Ayah 2:127تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی دعا : قواعد، قاعدہ کی جمع ہے۔ قاعدہ کے معنی بنیاد اور اساس کے ہیں۔ اوپر والی آیت میں اس گھر کی تعمیر کے حکم کا حوالہ تھا۔ اب آگے یہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ اس کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل نے کیا دعا کی تھی، اس گھر کے ساتھ ان کی کیا آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ تھیں اور مستقبل میں اس سے کس فیض عالم گیر کے جاری ہونے کی انہوں نے اپنے پروردگار سے التجا کی تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ کی سرگزشت کا یہ حصہ صرف قرآن کے ذریعہ سے ہمارے علم میں آیا ہے، اس لیے کہ یہود نے جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، تورات سے خاص اس حصہ کو یا تو حذف کردیا یا اس میں اپنے حسب منشا تحریف کردی، لیکن یہ آپ کی سرگزشت کا ایک ایسا ضروری حصہ ہے کہ اس کے بغیر یہ بالکل نا تمام معلوم ہوتی ہے۔ قرآن نے یہ تحریف کردہ حصہ بےنقاب کر کے اس کی تکمیل کردی۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ : اے ہمارے رب ہماری طرف سے قبول کر، کا یہ مطلب بی ہوسکتا ہے کہ تیری عبادت اور تیری بدنگی کی دعوت کے لیے یہ گھر جو ہم بنا رہے ہیں اس کو شرف قبولیت بخش اور ہماری یہ خدمت قبول فرما اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تیرے گھر کی بنیادیں اٹھاتے وقت کچھ التجائیں پیش کرتے ہیں ہماری یہ التجائیں قبول فرما۔ ہم اس دوسرے مطلب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اول تو اس وجہ سے کہ اس صورت میں یہ جملہ خاص خانہ کعبہ سے متعلق ہونے کے بجائے اس پوری دعا کی تمہید بن جاتا ہے جو آگے آرہی ہے، دوسرے جہاں تک کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا تعلق ہے یہ کام حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ؑ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کر رہے تھے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ اس وجہ سے اس کی قبولیت پہلے سے معلوم تھی۔ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ، میں خدا کی ان دو صفتوں کا حوالہ ہے، جن پر اعتماد کر کے بندہ خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کے اندر حصر کا جو مضمون ہے وہ دعا کرنے والوں کی طرف سے کامل سپردگی اور کامل اعتماد کا اظہار ہے۔
Ayah 2:128دعا کی وضاحت : دعا کے بیچ بیچ میں بار بار“ ربنا ”کا اعادہ اور دعا کے مناسب صفاتِ الٰہی کا حوالہ دعا کے آداب میں سے ہے۔ اس سے دعا شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے۔ یہ دعا ان دونوں چیزوں کے حکیمانہ استعمال کی بہترین مثال ہے۔ سب سے پہلے باپ بیٹے نے جس چیز کی دعا کی ہے وہ خود اپنے مسلم بنائے جانے کی ہے۔ مسلم کے معنی خدا کے کامل فرمانبردار کے ہیں۔ اس سے کئی حقیقتیں روشنی میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایمان و اسلام اور طلب خشیت وتقوی کی دعاؤں میں انسان سب سے پہلے اپنے آپ کو سامنے رکھے، یہ چیزیں ایسی نہیں جن سے کوئی بھی مستغنی ہوسکے اگرچہ وہ کتنا ہی عالی مقام ہو۔ دوسری یہ کہ اسلام کے درجات و مراتب کی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جیسے مسلم کامل بھی جن کے ذریعہ سے دنیا اسلام کے نام اور اس کی روح سے آشنا ہوئی اپنے مسلم بنائے جانے کے لیے دعا کرتے تھے، تیسری حقیقت، جو خاص اس موقع سے تعلق رکھنے والی اور نظم کلام کو کھولنے والی ہے، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اپنی زندگی کے سب سے زیادہ تاریخی موقع پر، جب کہ وہ اپنے مشن کا مرکز تعمیر کر رہے تھے، اپنے لیے جس چیز کی دعا کی تھی، مسلم بنائے جانے کی تھی نہ کہ یہودی یا نصرانی بنائے جانے کی۔
وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ : اپنے مسلم بنائے جانے کی دعا کے ساتھ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اپنی ذریت کے اندر سے ایک پوری امت مسلمہ اٹھائے جانے کی بھی اس موقع پر دعا فرمائی اس دعا میں چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ ان کی ذریت میں سے صرف حضرت اسماعیل شریک تھے۔ اس وجہ سے اس کا واضح مفہوم یہی ہوسکتا ہے کہ یہ انہی کی اولاد سے متعلق تھی چناچہ انہی کی نسل کے اندر محمد بن عبداللہ ﷺ کا ظہور ہوا اور آپ کی دعوت سے وہ امت مسلمہ ظہور میں آئی جس کے لیے یہ دعا کی گئی تھی۔ تورات سے یہ چیزیں تو غائب کردی گئیں لیکن قربان ہونے والے فرزند سے متعلق یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ“ تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی ”۔ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا :“ ارنا ”کے اصل معنی“ ہمیں دکھا ”کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی شریعت کی طرف اپنے بندوں کی رہنمائی اس طرح کی وحی کے ذریعہ سے بھی کرتا ہے جس کا مظہر قرآن مجید ہے اور کبھی رویا یا کشف میں برارہ راست اپنا کوئی فرشتہ بھیج کر اس کام کو عملاً دکھا یا بتا بھی دیتا ہے جو مطلوب ہوتا ہے۔ اس سم کی رہنمائی قرآن مجید کی اصطلاح میں اراءت ہے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی زیادہ تر اراءت ہی کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔ یعنی یا تو رویا میں ان کو ایک بات دکھا دی جاتی تھی یا کوئی فرشتہ خداوندی ظاہر ہو کر مطلوب کام کی طرف رہنمائی کردیتا تھا۔ تورات سے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں دعا میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل نے اسی اراءت کی درخواست کی ہے۔
مناسک کی تحقیق : مناسک، منسک کی جعم ہے، نسک کے اصل معنی دھونے اور پاک کرنے کے ہیں۔ نسک الثوب کے معنی ہیں کپڑے کو دھو کر پاک کیا۔ اسی سے سنسک ہے جس کے معنی قربانی کے ہیں۔ ربانی بندے کو گناہ کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب عطا کرتی ہے۔ پھر اسی سے منسک ہے، جس کے معنی قربانی کے طریقہ کے بھی ہیں اور قربان گاہ کے بھی۔ اس کی جمع مناسک ہے جو حج کے تمام سلسلہ عبادات و رماسم پر حاوی ہے۔ فرمایا ہے“ فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّہ۔ جب تم حج کے مراسم ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کرو ”(بقرہ : 200)۔ وَتُبْ عَلَيْنَا :‘ توبہ ’ کا مفہوم : توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور متوجہ ہونے کے ہیں اس کا صلہ جب علی کے ساستھ آتا ہے تو یہ جیسا کہ آیت 37 کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں، اس بات پر دلیل ہوتا ہے کہ اس کے اندر رحم کا مضمون پوشیدہ ہے۔ رحم کے اس پوشیدہ مضمون کو یہاں“ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ”کہہ کر کھول بھی دیا ہے۔ بندہ جب اپنے رب کی طرف خشیت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو رب رحیم رحمت کے ساتھ بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
Ayah 2:129“ ان میں انہی میں سے ایک رسول اٹھا، یعنی ہماری ذریت میں سے ”۔ چونکہ اس موقع پر حضرت ابراہیم کے ساتھ صرف حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے اور وہی اس وادی غیر ذی زرع میں بسائے جا رہے تھے اس وجہ سے اس دعا کا تعلق لازما انہی کی ذریت سے تھا۔ اس کا کوئی تعلق بھی حضرت اسحاق کی ذریت سے نہیں ہوسکتا۔ تورات کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ آخری نبی کی بعثت حضرت اسماعیل کی نسل سے ہونے والی تھی۔ تثنیہ باب 18 میں حضرت موسیٰ کی جو مشہور پیشین گوئی ہے اس میں فرمایا ہے“ تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا ”آگے چل کر ہے“ میں ان کے لیے انہیں کے بھائیوں میں سے ”۔ یہ الفاظ صاف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس سے مراد بنی اسماعیل ہی ہیں۔ گر بنی اسرائیل مراد ہوتے تو صحیح تعبیر“ انہی کے بھائیوں میں سے ”کی بجائے“ انہی میں سے ”کی ہوتی۔ اسی طرح“ تیرے ہی بھائیوں میں سے ”کی جگہ“ تمہارے ہی اندر سے ”کے الفاظ وارد ہوتے۔ علاوہ ازیں یہاں“ میری مانند ”کے الفاظ بھی قابل لحاظ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نبی کی بعثت کے پیشین گوئی کی گئی تھی ایک صاحب رسالت رسول کی تھی۔ قرآن مجید کی مذکورہ دعا میں اسی لحاظ سے رسول کا لفظ وارد ہوا ہے۔ ہم آگے کسی مناسب موقع پر رسول اور نبی کے فرق کو ظاہر کریں گے۔ یہاں جس رسول کی بعثت کے لیے دعا کی گئی ہے۔ اس کے تین مقاصد بتائے گئے۔ ایک تلاوت آیات، دوسرا تعلیم کتاب و حکمت، تیسرا تزکیہ۔
تلاوت آیات کا مفہوم : آیت لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے کسی چیز پر دلیل لائی جاسکے۔ اس پہلو سے آسمان و زمین کی ہر چیز آیت ہے۔ اس لیے کہ ان میں سے ہر چیز خدا کی قدرت و حکمت اور اس کی مختلف صفات خلق و تدبیر پر ایک دلیل ہے۔ اسی طرح وہ معجزات بھی آیت ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) سے ظاہر ہوئے اس لیے کہ وہ بھی اپنے پیش کرنے والوں کی سچائی پر دلیل تھے۔ علی ہذا القیاس قرآن مجید کے الگ الگ جملوں کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس لیے کہ فی الحقیقت ان میں سے ہر آیت کی حیثیت ایک دلیل وبرہان کی ہے جس سے خدا کی صفات اور ان کے احکام و قوانین اور اس کی مرضیات کا علم ہوتا ہے۔“ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ ”کے الفاظ سے اس زور اور اختیار کا اظہار ہورہا ہے، جس سے مسلح ہو کر خدا کا ایک رسول اس دنیا میں آت ہے۔ یہ واضح رہے کہ رسول محض ایک خوش الحان قاری کی طرح لوگوں کو قرآن سنانے نہیں آتا، بلکہ وہ خدا کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کو آسمان و زمین کے خالق ومالک کے احکام و فرامین اور اس کے دلائل وبراہین سے آگاہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وحی الٰہی کے لیے آیات کے لفظ سے اس حقیقت کا بھی اظہار ہورہا ہے کہ خدا کا دین تحکم اور جبر پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر دلائل وبراہین پر مبنی ہے اور اس کے ہر ٹکڑے کے اندر اس کی دلیل ہے۔
تعلیم کتاب و حکمت کا مفہوم : اب آئیے تعلیم کتاب و حکمت کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تعلیم، تلاوت سے ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ تلاوت آیات تو یہ ہے کہ رسول نے لوگوں کو آگاہ کردیا کہ خدا نے اس کے اوپر یہ وحی نازل کی ہے۔ تعلیم یہ ہے کہ نہایت شفقت و توجہ کے ساتھ ہر استعداد کے لوگوں کے لیے اس کی مشکللات کی وضاحت کی جائے، اس کے اجمالات کی تشریح کی جائے، اس کے مقدرات کھولے جائیں اور اس کے مضمرات بیان کیے جائیں اور اس توضیح وبیان کے بعد بھی اگر لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوں تو ان کے سوالوں کے جواب دیے جائیں۔ مزید برآں لوگوں کی ذہنی تربیت کے لیے خود ان کے سامنے سوالات رکھے جائیں اور ان کے جوابات معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ لوگوں کے اندر فکر و تدبر کی صلاحیت اور کتاب الٰہی پر غور کرنے کی استعداد پوری طرح بیدار کرنے کی استعداد پوری طرح بیدار ہوجائے۔ یہ ساری باتیں تعلیم کے ضروری اجزا میں سے ہیں اور ہر شخص جس نے آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا ہے اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ آپ نے اپنے صحابہ کے لیے تعلیم کتاب کے یہ تمام طریقے اختیار فرمائے۔ تعلیم کے ساتھ یہاں دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کتاب کا، دوسری حکمت کا۔ کتاب سے مراد تو ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے۔ اس لفظ کی تحقیق ہم اس سورة کی آیت 2 کی تفسیر کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں۔ لفظ حکمت کی تحقیق مولانا فراہی نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں جو بیان فرمائی ہے اس کا ضروری حصہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔“ رہی حکمت تو وہ تعبیر ہے اس قوت و صلاحیت کی جس سے انسام معاملات کا فیصلہ حق کے مطابق کرتا ہے۔ حضرت داود کی تعریف میں ارشاد ہوا ہے“ واتیناہ الحکمۃ وفصل الخطاب۔ ہم نے اس کو حکمت عطا کی اور فیصلہ معاملات کی صلاحیت ”۔ یہاں فصل الخطاب کے لفظ سے اس اثر کو بیان کیا ہے جو حکمت کا ثمرہ ہے۔ جس طرح فیصلہ معاملات کی صلاحیت حکمت کے ثمرات میں سے ہے۔ اسی طرح اخلاق کی پاکیزگی اور تہذیب بھی اس کے ثمرات میں سے ہے۔ اسی وجہ سے اہل عرب حکمت کا لفظ انسان کی اس قوت وصلاحیت کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جو عقل و رائے کی پختگی اور شرافت اخلاق کی جامع ہوتی ہے۔ چناچہ دانش مند اور مہذب آدمی کو حکم کہا جاتا ہے اور جو بات عقل اور دل دونوں کے نزدیک بالکل واضح ہو اس کو حکمت سے تعبیر کرتے ہیں ”۔ حکمت کا ذکر یہاں کتاب کے ساتھ اس بات پر دلیل ہے کہ تعلیم حکمت تعلیم کتاب سے ایک زائد شے ہے، اگرچہ یہ حکمت سر تا سر قرآن حکیم ہی سے ماخوذ و مستنبط ہو۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک جو لوگ حکمت سے حدیث مراد لیتے ہیں، ان کی بات میں بڑا وزن ہے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ حکمت چونکہ حکیمانہ بات کو بھی کہتے ہیں اور حکیمانہ بات کہنے کی صلاحیت کو بھی، اس وجہ سے تعلیم حکمت کے معنی جس طرح کسی کو کوئی حکیمانہ بات بتا دینے کے ہیں اسی طرح اس کے معنی لوگوں کے اندر حکمت کی صفت و صلاحیت پیدا کرنے کے بھی ہیں۔ رسول کا تیسرا مقصد تزکیہ بتایا گیا ہے۔ لفظ تزکیہ دو مفہوموں پر مشتمل ہے۔ ایک پاک و صاف کرنے پر، دوسرے نشوونما دینے پر، ہمارے نزدیک یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جو چیز مخالف و مزاحم رواید و مفاسد سے پاک ہوگی وہ لازماً اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق پروان بھی چڑھے گی۔ انبیاء (علیہم السلام) نفوس انسانی کا جو تزکیہ کرتے ہیں اس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ وہ لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال و اخلاق کو غلط چیزوں سے پاک صاف بھی کرتے ہیں اور ان کے اعمال و اخلاق کو نشوونما دے کر ان میں مفاسد اور مخالف و مزاحم چیزوں کے بالمقابل استقلال کے ساتھ سینہ سپر رہنے اور استقامت دکھانے کی قوت بھی پیدا کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کتاب کے مقابلہ میں فوس کا تزکیہ کہیں زیادہ دیدہ ریزی، مشقت اور صبر وریاض کا طالب ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں اس کا ذکر تمام دین و شریعت کے غایت و مقصد کی حیثیت سے ہوا ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم انشاء اللہ آگے کسی موزوں مقام پر کریں گے۔ عزیز اور حکیم کا مفہوم : آیت کے خاتمہ پر خدا کی دو صفتوں۔ عزیز و حکیم۔ کا حوالہ ہے۔ عزیز کے معنی غالب عزت و قوت والے کے ہیں۔ یعنی وہ ذات جو پوری قوت وصولت اور پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ اس کائنات پر فرمانروائی کر رہی ہے۔ حکیم کے معنی ہیں جس کے ہر کام میں حکمت، مصلحت اور مقصد وغایت ہو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ بالعموم ایک ساتھ آتا ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ بالعموم ایک ساتھ آتا ہے۔ اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ ت عالیٰ اس کائنات پر پوری قوت اور پورے غلبہ کے ساتھ حاوی اور متصرف ہے لیکن اس کے غلبہ و اقتدار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے زور میں جو چاہے کر ڈالے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت و مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کا کوئی کام بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ یہاں ان دونوں صفتوں کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جو عزیز و حکیم ہے، اس کی عزت و حکمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس مملکت میں اپنا سفیر اور پیغمبر بھیجے جو اس کی رعیت کو اس کے احکام وقوانین سے آگاہ کرے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے۔
نبی ﷺ کے فرائض منصبی : منکرین سنت کا دعوی یہ ہے کہ نبی ﷺ کی اصلی ذمہ داری بحیثیت پیغمبر کے صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ پر جو وحی نازل فرمائے آپ وہ لوگوں تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد بحیثیت رسول کے آپ کا فرض ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد نہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر کوئی ذمہ داری ہی ہے اور نہ وحی الٰہی یا بالفاظ دیگر قرآن، کے سوا آپ کے کسی قول یا فعل کی کوئی مستقل شرعی اہمیت ہی ہے۔ ہمارے نزدیک منکرین سنت کے اس دعوے کی تردید کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت ہی کافی ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے فرائض منصبی کی جو تفصیل کی گئی ہے۔ اس میں صرف لوگوں کو قرآن سنا دینے ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ متعدد دوسری چیزوں کا بھی ذکر ہے اور اس آیت سے واضح ہے کہ ان چیزوں کا ذکر بھی آپ کے فرائض نبوت ہی کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آیت پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ فرمایا ہے“ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ”اے ہمارے رب، ان میں بھیجیو ایک رسول انہی میں سے جو ان کو پڑھ کر سنائے تیری آیتی اور ان کو تعلیم دے کتاب اور حکمت کی اور ان کا تزکیہ کرے۔ بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔
یہ اس دعا کے الفاظ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے لیے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے فرمائی تھی۔ اسی دعا کے مطابق جب آنحضرت کی بعثت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اہل عرب پر اپنے اس احسان عظیم کا اظہار یوں فرمایا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ ، وہی خدا ہے جس نے بھیجا امیوں (بنی اسماعیل) میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو پڑھ کر سناتا ہے اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
ان دونوں آیتوں پر غور کیجیے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جن صفات کے پیغمبر کے لیے دعا کی تھی آنحضرت ﷺ بعینہ انہیں صفات کے ساتھ مبعوث ہوئے اور آپ نے امیوں کے اندر عملاً وہ سارے کام انجام دیے بھی جن کے لیے حضرت ابراہیم ؑ نے دعا فرمائی تھی۔ ان دونوں ہی مقامات میں جہاں تک آنحضرت ﷺ کے فرائض کا تعلق ہے ان کے بیان میں کوئی اختلاف نہیں۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو صرف یہ کہ پہلی آیت میں تزکیہ کا ذکر سب کے آخر میں ہے اور دوسری آیت میں تعلیم کتاب و حکم ت سے پہلے لیکن تلاوت آیات کے بعد۔ یہ فرق کوئی خاص اہمیت رکھنے والا فرق نہیں۔ تزکیہ کے مقدم و موخر ہونے کی وجہ ایک دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ تزکیہ تمام دین و شریعت کی غایت اور بعثت انبیاء کا اصل مقصود ہے اور جو چیز کسی کام میں غایت و مقصود کی حیثیت رکھتی ہے وہ عمل میں اگرچہ موخر ہوتی ہے لیکن ارادہ میں مقدم ہوتی ہے اس وجہ سے اصل اسکیم میں اس کا ذکر مقدم بھی ہوسکتا ہے اور موخر بھی۔ چناچہ اسی اعتبار سے تزکیہ کا ذکر ایک آیت میں مقدم ہوا ہے دوسری میں موخر۔ اس ترتیب کے فرق کے علاوہ دوسری ساری باتیں دونوں آیتوں میں بالکل مشترک ہیں اور ان میں نبی ﷺ کے مندرجہ ذیل فرائض بتائے گئے ہیں۔ 1۔ تلاوت آیات۔ 2۔ تعلیم کتاب و حکمت۔ 3۔ تزکیہ۔ ان میں سے جہاں تک پہلی چیز۔ تلاوت آیات۔ کا تعلق ہے، ہم بلا کسی بحث و نزع کے تسلیم کیے لیتے ہیں کہ اس سے مراد لوگوں کو قرآن مجید سنانا ہی ہے۔ دین و دانش دونوں ہی سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ خدا کے ایک رسول کا اولین فریضہ یہی ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائے لیکن اس تلاوت کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ اس طرح نہیں ہوئی ہے کہ لوگوں کو پوری کتاب بیک دفعہ سنادی گئی ہو بلکہ یہ 23 سال کی وسیع و طویل مدت میں تھوڑی تھوری کر کے اتاری گئی اور اسی تدریج کے ساتھ پیغمبر ﷺ نے لوگوں کو سبقاً سبقاً اس کی تعلیم دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب کوئی سہل اور سپاٹ کتاب نہیں ہے بلکہ یہ نہایت گہرے علوم و معارف اور اعلی اسرار و حقائق کی کتاب ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے یہ ضروری ہوا کہ یہ سبق سبق کر کے پڑھائی جائے تاکہ لوگوں کی اس کے خزانوں تک رسائی ہوسکے۔ اس حقیقت کو قرآن نے یوں واضح کیا ہے وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ (اسراء :106) اور ہم نے اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ تو لوگوں کو اس کو وقفہ وقفہ کے ساتھ سنائے۔ قرآن حکیم کی مذکورہ بالا خصوصیت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ پیغمبر ﷺ اس کو ایک قاری کی طرح صرف سناد ینے ہی پر اکتفا نہ فرمائیں بلکہ ایک معلم کی طرح پوری دلسوزی اور پورشی شفقت کے ساتھ لوگوں کو اس کی تعلیم بھی دیں۔ چناچہ اسی بنا پر تلاوت کے ساتھ ساتھ آپ کا دوسرا فرض تعلیم کتاب بتایا گیا۔ یہ تعلیم کتاب کا فریضہ آپ کے فرائض نبوت ہی کا ایک جز اور آپ کا معلم ہونا آپ کے منصب رسالت ہی کا ایک پہلو ہے۔ اس وجہ سے اپنی اس حیثیت میں آپ نے جو کچھ لوگوں کو سکھایا اور بتایا اس کو آپ کے فرائض نبوت سے نہ تو خارج کیا جاسکتا اور نہ اس کا درجہ اصل کتاب کے مقابل میں گرایا ہی جاسکتا۔ اب غور فرمائے کہ اس تعلیم کے تقاضے کیا کیا ہوسکتے ہیں۔ اس کا ایک بالکل ابتدائی تقاضا تو یہ ہے کہ قرآن میں جو شرعی اصطلاحات مثلاً زکوۃ صلوۃ، زکوۃ، حج، صیام، طواف، عمرہ، نکاح، طلاق وغیرہ استعمال ہوئی ہیں لیکن ان کی عملی شکلیں واضح نہیں کی گئی ہیں ان کو آپ اچھی طرح لوگوں پر واضح کردیں تاکہ لوگ عملی زندگی میں ان کو اختیار کرسکیں اور ان کے مختلف اجزاء کا دین میں جو مقام ہے اس کو متعین کرسکیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن میں فکر و عمل کی تصحیح کے جو اصول دیے گئے ہیں ان کے لوازم و تضمنات کے ضروری گوشے واضح کردیے جائیں تاکہ ان ابواب میں مزید رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ روشنی کے میناروں کا کام دیں۔ اسی طرح ایک چیز یہ بھی ہے کہ قرآن میں جو احکام شریعت دیے گئے ہیں ان کی حیثیت صرف اصولی احکام کی ہے۔ ان میں سے ہر باب کے تحت بیشمار صورتیں ایسی آتی ہیں جن میں احکام کا تعین معلم کی رہنمائی اور اجتہاد پر چھور دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس اجتہاد کے لیے امت کو بہترین رہنمائی ان مثالوں ہی سے مل سکتی تھی جو اس کتاب کے معصوم معلم نے اپنے اجتہاد سے قائم کیں۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ قرآن اجتماعی زندگی کا ایک نظام بھی پیش کرتا ہے لیکن اس کے صرف چاروں گوشے متعین کردینے والے اصول دے کر اس کی جزئیات و تفصیلات اور اس کے عملی ڈھانچہ کے معاملہ کو معلم کی ذمہ داری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس چیز کو بھی لوگوں نے حضور ہی کی تعلیم سے سیکھا۔ ان کے علاوہ ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ زیر بحث آیت میں صرف تعلیم کتاب ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ تعلیم حکمت کا بھی ذکر ہے۔ تعلیم حکمت تعلیم شریعت سے بہت وسیع چیز ہے۔ اس سے مراد، جیسا کہ اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں، وہ دانش و بینش اور بصیرت و معرفت ہے جو زندگی کے ان بعید گوشوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں رہنمائی کرنے والی اس کے سامنے کوئی اور روشنی نہیں ہوتی۔ اب غور کیجیے کہ یہ ساری باتیں تعلیم کے تقاضوں میں سے ہیں یا نہیں ؟ اور آنحضرت ﷺ ان ساری چیزوں کی تعلیم کے لیے بحیثیت ایک خدائی معلم کے مامور تھے یا نہیں ؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے اور ظاہر ہے کہ ان کا جواب اثبات ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے تو غور کیجیے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی اس حیثیت میں جو کچھ کہا اور کیا ہے اس کو آپ کے فرائض نبوت کے دائرے سے الگ کس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس کی اہمیت کو گھٹا یا کس طرح جاسکتا ہے ؟ اور پھر اس بات پر غور کیجیے کہ احادیث میں ان چیزوں کے سوا کیا ہے جو آنحضرت ﷺ نے بحیثیت معلم کتاب و حکمت ہونے کے بتائی ہیں یا ان پر عمل کرکے دکھایا ہے ؟ اسی طرح اب تزکیہ پر غور کیجیے۔ تزکیہ کا عمل ظاہر ہے کہ تعلیم سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور سیع الاطراف ہے۔ اوپر ہم واضح کر آئے ہیں کہ اس لفظ میں پاک صاف کرنے اور نشوونما دینے، دونوں کا مفہوم شامل ہے یہ بیک وقت علمی بھی ہے اور عمی بھی، ظاہری بھی باطنی بھی، مادی اور جسمانی بھی ہے اور عقلی و روحانی بھی، نیز یہ انفرادی بھی ہے اور سماجی واجتماعی بھی۔ مختصراً چند بنیادی تقاضے اس کے بھی سامنے رکھ لیجیے۔ اس کا ایک ضروری تقاضا تو یہ ہے کہ لوگوں کے اذہان، اعمال اور اخلاق پر خورد بینی نگاہ ڈال کر ان جراثیم سے ان کو پاک کیا جائے جو روحانی اور اخلاقی بیماریوں کے سبب بنتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اندر نیکیوں کی تخم ریزی کی جائے جو انسان کے ظاہرو باطن کو سنوارتی اور اس کے عادات و خصائل کو مہذب بناتی ہیں۔ اس کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ ہر خوبی ان کے اندر جڑ پکڑ جائے اور ہر برائی کے خلاف طبیعتوں میں نفرت بیٹھ جائے۔ اس کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ اس تعلیم و تربیت سے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جائے جو تزکیہ نفوس کے لیے ایک وسیع تربیت گاہ کا کام دینے لگ جائے، جو شخص بھی اس میں اٹھے اسی ماحول کے اثرات لیے ہوئے اٹھے اور جو شخص بھی اس کے اندر داخل ہوجائے اس پر اسی کا رنگ چڑھ جائے۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ خیال بڑا مغالطہ انگیز ہے کہ آنحضرت ﷺ کا فریضہ منصبی بحیثیت رسول کے رف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پہنچا دیں۔ قرآن کا پہنچا دینا آپ کے فرائض منصبی کا صرف ایک جزو تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی یہ ذمہ داری بھی تھی کہ آپ ایک معلم کی طرح لوگوں کو اس قرآن کی تعلیم دیں، اس کے مضمرات و تضمنات، اس کے اجمالات و اشارات اور اس کے اسرار و حقائق لوگوں پر واضح کردیں، اس کے عجائب حکمت کی روشنی میں افراد اور معاشرہ کی تربیت کے اصول و فروع بھی متعین فرمائیں اور ان اصولوں کے مطابق لوگوں کا تزکیہ بھی کریں۔ یہ سارے کام آپ کے فرائض نبوت میں شامل تھے۔ اس وجہ سے ان مقاصد کے تحت آپ نے جو کچھ بتایا یا جو کچھ کیا اس سب کو امت نے اسی طرح واجب التعمیل سمجھا جس طرح قرآن کو سمجھا اور اسی اہمیت کے ساتھ اس کی حفاظت اور اس کے نقل و روایت کا اہتمام کیا۔ اس کے کسی جزو کے متعلق یہ سوال تو اٹھایا جاسکتا ہے کہ اس کا انتساب آنحضرت ﷺ کی طرف پوری صحت کے ساتھ ثابت ہے یا نہیں لیکن اس کو دین و شریعت سمجھنے سے انکار کرنا خود قرٓن مجید کے انکار کے ہم معنی ہے۔
Ayah 2:130رَغِبَ کا صلہ جب عَن کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی چیز سے بےرغبت اور بیزار ہونے کے ہوتے ہیں۔ سَفِہَ زیادہ تر لازم آتا ہے۔ لیکن متعدی بھی آتا ہے۔ مثلا سَفِہَ نَفْسَہ کے معنی ہوں گے اس نے اپنا نصیبہ بگاڑ لیا۔ سَفِہَ رَایَہ کے معنی ہوں گے اس نے احمقانہ رائے اختیار کی۔ اسی طرح سَفِہَ نَفْسَہٗ کے معنی ہوں گے۔ اس نے اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کیا۔ یہ اسلوب کلام اظہار تعجب اور اظہار افسوس دونوں کا جامع ہے۔ اشارہ یہاں یہود کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ ملت ابراہیم کے پیرو ہونے کے مدعی ہیں، بلکہ اپنے زعم میں اس کے واحد اجارہ دار بنے بیٹھے ہیں، دوسری طرف ان کا یہ حال ہے کہ جو پیغمبر ملت ابراہیم کا داعی بن کر آیا ہے اس سے اور اس کی دعوت سے یہ سب سے زیادہ بیزار ہیں اور ان لوگوں کو بیوقوف قرار دے رہے ہیں جو اس دعوت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حماقت اور خرد باختگی کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہوسکتی ہے ؟۔ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا (اور ہم نے دنیا میں اس کو برگزیدہ ٹھہرایا)۔ یہ اس برگزیدگی کی طرف اشارہ ہے جو ان کو دنیا کی قوموں کی سرداری و پیشوائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بخشی اور جس کا ذکر اوپر آیت 124 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کو اللہ نے سب کی امامت کے لیے منتخب فرمایا، احمق ہی ہوگا جو اس کی ملت کی پیروی سے اعرض اختیار کرے گا۔ صالحین کا لفظ قرآن مجید میں عام نیکو کاروں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اور اس پورے زمرے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، جو انبیاء صدیقین اور شہداء اور صالحین سب پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 2:131‘ اسلام ’ کا مفہوم : اسلام کے معنی اپنے آپ کو پورے طور پر خدا کی مرضی اور اس کے احکام کے حوالہ کردینا ہے۔ یہاں ہمارے نزدیک اس سے بیٹے کی قربانی کی طرف اشارہ ہے۔ یوں تو وہ تمام امتحانات، جن سے وہ گزارے گئے، ان کے اسلام کی جانچ ہی کے لیے تھے، گویا ہر امتحان زبان حال سے ان کے سامنے ‘ اسلم ’ ہی کا مطالبہ رکھنے کے لیے نمودار ہوا لیکن خاص طور پر حضرت اسمعیل ؑ کی قربانی کا حکم جس میں کامیابی کے بعد وہ برگزیدگی اور امامت کی عزت سے نوازے گئے ہیں، کامل سپردگی اور کامل حوالگی کا ایک ایسا مطالبہ تھا جس کی تعبیر کے لیے سب سے زیادہ جامع اور حقیقت افروز لفظ اگر کوئی ہوسکتا تھا تو ‘ اسلم ’ ہی کا لفظ ہوسکتا تھا۔ یہ لفظ واقعہ قربانی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے قرآن مجید میں بعد دوسرے مقامات میں بھی آیا ہے مثلا فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ۔ پس جب باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کردیا اور ابراہیم نے اسماعیل کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ (صافات :103)۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اسلام کے لفظ سے اشارہ کر کے قرآن نے کئی حقیقتیں واضح کی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ ت عالیٰ نے دنیا اور آخرت دونوں میں جو برگزیدگی بخشی وہ، جیسا کہ آیت 124 میں اشارہ ہوچکا ہے، ان کی ان جان بازیوں اور قربانیوں کا صلہ ہے جو انہوں نے رب کی رضا طلبی کی راہ میں کیں۔ یہ عطمت ان کو مفت میں نہیں حاصل ہوئی جس طرح یہود اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کامل سپردگی اور کامل حوالگی یعنی اسلام کا حکم ہوا تھا اور انہوں نے اپنے قول و عمل سے اسی اسلام کا مظاہرہ کیا نہ کہ یہودیت یا نصرانیت کا جیسا کہ یہود یا نصاری گمان کرتے ہیں۔ تیسری یہ کہ اسلام کی اصل روح اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالہ کردینا ہے یہاں تک کہ کوئی عزیز سے عزیز چیز بھی بندے کے نزدیک خدا سے زیادہ عزیز نہ رہ جائے۔
Ayah 2:132توصیہ کے معنی تعلیم و تلقین کرنے کے ہیں، عام اس سے کہ یہ تعلیم وتلقین کوئی شخص اپنی وفات کے وقت کرے یا زندگی کے کسی دوسرے مرحلہ میں۔ بِھَا میں ضمیر ملت اسلام کے لیے ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ملۃ ابراہیم کے لفظ سے ہوا ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر اگرچہ یہود کے صحیفوں میں کہیں نہیں ملتا لیکن ظاہر ہے کہ دین کے معاملہ میں اپنی اولاد اور اپنے اتباع کو وصیت و نصیحت انبیاء (علیہم السلام) کی عام سنت رہی ہے۔ بنی اسرائیل و بنی اسماعیل کے عام بزرگانِ خاندان اور سردارانِ قبائل سے متعلق بھی اس طرح کی تلقین و نصیحت کی بکثرت روایات منقول ہیں۔ یہاں تک کہ تالمود میں ایک وصیت حضرت یعقوب کی بھی قرآن مجید کے بیان کردہ وصیت سے ملتی جلتی موجود ہے۔ خاندانوں اور ملتوں میں اس طرح کی روایات خاندانوں کے اکابر ہی کے طرز عمل سے قائم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے خود اپنے طرز عمل سے اپنے بعد والوں کے لیے یہ سنت چھوڑی ہو۔ رہی یہ بات کہ انہوں نے اپنی اولاد کو ملت اسلام کی وصیت کی تو یہ اس قدر واضح ہے کہ اس کے لیے کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اوپر ان کی جو سرگزشتِ حیات بیان ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہے کہ وہ جس ملت سے آشنا ہوئے، جس ملت کی انہوں نے دعوت دی اور اپنی عظیم قربانی سے جس ملت کی حقیقت کا انہوں نے مظاہرہ کیا، وہ اسلام ہے، تو پھر وہ اس ملت کو چھوڑ کر اپنی اولاد کو یہودیت یا نصرانیت کی تلقین کس طرح کرتے جن سے وہ سرے سے آشنا ہی نہیں ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ حضرت یعقوب کا ذکر یہاں اس خصوصیت کی وجہ سے ہوا کہ بنی اسرائیل براہ راست انہی کی اولاد تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ روایت اگر ہے تو حضرت ابراہیم ؑ سے نیچے تین پشتوں تک برابر ملت اسلام ہی کی وصیت کی ہے نہ کہ یہودیت و نصرانیت کی، تو ملت ابراہیمی کی پیروی کے مدعیوں کے لیے پیروی کی چیز اسلام ہے یا یہودیت اور نصرانیت ؟۔“ الدین ”سے مراد وہ دین حقیقی ہے جو شروع سے اللہ کا دین ہے یعنی اسلام، چناچہ دوسری جگہ فرمایا ہے“إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ۔ حقیقی دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے ”(ال عمران :19)۔ ایک جگہ ارشاد ہے“ أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ۔ کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں طوعا یا کرہا سب اسی کے مطیع ہیں اور سب اسی کی جانب لوٹیں گے ”یہی دین اللہ کا دین ہے اور یہی دین اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے ہمیشہ بھیجا۔ اسی دین کی پیروی اور اسی پر جینے اور مرنے کی وصیت حضرت ابراہیم و حضرت یعقوب نے اپنی اپنی اولاد کو فرمائی۔ لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں تحریف کر کے اس کا حلیہ بگاڑ ڈالا اور اس کی جگہ یہودیت و نصرانیت کے فتنے کھڑے کردیے۔ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ پس تم نہ مرنا مگر حالت اسلام پر، میں یہ مضمون پوشیدہ ہے کہ اس دین کی امانت ایک بھاری امانت ہے، اس امانت کا حق تمہیں مہد سے لے کر لحد تک ادا کرنا ہے۔ اس راہ میں بڑی بڑی آزمائشیں پیش آنی ہیں اور تمہیں ان آزمائشوں کا پورے عزم و ہمت سے مقابلہ کرنا ہے، خیال رکھنا، شیطان تمہیں کسی مرحلہ میں اس مقام سے ہٹانے نہ پائے۔ تمہیں اسی کے لیے جینا اور اسی کے لیے مرنا ہے۔
Ayah 2:133حضرت یعقوب ؑ کی وصیت : یہ سوال کا انداز مخاطب کو متنبہ کرنے اور تقریر کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اختیار فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم دعوی کرتے ہو کہ تمہارے بزرگ آباء و اجداد یہودیت یا نصرانیت پر تھے تو کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کا آخر وقت آیا اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو وصیت کے لیے بلایا ہے۔ اس وقت انہوں نے ان سے کس چیز کا اقرار لیا۔ توحید اور اسلام کا یا یہودیت اور نصرانیت کا ؟ اس سوال کے بعد قرآن نے حضرت یعقوب ؑ کا اپنے بیٹوں سے سوال اور ان کے بیٹوں کا متفقہ جواب نقل کیا ہے جو صاف صاف دین توحید اور اسلام کے حق میں ہے۔ یہود کے لٹریچر میں بھی اس وصیت سے متعلق جو روایت ملتی ہے اس کے الفاط اگرچہ قرآن کے الفاظ سے کچ مختلف ہیں لیکن ان سے تائید بہرحال قرا ان ہی کے بیان کی نکلتی ہے نہ کہ بنی اسرائیل کے مذکورہ دعوے کی۔ اس لیے کہ اس میں یہودیت یا نصرانیت کی طرف کوئی اشارہ بھی موجود نہیں ہے۔ ہمارے مخدودم مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے یہود کے لٹریچر سے تلاش کر کے اس موقع پر اپنی تفسیر میں دو حوالے نقل کیے، ایک حضرت اسحاق کی وصیت سے متعلق ہے، دوسرا حضرت یعقوب کی وصیت سے متعلق“ جب اسحاق نے دیکھا کہ اس کا وقت موعود آپہنچا تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور کہاں کہ میں تمہیں خدائے تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کی صفات اعلی، عظیم، قیوم، عزیزی ہیں، اور جو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا خالق ہے کہ تم خوف اسی کا رکھنا اور عبادت اسی کی کرنا، یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا، مجھے اندیشہ ہے کہ، تم میں سے کوئی بت پرستی کا میلان رکھتا ہے۔ اس کے جواب میں بارہ بیٹوں نے کہا۔ سن اے اسرائیل، اے ہمارے باپ، ہمارا خدا، وہی خدائے لم یزل ہے۔ جس طرح تیرا دلی ایمان ایک خدا پر ہے۔ اسی طرح ہم سب کا دلی ایمان ایک خدا پر ہے ”(گنز برگ کی قصص یہود جلد اول 416)۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ قرآن نے خاص طور پر حضرت یعقوب ؑ کے وقت موت کی وصیت کا حوالہ دیا ہے جس سے کئی باتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ حضرت یعقوب نے یہ عہد واقرار اپنی اولاد سے اپنے بالکل آخری لمحاتِ زندگی میں لیا ہے، اس وجہ سے یہ گمان کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے بعد ان کے مسلک و مذہب میں کوئی تبدیلی واقع ہوگئی ہو۔ دوسری اس بات کی طرف کہ ایک شفیق و مہربان باپ، جو خدا کا ایک پیغمبر بھی ہے، اپنی اولاد سے جو عہد و اقرار اپنے بالکل آخری لمحاتِ زندگی میں لیتا ہے، اس کے اور اس کی اولاد کے درمیان سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا واقعہ وہی عہد و اقرار ہوسکتا ہے اور باوفا اولاد کا یہ سب سے بڑا اور سب سے مقدس فرض ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات کے اندر اس عہد کو نبا ہے، صرف ناخلف اولاد ہی اس نوعیت کے عہد و اقرار کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ تیسری یہ کہ اللہ سے ڈرنے والے اور اپنی اولاد سے سچی محبت کرنے والے ایک باپ کا زندگی میں اپنی اولاد سے متعلق آخری فریضہ یہ ہے کہ وہ مرتے دم ان کی دنیا سے زیادہ ان کی آخرت کی فکر کرے اور ان کو دین حق پر قائم رہنے اور اسی دین پر جینے اور مرنے کی تلقین کرے۔
وصیت اور اس کے جواب کے بعض دقیق پہلو : حضرت یعقوب ؑ نے ‘ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ”(تم میرے بعد کس چیز کی عبادت کرو گے) میں سوال کے لیے مَا کا لفظ استعمال کر کے سوال میں زیادہ سے زیادہ وسعت پیدا کردی تاکہ جواب دینے والوں کے ذہن میں معبود سے متعلق اگر کوئی تردد ہو تو وہ اس سوال کے جواب میں ظاہر ہوجائے لیکن ان کے بیٹوں کا جواب واضح کرتا ہے کہ اس وقت تک ان کے ذہن میں معبود سے متعلق کوئی الجھن موجود نہیں تھی۔ انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں اس کی توحید کا بھی اقرار کیا اور اسی کو سزوار عبادت اور سزاوار اطاعت قرار دیا۔ اس آیت میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت یعقوب کی اولاد نے اس موقع پر جس احساس فخر و اعتماد کے ساتھ حضرت اسحاق ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کو اپنے آباء و اجداد میں گنایا ہے، اسی فخر و اعتماد کے ساتھ انہوں نے حضرت اسماعیل کا بھی حوالہ دیا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب کے زمانے تک ان کی اولاد کے اندر حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی ذریت کے خلاف وہ تعصبات نہیں پیدا ہوئے تھے جو بعد میں پیدا ہوگئے۔
Ayah 2:134خلاصہ بحث : یہ آیت اس سلسلہ بیان میں دو مرتبہ آئی ہے۔ ایک یہاں، پھر چند ہی آیات کے بعد پارے کے خاتمے پر جہاں یہ سلسلہ بیان ختم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ خلاصہ بحث ہے جو مخاطب کے سانے رکھنا مقصود ہے۔ بتانا یہ ہے کہ تمہارا سارا فخر و اعتماد اپنے باپ دادا پر رہ گیا ہے، تم سمجھتے ہو کہ تمہارے حصے کے اعمال بھی وہ انجام دیے گئے، اب تمہیں صرف ان کی نیکیوں کے پھل کھانے ہیں، تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں رہ گئی ہے۔ یہ فخر و اعتماد بالکل وہم و خیال پر مبنی ہے، انہوں نے اپنے حصے کی ذمہ داریاں انجام دی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو انجام دے کر اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں، وہ اپنی نیکیوں کا صلہ خود پائیں گے، اس کا کوئی حصہ بھی تمہیں ملنے والا نہیں ہے۔ تمہارا ذمہ داریاں تمہارے اوپر ہیں، اگر تم ان کو انجام دو گے تو ان کا صلہ پاؤ گے، ورنہ ان کی سزا بھگتو گے۔ خدا کے ہاں تم سے تمہارے آباء و اجداد کے اعمال سے متعلق پرسش نہیں ہونی ہے بلکہ خود تمہارے اپنے اعمال سے متعلق ہونی ہے۔
Ayah 2:135اسلام میں اصل ملت ابراہیم ہے : اوپر آیت 111 کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں کہ اسلام کی مخالفت کے جوش میں یہود اور نصاری دونوں متحد ہو کر یہ بات کہتے تھے کہ جو شخص ہدایت اور نجات کا طالب ہو وہ یہودیت اختیار کرے یا نصرانیت، یہ دونوں خدائی دین ہیں، یہ تیسرا دین، جو اسلام کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے کوئی دین نہیں ہے۔ جواب میں فرمایا قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ حَنِيْفًا (کہدو، بلکہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو یک سو تھا)۔ ‘ ملت ’ کا لفظ یہاں حالت نصب میں ہے اس وجہ سے لازماً یہاں کوئی فعل محذوف ماننا پڑے گا۔ عام طور پر لوگ یہاں ماضی کا صیغہ محذوف مانتے ہیں۔ یعنی کہو ہم نے پیروی کی ملت ابراہیم کی۔ میں نے یہاں امر کا صیغہ محذوف مانا ہے اور ترجمہ میں اسی کا لحاظ کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہاں یہ جواب، جیسا کہ لفظ ‘ قل ’ سے واضح ہے، پیغمبر ﷺ کی زبان سے دلوایا گیا ہے۔ پیغمبر ﷺ کی زبان سے بالخصوص اہل کتاب کی گمراہ کن دعوت کے جواب میں دعوت ہی کا خطاب موزوں تھا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کی زبان سے اپنے ایمان واسلام کا بیان آگے والی آیت میں قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ کے الفاظ سے آ رہا ہے۔ اس وجہ سے اس آیت کو دعوت ہی کے مفہوم میں لینا زیادہ مناسب ہ ہے۔ تیسری یہ کہ عربی زبان میں جب اس طرح منصوب آتا ہے تو اس کا مزاج مخاطب کو کسی بات پر ابھارنے یا اس کو کسی چیز سے ڈرانے کے موقع و محل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے جس کے لیے امر کا صیغہ زیادہ موزوں ہے۔ حنیفا، حنف سے ہے جس کے اصل معنی مائل ہونے اور جھکنے کے ہیں۔ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے کٹ کر پوری یکسوئی کے ساتھ خدا کا ہو رہے۔ یہاں یہ لفظ ابراہیم سے حال پڑا ہوا ہے۔ اگرچہ ابراہیم حالت“ جر ”میں ہے اور مجرور سے حال پڑنے کے معاملہ میں اہل نحو بہت متردد ہیں لیکن مولانا فراہی ؒ نے اپنی تفسیر میں سورة فیل میں نہایت قوی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ عربی زبان میں یہ طریقہ معروف ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے حنیف کی صفت قرٓان مجید نے بار بار استعمال کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود و نصاری اور مشرکین سب ان کو اپنا روحانی پیشوا مانتے تھے اور ان تینوں ہی گروہوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ جس مذہب پر ہیں یہ حضرت ابراہیم ہی کی وراثت ہے۔ قرآن مجید نے مختلف دلائل سے پہلے ان کے اس دعوے کی تردید کی۔ پھر فرمایا کہ ابراہیم حنیف تھے، وہ خدا کی قائم کردہ صراط مستقیم، ملت اسلام، سے سرمو ادھر ادھر نہیں ہوئے، نہ وہ یہودیت اور نصرانیت کی پگڈنڈیوں کی طرف مڑے، نہ مشرکین کی ضلالتوں میں مبتلا ہوئے۔ بلکہ برابر اسلام کی اسی شاہراہ پر قائم رہے جو خدا نے کھولی تھی اور جو خدا تک پہنچانے والی واحد سیدھی راہ ہے۔
Ayah 2:136امت مسلمہ کا موقف : یہ یہود و نصاریٰ کی دعوت کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤگے کا مسلمانوں کی طرف سے جواب ہے کہ تم کہہ دو کہ ہم اللہ اور اللہ کی اس ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر اتری ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق یعقوب اور اولاد یعقوب کی مختلف شاخوں پر ان کے انبیاء کے واسطہ سے اتری ہے اور اس ہدایت پر بھی ہمارا ایمان ہے جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کے وسطہ سے اتری ہے اور اس ہدایت پر بھی ہمارا ایمان ہے جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی جانب سے ملی۔ ہم ان انبیاء کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرمانبردار ہیں۔ خدا کی شریعت اور اس کے نبیوں اور رسولوں کے باب میں یہ امت مسلمہ یا امت و سط کا موقف یا بالفاظ دیگر کلمہ بیان ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ امت خدا کی اتاری ہوئی کسی ہدایت کی نہ تو تردید کرتی اور نہ کسی نبی یا رسول کی تکذیب کرتی بلکہ بغیر کسی تفریق واستثنا کے سبب پر ایمان رکھتی ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ خدا کے ان نبیوں اور رسولوں نے اپنی اپنی امتوں کو جو تعلی میں دی تھیں ان کی امتوں نے ان میں یا تو ملاوٹ کردی یا ان کے کچھ حصہ کو فراموش کردیا، اب اس امت کو جو شریعت ملی ہے وہ خدا کی اصل ہدایت کو اس کی آخری اور مکمل شکل میں پیش کرتی ہے۔
‘ اسباط ’ کا مفہوم : آیت میں اسباط کا لفظ سبط کی جمع ہے۔ اس کا لغوی مفہوم بڑھنے اور پھیلنے کا ہے۔ اسی مفہوم کے لحاظ سے ایک باپ کی اولاد اور ان کی مختلف شاخوں کے لیے اس کا استعمال ہوا اور نسل یعقوب کی مختلف شاخوں کے لیے تو اس کا استعمال اس قدر معروف ہے کہ معلوم ہوتا ہے انہی کے لیے وضع ہوا ہے۔ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ (ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے) کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہود و نصاریٰ کی طرح یہ نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر ایمان نہ لائیں۔ اس مطلب کی وضاحت خود قرآن نے دوسری جگہ کردی ہے“ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا ”(اور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ سے کوئی راہ پیدا کریں) اس سے معلوم ہوا کہ ابیاء میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا سب کے انکار کے ہم معنی ہے اور یہ صرف نبیوں اور نبیوں ہی میں تفریق نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول میں بھی تفریق ہے۔
Ayah 2:137یہود و نصاری کے لیے نجات کی راہ : یعنی اگر یہی کلمہ جامعہ وہ بھی قبول کرلیں، جس طرح تم تمام انبیاء اور تمام ہدایتوں پر ایمان لائے ہو اسی طرح یہ بھی ایمان لائیں تو بلاشبہ وہ راہ یاب ہوں گے۔ راہ یاب ہونے کا راستہ یہودی یا نصرانی ہونا نہیں ہے جیسا کہ یہود و نصاری دعوی کرتے ہیں، بلکہ اس کا راستہ وہی ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی تمام نبیوں اور تمام رسولوں پر بلا کسی تفریق و تعصب کے ایمان لانا۔ اگر وہ اس چیز سے انکار کرتے ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ تمہاری مخالفت کے درپے ہیں اور اتحاد و اتفاق کی راہ چھور کر یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے خلاف اپنی ایک الگ پارٹی کھری رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو انہیں ان کی اختیار کی ہوئی راہ پر چلنے دو ، ان کے مقابلہ کے لیے تمہاری طرف سے اللہ کافی ہے۔ آخر میں اپنی صفات میں سے سمیع وعلیم کا حوالہ دینے کا مقصد نبی ﷺ کو اطمینان دلانا ہے کہ تمہاری مخالفت میں یہ جو سازشیں اور ریشہ دوانیاں بھی کریں تم ان سے مطلق ہراساں نہ ہو، جو خدا تمہاری طرف سے ان سے لڑنے کھڑا ہوا ہے وہ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 2:138یہود و نصاری کو دعوت : یہود و نصاری کو مخاطب کر کے دعوت دی گئی ہے کہ اگر اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہو تو یہودیت و نصرانیت کو چھوڑ کر یہ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ یہ کلمہ جامعہ جس کا اوپر ذکر گزرا، اپنے اندر اللہ کی تمام ہدایتوں اور اس کے تمام نبیوں اور تمام رسولوں کو سمیٹے ہوئے ہے، یہ وہ کلمہ ہے جس سے زندگی پر خدا کا اصلی رنگ چڑھتا ہے، پس اگر زندگی کو خدا کے رنگ میں رنگنا ہے تو اس رنگ میں رنگو، اس رنگ سے بڑھ کر کس کا رنگ ہوسکتا ہے ؟ اس میں یہود و نصاری کے بپتسمہ کی طرف ایک تعریض بھی ہے اور بغیر کس فعل کے لفظ صیغہ کا منصوب ہونا ہمارے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کوئی ایسا صیغہ محذوف مانا جائے جو ابھارنے اور جوش دلانے کے مضمون پر مشتمل ہو۔
Ayah 2:139یہود و نصاری سے اظہار براءت : یعنی اگر اس کلمہ جامعہ کو نہیں مانتے جو تمام نبیوں اور رسولوں اور اللہ کی اتاری ہوئی تمام ہدایتوں پر ایمان اور اللہ ہی کی بندگی و اطاعت کے اقرار پر مشتمل ہے، بلکہ اس بات پر اڑ گئے ہیں کہ خدا کے بعض نبیوں کو مانیں گے بعض کو نہیں مانیں گے، اس کی بعض ہدایتوں کو قبول کریں گے، بعض کو نہیں قبول کریں گے در آنحالیکہ یہ تمام انبیاء و رسل خدا ہی کے بھیجے ہوئے اور یہ ساری ہدایتیں اسی کی نازل کی ہوئی ہیں تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ وہ خود خدا کے بارے میں تم سے جھگڑ رہے ہیں، گویا ان کا خدا کوئی اور ہے اور تمہارا خدا کوئی اور، حالانکہ تمہارا اور ان کا رب ایک ہی ہے۔ اگر انہوں نے فی الواقع بات اس حد تک بڑھا دی ہے کہ اپنا خدا بھی الگ بنا لیا ہے تو اب ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو بلکہ اب یہ بحث و گفتگو بالکل ختم کر کے صاف صاف کہہ دو کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ۔ یعنی اب ہم تمہارے ساتھ کوئی بحث و مناظرہ کرنا بالکل لا حاصل سمجھتے ہیں۔ جب تم خدا کے بارے میں بھی یکسو نہیں ہو تو ہم تم سے کوئی بحث کرنے کے بجائے صرف یہ واضح کرنا کافی سمجھتے ہیں کہ ہم تو خالص اپنے رب ہی کے لیے ہیں۔
Ayah 2:140یہ یہود و نصاری سے حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کے باب میں ان کے دعوے کو پھر دہرانے کا مطالبہ بطور اتمام حجت کے کیا ہے۔ یعنی کیا فی الواقع تم یہ سنگین بات کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے اخلاف یہودی یا نصرانی تھے، پھر سرزنش کے انداز میں سوال کرایا ہے کہ ان لوگوں کے مذہب و عقیدہ کا حال تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ پھر بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ ان لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو چھپائیں، یعنی تورات موجود ہے، اس میں ان لوگوں کے مذہب و عقیدہ کی تفصیلات موجود ہیں، اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کے زمانوں میں یہودیت اور نصرانیت کا کہیں نام و نشان بھی پایا نہیں جاتا تھا۔ یہ نام تو تم نے ان کے صدیوں بعد گھڑے ہیں۔ خدا نے ہمیشہ اپنے نبیوں اور رسولوں پر وہی دین اتارا ہے جس کا نام اسلام ہے۔ اس کے بعد نہایت سخت دھمکی کے انداز میں فرمایا کہ یہ اللہ کے دین کے خلاف جو شرارتیں تم کر رہے ہو، خدا ان سے بیخبر نہیں ہے، اس کا انجام تمہارے سامنے آئے گا۔
Ayah 2:141بعینہ یہی آیت اوپر بھی گزر چکی ہے۔ جس سیاق میں یہ اوپر آئی ہے اسی سیاق میں یہاں بھی آئی ہے۔ وہاں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر آیت 134۔