Ayah 2:276محق کے معنی گھٹانے اور مٹانے کے ہیں۔ اسی سے محق اللہ الشیء نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے اس چیز کی برکت مٹادی۔ ارباء کے معنی بڑھانے اور زیادہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سود خور تو یہ سمجھتا ہے کہ سود سے سرمایہ بڑھتا اور خیرات سے گھٹتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ گھٹانا اور بڑھانا دنیوی زندگی کے محدود تصور کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی مجموعی زندگی کے لحاظ سے ہے۔ جب اخروی زندگی کی صبح ہوگی تو سود خور دیکھے گا کہ دنیا کے بنک میں تو اس کے لاکھوں روپے جمع تھے لیکن خدا کے بنک میں اس کی ایک کوڑی بھی نہیں ہے، صرف حسرت و ندامت ہی اس کا سرمایہ ہے۔ برعکس اس کے خدا کی راہ میں انفاق کرنے والا جب اس زندگی میں آنکھ کھولے گا تو دیکھے گا کہ اس کے خزف ریزوں کے عوض یہاں ابدی قدر و قیمت رکھنے والے جواہرات کے پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ اس امر کی وضاحت بھی ہے کہ اس گھٹنے اور بڑھنے کا تعلق آخرت ہی کی زندگی سے ہے۔ مثلاً“ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ : اور جو مال تم سود کے لیے دیتے ہو کہ وہ لوگوں کے مال میں پل کر برھے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور یہ جو تم زکوۃ دیتے ہو، اس کی رضا طلبی میں، تو یہی لوگ خدا کے ہاں بڑھانے والے ہیں ”(روم :39)۔
احادیث سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ ایک حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔“ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کو قبول کرتا ہے اور اس کو اپنے داہنے ہاتھ سے لیتا ہے، پھر وہ اس کو تمہارے لیے اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ تمہارا دیا ہوا ایک لقمہ خدا کے ہاں احد پہاڑ کی مانند بن جائے گا ”۔ اگرچہ سود کے سرمایہ میں کوئی خیر و برکت اس دنیا کی زندگی میں بھی نہیں ہوتی لیکن آیت کا تعلق آخرت ہی کے نتائج وثمرات سے ہے۔
سود کی بےبرکتی کا باعث : كَفَّار کے معنی یہاں ناشکرے کے ہیں اور اَثِيْم کے معنی، جیسا کہ ہم دوسری جگہ وضاحت کرچکے ہیں، دوسروں کے حقوق تلف کرنے والے کے ہیں۔ یہ ٹکڑا اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ سود خور کے سرمایہ کو مٹائے گا۔ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناشکرا اور اللہ کے بندوں کے حقوق تلف کرنے والا ہے اور اللہ ان لوگوں کو کبھی دوست نہیں رکھ سکتا جو اس کی ناشکری کرنے والے اور اس کی مخلوق کے حوق تباہ کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی ضرورت سے زیادہ مال دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ اور جس طرح اللہ نے اس کے اوپر احسان فرمایا ہے اسی طرح وہ دوسروں پر احسان کرے لیکن جب وہ مال کو پا کر اس مال ہی کی بندگی میں لگ جاتا ہے اور دوسروں کے لیے سہارا بنانے کے بجائے اس کو ان کا خون چوسنے اور ان کے حقوق تلف کرنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے تو ایسا قسی القلب اور نا شکرا اسی بات کا سزا وار ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی دلوت صرف موجبِ وبال و خسران ہو، اور محرومی کے سوا اس کے پلے کچھ نہ پڑے۔
Ayah 2:277اہل ایمان کے عظیم اجر وثواب کا ذکر فرمایا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اشارہ ان اہل ایمان کی طرف ہے جن کے صدقات میں برکت کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ فرمایا ہے۔ اس آیت کے تماما اجزاء کی تشریح مختلف مقامات میں گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayah 2:278سودی کاروبار پر آخری ضرب : اس آیت میں اہل ایمان کو براہ راست خطاب کر کے اللہ سے ڈرتے رہنے اور سود کا جو حصہ قرضداروں کے ذمہ ابھی باقی تھا اس سے بالکل دستبردار ہوجانے کی ہدایت فرمائی اور اس کو ایمان کا لازمی تقاضا ٹھہرایا۔ اس سے پہلے سود سے متعلق جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی نوعیت نصیحت و موعظت کی تھی اور ان کی بنیاد اس امر پر تھی کہ آسمانی مذاہب اور دنیا کے معروف میں اس کی حیثیت ہمیشہ سے ایک حرام یا کم از کم ایک مکروہ شے کی رہی ہے۔ اہل عرب اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے۔ اس وجہ سے قرآن نے مکی دور ہی سے اس کا ظلم ہونا واضح کرنا شروع کردیا تھا چناچہ اسی پہلو سے اس کا ذکر سورة روم میں بھی ہوا ہے اور وہ ایک مکی سورة ہے لیکن چونکہ اس کی نوعیت ایک وسیع معاشی فساد کی تھی جس کی اصلاح بغیر اس کے ممکن نہیں تھی کہ ملک کا پورا نطام عملاً اسلام کے زیر اقتدار ہو اس وجہ سے اس پر آخری ضرب حجۃ الوداع کے موقع پر لگائی گئی۔ یہ آیتیں اسی موقع پر نازل ہوئیں اور مضمون کی مناسبت کی وجہ سے ان کو ترتیب میں یہاں جگہ دی گئی۔
Ayah 2:279سود خوروں کو الٹی میٹم : اس کی نوعیت بالکل الٹی میٹم کی ہے یعنی اب جو لوگ اس حکم کو نہ مانیں گے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہوجائیں۔ سود کے متعلق جو لب و لہجہ ان آیات کا ہے بعینہ یہی لہجہ سود سے متعلق آنحضرت ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع میں معلوم ہوتا ہے جس سے ان آیات کے زمانہ نزول کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس آیت سے صریح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی نظام میں سودی کاروبار کرنے والوں کی حیثیت باغیوں اور مفسدوں کی ہے جن کی سرکوبی کے لیے عند الضرورت فوجی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس پر تفصیلی بحث سورة مائدہ میں آئے گی۔
اس الٹی میتم کے بعد سودی کاروبار رکھنے والوں کو صرف اس امر کی اجازت دی گئی کہ وہ اپنی اصل رقمیں قرض داروں سے واپس لے سکتے ہیں، نہ وہ اس میں کسی چال سے سود کی کوئی رقم جوڑ کر قرض دار کی حق تلفی کی راہ ڈھونڈھیں اور نہ قرض داروں کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ اس اصلاح سے فائدہ اٹھا کر مہاجنوں کی اصل رقمیں بھی دبا بیٹھنے کی کوشش کریں۔ یہ تنبیہ اس لیے ضروری ہوئی کہ جب کوئی اہم اور معاشی اصلاح عمل میں آتی ہے تو اس سے متاثر ہونے والے طبقات میں بڑی ہلچل پیدا ہوجاتی ہے۔ جن کو اس اصلاح سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے وہ ایسی تدبیریں اور ایسے حیلے اختیار کرتے ہیں جن سے وہ اپنے آپ کو نقصان سے بچا لے جائیں اور جنہیں فائدہ پہنچنے کی توقع ہوتی ہے وہ فائدہ کی اسی مقدار پر قناعت نہیں کرنا چاہتے جو انہیں قانون پہنچا رہا ہے بلکہ وہ قانون کی حدود سے آگے بڑھ کر ہاتھ مارنا چاہتے ہیں۔ اس افراتفری اور کشاکش کو روکنے کے لیے قرآن نے اول تو اس کے لیے بہت پہلے سے، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، ذہنوں کو تیار کیا، پھر جب آخری حکم دیا تو اس کے ساتھ یہ ہدایت فرما دی کہ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۔ اسی ہدایت کی یہ برکت تھی کہ عرب میں یہ عظیم معاشی اصلاح بغیر کسی طبقاتی کش مکش کے عمل میں آگئی۔ نہ مہاجنوں پر کوئی آفت آئی نہ قرضداروں کو کوئی گزند پہنچا بلکہ دونوں اس اصلاح کی برکت سے یکساں طور پر مستفید ہوئے۔ اگر بات کے اپنے حدود سے آگے بڑھ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو یہاں ہم دکھاتے کہ دنیا میں دوسری قوموں کو اس قسم کی اصلاحات کے لیے کیا کیا قیمتیں دینا پڑی ہیں۔
Ayahs 2:280–281تفسیر آیت 80۔ 81۔ اوپر مہاجنوں کو یہ اجازت جو دی ہے کہ وہ اپنی اصل رقم قرضداروں سے واپس لے سکتے ہیں، اس کے ساتھ ان کو یہ ہدایت دی کہ اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اس کو ہاتھ کشادہ ہونے تک مہلت دو ، اور اگر ایسی حالت میں اپنی اصل رقم بھی معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے، اس کا اجر وثواب بےپایاں ہے۔
حامیانِ سود کا ایک دعوی اور اس کا جواب : اس زمانے میں بعض کم سواد یہ دعوی کرتے ہیں کہ عرب میں زمانہ نزول قرآن سے پہلے جو سود رائج تھا یہ صرف مہاجنی سود تھا۔ فریب اور نادار لوگ اپنی ناگیر ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے مہاجنوں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے تھے اور یہ مہاجن ان مظلوموں سے بھاری بھاری سود وصول کرتے تھے۔ اسی سود کو قرآن نے ربوٰ قرار دیا ہے اور اسی کو یہاں حرام ٹھہرایا ہے۔ رہے یہ تجارتی کاروباری قرضے جن کا اس زمانے میں رواج ہے تو ان کا اس زمانے میں نہ دستور تھا نہ ان کی حرمت و کراہت سے قرآن نے کوئی بحث کی ہے۔
عرب میں تجارتی قرضوں پر سود لینے کا بھی رواج تھا : ان لوگوں کا نہایت واضح جواب خود اس آیت کے اندر ہی موجود ہے۔ جب قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ اگر قرض دار تنگ دست (ذو عسرۃ) ہو تو اس کو کشادگی (میسرہ) حاصل ہونے تک مہلت دو تو اس آیت نے گویا پکار کر یہ خبر دے دی کہ اس زمانے میں قرض لینے والے امیر اور مال دار لوگ بھی ہوتے تھے۔ بلکہ یہاں اگر اسلوب بیان کا صحیح صحیح حق ادا کیجیے تو یہ بات نکلتی ہے کہ قرض لین دین کی معاملت زیادہ تر مال داروں ہی میں ہوتی تھی۔ البتہ امکان اس کا بھی تھا کہ کوئی قرض دار تنگ حالی میں مبتلا ہو کہ اس کے لیے مہاجن کی اصل رقم کی واپسی بھی ناممکن ہو رہی ہو تو اس کے متعلق یہ ہدایت ہوئی کہ مہاجن اس کو اس کی مالی حالت سنبھلنے تک مہلت دے اور اگر اصل بھی معاف کردے تو یہ بہتر ہے۔ اس معنی کا اشارہ آیت کے الفاظ سے نکلتا ہے اس لیے کہ فرمایا ہے کہ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ (اگر قرض دار تنگ حال ہو تو اس کو کشادگی حاصل ہونے تک مہلت دی جائے) عربی زبان میں ‘ ان ’ کا استعمال عام اور عادی حالات کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بالعموم نادر اور شاذ حالات کے بیان کے لیے ہوتا ہے۔ عام حالات کے بیان کے لیے عربی میں ‘ اذا ’ ہے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو آیت کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اس زمانہ میں عام طور پر قرض دار ذو میسرۃ (خوش حال) ہوتے تھے لیکن گاہ گاہ ایسی صورت بھی پیدا ہوجاتی تھی کہ قرضدار غریب ہا یا قرض لینے کے بعد غریب ہوگیا ہو تو اس کے ساتھ اس رعایت کی ہدایت فرمائی۔
یوں تو اس تفسیر میں جو کچھ بھی میں لکھ رہا ہوں سب استاذ ؒ ہی کا فیض ہے لیکن خاص اس آیت سے متعلق ان کے اپنے الفاظ بھی مجھے مل گئے ہیں جو کم از کم آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے ان کے قلم سے نکلے ہیں جب سود کے مسئلہ میں معترضین کی یہ موشگافیاں نہیں پیدا ہوئی تھیں جو اب پیدا ہوگئی ہیں۔ اس وقت مولانا نے بالکل غیر جانبدارانہ ذہن کے ساتھ، مجرد قرآن کے الفاظ سے جو رائے اس مسئلہ پر قائم فرمائی تھی وہ یہ ہے۔“ وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ، یلوح من ھذہ الکلمات انھم کانوا یاخذون الربوا من ذی میسرۃ والقریش کا نت تجادا واصحاب الربوا فلا اری فرقا بین حالھم وحال ابناء زماننا فی الربوا، واللہ اعلم بالصواب : وان کان ذو عسرۃ الایۃ کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اہل عرب خوش حالوں سے بھی سود لیتے تھے۔ پھر قریش تاجر لوگ تھے اور سودی بیوپار ان میں راج تھا۔ اس وجہ سے اس معاملے ان کے اور ہمارے حالات کے درمیان کوئی خاص فرق مجھے در باب سود نظر نہیں آتا۔ واللہ اعلم بالصواب ”۔
ظاہر ہے کہ مالدار لوگ اپنی ناگزیر ضروریات زندگی کے لیے مہاجنوں کی طرف رجوع نہیں کرتے رہے ہوں گے بلکہ وہ اپنے تجارتی مقاصد ہی کے لیے قرض لیتے رہے ہوں گے۔ پھر ان کے قرض اور اس زمانے کے ان قرضوں میں جو تجارتی اور کاروباری مقاصد سے لیے جاتے ہیں کیا فرق ہوا ؟
Ayah 2:282‘ املاء ’ اور ‘ املال ’ کا مفہوم : اس آیت میں کوئی خاص لفظی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ لفظ املال کے معنی وہی ہیں جو ‘ املاء ’ کے کے ہیں، یعنی لکھوانے کے۔ قرآن ان دونوں لفظوں کو استعمال کیا ہے اور بعینہ ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے۔ میں نے ان دونوں کے مادے اور مشتقات پر جہاں تک غور کیا ہے اس سے میرا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ لکھوانے کے معنی میں اصل لفظ تو املاء ہی کا ہے لیکن صوتی مشابہت کی وجہ سے املال بھی اس معنی میں استعمال ہونے لگا ورنہ بجائے خود املال کے مادے میں لکھنے یا لکھانے کے مضمون کے لیے کچھ زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ صوتی مشابہت کی بنا پر ایک مادے سے دوسرے مادے کی طرف الفاظ کے منتقل ہوجانے کی عربی زبان میں بکثرت مثالیں موجود ہیں لیکن اس قسم کی تفصیلات میں ہمارے لیے زیادہ گھسنے کی گنجائش نہیں ہے۔
‘ فسوق بکم ’ کا مفہوم : آیت کے آخر میں لفظ ‘ فسوق ’ کے ساتھ جو ‘ بکم ’ کا لفظ آیا ہے اس میں ‘ ب ’ کا تعلق فسوق کے ساتھ بعض لوگوں کو بیگانہ سا محسوس ہوگا۔ ایسے لوگوں کو عربی زبان کا یہ اسلوب یاد رکھنا چاہئے کہ جب صلہ اور اس کے متعلق میں بیگانگی ہو تو وہاں کوئی ایسا لفظ محذوف مان لیتے ہیں جو اس صلہ سے موافقت رکھنے والا ہو۔ یہاں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘ فسوق ’ کے بعد کوئی لفظ لازم ہوجانے اور چپک جانے کے مفہوم کا محذوف ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم نے فلاں بات کی تو یہ تمہاری طرف سے ایسے فسق کا ارتکاب ہوگا جو تمہارے ساتھ چپک کے رہ جائے گا، اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔
قرض لینے والوں اور دینے والوں کو نقصان اور نزاع سے بچانے کے لیے ہدایات :
یہاں سودی قرضوں کے سلسلے کو یک قلم ختم کرنے کے بعد قرض دینے والوں اور قرض داروں دونوں کو نزاع اور نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے ندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں :
(الف): جب کوئی قرض لین دین ایک خاص مدت تک کے لیے ہو تو اس کی دستاویز لکھ لی جائے۔
(ب): یہ دستاویز دونوں پارٹیوں کی موجودگی میں دغل فشل نہ کرے اور جس کو لکھنے کا سلیقہ ہو اس کو چاہئے کہ وہ اس خدمت سے انکار نہ کرے۔ لکھنے کا سلیقہ اللہ کی ایک نعمت ہے، اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ آدمی ضرورت پڑنے پر لوگوں کے کام آئے۔ اس نصیحت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس زمانے میں لکھے پڑھے لوگ کم تھے۔ دستاویزوں کی تحریر اور ان کی رجسٹری کا سرکاری اہتمام اس وقت تک نہ عمل میں آیا تھا اور نہ اس کا عمل میں آنا ایسا آسان تھا۔
(ج): دستاویز کے لکھوانے کی ذمہ داری قرض لینے والے پر ہوگی۔ وہ دستاویز میں اعتراف کرے گا کہ میں فلاں بن فلاں کا اتنے کا قرضدار ہوں اور لکھنے والے کی طرح اس پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس اعتراف میں تقوی کو ملحوظ رکھے اور ہرگز صاحب حق میں کسی قسم کی کمی کرنے کی کوشش نہ کرے۔
(د): اگر یہ شخص کم عقل ہو یا ضعیف ہو یا دستاویز وغیرہ لکھنے لکھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی یا وکیل ہو وہ اس کا قائم مقام ہو کر انصاف اور سچائی کے ساتھ دستاویز لکھوائے۔
(ہ): اس پر دو مردوں کی گواہی ثبت ہوگی جن کے متعلق ایک ہدایت یہ ہے کہ وہ“ من رجالکم ”یعنی اپنے مردوں میں سے ہوں، جس سے بیک وقت دو باتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مسلمان ہوں۔ دوسری یہ کہ وہ اپنے میل جول اور تعلق کے لوگوں میں سے ہوں کہ فریقین ان کو جانتے پہچانتے ہوں۔ دوسری یہ کہ وہ“ ممن ترضون ”یعنی پسندیدہ اخلاق و عمل کے، ثقہ، معتبر اور ایماندار ہوں۔
(و): اگر مذکورہ صفات کے دو مرد میسر نہ آسکیں تو اس کے لیے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ دو عورتوں کی شرط اس لیے ہے کہ اگر ایک سے کسی لغزش کا صدور ہوگا تو دوسری کی تذکیر و تنبیہ سے اس کا سد باب ہوسکے گا۔ یہ فرق عورت کی تحقیر کے پہلو سے نہیں ہے بلکہ اس کی مزاجی خصوصیات اور اس کے حالات و مشاغل کے لحاظ سے یہ ذمہ داری اس کے لیے ایک بھاری ذمہ داری ہے اس وجہ سے شریعت نے اس کے اٹھانے میں اس کے لیے سہارے کا بھی انتظام فرما دیا ہے یہ موضوع اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ سورة نساء میں زیر بحث آئے گا۔
(ز): جو لوگ کسی دستاویز کے گواہوں میں شامل ہوچکے ہوں، عند الطلب ان کو گواہی سے گریز کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے کہ حق کی شہادت ایک عظیم معاشرتی خدمت بھی ہے اور شہداء اللہ ہونے کے پہلو سے اس امت کے فریضہ منصبی کا ایک جزو بھی۔
(ح) قرض لین دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اگر وہ کسی مدت کے لیے ہے، دست گرداں نوعیت کا نہیں ہے، تو اس کو قید تحریر میں لانے سے گرانی نہیں محسوس کرنی چاہئے۔ جو لوگ اس کو زحمت سمجھ کر ٹال جاتے ہیں وہ سہل انگاری کی وجہ سے بسا اوقات ایسے جھگڑوں میں پھنس جاتے ہیں جن کے نتائج بڑے دور رس نکلتے ہیں۔
(ط): مذکورہ بالا ہدایات اللہ کے نزدیک حق و عدالت سے قرین، گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و نزاع سے بچانے والی ہیں اس لیے معاشرتی صلاح و فلاح کے لیے ان کا اہتمام ضروری ہے۔
(ی) دست گرداں لین دین کے لیے تحریر و کتابت کی پابندی نہیں ہے۔
(ک): ہاں اگر کوئی اہمیت رکھنے والی خریدو فروخت ہوئی ہے تو اس پر گواہ بنا لینا چاہئے تاکہ کوئی نزاع پیدا ہو تو اس کا تصفیہ ہوسکے۔
(ل): نزاع پیدا ہوجانے کی صورت میں کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی فریق کے لیے جائز نہیں ہے۔ کاتب اور گواہ ایک اہم اجتماعی و تمدنی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو بلاوجہ نقصان پہنچانے کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ثقہ اور محتاط لوگ گواہی اور تحریر وغیرہ کی ذمہ داریوں سے گریز کرنے لگیں گے اور لوگوں کو پیشہ ور گواہوں کے سوا کوئی معقول گواہ ملنا مشکل ہوجائے گا۔
اس زمانے میں ثقہ اور سنجیدہ لوگ گواہی وغیرہ کی ذمہ داریوں سے جو بھاگتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی معاملہ نزاعی صورت اختیار کرلیتا ہے تو اس کے گواہوں کی شامت آجاتی ہے۔ یہ بےچارے ہتک، اغوا اور نقصانِ مال و جائداد بلکہ قتل تک کی تعدیوں کے نشانہ بن جاتے ہیں۔ قرآن نے اس قسم کی شرارتوں سے روکا کہ جو لوگ اس قسم کی حرکتیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ کوئی چھوٹی موٹی نافرمانی نہیں ہے جو آسانی سے معاف ہوجائے گی بلکہ یہ ایک ایسا فسق ہے جو ان کے ساتھ چمٹ کے رہ جائے گا اور اس کے برے نتائج سے پیچا چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔ یہ اس شہادت کی بنیاد کو ڈھانے کی کوشش ہے جو اس امت کی بعثت کی اصل غایت ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا نافرمانیوں پر فوراً نہیں پکڑا کرتا۔ لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس سے چھوٹ نہیں سکتا۔ پھر فرمایا کہ یہ“ اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے ”جس میں سر تا سر تمہارا اپنا ہی نفع ہے اور وہی ہے جو ساری باتوں سے واقف ہے اس وجہ سے اسی کو تعلیم و ہدایت دینے کا حق پہنچتا ہے۔
Ayah 2:283‘ رہان مقبوضہ ’ کا مفہوم :‘ رہان ’ رہن کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ شے ہے جو قرض دینے والے کے قرض کی ضمانت کے طور پر اس کے قبضے میں کرا دی جائے۔ فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ بالکل اسی طرح کا جملہ ہے جس طرح سورة یوسف میں“ فصبر جمیل ”ہے۔ اس کو مبتدا مان کر اس کی خبر کو محذوف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو خبر مان کر اس کو مبتدا مان کر اس کی خبر کو محذوف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو خبر مان کر اس کے مبتداء کو محذوف بھی مان سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر لکھا پڑھی اور گواہی شہادت کی صورت مفقود ہو تو کوئی چیز بطور رہن قبضے میں کرا کے بھی قرض کی معاملت کی جاسکتی ہے۔
“ امن فلانا ”کے معنی یہ ہیں کہ فلاں شخص اپنے آپ کو فلاں کی طرف سے خطرے سے محفوط سمجھتا ہے، اس کی طرف سے مامون ہے، اس پر اعتماد کرتا ہے۔
اٰثِمٌ قَلْبُهٗ کی حقیقت : اٰثِمٌ قَلْبُهٗ (اس کا دل آلودہ گناہ ہے)۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ بعض گناہ تو ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر انسان کے محض ظاہری اعضا ہی تک محدود رہتا ہے، اس کی نوعیت بس اوپر گرد و غبار کی ہوتی ہے، مثلا لغو قسمیں جو بےمقصد کھائی جاتی ہیں۔ اس طرح کے گناہ یا تو انسان کی روز مرہ کی معمولی نیکیوں سے آپ سے آپ جھڑ جاتے ہیں یا معمولی توجہ سے ان کی اصلاح ہوجایا کرتی ہے۔ دوسرے گناہ وہ ہوتے ہیں جن کی تحریک دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ ایسے گناہوں کے اثرات بھی دل تک متعدی ہوتے ہیں۔ گناہ کی یہ قسم خطرناک ہے۔ یہ دل کے فساد کی غمازی کرتی ہے۔ اگر اس سے احتیاط نہ کی جائے یا صادر ہوجانے کے بعد فوراً اس کی اصلاح کوشش نہ کی جائے تو اس کے جڑ پکڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اوپر ہم احاطہ کرنے والے گناہ اور چمٹ جانے والے فسق پر گفتگو کرچکے ہیں اس کو نگاہ میں رکھیے۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ شہادت کو چھپانا اسی نوعیت کا گناہ ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہے کہ شہادت علی الناس اس امت کا وہ اصل فریضہ منصبی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مامور فرمایا ہے اس وجہ سے اس سلسلے کی ہر کوتاہی بڑے د ور رس نتائج کی حامل ہے۔
رہن کے احکام : اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر حالت سفر میں قرض لین دین کی ضرورت پیش آن پڑے اور تحریر و شہادت کا اہتمام ممکن نہ ہو اور قرض دینے والا بغیر کسی ضمانت کے قرض دینے پر آمادہ نہ ہو تو یہ شکل بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ کوئی چیز بطور رہن اس کے قبضے میں کرا دی جائے۔ لیکن یہ شکل صرف اسی وقت تک کے لیے ہے جب تک قرض دینے والے کے لیے اطمینان واعتماد کی صورت نہیں پیدا ہوجاتی۔ جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ایک دوسرے پر اعتماد کے لیے جو باتیں مطلوب ہیں وہ فراہم ہوجائیں، مثلاً سفر ختم کر کے حضر میں آگئے، دستاویز کی تحریر کے لیے کاتب اور گواہ مل گئے، اپنوں کی موجودگی میں قرض معاملت کی تصدیق ہوگئی اور اس امر کے لیے کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہ گئی کہ قرض دینے والا رہن کے بغیر اعتماد نہ کرسکے تو پھر اس کو چاہئے کہ وہ رہن کردہ چیز اس کو واپس کردے اور اپنے اطمینان کے لیے چاہے تو وہ شکل اختیار کرے جس کی اوپر ہدایت کی گئی ہے۔ یہاں رہن کردہ مال کو امانت سے تعبیر فرمایا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرض دینے والے کے پاس رہن بطور امانت ہوتا ہے، جس کی حفاظت ضروری اور جس سے کسی قسم کا انتفاع ناجائز ہے۔
مجاہد اور ضحاک کے متعلق تفسیروں میں منقول ہے کہ یہ حضرات رہن کو سفر کے ساتھ مخصوص مانتے تھے مجھے ان کی یہ رائے قوی معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جب اعتماد کرنے کے لیے وجوہ و اسباب موجود ہوں تو رہن پر قبضہ جمائے رکھنے کے لیے کوئی وجہ باقی نہیں رہی، یہ امانت، امانت رکھنے والوں کو لوٹا دینی چاہئے۔ بالخصوص جب معاملہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو تب تو یہ چیز نہ صرف اسلامی اخوت و مروت کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک قسم کی دناءت بھی ہے۔ جب ایک شخص دستاویز اور گواہی کی ضمانتیں حاصل کرسکتا ہے تو یہ بات نہایت بھونڈی ہے کہ وہ اپنے قرض کی ضمانت میں قرض دار کا مکان، یا اس کا کھیت، یا اس کا باغ، یا اس کا گھوڑا، یا اس کی بکری یا اس کے بیوی بچوں کے پہننے کے زیور اور کپڑے اپنے قبضہ میں رکھے۔
رہن سے متعلق حدیث کی توجیہہ : ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جو کے بدلے رہن رکھی۔ لیکن اس سے جو بات زیادہ سے زیادہ نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو کسی شدید مجبوری کے سبب سے کسی بنیے یا یہودی سے قرض لینے کی نوبت آجائے اور وہ رہن کے سوا کسی اور صورت پر معاملہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاسکتا ہے۔ اور بہت کھینچ تان کی جائے تو اس سے یہ بات بھی نکالی جاسکتی ہے کہ کسی تنگ دل مسلمان سے بھی بدرجہ مجبوری اس طرح معاملہ کیا جاسکتا ہے لیکن عام مسلمانوں کے لیے جب باہمی معاملت کی ایک واضح، قابل اعتماد اور اسلامی اخوت و مروت کے تقاضوں کے مطابق ایک شکل بیان کردی گئی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کس طرح اس کو پسندیدہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ بلا کسی مجبوری کے بھی وہ رہن پر قرض لین دین کریں۔ یہ بات قرآن کی اس آیت تو بالکل خلاف ہے، رہی حدیث تو اس سے بھی رہن کے عام جواز پر استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ ایک تو یہ معاملہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک یہودی کے ساتھ ہوا، دوسرے صورت واقعہ صاف گواہی دے رہی ہے کہ یہ بہت مجبوری کی صورت میں ہوا۔
زری بحث آیت میں مفسرین نے عام طور پر امانت سے وہ قرض مراد لیا ہے جو کوئی شخص کسی کو بغیر رہن کے مجرد اعتماد پر دے دے۔ لیکن قرض کے لیے امانت کی تعبیر گوناگوں پہلوؤں سے ہمارے نزدیک غلط ہے۔ اصل میں یہ حضرات چونکہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ سفر ختم ہوجانے کے بعد جب اعتماد و اطمینان کی شکل پیدا ہوجائے تو رہن واپس کردینا چاہئے اس وجہ سے انہیں امانت کی تاویل میں یہ تکلف کرنا پڑا لیکن ہم نے جو تاویل کی ہے اس میں جو تاویل کی ہے اس میں آیت و حدیث دونوں کا محل الگ الگ معین ہوگیا ہے اس وجہ سے نہ اس تکلف میں پڑنے کی ضرورت باقی رہی اور نہ اس کی تردید میں دلائل جمع کرنے کی ضرورت باقی رہی۔
اگلی آیات 284 تا 286: اب یہ عظیم سورة ختم ہوگئی۔ آگے کی آیات بطور خاتمہ ہیں۔ اس خاتمہ میں پہلے تو تنبیہ ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کی ملکیت اور اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ بندوں کے تمام ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ وہ ہر چیز کا حساب کرے گا اور اپنے اختیار مطلق سے جس کو مغفرت کا سزاوار قرار دے گا اس کی مغفرت فرمائے گا اور جس کو سزا کا مستحق پائے گا اس کو سزا دے گا، کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے ارادے اور فیصلے میں مداخلت کرسکے۔
دین کی یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس کا صحیح شعور اس امانت کا اہل بناتا ہے جو اس سورة میں امت مسلمہ کے سپرد کی گئی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کو فراموش کردینے کے سبب سے یہود اور نصاری اس امانت کی سعادتوں سے محروم ہوئے۔ اس اہمیت کی وجہ سے جس طرح جگہ اس سورت اس کی یاد دہانی کی گئی ہے۔ اسی طرح خاتمہ پر بھی اس کی یاد دہانی فرمائی۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کے رسول اور اس کے ایمان لانے والے بندوں نے اس چیز کو قبول کرلیا ہے جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔ یہی اس پر ایمان لانے کے سزوار تھے۔ یہ یہود و نصاری کی طرح خدا کے نبیوں اور رسولوں کے باب میں کسی تعصبت میں مبتلا نہ تھے کہ کسی کو مانیں، کسی کو نہ مانیں اس وجہ سے اللہ نے ان کے لیے ہدایت کی راہ کھولی اور فائز المرام ہوئے۔ رہے وہ لوگ جو تعصبات کے پھندوں میں گرفتار ہیں تو اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ جس وادی میں چاہیں بھٹکتے پھریں۔ اپنا انجام خود دیکھیں گے۔
اس کے بعد وہ عظیم دعا نمودار ہوتی ہے جو اس امت کے ہر فرد کی صدائے حال ہے۔ اس کے لفظ لفظ سے اس بھاری ذمہ داری کا احساس بھی ٹپک رہا ہے جو اس امت پر ڈالی گئی ہے، وہ اعتراف بھی نمایاں ہو رہا ہے جو روح ایمان ہے، ان باتوں سے بچائے جانے کی التجا بھی جھلک رہی ہے جو پچھلی امتوں کے لیے ٹھوکر کا باعث ہوئیں اور ادائے فرض کی راہ میں جن مشکلات کے اندیشے ہیں ان میں استعانت اور جن لغزشوں کے خطرے ہیں ان سے درگزر کی درخواست بھی ہے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 2:284“ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ”یہ جملہ اپنے اندر بیک وقت تین مفہوم رکھتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہر چیز خدا ہی کی ملکیت ہے، دوسرا یہ کہ ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے، تیسرا یہ کہ بالآخر ہر چیز کا مرجع خدا ہی ہے۔ اردو میں کوئی ایسا ترجمہ اس کا جوا ان تینوں مفہموں کو بیک اٹھا لے میری سمجھ میں نہیں آیا۔
دل کی پوشیدہ باتوں کے محاسبے کا مفہوم : اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ، دل کی پوشیدہ باتوں کا محاسبہ کرنے سے یہ مراد نہیں کہ دل میں جو خیالات اور وسوسے گزرتے رہتے ہیں ان کا بھی محاسبہ ہوگا بلکہ اس سے صرف وہ عزائم مراد ہیں جو مضبوط ارادے کے ساتھ دل میں موجود ہیں لیکن کسی مجبوری یا مزاحمت کے سبب سے وہ ظاہر نہ ہوسکے یا عمل میں نہ آسکے۔ مثلا ایک شخص اگر کسی کے قتل کا دل میں پختہ ارادہ رکھتا ہے تو ہرچند کسی خوف یا مجبوری کے سبب سے اس کا ارادہ بروئے کار نہ آسکے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس ارادے پر اس کی پکڑ ہوگی۔
خدا کی مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے : فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الایۃ اور اس طرح کی دوسری آیات میں، جیسا کہ ہم بار بار اپنی اس کتاب میں واضح کرچکے ہیں، اصل زور جس بات پر ہوتا ہے وہ اس پر ہوتا ہے کہ خدا کی مشیت میں کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں ہے اور مقصود اس سے شرک کی نفی ہوتی ہے۔ یہ مقصد نہیں ہوتا ہے کہ خدا کی اس مشیت کے لیے سرے سے کوئی ضابطہ و قاعدہ ہی نہیں ہے۔ خدا کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔ چناچہ یہ مغفرت اور عذاب کا معاملہ بھی اسی ضابطہ حکمت کے تحت عمل میں آئے گا جو اس کے لیے اس نے مقرر فرما رکھا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کسی اور کے لیے اس میں کسی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔
آیت کا دو گونہ ربط : اس پوری آیت کے موقع و محل پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک پہلو سے تو اپنے ماسبق سے مربوط ہے اور دوسرے پہلو سے یہ سورة کے خاتمہ کی نہایت جامع اور مؤثر تمہید ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا تھا کہ شہادت کو نہ چھپاؤ، جو شہادت کو چھپاتا ہے اس کا دل آلودہ معصیت ہوجاتا ہے۔“ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے ”اب اس کے ساتھ اگر یہ مضمون لگا دیجیے کہ“ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، اللہ تمہارے ظاہر و باطن سب کا محاسبہ کرنے والا ہے، پھر جس کو چاہے گا وہ بخشے گا اور جس کو چاہے گا، عذاب دے گا ”تو گویا بات پوری طرح مدلل بھی ہوگئی اور مکمل بھی۔ یہ آیت کا ربط ماسبق سے ہوا۔
آگے سے اس کا ربط، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ یہ توحید کی آیت ہے۔ احکام و قوانین کے باب میں جس طرح نماز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح عقائد کے باب میں توحید کو اساس دین کا مقام حاصل ہے، چناچہ یاد ہوگا کہ جہاں سے اس سورة میں امت کے لیے تعلیم شریعت کا باب شروع ہوا ہے وہاں سب سے پہلے توحید کا بیان ہوا ہے اس کے بعد نماز کا۔ اب خاتمے پر امت کو کامل حوالگی اور سپردگی کی تعلیم دینے کے یلے توحید کی پھر یاد دہانی کی اور یاد دہانی کا انداز تعلیم سے زیادہ تنبیہ کا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ امت اس امانت کی گراں باریوں کو سمجھے اور غلط سہاروں پر اعتماد کرنے کے بجائے صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کے آگے جواب دہی کے لیے تیار رہے۔
Ayah 2:285ایمان نہ لانے والوں سے بےپروائی : یہاں رسول اور مسلمانوں کے ایمان کی خبر دینے سے مقصود محض ایک واقعے کی خبر دینا نہیں ہے بلکہ قرآن کے مخالفین بالخصوص یہود کی مخالفت سے بےپروائی کا اظہار ہے۔ سورة کا آغاز یاد ہوگا، اس بات سے ہوا تھا کہ قرآن کے کتاب الٰہی ہونے میں تو کسی شبے کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے اندر خدا ترسی، حقیقت بینی اور حق طلبی ہوگی۔ جو لوگ گروہ پرستی، عصبیت اور اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہوں گے وہ اس کتاب پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ اب یہاں خاتمے پر یہ اعلان فرما دیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے واضح کردیا کہ اس ایمان کی سعادت سے بہرہ مند ہونے والے کون لوگ تھے۔ گویا دودھ کے اندر جتنا مکھن تھا وہ نکال کر سامنے رکھ دیا اور اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کردیا کہ اس دودھ کے اندر جتنا مکھن تھا وہ نکال کر سامنے رکھ دیا اور اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کردیا کہ اس دودھ کے اندر یہ مکھن تھا جو نکل آیا ہے۔ اب جو بچ رہا ہے یہ چھاچھ ہے خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
قانون کی فرمانبرداری کے معاملے میں نبی اور امتی یکساں ہیں : یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ کتاب الٰہی پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے جس کا ذکر ہوا ہے وہ خود رسول کی ذات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قانون کی فرمانبرداری اور اطات کے معاملے میں پیغمبر بھی اسی سطح پر ہے جس پر عام اہل ایمان ہیں۔ دنیوی بادشاہ اپنی رعایا کو جو قانون دیتے ہیں وہ خود اس قانون سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن خدا کے قانون میں خود اس قانون کا لانے والا نہ صرف یہ کہ اس کے تحت ہوتا ہے بلکہ اسے سب سے آگے بڑھ کر انا اول المومنین اور انا اول المسلمین کہتے ہوئے اس کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ ان پیغمبروں کی سچائی کی ایک ایسی شہادت ہے جس کو صرف ایک ہٹ دھرم ہی جھٹلا سکتا ہے۔
اجمالی ایمان تمام انبیاء اور تمام صحیفوں پر : كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ الایۃ میں جن اجزائے ایمان کا ذکر ہوا ہے ان پر ہم اسی سورة کی آیت 177 کے تحت گفتگو کرچکے ہیں۔ وہاں اللہ، فرشتوں، کتابوں اور نبیوں پر ایمان کی حقیقت سمجھنی چاہئے۔ خاص طور پر فرشتوں پر ایمان کی ضرورت ہم نے وہاں تفصیل سے واضح کی ہے۔ البتہ ایک بات کی طرف یہاں بھی اشارہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہاں کتاب کا لفظ ہے۔ یہاں کتاب کے بجائے کُتب کا لفظ ہے جو کتاب کی جمع ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے لیے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضورری ہے اسی طرح تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اہل کتاب صرف اپنی کتاب اور صرف نبی یا ان نبیوں پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں جن کو وہ اپنے یا اپنا نبی خیال کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ امت اللہ کے تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہے۔ جہاں تک اجمالی ایمان کا تعلق ہے ہم آنحضرت ﷺ اور دوسرے انبیاء قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ البتہ چونکہ دوسرے انبیا اور ان کے صحیفوں کی تعلیم محفوظ نہیں رہی نیز ان صحیفوں اور ان انبیا نے خود خبر دی تھی کہ ان کی شریعت کامل نہیں ہے، کامل شریعت قرآن اور محمد ﷺ کے ذریعے سے دنیا کو ملے گی، اس وجہ سے ہم قرآن اور خاتم الانبیا ﷺ پر صرف اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی ایمان بھی رکھتے ہیں اور اسی تفصیلی ایمان کی دعوت دنیا کو بھی دیتے ہیں۔
اسلوب کی تبدیلی میں بلاغت کو نکتہ : لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ، اس ٹکڑے کی شرح ہم اسی سورة کی آیت 135 کے تحت، امتِ وسط کے کلمہ کی وضاحت کرتے ہوئے کرچکے ہیں۔ البتہ اس میں یکایک اسلوب کی جو تبدیلی ہوئی ہے یعنی بات غائب کے صیغے سے نکل کر جو متکلم کے صیغے میں آگئی ہے، یہ دھیان میں رکھنے کی ہے۔ اوپر کے ٹکڑے میں بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہے لیکن یہ جملہ براہ راست امت کی طرف سے اعتراف و اظہار کی شکل میں نمایاں ہوا ہے۔ اس میں بلاغت کا یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ اوپر کے ٹکڑے میں مسلمانوں کا جو ایمان و عقیدہ بیان ہوا ہے پوری امت اس کا اقرار و اظہار کرتی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے باب میں کسی تعصب میں گرفتار نہیں ہیں، یہ تمام انبیا ایک ہی سلسلۃ الذہب کی کڑیاں ہیں اس وجہ سے ہم یہود و نصاری کی طرح یہ نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو رد کردیں۔ ‘ احد ’ کا لفظ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے۔ جیسے ‘ لستن کا حد من النساء ’ اس وجہ سے اس کے ساتھ لفظ ‘ بین ’ کا استعمال صحیح ہے۔
وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، سمع وطاعت کا مفہوم : سمع کا لفظ یہاں مجرد سننے کے معنی میں نہیں بلکہ ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہے اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اردو میں بھی سننے کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں سَمِعْنَا کا لفظ دل کی قبولیت کا اظہار کرتا ہے اور اَطَعْنَا کا لفظ عملی اطاعت کا اور ایمان و اسلام کی اصل حقیقت یہی ہے۔ اس میں یہود کے ‘ سَمِعْنَا و َ عَصَیْنَا ’ پر ایک لطیف تعریض بھی ہے۔
غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۔ حذف فعل کا ایک فائدہ : غفرانک فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اس طرح کے مواقع میں فعل کا حذف دعا کرنے والے کے اضطراب کو ظاہر کرتا ہے جو قبولیت دعا کے لیے ایک نہایت مؤثر سفارش ہے۔
سمع وطاعت کے اقرار سے دعا کا تعلق : سمع وطاعت کے اقرار کے بعد معاً دعا کا زبان پر جاری ہوجانا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقرار ایک عظیم ذمہ داری کا اقرار ہے، یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے، اس میں بڑی بڑی آزمائشیں پیش آنی ہیں اور ہر قدم پر لغزشوں، کوتاہیوں اور ٹھوکروں کے اندیشے ہیں۔ اس حقیقت کے شعور نے سمعنا واطعنا کے اقرار کے فوراً بعد طلب مغفرت کی طرف متوجہ کردیا۔ اس لیے کہ جب راہ بھی کٹھن ہے اور پرسش بھی ہر پویشدہ اور علانیہ پر ہونی ہے جیسا کہ اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے اور عذاب اور رحمت سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے تو اس کی مغفرت کے سہارے کے سوا ہر سہارا بےحقیقت ہے۔ وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ میں کامل سپردگی ہے، یعنی تیرے سوال کوئی نہیں ہے جو کسی پہلو سے مرجع و ماوی بن سکے۔ اس میں ایک لطیف تعریض یہود و نصاری پر بھی ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد اور شرکا و شفعا کے اعتماد پر سمع وطاعت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو بیٹھے۔ لیکن اس امت پر یہ حقیقت واضح ہے کہ سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا، اسی کے آگے پیش ہونا اور اسی کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔
Ayah 2:286لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۭ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا) یہ دعا کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ ہے اور مقصود اس کے لانے سے اس اہم حقیقت کا اظہار ہے کہ سمع وطاعت کی یہ ذمہ داری جو اس امت پر ڈالی گئی ہے، ہے تو ایک بھاری ذمہ داری، لیکن اس کے بھاری ہونے کے احساس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عنایت و رحمت کا یہ پہلو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص بس اسی حد تک مکلف ہے۔ جس حد تک اس کو طاقت عطا ہوئی ہے، جو چیز اس کے حدود اختیار و امکان سے باہر ہے اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ شریعت نے خود اپنے احکام و قوانین میں اس امر کو ملحوظ رکھا ہے اور مجبوریوں کی صورت میں اس پہلو سے بندوں کو رخصتیں دی ہیں۔ اس وجہ سے نہ تو اللہ کو یہ پسند ہے کہ بندے اپنے آپ کو کسی تکلیف مالا یطاق میں ڈالیں اور نہ کسی دوسرے ہی کے لیے یہ جائز ہے کہ ان پر کوئی ایسا بوجھ ڈالے جس کو وہ اٹھا نہ سکتے ہوں۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب لوگوں سے سمع وطاعت کا عہد لیتے تو از خود یاد دہانی کر کے ان سے“ تا بہ حد استطاعت ”کی شرط لگوا دیتے۔ یہ حضور کی طرف سے اسی آیت کی تعمیل تھی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے جو تخفیف اور بشارت ہے وہ بالکل واضح ہے بالخصوص اس موقع پر جب ان پر ایک عظیم شریعت کی ذمہ داریاں ڈالی جا رہی ہیں۔
لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور وہ بھگتے گا جو اس نے کیا) یہ بات چونکہ اسی بات کا ایک پہلو ہے جو اوپر گزری ہے اس وجہ سے اسی کے ساتھ اس کو جوڑ دیا ہے، اس سے الگ نہیں کیا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کو نفع یا ضرر جو کچھ بھی پہنچے گا اس کے اپنے عمل ہی سے پہنچے گا، کسی اور شے سے نہیں پہنچے گا۔ جو وہ بوئے گا وہی کاٹے گا اور جو کچھ کرے گا وہی بھرے گا۔ نہ دوسرے کے نیک اعمال کا کریڈٹ اس کو ملنے والا ہے اور نہ دوسرے کی بدیاں اس کے کھاتے میں پڑنے والی ہیں۔ اور نہ کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس پر ذمہ داری اس کی طاقت اور اس کے اختیار کے پیمانے سے ناپ کر ڈالی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص کی کامیابی اور ناکامی اس ذمہ داری کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ کل نفس بما کسبت رھینۃ۔rnۭرَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا۔ خطا اور نسیان کا فرق اور اس دعا کی حکمت : اوپر والا جملہ محض اہل ایمان کی تسلی اور ایک مناسب موقع حقیقت کی یاد دہانی کے لیے تھا۔ اب اصل دعا پھر زبان پر جاری ہوگئی۔ اس ٹکڑے میں نسیان اور خطا پر مواخذہ نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ نسیان تو یہ ہے کہ آدمی سمع وطاعت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے کوئی چیز بھول جائے اور خطا یہ ہے کہ اپنی ناسمجھی سے کسی کام کو غلط طور پر کر بیٹھے۔ اگرچہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاف ہیں لیکن معاف شدہ چیزوں کی معافی کی درخواست بندے کی طرف سے غایت درجہ خشیت کا اظہار ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے مزید دروازے کھلتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے، پھر بھی آپ استغفار میں زیادہ سے زیادہ مشقت اٹھاتے تھے۔ جب آپ سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا، کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں !
رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔ اصر کا مفہوم اور اس دعا کا رمز :‘ اصر ’ کے اصل معنی عہد اور ذمہ داری کے ہیں مثلاً ء اقررتم واخذتم علی ذالکم اصری (کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور ان باتوں کے لیے میری ڈالی ہوئی ذمہ داری تم نے اٹھائی) (ال عمران :81)۔ یہیں سے اس کا استعمال ان بھاری اور گراں ذمہ داریوں اور بوجھوں کے لیے ہوا جن کا اٹھانا دشوار ہو۔ اسی مفہوم میں یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے۔ یہود کی شریعت میں اس قسم کے اصر اور اغلال، جن کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں آئے گی، موجود تھے اور خاتم الانبیا، محمد رسول اللہ ﷺ کے مقاصد بعثت میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آپ اللہ کی شریعت کو ان بوجھل طوق و سلاسل سے آزاد کر کے اس کو فطرت کی اساس پر قائم کریں گے جیسا کہ ارشاد ہے“ ویضع عنہم اصرھم والاغلال التی کا نت علیہم : اور ان کے اوپر سے وہ دور کرے گا وہ بوجھ اور وہ طوق جو ان پر پہلے سے ہیں ”(اعراف :158)۔ یہاں دعا کے ان الفاظ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم پر اس قسم کے بوجھ نہ ڈالے جائیں جس قسم کے بوجھ یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے ڈالے گئے اور جن کو بالآخر وہ اٹھا نہ سکے۔ دعا کے یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اس امت کے مزاج اور اس کو ملنے والی شریعت کے مزاج میں کامل موافقت ہے۔
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ۔ طاقت سے باہر آزمائشوں سے بچنے کی دعا : تحمیل کے معنی کسی پر کوئی بھاری بوجھ لادنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس سمع وطاعت کی راہ میں آگے میں آگے جو آزمائشیں پیش آنے والی ہیں ان میں کوئی آزمائش ایسی نہ ہو جو ہماری برداشت سے زیادہ ہو اور جو ہمیں تیری وفاداری کے امتحان میں ناکام بنا دے۔ جہاں تک ابتلا و امتحان کا تعلق ہے وہ تو لازمہ ایمان و اسلام بلکہ لازمہ حیات ہے جس سے اس دنیا میں مفر نہیں ہے۔ کھرے کھوٹے میں امتیاز اور بندوں کی صلاحیتوں کے اجاگر ہونے کے لیے اس سے گزرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ دعا بندے کو کرتے رہنا چاہئے کہ کوئی امتحان اس کی طاقت سے زیادہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے امتحان کے معاملے میں اپنی کمزوری و ناتوانی کا اعتراف ہی صحیح رویہ ہے، جو لوگ اپنے اوپر زیادہ اعتماد کر بیٹھتے ہیں وہ اکثر اس امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ احادیث میں مختلف پہلوؤوں سے اس کی ممانعت آئی ہے۔
یہاں اوپر والے ٹکڑے اور اس ٹکڑے کے فرق کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اوپر والے ٹکڑے میں تو اس بات کی دعا ہے کہ ہماری شریعت اس قسم کے اصر و اغلام سے پاک رہے جو پچھلی شریعتوں میں موجود ہیں۔ اور اس دوسرے ٹکڑے میں ان خارج از استطاعت آزائشوں سے محفوظ رکھے جانے کی دعا ہے جو اس شریعت کے حقوق ادا کرنے کی راہ میں پیش آسکتی ہیں۔
وَاعْفُ عَنَّا ۪ وَاغْفِرْ لَنَا ۪ وَارْحَمْنَا، اس میں اکٹھی تین چیزوں کی درخواست ہے۔ عفو، مغفرت اور رحم۔ عفو کے معنی چشم پوشی کے بھی ہیں اور معاف کردینے کے بھی۔ یہاں لفظ دوسرے معنی میں ہے۔ غفر کے معنی ڈھانک دینے کے ہیں، رحم کا مفہوم واضح ہے۔ بندے کا سارا اعتماد بس انہی تینوں چیزوں پر ہونا چاہیے۔ رب کریم کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو ڈھانک دے اور اپنی رحمت سے نوازے آخرت کا سارا سہارا بس یہی تین چیزیں ہیں۔
اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْــصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ، ‘ مَوْلیٰ ’ کے معنی مرجع کے ہیں جس کی طرف مشکلات میں رجوع کیا جائے۔ یہ آخر میں مخالفین اسلام کے مقابل میں مدد و نصرت کی دعا ہے۔ اس لیے کہ سمع وطاعت کا یہ بار گراں امت نے ایسے حالات میں اٹھایا ہے جب کہ دوسرے، جیسا کہ پچھلی تفصیلات سے واضح ہوچکا ہے، اس بار کو نہ صرف اپنے کندھوں سے پھینک چکے تھے بلکہ اس بنا پر مسلمانوں کے جانی دشمن بھی بن گئے کہ انہوں نے ان کے پھینکے ہوئے اس بوجھ کو سنبھال کیوں لیا۔
یہ آخری سطریں ہیں جو اس سورة کی تفسیر میں لکھنے کی اس گنہگار اور بےمایہ کو توفیق نصیب ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔