3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة آل عمران (الف) ۔ سورة آل عمران کا عمود اور سابق سورة سے تعلق مندرجہ ذیل پہلوؤں سے یہ سورة سابق سورة (بقرہ) سے نہایت گہرا ربط رکھتی ہے۔ (1) ان دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات۔ لوگوں پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً ۔ (2) دونوں میں یکساں شرح و بسط کے ساتھ دین کی اصولی باتوں پر بحث ہوئی ہے۔ (3) دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہے ہے یعنی ” الف لام میم “۔ (4) دونوں شکلاً بھی ایک ہی تنے سے پھوٹی ہوئی دو بڑی بڑی شاخوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان کو شمس و قمر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حشر کے دن دو بدلیوں کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔ اہل بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ وصف اور تمثیل میں یہ اشتراک بغیر کسی گہری مناسبت کے نہیں ہوسکتا۔ (5) دنوں میں زوجین کی سی نسبت ہے۔ ایک میں جو بات مجمل بیان ہوئی ہے، دوسری میں اس کی تفصیل بیان ہوگئی ہے۔ اس طرح ایک میں جو خلا رہ گیا ہے، دوسری نے اس کو پر کردیا ہے۔ گویا دونوں مل کر ایک اعلیٰ مقصد کو اس کی مکمل شکل میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ (ب) ۔ سورة بقرہ اور سورة آل عمران کے امتیازی پہلو : لیکن اس اشتراک اور یکسانی کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی کچھ الگ الگ خصوصیات بھی ہیں جو ان کو ایک دوسری سے ممتاز کرتی ہیں۔ مثلاً ۔ بقرہ پر غور کیجیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب اہل کتاب نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور یہ آہستہ آہستہ جڑ پکڑ رہا ہے لیکن حسد اور ضد کے باعث وہ اس کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ اس احساس نے ان کو شدید کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس کی مخالفت کے لیے تو اٹھ کھڑے ہوئے لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ مخالفت کس عنوان سے کریں۔ جس کے منہ میں جو آیا اس نے وہ اگلنا شروع کردیا۔ کسی نے کہا نبوت و رسالت کے لیے تو بنی اسرائیل کا گھرانا مخصوص رہا ہے، اس گھرانے سے باہر کسی کو نبوت کس طرح مل سکتی ہے ؟ کسی نے کہا ہدایت کے لیے تو بس تورات کافی ہے اور جب اس کے حامل ہم موجود ہیں تو اب کسی نئی ہدایت کی ضرورت کہاں ضرورت کہاں باقی رہی ؟ اسی جھنجھلاہٹ میں بعضوں نے حضرت جبریل تک کو، مطعون کرڈالا کہ یہ فرشتہ شروع سے ہمارا بیری ہے۔ کچھ لوگوں نے یہود و نصاریٰ کا ایک متحدہ محاذ بنا کر مخالفت کا یہ پہلو اختیار کیا کہ آسمانی ہدایت یا تو یہودیت کے اندر ہے یا نصرانیت کے اندر، جس کو ہدایت مطلوب ہو وہ ان میں سے کسی کو اختیار کرے، ان کے سوا آسمانی ہدایت حاصل ہونے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ایک گروہ نے دھوکا بازی کی روش اختیار کی۔ اس نے مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا چاہا کہ ہم بھی ایمان رکھتے ہیں، مسلمان ایمان کا اجارہ دار تنہا اپنے ہی کو نہ سمجھیں، خدا، آخرت اور اپنے پیغمبرکو تو ہم بھی مانتے ہیں، اس سے کیا فرق پیدا ہوا کہ ہم نئے مدعی نبوت کو نہیں مانتے۔ ان حالات میں یہ سورة اتری۔ اس میں ایک طرف تو تفصیل کے ساتھ ان تمام اعتراضات کے جواب دیے گئے جو اہل کتاب کی طرف سے اٹھائے گئے، دوسری طرف نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کی جو اعلی سند خود ان کے صحیفوں میں موجود تھی، اس کو واضح کیا گیا اور تیسری طرف نبی امی کی رسالت سے دین حق کی جو تجدید و تکمیل ہوئی تھی اس کی طرف رہنمائی کی گئی۔ اس طرح یہ سورة تو دعوت ایمان و اثبات رسالت بھی ہے اور دعوت و جہاد برائے آزادی قبلہ و غزوہ بدر بھی۔ سورة آل عمران پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ بقرہ کے کچھ عرصہ بعد اس دور میں نازل ہوئی ہے۔ جب افق پر اسلام کے غلبہ اور اس کی صداقت کے آثار اتنے نمایاں ہوچکے ہیں کہ اہل کتاب کے لیے اس کی علانیہ مخالفت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس صورت حال نے اہل کتاب کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ایک گروہ نے تو اسلام قبول کرلیا۔ لیکن یہ اسلام صرف اس کی زبانوں ہی تک رہا، اس کے دلوں میں نہیں گھسا۔ دوسرے گروہ نے اسلام تو نہیں قبول کیا لیکن اس نے مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے معاملے میں ایک سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سمجھوتے کے لیے اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر مذہب کے پیروؤں کے لیے ان کا اپنا دین حق ہے اس وجہ سے مسلمان ہم کو ہماری یہودیت و نصرانیت پر چھوڑ دیں اور ہم مسلمانوں کو ان کے اسلام پر۔ اس طرح دونوں اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ایک ہی ملک میں ایک ساتھ امن کی زندگی بسر کرسکیں گے۔ ( سورة بقرہ کے شروع میں اس گروہ کی طرف اشارہ ہے لیکن اس وقت تک یہ گروہ پوری طرح سامنے نہیں آیا تھا۔ اس سورت میں یہ بےنقاب ہو کر سامنے آگیا ہے۔ اس گروہ کا نظریہ بعینہ وہی ہے جو آج وحدت ادیان کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ) اس طرح ان دونوں گروہوں کا رویہ اسلام کے ساتھ بدل تو گیا لیکن یہ تبدیلی دل کی تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ سراسر مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ پہلے گروہ نے اسلام کا جو اظہار کیا تو محض مسلمانوں کی متوقع کامیابیوں میں حصہ بٹانے کے لیے۔ دوسرے نے صلح جویانہ پالیسی اختیار کی تو صرف متوقع خطرات سے اپنے کو محفوظ کرنے کے لیے۔ اسی اثنا میں احد کا معرکہ پیش آیا جس میں مسلمانوں ہی کی ایک جماعت کی بےتدبیری سے ان کو ایک عارضی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس واقعے کا اثر اہل کتاب کے مذکورہ دونوں گروہوں پر یہ ہوا کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں اپنی پالیسی پھر تبدیل کردی۔ جو گروہ محض دنیوی کامیابیوں کے لالچ میں اسلام کی صفوں میں آ گھسا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس راہ میں خطرات بھی پیش آسکتے ہیں تو اس نے اس خطرے کے سودے سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور اسلام کی اطاعت کا قلادہ اتار کر پھر اپنے کفر کی طرف پلٹ گیا۔ دوسرے گروہ نے جب دیکھا کہ اسلام کو زک بھی پہنچائی جاس کتی ہے تو اس نے سوچا کہ ہم نے جو اس کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اس کے ساتھ صلح جویانہ روش اختیار کرلی ہے، یہ غلط ہے، کیوں نہ ہم مخالف طاقتوں کو قوت پہنچا کر یہ کوشش کریں کہ ایک مرتبہ اسلام کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں۔ چناچہ انہوں نے بھی کھلم کھلا اپنی دشمنی کا اعلان کردیا۔ اس طرح یہ دونوں ہی گروہ کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کی راہ پر چل پڑے اور انہوں نے طرح طرح کی چالوں سے مسلمانوں کے ذہنوں میں شبہات و شکوک بھرنے شروع کیے تاکہ جس طرح وہ خود فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکے ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنی وحدت و یکجہتی کھو کر پراگندہ ہوجائیں اور ان کی طاقت ختم ہوجائے۔ ان حالات نے تقاضا کیا کہ اہل کتاب اور مسلمانوں دونوں کے سامنے دین کی یہ حقیقت واضح کی جائے کہ اللہ کی طرف سے لوگوں کو کئی دین نہیں ملے ہیں بلکہ ایک ہی دین ملا ہے جس کا نام اسلام ہے۔ اس دین میں تقسیم اور تجزیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے کچھ حصے کو تو مانا جائے اور کچھ کو نہ مانا جائے بلکہ بیک وقت اس کے کل کو ماننا یا کل کو چھوڑنا ہے۔ اس دین کا مطالبہ ہر حالت میں اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کی فرمانبرداری ہے، خواہ حالات نرم ہوں، یا سخت اور خوہ راہ ہموار نظر آرہی ہو یا آزمائشوں اور فتنوں نے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہوں، حق بہرحال حق ہے، وہ بعض حالات میں مخفی تو ہوجاتا ہے جس طرح چھلکے کے اندر مغز معدوم نہیں ہوتا۔ اس طرح کے حالات میں وہی لوگ ثابت قدم رہتے ہیں جن کے ایمان اور علم میں پختگی ہوتی ہے۔ جو حق سے بیخبر ہوتے ہیں ان کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ غزوہ احد بھی اسی طرح کا ایک امتحان بن کر لوگوں کے سامنے آیا۔ جس طرح غزوہ بدر کی نوعیت ایک فرقان کی تھی جس نے حق اور باطل کو الگ الگ کردیا اسی طرح غزوہ احد کی حیثیت ایک آیت متشابہ کی تھی جس کے باطن میں حکمت تھی لیکن اس کا ظاہر کمزور لوگوں کے آزمائش بن گیا۔ چناچہ اس نے پختہ فکر و پختہ ایمان مسلمانوں کو چھانٹ کر ان لوگوں سے بالکل الگ کردیا جن کے دلوں میں کجی اور دماغوں میں فتنہ جوئی تھی۔ یہ حالات تھے جن میں یہ سورة اتری چناچہ اس میں ان تمام خامیوں اور گمراہیوں پر تبصرہ ہے جو اس وقت نمایاں ہوئیں، عام اس سے کہ وہ مسلمانوں سے ظاہر ہوئیں یا اہل کتاب سے۔ اس میں اس شک اور تذبذب کی ضلالت بھی واضح کی گئی ہے جس میں اہل کتاب مبتلا تھے اور اس اختلاف اور عدم اطاعت کے انجام بد پر بھی تبصرہ ہے جس کا اظہار منافقوں اور کمزور قسم کے مسلمانوں کی طرف سے ہوا تھا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو ان تمام چالوں سے آگاہ کیا گیا ہے جو ان کو زک پہنچانے کے لیے ان کے دشمن چل رہے تھے اور احد کی شکست سے ان کو جو بد دلی ہوئی تھی اس کو نہایت مؤثر انداز میں دور کیا گیا۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو آپ محسوس کریں گے کہ جس طرح سورة بقرہ سورة بدر ہے ہے اسی طرح یہ سورة آل عمران سورة احد ہے۔ مزید غور کیجیے تو یہ بات بھی واضح ہوگی کہ بقرہ میں ایمان کی حقیقت واضح کی گئی ہے اور اس سورة میں اسلام کی۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بقرہ میں اللہ کے آخری رسول پر ایمان لانے کی دعوت ہے اور اس سورة میں اسلامی نظام اور اللہ کی حکومت میں داخل ہونے کی دعوت ہے۔ ان دونوں سورتوں کے موضوع اور عمود سے متعلق یہ ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ بات واضح کرنی مقصود ہے کہ بقرہ میں ایمان کا پہلو نمایاں ہے اور اس سورة میں اسلام کا۔ اس حقیقت کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل سے بھی ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمازوں میں کبھی کبھی ایک رکعت میں بقرہ میں سے آیت ایمان پڑھتے اور دوسری رکعت میں آل عمران میں سے آیت اسلام۔ یہ گویا ایک لطیف اشارہ ہوتا اس بات کی طرف کہ ان دونوں سورتوں میں موضوع اور مقصود کی حیثیت کن مضامین کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں بقرہ کا خاتمہ ایک ایسی آیت پر ہوا ہے جو ایمان کے باب میں ایک نہایت جامع آیت ہے۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ الایۃ اور پھر اس کا خاتمہ کامل اطاعت الٰہی کے مضمون پر ہوا ہے تاکہ ہم پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ ایمان کا لازمی ثمرہ اسلام ہے، جہاں صحیح ایمان موجود ہوگا اس سے لازماً اسلام ظہور میں آئے گا۔ اس طرح بقرہ کے خاتمے کی آیت نے آل عمران کے ساتھ اس کے ربط کو خود واضح کردیا۔ دوسرا پہلو ان دونوں دونوں کے درمیان امتیاز کا یہ ہے کہ سورة بقرہ میں زیادہ تر خطاب یہود سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کی حیثیت سے اصلی مقام انہی کو حاصل تھا۔ نصاری کی حیثیت محض ایک ضمنی فرقے کی تھی۔ چناچہ قرآن نے بقرہ میں ان سے خطاب کیا بھی ہے تو وہ سرسری نوعیت کا ہے۔ البتہ آل عمران میں ان سے براہ راست خطاب کیا ہے اور بحث کا زیادہ حصہ انہی سے متعلق ہے۔ سورة کی تمہید بھی ایک جامع نوعیت کی ہے جو یہود و نصاری دونوں کے لیے موزوں ہے۔ پھر اس سے آگے جو مضمون شروع ہوا ہے وہ تدریجی طور پر نصاری کی تردید میں نمایاں ہوتا گیا ہے۔ چوتھا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ان دونوں ہی سورتوں میں اہل کتاب کو سخت توبیخ فرمائی ہے لیکن انداز توبیخ دونوں میں الگ الگ ہے۔ بقرہ میں توبیخ براہ راست ہے برعکس اس کے آل عمران میں ان کو براہ راست خطاب کرنے کے بجائے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ان کو یہ یہ تہدیدات پہنچا دو ۔ یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت تمام ہوجانے کے بعد یہ لوگ لائق خطاب نہیں رہے۔ اب خطاب کے اہل صرف پیغمبر اور اہل ایمان ہی ہیں۔ (ج) ۔ دونوں سورتوں کی تقدیم و تاخیر کے وجوہ : ان دونوں سورتوں کے موضوع، ان کے زمانہ نزول کی خصوصیات، ان کے اسلوب بیان کے امتیازات پر ہم نے یہ جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مضامین کے اشتراک کے باوجود ان دونوں میں نسبت اس نوعیت کی ہے کہ مصحف میں تقدیم و تاخیر کے لحاظ سے ان کی یہی ترتیب ہونی چاہیے تھی جو ہے۔ یہاں بقرہ کے آل عمران پر مقدم رکھنے کے مندرجہ ذیل وجوہ بالکل واضح ہیں۔ 1 ۔ ایمان اسلام کی بنیاد ہے۔ جس طرح علم عمل کی بنیاد ہے۔ 2 ۔ یہود، نصاری سے اقدم ہیں اس وجہ سے ضروری ہوا کہ پہلے یہود پر حجت تمام کی جائے۔ 3 دلائل فطرت سے استدلال، صفات الٰہی سے استدلال کے مقابل میں زیادہ واضح، زیادہ قدیم، زیادہ وسیع ہے اس وجہ سے قرآن نے پہلے اس کو استعمال کیا۔ علی ہذا القیاس حضرت آدم اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) چونکہ انبیاء متقدمین میں سے ہیں اس وجہ سے یہ مناسب ہوا کہ پہلے ان کے عہد و میثاق کا حوالہ دیا جائے اور اس سے استدلال کیا جائے۔ چناچہ بقرہ میں ان کے عہد کا حوالہ دیا۔ بعد کی سورة میں دوسرے انبیاء کے عہد کا ذکر ہوا۔۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ ترتیب میں سورتوں کی تقدیم و تاخیر صرف ان کی ظہری بڑائی چھوٹائی پر مبنی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا تعلق معافی ومطالب سے ہے۔ معانی کی ترتیب کے لحاظ سے حکمت جس ترتیب کی مقتضی ہوئی ہے وہ ترتیب قرآن میں اختیار فرمائی گئی ہے۔ البتہ اگر کہیں معانی کے اعتبار سے دو سورتیں ایک ہی درجے اور ایک ہی مزاج کی ہوئی ہوں تو ممکن ہے، وہاں مجرد طول وحجم کی بنا پر ایک کو دوسرے پر مقدم کردیا گیا ہو۔ لیکن یہ بات محض قیاس کے حد تک صحیح قرار دی جاسکتی ہے، ورنہ ایسے مواقع میں بھی گمان یہی ہوتا ہے کہ کوئی گہری معنوی حکمت ایک کو دوسرے پر مقدم کرنے کا باعث ہوئی ہوگی اگرچہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو۔ (د) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے اس کا تعلق سورة کے موضوع، اس کے ظاہری نظام اور سابق سورة کے ساتھ اس کے تعلق سے ہے۔ اب ہمیں چند باتیں اس کے اندرونی نظام اور اس کے مختلف اجزا کے باہمی ربط وتعلق کے بابت بھی کہنی ہیں۔ اس سورة پر جو شخص بھی تامل کی نظر ڈالے گا اس پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ یہ دو بڑے حصوں میں منقسم ہے اس کے نصف اول میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اثبات اور اہل کتاب خصوصا نصاری کی گمراہیوں کا بیان ہے اور اس کے دوسرے نصف میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی ان گمراہ کن چالوں سے خبردار کیا گیا ہے جو وہ ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے اختیار کر رہے ہیں یا اختیار کرنے والے ہیں۔ ساتھ ہی ان کو اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامے رہنے، اطاعت پر جمے رہنے، جہاد کرنے اور امتحان کے مواقع پر انتشار و اختلاف سے بچنے کی تاکید فرمائی کہ اسی طرح وہ اسلام کی پیروی کا صحیح حق ادا کرسکیں گے اور نرمی و سختی دونوں صورتوں میں اللہ کی اطاعت پر قائم رہ سکیں گے۔ اگر وہ ان باتوں کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کا ہوا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی تو چالیس سال تک صحرا ہی میں بھٹکتے رہ گئے۔ اس پہلو سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس کے نصف اول کی حیثیت تمہید کی ہے اور نصف ثانی کی حیثیت مقصود کی۔ اس روشنی میں پوری سورة کی تلاوت کیجیے تو آیات کا باہمی نظم سمجھنے میں بڑی آسانی ہوگی اور اس تمہید سے اصلی مقصود یہی ہے۔ رہا آیات کا باہمی نظم اور اس کے معانی کی وضاحت تو یہ چیز اس وقت سامنے آئے گی جب ہم سورة بقرہ کی طرح اس کے اجزا کو بھی الگ الگ مجموعوں کی شکل میں کر ان کی تفسیر کریں گے۔ چناچہ اب ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق کی رہنمائی میں اس سورة کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ۔ (یہ تمہیدی بحث بیشتر استاذ (رح) کے افادات سے ماخوذ ہے)

Ayah 3:1

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

یہ الم ہے

الم، سورة بقرہ کی تفسیر میں حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے اس باب میں استاذ امام مولانا فراہی ؒ کا نقطہ نظر بھی پیش کردیا ہے۔ اس کے سوا کوئی نئی چیز اس سلسلے میں ہمارے سامنے ایسی نہیں آئی جو یہاں قابل ذکر ہو۔
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ ہی معبود ہے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔

اس آیت میں جو اسمائے حسنی مذکور ہیں سب کی تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض کی تفسیر سورة فاتحہ میں، بعض کی سورة بقرہ میں۔ صفاتِ حیات و قیومیت کے اسرار و مقتضیات : یہ امر، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کرچکے ہیں، ملحوظ رہے کہ اس سورة میں استدلال بیشتر صفاتِ الٰہی سے ہے۔ صفات الٰہی میں سب سے پہلے صفات حیات و قیومیت کو لیا ہے۔ ان دونوں صفتوں کے اسرار و حقائق پر ہم آیت الکرسی کے اسرار و حقائق کے ضمن میں گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں ان کا اعادہ باعث طوالت ہوگا۔ یہاں موقع کلام کی مناسبت سے ان صفات کا حوالہ کتاب الٰہی کی ضرورت کے اثبات کے پہلو سے ہے۔ چناچہ بعد کی آیات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہورہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایک زندہ خدا ہے تو ناگزیر ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتا سنتا ہے، ہماری دعائیں، فریادیں اس تک پہنچتی ہیں ہمارے اعمال و افعال اس کی نظر میں ہیں۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ہماری دعائیں اپنی حکمت کے مطابق قبول فرماتا ہے اور ہمارے اعمال پر وہ ایک دن جزا اور سزا بھی دے گا۔ پھر ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ بندے اپنی زندگی میں وہ رویہ اختیار کریں جو اسے پسند ہو۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہے کہ بندوں میں اس بات کی جستجو ہو کہ کون سے اعمال خدا کو پسند ہیں، کون سے ناپسند، تاکہ وہ اس کی اطاعت وہ ہدایت کی راہ اختیار کر کے سعادت کا مقام حاصل کرسکیں اور حقیق زندگی کے چشمہ حیواں سے فیضیاب ہوسکیں۔۔ اہل کتاب ”خداوند خدا، زندہ خدا“ کی تعبیر سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ ان کے انبیا کے صحیفوں میں بکثرت یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ جہاں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے علم اور اس کی غیرت کا اظہار ہوا ہے بالعموم اس کے لیے ”زندہ خداوند“ ہی کی تعبیر استعمال ہوئی۔ نصاری اگرچہ اپنے زعم کے مطابق ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہیں لیکن وہ بھی ”زندہ خدا“ کی تعبیر سے نا آشنا نہیں تھے۔ اس وجہ سے یہ بات بداہۃً ان کے خلاف جاتی ہے کہ ایک طرف تو وہ زندہ خدا کا تصور رکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کا مصلوب ہونا بھی مانتے ہیں۔ اسی طرح ”قیوم“ کی صفت بھی انبیا کے صحیفوں میں بار بار مذکور ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کے حکم اور اسی قدرت سے قائم ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی ان بدیہی صفات میں سے ہے جن پر عقلاً بھی ایمان لانا ضروری ہے اور انبیاء کے صحیفوں کی رو سے بھی۔ نصاری بھی ان صحیفوں پر ایمان کے مدعی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حضرت مسیح ؑ کی الوہیت کے قائل ہیں۔ اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ جب تم خود اقرار کرتے ہو کہ حضرت مسیح بھوک پیاس محسوس کرتے تھے، غذا اور پانی کے محتاج تھے، بغیر ان چیزوں کے وہ اپنی ہستی کو قائم رکھنے پر قادر نہ تھے تو پھر وہ خدا کس طرح ہوئے، جب کہ خدا کے لیے تمہارے اپنے انبیاء کے ارشاد کے بموجب قیوم ہونا ضروری ہے ؟ یا یہ سوال کیا جائے کہ جب تمہاری اپنی انجیلوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح مصائب و شدائد پیش انے پرو روئے، ان کا دل تنگ ہوا اور سولی پر انہوں نے فریاد کی تو پھر وہ آسمان و زمین کے تھامنے والے اور قائم رکھنے والے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ تو ان سوالوں کے جواب میں ان کے پاس ضد اور کٹ حجتی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔ یہاں قیوم کی صفت کا حوالہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت بخشے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ واحد، ہمارا پروردگار، جس طرح ہمارا پیدا کرنے والا اور ہمیں زندگی بخشنے والا ہے اسی طرح وہ، جیسا کہ آیت الکرسی میں ارشاد ہوا، اپنی خلق کو قائم رکھنے والا بھی ہے اور اس کے لیے اس نے ہر قسم کے اسباب ووسائل پیدا کیے ہیں۔ پھر جب اس نے ہماری معیشت کے لیے یہ کچھ سامان کیے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ہماری اجتماعی زندگی کے لیے وہ چیز نہ دے جو ہمارے قیام و بقا کی ضامن ہوسکے در آنحالیکہ یہ چیز ہماری خلقت کی اصل غایت ہے۔ چناچہ یہی چیز قیام عدل و قسط کی اصل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرائع و احکام کے نزول کی بنیاد بنی اس لیے کہ اس کے بغیر فطرتِ انسانی ارتقا کے اس درجے کو حاصل نہیں کرسکتی تھی جو اس کے وجود کے اندر مضمر ہے۔۔ یہ قیومیت اس بات کی بھی مقتضی ہوئی کہ خدائے قیوم و کارساز اس امر کی بھی نگرانی رکھے کہ جب بندے اپنی خود مختاری اور سرکشی سے کام لے کر اس کے نظام عدل کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کریں۔ چناچہ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ خاتم الانبیا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے تک اللہ تعالیٰ نے دنیا کو عدل و حق اور اپنی سیدھی راہ پر استوار رکھنے کے لیے اپنے بیشمار نبی اور رسول بھیجے اور خاتم الانبیا پر دین کی تکمیل کردینے اور کتاب الٰہی کو ہر قسم کی دست اندازیوں سے محفوظ کردینے کے بعد اس مقصد کے لیے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر دور میں اس امت کے اندر ایک ایسا گروہ، خواہ وہ کتنا ہی قلیل التعداد ہو، پیدا ہوتا رہے گا جو خود حق وعدل پر قائم اور دوسروں کو اس عدل و حق کے قائم کرنے کی دعوت دیتا رہے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حدیثوں میں بھی ہوئی ہے اور اس کی طرف بعض لطیف اشارات اس سورة میں بھی آ رہے ہیں جن کی طرف ہم آگے انشاء اللہ موزوں مقامات میں توجہ دلائیں گے۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ مصداق اس کی جو اس کے لیے آگے سے موجود ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔

قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت : ”حق“ کے معنی کی تحقیق تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے مختلف معانی میں سے ”قول فیصل“ مراد ہے۔ یعنی وہ بات جو نزاع و اختلاف کا فیصلہ کردے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہود و نصاری کو جو کتاب دی گئی تھی اس میں انہوں نے اختلافات پیدا کردیے جس کے سب سے اصل حقیقت گم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس گم شدہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا تاکہ لوگ اللہ کے اصلی دین سے بہرہ مند ہوں اور اختلافات و نزاعات کی بھول بھلیاں سے نکل کر دین کی اصلی شاہراہ پر آجائیں۔۔ ”مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ“ پر بھی تفصیلی بحث سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ قرآن کے ”مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ“ ہونے کے ایک مشہور معنی تو یہ ہیں کہ یہ بنیادی طور پر پچھلے صحیفوں کی تمام صحیح تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے، صرف ان باتوں کی تردید کرتا ہے جو ان میں ملاوٹ کرنے والوں کی طرف سے ملا دی گئی ہے۔ قرآن اور دوسرے آسمانوں صحیفوں کی یہ ہم آہنگی اور ہم رنگی اس بات کی صاف شہادت ہے کہ یہ سب ایک ہی آفتاب حق کی شعائیں اور ایک ہی منبع انوار کے پرتو ہیں۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ قرآن اور اس کے حامل کی صفات پچھلے صحیفوں کی پیشین گوئیوں میں مذکور ہیں، یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے مصداق کی منتظر تھیں، قرآن کے نزول اور محمد ﷺ کی بعثت سے ان کی تصدیق ہوئی۔ یہ قرآن کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی شہادت ہے اور ساتھ ہی اس سے ان صحیفوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے کہ ان میں جو پیشین گوئیاں وارد تھیں وہ سچی ثابت ہوئیں۔ اس پہلو سے قرآن سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف سے خیر مقدم کا سزاوار تھا جو اگلے صحیفوں پر ایمان کے مدعی تھے کہ اصلاً قرآن کے ظہور سے سب سے زیادہ انھی کے سر اونچے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب سے انکار کیا۔۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔ اور پھر فرقان اتارا۔ بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

”وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ الایۃ“۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کے اجمال کی تفصیل ہے جس سے قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت واضح ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ حی وقیوم ہے اس وجہ سے اس نے ہماری زندگی کی رہنمائی اور ہمیں عدل و قسط پر استوار رکھنے کے لیے قرآن کو قول فیصل بنا کر اتارا ہے۔ اس سے پہلے اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل فرمائیں لیکن ان کے پیرو وں نے ان میں تحریف اور ان کے بعض حصوں کو فراموش کر کے ان میں بہت سے اختلافات پیدا کردیے جس کے سبب سے حق و باطل میں امتیاز ناممکن ہوگیا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی بنا کر اتارے۔ چناچہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی۔ اب جو لوگ اس کتاب کا انکار کریں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہے اس لیے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نظام عدل و قسط کے دشمن ہیں جو اس کی مخلوق کی صلاح و فلاح اور اس کی دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو چھوڑ دے، ان کی عدل دشمنی کی ان کو سزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی دنیا کو تباہی کے لیے چھوڑ دیا اور اس کے بقا سے اسے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ در آنحالیکہ اس کی صفت، جیسا کہ اسی سورة میں آگے ذکر آئے گا، قائماً بالقسط ہے۔ اس قوامیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس قسط کے دشمنوں سے انتقام لے اور ان کو واجبی سزا دے۔ وہ عزیز یعنی غالب اور قدرت والا ہے، کمزور ناتواں نہیں ہے کہ کوئی اسے بےبس کردے، اسی طرح وہ انتقام والا ہے یعنی عدل و قسط کے معاملے میں غیور ہے، سرد مہر اور بےاحساس نہیں ہے کہ ان کی پامالی پر راضی ہوجائے۔ یہ اس کی انہی صفات کا ظہور ہے کہ جن قوموں نے اس کے قائم کردہ قسط کو مٹایا ہے، ایک خاص حد تک ان کو مہلت دینے کے بعد اس نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور جب جب اس کے شرائع و احکام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس نے ان کو از سرِ نو تازہ کرنے اور سنوارنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ عدل و قسط کے قیام و بقا کے لیے اپنی اسی سنت کو یہاں انتقام سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayahs 3:5–6

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ، وہ غالب اور حکیم ہے

تفسیر آیت 5، 6: قیام عدل پر صفات الٰہی سے استدلال : اوپر والی آیت میں کتاب الٰہی کے مخالفین یا بالفاظ دیگر عدل و قسط کے ہادمین کے لیے جو سزا مذکور ہوئی ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کی اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے وہ بیخبر رہتا ہے۔ اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوتی، اور خواہ زمین پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے اور محیط کیوں نہ ہو، اسی نے تو سب کو پیدا کیا اور وہی ہے جو رحموں کے اندر صورت گری فرماتا ہے تو جس نے پیدا کیا اور جس نے صورت گری فرمائی، کیا وہ بھی بیخبر ہوسکتا ہے الا یعلم من خلق (کیا جس نے پیدا کیا وہ بھی نہ جانے گا) اس کے بعد توحید اور خدا کی صفات میں سے عزیز اور حکیم کا حوالہ دیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محیط کل علم رکھنے والی ہستی اگر قیام عدل و قسط کا اہتمام نہ کرے تو اس کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ اس کو عزت وقدرت حاصل نہیں ہے یا عزت وقدرت تو حاصل ہے لیکن اس کو اپنے کاموں میں کسی حکمت و مصلحت کی کوئی پروا نہیں، بس ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے، خیر ہو یا شر، ظلم ہو یا انصاف اس سے اسے کچھ بحث نہیں۔ دونوں ہی چیزیں اس کی نظر میں یکساں ہیں۔ یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، اسے یہ چیز یہ قدرت بھی حاصل ہے اور اس کے ہر کام میں عدل و حکمت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہوے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان لوگوں سے انتقام نہ لے گا جو اللہ کی اس کتاب کا انکار کریں گے جو اس نے دنیا میں از سرِ نو حق وعدل کے آثار و اعلام کو اجاگر کرنے کے لیے نازل فرمائی ہے۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری جس میں محکم آیات ہیں جو اصل کتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور دوسری کچھ آیتیں اس میں ایسی ہیں جو متشابہ ہیں۔ تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس میں سے متشابہات کے درپے ہوتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان کی حقیقت وماہیت معلوم کریں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تو جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب ہی کے پاس سے ہیں۔ اور یاد دہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔

آیات نمبر 7 تا 17 کا خلاصہ مضمون : قرآن کے نزول کی ضرورت واضح کرنے کے بعد اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں جو اس قرآن کا انکار کر رہے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کو وہ اپنے اس انکار کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فرمایا ہے کہ انکار کی راہ ان لوگوں نے اختیار کی ہے جن کے دلوں میں کجی اور جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہے۔ اپنے اس ذوق کی وجہ سے وہ قرآن کی اصل تعلیمات سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے۔ وہ اس میں صرف ایسی چیزیں ڈھونڈھتے ہیں جن کی آڑ لے کر وہ قرآن کے خلاف لوگوں کے دلوں میں کچھ شبہات و شکوک پیدا کرسکیں اور اس طرح خود بھی راہ حق سے گریز اختیار کریں اور جس حد تک ان کا زور چلے دوسروں کو بھی اس سے بدکائیں۔ چناچہ ان کی ساری دلچسپی محکمات کے بجائے صرف متشابہات سے ہوتی ہے اس لیے کہ ان کا تعلق آخرت کی زندگی کی تمثیلات و تشبیہات سے ہوتا ہے، ان کے اندر موشگافی اور کر پزی کر کے کوئی ایسی بات نکالی جاسکتی ہے جو خود ان کی ضلالت کے لیے بھی ایک بہانہ بن سکے اور دوسروں کو بھی اس سے فتنے میں مبتلا کیا جاسکے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے اندر علم و عقل کی پختگی موجود ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی آیات کی قدر کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات و ہدایات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ قرآن کے محکمات کی طرح اس کے متشابہات کی بھی قدر کرتے ہیں اور ان کو اعتراض و فتنہ جوئی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو اضافہ علم کا ذریعہ بانتے اور ان پر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔ اگر کوئی بات اپنی فہم کی گرفت سے ماورا پاتے ہیں تو اس کی حقیقت و ماہیت کے درپے ہونے اور اس کو فتنہ بنانے کے بجائے اس کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں کہ یہی رویہ علم و ایمان کی پختگی کا مقتضی ہے۔ نیز ان کے اندر آخرت کا پختہ یقین ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ شیاطین کی وسوسہ اندازیوں سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے برابر دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ ایمان کی دولت سے بہرہ یاب فرمانے کے بعد وہ ان کو کسی گمراہی میں پڑنے سے محفوظ رکھے۔ اس کے بعد گمراہی کے ان اسباب کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کے پچھلے ہم مشربوں کی تباہی کے باعث ہوئے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی کامیابی کے بعض تازہ واقعات کا حوالہ دے کر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اگر ان واقعات سے انہوں نے عبرت نہ پکڑی تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو پچھلوں کا ہوچکا ہے۔ اس کے بعد ان حجابات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ان کے اور قرآن کے درمیان آج حائل ہیں اور ساتھ ہی ان کے بےحقیقتی اور بےثباتی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ دنیائے فانی کی جن چیزوں پر ریجھ کر قرآن سے منہ موڑ رہے ہو ان کی حقیقت جلوہ سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ان کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ابدی زندگی کی نعمتوں اور خدا کی خوشنودی کے طالب بنو جس کی راہ صبر، سچائی، اطاعت الٰہی، انفاق فی سبیل اللہ اور استغفار سے کھلتی ہے۔ اور قرآن اسی راہ کی طرف بلانے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے : ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ (وہی خدا ہے جس نے تہارے اوپر کتاب اتاری) سے اشارہ اس عزیز و حکیم اور حی وقیوم خدا کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور اس سے مقصود یہاں مخاطب کو کوئی چیزوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ایک تو اس عظیم رحمت کی طرف اشارہ کرنا ہے جو اس کتاب کی شکل میں ظہور میں آئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات حیات و قیومیت کا ظہور ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو زندگی جاوداں سے بہرہ مند اور ان کو جادہ حق پر استوار کرنے کے لیے یہ کتاب اتاری ہے۔ اس عظیم نعمت کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی قدر پہچانیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کے ذریعے سے حیات جاوداں اور بقائے دوام حاصل کریں۔ دوسرے اس میں ان لوگوں کے لیے تخویف و تہدید کا پہلو بھی ہے جو اس کی تردید و تکذیب کریں گے اس لیے کہ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ عزیز بھی ہے اور قیوم بھی۔ اس کی اس عزت و حکمت اور اس قیومیت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا دے جو اس کے قانونِ حق و عدل کی راہ میں مزاحم ہوں۔ تیسرے اس سے نفس کتاب کے مزاج کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے کہ یہ ایک خدائے عزیز و حکیم کا کلام ہے۔ اس وجہ سے یہ خود بھی عزیز و حکیم ہے۔ چناچہ قرآن میں جگہ جگہ اس کی صفت عزیز و حکیم آئی بھی ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کتاب الجھنے اور موشگافی کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بقدر ظرف و توفیق فائدہ اٹھانے کے لیے ہے۔ آدمی اس ناپیدا کنار سمندر کی حکمتوں سے جو فائدہ اٹھا سکے اٹھا لے، یہ توقع نہ کرے کہ وہ اس کے تمام اسرار و حقائق کا احاطہ کرسکتا ہے۔ اس کی جو باتیں سمجھ میں آئیں ان کو فتنہ اور شبہات و شکوک کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ان کو اللہ کے حوالہ کرے۔ اس آیت میں چند الفاظ ایسے استعمال ہوئے جن کی نوعیت کچھ قرآنی اصطلاحات کی سی ہے۔ چونکہ آیت کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اس وقت تک واضح نہیں ہوسکے گا جب تک ان اصطلاحات کا مفہوم اچھی طرح واضح نہ ہوجائے اس وجہ سے پہلے ہم ان کی وضاحت کرتے ہیں۔ ’ آیات محکمات ‘ سے مراد : آیات محکمات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہیں جو آفاق وانفس کی بالکل بدیہیات، خیر و شر کے مسلمات، اور معروف و منکر کے قطعیات و یقینیات پر مشتمل ہیں۔ جن کو دل قبول کرتے ہیں اور جن کو قبول کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی شرط نہیں ہے کہ دل سلیم ہو۔ جن کے حق میں ہر عقل گواہی دیتی ہے بشرطیکہ اس پر تعصب جذبات اور غیر فطری عقلیات کے پردے پڑے ہوئے نہ ہوں۔ انہی محکمات پر ہر صحیح مذہب کی بنیاد ہوتی ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب اور تمام انبیاء سے یہ تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ چونکہ فطرت انسانی کے اندر ان کی جڑیں نہایت مستحکم ہوتی ہیں، شبہات و شکوک کی آندھیاں ان کو ہلانے سے قاصر رہتی ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو محکمات سے تعبیر کیا ہے۔ ’ ام الکتاب ‘ کا مفہوم : آیات محکمات کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ ان کی حیثیت ام الکتاب کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ ساری کتاب کا مرجع و مرکز وہی محکمات ہوتی ہیں، انہی پر ساری بحث کا مدار ہوتا ہے، ساری شاخیں انہی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کوئی نزاع و اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی انہی کی کسوٹی پر پرکھ کر ہوتا ہے۔ پھر انہی کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کو اصول قرار دے کر ان سے مسائل مستنبط کیے جائیں اور ان مسائل پر اسی طرح اعتماد کیا جائے جس طرح اصولوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ آیات متشابہات سے مراد : متشابہات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں ہمارے مشاہدات و معلومات کے دسترس سے باہر کی باتیں تمثیلی و تشبیہی رنگ میں قرآن نے بتائی ہیں۔ یہ باتیں جس بنیادی حقیقت سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں وہ بجائے خود واضح اور مبرہن ہوتی ہے، عقل اس کے اتنے حصے کو سمجھ سکتی ہے جتنا سمجھنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ البتہ چونکہ اس کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن ان کو تمثیل و تشبیہ کے انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ علم کے طالب بقدر استعداد ان سے فائدہ اٹھا لیں اور ان کی اصل صورت و حقیقت کو علم الٰہی کے حوالہ کریں۔ یہ باتیں خدا کی صفات و افعال یا آخرت کی نعمتوں اور اس کے آلام سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ان کا جس حد تک ہمارے لیے سمجھنا ضروری ہے اتنا ہماری سمجھ میں آجاتا ہے اور اس سے ہمارے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی حد سے آگے بڑھ کر ان کی اصل حقیقت اور صورت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے ذہن سے شک کا ایک کانٹا نکالنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں بیشمار کانٹے اس کے اندر چبھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نایافتہ کی طلب میں اپنی یافتہ دولت کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے اور نہایت واضح حقائق کی اس لیے تکذیب کردیتا ہے کہ ان کی شکل و صورت ابھی اس کے سامنے نمایاں نہیں ہوئی۔ قرآن نے اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ (یونس :39) بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جو ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ متشابہات کی بعض مثالیں : ہم یہاں قرآن سے اس قسم کے بعض متشابہات کی مثالیں نقل کرتے ہیں۔ سورة مدثر میں قرآن نے دوزخ کے عذاب کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے ”سَأُصْلِيهِ سَقَرَ (26) وَمَا أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ (27) لا تُبْقِي وَلا تَذَرُ (28) لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ (29) عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (30)“ ، میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا ہے ؟ وہ نہ ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی، جسموں کو جھلس دینے والی ہوگی۔ اس پر خدا کے انیس سرہنگ مقرر ہوں گے (مدثر :26-30)۔ اس آیت میں جس سزا کا ذکر ہے وہ ایک حقیقت ہے اور قانون مجازات پر جس کا ایمان ہو اس کے لیے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، رہی اس کی تفصیل تو اس کا تعلق چونکہ ایک نادیدہ عالم سے ہے اس وجہ سے اس کی اصل صورت کسی طرح ہماری گرفت میں نہیں آسکتی۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح روش یہ ہے کہ آدمی اتنے پر قناعت کرے جو سمجھ میں آتا ہے۔ جو سمجھ میں نہیں آتا وہ اس عالم میں سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا، اس وجہ سے اس کے درپے ہونے کے بجائے اس کو خدا کے حوالے کرے۔ سلیم الطبع انسان ایسا ہی کرتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں کئی اور عقلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ یہ روش اختیار کرنے کے بجائے متشابہات و تمثیلات کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں جس سے وہ خود بھی فتنوں میں پڑتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے بہتوں کو بھی فتنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ چناچہ دیکھیے مذکورہ بالا آیت میں تسعۃ عشر کا جو لفظ آیا تو قرآن نے اس کے متعلق شرارت پسندوں کا رد عمل یہ بتایا ہے کہ وہ اسی کے درپے ہوگئے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے فرشتے مراد ہیں تو یہ سوال انہوں نے اٹھایا کہ انیس کے عدد کی تخصیص میں کیا رمز ہے ؟ قرآن نے ان کے اس رد عمل پر ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ”وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلا مَلائِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا وَلا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلا هُوَ وَمَا هِيَ إِلا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ : اور ہم نے دوزخ کی پہرہ داری پر نہیں مقرر کیے ہیں مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی تعداد کو نہیں بنایا مگر کافروں کے لیے فتنہ، تاکہ وہ لوگ یقین کریں جن کو کتاب ملی ہے اور ایمان والے اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور کتاب پانے والے اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کافر ہیں وہ یہ کہیں کہ اس قسم کی تمثیل سے اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ نہیں ہے مگر انسانوں کے لیے یاد دہانی“ (مدثر :31)۔۔ اسی طرح سورة بقرہ میں جنت کی نعمتوں کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب اہل جنت کے سامنے جنت کی نعمتیں پیش کی جائیں گی تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ یہ تو وہی نعمتیں ہیں جن کی ہمیں پہلے قرآن میں سیر کرا دی گئی تھی، قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا : وہ پکاریں گے، یہ تو وہی چیز ہے جو ہمیں اس سے پہلے بخشی گئی اور وہ دیے جائیں گے اس سے ملتی جلتی (بقرہ :25)۔ یعنی جنت کی نعمتوں کا ذکر جو تمثیلات و متشابہات کے رنگ میں قرآن میں ہوا ہے اس سے اہل ایمان کو تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بیٹھے ہوئے ایک سیر جنت کی کرلیتے ہیں لیکن انہی تمثیلات و متشابہات سے متعلق فتنہ جو یوں اور ضلالت پسندوں کے رویہ کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے ”إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلا الْفَاسِقِينَ : اللہ اس بات سے نہیں جھجھکتا کہ کوئی تمثیل بیان کرے خواہ وہ کسی مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی، تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے پروردگار ہی کی جانب سے ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تمثیلیں پیش کرنے سے اللہ تعالیٰ نے کیا چاہا ؟ اللہ ان تمثیلوں سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور ان سے بہتوں کو راہ یاب کرتا ہے اور ان سے نہیں گمراہ کرتا مگر انہیں لوگوں کو جو خدا کی نافرمانی کرنے والے ہوں“ (بقرہ :26)۔۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیات متشابہات سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جن میں یا تو آخرت کی نعمتوں اور نقمتوں میں سے کسی نعمت و نقمت کا بیان تمثیلی و تشبیہی رنگ میں ہوا ہے یا خدا کی صفات و افعال میں سے کوئی بات تمثیلی اسلوب میں پیش ہوئی ہے۔ مثلا آدم میں خدا کا اپنی روح پھونکنا یا حضرت عیسیٰ ؑ کو بن باپ کے پیدا کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی آیات سے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا اہل ایمان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہوتی ہے وہ انہی کے اندر موشگافیاں کر کے بہت سے فتنے پیدا کرلیتے ہیں۔ تاویل کا مفہوم : تاویل کا لفظ بھی اس آیت میں ذرا ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے یہاں مراد مذکورہا بالا قسم کی کسی بیان کردہ شے کی حقیقت اور اس کی صورت ہے۔ جس مفہوم میں یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں سورة یوسف میں استعمال ہوا ہے ”قَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا : اس نے کہا اے میرے باپ، یہ ہے میرے اس خواب کی حقیقت جو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا، میرے پروردگار نے اس کو واقعہ ثابت کر دکھایا“ (یوسف :100)۔ محکمات و متشابہات کے بارے میں چند تنبیہات : یہاں چند باتیں بطور تنبیہ اور بھی قابل ذکر ہیں۔ ان سے اس راہ کی ساری الجھنیں انشاء اللہ دور ہوجائیں گی۔۔ ایک یہ کہ اس آیت میں اسلوبِ کلام حصر کا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں گمان کرنا چاہیے کہ بس قرآن کی آیات دو ہی قسموں، محکمات اور متشابہات، ہی میں تقسیم ہیں۔ یہاں صرف انہی دونوں قسموں کا ذکر متقابل قسموں کی حیثیت سے ہوا ہے اور مقصود ان کے ذکر سے محض فتنہ پسندوں اور ہدایت پسندوں کے اختلافِ ذوق کو نمایاں کرنا ہے کہ جو طبیعتیں فتنہ پسند ہوں ان کی ساری دلچسپی صرف متشابہات سے ہوتی ہے تاکہ ان کے ذوق فتنہ جوئی کے لیے کوئی غذا فراہم ہوسکے۔ برعکس اس کے جو علم و معرفت کے طالب ہوتے ہیں اور جن پر حقیقت پسندی کا رنگ غالب ہوتا ہے ان کی اصلی دلچسپی محکمات سے ہوتی ہے۔ جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے ان کا جتنا حصہ ان کی سمجھ میں آتا ہے اس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو حصہ سمجھ میں نہیں آتا اس کی صورت ہیئت معلوم کرنے کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ اس کو خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ محکمات کی بدولت چونکہ ان کے قدم علم میں بہت راسخ ہوجاتے ہیں اس وجہ سے اس طرح کی چیزیں ان کو متزلزل نہیں کرتیں۔ قرآن میں ان دو قسموں کے علاوہ بھی آیات ہیں لیکن مقصود یہاں چونکہ آیات قرآنی کی تمام انواع کا احاطہ نہیں ہے اس وجہ سے ان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ مثلاً قصص قرآن، امثال قرآن، تلمیحات و اشارات۔ یہ چیزیں نہ تو ام الکتاب کے درجے اور مرتبے کی ہیں اور نہ ان کو ان متشابہات کے درجے میں رکھنا صحیح ہے جن کی تاویل میں غور و فکر کرنا ممنوع ہو۔۔ دوسری یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کی آیات کا محکم و متشابہ ہونا ہرگز بلحاظ الفاظ نہیں ہے بلکہ صرف بلحاظ معنی ہے۔ قرآن، اپنے الفاظ اور اپنی زبان کے اعتبار سے، تمام تر عربی مبین میں ہے۔ الفاظ کی تاویل میں جو اختلافات ہوئے ہیں وہ بالعموم تین اسباب سے ہوئے ہیں۔ یا تو غور و تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے یا کسی غلط عقیدے کی بےجا عصبیت اس کا باعث ہوئی ہے، یا عربی زبان سے ناواقفیت اس کا سبب بنی ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں اس طرح کے کسی سبب سے کوئی الجھن پیدا ہوئی ہو تو اس پر غور و فکر عربی زبان کے معروف و مسلم قواعد و ضوابط کی روشنی میں ہونا چاہیے، یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے جن پر غور وفکر ممنوع ہو۔۔ تیسری بات یہ ہے کہ متشابہات ہوں یا محکمات، قرآن میں یہ دونوں قسمیں ممیز اور معلوم ہیں۔ یہ بات نہیں ہے، جیسا کہ بعض متکلمین نے گمان کیا ہے کہ یہ دونوں غیر ممیز ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت کوئی مشتبہ اور مشکوک چیز ہے۔ جن لوگوں نے ایسا سمجھا ہے انہوں نے بالکل غلط سمجاھ ہے۔ ان میں سے پہلی بات تو صریحاً غلط ہے اور دوسری بات نہایت مبہم ہے جو سرے سے قرآن ہی سے مایوس کردینے والی ہے حالانکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے نور وبرہان بنا کر اتارا ہے، جو باتیں عالم غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کے متعلق خدا نے ہماری ضرورت کے حد تک خبر دے دی ہے، اس کا جو حصہ ہم سے محجوب رکھا گیا ہے بس اس کی تاویل پردہ خفا میں ہے۔۔ چوتھی یہ کہ قرآن نے یہاں محکم اور متشابہ کا ایک خاص مفہوم مراد لیا ہے جو ان کے لغوی مفہوم سے ایک حد تک الگ ہے۔ بعض دوسرے مقامات میں بھی قرآن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں جہاں ان کے لغوی مفہوم مراد ہیں۔ مثلا محکم سے مراد وہ کلام ہے جو جامع، واضح اور موجز ہو۔ اس صورت میں اس کا مقابل لفظ مفصل آتا ہے۔ مثلاً ”كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ : یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں، پھر ان کی تفصیل کی گئی خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے“ (ھود :1)۔ سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیمات و ہدایات قول محکم کی شکل میں اتاریں تاکہ وہ ذہن و حافظے میں اچھی طرح راسخ ہوسکیں اور دل و زبان دونوں کے لیے وہ ہلکی پھلکی محسوس ہوں پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے یا نبی ﷺ کی سنت کے ذریعے سے ان کی تفصیل فرما دی۔ اسی طرح متشابہ کا ایک عام مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہم آہنگ و ہم رنگ چیز اپنے اس مفہوم کے اعتبار سے پورا قرآن مشابہ ہے۔ چناچہ اسی پہلو سے قرآن کو متشابہ کہا گیا ہے ”كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ“ (زمر :23)۔۔ پانچویں یہ کہ جس طرح قرآن محکمات و متشابہات دونوں ہی قسم کی آیات پر مشتمل ہے اسی طرح عالم انفس اور عالم آفاق میں جو نشانیاں ہیں وہ بھی محکمات و متشابہات دونوں ہی پر مشتمل ہیں۔ ان کے باب میں بھی ارباب علم اور اہل زیغ کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اوپر مذکورہوا جن کے ذہن و فکر میں پختگی ہوتی ہے وہ محکمات سے اطمینان و یقین حاصل کرتے ہیں اور متشابہات سے شبہات وشکوک میں گرفتار ہونے کے بجائے ان کو خدا کے علم و حکمت کے حوالے کرتے ہیں اور اپنے علم کی کوتاہی کا اقرار کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ ان متشابہات کو اپنی اور دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس مسئلے پر مفصل بحث انشاء اللہ ہم سورة کہف کی تفسیر کریں گے۔ غزوہ احد کے واقعہ کو بھی، جیسا کہ ہم تمہیدی بحث میں اشارہ کرچکے ہیں، ایک متشابہ واقعہ کی نوعیت حاصل ہے، چناچہ اس جنگ کے بعد اس عظیم آیت کا اترنا اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے تھا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جس طرح غزوہ بدر حق و باطل کے درمیان ایک یوم فرقان تھا جس سے اہل ایمان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر مطمئن ہوئے اور اس نے ایک آیت محکم بن کر اہل کفر پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کردی اسی طرح غزوہ احد کی حیثیت ایک آیت متشابہ کی ہے اس لیے کہ اس میں بظاہر باطل کو حق پر غلبہ حاصل ہوا جس سے کفار کو یہ گمان ہوا کہ جنگ میں کامیابی و ناکامی کا تعلق صرف تدابیر اور اسباب و وسائل ہی سے ہے، اس میں نہ خدا کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کا کوئی تعلق حق اور باطل سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک شدید قسم کی غلط فہمی تھی، جس کا دور ہونا نہایت ضروری تھا چناچہ جب اس کے دور کرنے لیے مناسب وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یہ دور فرمائی اور یہ اس سلسلے کی ایک عظیم آیت ہے۔ زیغ کی حقیقت : اس آیت میں ’ زیغ ‘ کا جو لفظ آیا ہے مختصراً اس کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔ زیغ کے اصل معنی میل یعنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ یہ لفظ بیک وقت دو مفہوموں کا حامل ہے، ایک کجی، اور دوسرے سقوط، کوئی چیز جو کھڑی ہو جب جھک جاتی ہے تو گرنے سے قریب ہوجاتی ہے۔ یہ حالت اس رسوخ کے برعکس حالت ہے جو اس آیت میں الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ کی بیان ہوئی ہے۔ یہ زیغ یوں تو اہل ضلالت کی عام بیماری ہے لیکن اہل کتاب اس مرض میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا رہے ہیں۔ یہود کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ شروع ہی سے اس بیماری میں مبتلا رہے۔ اور ان کے زیغ کا یہ پہلو خاص طور پر نہایت سنگین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں اس میں مبتلا رہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے۔ قرآن میں اس بات کا ذکر ہوا ہے۔ سورة صف میں اس کا ذکر اس طرح ہے ”وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ : اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں دکھ پہنچا رہے ہو جب کہ تم اچھی طرح یہ جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس جب وہ کج ہوگئے تو خدا نے بھی ان کے دل کج کردیے اور اللہ بد عہدوں کو ہدایت نہیں بخشتا“ (صف :5)۔۔ یہی یہود ہیں جنہوں نے کلمۃ اللہ اور اس قسم کے بعض دوسرے الفاظ کی حقیقت کی تشریح میں فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کر کے ان کو ایک گورکھ دھندا بنایا جس سے نصاری کے لیے گمراہی کی راہیں کھلیں اور وہ حضرت مسیح کی الوہیت کے عقیدے میں مبتلا ہوئے۔ بعد میں نصاری کی اس گمراہی پر مزید اضافہ بت پرست قوموں کی تقلید سے ہوا اور پھر آہستہ آہستہ وہ حق سے اتنے دور ہوگئے کہ اس سے ان کا رشتہ ہی منقطع ہوگیا اور وہ صریح کفر میں مبتلا ہوگئے۔ چناچہ قرآن نے ان کے بارے میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ ”لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ : ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے“ (مائدہ :72)۔۔ یہود و نصاریٰ کی گمراہی میں فرق : یہود اور نصاری کی گمراہی کی نوعیت میں بس یہ فرق ہے کہ یہود کی گمراہی اصلاً عملی ہے اور نصاری کی اعتقادی۔ اس فرق کی وجہ سے حق کی مخالفت میں ان کا رویہ بھی ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ یہود تو قرآن کو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت کرتے تھے۔ نصاری جس طرح تورات اور انجیل کے متشابہات میں پڑنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح قرآن میں بھی ان کی ساری دلچسپی بس متشابہات ہی سے تھی۔ انہی میں موشگافیاں کر کے وہ طرح طرح کے فتنے پیدا کرتے اور اس طرح اپنی گمراہی کا بھی سامان کرتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے۔ قرآن کے محکمات سے نہ انہوں نے خود دلچسپی لی اور نہ ان لوگوں کو دلچسپی لینے دی جن پر ان کا بس چلا الغرض قلب و نظر کے زیغ اور متشابہات کی پیروی کے باب میں تھے تو یہود و نصاری دونوں ایک ہی سطح پر، یہ بیماری ان میں مشترک تھی لیکن ان کے ذوقی رجحانات ذرا الگ الگ تھے۔ یہود ابتغاء فتنہ سے زیادہ رغبت رکھتے تھے اور نصاری ابتغائے تاویل سے۔ یہ گمراہیاں چونکہ دنیا کے تمام گمراہوں میں مشترک ہیں اس وجہ سے قرآن نے اسلوب بیان عام ہی رکھا ہے تاکہ کلام میں وسعت پیدا ہوسکے، یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہیں کی۔ لیکن قرآن کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اشارہ انہی کی طرف ہے۔ یہی انداز سورة فاتحہ میں بھی ہے۔ اس میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کے الفاظ ہرچند عام ہیں اور ان کے عام ہونے کی وجہ سے ان میں بڑی وسعت پیدا ہوگئی ہے لیکن ان کا خاص اشارہ یہود و نصاری کی طرف ہے۔ متشابہات سے گمراہی کی ایک مثال : متشابہات کی پیروی کی وجہ سے نصاری جس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اس کو ایک مثال سے واضح کرنا مفید رہے گا۔۔ قرآن اور انجیل دونوں اس امر میں باہم متفق ہیں کہ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں۔ کلمۃ اللہ کا مفہوم بالک واضح ہے کہ اس سے امر و حکم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش چونکہ فطرت کے عام ضابطے کے خلاف ہوئی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلمہ سے تعبیر کیا یعنی ان کی ولادت اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’ کن ‘ کہنے سے ہوئی ہے، یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اص شے کسی چیز کے واقع ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ہے۔ اسباب محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ یہ بات قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہیں ہے جس سے کسی صاف ذہن کے آدمی کے اندر کوئی الجھن پیدا ہوسکے۔ قرآن نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے ”مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ : بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایس ہے جیسی آدم کی، آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہوجا بس وہ ہوگیا“ (آل عمران : 59)۔ یعنی آدم کو کلمہ کن کے ذریعے سے حی و ناطق بنایا۔ اسی چیز کو دوسری جگہ نفخ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعینہ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ہے۔ نصاری نے اس واضح بات میں جو تحریف کی اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی بحثیں شروع ہوئیں تو انہوں نے ان پر یہ اعتراض شروع کیا کہ تم تو ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہو، ہم تم سے ہزار درجے افضل ہیں اس لیے کہ ہم آسمانی دیوتاؤں کی پر تستش کرتے ہیں۔ نصاری نے اپنے حریفوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کوشش کی کہ اپنے عقیدے کو بھی انہی کے عقیدے کے سانچے میں ڈھال دیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ دعوی کیا کہ مسیح تو ابن اللہ ہیں، وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اپنے اس نئے عقیدے کی آرائش میں انہوں نے ایک طرف تو یونانیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے فکر و فلسفہ سے مواد لیا اور دوسرے ان یہودی متکلمین کے علم کلام سے رہنمائی حاصل کی جو یہود کے آخری دور کی پیداوار تھے اور جو نہ صرف خالق اور مخلوق کے درمیان وسائل و وسائط کے قائل تھے بلکہ ان کو مستقل ذوات کا درجہ دیتے اور ان کو کلمۃ اللہ کہتے تھے۔ نصاری نے بعینہ یہی عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے اختیار کرلیا۔ کچھ عرصے تک تو بات اسی حد تک رہی لیکن آہستہ آہستہ گمراہی سے گمراہی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے ان کو خدا کا کفو، اسی کے جوہر سے اور ازل سے اس کے ساتھ قرار دے دیا۔ اور پھر اس عقیدے کی تائید کے لیے انجیل یوحنا کے آغاز میں تحریف کے چور دروازے سے بعض عبارتیں بھی داخل کردیں تاکہ باہر سے بر آمد کیے ہوئے اس عقیدے کے لیے گھر کی ایک دلیل بھی فراہم ہوجائے۔ وَمَا یعلم الایۃ پر وقف ہے : وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ (اور اس کی اصل حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ): اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ یہاں وقف ہے۔ یہی مذہب جمہور اہل سنت کا ہے اور یہی حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ، حضرت علی، حضرت حسن، مالک بن انس، کسائی اور فرا سے منقول ہے۔ البتہ شیعہ اور بعض متکلمین یہاں وصل کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک متشابہات کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں۔ اس کی وجہ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے، وہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ رہے دوسرے لوگ جو اس بات کے قائل ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تاویل سے مراد معنی لیتے ہیں حالانکہ آیت کا سیاق وسباق اس کے خلاف ہے۔ اوپر اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ اگرچہ آیت کے الفاظ اور اس کے مختلف اجزا کی اس وضاحت کے بعد آیت کی صحیح تاویل خود بخود سامنے آگئی ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر مزید اطمینان کے لیے ہم اس کا واضح مفہوم بھی یش کیے دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خدا جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، جو زندہ بھی اور قیوم بھی، اسی نے تورات اور انجیل اتاریں، پھر جب ان میں گھپلا کردیا گیا تو اس کی حکمت اور قیومیت مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن اتارے تاکہ اس کے ذریعے سے حق و باطل میں امتیاز ہوسکے تو جو لوگ اس کی مزاحمت کریں گے وہ یاد رکھیں کہ خدائے عزیز حق کو مظلوم نہیں چھوڑے گا، وہ اس کا ضرور انتقام لے گا۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب جو اس فرقان کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ فی نفسہ اس کتاب میں کوئی بات ایسی ہے جو ان کی وحشت کا باعث ہو رہی ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں کجی ہے۔ اس کجی کے سبب سے ان کو اس کتاب کے محکمات سے، جن کی حیثیت اصل کتاب کی ہے اور جن پر اس کی تمام تعلیمات اور اس کے سارے حکمت و فلسفہ کی بنیاد ہے، کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں اگر دلچسپی ہے تو بس اس کی ان آیات متشابہات سے ہے جن میں کوئی بات تمثیلی و تشبیہی رنگ میں بتائی گئی ہے۔ وہ اپنی طبیعت کے بگاڑ کے سبب سے انہی کے درپے ہوتے ہیں اور فساد انگیزی اور فتنہ آرائی کے لیے ان کی صورت و حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ جس حد تک ان کا علم ضروری ہے وہ خدا نے کھول دیا ہے، بس اتنے پر قناعت کرنی چاہیے، ان کی اصل حقیقت کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے، وہ اس دن کھلیں گی جس دن وہ سامنے آئیں گی، جو لوگ علم میں راسخ ہیں ان کی روش متشابہات کے معاملے میں یہی ہے۔ وہ محکمات اور متشابہات دونوں کو اپنے رب ہی کا عطیہ سمجھتے ہیں اور دونوں پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اپنے علم کی پختگی کی وجہ سے اس رمز سے واقف ہیں کہ آیات الٰہی کا مقصود بندوں کو یاد دہانی ہے اور چونکہ وہ عقل رکھتے ہیں اس وجہ سے ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہیے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کسی سعی نامراد و لا طائل میں اپنا وقت برباد کر کے اپنے خسران کے اسباب نہیں فراہم کرتے، اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اس کی آیات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور اس عقل سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔ ان مطالب کا اکثر حصہ استاذ امام ؒ کے افادات سے ماخوذ ہے، صرف بعض مطالب کی توضیح میری طرف سے ہے اس وجہ سے اس کی صحیح باتیں مولانا کی طرف منسوب کیجیے اور اگر کہیں خامی ہو تو اس کی ذمہ داری تنہا میرے سر ہے۔
Ayahs 3:8–9

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش، تو نہایت بخشنے والا ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! تو سب لوگوں کو ایک ایسے دن کے لیے جمع کر کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

تفسیر آیت 8۔ 9: ان دونوں آیتوں میں کوئی لغوی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ زیغ کے لفظ کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے جس سے اس امر کا اظہار ہورہا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں اتنے بےپروا نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ شبہات اور شکوک کو بلاوے بھیج کر بلائیں اور اپنے ایمان و اسلام کو خطرے میں ڈالیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے برابر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ دین میں ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور جب فتنوں کی یورش ہو تو خدائے وہاب اپنے پاس سے ان کے لیے وہ روحانی کمک بھیجے جو ان کے ثبات قدم کا ذریعہ بنے۔ دوسری آیت میں اس یقین کا اظہار ہے جو ان راسخین کے اندر آخرت کے باب میں ہوتا ہے۔ موقع کلام یہاں اشارہ کر رہا ہے کہ درحقیقت یہی یقین ہے جو دل اور عقل دونوں کا اصلی پاسبان ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کے ذہن و فکرکو کوئی چیز بھی ہرزہ گردی سے نہیں روک سکتی۔ وہ زندگی کو ایک نہایت سہل بازی سمجھتا ہے اور ہر داؤ پر اس کو لگا دینے کے لیے تیار رہتا ہے لیکن جن کے اندر آخرت کا یقین رچا بسا ہوتا ہے وہ ہر قدم احتیاط کے ساتھ اٹھاتے اور نہایت پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔ یہ احتیاط ان کو ہمیشہ جادہ مستقیم پر استوار رکھتی ہے۔
Ayahs 3:10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا، نہ ان کے مال خدا کے ہاں کچھ کام آئیں گے، نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا اور اللہ سخت پاداش والا ہے

تفسیر آیت 10-11: راہ حق کی اصل رکاوٹ : اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہاں مراد، جیسا کہ آیت 4 میں گزر چکا ہے، قرآن کے منکرین ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ مال و اولاد، جن کی محبت آج ان کے لیے ایک سورج سے زیادہ واضح حق کے قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، انہیں خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس وجہ سے ان کی محبت میں اس خدا کو نہیں بھولنا چاہیے جس کے حقوق سب پر مقدم ہیں اور جس کی پکڑ بھی بےپناہ ہے۔ مال و اولاد کا ذکر یہاں قبول حق کی راہ کے اصل حجاب کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آگے آیت 14 میں ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔ درحقیقت انہی کی محبت ہے جو انسان کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن انسان اصل حقیقت کے اعتراف سے گریز کرتا ہے اور اپنے اغراض کے لیے کچھ ایسے بہانے تلاش کرتا ہے جو اس کی اصل بیماری پر پردہ ڈال سکیں۔ قرآن نے یہ ان لوگوں کی اصلی اندرونی بیماری سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ درحقیقت مال و اولاد کی محبت ہے جو انہیں قرآن کی پیش کردہ سچائیوں کے آگے جھکنے سے روک رہی ہے لیکن وہ اس کو چھپانے کے لیے متشابہات کے اندر سے کچھ اعتراضات و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی دنیا پرستی بےنقاب نہ ہونے پائے۔ انسان کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ ایک حقیقت سے گریز تو اختیار کرتا ہے اپنے نفس کی کسی کمزوری کے سبب سے لیکن نمائش کچھ ایسی کرتا ہے جس سے مخاطب پر یہ اثر پڑے کہ فی الواقع اس کے اس گریز کے لیے کچھ وجوہ و اسباب اور کچھ اعتراضات و شبہات ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ان کی یہ روش بعینہ وہی روش ہے جو اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم نے اور خدا کے رسولوں کو جھٹلانے والی دوسری قوموں نے اختیار کی۔ انہوں نے بھی جان بوجھ کر محض دنیا کی محبت میں، خدا کی نشانیوں اور اس کی پیش کردہ نشانیوں کو کوئی سحر وشعبدہ خیال کر رہے، اس وجہ سے ان کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا اور جب پکڑ لیا تو پھر کوئی نہیں تھا جو خد کی پکڑ سے ان کو بچا سکے۔ شَدِيْدُ الْعِقَابِ کے لفظ میں دو مفہوم موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ خدا کی طرف سے انسان کو جو سزا بھی ملتی ہے وہ انسان کے اپنے ہی اعمال کا رد عمل ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ جس طرح خدا کے قوانین طبیعی کے نتائج بےلاگ اور لازمی ہیں اسی طرح خدا کے اخلاقی قوانین کے نتائج بھی بےلاگ اور لازمی ہیں جب ان کے ظہور کا مرحلہ آئے گا تو وہ اس طرح بےلاگ لپیٹ اور ایسی قطعیت اور قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گے کہ نہ کوئی ان سے بچ سکے گا اور نہ کوئی ان سے بچا سکے گا۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ہے یہ کہہ دو کہ تم مغلوب ہوگے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤگے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

منکرین قرآن کو عذاب کی دھمکی : اب یہ صاف صاف قرآن کے تمام منکرین کو دھمکی ہے کہ تم قرآن کے خلاف یہ سازشیں جو کر رہے ہو، کامیاب ہونے والی نہیں ہیں، تم قرآن کے حاملین کے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے اور تمہارے یہ اسباب و وسائل جن پر تمہیں بڑا ناز ہے اور تعداد کی یہ کثرت جس پر تمہیں بڑا بھروسا ہے، یہ چیزیں ذرا بھی کام آنے والی ثابت نہیں ہوں گی۔ تم دنیا میں بھی مغلوب ہوگے اور آخرت میں بھی جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور اس جہنم کو کوئی سہل چیز نہ خیال کرو، یہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس تنبیہ کی ضرور اس وجہ سے تھی کہ جو چیز انسان نے دیھی نہ ہو اول تو اس کا صحیح صحیح اندازہ ہی نہیں کر پاتا اور اگر کسی حد تک اندازہ کرتا بھی ہے تو اپنی غفلت سرشتی کے سبب سے اس کو ملحوظ رکھنے میں سہل انگار اور بےپروا ہوجاتا ہے۔