Ayah 3:185كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ الایہ، میں تہدید اور تسکین دونوں کے پہلو موجود ہیں۔ منافقین و معاندین کے لیے یہ تہدید ہے اور اہل ایمان کے لیے پیام تسکین۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو اور تمہارے مخالفوں کو سب کو موت کی منزل سے گزر کر بالآخر خدا ہی کے پاس آنا ہے، وہاں قیامت کے دن سب کو ان کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ وہاں بازی در اصل اس کی ہے جو دوزخ سے محفوظ رہا اور جنت میں داخل ہوا۔ یہ دنیا اور اس کی چمک دمک تو محض ایک جلوہ سراب ہے اور شامل ہی ہے ان کی جو اس کے پیچھے پڑ کر آخرت کو گنوا بیٹھے ،
Ayah 3:186مسلمانوں کو صبر اور تقوی کی تلقین : لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ اَمْوَالِكُمْ الایہ، یہ مسلمانوں کو معاندین کی تمام سرگرمیوں کے علی الرغم صبر اور تقوی پر جمے رہنے کی تلقین ہے۔ فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین کے ہاتھوں تمہیں جانی و مالی آزمائشیں بھی پیش آنی ہیں اور ان کی طرف سے تمہیں ابھی بہت سی دل آزار باتیں بھی سننی پڑیں گی۔ یہ در اصل تمہارے صبر اور تقوی کا امتحان ہے۔ اگر ان باتوں کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور تم نے حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھا تو یہی وہ عزیمت کا مقام ہے جو انبیائے اولو العزم اور ان کے جاں نثاروں کا خاص حصہ ہے اور جو بالآخر اس راہ میں کامیابی کی کلید ہے۔
Ayah 3:187اہل کتاب کو آخری تنبیہ :۔ اس سورة میں اہل کتاب کو یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ خود ساختہ عہود کے حوالے دے کر یہ حق کی مخالفت کے معاملے تو بڑے چابکدست ہیں لیکن وہ اصل میثاق جو اللہ نے ان سے اپنی کتاب کو ایک ایک کے آگے آشکارا کرنے کا لیا تھا اور یہ جو ہدایت فرمائی تھی کہ اس کی کسی چیز کو چھپانا مت، اس عہد کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور دنیا کے حقیر فائدے کے عوض اس کو قربان کردیا۔ اس عہد کا حوالہ تورات اور انجیل دونوں میں مختلف اسلوبوں اور پیرایوں سے ہوا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف دو حوالے نقل کرتے ہیں۔ استثنا میں ہے ”اس لیے میری ان باتوں کو تم اپنے دل اور اپنی جان میں محفوظ رکھنا اور نشان کے طور پر ان کو اپنے ہاتھوں پر باندھنا اور تمہاری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں اور تم ان کو اپنے لڑکوں کو سکھانا اور تو گھر بیٹے اور راہ چلتے اور لیٹے اور اٹھتے وقت ان ہی کا ذکر کیا کرنا اور تو ان کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر لکھا کرنا“ 11: 18-21۔ ان الفاظ پر غور فرمائیے۔ جس کتاب کی تبیین کا ان الفاظ میں یہود سے عہد لیا گیا تھا اس کو انہوں نے نہ صرف یہ کہ گلدستہ طاق سنیاں بنا کر رکھ دیا بلکہ اس میں تحریف کر کے اس کے حقائق کی قلب ماہیت بھی کر ڈالی۔
اسی طرح انجیلوں میں بھی نہایت موثر اسلوبوں میں یہ ہدایت موجود ہے اور خاص طور پر یہ فقرہ تو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ ”جو کچھ میں تم سے اندھیرے میں کہتا ہوں اجالے میں کہو اور جو کچھ تم کان میں سنتے ہو کوٹھوں پر اس کی منادی کرو“ (متی)۔
Ayah 3:188فرمایا کہ جن کے کارنامے یہ کچھ ہیں، جنہوں نے حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اس ڈھٹائی کے ساتھ شریعت فروشی کی ہے اور پھر اپنے اس کارنامے پر خوش بھی ہیں، جو چاہتے ہیں کہ اس کام کا کریڈٹ حاصل کریں جو انہوں نے کیا نہیں۔ فرمایا کہ ان کو عذاب الٰہی سے محفوظ نہ سمجھو، وہ دنیا میں بھی عذاب کی زد میں ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
’ مفازۃ ‘ کے معنی نجات اور پناہ کی جگہ کے ہیں اور وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب پر اللہ تعالیٰ نے کتاب کی جو ذمہ داری ڈالی اور اس کے اظہار و اعلان، اس کی تعلیم و تبیین، اور اس کے اجرا و نفاذ سے متعلق جو عہد ان سے لیا اس کا کوئی جزو انہوں نے پورا نہیں کیا بلکہ الٹے اس کے کتمان اور تحریف کے لیے سازشیں کیں اور اس کو اپنے دنیوی اغراض کے لیے حقیر داموں بیچا لیکن اس کے باوجود ان کی خواہش ہیہ ہے کہ انہیں حامل کتاب سمجھا جائے، انہیں خدا کی برگزیدہ امت قرار دیا جائے اور ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کے تمام فضل و انعام اور تمام لطف و احسان کا حق دار مانا جائے۔ اہل کتاب کے اسی طرح کے لذیذ خواب ہیں جن کو قرآن نے سورة بقرہ میں ’ اَمانیّ ‘ باطل آرزؤوں سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayah 3:189وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ الایہ، یہ اوپر والی دھمکی کی تصدیق و توثیق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے، اس میں کسی اور کے زور و اثر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی سرکشی کر رہے ہیں وہ ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
۔۔۔۔۔
فصل 39: اگلی آیات 190 تا 200 کا مضمون :
خاتمہ سورة : اس مجموعہ آیات کی حیثیت خاتمہ سورة کی ہے اور یہ خاتمہ موازنہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ بہت کچھ ملتا جلتا ہوا ہے سورة بقرہ کے خاتمہ سے۔ خاص طور پر اس میں جو دعا ہے تو بالکل عکس ہے اس دعا کا جس پر سورة بقرہ ختم ہوئی ہے۔
اس خاتمہ میں پہلے تو اس عالم گیر حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جہاں تک خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کا تعلق ہے ان سے تو آسمان و زمین کا گوشہ گوشہ معمور ہے۔ اصل شے نبی کی دعوت پر ایمان لانے والے کے لیے جو ضروری ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایسی سوختنی قربانی پیش کرے جس کو کھانے کے آسمان سے آگ اترے بلکہ یہ ہے کہ اس کی باتوں سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں، آسمان و زمین میں تصرفات قدرت کے عجائب دیکھنے کے لیے لوگ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کارخانہ کائنات کی حکمت وغایت پر غور کرنے کے لیے لوگ اپنے دماغوں اور اپنی عقلوں سے کام لیں۔
پھر فرمایا کہ جن کے بیدار ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے خدا کو یاد رکھتے ہیں اور آسمان و زمین کی خلقت پر غور کرتے رہتے ہیں وہ اس نتیجے پر خود پہنچ جاتے ہیں کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کو بنانے والے نے یوں ہی بےمقصد بنا ڈالا ہو اور یوں ہی اس کو ایک شتر بےمہار کی طرح چھوڑے رکھے بلکہ اس کے پیچھے ضرور غایت و مقصد اور جزا و سزا ہے۔ چناچہ وہ خدا سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کو انجام کر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔
آگے فرمایا کہ اس طرح کے بیدار عقل اور بیدار دل لوگ معجزوں اور کرشموں کی تلاش میں نہیں رہتے۔ ان کے کانوں میں جب دعوت حق پڑتی ہے تو اس کی صداقت کے جانچنے کے لیے کسوٹی خود ان کی عقل اور ان کے دل کے اندر ہوتی ہے وہ اس پر پرکھ کر خود اس کی قدر و قیمت پہچان لیتے ہیں۔ ان کے لیے پیغمبر کی دعوت اور اس کا چہرہ ہی سب سے بڑا معجزہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا جو ان اوصاف کے اس عہد میں حقیقی مصداق تھے اور ان کی ان جاں بازیوں اور قربانیوں کا ذکر کیا جو اس دعوت حق کی راہ میں وہ پیش کر رہے تھے اور ان کے لیے اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے اس کی بشارت دی۔
آگے چند آیتوں میں اس بات کی وضاحت فرما دی کہ آج جو حق کے مخالفین زور لگا رہے ہیں اس سے کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے یہ مہلت جو ان کو ملی ہے اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے اور اس کے بھی مصالح ہیں۔ یہ مہلت عارضی ہے جو بہت جلد ختم ہوجانے والی ہے۔ انجام کار کی کامیابی خدا کے متقی اور وفادار بندوں ہی کے لیے ہے۔
آخر میں اہل کتاب کے اس گروہ کی تحسین فرمائی جو معاندین کے برعکس حق پر قائم رہا اور اسی نے پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے کی توفیق پائی، فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں اپنی اس استقامت اور حق پرستی کا انعام پائیں گے۔
سب سے آخر میں مسلمانوں کو نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں ان باتون کی ہدایت فرمائی جن کا اہتمام اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے لیے ضروری ہے جو آخری امت کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر ڈالی تھی۔
اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayahs 3:190–192190-191:۔ ارباب بصیرت کی نگاہ : محبت دنیا کے ان اندھوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو نبی ﷺ کی تکذیب کے لیے اس قسم کی کٹ حجتیاں پیدا کر رہے تھے جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی اب یہ ان ارباب بصیرت کا بیان ہورہا ہے جو اللہ کو ہر جگہ اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر برابر غور کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ذکر و فکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ عظیم کارخانہ بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا، اور جب بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا تو لازم ہے کہ محض اتنے ہی پر تمام نہ ہوجائے جتنا ظاہر ہو رہا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں اور اس دنیا کی خلقت میں جو عظیم حکمت پوشیدہ ہے وہ ظاہر ہو۔
فلسفہ کائنات : آسمان و زمین کی خلقت اور رات اور دن کی آمد و شد میں جو نشانیاں ہیں ان کی طرف یہاں صرف اجمالی اشارہ ہے۔ ان کی تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔ قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ گوناگوں پہلوؤں سے آفاق کی ان نشانیوں کو نمایاں کیا ہے جو شہادت دیتی ہیں کہ اس کائنات کے پیچھے صرف ایک عظیم طاقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عظیم حکمت بھی ہے، صرف بےپناہ قدرت ہی نہیں بلکہ بےپایاں رافت و رحمت بھی ہے۔ صرف بےاندازہ کثرت ہی نہیں ہے بلکہ اس کثرت کے اندر نہایت حیرت انگیز توافق و توازن بھی ہے۔ یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا کا پیدا ہونا نہ تو کوئی اتفاق سانحہ ہے نہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے بلکہ یہ ایک قدیر و حکیم، عزیز و غفور اور سمیع وعلیم کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس وجہ سے یہ بات اس کی فطرت کے خلاف ہے کہ خیر و شر اور نیک و بد کے درمیان اتمیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے یا یوں ہی تمام ہوجائے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یا تو اس کا کوئی خالق ومالک ہی نہیں ہے، یہ آپ سے آپ کہیں سے آ دھمکی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی یا یہ کہ نعوذ باللہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرے مزاج کا ہے جو کسی کو گداگر، کسی کو تونگر، کسی کو ظالم اور کسی کو مظلوم بنا کر اس کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں اس قدرت اور اس حکمت کے بالکل منافی ہیں جن کی شہادت اس کائنات کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے۔ ایسی علیم و حکیم ہستی کی شان علم و حکمت کے یہ بات بالکل منافی ہے کہ وہ کوئی بےحکمت کام کرے۔
اس طرح اس کائنات کی قدرت و حکمت پر غور کرنے والا شخص نہ صرف خدا تک بلکہ اقرار آخرت تک خود پہنچ جاتا ہے اور جس کا ذہن اس حقیقت تک پہنچ جائے گا ظاہر ہے کہ جزا و سزا کے تصور سے اس کا دل کا نپ اٹھے گا اور اس کے اندر شدید داعیہ اس بات کے لیے پیدا ہوگا کہ وہ اس عذاب اور اس رسوائی سے پناہ مانگے جو ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اس دنیا کو بس ایک کھلنڈرے کا کھیل سمجھتے رہے اور اس طرح انہوں نے اپنی ساری زندگی بالکل بطالت میں گزار دی۔
چند نکات :۔ یہ ان آیات کا سیدھا سادا مطلب ہوا۔ ان پر مزید غور کیجیے تو چند اور باتیں بھی سامنے آئیں گی اور وہ بھی نہایت قیمتی ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کے نزدیک اولو الالباب صرف وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کے نظام پر غور کر کے خدا کے ذکر اور آخرت کی فکر تک رہنمائی حاصل کریں۔ جن کو یہ چیز حاصل نہیں ہوئی وہ اگرچہ آسمان و زمین کی تمام مسافت ناپ ڈالیں اور چاند و مریخ تک سفر کر آئیں لیکن وہ اولو الالباب نہیں ہیں۔ ان کے سروں پر کھوپڑیاں تو ہیں لیکن ان کے اندر مغز نہیں ہے۔ اگر ان کے اندر مغز ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ انہیں سب کچھ نظر آجاتا اور یہ تل کی اوٹ میں چھپا ہوا پہاڑ نظر نہ آتا۔ دوسری یہ کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ فکر و نطر کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اس کائنات کی بدیہی حقیقت بلکہ ابدہ البدیہیات ہے۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی منادی کر رہا ہے۔ ہماری فطرت اس کی شہادت دے رہی ہے۔ انسان کے اندر اگر عقل سلیم ہو تو وہ خدا کو اسی طرح دیکھتی ہے جس طرح سلیم آنکھ سورج کو دیکھتی ہے۔ خدا کو پانے کے لیے یہ کافی ہے کہ انسان اس کو یاد رکھے۔ البتہ آخرت کا معاملہ تفکر و تدبر کا محتاج ہے۔ تیسری یہ کہ جہاں تک ذکر الٰہی کا تعلق ہے وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ اس کے لیے قیام و قعود، نرمی و گرمی اور صبح و مسا کی کوئی قید نہیں ہے۔ انسان کی مادی زندگی کے بقا کے لیے جس طرح سانس کی آمد و شد ضروری ہے اسی طرح اس کی روحانی زندگی کے بقا کے لیے اللہ کی یاد ضروری ہے اور قرآن کی زیر بحث آیات سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اولو الالباب کی خاص صفت یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ چوتھی یہ کہ دین میں جس طرح ذکر مطلوب ہے اسی طرح فکر بھی مطلوب ہے۔ اگر ذکر ہو اور فکر نہ ہو تو بسا اوقات یہ ذکر صرف زبان کا ایک شغل بن کے رہ جاتا ہے۔ اس سے معرفت کے دروازے نہیں کھلتے۔ اولوالالباب کے ذکر کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ اس کے اتھ فکر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے قدم درجہ بدرجہ حکمت و معرفت میں راسخ ہوتے جاتے ہیں اس لیے کہ یہی فکر، آخرت کے یقین کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ پانچویں یہ کہ اس کائنات میں تفکر سے جس طرح اولوالالباب اس حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے اس وجہ سے ایک روز عدل کا ظہور ضروری ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی ان پر واضح ہوجاتی ہے کہ اس دن حقیقی رسوائی سے وہ لوگ دو چار ہوں گے جو جھوٹی شفاعتوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں اس لیے کہ اس دن ایسے بدقسمتوں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔
Ayahs 3:193–194193 تا 194:۔ دعوت اسلامی کے باب میں اولو الالباب کا رویہ :۔ اب یہ مذکورہ بالا اولو الالباب کا رویہ بیان ہورہا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور اس کی دعوت کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ فرمایا کہ نہ وہ کٹ حجتیاں کرتے، نہ خوارق اور معجزات مانگتے۔ پیغمبر کی دعوت خود ان کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ جس خدا اور آخرت پر ایمان کی دعوت دے رہا ہوتا ہے اس کی شہادت وہ خود اپنے باطن سے سنتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے پیغمبر کی آواز اور اس کا چہرہ ہی معجزے کا کام کرتا ہے۔ جب اس کی دعوت سنتے ہیں تو اس کی مخالفت کر کے اس کو دبانے کے بجائے اس پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے گناہوں کو وہ معاف فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کا خاتمہ اپنے وفا شعار بندوں کے ساتھ کرے۔
وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۔ خدا کے وفادار بندوں کے زمرے میں شامل کیے جانے کی تمنا کا اظہار ہے۔ یعنی جب ہمارا خاتمہ ہو تو ہمیں ان کی معیت نصیب ہو جو آخر دم تک تیرے عہد و پیمان میں مضبوط رہے، لفظ ’ بار ‘ پر ہم دوسرے مقام میں گفتگو کرچکے ہیں کہ اس لفظ کی اصل روح وفاداری، پابندی عہد و میثاق اور ادائے حقوق و فرائض ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو یہاں اس میں ان اہل کتاب پر ایک لطیف تعریفض بھی ہے جن سے آخری رسول کی تائید و حمایت کا عہد لیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس عہد کے بر خلاف سارا زور اس کی مخالفت میں صرف کیا۔ یہ واضح رہے کہ یہاں کلام میں پیش نظر اہل کتاب ہی ہیں۔
دعا کی بلاغت :۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوط رہے کہ اولو الالباب کی طرف سے حق کی یہ تائید دعوے کی شکل میں نہیں بلکہ دعا کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے اس ’ امنا ‘ کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات سے اچھی طرح واقف ہیں اس وجہ سے بجائے اس کے کہ وہ اس کا اظہار فخر کے ساتھ کرتے انہوں نے نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیا ہے کہ جس طرح اس نے یہ آمنا کہنے کی توفیق دی ہے اسی طرح وہ تمام اگلی اور پچھلی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور اس راہ کی ذمہ داریوں اور مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔
Ayah 3:195فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ ، نہایت بلیغ اسلوب میں دعا کی قبولیت کا اظہار ہے۔ گویا ادھر ان کی زبان سے دعا کے الفاظ نکلے ادھر بارگاہِ خداوندی سے ان کی قبولیت کی سند مل گئی۔ جو دعائیں صحیح جذبے کے ساتھ صحیح محل اور ٹھیک وقت پر نکلتی ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی ہے۔ اس حقیقت کی طرف ہم دوسرے مقام میں بھی اشارہ کرچکے ہیں۔
مظلوموں اور کمزوروں کی حوصلہ افزائی : لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى، میں تمام اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہے جو دعوت اسلامی کے اس نازک مرحلے میں اس کی تائید کے لیے خطرات سے بےپروا ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ مرحلہ، جیسا کہ فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِيْلِيْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا کے کے الفاظ سے واضح ہے، ہجرت، جہاد، راہِ خدا میں مصائب جھیلنے اور مرنے مارنے کا مرحلہ تھا، اس مشکل وقت میں جو لوگ اس میدان عشق میں سر دھڑ کی بازیاں لگا کر اترے تھے ان میں آزاد بھی تھے اور غلام بھی، مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ اور سب ایک سے ایک بڑھ کر قربانیاں پیش کر رہے تھے اور ایمان و اسلام کے جرم میں معاندینِ اسلام کے ہاتھوں لرزہ خیز مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ خاص طور پر کمزوروں یعنی عورتوں اور غلاموں پر جو ستم توڑے جا رہے تھے ان کو سن کر تو آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ اسلام کا معجزہ ہے کہ کفار کی یہ تمام ستم رانیاں کسی ایک شخص کو بھی اسلام سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں بلکہ یہ کہنا بھی ذرا مبالغہ نہیں ہے کہ جو جتنا ہی کمزور تھا اس نے اسی قدر زیادہ استقلال اور پامردی کا ثبوت دیا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں ان کمزوروں کی دلداری اور حوصلہ افزائی کا خاص طور پر اہتمام فرمائے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ تم میں سے جو شخص بھی آج میرے دین کی خوئی خدمت کر رہا ہے میں اس کو ضائع نہیں کروں گا بلکہ اس کا بھرپور صلہ دوں گا۔ اس کے بعد اس کے ساتھ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى کے الفاط بھی بڑھا دئیے یعنی عام اس سے کہ مرد ہو یا عورت، جو بھی آج میرے لیے کوئی دکھ جھیل رہا ہے میرا یہ وعدہ ان سب کو شامل ہے۔ اس ٹکڑے نے کلام کو بالکل مطابق حال کردیا۔ اور کون اندازہ کرسکتا ہے کہ ان دو لفظوں نے ان مظلوم خواتین کی کتنی ڈھارس بندھائی ہوگی جو محض اسلام کی خاطر طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنی ہوئی تھیں !
اعمال کی سزا میں عورت اور مرد دونوں برابر ہیں۔ بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ ، اثنائے کلام میں بالکل ضمنی طور پر اس بات کی دلیل بیان ہوگئی ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ کی میزان میں مرد اور عورت دونوں کا عمل بالکل یکساں وزن رکھتا ہے ؟ فرمایا کہ اس لیے کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی جنس سے ہیں۔ دونوں ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں، دونوں ایک ہی قسم کے گوشت پوست سے بنے ہوئے ہیں۔ ان دو لفظوں سے قرآن نے ان تمام جاہلی نظریات اور غلط مذہبی تصورات کی تردید کردی جو عورت کو مرد کے مقابل میں، ایک فروتر مخلوق قرار دیتے تھے۔ اس مسئلے پر ہم آگے والی سورة میں بحث کرنے والے ہیں اس وجہ سے یہاں اس مختصر اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔
عمل اور رد عمل :۔ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ، ثاب، یثوب، ثوباً کے اصل معنی رجوع کرنے اور لوٹنے کے ہیں۔ اسی سے ثواب ہے جس کے معنی اس ثمرے اور نتیجے کے ہیں جو کسی عمل کرنے والے کے عمل کے رد عمل کے طور پر اس کو حاصل ہو، اگرچہ لفظ میں گنجائش خیر اور شر دونوں کی ہے لیکن اس کا غالب استعمال اچھے عمل کے اچھے رد عمل کے لیے ہے۔ بندوں کے حقیر اعمال پر اللہ تعالیٰ جو ابدی اور لازوال انعامات عطا فرمائے گا ان کو ثواب کے لفظ سے تعبیر کر کے ربّ کریم نے بندوں کے اعمال کی قدر و قیمت بڑھائی ہے۔ ورنہ ذرّے اور پہاڑ میں کیا نسبت ہے۔ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ کے الفاط سے اسی بعد کو رفع فرمایا گیا ہے۔ یعنی ہے تو تمہارے ہی عمل کا بدلہ لیکن ہے اللہ کے پاس سے جس کے پاس حسن ثواب کے خزانے ہیں۔ وہ داتا جس کو جتنا چاہے دے دے۔ اس کے پاس کیا کمی ہے۔
Ayah 3:196لَا يَغُرَّنَّكَ میں خطاب عام ہے :۔ لَا يَغُرَّنَّكَ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ اس طرح واحد کے صیغے سے خطاب، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مخاطب ہے۔ تَقَلُّبُ کے معنی آمد و شد، چلت پھرت اور ایاب و ذہاب کے ہیں۔ موقع و محل کے لحاظ سے اس کے اندر غرور، اکڑ اور دندنانے کے معنی بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں موقع کلام دلیل ہے کہ اس سے مراد اس وقت کفار کا ملک کے حالات و معاملات میں وہ آزادانہ و خود مختارانہ تصرف ہے جو مسلمانوں مقابل میں ان کو حاصل تھا۔ اس وقت تک مسلمان ابھی کمزور اور مظلوم تھے۔ اور کفار اپنی سطوت گھمنڈ میں ہر جگہ دندناتے پھر رہے تھے اور کمزور مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے تھے۔
Ayah 3:197مَتَاعٌ قَلِيْلٌ، مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ جب اس طرح مبتدا کو حذف کردیں تو مقصود اس سے ساری توجہ صرف خبر پر مرکوز کرانا ہوتا ہے
Ayah 3:198نُزُلٌ۔ اس ضیافت و میزبانی کو کہتے ہیں جو کسی مہمان کی آمد پر سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے
اوپر کی آیات میں کمزور مظلوم مسلمانوں کی جو حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے اسی مضمون کی یہ مزید تائید ہے۔ مسلمانوں کو بالخصوص کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اس وقت کفار کو ملک جو غلبہ اور زور حاصل ہے اس سے کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ چمک دمک محض چند روزہ ہے۔ اس کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ حقیقی اور ابدی کامیابی انہی لوگوں کے لیے ہے جو تقوی اختیار کریں گے اور تقوی پر قائم رہٰں گے۔ ان کے لیے پہلی پیشکش جو ہوگی وہ جنت کی ہوگی اور ایسے وفادار بندوں کے لیے ان کے رب کے پاس مزید جو کچھ ہے وہ ایک سے ایک بڑھ کر ہے۔
Ayah 3:199اچھے اہل کتاب کی تحسین : اوپر کی آیات اور بحیثیت مجموعی اس پوری سورة میں اہل کتاب کے رویے کی چونکہ شدید مذمت ہوئی ہے اس وجہ سے یہ آخر میں ان اہل کتاب کی تحسین فرمائی جو اپنی سابقہ کتب پر بھی قائم رہے اور جو دولت اسلام سے بھی مشرف ہوئے، یہ اس بات کی طرف ایک نہایت لطیف اشارہ ہے کہ اس دودھ میں جتنا مکھن تھا وہ یہ نکل آیا ہے۔ اب جو بچ رہا ہے وہ صرف چھاچھ ہے۔ ان کے بابت فرمایا کہ یہ لوگ اپنا وہ اجر خدا کے ہاں پائیں گے جو ان کے لیے خاص ہے۔ پھر تسلی دی کہ یہ خیال نہ کریں کہ اس اجر کے ملنے میں بہت دیر ہے۔ جب یہ اجر ملے گا تو یہ معلوم ہوگا کہ یہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی مل گیا۔ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ جب تسلی کے موقع پر آتا ہے تو اس کا یہی مفہوم ہوتا ہے۔
Ayah 3:200شریعت کے حقوق ادا کرنے کے لیے بنیادی ہدایات : یہ اس سورة کی آخری آیت ہے جس میں خاتمہ کلام کے طور پر وہ تمام بنیاد ہدایات جمع کردی گئی ہیں جو شریعت کے حقوق ادا کرنے اور ان حالات و مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھیں جن میں مسلمان گھرے ہوئے تھے۔ یہ ہدایات چار چیزیں اختیار کرنے اور ان پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے کے لیے ہیں۔
صبر کی حقیقت : پہلی چیز صبر ہے۔ اس لفظ پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کرچکے ہیں۔ اس لفظ کی اصل روح کسی حق پر اپنے آپ کو مزاحمتوں کے مقابل میں جمائے رکھنا ہے۔ عام اس سے کہ یہ مزاحمتیں خود اپنے اندر سے سر اٹھائیں یا خارج سے حملہ آور ہوں اس خصلت کو پختہ کیے بغیر کوئی شخص کسی چھوٹے سے چھوٹے حق کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا۔
’ مصابرت ‘ کی حقیقت : دوسری چیز مصابرت ہے، مصابرت کے معنی ہیں اپنے حریف کے مقابل میں ثابت قدمی کا مظاہرہ اور اور اس پر اس وصف میں بازی لے جانے کی کوشش کرنا۔ اس چیز کی تاکید اس موقع پر، خاص طور سے اس وجہ سے کی گئی کہ اس مرحلے میں مسلمانوں اور اس کے دشمنوں کے درمیان عملاً مسلح کشمکش شروع ہوچکی تھی اور اس کشمکش میں آخری کامیابی اس گروہ کے لیے مقدر تھی جو اپنے حریف پر استقلال و پامردی کے میدان میں بازی لے جاسکے۔ میدان جنگ میں فتح و شکست کا اصل انحصار تعدد اور اسلحہ پر نہیں بلکہ اخلاق و کردار پر ہوتا ہے۔
’ مرابطت ‘ کی حقیقت : تیسری چیز مرابطہ ہے۔ مرابطہ، ربط الخیل سے ہے۔ اس کا اصلی ابتدائی مفہوم دشمن کے مقابلے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جنگی گھوڑے تیار کر رکھنا ہے۔ اب گھوڑوں کی جگہ ٹینکو اور ہوائی جہازوں نے لے لی ہے اس وجہ سے حالات کی تبدیلی سے اس لفظ کا مفہوم بھی تبدیل ہوجائے گا۔ مصابرت کی ہدایت کے بعد یہ مرابطت کی ہدایت دشمن کے مقابلے کے لیے اخلاقی تیاری کے ساتھ ساتھ مادی تیاری کی ہدایت ہے۔
’ تقوی ‘ کی حقیقت : چوتھی چیز تقوی ہے۔ اس لفظ پر تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔ خدا کے مقرر کردہ تمام حدود وقیود کی اخلاص و خشیت کے ساتھ نگرانی کرنا تقوی ہے۔ یہی چیز تمام دین کا خلاصہ اور مقصود ہے۔
فرمایا کہ مسلمان، یہ چیزیں اختیار کرو تاکہ تم دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح پاؤ۔
یہ آخری سطریں ہیں جو آل عمران کی تفسیر میں اس بےمایہ کو لکھنے کی توفیق حاصل ہوئی اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔