Ayah 2:239’ صلوۃ الخوف ‘ سے مراد : رجال، راجل کی اور رکبان راکب کی جمع ہے۔ فرمایا کہ اگر دشمن نے حالت خطرے کی پیدا کر رکھی ہو، نماز اپنے تما شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرنی ممکن نہ ہو تو سوار پیادہ جس حال میں ہو اسی حال میں نماز ادا کرلو۔ خطرے کے حالات میں نماز کی محافظت یہی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ وہ شکل بھی بتا دی گئی ہے جو خطرے کے حالات میں نماز باجماعت کے قیام کے لیے اختیار کی جاسکتی ہے اگر اس کا امکان ہو۔
پھر فرمایا کہ جب امن کے حالات میسر ہوں تو اس طرح اللہ کو یاد کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا ہے۔ اللہ کو یاد کرو سے مراد ادائیگی نماز ہے۔ ذکر کا لفظ نماز کے لیے قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ نماز کی اصل حقیقت چونکہ ذکر ہی ہے اس وجہ سے کبھی کبھی اصل حقیقت سے اس کی شکل بھی تعبیر کردی جاتی ہے تاکہ شکل اختیار کرتے وقت آدمی کی نظر اصل روح پر رہے، صرف شکل پر جم کر نہ رہ جائے۔
پیغمبر ﷺ کی تعلیم عین اللہ کی تعلیم ہے :
كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ پیغمبر ﷺ کی تعلیم عین اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں نماز کا حکم تو ہوا ہے لیکن اس کے ادا کرنے کا طریقہ کہیں نہیں بتایا گیا ہے، یہ چیز صرف پیغمبر کی تعلیم سے امت کو معلوم ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود فرمایا کہ جیسا کہ اس نے تعلیم دی، اب سوال یہ ہے کہ اگر پیغمبر کی تعلیم عین اللہ کی تعلیم نہیں ہے تو وہ کیا چیز ہے جس کو یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیم سے تعبیر فرمایا ہے۔
ہم آیت و یعلمہم الکتاب والحکمۃ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر ﷺ کے متعلق یہ تصور کہ وہ صرف قرآن سنا دینے کے لیے تشریف لائے تھے بنیادی طور پر غلط ہے۔ آپ قرآن سنانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر بھی مامور تھے کہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور سکھائیں اور اس کے مضمرات و اشارات اور اس کی حکمتیں اور اس کے اسرار اچھی طرح واضح کردیں اس کام پر آپ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مامور تھے اس وجہ سے ایک معلم کی حیثیت سے آپ نے امت کو جو کچھ بتایا سکھایا وہ سب آپ کے فریضہ نبوت ہی کے تحت ہے۔ تعجب ہے کہ ان واضح آیات کی موجودگی میں بھی بعض لوگ نماز کے اوقات اور اس کی رکعات وغیرہ سے متعلق بےسروپا بحثیں ٹھاتے ہیں۔
مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ کے الفاظ بطور اظہار فضل و احسان کے ہیں۔ امی عربوں پر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہوا تھا کہ ان پر اس نے دین و شریعت کے وہ اسرار کھولے جو نہ ان پر کھلے تھے اور نہ ان کا بہت بڑا کرم ہوا تھا کہ ان پر اس نے دین و شریعت کے وہ اسرار کھولے جو نہ ان پر کھلے تھے اور نہ ان کے اگلوں پر کھلے تھے اور نہ کسی اور ہی پر کھلے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس فضل و احسان کا جواب ان کی طرف سے یہی زیبا ہے کہ اس کی قر کریں، بنی اسرائیل کی طرح اس کی ناقدری نہ کریں۔
Ayah 2:240وصیت کا لفظ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ متاعاً وصیت کا مفعول ہے اور غیر اخراج ہمارے نزدیک لازواجہم سے حال پڑا ہوا ہے۔ ترجمے میں ہم نے یہ ترکیب کلام واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر نہ واضح ہوسکی ہو تو اس کو ہماری کوتاہی پر محمول کیجیے۔ تالیف کلام بہر حال ہمارے خیال میں یہی درست ہے۔
بیوہ کے لیے وصیت کا عارضی حکم : اوپر آیت 234 میں بیوہ عورتوں کی عدت بیان ہوئی ہے، انہی سے متعلق بعد میں یہ مزید ہدایت اوپر والی آیت ہی کی توضیح مزید کے طور پر نازل ہوئی کہ بیوائیں چھوڑ جانے والے شوہر اپنی بیواؤں کے لیے ایک سال کے نان و نفقہ اور اپنے گھروں میں سکونت کی اجازت کی وصیت کرجائیں۔ اگر اس دوران میں بیوہ خود اپنی مرضی سے گھ چھوڑے اور اپنے نکاح ثانی یا اپنی سکونت کے سلسلہ میں دستور کے مطابق کوئی قدم اٹھائے تو اس کا اس کو حق حاصل ہے۔ میت کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ وصیت کی خلاف ورزی کریں۔
اس وصیت کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ ان آیات کے نزول کے زمانے تک میراث کا قانون ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔ چناچہ اسی باب کے شروع میں (آیت 180) والدین اور قرابت داروں کے لیے بھی وصیت کی ہدایت گزر چکی ہے اور ہم وہاں بیان کرچکے ہیں کہ یہ حکم عارضی طور پر اس وقت تک کے لیے دیا گیا تھا جب تک سورة نساء والا قانون وراثت نازل نہیں ہوا تھا۔ اسی قانون کے تحت بیوگان سے متعلق بھی یہ ہدایت ہوئی کہ ان کے لیے ایک سال کے نان نفقہ اور سکونت کی وصیت کردی جائے۔ ظاہر ہے کہ بعد میں جب وراثت کا قانون جاری ہوگیا اور مورث کے دوسرے وارثوں کی طرح اس کی بیوہ یا بیوگان کا حصہ بھی شریعت میں معین ہوگیا تو جس طرح والدین اور دوسرے وارثوں سے متعلق وصیت کی مذکورہ ہدایت منسوخ ہوگئی، بیوگان کے لیے بھی یہ منسوخ ہوگئی اور اس کی جگہ وراثت کے مستقل قانون نے لے لی۔
اگر یہ آیت اوپر والی آیت یعنی آیت 234 کے ساتھ ہوتی جس میں بیوہ کی عدت مذکور ہوئی ہے تو اس کا نظم سمجھنے میں کسی کو زحمت نہ ہوتی لیکن اس صورت میں یہ بات نہ واضح ہوسکتی کہ یہ آیت پہلے حکم کے بعد اسی حکم کی توضیح کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ احکام کی تدریج اور ان کی حکمتیں سمجھنے کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ اسی حکمت کے لیے اس آیت کو اور اس کے ساتھ والی آیت کو، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، خاتمہ باب پر رکھ دیا اور یہ اشارہ کردیا کہ یہ بعد میں نازل ہونے والی توضیحات ہیں۔
عزیز و حکیم کی صفات خدا کے حق قانون سازی اور اس کے قانون کے پر حکمت ہونے کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کی طرف بھی اسلام میں تمام دین و شریعت اور تمام امر و نہی کی بنیاد خدا کی صفات ہی پر ہے۔ اس وجہ سے کہیں بھی ان کو محض برائے بیت نہیں خیال کرنا چاہیے بلکہ ہر جگہ ان پر اسلام کے فلسفہ قانون اور فلسفہ اخلاق کی بنیاد کی حیثیت سے غور کرنا چاہیے۔
Ayah 2:241صفات پر مبنی حقوق کا درجہ : اوپر آیت 236 میں مطلقہ عورتوں کو دے دلا کر رخصت کرنے کی جو ہدایت فرائی تھی آخر میں یہ پھر اس کی یاد دہانی کردی اور اس کو اہل تقوی پر ایک حق قرار دیا۔ جو حقوق وصفات و کردار پر مبنی ہوتے ہیں بعض حالات میں وہ اس دنیوی زندگی میں تو قانون کی گرفت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ان صفات کے لیے وہ حقوق ہی معیار ٹھہریں گے۔ اگر ایک چیز مومنین یا محسنین یا متقین پر حق قرار دی گئی ہے تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ اسلام کا قانون اس دنیا میں اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کوئی گرفت نہ کرے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آخرت میں بھی ان کی خلاف ورزی پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوگا۔ آخرت میں آدمی کا ایمان یا احسان یا تقوی انہی حقوق کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے وزن دار یا بےوزن ٹھہرے گا۔
Ayah 2:242یہاں كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ الایۃ کا ٹکڑا بطور اظہار احسان ہے اور اس سے، جیسا کہ ہم دوسری جگہوں پر واضح کرچکے ہیں، ان آیات کی نوعیت واضح ہوتی ہے جن کی طرف کذالک کا اشارہ ہے۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ عموماً یہ ٹکڑا ان آیات کے بعد آتا ہے جن کی حیثیت توضیح مزید کی ہوتی ہے اور جو اپنے باب کے اصل احکام کے بعد لوگوں کے اندر سوال یا مزید جستجو اور تلاش پیدا ہونے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ نظمِ قرآن کے طالبوں کو بہت سے مقامات میں ان سے بڑی قیمتی رہنمائی ملتی ہے اس وجہ سے ان کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔
اگلی آیات 243 تا 253 کا مضمون : یہاں ذرا پیچھے مڑ کر سلسلہ کلام کو ذہن میں پھر تازہ کرلیجیے۔ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں کہ اصل بیان تو بیت اللہ کے تعلق سے جہاد و انفاق کا ہو رہا تھا لیکن انفاق کی بحث نے یتیموں کی صلاح و فلاح اور ان کی ماؤں کے ساتھ نکاح کا سوال سامنے کردیا اور اس طرح نکاح و طلاق سے متعلق مناسب وقت مسائل بیان کرچکنے کے بعد اصل بیان جہاد و انفاق کا پھر شروع ہوگیا۔
آگے کے مضامین کا خلاصہ اور ان کا نظم : آگے کے مطالب کی ترتیب یوں ہے کہ پہلے بنی اسرائیل کے ایک واقعہ کا حوالہ دیا ہے کہ وہ ایک بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کے ڈر سے اپنا وطن چھور کے بھاگ کھڑے ہوئے اور اس طرح انہوں نے اپنے لیے اخلاقی اور سیاسی موت اختیار کرلی۔ اس واقعے کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ انہوں نے مکہ سے مدینہ کو جو ہجرت کی ہے تو یہ موت اور دشمن سے فرار نہیں ہے بلکہ کفر اور فتنہ سے فرار ہے اور اصل مقصد اس سے جانیں بچانا نہیں بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کی راہ میں جہاد کے لیے منظم ہونا ہے۔
اس تمہید کے بعد مسلمانوں کو جہاد و انفاق پر ابھارا ہے اور ساتھی ہی بنی اسرائیل کی اس جنگ کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جس کی تحریف ان کے ہاں بھی بعینہ اسی مقصد کے لیے ہوئے ہوئی تھی جس مقصد کے لیے مسلمانوں کو یہاں جہاد پر ابھارا جا رہا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل نے بھی یہ جنگ اپنے قبلہ کی آزادی کے لیے لڑی تھی اور مسلمان بھی اپنے قبلہ ہی کی آزادی کے لیے اٹھ رہے تھے۔
بنی اسرائیل اپنی اس جنگ کے مختلف مراحل میں جن آزمائشوں سے گزرے اور جن فتنوں میں مبتلا ہوئے وہ بڑے ہی سبق آموز تھے اس وجہ سے مسلمانوں کو جو بعینہ انہی مراحل سے گزرنے کے لیے کمر بستہ ہو رہے تھے۔ ان کی سرگزشت کا یہ حصہ سنا دینا ضروی تھا تاکہ مسلمان اس سے سبق حاسل کریں اور ان فتنوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں جو آگے کے مراحل میں پیش آسکتے ہیں۔
اس کے بعد چند آیات میں نبی ﷺ کو مخاطب کر کے یہ فرمایا ہے کہ اس سرگزشت کے ذکر سے مقصود داستاں سرائی نہیں ہے بلکہ یہی کچھ تمہارے سامنے بھی آنے والا ہے اور اس سے تمہاری نبوت کی تصدیق ہوگی لیکن بنی اسرائیل خود اپنے آئینے میں بھی تمہاری تصویر دیکھ لینے کے باوجود اسی طرح اپنی ضد اور مخالفت پر اڑے رہیں گے، سو ان کی مخالفت کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے خدا تمہاری نصرت فرمائے گا۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:243اَلَمْ تَرَ کا خطاب ضروری نہیں کہ واحد کے لیے ہو بلکہ یہ عموماً ، جیسا کہ استاذ امام نے سورة فیل کی تفسیر میں واضح کیا ہے، جمع کے لیے آتا ہے اور خطاب اس میں گویا مخاطب گروہ کے ہر شخص سے فرداً فرداً ہوتا ہے۔ اس کے بعد جس واقعہ کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ یا تو مخاطب گروہ کا عینی مشاہدہ ہوتا ہے یا واقعے کی شہرت اس درجے کی ہوتی ہے کہ اس کی نسبت یہ باور کیا جاتا ہے کہ اس سے مخاطب باخبر ہیں یا انہیں باخبر ہیں یا انہیں باخبر ہونا چاہئے۔ یا متکلم کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ واقعے کی صداقت ایسی مسلم ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
الفاظ ’ موت وحیات ‘ کا مفہوم : موت کے لفظ پر اسی سورة کی آیت 56 کے تحت ہم لک چکے ہیں کہ قرآن میں یہ لفظ جس طرح زندگی کے فنا ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے اسی طرح نیند، بےہوشی اور اخلاقی و ایمانی موت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ وہاں ہم نے لسان العرب کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں قرآن کے بعض نظائر ملاحظہ ہوں اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا : اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی نیند کے وقت (زمر) ، ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ : پھر ہم نے تمہاری بےہوشی کے بعد تم کو اٹھایا تاکہ تم شکر کرو۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ : تم اپنی دعوت مردہ دلوں اور بہروں کو نہیں سنا سکتے (نمل :80)۔ أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ : کیا وہ جو مردہ دل تھا تو ہم نے اس کو حیات ایمانی بخشی اور اس کو نور ہدایت عطا کیا جس کو لے کر لوگوں کے درمیان چلتا ہے (انعام :122)۔
اسی طرح حیات کا لفظ بھی مادی زندگی سے لے کر نیند سے بیداری اور ایمانی و اخلاقی زندگی تک سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ایک واضح نظیر تو انعام کی مقدم الذکر آیت ہی میں موجود ہے۔ دوسری واضح تر نظیر انفال سے ملاحظہ ہو۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ؛ اللہ اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو جب کہ تمہیں بلاتا ہے اس چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے (انفال : 24)۔
الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ کے واقعہ کا مصداق : اس آیت میں جس واقعے کی طرف اشارہ ہے اس کا تعلق بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس دور سے ہے جس کا ذکر صحیفہ سموئیل میں ہے۔ سموئیل نبی کے ظہور کے ابتدائی دور میں بنی اسرائیل سخت انتشار میں مبتلا تھے، اگرچہ تعداد کے لحاظ سے یہ اس وقت تین لاکھ سے زیادہ تھے، جیسا کہ سموئیل میں تصریح ہے، لیکن بدعات اور شرک کے غلبے کی وجہ سے ان کی مذہبی و اخلاقی حالت بھی بڑی خراب تھی اور اجتماعی تنظیم مفقود ہونے کی وجہ سے سیاسی حالت بھی بڑی ابتر تھی۔ ہر طرف سے دشمنوں کی یورش تھی اور یہ ان سے اس قدر مرعوب اور دہشت زدہ تھے کہ کسی سے مقابلے کی ہمت اپنے اندر نہیں پا رہے تھے۔ خاص طور پر فلسطینیوں نے ان کو بری طرح مرعوب کرلیا تھا۔ انہوں نے ان پر چڑھائی کر کے ان کا قتل عام بھی کیا اور اور ان سے خدا کا وہ صندوق بھی چھین لے گئے جس کی حیثیت ان کے ہاں بالکل قبلہ کی تھی، جس کو وہ اپنی تمام عبادات اور تمام مہمات میں آگے آگے رکھتے تھے۔ ان کے ڈر سے بنی اسرائیل نے اپنے عقرون سے لے کر جات تک کے سارے شہر بھی خالی کردئیے تھے۔ خوف و بزدلی کی یہ موت ان پر بیس بر طاری رہی۔ اس کے بعد سموئیل نبی نے ان کے اندر اصلاح و تجدید کا کام شروع کیا، ان کو شرک و بدعت سے توبہ کرنے اور اپنے انتشار کو دور کر کے از سرِ نو منظم و متحد ہونے کی دعوت دی۔ ان کی اس دعوت کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی بخشی اور اس طرح بنی اسرائیل میں بیس سال کی مردنی کے بعد از سرِ نو ایمانی و سیاسی زندگی کی حرکت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ہوئے کہ فلسطینیوں کے مقابل میں کھڑے ہوسکیں اور اپنے ان شہروں کو ان سے واپس لے سکیں جن کو خود خالی کر کے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
سموئیل باب 11:9، سموئیل باب 7 : 14۔ سموئیل باب 7 : 2
سموئیل میں یہ داستان بہت پھیلی ہوئی ہے۔ ہم اس کے کچھ ضروری حصے یہاں نقل کرتے ہیں جن سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوئی ہے جو ہم نے اوپر پیش کیا ہے۔
فلسطینیوں سے بنی اسرائیل کی مرعوبیت، ان کے ہاتھوں ان کے قتل عام اور خدا کے صندوق کے چھن جانے کا ذکر اس طرح ہوا۔
“ اور فلستی لڑے اور بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا اور وہاں نہایت بڑی خونریزی ہوئی کیونکہ تیس ہزار اسرائیلی پیادے وہاں کھیت آئے اور خدا کا صندوق چھن گیا ”(سموئیل باب 4۔ 10-11)
خدا کے صندوق کے چھن جانے کا جو اثر بنی اسرائیل پر پڑا اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔
“ اس خبر لانے والے نے جواب دیا اسرائیلی فلستیوں کے آگے سے بھاگے سے بھاگے اور لوگو میں بڑی خونریزی ہوئی اور تیرے دونوں بیٹے حفتی اور فیخ اس بھی مرگئے اور خدا کا صندوق چھن گیا۔ جب اس نے خدا کے صندوق کا ذکر کیا تو وہ کرسی پر سے پچھاڑ کھا کر پھاٹک کے کنارے گرا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔۔۔ اور کہنے لگی کہ حشمت اسرائیل سے جاتی رہی اس لیے کہ خدا کا صندوق چھن گیا تھا اور اس کا خسر اور خاوند جاتے رہے تھے سو اس نے کہا کہ حشمت اسرائیل سے جاتی رہی کیونکہ خدا کا صندوق چھن گیا ہے ”(سموئیل باب 4۔ 17 : 22)۔
اس حادثہ کے بعد بنی اسرائیل پر پورے بیس سال تک خوف و بزدلی اور نوحہ و ماتم کی جو مردنی طاری رہی اور پھر سموئیل نبی نے ان کے اندر اصلاح و تجدید کی جو دعوت بلند کی اس کا ذکر اس طرح آتا ہے۔
“ اور جس دن سے صندوق قریت یعریم میں رہا تب سے ایک مدت ہوگئی یعنی بیس برس گزرے اور اسرائیل کا سارا گھرانا خداوند کے پیچھے نوحہ کرتا رہا اور سموئیل نے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں اور عتارات کو دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ پھر سموئیل نے کہا کہ سب اسرائیل کو مصفاہ میں جمع کرو اور میں تمہارے لیے خداوند سے دعا کروں گا ”(سموئیل باب 7۔ 2-6)۔
اس اجتماعی توبہ و استغفار اور تنظیم و اتحاد کے بعد بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلستیوں کے مقابل میں کھڑے ہوسکیں اور ان کو شکست دے کر ان سے اپنے چھنے ہوئے شہر اور ساتھ ہی اپنی چھنی ہوئی حشمت واپس لے سکیں۔ بنی اسرائیل کی اس نئی زندگی کا ذکر اس طرح آتا ہے۔
“ اور سموئیل بنی اسرائیل کے لیے خداوند کے حضور فریاد کرتا رہا اور خداوند نے اس کی سنی اور جس وقت سموئیل اس سوختی قربانی کو گزران رہا تھا اس وقت فلستی اسرائیلیوں سے جنگ کرنے کو نزدیک آئے لیکن خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا اور انہوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی اور اسرائیل کے لوگوں نے مصفاہ سے نکل کر فلستیوں کو رگیدا اور بیت کر کے نیچے تک انہیں مارتے چلے گئے۔ سو فلستی مغلوب ہوئے اور اسرائیل کی سرحد میں پھر نہ آئے اور سموئیل کی زندگی بھر خداوند کا ہاتھ فلستیوں کے خلاف رہا اور عقرون سے جات تک شہر جن کو فلستیوں نے اسرائیلیوں سے لے لیا تھا وہ پھر اسرائیلیوں کے قبضہ میں آئے اور اسرائیلیوں نے ان کی نواحی بھی فلستیوں کے ہاتھ سے چھڑا لی ”(سموئیل باب 7۔ 10-14)۔
ہمارے نزدیک تاریخ بنی اسرائیل کا یہی جزو ہے جس کی طرف آیت زیر بحث میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جب انہوں نے خوف اور بزدلی کی زندگی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ایمانی و اخلاقی موت کے حوالہ کردیا جس کی تعبیر“ موتوا ”سے فرمائی ہے۔ یہ معاملہ ٹھیک ٹھیک اس سنت اللہ کے مطابق ہوا جس کی طرف“ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم ”میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی جب انہوں نے گمراہی پسند کی تو اللہ نے ان کو گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھور دیا۔ پھر جب ان کے اندر تجدید و احیائے ملت کی دعوت اٹھی اور انہوں نے از سرِ نو ایمان واسلام کی حیات تازہ اختیار کرلینے کا عزم کرلیا تو اللہ نے ان کو از سرِ نو زندہ و متحرک کردیا۔ اسی چیز کو یہاں ثُمَّ اَحْيَاھُمْ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اسی اصول پر ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے لیے ذلت و نامرادی کو پسند کرتی ہے تو خدا اس کو ذلت و نامرادی کے حوالہ کردیتا ہے اور اگر کوئی قوم عروج و سربلندی کی طالب ہوتی ہے اور اس طلب کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کرنے کی ہمت دکھاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عزت و سربلندی بخشتا ہے اور یہ مرتبہ دے کر اس کا امتحان کرتا ہے۔
واقعہ کے ذکر کا مقصد : اس واقعہ کے ذکر سے مقصد مسلمانوں خصوصاً کمزور مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد و انفاق پر ابھارنا ہے۔ گویا یہ اس مضمون کی تمہید ہے جو آگے کی آیات میں بیان ہوا ہے۔ ہم تمہید والی فصل میں اشارہ کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بھی ان کے قبلہ کی جنگ سے متعلق ہے اور مسلمانوں کو بھی یہاں جس جنگ اور جس انفاق کے لیے ابھارا جا رہا ہے اس کا تعلق اصلاً قبلہ ہی کی آزادی سے ہے۔ دونوں میں نہایت واضح قدِ مشترک موجود ہے۔ گویا مسلمانوں کے سامنے بھی اس وقت زندگی اور موت دونوں کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ اگر وہ موت سے ڈر گئے تو یاد رکھیں کہ ان کو موت سے کوئی چیز بھی بچا نہ سکے گی۔ ان کے اوپر ذلت و خواری اور نفاق کی موت طاری ہو کر رہے گی اور اگر وہ موت سے بےپروا ہو کر زندگی کی راہ پر بڑھنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ ان کو دنیا میں ایمان واسلام کی باعظمت زندگی اور آخرت میں فوز و فلاح کی حیات جاوداں سے سرفراز فرمائے گا۔
Ayah 2:244جہاد کے لیے دو محرک : اوپر کی تاریخی تمہید کے بعد یہ مسلمانوں کو جنگ پر ابھارا ہے، اور اس ابھارنے کے لیے دو محرک یہاں نمایاں فرمائے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ جنگ اللہ کی راہ میں ہے، نفس یا شیطان کی راہ میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس میں ہر قدم پر بندے کو اللہ کی معیت حاصل ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے، تمہاری جانبازیاں اور قربانیاں، تمہاری دعائیں اور فریادیں، تمہارے دشمنوں کی چالیں اور تدبیریں سب اس کے علم میں ہیں اس وجہ سے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ، (مصرع) مرگئے ہم انہیں خبر نہ ہوئی۔
ظاہر ہے کہ ان صفات کا حوالہ دینے سے مقصود یہاں اس کا لازم ہے یعنی جب اللہ سنتا اور جانتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمہاری پکار پر تمہاری مدد و نصرت فرمائے گا اور تمہاری جانبازیوں کا تمہیں بھر پور صلہ دے گا۔
Ayah 2:245انفاق کے لیے قرض کی تعبیر : جانی قربانی کی دعوت کے بعد یہ مالی قربانی کی دعوت ہے اور اس کے لیے جو اسلوب اختیار فرمایا ہے وہ غایت درجہ مؤثر ہے۔ اول تو سوال کا یہ انداز ہی کہ“ کون ہے جو خدا کو قرض دینے کے لیے آگے بڑھتا ہے ”غایت درجہ شوق انگیز ہے، پھر یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کنے کو ‘ قرض دینے ’ سے تعبیر فرمایا ہے۔ قرض، قرضدار کے ذمہ واجب ہوتا ہے اور یہ رب کریم کا کتنا بڑا احسان ہے کہ جو مال اس نے خود بندوں کو عنایت فرمایا ہے وہی مال وہ جب ان سے اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو اس کو اپنے ذمہ قرض ٹھہراتا ہے یعنی اس کی واپسی از خود اپنے ذمہ واجب قرار دیتا ہے۔ پھر اس سے زیادہ روح و دل کو بےخود کردینے والی بات یہ ارشاد ہوئی ہے کہ رب کریم یہ قرض اس لیے مانگتا ہے کہ وہ بندوں کے دئیے ہوئے خزف ریزوں کو خوب بڑھائے اور ان کو بڑھا کر ایک لازوال خزانہ کی شکل میں ان کو واپس کرے۔ یعنی اس قرض کی ضرورت اس لیے نہیں پیش آئی ہے کہ خدا کے خزانے میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے، اس کا خزانہ بھرپور اور وہ بالکل بےنیز و بےپروا ہے، البتہ اس کی کریمی نے اپنے بندوں کے لیے نفع کمانے کی یہ راہ کھولی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ایک خرچ کر کے دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک اس کا اجر حاصل کرلیں۔
‘ قرض حسن ’ کا مفہوم : اس قرض کے متعلق شرط صرف ایک لگائی ہے۔ وہ یہ کہ یہ قرض ‘ قرض حسن ’ ہو۔ قرض حسن کا مفہوم قرا ان کے دوسرے مواقع سے جو نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ دل کی تنگی کے ساتھ محض چھدا اتارنے کے لیے نہ دیا جائے بلکہ پوری فراخدلی اور حوصلے کے ساتھ دیا جائے، ریا اور نمائش کے لیے نہ دیا جائے بلکہ صرف خدا کی خوشنودی کے لیے دیا جائے، کسی دنیوی طمع کے حصول کی غرض سامنے رکھ کر نہ دیا جائے بلکہ صرف آخرت کے اجر کی خاطر دیا جائے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیر، کم وقعت اور ناجائز ذرائع سے حاصل کیے ہوئے مال میں سے نہ دیا جائے بلکہ محبوب، عزیز اور پاکیزہ کمائی میں سے دیا جائے۔ اسی سورة میں آگے بھی ان باتوں کی وضاحت ہوگی اور احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
آخر میں اصل نکتے کی بات فرما دی کہ تنگی اور کشادگی کا انحصار آدمی کی اپنی تدبیروں پر نہیں ہے بلکہ یہ چیز خدا کے اختیار میں ہے اس وجہ سے اگر وہ اپنا مال خدا سے بچاتا اور چھپاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اسی سے چھپاتا ہے جس کے اختیار میں بخشنے کے بعد چھین لینا بھی ہے۔
۠وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ میں یہ پہلو بھی ہے کہ آج خدا سے منہ چھپانے والے اس بات کو نہ بھولیں کہ کل ان کو خدا منہ دکھانا بھی ہے۔ اور یہ پہلو بھی ہے کہ جس دنیا کی زندگی کے لیے یہ خدا سے بخالت کر رہے ہیں یہ زندگی تو چند روزہ ہے، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جس کے لیے اصلی فکر ہونی چاہئے۔
Ayah 2:246لفظ ‘ ملا ’ کا اصل لغوی مفہوم بھرنا ہے۔ اپنے اسی مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی قوم کے اشراف و اعیان اور اکابر و سادات کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی ہوگی کہ قوم کے اعیان و اشراف ہی ہوتے ہیں جو اس کی چوپایوں، پنچایتوں مجلسوں، کونسلوں اور اس کے درباروں کو پر کرتے ہیں۔
‘ ملک ’ کا مفہوم :‘ ملک ’ کے معنی صاحب اختیار و اقتدار کے ہیں۔ یہ اختیار و اقتدار مطلق قسم کا بھی ہوسکتا ہے جس طرح کا اختیار واقتدار کسی جبار و مطلق العنان بادشاہ کو حاصل ہوتا ہے اور محدود و مقید قسم کا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ ایک پابند آئیں و قانون یا پابند شریعت بادشاہ کو یا کسی امیر لشکر یا سبپ سالار کو حاصل ہوتا ہے۔ قرا ان میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس لیے کہ اس کے تقرر کے لیے بنی ارائیل کے اعیان نے درخواست اس زمانے کے نبی (سموئیل) سے کی اور انہی کے تقرر سے اس کا تقرر ہوا اور توریت کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہی کی ہدایات کے تحت اور انہی کی دعاؤ کے زیر اثر وہ اپنے سارے فرائض انجام دیتا تھا۔ قرآن نے یہ لفظ مدح و ذم دونوں کے محل میں استعمال کیا ہے۔ ایک بادشاہ وہ بھی تھا جس نے حضرت ابراہیم سے حجت کی اور جس نے زندگی اور موت دونوں پر اختیار کا دعوی کیا۔ قرآن نے اس کی مذمت کی۔ اس کے برعکس ذو القرنین، حضرت داود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) بھی بادشاہ ہیں لیکن قرآن نے ان کی تعریف فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک سیاسی نظام میں اصل اہمیت اس کی صورت کی نہیں بلکہ اس کی روح کی ہے۔ اگر اس کی روح خدا اور اس کے رسول کے قانون کے تابع ہے تو وہ قابل ستائش ہے، اس کی شکل کچھ بھی ہو۔ اگر روح خدا اور رسول کی باغ ہے تو وہ قابل مذمت ہے عام اس سے کہ وہ ملوکیت ہو یا جمہوریت۔
سموئیل باب 10۔ 25۔
آیت 246 کی تعلیم اور واقعہ کی نوعیت : جس طرح اوپر کی آیت میں بنی اسرائیل کی ایمانی و اخلاقی موت وحیات کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر کے مسلمانوں کو زندگی کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ زندگی خدا کی راہ میں جان اور مال کی قربانی سے حاصل ہوتی ہے، اسی طرح اس آیت میں اور آگے کی چند آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے اسی سلسلے کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کر کے مسلمانوں کو اجتماعی و سیاسی زندگی سے متعلق بعض نہایت اہم سبق دیے گئے ہیں۔
زیر بحث آیت میں جس واقعے کی طرف اشارہ ہے اس کی تفصیل تورات کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے کہ سموئیل نبی نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا جو کام شروع کیا اس سے بنی اسرائیل کے انر کچھ زندگی تو پیدا ہوئی اور وہ فلستیوں کے مقابل میں کھڑے ہونے اور ان سے اپنے بعض چھنے ہوئے شہر واپس لینے میں کامیاب ہوئے لیکن بنی اسرائیل ہر طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے، ان کے بہت سے شہر اب بھی مخالفوں کے قبضے میں تھے، فلستیوں کے علاوہ موآب، بنی عمون، ادوم اور ضوباہ کے بادشاہوں سے بھی ہر وقت ان کو خطرہ تھا، پھر سموئیل نبی بوڑھے ہوچکے تھے اور انہوں نے بنی اسرائیل کی قیادت و تنظیم کی جو ذمہ داریاں اپنے بیٹوں کے سپرد کی تھیں وہ ان کو بنی اسرائیل کی توقع کے مطابق نہیں نباہ رہے تھے اس وجہ سے انہوں نے سموئیل سے یہ درخواست کی کہ وہ ان کی قیادت کے لیے کسیا میر کو مامور کریں تاکہ وہ اس کی سربراہی میں جہاد کرسکیں اور اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ (ملاحظہ ہو سموئیل باب 8)۔
سموئیل نبی کا زمانہ 889 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔
سموئیل اپنے تجربات کی بنا پر جانتے تھے کہ بنی اسرائیل کی اصلی کمزوری یہ نہیں ہے کہ میدان جنگ میں رہنمائی کرنے والا ان کے پاس کوئی لیڈر نہیں ہے بلکہ ان کی اصلی کمزوری یہ ہے کہ جنگ کے خطرات کا مقابہ کرنے کے لیے ان کے اندر عزم و ایمان نہیں ہے اس وجہ سے انہوں نے، جیسا کہ تورات سے واضح ہوتا ہے، ان کے اس مطالبے کی مخالفت کی اور ان کی اصلی کمزوری کی طرف توجہ دلائی کہ ایسا تو نہیں ہوگا کہ جہاد بھی فرض ہوجائے اور امیر بھی مقرر ہوجائے لیکن پھر تم جہاد سے انکار کردو۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش و جذبے کا اظہار کیا کہ ہم اپنے گھروں اور بیوی بچوں سے نکالے گئے ہیں، اگر اب بھی ہم جنگ نہ کریں گے تو پھر کب کریں گے، لیکن سموئیل کا اندازہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ان کی قیادت کے لیے امیر بھی مقرر کردیا اور جہاد کا حکم بھی دے دیا لیکن بنی اسرائیل نے حسب عادت عین وقت پر کندھا ڈال دیا۔ آگے کی تفصیلات سے معلوم ہوگا کہ اول تو انہیں منتخب سردار کی سرداری ہی پر اعتراض ہوا، پھر جب بادل ناخواستہ اس کی فوج میں بھرتی ہوئے بھی تو پہلے امتحان میں پھسڈی ثابت ہوئے۔
وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ (اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے) سے مراد اس کا لازمی نتیجہ ہے یعنی جب خدا خوب جانتا ہے تو ان کے ساتھ معاملہ بھی اپنے علم کے مطابق ہی کرے گا۔
Ayah 2:247لفظ ‘ بعد ’ کا مفہوم :‘ بعث ’ کے معنی اتھانے، ابھارنے، بھیجنے کے ہیں پھر اسی مفہوم سے اس کے اندر مامور کرنے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ چونکہ اس سارہ کا انتخاب سموئیل نے خدا کی ہدایت کے مطابق کیا تھا، جیسا کہ تورات سے بھی ثابت ہے اور قرآن کے الفاظ ‘ اصطفہ علیکم ’ سے بھی واضح ہے، اس وجہ سے اس کے لیے بعث کا لفظ استعمال ہوا۔
طالوت اور ساؤل :“ طالوت ”یہ اس مامور کا نام ہے۔ تورات میں ان کا نام ساؤل آیا ہے۔ اور ان کے غیر معمولی طور پر قد آور ہونے کا ذکر خاص طور پر ہوا ہے۔“ اور جب وہ لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا تو ایسا قد آور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے۔ کچھ بعید نہیں کہ اپنے اس غیر معمولی قد و قامت کی وجہ سے وہ لوگوں میں اس لقب سے بھی مشہور رہے ہوں۔ طالوت کے معنی“ لمبے تڑنگے ”کے ہیں۔ عربی اور عبرانی دونوں زبانیں قریب قریب ہیں اس وجہ سے دونوں میں بہت سے مادے مشترک ہیں۔ گمان ہوتا ہے کہ تورات نے ان کا ذکر نما سے کیا ہے اور قرآن نے لقب سے۔ ورنہ پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ان کے نام کے بارے میں تورات کا بیان غلط ہے، اصل نام طالوت ہی ہے۔ قرآن نے یہاں بعض دوسرے واقعات کے بارے میں بھی تورات کے بیانات کی تردید کی ہے۔ آگے ہم ان کی طرف اشارہ کریں گے اور یہ بھی واضح کریں گے کہ اس طرح کے اختلافات کی صورت میں قرآن کا بیان کیوں قابل ترجیح ہے۔
طالوت کا انتخاب اور اس پر بنی اسرائیل کا اعتراض : بنی اسرائیل کے اپنے مطالبے پر جب سموئیل نے ایک سالار کا انتخاب کیا اور اس کو ان کے سامنے پیش کیا تو بجائے اس کے کہ خوشی سے اس کو قبول کرتے انہوں نے حسب عادت اس انتخاب پر اعتراض کردیا کہ بھلا یہ ہمارا سردار کیسے ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ حق دار تو ہم اس منصب کے ہیں ؟ اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ طالوت کوئی مال دار آدمی نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں طالوت بنیامین کے قبیلہ سے تھے، بنیامین کا قبیلہ اول تو بنی اسرائیل کے تمام قبیلوں میں سب سے چھوٹا قبیلہ تھا پھر طالوت اس قبیلے کے تمام گھرانوں میں سب سے چھوٹے گھرانے سے تھے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت کو اپنے قبیلے کی کمزوری کا خود بھی احساس تھا۔ چناچہ جب سموئیل نے ان کے انتخاب کا ان سے ذکر کیا تو انہوں نے بڑی خاکساری کے ساتھ یہ الفاظ کہے۔
“ ساؤل نے جواب دیا کیا میں بنیمینی یعنی اسرائیل کے سب سے چھوٹے قبیلے س نہیں ؟ اور کیا میرا گھرانا بنیمین کے قبیلہ کے سب گھرانوں میں سب سے چھوٹا نہیں ”
ظاہر ہے کہ مالی اور عددی دونوں ہی اعتبار سے ایک کمزور آدمی کو بنی اسرائیل کے وہ قبیلے کس طرح خاطر میں لا سکتے تھے جن کو اپنی مضبوط عصبیت اور اپنی مالی برتری کا گھمنڈ تھا چناچہ انہوں نے اس انتخاب پر اعتراض کردیا۔ تورات میں اس کی طرف اشارہ ہے۔“ پر شریروں میں سے بعض کہنے لگے کہ یہ شخص ہم کو کس طرح بچائے گا، سو انہوں نے اس کی تحقیر کی اور اس کے لیے نذرانے نہ لائے پر وہ ان سنی کر گیا ”
(سموئیل باب 10۔ 24، سموئیل باب 9۔ 21، سموئیل باب 10۔ 17)
اعتراض کا جواب : اس اعتراض کا جواب سموئیل نبی نے یہ دیا کہ یہ انتخاب خدا کا انتخاب ہے۔ اسی نے اس کو تمہاری سرداری کے لیے چنا ہے۔ تم سرداری کو تعداد اور مال کے پیمانوں سے تولتے اور ناپتے ہو لیکن خدا علم اور عمل کے پیمانے سے ناپتا ہے۔ طالوت کے پاس اگرچہ خاندان کی شوکت اور مال کی فراوانی نہیں ہے لیکن علم کی وسعت اور عمل کی قوتوں سے وہ بھرپور ہے اور خدا کے انتخاب میں اصلی اہمیت انہی چیزوں کو حاصل ہے نہ کہ خاندان اور مال کو۔
اس کے بعد فرمایا کہ اقتدار و اختیار خدا کی دین ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جس کو بخشتا ہے اپنی حکمت کے تقاضوں کے تحت بخشتا ہے۔ اس کا اقتدار تمام اقتداروں کو محیط ہے اور اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس کے پاس نہ بخشنے کے لیے کمی ہے، نہ بخش کر واپس لینے میں کوئی مانع ہے، نہ کسی معاملے کے ظاہر و باطن یا اس کے ماضٰ و مستقبل کا کوئی گشہ اس سے مخفی ہے۔
وَاسِعٌ عَلِيْمٌ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم ہر معاملے کو اپنی تنگ اور محدود نگاہوں سے دیکھتے ہو لیکن خدا اپنے فیصلے اپنی قدرت اور اپنے علم کی روشنی میں صادر فرماتا ہے۔
Ayah 2:248‘ تابوت ’ کی حقیقت :‘ تابوت ’ کے معنی صندوق کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد بنی اسرائیل کا وہ صندوق ہے جس کو تورات میں ‘ خدا کا صندوق ’ یا ‘ خدا کے عہد کا صندوق ’ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے زمانے سے لے کر بیت المقدس کی تعمیر تک اسی صندوق کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت حاصل رہی۔ وہ اس کو اپنے خیمہ عبادت میں ایک مخصوص مقام پر نہایت مخصوص اہتمام کے ساتھ پردوں کے بیچ میں رکھتے اور تمام دعا و عبادت میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے۔ ان کے رِبّی اور کاہن غیبی رہنمائی کے لیے بھی اسی کو مرجع بناتے۔ مشکل حالات، قومی مصائب اور جنگ کے میدانوں میں بھی بنی اسرائیل کا حوصلہ قائم رکھنے میں اس صندوق کو سب سے بڑے عامل کی حیثیت حاصل رہی۔ حضرت موسیٰ کے زمانے تک تو اس میں تورات اور صحرا کی زندگی کے دور کی بعض یادگاریں محفوظ کی گئیں لیکن پھر اس میں حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور ان کے خدانان کے بعض اور تبرکات بھی محفوظ کردئیے گئے۔
“ سکینۃ ”کے معنی اطمینان، قرار اور حوصلہ کے ہیں، بالخصوص وہ اطمینان و حوصلہ جو پر خطر حالات اور جنگ کے مصائب میں آدمی کے عزم کو قائم رکھے۔ مثلا هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا : وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں عزم و اطمینان اتارا تاکہ وہ اپنے ایمان میں اضافہ کریں (الفتح :4)۔ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا : تو ان کے دلوں میں جو کمزوری تھی اللہ نے اس کو جان لیا پس ان پر عزم و اطمینان اتارا اور ایک فوری فتح سے ان کو نوازا (فتح :18)۔ اس تابوت کے ساتھ بنی اسرائیل کو جو والہانہ عقیدت تھی اس کا ایک خاص پہلو، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ بھی تھا کہ مصائب و مشکلات اور میدانِ جنگ میں ان کے حوصلے (MORALE) کو قائم رکھنے میں اس کو سب سے زیادہ دخل تھا۔ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ سے اس کے اسی خاص پہلو کی طرف آرہا ہے۔
تابوت کی بنی اسرائیل میں واپسی : اوپر فلسطیوں کے ہاتھوں اس تابوت کے چھینے جانے کا ذکر ہم کرچکے ہیں اور یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ اس کے چھن جانے کو بنی اسرائیل کے بزرگوں نے اسرائیل سے ساری حشمت کے چھن جانے سے تعبیر کیا اور ساری قوم نے اس عظیم حادثے پر ماتم کیا۔ چناچہ اس دور میں بنی اسرائیل کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اس تابوت کو اپنے دشمنوں سے واپس لینے کا تھا۔ اسی بنا پر سموئیل نے طالوت کے انتخاب کے خدائی انتخاب ہونے کی یہ نشانی ٹھہرائی کہ اس کے بعد تابوت تمہارے پاس فرشتوں کی مدد سے آپ سے آپ آجائے گا۔ چناچہ ان کی یہ پیشنگوئی پوری ہوئی اور فلسطیوں نے اس صندوق کو ایک گاڑی پر رکھ کر اس کو بنی اسرائیل کے علاقے کی طرف ہاند دیا۔ سموئیل میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔
“ اب تم ایک نئی گاڑی بناؤ اور دو دودھ والی گائیں، جن کے جواں نہ لگا ہو، لو، اور ان گایوں کو گاڑی میں جو تو اور ان کے بچوں کو گھر لوٹاؤ اور خداوند کا صندوق لے کر اس گاری پر رکھو اور سونے کی چیزوں کو جن کو تم جرم کی قربانی کے طور پر ساتھ کروگے، ایک صندوقچہ میں کر کے اس کے پہلو میں رکھ دو اور اسے روانہ کردو کہ چلا جائے اور دیکھتے رہنا۔ سو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور دودھ والی گائیں لے کر ان کو گاڑی میں جوتا اور ان کے بچوں کو گھر میں بند کردیا اور خداوند کے صندوق۔ اور صندوقچہ کو گاڑی پر رکھ کردیا۔ ان گایوں نے بیت شمس کا سیدھا راستہ لیا۔ وہ سڑک ہی سرک ڈکارتی گئیں اور داہنے یا بائیں ہاتھ نہ مڑیں اور فلستی سردار بیت شمس کی سرحد تک ان کے ساتھ گئے اور بیت شمس کے لوگ وادی میں گیہوں کی فصل کاٹ رہے تھے انہوں نے جو آنکھیں اٹھائیں تو صندوق کو دیکھا اور دیکھتے ہوئے خوش ہوگئے۔ ”(سموئیل باب 6۔ 7-12)۔
تابوت کی گاڑی کا بغیر کسی گاریبان اور بغیر کسی محافظ کے اور وہ بھی دو ایسی گایوں کے ذریعے سے جن کے دودھ پیتے بچے گھروں پر روک لیے گئے تھے، اس طرح بغیر داہنے بائیں ڑے ٹھیک منزل پہنچ جانا ایک ایسا واقعہ ہے جو کروبیوں کی رہنمائی اور فرشتوں کی مدد ہی سے ہوسکتا ہے۔ اسی چیز کو“ تحملہ الملائکۃ ”کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
تابوت کی واپسی سے متعلق تورات اور قرآن کے بیانات کا اختلاف : تابوت کی واپسی سے متعلق تورات اور قرآن کے بیان میں بڑا فرق ہے۔ قرآن کی زیر بحث آیت سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی واپسی کا واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب طالوت کا خدا کے مقرر کردہ بادشاہ کی حیثیت سے اعلان ہوا ہے اور یہ واقعہ گویا ایک نشان تھا اس بات کہ طالوت کا انتخاب من جانب اللہ ہے، سموئیل نے خدا کے حکم سے ان کو مسح کر کے برکت دی ہے اور ان کا تقرر بنی اسرائیل میں ایک نئے دور خیر و برکت اور ایک جدید تاریخ کامیابی و فتحمندی کا آغاز ہے۔
اس کے بالکل برعکست تورات کا بیان یہ ہے کہ اس سے بہت پہلے ہی تابوت کو ایک گاڑی پر رکھ کر، جیسا کہ اوپر کے حوالے میں تصریح ہے، فلسطیوں نے گاڑی بنی اسرائیل کے علاقہ کی طرف ہاند دی تھی۔ اور تابوت پوری حفاظت کے ساتھ ان کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اس طرح واپس کرنے کی وجہ تورات میں یہ بیان ہوئی ہے کہ فلسطینی تابوت چھین لے جانے کو تو چھین لے گئے لیکن وہ ان کے لیے مصیبت بن گیا، انہوں نے اس کو جہاں جہاں رکھا وہاں مختل قسم کی وبائیں پھوٹ پڑیں جس سے ان کے ہزاروں آدمی مر گئے بالآخر اس سے تنگ آ کر انہوں نے سات ماہ کے بعد اپنے نجومیوں کے مشورے سے اس سے نجات حاصل کرنے کی وہ تدبیر اختیار کی جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا۔
قرآن کے بیان کے صحیح ہونے کے وجوہ : اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں بیانوں میں سے کون سا بیان روایت اور درایت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے، ہمارے نزدیک مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر قرآن کا بیان صحیح اور تورات کا بیان غلط ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ ان واقعات کے بیان کے خاتمہ پر قرآن نے یہ کہا ہے کہ تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۭ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور بےتم اللہ کے رسولوں میں سے ہو (بقرہ :252)۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ امر یہاں قرآن کے پیش نظر ہے کہ یہ واقعہ جس شکل میں وہ پیش کر رہا ہے وہ تورات کے بیان سے مختلف ہے لیکن واقعہ کی صحیح شکل وہی ہے جس شکل میں اس کو قرآن پیش کر رہا ہے نہ کہ جس شکل میں اس کو تورات پیش کر رہی ہے۔ اور پھر اس چیز کو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی ایک دلیل قرار دیا ہے کہ قدیم آسمانی صحیفوں کی جن سرگزشتوں کے جاننے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ان کو اس صحت کے ساتھ پیش کرنا کہ یہ سرگزشتیں محض بےمقصد داستان سرائی کے بجائے اپنے منطقی ربط و تسلسل اور اپنے حکیمانہ ثمرات و نتائج کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئیں بغیر اس کے ممکن نہیں ہوا کہ اللہ نے تم کو اپنا رسول بنایا اور ان باتوں سے تمہیں اپنی وحی کے ذریعہ سے آگاہ فرمایا۔
ایک ہٹ دھرم یہ کہہ سکتا ہے کہ ان واقعات کے پیش کرنے میں قرآن کا بیان تورات کے بیان سے مختلف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تورات کا براہ راست کوئی علم نہیں تھا، وہ نعوذ باللہ سنی سنائی باتیں پیش کرتے تھے اس وجہ سے ان کا بیان تورات سے مختلف ہوتا تھا۔ لیکن یہ کہنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ اول تو جو سنی سنائی بات کہتا ہے اس کی بات عام اور مشہور روایت کے مطابق ہوتی ہے، نہ کہ اس سے بالکل مختلف، دوسرے یہ کہ جو شخص سنی سنائی بات نقل کرتا ہے وہ کبھی پورے جزم و یقین کے ساتھ یہ دعوی نہیں کرتا کہ فلاں بات جو تم کہہ رہے ہو یوں نہیں بلکہ یوں ہے۔ یہ انداز تو وہی اختیار کرتا ہے اور وہی اختیار کرسکتا ہے جو پورے علم و بصیرت کے ساتھ ایک بات کو جانتا ہو اور چیلنج دے کر اس پر تنقید یا اس کی تصحیح کرنا چاہتا ہو۔ یہاں صاف نظر آتا ہے کہ صورت معاملہ یہی ہے۔ قرآن نے ساؤل کے نام کی بھی تصحیح کی، تابوت کی واپسی کے واقعہ کو بھ اس کے اصلی رنگ میں پیش کیا اور آپ دیکھیں گے کہ نہر والے امتحان کے صحیح موقع و محل کو بھی معین کیا اور پھر کہا کہ حق یہ ہے جو قرآن میں بیان ہو رہا ہے نہ کہ وہ جو تورات میں بیان ہوا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ عقل اور منطق کی رو سے بھی وہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ تورات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تابوت کی واپسی تمام تر نتیجہ تھی ان کرامات کا جو خود تابوت سے ظاہر ہوئیں۔ فلسطینی اس کے لے جانے کے بعد سے برابر آفات و مصائب کے ہدف بن گئے۔ انہوں نے ان آفات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہتری اسی میں دیکھی کہ یہ جن کی چیز ہے ان کے حوالہ کریں۔ چناچہ انہوں نے اپنی جان چھڑانے کی وہ شکل اختیار کی جو اوپر بیان ہوئی۔ بنی اسرائیل جیسی ضعیف الاعتقاد اور کرامات پرست قوم کے ذہن سے یہ بات چونکہ بہت قریب تھی اس وجہ سے انہوں نے اس کو گھڑ بھی لیا اور پھر اس عوام پسند روایت کو تورات میں داخل بھی کردیا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے بڑے واقعات کسی قوم کی زندگی میں محض بچوں کے کھیل کی طرح ہوجایا کرتے ہیں ؟ تابوت کی حیثیت بنی اسرائیل کے قبلہ کی تھی، نہ اس کا چھن جانا کوئی اتفاقی حادثہ ہوسکتا نہ اس کا واپس ہونا کوئی معمولی واقعہ ہوسکتا۔ اس طرح کا حادثہ پیش آیا تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل اس وقت ایسی عملی واعتقادی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے ہوں جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اس سزا کے مستحق قرار پائے ہوں۔ اور اگر وہ اس کے واپس لینے میں کامیاب ہوئے تو اس کی راہ بھی اس طرح کھلی ہوگی کہ انہوں نے اپنے حالات و معاملات کی ایسی اصلاح کی ہو کہ خدا کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی ہو اور ان کے دشمن ان سے مرعوب ہوئے ہوں۔
تورات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں قبلہ کے چھن جانے کا واقعہ پیش آیا ہے اس زمانے میں بنی اسرائیل اعتقادی و عملی اعتبار سے بھی بالکل تباہ حال تھے اور سیاسی اعتبار سے بھی سخت پراگندگی اور انتشار میں مبتلا تھے ہم اوپر اس کے ثبوت میں بعض حوالے نقل کر آئے ہیں۔ سموئیل نے ان حالات کی اصلاح کی کوشش کی اور اس کوشش میں ان کو ایک حد تک کامیابی بھی ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا انتشار اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ بڑھاپے میں ان کے لیے تنہا اس پر قابو پانا سخت مشکل تھا۔ لیکن طالوت کے تقرر کے بعد سے حالات میں نمایاں تبدیلی ہوئی۔ سموئیل اور طالوت دونوں نے مل کر بنی اسرائیل کے اندر ایک تازہ امنگ پیدا کردی۔ طالوت کے تقرر کے موقع پر سموئیل نے جو تقریر بنی اسرائیل کی پوری قوم کے سامنے کی ہم اس کا کچھ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکے گا کہ طالوت کے تقرر سے پہلے کے حالات کیا تھے اور بعد میں کن حالات کے پیدا ہونے کی امید بندھی۔
“ پھر سموئیل لوگوں سے کہنے لگا وہ خداوند ہی ہے جس نے موسیٰ و ہارون کو مقرر کیا اور تمہارے باپ دادا کو مللک مصر سے نکال لایا سو اب ٹھہرے رہو تاکہ میں کداوند کے حضور ان سب نیکیوں کے بارے میں جو خداوند نے تم سے اور تمہارے باپ دادا سے کیں گفتگو کروں۔ جب یعقوب مصر میں گیا اور تمہارے باپ دادا نے خداوند سے فریاد کی تو خداوند نے موسیٰ اور ہارون کو بھیجا جنہوں نے تمہارے باپ دادا کو نکال کر اس جگہ بسایا پر وہ خداوند خدا کو بھول گئے سو اس نے حصور کی فوج کے سپہ سالار سسیرا کے ہاتھ اور فلستیوں کے ہاتھ اور شاہ موآب کے ہاتھ بیچ ڈالا اور وہ ان سے لڑے۔ پھر انہوں نے خداوند سے فریاد کی اور کہا کہ ہم نے گناہ کیا اس لیے کہ ہم نے خداوند کو چھوڑا اور بعلیم اور عتارات کی پرستش کی پر اب تو ہم کو ہمارے دشمنوں کے ہاتھ چھڑا تو ہم تیری پرستش کریں گے سو خداوند نے یرتعل اور بدان اور افتاح اور سموئیل کو بھیجا اور تم کو تمہارے دشمنوں کے ہاتھ سے جو تمہارے چاروں طرف تھے رہائی دی اور تم چین سے رہنے لگے اور جب تم نے دیکھا کہ بنی عمون کا بادشاہ ناحس تم پر چڑھ آیا تو تم نے مجھ سے کہا کہ ہم پر کوئی بادشاہ سلطنت کرے حالانکہ خداوند تمہارا بادشاہ ہے۔ سو اب اس بادشاہ کو دیکھو جسے تم نے چن لیا اور جس کے لیے تم درخواست کی تھی، دیکھو خدوند نے تم پر بادشاہ مقرر کردیا ہے۔ اگر تم خداوند سے ڈرتے اس کی پرستش کرتے اور اس کی بات مانتے رہو، اور خداوند کے حکم سے سرکشی نہ کرو اور تم اور وہ بادشاہ بھی جو تم پر سلطنت کرتا ہے خداوند اپنے خدا کے پیرو بنے رہو تو خیر، پر تم اگر خداوند کی بات نہ مانو بلکہ خداوند کے حکم سے سرکشی کرو تو خداوند کا ہاتھ تمہارے خلاف ہوگا جیسے وہ تمہارے باپ دادا کے خلاف ہوتا تھا۔ سو اب ٹھہرے رہو اس بڑے کام کو دیکھو جسے خداوند تمہاری آنکھوں کے سامنے کرے گا ”(سموئیل باب 12۔ 6-16)
ایک طرف سموئیل نبی کی یہ اصلاح سرگرمیاں تھیں، دوسری طرف طالوت نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ قوم کی تنظیم اور ان کے اندر روح جہاد پیدا کرنے کا کام پورے جوش و خروش کے ساتھ شروع کردیا۔ چناچہ انہوں نے عمونیوں کے مقابلے کے لیے بنی اسرائیل کے مردوں کی مردم شماری کرائی تو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل تین لاکھ اور یہوداہ کے مرد تیس ہزار ہیں۔ پھر عمونیوں پر اس زور کا حملہ کیا کہ وہ بالکل تتر بتر ہوگئے اور دوستوں، دشمنوں دونوں پر ان کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہ حالات بلاشبہ ان کے مخافوں کے لیے مرعوب کن ثابت ہوئے ہوں گے اور اس مرعوبیت کی وجہ سے فلسطیوں نے یہ مناسب سمجھا ہوگا کہ تابوت کو واپس کر کے ایک خوفناک جنگ کے خطرے سے اپنے کو بچا لے جائیں۔ بلاشبہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک ایسا واقعہ تھا جو طالوت کی اقبال مندی اور ان کے مؤید من اللہ بادشاہ ہونے کا نشان ہوسکتا تھا۔ چناچہ قرآن نے یہی کہا ہے اور یہ بات ہر اعتبار سے قرین عقل و قیاس معلوم ہوتی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ تورات کے اس بیان کی خود تورات ہی کے بیانات سے تردید ہوتی ہے۔ اگر واقعہ یہی ہے کہ فلسطیوں نے سات مہینے کے بعد ہی تابوت کو اس کی کرامات اور اس کے خوارق سے ڈر کر واپس کردیا تھا تو تورات کے اس بیان کا کیا مطلب ہے“ اور جس دن سے صندوق قریت یعریم میں رہا تب سے ایک مدت ہوگئی یعنی بیس برس گزرے اور اسرائیل کا سارا گھرانا خداوند کے پیچھے نوحہ کرتا رہا ”(سموئیل باب 7، 1)
سوال یہ ہے کہ قریت یعریم اگر بنی اسرائیل ہی کے علاقہ میں شامل تھا اور تابوت انہی کی حفاظت میں تھا تو بیس برس تک اسرائیل کا سارا گھرانا خداوند کے پیچھے نوحہ کیوں کرتا رہا ؟ اس“ خداوند کے پیچھے ”کے الفاط کا کیا مطلب ہے ؟
اصل یہ ہے کہ سموئیل میں یہود نے متضاد روایات کا اتنا انبار لگا دیا ہے کہ اس کے اندر حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہے۔ یہ قرآن کا احسان ہے کہ اس نے بعض واقعات کے صحیح پہلو نمایاں کیے۔