی آخری معنی میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ تم نے ایک نفس کو قتل کردیا، پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام بازی کی، حالانکہ اللہ وہ سب کچھ ظاہر کرنے والا ہے جو تم چھپاتے رہے ہو

دَرَءٌ کے معنی دفع کرنے اور پھینکنے کے ہیں۔ اسی سے تدارأ تم ہے جو ادغام کے قاعدے سے اِدَّارَءۡ تُمۡ ہو گیا ہے۔ اس کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کے ہیں۔ وَٱللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنۡتُمْ تَكْتُمُوۡنَ: اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ یہاں بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ اس کے بعد کا ٹکڑا فَقُلْنَا اضْرِبُوۡهُ بِبَعْضِهَا (پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو) فادرء تم فیھا سے لگتا ہوا ہے۔ اس جملہ معترضہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کر کے تم دنیا میں ایک دوسرے پر الزام بازی کر کے اس کو چھپانے کی کوشش کر سکتے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر کوئی چیز تم نے دنیا میں چھپا لی تو وہ ہمیشہ چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ ایک دن اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ ظاہر کر کے رہے گا جو تم چھپا رہے ہو۔ یہ وَاِذْ قَتَلْتُمْ سے گائے کے ذبح کرنے کے حکم کا اصل مقصد بیان ہو رہا ہے۔ اوپر یہ واضح کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جو آج خدائی شریعت کے واحد اجارہ دار بنے بیٹھے ہیں ان کی ذہنیت اس شریعت کے قبول کرنے کے معاملے میں کیا کر رہی ہے۔ وہ کس طرح قدم قدم پر اس کے قبول کرنے کے معاملہ میں طرح طرح کی حجتیں کرتے رہے ہیں۔ اب وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا سے آگے کے حصہ میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ گائے کے ذبح کا یہ حکم کس مقصد سے دیا گیا تھا اور اس معاملہ میں انہوں نے کیا روش اختیار کی۔
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا اس کو اس کے ایک جزو سے مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

“اس کو اس کے بعض سے مارو”عام طور پر اہل تاویل نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ مقتول کو گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا چھوا دو جس سے وہ زندہ ہو جائے گا اور اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ اگرچہ یہ مطلب لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی بات بھی بعید نہیں ہے لیکن قسامہ کے تعلق سے کبھی کبھی مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ قسم لینے کی طرف اشارہ ہو یعنی مقتول پر قربان کی ہوئی گائے کا خون چھڑکو اور آس پاس والوں سے قسم لو۔ واقعہ کی تفصیل کے بجائے اس کی طرف صرف اشارہ اس لئے کافی سمجھا گیا ہو کہ یہاں مقصود واقعہ کو بیان کرنا نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے ایک واقعہ کو صرف جتا دینا تھا۔ یہ مطلب لینے کی صورت میں كَذٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتٰى کا ٹکڑا بنی اسرائیل کی اس بات کا جواب ہوگا جو انہوں نے گائے ذبح کرنے کا حکم سن کر کہی تھی کہ اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا (کیا تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو) یعنی تمہارے نزدیک تو یہ حکم ایک مذاق ہے لیکن اگر تم اس پر اس کی صحیح اسپرٹ کے ساتھ عمل کرو اور اس قربانی اور قسم میں ایمان داری برتو تو یہی راستہ ہے قاتلوں کے سراغ لگانے اور ان سے قصاص لینے کا جس میں سب کے لئے زندگی ہے۔ یہ بات کہ قصاص میں سب کے لئے زندگی ہے قرآن مجید میں واضح طور پر مذکور ہے وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَّا اُولِی الْاَلْبَابِ (۱۷۹ بقرہ) اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والو۔ تورات میں بھی ایک کے قتل کو سب کا قتل اور ایک کے قصاص کو سب کی زندگی قرار دیا گیا تھا۔ قرآن مجید میں اس حکم کا حوالہ اس طرح دیا گیا ہے۔ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا (۳۲ مائدہ) ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا کہ جس نے کسی جان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی جان کو قتل کیا ہو یا ملک میں بدامنی برپا کی ہو اس نے گویا سب کو قتل کیا اور جس نے اس کو زندہ کیا اس نے گویا سب کو زندہ کیا۔ اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر قانون قصاص کا یہ فلسفہ اس قدر واضح تھا کہ قصاص نہ لینے میں سب کی موت اور قصاص لینے میں سب کی زندگی ہے۔ وَيُرِيۡكُمْ اٰيَاتِهٖ کا تعلق اس صورت میں جملہ معترضہ سے ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کی نشانیاں دکھا رہا ہے کہ جو کچھ تم چھپا رہے ہو اس میں سے کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے بلکہ ہر چیز ظاہر ہو کے رہے گی۔ یہ اشارہ ان باتوں کی طرف ہو گا جن کو یہود نے چھپانے کی کوشش کی اور جن کو چھپانے کے لئے دین میں طرح طرح کی تحریفیں کیں لیکن اب وہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ایک ایک کر کے ظاہر ہو رہی تھیں۔ یہ اس بات کی کھلی ہوئی نشانی تھی کہ خدا سے کسی بات کو چھپانے کی کوشش ایک بے سود کوشش ہے، وہ ایک دن سارے رازوں سے پردہ اٹھا دے گا۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس سب کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کے مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خوف خدا سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو

“پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے”۔ یہاں ثُمَّ کے استعمال سے یہ بات نکلتی ہے کہ دین کے معاملہ میں تمہاری اس قسم کی کٹھ حجتیوں اور فرار پسندیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ تمہارے دل سخت ہو گئے۔ یہاں اگرچہ تصریح نہیں ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح گائے کے ذبح کے حکم کی تعمیل میں بہت سی حجتیں پیدا کیں اسی طرح اس کے ذبح کے بعد بھی اس قربانی کا صحیح احترام ملحوظ نہیں رکھا بلکہ جھوٹی قسمیں کھا کر قاتل کو چھپانے کی کوشش کی۔ کسی جرم کے ساتھ جب حیلہ بازی اور کٹھ حجتی اور پھر مزید براں ڈھٹائی اور جسارت بھی شامل ہو جائے تو ایسے مجرموں کے دل خدا کے قانون کے مطابق پتھر کے مانند سخت ہو جایا کرتے ہیں جس کے بعد نیکی اور تقویٰ کی روئیدگی کی صلاحیت ان کے اندر بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے۔ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً (پس وہ پتھر کے مانند ہو گئے یا پتھر سے بھی زیادہ سخت) یہ اس طرح کا اسلوب کلام ہے جیسا کہ دوسری جگہ وارد ہے اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ھُمۡ اَضَلُّ اعراف :۱۷۹ یہ لوگ چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ محض مبالغہ کا ایک اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ یکسر تعبیر حقیقت ہے۔ جمادات وغیرہ میں جو سختی ہوتی ہے وہ سختی ان کو ان صلاحیتوں سے محروم نہیں کرتی جو قدرت کی طرف سے ان کے اندر ودیعت ہوتی ہے۔ برعکس اس کے انسان اگر اپنے آپ کو بگاڑتا ہے تو اس کا بگاڑ آہستہ آہستہ قانون الہٰی کے بموجب ان تمام صلاحیتوں سے اس کو محروم کر دیتا ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو ودیعت ہوئی ہوتی ہیں۔ پتھر سخت سے سخت تر ہو کر بھی پتھر ہی رہتا ہے۔ اس کی رگوں کے اندر پانی کی سوت جاری کرنے کی صلاحیت اگر قدرت نے رکھی ہوتی ہے تو اس سختی کے باوجود یہ چیز اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ برعکس اس کے انسان کا دل اگر کسی اخلاقی بیماری کے سبب سے سخت ہو جائے تو اس کے دل کی تمام سوتیں بالکل خشک ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بگڑے ہوئے انسان کے بگاڑ کا مقابلہ دنیا کی کوئی چیز بھی نہیں کر سکتی اگرچہ وہ کتنی ہی بگڑی ہوئی کیوں نہ ہو۔ یہاں یہ جو فرمایا کہ“پتھروں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض ایسے ہوتے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل پڑتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خشیت الہٰی سے گرپڑتے ہیں”۔ یہ پتھروں کی انہی فطری صلاحیتوں کی طرف اشارات ہیں جو قدرت نے ان کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور جو بہ ہرصورت باقی رہتی ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ محض کوئی شاعرانہ اسلوب بیان نہیں ہے جس کا واقعات کی دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو بلکہ یہ تلمیح ہے ان مشاہدات کی طرف جو صحرا کی زندگی میں خود بنی اسرائیل کی نگاہوں کے سامنے گزر چکے تھے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک چٹان سے اکٹھے بارہ چشمے پھوٹتے اور طور کے ایک حصہ کو تجلی الہٰی سے پاش پاش ہوتے دیکھا تھا لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی ان کے دلوں کی سختی کا یہ حال رہا کہ وہ کسی نشانی کوبھی دیکھ کر نرم نہیں ہوتے تھے۔ پھر اس بات میں شبہ کرنے کی گنجائش کہاں رہی کہ ان کے دلوں کی سختی پتھروں اور چٹانوں کی سختی سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ: اور اللہ اس سے بےخبر نہیں ہے جو تم کرتے رہے ہو، یعنی اپنے شرف و تقدس، اپنی بڑائی اور بزرگی اور اپنی پاکیٔ دامن کی حکایت تو وہ بڑھائے جس کے کارنامے ڈھکے چھپے ہوئے ہوں اور اس کے سامنے بڑھائے جو بے خبر اور بے علم ہو، جو ہر بات سے باخبر ہو اس کے سامنے اس قسم کے ادعا اورغرور سے کیا حاصل!
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے اور حال یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے کلام کو سنتا رہا ہے اور اس کو سمجھ چکنے کے بعد اس کی تحریف کرتا رہا ہے اور وہ جانتے ہیں اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں

یہود سے خطاب کے بیچ میں یہ مسلمانوں کی طرف اسی طرح کا التفات ہے جس طرح کا التفات آیات ۶-۷ میں آنحضرت ﷺ کی طرف اور آیات ۲۱-۲۹ میں بنی اسمٰعیل کی طرف گزرا ہے۔ اس التفات کے دو مقصد ہیں۔ ایک تو مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا کہ وہ بنی اسرائیل کی مخالفت سے نہ بددل ہوں اور نہ اس پر متعجب کہ یہ پڑھے لکھے اور دین وشریعت کے عالم لوگ اس دعوت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کے ذہن ایسے ٹیڑھے واقع ہوئے ہیں کہ ایک بات کو اپنے نبی کی زبان سے سننے اور اس کا مدعا واضح طور پر سمجھ چکنے کے بعد بھی اس میں ٹیڑھ پیدا کرتے رہے اور اس کو اس کے منشا کے بالکل خلاف سمت میں موڑتے رہے ہیں، جیسا کہ گائے کی قربانی کے حکم کے معاملہ میں تم نے سنا، ایسے ٹیڑھے ذہن کے لوگوں یا ان کی تقلید کرنے والوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری سیدھی سیدھی بات بھی سیدھے طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ دوسرا مسلمانوں کو ان یہود کی بعض پس پردہ حرکات سے آگاہ کرنا، تاکہ جو سادہ لوح مسلمان ان کے فریب کارانہ دعوائے ایمان سے دھوکے میں آ کر حسن ظن رکھنے لگے تھے یا ان سے ربط ظبط بڑھانے کے خواہش مند تھے وہ متنبہ ہو جائیں کہ یہ تمام تر فریب کاری ہے، اس میں سچائی کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہے۔ يَسْمَعُوۡنَ كَلامَ اللهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمْ يَعْلَمُوۡنَ: حَرَف الشئی عن وجھہ کے معنی ہیں کسی شے کو اس کے صحیح رخ سے موڑ کر دوسری سمت میں کر دینا۔ اسی سے حَرَّفَ القول یا حَرَّفَ الکلام ہے جس کے معنی بات یا کلام کے بدل دینے کے ہیں۔ اس بدل دینے کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً ایک بات کی دیدہ ودانستہ ایسی تاویل کر دی جائے جو قائل کے منشا کے بالکل خلاف ہو۔ کسی لفظ کے طرز ادا اور قراءت میں ایسی تبدیلی کر دی جائے جو لفط کو کچھ سے کچھ بنا دے۔ مثلاً مروہ کو بگاڑ کر مورہ یا مریا وغیرہ کر دیا گیا۔ کسی عبارت یا کلام میں ایسی کمی بیشی کر دی جائے جس سے اصل مدعا بالکل خبط ہو کر رہ جائے مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہجرت کے واقعہ میں یہود نے اس طرح ردوبدل کر دیا کہ خانہ کعبہ سے ان کا کوئی تعلق ثابت نہ ہو سکے۔ کسی ذومعانی لفظ کا وہ ترجمہ کر دیا جائے جو سیاق وسباق کے بالکل خلاف ہو۔ مثلاً عبرانی کے ابن کا ترجمہ بیٹا کر دیا گیا درآں حالیکہ اس کے معنی بندہ اور غلام کے بھی آتے ہیں۔ ایک بات کا مفہوم بالکل واضح ہو لیکن اس کے متعلق ایسے سوالات اٹھا دیے جائیں جو اس واضح بات کو مبہم بنا دینے والے یا اس کو بالکل مختلف سمت میں ڈال دینے والے ہوں۔ اہل کتاب تحریف کی ان تمام قسموں کے مرتکب ہوئے اور قرآن نے ان کو ان سب کا مجرم گردانا ہے۔ موقع موقع کے لحاظ سے آگے اس کتاب میں ہر ایک تفصیل ضروری دلائل کے ساتھ انشاء اللہ آئے گی۔ یہاں اجمال کے ساتھ صرف اس کی مختلف صورتوں اور اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ تحریف پر تحریف کا اطلاق صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب وہ دیدہ ودانستہ اور سمجھ بوجھ کر کی جائے۔ قرآن مجید نے اس کے ساتھ قید لگائی ہے مِنۡ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَھُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ (بعد اس کے کہ انہوں نے اس کو سمجھ لیا اور وہ جانتے تھے کہ وہ تحریف کر رہے ہیں) یہی علم و شعور ہے جو درحقیقت تحریف کو ایک سنگین جرم بناتا ہے اور اس جرم کی سزا میں اس جرم کے مرتکبین اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے نور علم سے یک قلم محروم کر دیے جاتے ہیں۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمہارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

“اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں”۔ یعنی دین وایمان کے اجارہ دار تنہا مسلمان ہی نہیں ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اس قول سے ان کا مطلب جیسا کہ آیات ۸-۹ کی تفسیر کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں محض مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہوتا تھا۔ وہ اس قول کے ظاہر الفاظ سے مسلمانوں کو فریب دیتے تھے تاکہ مسلمان ان کے اوپر اعتماد کرنے لگیں خود اپنے ذہن میں وہ اس کا مطلب یہ لیتے تھے کہ وہ اپنے نبیوں اور اپنے صحیفوں پر تو ایمان رکھتے ہی ہیں ایمان اور کس چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن نے یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس قسم کے پرفریب حملوں کے دام میں آ کر ان سے کچھ اچھی امیدیں نہ لگا بیٹھیں اس لئے کہ ان کی خلوت اور جلوت کی باتوں میں بڑا فرق ہے۔ سامنے تو یہ آمَنّا کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب یہ اپنی خاص مجلسوں میں ہوتے ہیں تو وہاں آپس میں ایک دوسرے کا بڑی شدت سے محاسبہ کرتے ہیں۔ اگر اظہار رواداری کے جوش میں تمہارے سامنے ان میں سے کسی کی زبان سے غلطی سے کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جو اسلام کے حق میں ہوتی ہے تو یہ اپنی مجلسوں میں اس پر سختی سے گرفت کرتے ہیں کہ کیا تم مسلمانوں کے سامنے نبی آخر الزمان ﷺ اور اسلام سے متعلق وہ باتیں کھولتے ہو جوخدا نے اپنے صحیفوں کے ذریعے سے صرف تم پر کھولی ہیں اور اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ تمہارے انہی بیانات کو مسلمان قیامت کے دن تمہارے خلاف شہادت اور حجت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ ۱؂ ۱؂ اس موقع پر اسی سورہ کی تفسیر آیات ۸۔۱۴ تدبر قرآن میں پڑھ لینی چاہیے۔ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ایک ہی مضمون دونوں جگہ بیان ہوا ہے۔
Ayah 2:77

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا انہیں نہیں معلوم ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

یوں تو یہ جملہ عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن کو جانتا ہے لیکن یہاں موقع کلام اس بات کی طرف نہایت لطیف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکا بازی کرتے ہوئے اس بات پر غور نہیں کرتے کہ خدا ان کے اس آمنّا کی حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہے جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں اور ان کی خاص مجلسوں میں آپس میں ایک دوسرے کو مسلمانوں کے سامنے افشائے راز پر جو سرزنشیں اور ملامتیں ہوتی ہیں ان کو بھی وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ احمق لوگ مسلمانوں کے سامنے تو اپنے آپ کو ظاہر داری کے اس لبادہ میں چھپا سکتے ہیں لیکن اس خدا سے انہوں نے اپنے آپ کو چھپانے کی کیا تدبیر سوچی ہے جو ان کی خلوت و جلوت ہر جگہ موجود ہے اور جس پر ظاہر و مخفی سب کچھ روشن ہے!
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور ان میں ان پڑھ ہیں جو کتاب الٰہی کو صرف اپنی آرزوؤں کا مجموعہ خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ صرف اٹک کے تیر تکے چلاتے ہیں

اُمِّیُّوۡنَ، امی کی جمع ہے جس کے معنی تحریر و کتاب اور مدرسی تعلیم سے ناواقف کے ہیں۔ اس سے مراد یہاں یہود کے اَن پڑھ عوام ہیں۔ ان کے علیحدہ ذکر کرنے سے یہاں یہ بات نکلتی ہے کہ اوپر کی آیتوں میں فَرِیۡقٌ مِّنۡھُمۡ کے الفاظ سے جس گروہ کا ذکر ہوا ہے اس سے یہود کے پڑھے لکھے اور ہوشیار لوگ مراد ہیں۔ ان کی جو حرکتیں بیان ہوئی ہیں وہ بھی ہوشیاروں اور پڑھے لکھوں کی ہو سکتی ہیں۔ اللہ کے کلام میں تحریف کرنا اور مسلمانوں کو چکمہ دینے کی کوشش کرنا ظاہر ہے کہ عوام کالانعام کا کام نہیں ہو سکتا۔ عیاروں اور چالاکوں ہی کا کام ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ان کے ذکر کرنے اور مسلمانوں کو ان کی طرف سے مایوس کرنے کے بعد اب یہود کے عوام کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ مسلمانوں کو ان سے بھی قبول حق کی توقع نہیں رکھنی چاہئے اس لئے کہ جس طرح پہلا گروہ شرارت اور حیلہ بازی میں مبتلا ہے اسی طرح یہ دوسرا گروہ بھی جھوٹی آرزوؤں اور اوہام میں مبتلا ہے۔ ان کی بیماری یہ بتائی ہے کہ لَا يَعْلَمُوۡنَ الْكِتٰبَ اِلَّا اَمَانِيّ (یہ تورات کو صرف اپنی آرزوؤں کا مجموعہ سمجھتے ہیں) ‘امانی’ ‘امینہ’ کی جمع ہے جس کے معنی آرزو، تمنا اور خواہش کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی کتاب کی اصل حقیقت سے تو کچھ واقف نہیں کہ اس میں ان کو کیا تعلیم دی گئی ہے کیا نہیں دی گئی ہے بس ان کے ذہن میں کچھ تمنائیں اور خواہشات ہیں جو اگرچہ بالکل بے بنیاد اور بے حقیقت ہیں لیکن ان کے علماء کی غلط تعلیم سے ان کے اندر وہی رچی بسی ہوئی ہیں وہ اپنی کتاب کو اپنی انہی خواہشات کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان کی کتاب ان کے اوپر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتی بلکہ صرف ان کی خواہشات کی سند تصدیق عطا کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔ قرآن مجید میں ان کی اس قسم کی بعض آرزوؤں کا حوالہ دیا ہے۔ مثلاً: وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلاَّ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً (۸۰ بقرہ) اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔ وَقَالُوْا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَارٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ (۱۱۱ بقرہ) اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں نہیں جائیں گے مگر یہودی اور نصرانی۔ یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (۹۴ بقرہ) کہہ دو اگر آخرت کی کامیابیاں اللہ کے نزدیک دوسروں کے مقابل میں تمہارے لئے ہی مخصوص ہیں تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی نَحْنُ اَبْنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّاءُ ہٗ (۱۸ مائدہ) اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ یہ ان کی آرزوؤں میں سے صرف چند بطور مثال ذکر ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جولوگ اس قسم کے اوہام میں مبتلا اور ایسے لذیز خواب دیکھ رہے ہوں، جن پر ذمہ داری کا، چند رسوم کی ادائیگی کے سوا، کوئی بوجھ بھی نہ ہو اور حقوق جن کے لئے سارے کے سارے خدا کے ہاں محفوظ ہوں، وہ اس قرآن پر ایمان لانے والے کس طرح بن سکتے تھے جو ان کو ان لذیز خوابوں سے بیدار کر کے زندگی کی حقیقتوں اور اس کی اصلی ذمہ داریوں کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ تمام آرزوئیں محض ان کے اور ان کے علماء کے ذہن کی پیداوار ہیں، ان کو اصل حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس ہلاکی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شریعت تصنیف کرتے ہیں پھر دعوی کرتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں۔ پس ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو وہ کماتے ہیں

اس سورہ کے شروع میں لفظ کتاب کی تشریح کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں دوسرے معانی کے ساتھ شریعت کے احکام و قوانین کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ فتوے اور احکام ہیں جو علمائے یہود بغیر کسی شرعی سند کے محض اپنے دنیوی اغراض اور عوام کو خوش رکھنے کے لئے جاری کرتے تھے اور دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ “اپنے ہاتھوں لکھنے”کا مطلب یہ ہے کہ ان فتووں کے لئے کتاب الٰہی کے اندر کوئی بنیاد اور سند نہیں ہوتی تھی محض ان کے طبع آزاد اور من گھڑت فتوے ہوتے تھے لیکن وہ ان کو منسوب خدا اور اس کی شریعت کی طرف کرتے تھے۔ اسی طرح کے فتوے تھے جن سے ان کے عوام شریعت کی حقیقی ذمہ داریوں سے بے پروا ہو کر ان اوہام میں مبتلا ہو گئے جن کی طرف اوپر کی آیات میں اشارہ ہوا ہے اور اسی راہ سے ان کے دین میں ان چیزوں کی ملاوٹ ہوئی جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لِيَشْتَرُوۡا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا: (تاکہ اس کے عوض حقیر قیمت حاصل کریں) حقیر اس لئے کہ یہ دین فروشی وہ محض اپنے دنیوی اغراض کے لئے کرتے تھے اور دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ بھی اگر دین کو فروخت کر کے حاصل کیا جائے تو بہرحال حقیر ہی ہے۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيۡهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُوۡنَ: ان کے لئے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے بھی جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور اس چیز کے سبب سے بھی جو وہ اس کے عوض میں کماتے ہیں۔ یعنی آخرت میں یہ دونوں چیزیں ان کے لئے الگ الگ خرابی اور تباہی کا سبب بنیں گی۔ ان کا یہ اپنے جی سے شریعت تصنیف کرنا بھی سبب تباہی اور اس کے عوض میں دنیوی منافع حاصل کرنا بھی موجب تباہی!