4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف و مضامین سورة نساء الف۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق : یہ سورة اپنی سابق سورة ، آل عمران کے بعد اس طرح شروع ہوگئی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہوجاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آل عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ جس اہم مضمون پر آل عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورة نساء کی تمہید استوار ہوئی ہے۔ گویا آل عمران کی آخری آیت يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفردی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورة کو دیکھئے تو اسی اتَّقُوا اللّٰهَ کے مضمون سے شروع ہوگئی ہے۔ (یا ایہا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ (سابق اور لاحق سورة میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جو اپنے مواقع پر بیان ہوں گی) ثابت قدمی، بالخصوص اجتماعی ثابت قدمی، بغیر مضبوط جماعتی اتصال کے ممکن نہیں ہے اور جماعتی اتصال کوئی اتفاق سے پیدا ہوجانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بنیاد کا بھی محتاج ہے، مثبت تدابیر کا بھی متقاضی ہے اور اس کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کو درہم برہم کرسکتے ہوں۔ چناچہ اس سورة میں وہ ساری چیزیں بیان ہوئیں جو اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے اور اس کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس سورة کے مطالب پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس کا آغاز اس حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ مرد اور عورت سب کا خالق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے، اسی نے سب کو ایک آدم و حوا سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے خدا اور رحم سب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس کے بعد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور عناصر یتیموں اور عورتوں کے حقوق معین فرمائے ہیں اور ان کو ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ پھر اسی تعلق سے وراثت کی تقسیم سے متعلق قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ پھر مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض پر زور دیتے ہوئے اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت پر سب کو مجتمع و متفق رہنے کی تاکید فرمائی، اس لیے کہ اسی چیز پر اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ منافقین کی قلعی کھولی ہے جو اسلامی معاشرے کے اندر ناسور کی حیثیت رکھتے اور مسلمانوں کے اندر ان کے دشمنوں، یہود و نصاری کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس روشنی میں غور کیجئے تو اس سورة میں گویا اس ارتباط باہمی کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں جس کی ہدایت پر سابق سورة ختم ہوئی تھی۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : یہ سورة کے عمود اور ماسبق سورة کے ساتھ اس کے تعلق کی طرف ایک اجمالی اشارہ تھا۔ اب ہم اس کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں تاکہ پوری سورة کے مضامین پر ایک سرسری نگاہ پڑجائے۔ (آیات 1 تا 6) ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی ہدایت جس نے سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں اس وجہ سے خدا اور رشتہ رحم کا احترام ملحوظ رکھیں۔ انہی دو بنیادوں پر اسلامی معاشرہ کی عمارت قائم ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اور اس بات کی ممانعت کہ زور آور سرپرست اپنے رشتہ دار یتیموں کے اچھے مال اپنے برے مال سے بدلنے یا اپنے مال کے ساتھ ملا کر اس کو ہڑپ کرنے کی تدبیریں کریں۔ یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے نقطہ نظر سے ان کی ماؤں سے نکاح کی اجازت اور اس کے لیے چار تک کی قید، عدل اور ادائے مہر کے شرائط کے ساتھ تعدد ازواج کی رخصت۔ سرپرستوں کو اس بات کی ہدایت کہ وہ اس وقت تک یتیموں کے مال و جائداد ان کے حوالہ نہ کریں جب تک ان کے اندر معاملات کا سوجھ بوجھ نہ پیدا ہوجائے لیکن اس دوران میں ان کی ضروریات اور ان کی دلداری کا پورا خیال رکھیں۔ جب ان میں معاملات کی سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے تو ان کا مال ان کے حوالہ کردیا جائے۔ اس تولیت کے دوران میں اگر کوئی سرپرست غریب ہو تو یتیم کے مال میں سے بقدر کفاف لے سکتا ہے لیکن اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ یتیم کے بڑے ہوجانے کے اندیشے سے اس کے بڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی ساری املاک و جائداد ٹھکانے لگا دینے کی کوشش کرے۔ (7 تا 14) ۔ تقسیم وراثت کے ضابطے کی تفصیل تاکہ ضعیف و قوی سب کے حقوق معین ہوجائیں اور معاشرے میں ظلم و حق تلفی اور نزاع و مخاصمت کے دروازے بند ہوجائیں۔ (15 تا 18) ۔ معاشرے کو فواحش سے پاک رکھنے کے لیے ایک ابتدائی حکم اور اس کے تعلق سے اس امر کی وضاحت کہ کن لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے، کن کی نہیں ؟ (19 تا 21) ۔ اس امر کا بیان کہ عورت مال وراثت نہیں ہے کہ باپ کی منکوحہ بیٹے کو وراثت میں ملے۔ عورتوں سے اپنا دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ایک عورت کو چھوڑنا اور دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو محض مال اینٹھنے کے لیے پہلی کو تہمت اور بہتان کا ہدف نہ بنائے۔ (22 تا 25) ۔ باپ کی منکوحہ کے ساتھ بیٹے کو نکاح کی ممانعت اور ان عورتوں کی تفصیل جن کے ساتھ نکاح ناجائز ہے۔ نیز شرائط نکاح کا بیان تاکہ معاشرہ بدکاری و بےحیائی اور ظلم و زیادتی کے مفاسد سے پاک رہے۔ جو لوگ اس وقت آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کو مسلمان لونڈیوں سے بعض شرائط کے ساتھ نکاح کی اجازت اور قید نکاح میں آجانے کے بعد اگر ان لونڈیوں سے بدکاری کا صدور ہو تو ان کے لیے تعزیر کا ضابطہ۔ (26 تا 28) ۔ مسلمانوں کو آگاہی کہ اللہ تعالیٰ ان احکام و ہدایات کے ذڑیعے سے تمہاری رہنمائی ایمان و وعمل صالح اور توبہ و اصلاح کی اس شاہ راہ کی طرف فرما رہا ہے جو اس نے ہمیشہ سے اپنے صالح بندوں کے لیے پسند فرمائی ہے۔ ان احکام و ہدایات میں اس نے وہ سہولت بھی ملحوط رکھی ہے جو لوگوں کی طبعی کمزوری کے پیش نظر ضروری تھی تو خبردار ان نفس پرستوں کے ورغلانے میں نہ آجانا جو تمہیں پاکیزگی کی اس شاہ راہ سے ہٹا کر شہوات کی وادیوں میں بھٹکا دینے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔ (29 تا 31) ۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مال ناجائز و ذرائع سے کھانے اور ایک دوسرے کا خون بہانے کی ممانعت۔ خدا رحیم ہے اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحیم ہوں جو لوگ معاشرے میں ظلم وعدوان کی تخم ریزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔ البتہ جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ (32 تا 33) ۔ شریعت میں عورت اور مرد دونوں کے لیے جو حدود و حقوق معین کردئیے گئے ہیں سب ان کے اندر رہیں۔ اپنے اپنے حدود کے اندر ہر ایک خدا کے ہاں اپنی محنت کا اجر پائے گا۔ اس لیے ایک دوسرے کی ریس اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خدا نے حقوق بھی معین فرم ادئیے ہیں اور فرائض بھی اور وہ سب کو دیکھ بھی رہا ہے۔ (34 تا 35) ۔ خاندان اور معاشرے میں سربراہی اور قوامیت کا مقام مرد کو حاصل ہے۔ اپنی خلقی صفات اور کفالتی ذمہ داریوں کے لحاظ سے وہی اس کے لیے موزوں ہے۔ نیک بیبیاں اس حق کا احترام کرتی ہیں۔ جن عورتوں سے سرکشی کا اندیشہ ہو ان کو ان کے شوہر نصیحت کریں اور اگر ضرورت محسوس کریں تو ایک حد مناسب تک ان کو تنبیہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر محسوس ہو کہ فریقین کے اختلاف کی نوعیت کچھ زیادہ شدید ہے تو اس کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جائے کہ میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک پنچ مقرر کردیا جائے، جو حالات کی اصلاح کی کوشش کریں۔ (36 تا 40) ۔ خدا، والدین، اقربا، یتامی، مسا کی، پڑوسی (عام اس سے کہ قرابت مند ہو یا غیر قرابت مند، مستقل ہو یا عارضی اور وقتی) مسافر اور غلام، سب کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے کی تاکید، خدا کو وہی بندے پسند ہیں جو متواضع اور نرم مزاج ہوں، وہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اکڑنے والے، فخر کرنے والے، بخیل اور بخل کا مشورہ دینے والے ہوں، جو اول تو ادائے حقوق میں خرچ ہی نہ کریں اور اگر کریں تو محض ریا و نمائش کے لیے ادائے حقوق اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے گھاٹے میں رہنے والے نہیں۔ ان کے لیے خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔ (41 ۔ 42) ۔ ان لوگوں کے حال پر اظہار افسوس جو آخرت سے بالکل بےپروا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے ہوئے تھے، ایمان و عمل صالح کی صحیح راہ خود اختیار کرتے تھے نہ دوسروں کو اختیار کرنے دینا چاہتے تھے۔ْ (43 ۔ 45) ۔ خدا کے سب سے بڑے حق، نماز کے بعض آداب و شرائط اور اس کے بعض مفسدات کا بیان اور ان مفسدات کے ازالہ کی تدبیر۔ (46 ۔ 47) ۔ یہود کی بعض شرارتوں کا حوالہ جو وہ اسلام اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی نگاہوں سے گرانے کے لیے کر رہے تھے اور اس شرارت کے آخری نتائج سامنے آنے سے پہلے ان کو توبہ اور اصلاح کی دعوت۔ (48 ۔ 57) ۔ یہود اپنی پاکی و برتری کے جھوٹے دعوے کر کے مسلمانوں کو گرانے کی جو کوشش کر رہے تھے، یہاں تک کہ مشرکین کو بھی ان پر ترجیح دیتے تھے، اس کی تردید کہ یہ ساری باتیں محض ان کے حسد کا نتیجہ ہیں لیکن ان کے حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے نبی خاتم اور ان کی امت کے لیے یہ فیصلہ فرما لیا ہے کہ وہ ان کو کتاب و حکمت اور ایک عظیم حکومت عطا فرمائے گا اور یہ حاسد یہود ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ یہ حکومت گویا اسلام معاشرے کا قدرتی ثمرہ ہے۔ (58 ۔ 59) ۔ مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کہ اب اہل کتاب سے چھین کر شریعت الٰہی کی یہ امانت تمہارے سپرد جو کی جا رہی ہے تو تم یہود کی طرح اس امانت میں خیانت کرنے والے نہ بن جانا بلکہ اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے بننا اور ہر حال میں عدل پر قائم رہنا۔ نیز اللہ اور رسول اور اپنے اولو الامر کی اطاعت کرتے رہنا، نیز اللہ اور رسول اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرتے رہنا، اس کے بغیر اس امانت کی ذمہ داریاں ادا نہیں ہوسکتیں اور اگر کسی امر میں اختلاف واقع ہو تو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو اللہ ور سول ہی کی طرف لوٹانا تاکہ اس نزاع کا صحیح فیصلہ ہوسکے اور وہ تمہارے شیرازے کو درہم برہم نہ کرنے پائے۔ (60 تا 70) ۔ منافقین کو ملامت کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے میل جول رکھتے ہیں اور اس کو بڑی دانش مندانہ سیاست سمجھتے ہیں حالانکہ اس وقت تک ان کا ایمان ہی معتبر نہیں ہے جب تک وہ پورے طور پر اپنے آپ کو پیغمبر کے حوالہ نہ کردیں اور ہر معاملے میں ان کی اطاعت نہ کریں۔ (77 ۔ 76) ۔ مسلمانوں کو اپنی مدافعت اور دار الکفر میں گھرے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے لیے جہاد کی تاکید۔ ان منافقین کو ملامت جو جہاد سے جی چراتے تھے، مسلمانوں کی ہمتیں پست کرتے تھے، مال غنیمت میں حصہ داری کے تو متمنی و مدعی تھے لیکن خطرہ کوئی بھی مول لینے کے لیے تیار نہ تھے۔ (77 ۔ 80) منافقین کی اس متضاد روش پر ملامت کہ جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کے لیے جہاد کے لیے بڑی بےقراری کا اظہار کرتے تھے لیکن اب کہ جہاد کا حکم دے دیا گیا تو جس طرح خدا سے ڈرنا چاہئے، اس طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اسلام کے دشمنوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ موت سے کہیں بھی مفر نہیں۔ ان کی کج فہمی کا یہ حال کہ اگر کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کو تو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ابتلا پیش آجائے تو اس کو پیغمبر کی بےتدبیری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ خیر و شر سب خدا ہی کی طرف سے ہے البتہ شر جو پیش آتا ہے تو ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جو تمہاری اطاعت کریں وہی درحقیقت خدا کی اطاعت کرنے والے ہیں، جو تمہاری اطاعت سے گریز اختیار کریں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو، تم پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (81 ۔۔ 85) ۔ منافقین کی روش کی مزید تفصیل کہ جب پیغمبر کے سامنے ہوتے ہیں تب تو ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن جب وہاں سے ہٹتے ہیں تو ہر بات میں میں میکھ نکالنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ پیغمبر جو کچھ بھی کہتے ہیں سب خدا ہی کی طرف سے ہے۔ قرآن کی کامل ہم آہنگی شاہد ہے کہ اس میں کوئی چیز بھی غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ پھر منافقین کی اس شرارت کی طرف اشارہ کہ اگر ان کو امن یا خطرے کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو سنسنی پیدا کرنے کے لیے اس کو فوراً پھیلا دیتے ہیں حالانکہ صحیح روش یہ ہے کہ اس کو رسول اور ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ اس پر غور کر کے اس کے تدارک کے لیے صحیح قدم اٹھاتے لیکن یہ مسلمانوں کے دل بٹھانے کے لیے یہ شرارت کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو کسی حق کی تائید میں کوئی کلمہ خیر کہے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کسی حق کی مخالفت میں کلمہ شر زبان سے نکالے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ (86 ۔ 87) ۔ منافقین کی مزکورہ بالا روش کے باوجود مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ معاشرہ کے اندر ان کو نکّو بنانے کی کوشش نہ کیا جائے بلکہ ظاہری سلوک ان کے ساتھ وہی رکھا جائے جو مسلمانوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ یعنی ان کے ساتھ سلام کلام باقی رکھا جائے۔ (88 ۔۔ 91) ۔ جو منافقین دار الکفر میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کی ساری ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہیں، دار الاسلام کے مسلمانوں کو ان کے ساتھ اس وقت تک دوستی و حمایت کا تعلق پیدا نہیں کرنا چاہئے جب تک وہ دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کر آئیں، اگر وہ ہجرت نہ کریں تو ان کے ساتھ بھی اسی طرح جنگ جائز ہے جس طرح دشمن کے ساتھ۔ اس سے صرف وہ مستثنی ہوں گے جن کا تعلق یا تو کسی ایسی قوم سے ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے یا جن کے متعلق یہ عہم ہے کہ یہ اپنی کمزوری کی وجہ سے نہ تو اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا چاہے۔ نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنے کی ہمت رکھتے۔ مگر جن کے متعلق معلوم ہے کہ ان کے اوپر خود ان کی قوم کا یا دوسرے کفار کا دباؤ پر جائے گا تو وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں گے تو وہ دشمن ہی کے حکم میں ہیں، ان سے جنگ جائز ہے۔ (92 ۔۔ 94) ۔ دار الحرب میں پڑے ہوئے مسلمانوں کے جان و مال کے احترام سے متعلق بعض احکام۔ (95 ۔۔ 100) ۔ دار الحرب کے مسلمانوں کو ہجرت اور جہاد کی تاید تاکہ وہ کفر کے ماحول سے نکل کر اسلامی معاشرہ میں آئیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو قوت بہم پہنچائیں۔ (101 ۔۔ 104) ۔ جہاد کے لیے ہر وقت مستعد رہنے کے حکم کے تعلق سے خطرے کی حالت میں نماز کا طریقہ۔ (105 ۔۔ 126) ۔ ان مسلمانوں کو تنبیہ جو کھلے ہوئے منافقین کے معاملے میں بھی مداہنت برتتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی طرف سے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ فرمایا کہ پیغمبر کے خلاف منافقین کی سرگوشیاں اور سرگرمیاں اور اسلام کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرنے کی کوشش کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔ یہ چیز اپنی فطرت کے لحاظ سے شرک ہے اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف فرمانے والا نہیں ہے۔ خدا کے ہاں جھوٹی آرزوئیں کام آنے والی نہیں ہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کام آنے والا ہے۔ (127 ۔۔ 130) ۔ ابتدائے سورة میں جو احکام، یتیموں، ان کی ماؤں اور عورتوں سے متعلق بیان ہوئے ان کے متعلق بعد میں پیدا ہونے والے بعض سوالوں کے جواب۔ (131 ۔۔ 147) ۔ مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ اس بات کی تاکید کہ جو کچھ حکم دیا جا رہا ہے اس پر بےچون و چرا عمل کرو، اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ اختیار کرو اور منافقین کی کفر دوستی سے پوری شدت کے ساتھ اظہار بیزاری اور یہ تنبیہ کہ منافقین اور کفار دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (148 ۔۔ 149) ۔ مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کہ ہرچند منافقین ہر ملامت کے سزا وار ہیں لیکن بےضرورت بد زبانی و سخت کلامی ان کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ (150 ۔۔ 162) ۔ اہل کتاب بالخصوص یہود کو، جو اس مرحلے میں طرح طرح کی سازشوں اور مختلف قسم کے اعتراضات سے مخالفت کے محاذ کو تقویت پہنچا رہے تھے سرزنش اور ان کے اعتراضات کے جواب (163 ۔۔ 175) ۔ قرآنی دعوت کے مرتبہ و مقام کی وضاحت اور اہل کتاب بالخصوص نصاری کو دعوت و نصیحت کہ اس روشنی کی، جو اللہ نے اتاری ہے، قدر کریں اور اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتے نہ پھریں۔ (176) ۔ ایک آیت مبینہ جو شروع میں بیان کردہ احکام کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی۔ مذکورہ بالا تجزیے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ آیت 40 تک تو معاشرہ سے متعلق احکام وقوانین بیان ہوئے ہیں اور ضمناً کہیں کہیں اس ردّ عمل کی طرف بھی اشارہ ہوگیا ہے جو ان احکام کا کا مخالفین پر ہوا لیکن آیت 40 کے بعد کلام کا رخ بالتدریج اسلامی نظام حکومت کی اساسات کی وضاحت اور اسلام کے مخالفین کی طرف مڑ گیا ہے اور اس رویے پر تفصل کے ساتھ تنقید کی گئی ہے جو اس نظام حق کی مزاحمت کے لیے اہل کتاب اور منافقین نے اختیار کیا۔ منافقین اس میں خاص طور پر زد میں آئے ہیں۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے سورة کے دیباچہ میں ظاہر کی، یہ ہے کہ معاشرے اور حکومت کے استحکام کے نقطہ نظر سے اس مار آستین گروہ کی بیخ کنی ضروری تھی۔ قرآن مجید کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ یہ صرف فقہی احکام کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ دعوت کا صحیفہ بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے اس رد عمل سے تعرض ناگزیر ہے جس سے ان احکام کی تعلیم کے دوران میں سابقہ پیش آیا۔ چناچہ قرآن ہر جگہ ان احکام کے پہلو بہ پہلو ان حالات بھی بحث کرتا ہے جو مخالفین نے اس وقت بالواسطہ یا بلا واسطہ پیدا کیے اور ان سے بحث کرنا تعلیم و دعوت کے نقطہ نظر سے نہایت ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ قرآن کی اس خصوصیت سے واقف نہیں ہیں وہ اس بات سے حیران ہوتے ہیں کہ ان فقہی احکام کے ساتھ منافقین و معاندین کے اس تفصیلی ذکر کا کیا موقع تھا۔

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو، اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہمدگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے۔ بیشک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے

خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا، کے معنی ہیں اس کی جنس سے۔ اگرچہ اس کے معنی لوگوں نے اور بھی لیے ہیں لیکن جس بنیاد پر لیے ہیں وہ نہایت کمزور ہے۔ ہم نے جو معنی لیے ہیں اس کی تائید خود قرآن میں موجود ہے سورة نحل میں فرمایا ہے واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا (72)۔ ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہی ہوسکتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔ اس کے یہ معنی کوئی بھی نہیں لے سکتا کہ یہ بیویاں ہر ایک کے اندر سے پیدا ہوئیں۔ تساء ل کا مفہوم : تساء ل کے معنی باہمدگر ایک دوسرے پوچھنے، سوال کرنے اور مانگنے کے ہیں۔ اسی سے ترقی کر کے ایک دوسرے سے طالب مدد ہونے کے معنی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ سورة مومنون میں ہے فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتساءلون (جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان کے نسبی تعلقات باقی رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے سے طلب مدد ہی کرسکیں گے)۔ ارحام کا مفہوم : ارحام، سے مراد رحمی رشتے ہیں۔ اس کو اللہ پر عطف کر کے اس کی وہ اہمیت واضح فرمائی ہے جو دین میں اس کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا کے بعد پہلی چیز جو تقوی اور احترام کی سزا وار ہے وہ رشتہ رحم اور اس کے حقوق ہیں۔ خدا سب کا خالق ہے اور رحم سب کے وجود میں آنے کا واسطہ اور ذریعہ ہے اس وجہ سے خدا اور رحم کے حقوق سب پر واجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بنیاد پر رحم کا یہ درجہ رکھا ہے کہ جو اس کو جوڑتا ہے خدا اس سے جڑتا ہے اور جو اس کو کاٹتا ہے خدا اس سے کٹتا ہے۔ یہ بات ایک حدیث قدسی سے بھی ثابت ہے اور یہی بات قرآن سے بھی نکلتی ہے۔ معاشرہ کی تنظیم سے متعلق بنیادی حقائق :۔ زیر بحث آیت ایک جامع تمہید ہے ان تمام احکامات و ہدایات کے لیے جو انسانی معاشرہ کی تنظیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں اور جو آگے آ رہے ہیں۔ اس تمہید میں جو باتیں بنیادی حقائق کی حیثیت سے واضح کی گئی ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں جس تقوی کی ہدایت کی گئی ہے اس کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ اس تقوی سے مراد یہ ہے کہ یہ خلق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی ہے بلکہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو سب کا خالق بھی ہے اور سب کا رب بھی۔ اس وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کے ایک بےمالک اور بےراعی کا ایک آوارہ گلہ سمجھ کر اس میں دھاندلی مچائے اور اس کو اپنے ظلم وتعدی کا نشانہ بنائے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اس کے معاملات میں انصاف اور رحم کی روش اختیار کرے ورنہ یاد رکھے کہ خدا بڑا زور آور بڑا منتقم وقہار ہے۔ جو اس کی مخلوق کے معاملات میں دھاندلی مچائیں گے وہ اس کے قہر و غضب سے نہ بچ سکیں گے۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ دوسری یہ کہ تمام نسل انسانی ایک ہی آدم کا گھرانا ہے۔ سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آدم و حوا کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ نسلِ آدم ہونے کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اس پہلو سے عربی و عجمی، احمر و اسود اور افریقی و ایشیائی میں کوئی فرق نہیں، سب خدا کی مخلوق اور سب آدم کی اولاد ہیں۔ خدا اور رحم کا رشتہ سب کے درمیان مشترک ہے۔ اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کی بندگی کرنے والے اور ایک ہی مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہر و محبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر زندگی بسر کریں۔ تیسری یہ کہ جس طرح آدم تمام نسل انسانی کے باپ ہیں اسی طرح حوا تمام نسل انسانی کی ماں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم ہی کی جنس سے بنایا ہے اس وجہ سے عورت کوئی ذلیل، حقیر، فروتر اور فطری گنہ گار مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے۔ اس کو حقیر و ذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اس کو حقوق سے محروم کیا جاسکتا نہ کمزور خیال کر کے اس کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ چوتھی یہ کہ خدا اور رحم کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون و ہمدردی کا محرک رہا ہے۔ جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے سابقہ پیش آتا ہے وہ اس میں دوسروں سے خدا اور رحم کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے اس وجہ سے اکثر حالات میں یہ موثر بھی ہوتی ہے۔ لیکن خدا اور رحم کے نام پر حق مانگنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ان واسطوں پر حق مانگنا حق ہے اسی طرح ان کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔ جو شخص خدا اور رحم کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں نہیں وہ خدا سے دھوکا بازی اور رحم سے بےوفائی کا مجرم ہے اور اس جرم کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جس کا دل تقوی کی روح سے خالی ہو۔ خدا اور رحم کے حقوق پہچانے والے جس طرح ان ناموں سے فائدے اٹھاتے ہیں اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں اور درحقیقت حق طلبی و حق شناسی کا یہی توازن ہے جو صحیح اسلامی معاشرے کا اصلی جمال ہے۔ اسی حقیقت کی طرف وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَاۗءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ کا ٹکڑا اشارہ کر رہا ہے۔ فصل 2:۔ آگے کا مضمون آیات 2 تا 10:۔ آگے کی آیات میں تقویٰ ، عدل، رِحم اور رحم کی انہی بنیادوں پر جن کا ذکر اوپر ہوا، سب سے پہلے یتیموں کے سرپرستوں کو مخاطب کر کے ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور اس مشکل فریضہ سے عہد برآ ہونے کے لیے عدل و انصاف کے اندر رہتے ہوئے جو صورتیں ممکن تھیں ان کی طرف رہنمائی فرمائی مثلاً یہ کہ کوئی شخص اگر محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے زیر سر پرستی یتیموں کے مال اور حقوق کی پوری احتیاط کے ساتھ نگرانی اسی صورت میں کرسکتا ہے جب کہ وہ ان کی ماں کو بھی اپنے ساتھ اس ذمہ داری میں شریک کرلے تو اس مقصد کے لیے وہ تعدد ازواج کی اجازت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ عدل، چار تک کی قید اور ادائے مہر کے عام قانون کی ان کے باب میں بھی پابندی کرے۔ یہ عذر نہ پیدا کرے کہ چونکہ ان میں سے کسی سے اس نے نکاح کیا ہے تو انہی کی اولاد کی مصلحت سے کیا ہے اس وجہ سے وہ ان کے بارے میں عدل اور مہر وغیرہ کی ذمہ داریوں سے آزاد ہے۔ اس کے بعد بتایا ہے کہ یتیم کا مال کب اس کے حوالے کرنا چاہئے اور زمانہ سرپرستی میں ایک نادار یا ایک مال دار سرپرست کو اس کا مال سے فائدہ اٹھانے کے معاملے میں کیا روش اختیار کرنی چاہئے۔ پھر ہدایت فرمائی ہے کہ شریعت میں وارثوں کے حقوق معین ہوجانے کے بعد ہوجانے کے بعد بھی اگر کسی مورث کے مال کی تقسیم کے وقت اقربا، یتامی اور مساکین آجائیں تو گو قانونی طور پر اس میں ان کا حق نہ بنتا ہو تاہم اخلاقی طور پر ان کو اس میں سے کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے اور ان کی دلداری کی جائے۔ آخر میں فرمایا کہ جو لوگ ظلم و زیادتی کر کے یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور بالآخر وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کے مال ان کے حوالہ کرو، نہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے بدلو اور نہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈ مڈ کر کے اس کو ہڑپ کرو، بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے

وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۠ وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا اس آیت کا خطاب یتیموں کے سرپرستوں سے ہے۔ اس آیت میں خطاب یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے ہے اور اوپر والی آیت پر اس کا عطف اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں جس بات کا حکم دیا جا رہا ہے یا جس چیز سے روکا جا رہا ہے اس کی بنیاد انہی اصولی حقائق پر ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ خبیث و طیب کا مفہوم : خبیث اور طیب کے الفاظ جس طرح ان اشیا اور ذوات کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو اخلاقی و شرعی نقطہ نظر سے خبیث یا طیب ہوتی ہیں اسی طرح جیسا کہ بقرہ کی آیت 267 کے تحت گزر چکا ہے، ان اشیا کے لیے بھی ان کا استعمال عربی میں معروف ہے جو مادی اعتبار سے ناقص یا عمدہ ہوتی ہیں۔ ’ اکل ‘ ک ساتھ ’ الی ‘ کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں ”ضما“ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ یتیموں کے مال کی حفاظت کے لیے ضروری ہدایات : یتیموں کے بعض سرپرست، جن کے سینے خوفِ خدا سے خالی ہوتے ہیں اول تو یتیموں کا سارا حق ہی دبا بیٹھتے ہیں اور اگر دبا نہیں بیٹھتے تو اس میں خورد برد کرنے کی نیت سے، انتظامی سہولت کے نہایت آسمان مواقع پیدا کرلیتے ہیں۔ ان کو ہدایت فرمائی کہ یتیموں کا مال یتیموں کو دو۔ خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ پھر اس مقصد کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں ان سے واضح لفظوں میں بھی روک دیا کہ نہ اپنا ناقص مال ان کے اچھے مال سے بدلنے کی تدبیریں کرو اور نہ ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر اس کو خورد برد کرنے کی کوشش کرو۔ اگر کوئی سرپرست انتظامی سہولت کے نقطہ نظر سے یتیم کا مال اپنے مال کے ساتھ ملانا چاہے تو اس کی اجازت اگرچہ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 220 کے تحت گزر چکی ہے، شریعت نے دی ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس اختلاط و اشتراک سے مقصود اصلاح ہو نہ کہ افساد، بصورت دیگر یتیم کے حق کی حفاظت اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرلو اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو ایک پر بس کرو یا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری ملک میں ہو۔ یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا۔ یتامیٰ کا مفہوم :۔ ’ یتامی ‘ کا لفظ ان نابالغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کا باپ فوت ہوچکا ہو، عام اس سے کہ وہ نابالغ، لڑکے ہیں یا لڑکیاں، صرف نابالغ لڑکیوں کے لیے اس کا استعمال نہ عربی زبان میں معلوم ہے، نہ قرآن مجید اور حدیث میں۔ قرآن میں یہ لفظ کم از کم پندرہ جگہ اسی جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے لیکن کسی جگہ بھی صرف یتیم بچیوں کے مفہوم میں نہیں استعمال ہوا ہے۔ مَا طَابَ لَكُمْ کا مفہوم : مَا طَابَ لَكُمْ کے معنی بعض اہل تاویل نے مَا حَلَّ لکم (یعنی جو عورتیں تمہارے لیے جائز ہوں) لیے ہیں۔ یہ مفہوم لفظ کے استعمالات کے مطابق ہے، اگرچہ ازروئے لغت و از روئے استعمال اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ”جو راضی ہوں“ آگے والی آیت میں فَانْ طِبْنَ لَکُمْ کے الفاظ سے اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ نیز یہ مفہوم بھی اس کا ہوسکتا ہے کہ جن سے تمہاری زندگی میں خوشگواری پیدا ہو۔ یہاں یہ تمام معانی بنتے ہیں لیکن ہم نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع و محل سے یہ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ نساء سے مراد یتامی کی مائیں ہیں :۔ نساء کا لفظ اگرچہ ظاہر میں عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے عام عورتیں مراد نہیں ہیں بلکہ یتیموں کی مائیں مراد ہیں۔ عام بول کر خاص مراد لینا، بشرطیکہ قرینہ موجود ہو، عربی زبان میں بہت معروف ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں بکثرت ہیں۔ یہ قرینہ چونکہ مضمون کے تدریجی ارتقا سے خود بخود واضح ہوجائے گا اس وجہ سے یہاں اس کے دلائل کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔ مصلحت کے لیے تعدد ازواج کی اجازت۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم (مخاطب یتیموں کے اولیاء اور سرپرست ہی ہیں) بربنائے احتیاط یہ اندیشہ رکھتے ہو کہ تمہارے لیے یتمیوں کے مال اور ان کے واجبی حقوق کی کماحقہ نگہداشت ایک مشکل کام ہے، تم تنہا اپنی ذمہ داری پر اس سے بحسن و خوبی عہدہ برآ نہیں ہوسکتے، اگر یتیموں کی ماں بھی اس ذمہ داری میں تمہارے ساتھ شریک ہوجائے تو تم اس فرض سے عمدہ طریقے پر عہدہ برآ ہوسکتے ہو اس لیے کہ یتیموں کے ساتھ جو قلبی لگاؤ اس کو ہوسکتا ہے، کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا اور ان کے حقوق کی نگیداشت جس بیداری کے ساتھ وہ کرسکتی ہے کسی اور کے لیے ممکن نہیں تو ان میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں، ان سے تم نکاح کرلو، بشرطیکہ عورتوں کی تعداد کسی صورت میں چار سے زیادہ نہ ہونے پائے اور تم ان کے درمیان عدل قائم رکھ سکو۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ عدل نہیں قائم رکھ سکو گے تو پھر ایک سے زیادہ نکاح نہ کرو۔ فرمایا کہ یہ طریقہ تمہیں حق و انصاف پر استوار رکھنے کے نقطہ نظر سے زیادہ صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیویوں کے معاملے میں عدل کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ یتیموں کے حقوق کی نگہداشت جیسی اہمی دینی مصلحت کے پہلو سے بھی اس میں کسی لچک کی شریعت نے گنجائش نہیں رکھی ہے۔ ایک شب ہے کا ازالہ :۔ یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ آیت کی تاویل اگر یہ ہے جو بیان ہوئی تو اس سے تو صاف یہ بات نکلتی ہے کہ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت مطلق نہیں بلکہ یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہاں مسئلے کے بیان کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ یتیموں کی مصلحت کی قید کے ساتھ تعدد ازواج کی اجازت دی گئی ہو اور بصورت دیگر یہ ممنوع ہو بلکہ یہ ہے کہ یتامیٰ کی مصلحت کے نقطہ نظر سے تعدد ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عرب میں تھا البتہ اس کو چار تک محدود کردیا گیا ہے۔ اگر مقصود تعدد ازواج کو یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید کرنا ہوتا تو اس کے لیے اسلوب بیان اس سے بالکل مختلف ہوتا۔ اس اسلوب بیان سے صرف یہ بات نکلتی ہے کہ تعدد ازواج کی مروجہ وقت صورت پر ایک قید عائد کر کے اس سے ایک معاشرتی مصلحت میں فائدہ اٹھانے کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے لیکن عاشرتی مصلحت صرف ایک یتیموں ہی کی مصلحت نہیں ہے بلکہ اور بھی ہوسکتی ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس میں اس سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت ہو۔ ایک اور شب ہے کا جواب : ممکن ہے یہاں ایک اور شبہ بھی بعض لوگوں کو ہو کہ ہم نے یہاں ان لوگوں کے قول کو جنہوں نے یتامی سے یتیم لڑکیوں کو مراد لیا، محض اس دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کردیا ہے کہ اس لفظ کا استعمال صرف لڑکیوں کو مراد لیا ہے، محض اس دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کردیا ہے کہ اس لفظ کا استعمال صرف لڑکیوں کے لیے معروف نہیں ہے در آنحالیکہ نساء سے ہم نے یتیموں کی ماؤں کو مراد لیا ہے جب کہ اس لفظ کا بھی استعمال اس معنی کے لیے معروف نہیں ہے۔ اس شب ہے کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس قول کو صرف اسی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا ہے کہ لغت اور استعمال اس کے حق میں نہیں ہے بلکہ اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ یہ معنی لینے میں آیت کی تاویل صحیح نہیں بنتی۔ کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اگر وہ ایک یتیم بچی سے نکاح کرے گا تو چونکہ اس کا باپ یا بھائی موجود نہیں ہے اس وجہ سے وہ اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو اس کو یہ ہدایت ہونی تھی کہ وہ اس وقت تک اس کے ساتھ نکاح کرنے میں توقف کرے جب تک وہ بالغ ہو کر اپنے حقوق و فرائض کو اپنے اختیار و ارادے کے ساتھ سمجھ نہ سکے یا صرف یہ ہدایت ہونی تھی کہ ایسا شخص کسی اور عورت سے نکاح کرے، اس کے تعدد ازواج کی اجازت اور اس کے قیود و شرائط کے بیان کے لیے کوئی ضرورت داعی نہیں تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک یتیمہ بالغ ہونے کے بعد بھی باپ بھائی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے بےبس ہی ہوتی ہے تو یہ ہدایت ہونی تھی کہ ایسی عورتوں سے نکاح کرو جن کے باپ بھائی زندہ ہوں، اس لیے کہ اس قسم کی بےبسی دوسری عورتوں کو بھی لاحق ہوسکتی ہے اگرچہ ان کو یتیمی کی بےبسی سے سابقہ نہ پیش آیا ہو۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اگر کسی کی نگرانی میں کوئی یتیمہ ہو، وہ اس کی اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے اور اس کے بالغ ہونے پر اس کی مرضی سے اس سے نکاح کرے تو شریعت میں یہ بات ناپسندیدہ نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔ بہرحال ہم نے اس قول کو صرف ایک ہی وجہ کی بنا پر نہیں بلکہ متعدد وجوہ کی بنا پر چھوڑا ہے اور نساء کے لفظ کی جو تخصیص کی ہے وہ ان قرائن کی بنا پر ہے جن میں سے بعض اوپر مذکور ہوئے اور بعض آگے آ رہے ہیں۔ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ سے مراد لونڈیاں ہیں۔ چونکہ ان کے معاملے میں عدل وغیرہ کی شرط نہیں ہے اس وجہ سے ان کی اجازت دی۔ اس مسئلے کی صحیح نوعیت پر ہم بقرہ میں لکھ چکے ہیں۔ آگے موزوں مقام پر اس پر مزید بحث کریں گے۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور ان عورتوں کو ان کے مہر دو مہر کی حیثیت سے، پس اگر وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو کھاؤ کہ وہ تمہیں راس اور ساز گار ہے

وَاٰتُوا النِّسَاءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــًٔـا مَّرِيْـــــًٔـا ، نحلۃ کا مفہوم : اس آیت میں بھی نساء سے مراد یتیموں کی مائیں ہی ہیں۔ نحل کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں اور جب عورت کے تعلق سے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی مہر ادا کرنے کے ہوتے ہیں۔ نحلہ یہاں فعل کی تاکید کے لیے ہے یعنی ان کو اس طرح مہر دو جو مہر دینے کا طریقہ ہے، اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جب ان کے ساتھ نکاح انہی کے بچوں کی مصلحت کے پہلو سے کیا گیا ہے تو ایک شخص خیال کرسکتا ہے کہ اس صورت میں مہر وغیرہ کی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ فرمایا کہ نہیں، جس طرح عدل شرط ہے اسی طرح مہر کی ادائیگی بھی شرط ہے اور یہ مہر، مہر کی طرح ادا ہونا چاہئے، صرف چھدا اتارنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ ، میں حرف ’ عن ‘ دستبرداری کے مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی وہ اپنی خوشی سے اگر اپنے مہر کا کوئی حصہ معاف کردیں تو تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، یہ تمہارے لیے رچنے بچنے والی چیز ہوسکتی ہے۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور تم وہ مال جس کو خدا نے تمہارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے، نادان یتیموں کے حوالہ نہ کرو، ہاں اس سے ان کو فراغت کے ساتھ کھلاؤ، پہناؤ اور دستور کے موافق ان کی دلداری کرتے رہو

وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَاۗءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰـمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا وَاكْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ سفہاء سے مراد وہی یتامی ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حکم جو تمہیں دیا گیا ہے کہ یتیموں کا مال ان کو دو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ بالکل نادان و ناسمجھ ہوں جب بھی جو کچھ ان کا ہے ان کے حوالہ کردو۔ مال کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے اس وجہ سے اس کے اندر انفرادی حق کے ساتھ خاندانی اور اجتماعی بہبود کا بھی ایک پہلو ہے۔ اس پہلو سے اس کی بربادی میں ایک ہی کا نقصان نہیں ہے بلکہ پورے خاندان اور بالآخر پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ کوئی ایسی شکل اختیار نہ کی جائے جو کسی مال کی بربادی کا باعث ہو۔ اگر یتیم ابھی نادان اور ناسمجھ ہے تو سرپرست کا فرض ہے کہ وہ اس کا مال اپنی حفاظت و نگرانی میں رکھے البتہ اس کو کھلائے پہنچائے اور اس کی دلداری کرتا رہے تاکہ اس کو اطمینان رہے کہ یہ نگرانی اسی کے فائدے کے لیے ہے۔ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہوجانے کے بعد اس کی ہر چیز اسی کو ملنی ہے۔ وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا، میں فیہا کے لفظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یتیموں کی ضروریات پوری کرنے میں سرپرستوں کو کشادہ دلی سے کام لینا چاہیے۔ خسیس اور مکھی چوس سرپرستوں کا سا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ عربی میں جب کہیں گے کہ ارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا تو اس کے معنی ہوں گے ان کو فراخی سے کھلاؤ پہناؤ اور اگ رک ہیں وَّارْزُقُوْھُمْ فِيْھَا جیسا کہ آگے آیت میں آ رہا ہے، تو اس کے معنی ہوں گے ان کو اس میں سے کچھ دے دلا دو۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور ان یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اسراف اور جلد بازی کرکے ان کا مال ہڑپ نہ کرو اور جو غنی ہو اس کو چاہئے کہ وہ پرہیز کرے اور جو محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائے پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو، ویسے اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے

وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰى حَتّٰى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَيْھِمْ اَمْوَالَھُمْ ۚ وَلَا تَاْكُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوْا ۭ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَيْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَيْھِمْ ۭوَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِـيْبًا۔ یتیموں کا مال کب ان کے حوالے کیا جائے۔ یہ وہ طریقہ بتایا ہے جو یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے کے معاملے میں سرپرستوں کو اختیار کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ یتیموں کو جانچتے رہو یعنی کوئی چھوٹی موٹی ذمہ داری ان کے سپرد کر کے ان کی صلاحیت کا امتحان کرتے رہو کہ معاملات کی سوجھ بوجھ ان کے اندر پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ نکاح کی عمر، یعنی بلوغ تک، ان کے ساتھ یہی معاملہ رکھنا چاہئے۔ جب بالغ ہوجائیں تو اس وقت اگر یہ محسوس ہو کہ ان کے اندر اب اپنی ذمہ داریوں کے اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہے تو ان کا مال ان کے سپرد کردینا چاہئے۔ جسنی بلوغ عقلی بلوغ کو مستلزم نہیں ہے : آیت میں اس بات کا اشارہ صاف موجود ہے کہ جنسی بلوغ ہر حال میں عقلی بلوغ کو مستلزم نہیں ہے۔ ایسے بھی کتنے بالغ ہوسکتے ہیں جو بالغ ہوجانے کو تو ہوجاتے ہیں لیکن ناک لگی ہی رہ جاتی ہے۔ ایسے الہڑ اور بالغ نادانوں کے معاملے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس چیز کو ان کے مال پر قابض رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ جو کچھ کرنا چاہئے ان کی بہبود پیش نظر رکھ کر کرنا چاہئے۔ غریب سرپرست کو یتیم کے مال سے معروف کے مطابق فائدہ اٹھانے کی اجازت : سرپرست اگر مستغنی آدمی ہو تو اس کو یتیم کے مال میں سے کچھ لیے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اگر غریب ہو تو دستور کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دستور کے مطابق سے مراد یہ ہے کہ ذمہ داریوں کی نوعیت، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات اور سرپرست کے معیارِ زندگی کے اعتبار سے وہ فائدہ اٹھانا جو معقولیت کے حدود کے اندر ہو، یہ نوعیت نہ ہو کہ ہر معقول آدمی پر یہ اثر پڑے کہ یتیم کے بالغ ہوجانے کے اندیشے سے اسراف اور جلد بازی کر کے یتیم کی جائداد ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مال کی حوالگی کے وقت گواہ مقرر کرنے کی ہدایت : آخر میں یہ ہدایت ہوئی کہ یتیم کا مال جب اس کے حوالے کرنے لگو تو اس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بھی بنا لو تاکہ کسی سوئے ظن اور نزاع کا احتمال باقی نہ رہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ سارے معاملات کا حساب خدا کے ہاں بھی دینا ہے۔ اگر کسی قسم کی خیانت ہوئی تو ہوسکتا ہے کہ دنیا کے شاہدوں اور گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑے لیکن خدا کی نگاہ کسی چیز سے بھی نہیں چوک سکتی۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک مقررہ حصہ

یتامیٰ کے حقوق کے تحفظ نے دوسروں کے حقوق کی راہ کھول دی : یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے بعد اب یہ تمہید ہے اس قانون وراثت کی جس میں مردوں اور عصبات اور وارثوں کے لیے مورث کی تمام املاک و جائداد سمیٹ کر اس پر قابض ہوجانے کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے۔ اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ ساری دنیا میں یہ حال رہا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا کیا ذکر، تمام کمزور ورثہ زور آور وارثوں کے رحم و کرم پر تھے۔ قرآن نے اس صورت حال کی طرف دوسرے مقام وتاکلون التراث اکلا لما کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اس صورت حال کو ختم کردینے کے لیے قرآن نے تمام وارثوں کے حقوق معین کردیے، مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی، اوپر کی آیات کی تلاوت کرتا ہوا آدمی جب اس آیت پر پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ گویا یتیموں کی برکت سے دوسروں کے حقوق معین کرنے کی بھی راہ کھل گئی۔ یعنی جو خود حقوق سے محروم تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ حقوق حاصل کیے بلکہ ان کی بدولت دوسروں کو بھی حقوق حاصل ہوئے۔ خاص طور پر عورتوں کا ذکر اس طرح آیا ہے گویا پہلی بار ان کو بھی مردوں کے پہلو بہ پہلو حق داروں کی صف میں جگہ ملی اور اپنے والدین و اقربا کے ترکے میں سے، خواہ کم ہو یا زیادہ، ان کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین حصہ فرض کردیا گیا۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور اگر تقسیم کے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آموجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے دستور کے مطابق بات کرو

حصے معین ہوجانے کے بعد قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروائے شریعت وارث قرار پائے ہیں لیکن صلہ رحم اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ چناچہ وارثوں کو خطاب کرکے ہدایت ہوئی کہ اگر کسی کی وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آموجود ہوں تو ہرچند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ ہو تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے نہ جائیں بلکہ ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلا کر ان کی دلداری کی کوشش کی جائے۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے جو اپنے پیچھے اگر ناتواں بچے چھورتے تو ان کے معاملہ میں بہت اندیشہ ناک ہوتے پس انہیں چاہئیے کہ اللہ سے دریں اور سیدھی بات زبان سے نکالیں

فرمایا کہ یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ جس طرح دوسروں کے بچے یتیم ہوئے ہیں اسی طرح ان کے بچے بھی یتیم ہو سکتے تھے۔ پھر سوچیں کہ اگر یہ اپنے پیچھے یتیم چھوڑتے تو ان کے دل میں ان سے متعلق کیا کچھ انیدشے ہوتے اس وجہ سے اللہ سے ڈرنا چاہئے اور سیدھی بات کرنی چاہئے۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ ظلم و ناانصافی سے یتیموں کے مال ہڑپ کر رہے ہیں وہ تو بس اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔

آخر میں آخری تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ ظلم و حق تلفی کی راہ سے اپنے پیٹوں میں یتیموں کے مال بھر رہے ہیں وہ انجام کار کے اعتبار سے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور آخرت میں وہ اس آگ کو لیے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔ اگلی آیات 11 تا 14 کا مضمون :۔ آگے تقوی عدل اور رحم کے انہی تقاضوں کے مطابق جن پر اسلامی معاشرے کی بنیاد قائم ہے اس شرعی تقسیم وراثت کی وضاحت فرما دی جس کی طرف ساتویں آیت میں اشارہ ہوا تھا تاکہ ظلم وحق تلفی اور نزاع و اختلاف کے ایک بہت بڑے سبب کا خاتمہ ہوجائے۔
Ayahs 4:11–14

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تمہاری اولاد کے باب میں تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے جو مورچ نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اسکے اولاد نہ وہ اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اس کے بھائی بہنیں ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کرجاتا ہے تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمہارے لیے سب سے زیادہ نافع کو ہوگا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بیشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اس ترکے کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں، اگر ان کے اولاد نہیں اور اگر ان کے اولاد تو ان کے ترکے میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے۔ بعد اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کرجائیں۔ اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے کا، اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے بعد جو تم کر جاؤ۔ اور اکگر کسی مرد یا عورت کی واراثت اس حال میں تقسیم ہو کہ نہ اس کے اصول میں کوئی ہو، نہ فروع میں، اور ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹٓ حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد، بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔ یہ اللہ کی طرف سے وصیت ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اس کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں گے، ان کو ایسی آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں رہیں گے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

تفسیر آیت 11 تا 14:۔ مجموعہ آیات (آیت 11 تا 14) میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابیں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔ وصیت کا صحیح مفہوم : پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے، وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد اور معاہدے کی ذمہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ لفظ کے ان تمام مضمرات کو ادا کرنے کے لیے اردو میں کوئی لفظ مجھے نہیں ملا۔ میں نے جو لفظ اختیار کیا ہے وہ اس کے مفہوم پر پوری طرح حاوی نہیں ہے۔ لڑکیوں کے بالمقابل لڑکوں کا حصہ دونا رکھنے کی وجہ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ وراثت میں لڑکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے بالمقابل دونا رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نظام معاشرت میں کفالتی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے تمام تر مرد ہی پر ڈالی ہیں۔ عورت پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے۔ مرد ہی بیوی کے نان نفقے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور وہی بچوں کا بھی کفیل بنایا گیا ہے۔ قرآن نے یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی ہے کہ اپنی خلقی صفات کے اعتبار سے مرد ہی اس کا اہل ہے کہ وہ خاندان کا سر براہ اور قوّام بنایا جائے اور یہ قوامیت خاندان کے نظم اور اس کے قیام و بقا کے لیے ناگزیر ہے، اگر خاندان کا کوئی قوم نہ ہو تو یہ بات خاندان کی فطرت کے خلاف ہے اور اگر خاندان کی قوّام مرد کے بجائے عورت ہو تو یہ چیز انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کی ہر مخالفت لازماً فساد و اختلال کا سبب ہوگی جس سے سارا معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ مرد کو اس کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بعض حقوق میں ترجیح ہو۔ جو لوگ ہر پہلو سے مرد عورت کی کامل مساوات کے مدعی ہیں ان کا دعوی عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس موضوع پر آگے ہم اس سورة میں بھی بحث کریں گے اور اہم نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے جس میں اس مسئلے کے سارے ہپلو زیر بحث آئے ہیں جس کا نام ہے اسلام معاشرے میں عورت کا مقام۔ خدا کی تقسیم کی خلاف ورزی خدا کی حکمت کی تحقیر ہے :۔ تیسری چیز یہ ہے کہ قرآن حکیم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش و عقب ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اس کی ہر بات اور اس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اس وجہ سے خدا کی اس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفے کے غرّے میں کسی کو معترض ہونا چاہئے نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اس کے خلاف اٹھانا چاہئے۔ بسا اوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے اسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظر انداز کرتا ہے حالانکہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبی دونوں ہی اعتبار سے اس کا رویہ زیادہ صیح رہا جس کو اس نے نظر انداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے اپنے ذاتی میلانات کے بجائے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اسی میں خیر و برکت ہے۔ جو لوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم انہیں دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں تو بہر حال ملنی ہی ہے۔ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّھُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا الایہ پر اس روشنی میں غور فرمائیے۔ وارثوں کے حق میں وصیت جائز نہیں :۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ خدا نے جب اس تقسیم کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن کو اس نے کسی مورث کا وارث قرار دیا ہے ان کے لیے اس نے انصاف اور حکمت پر مبنی وصیت خود فرما دی ہے۔ رب کریم و حکیم کی اس وصیت کے بعد اگر کوئی مورث کسی وارث کے لیے وصیت کرتا ہے تو درحقیقت یہ خدا کی وصیت کی اصلاح بلکہ صحیح تر الفاظ میں اس کی مخالفت ہوئی جو تقوی کے بالکل منافی ہے۔ اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ مورثوں کو وصیت کی جو اجازت دی گئی ہے س کا تعلق ان وارثوں سے نہیں ہے جن کے باب میں خود خدا کی وصیت موجود ہے بلکہ یہ غیر وارثوں کے لیے خاص ہے۔ چناچہ اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لا وصیۃ لوارث۔ ‘ غیر مضار ’ کی قید کی حکمت :۔ پانچویں یہ کہ مورث کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرض کی ادائیگی کی تاکید جو بار بار آئی ہے اس کے ساتھ غیر مضار کی شرط بھی لگی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس شرط کا ذکر صرف کلالہ کے سلسلے میں ہوا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہ ہر جگہ مقصود ہے۔ کلالہ کے ساتھ اس کے ذکر کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس مورث کے اصول میں کوئی ہو نہ فروع میں، اس کے اندر اس خواہش کے ابھرنے کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائداد ان لوگوں کی طرف نہ منتقل ہونے دے جن کی طرف اس کا طبعی میلان نہیں ہے اگرچہ قانونی حق دار وہی ہیں۔ اس کے لیے وہ وصیت میں بھی تجاوز کرسکتا ہے اور غلط قسم کے نمائشی و قرض کا بھی مظاہرہ کرسکتا ہے۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے قرآن نے وصیت اور قرض دونوں کے یہ شرط لگا دی کہ یہ ”غیر مضار“ ہو یعنی اس سے مقصود محض شرعی وارثوں کو نقصان پہنچانا نہ ہو۔ اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ نے وصیت کو ثلث مال تک محدود فرما دیا تاکہ اس سے اصلی وارثوں کی حق تلفی نہ ہو۔ آگے کا مضمون۔۔۔ آیات 15 تا 18:۔ صنفی انتشار کی روک تھام کے لیے ایک عارضی حکم :۔ اوپر کی آیات میں ان مفاسد کے دروازے بند کیے تھے جو مال کی حد سے بڑھی ہوئی طمع سے پیدا ہوتے اور معاشرے میں فساد و اختلال اور قطع رحم کا سبب بنتے ہیں۔ اب آگے صنفی انتشار اور شہوانی بےقیدی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے اس یے کہ یہ بےقیدی بھی حرص مال ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ معاشرے کو شیطان کی بازی گاہ بنا دینے والی ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ احکام اس باب کے ابتدائی احکام ہیں جو اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ مدینہ میں اسلامی معاشرہ ابھی پوری طرح منظم و مستحکم نہیں ہوا تھا۔ مدینہ کے آس پاس غیر مسلم قبائل موجود تھے جو اس وقت تک اسلام کے زیر نگین نہیں ہوئے تھے اور مسلمانوں نے ابھی وہ قوت حاصل نہیں کی تھی کہ اسلامی حدود و تعزیرات ان پر بھی نافذ کرسکیں۔ یہ صورت حال ایک پیچیدہ صورت حال تھی۔ نہ یہ بات قرین مصلحت تھی کہ معاشرے کی تطہیر کے نقطہ نظر سے جو حدود و تعزیرات ضروری ہیں وہ بےدرنگ نافذ کردی جائیں اس لیے کہ مخالفین اس سے غلط فائدے اٹھا سکتے تھے اور نہ یہ بات ممکن تھی کہ فحشا اور منکر کے دروازے کھلے چھوڑ دئیے جائیں اس لیے کہ اس سے بدکاری و بےحیائی کے اس رجحان کو شہ ملتی جس کا اس وقت عرب سوسائٹی میں زور تھا اور اسلام جس کو مٹانے کے لیے آیا تھا۔ ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں تک مسلمانوں کی سوسائٹی کا تعلق تھا اس کو بدکاری و بےحیائی سے پاک رکھنے کے لیے کچھ ایسے ابتدائی نوعیت کے عارضی احکام دے دئیے جو فی الجملہ مفاسد کے سدباب کے لیے بھی مفید تھے اور جو مسلمانوں کے ذہن کو ان احکام کے قبول کرنے کے لیے تیار کرنے والے بھی تھے جو بعد میں اس سلسلے میں نازل ہوئے اور ساتھ ہی ان کے اندر یہ پہلو بھی ملحوظ تھا کہ مخالفین ان کو اسلام کے خلاف وسوسہ اندازیوں اور ریشہ دوانیوں کا ذریعہ نہیں بنا سکتے تھے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں کے اندر محبوس کردو، یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کرے یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے

’ فاحشہ ‘ زنا کی تعبیر کے لیے معروف ہے :۔ ’ فاحشہ ‘ کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں اور زنا کی تعبیر کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ’ من نساء کم ‘ کا مفہوم : من نساء کم (تمہاری عورتوں میں سے) یعنی بدکاری کا ارتکاب کرنے والی عورت مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھنے والی ہو۔ یہ اشارہ کہ یہ حکم عارضی ہے :۔ اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم عارضی ہے۔ اس باب میں آخری حکم بعد میں نازل ہونے والا ہے۔ چناچہ سورة نور میں زنا کی جو سزا بیان ہوئی ہے اس سے یہ وعدہ پورا ہوا۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دونوں تم میں سے اس بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو ایذا پہنچاؤ، پس اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

صیغہ کا استعمال شریک غالب کے اعتبار سے :۔ وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ ، یعنی بدکاری کا ارتکاب کرنے والے دونوں فریق، مرد اور عورت، مسلمانوں ہی کے اندر کے ہوں، اس میں مذکر کا صیغہ عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق شریک غالب کے لحاظ سے استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ ”والدین“ کا لفظ ہے۔ جو ہے تو مذکر لیکن ماں باپ دونوں ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایذاء کا مفہوم : فَاٰذُوْھُمَا میں توہین و تذلیل، ڈانٹ ڈپٹ اور نصیحت و ملامت سے لے کر اصلاح کے حد تک مارپیٹ ہر چیز داخل ہے۔ ان آیات میں خطاب ظاہر ہے کہ معاشرہ کے ارباب حل و عقد اور ذمہ داروں سے ہے۔ ان کو خطاب کر کے بدکاری پر تعزیر کے لیے دو مختلف صورتوں میں دو الگ الگ ہدایات دی گئی ہیں۔ دو صورتوں کے لیے دو الگ الگ :۔ ایک صورت یہ ہے کہ بدکاری کا ارتکاب کرنے والی عورت تو تو مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کا شریک مرد، اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ ہدایت فرمائی کہ عورت کو گھر کے اندر محبوس کردیا جائے، اس کی باہر کی آمد و شد پر پوری پابندی عائد کردی جائے تاآنکہ موت اس کا خاتمہ کرے یا اس باب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا حکم نازل ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بدکاری کے دونوں فریق مسلمانوں ہی سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایسی صورت میں ان کو زجر و توبیخ، تحقیر و تذلیل، ڈانٹ ڈپٹ اور اصلاح کے حد تک مارپیٹ سے درست کرنے کی کوشش کی جائے، اگر وہ اس کے اثر سے توبہ کر کے اپنے چال چلن درست کرلیں تو ان سے درگزر کیا جائے۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ عورت کے معاملے میں شدت احتیاط کی حکمت :۔ ان دونوں صورتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ پہلی صورت میں احتیاط کا پہلو زیادہ شدت کے ساتھ ملحوظ ہے۔ دوسری صورت میں تو عورت اور مرد دونوں کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ کر کے اپنے چال چلن درست کرلیں تو ان سے درگزر کرلیا جائے لیکن پہلی صورت میں عورت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر وہ توبہ و اصلاح کرلے تو اس پر عائد کردہ قدغن اٹھالی جائے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ دوسری صورت میں تو دونوں فریق اسلامی معاشرہ کے دباؤ میں ہیں، ان کے رویے میں جو تبدیلی ہوگی وہ سب کے سامنے ہوگی، نیز ان کے اثرات اور وسائل معلوم و معین ہیں، ان کے لیے بہرحال اپنے خاندان اور قبیلے سے بےنیاز ہو کر کوئی اقدام ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہوگا۔ لیکن پہلی صورت میں مرد، جو اصل جرم میں شریک غالب کی حیثیت رکھتا ہے، مسلمانوں کے معاشرہ کے دباؤ سے بالکل آزاد ہے، نہ اس کے رویے کا کچھ پتہ نہ اس کے عزائم کا کچھ اندازہ، نہ اس کے اثرات ووسائل کے حدود معلوم و معین۔ ایسی حالت میں اگر عورت کو یہ موقع دے دیا جاتا کہ توبہ کے بعد اس سے درگزر کی جائے تو یہ بات نہایت خطرناک نتائج پیدا کرسکتی تھی۔ اول تو مرد کے رویّہ کو نظر انداز کر کے عورت کی توبہ و اصلاح کا صحیح اندازہ ہی ممکن نہیں ہے اور ہو بھی تو جب مرد بالکل قابو سے باہر اور مطلق العنان ہے تو اغوا، فرار اور قتل و خون کے امکانات کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیے جاسکتے، اس پہلو سے اس میں احتیاط کی شدت ملحوظ ہے۔ اگرچہ یہ تعزیرات سورة نور میں نازل شدہ حدود کے بعد منسوخ ہوگئیں لیکن بدکاری کے معاملے میں شہادت کا یہی ضابطہ بعد میں بھی باقی رہا۔ تعزیری مقاصد کے لیے جیل کے سسٹم کا جواز :۔ علاوہ ازیں پچھلی آیت میں فَاَمْسِكُوْھُنَّ فِي الْبُيُوْتِ کے الفاظ سے تعزیر مقاصد کے لیے جیل کے سسٹم کا جواز بھی نکلتا ہے۔
Ayah 4:17

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انہی کے لیے ہے جو جہالت سے مغلوب ہو کر برائی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں، وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

لفظ ’ جہالت ‘ کا مفہوم :۔ جہالت کے معنی عربی میں صرف نہ جاننے کے نہیں آتے بلکہ اس کا غالب استعمال جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا ظلم یا گناہ کا کام کر گزرنے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ عام طور پر علم کے بجائے حلم کے ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک حماسی کا شعر ہے ولمحلم خیر فاعلمن مغبۃ۔ من الجہل الا ان تشمس من ظلم اور یاد رکھو کہ جہالت کے مقابلے میں تحمل و بردباری انجام کار کے اعتبار سے بہتر ہے مگر یہ کہ تمہیں ظلم کی وجہ سے ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے معلقات کا مشہور شعر ہے الا لا یجھلن احد علینا۔ فنجھل فوق جھل الجاھلینا آگاہ، کہ کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہوجائیں توبہ کی قبولیت کے شرائط :۔ اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا تھا کہ اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو، اس سے اتنی بات تو بالکل واضح ہوگئی تھی کہ رویے کی اصلاح توبہ کے لازمی شرائط میں سے ہے، اگر کوئی شخص اس برائی سے باز نہ آئے جس کا وہ مرتکب ہوا ہے تو زبان سے لاکھ توبہ توبہ کا ورد کرے، اس کی توبہ بالکل غیر معتبر ہے۔ اسی تعلق سے توبہ کے آداب و خصوصیات کی مزید وضاحت فرما دی۔ فرمایا کہ اللہ کے اوپر صرف ان کی توبہ کا حق قائم ہوتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر گزرتے ہیں پھر فوراً توبہ کرلیتے ہیں۔ انہی لوگوں کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ نہ وہ کسی بات سے بیخبر نہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی۔ پھر وہ ان لوگوں کی توبہ کی کوئی ذمہ داری اپنے اوپر کیوں لے گا جو جانتے بوجھتے ٹھنڈے دل سے گناہ بھی کیے جا رہے ہیں اور توبہ کا وظیفہ بھی پڑھتے جا رہے ہیں۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو برابر برائی کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولا کہ اب میں نے توبہ کرلی اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر ہی پر مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے جو زندگی بھر تو گناہوں میں ڈوبے رہے، جب دیکھا کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بلے کہ اب میری توبہ ! علی ہذا القیاس کفر کی حالت میں مرنے والوں کی بھی توبہ نہیں ہے۔ ایک سوال اور اس کا جواب :۔ ان دونوں آیتوں (آیت 17 اور 18) پر غور کرنے سے توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی دو صورتیں معین ہوجاتی ہیں۔ جو لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں پھر فوراً توبہ اور اصلاح کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کی توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ برابر گناہ کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ملک الموت ان کے سر پر آ دھمکتا ہے اس وقت وہ توبہ کرتے ہیں یا وہ لوگ جو کفر کی حالت ہی میں مرتے ہیں ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ان دونوں حدوں کے معین ہوجانے کے بعد اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ان لوگوں کی توبہ کا کیا حکم ہے جن کو گناہ کے بعد جلدی توبہ کرنے کی سعادت تو حاصل نہیں ہوئی لیکن اتنی دیر بھی انہوں نے نہیں لگائی کہ موت کا وقت آن پہنچا ہو، اس سوال کے جواب میں یہ آیت خاموش ہے اور یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے اسی طرح خوف بھی پیدا کرتی ہے اور قرآن حکیم کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بین الرجاء والخوف ہی رہے لیکن کبھی کبھی ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس امت کے اس طرح کے لوگ، امید ہے کہ نبی ﷺ کی شفاعت سے نجات پا جائیں گے اس لیے کہ ان کے باب میں شفاعت کے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ آگے کا مضمون۔۔۔ آیات 19 تا 22۔ عورتوں کے حقوق میں معاشرے کے اندر محفوظ کرنے اور ان کو ظلم وتعدی سے بچانے کے لیے جو ہدایت اوپر دی گئی ہیں اسی سلسلے میں مزید ارشاد ہوا۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو، تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان کے ساتھ معقول طریقے کا برتاؤ کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کردے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ۔ عضل کے معنی : عضل یعضل کے معنی تنگ کرنے، زچ کرنے اور روکنے کے ہیں۔ معاشرت بالمعروف : َعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، یعنی ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان، عقل و فطرت کے مطاب، رحم و مروت اور عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ یہاں لفظ معروف کے استعمال سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگرچہ عرب جاہلیت کے بعض طبقات میں عورتوں کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں بعض نہایت ناروا قسم کی زیادتیاں رواج پا گئی تھیں۔ تاہم وہ اس بات سے نا آشنا نہیں تھے کہ عورت کے ساتھ معقولیت کا برتاؤ کیا ہے۔ عرب جاہلیت کے ایک مکرو رواج کی اصلاح۔ اس آیت میں پہلے عرب جاہلیت کی ایک نہایت مکروہ رسم کی اصلاح کی ہے۔ وہ یہ کہ ان کے بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ مورث کی جائداد اور اس کے مال مویشی کی طرح اس کی بیویاں بھی وارث کی طرف منتقل ہوجاتی تھی۔ حد یہ ہے کہ باپ کی منکوحہ عورتوں پر بھی بیٹے قبضہ کرلیتے تھے۔ باپ کے مرنے پر خلفِ اکبر اس کی منکوحات میں سے جن پر اپنی چادر ڈال دیتا تھا وہ سب اس کے تصرف میں آجتیں اور آگے آیت 22 سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ان سے زن و شو کے تعلقات قائم کرنے میں بھی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ قرآن نے یہاں واضح فرمایا کہ عورت متروکہ جائداد نہیں بلکہ آزاد ہستی ہے۔ اس کے ساتھ مورث کی بھیڑ بکریوں کی طرح کا معاملہ جائز نہیں ہے بلکہ وہ اپنی مرضٰ کی مالک اور شریعت کے حدود کے اندر آزاد ہے۔ ناپسند بیوی سے حسن سلوک :۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اگر کسی اس کی بیوی ناپسند ہو تو اس سے اپنا دیا دلایا اور کھلایا پہنایا اگلوانے کے لیے اس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس قسم کا رویہ صرف اس شکل میں جائش ہے جب اس کی طرف سے کھلی ہوئی بدکاری کا صدور ہو۔ اگر اس قسم کی کوئی بات اس سے صادر نہیں ہوئی ہے، وہ بدستور اپنی وفاداری اور پاک دامنی پر قائم ہے تو مجرد اس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے اس سے کچھ اینٹھنے کے لیے اس کو تنگ کرنا عقل، انصاف، شرافت اور فتوّت کے بالکل منافی ہے۔ قابل نفرت چیز صرف اخلاقی فساد ہے۔ محض شکل و صورت اور رنگ و روغن کے ناپسند ہونے کی بنا پر یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم کردی جائے۔ ہوسکتا ہے کہ مجرد شکل و صورت کی بنا پر کوئی شخص اپنی بیوی کو ناپسند کرتا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے دنیا و آخرت دونوں میں برکتوں کے بہت سے دروازے کھول دے۔ پس صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کی آزمائش پیش آجائے تو ذوقی عدم مناسبت کے باوجود خدا کے خوف اور اپنی فتوت و شرافت کے پیش نظر ایسی بیوی سے نہایت اچھا برتاؤ کرے اور خدا سے خیر و برکت کی امید رکھے۔ ایک ادبی نکتہ : یہاں لفظ اگرچہ ”عسی“ استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہار امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے لیکن عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ یہاں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے وہ یہی ہے کہ جو لوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلی اخلاقی و انسانی اقدار کو اہمیت اور ان کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے۔ جن لوگوں نے اس وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہے۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کر کے اس کو لوگے ؟

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور کس طرح اس کو لو گے جب کہ تم ایک دوسرے کے آگے بےحجاب ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے

تفسیر آیت 21۔۔ 22 وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۔ وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۔ قنطار کا مفہوم : قنطار۔ اصل میں تو ایک وزن ہے جس کی مقدار زمانے کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہی ہے لیکن عام استعمال میں اس سے مراد مال کثیر ہوتا ہے۔ جیسے ہم منوں مال، ڈھیروں مال، بولتے ہیں، عربی میں اسی مفہوم کی تعبیر کے لیے یہ لفظ ہے۔ اسی سے قناطیر مقنطرۃ کی ترکیب بھی قرآن میں استعمال ہوئی ہے۔ فْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ کا مفہوم : فْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ ، افضی فلان الی فلان کے معنی ہیں وصل الیہ و دخل فی حیزہ۔ اس طرح افضی الی فلان بسرہ کے معنی ہیں، اس نے فلاں کے آگے اپنے سارے بھید بےنقاب کردئیے۔ یہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کی نہایت جامع اور نہایت شائستہ تعبیر ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اس طرح بےنقاب ہوجاتے ہیں کہ ان کے ظاہر و باطن اور احساسات و جذبات کا کوئی گوشہ اور کوئی پہلو ایک دوسرے سے مخفی نہیں رہا جاتا۔ بیوی دیا ہوا مال واپس لینا فتوّت کے منافی ہے : اوپر کی آیت میں بتایا تھا کہ با وجود اعلی طریقہ یہی ہے کہ آدمی بیوی کے ساتھ شائستہ طریقے پر نباہنے کی کوشش کرے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کوئی شخص اپنے حالات کے تقاضوں سے اگر اس فیصلہ پر پہنچ ہی گیا ہے کہ ایک بیوی کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے شادی کرے تو یہ تو بہرحال وہ نہ کرے کہ جو کچھ پہلی بیوی کو اس نے دیا ہے اس کو واپس لینے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ اگر اس کو ڈھیروں مال بھی اس نے دیا ہے جب بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے واپس لینے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ خاص کر اس خیال سے اس پر بہتان لگانا کہ اس سے دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے جواز پیدا ہوسکے اور بھی بڑا گناہ اور ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا پیمانِ وفا باندھا، جو ایک نہایت مضبوط میثاق کے تحت اس کے حبالہ عقد میں آئی، جس نے اپنا سب ظاہر و باطن اس کے لیے بےنقاب کردیا اور دونوں نے ایک مدت تک یک جان و دو قالب ہو کر زندگی گزاری، اس سے جب جدائی کی نوبت آئے تو اپنا کھلایا پہنایا اس سے اگلوانے کی کوشش کی جائے یہاں تک کہ اس ذلیل غرض کے لیے اس کو بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بھی بنایا جائے۔ عہدِ نکاح ایک محکم میثاق ہے :۔ یہاں ایک اور چیز بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ فرمایا کہ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا (اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط میثاق لیا ہے) ظاہر ہے کہ ”میثاق غلیظ“ سے مراد یہاں عقد نکاح ہی ہے۔ اس کے سوا کسی اور میثاق کا نہ یہاں کوئی قرینہ ہے نہ اس کی کوئی تاریخی شہادت۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقد نکاح کی ذمہ داوری کو یہاں ”میثاق غلیظ“ سے کیوں تعبیر فرمایا۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ عقد نکاح کی اصلی عرفی اور شرعی حقیقت یہی ہے کہ وہ میاں بیوی کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک مضبوط معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے سے دونوں زندگی بھر کے سنجوگ کے عزم کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے ہیں اور دونوں یکساں طور پر حقوق بھی حاصل کرتے ہیں اور یکساں طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے ہیں اور دونوں یکساں طور پر حقوق بھی حاصل کرتے ہیں اور یکساں طور پر ایک دوسرے کے لیے ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں۔ بظاہر تو اس میثاق کے الفاظ نہایت سادہ اور مختصر ہوتے ہیں لیکن اس کے مضمرات و تضمنات بہت ہیں اور یہ مضمرات و تضمنات ہر مہذب سوسائٹی اور ہر شریعت میں معلوم و معروف ہیں۔ یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ میثاق بندھتا تو ہے میں اور بیوی کے درمیان لیکن اس میں گرہ خدا کے حکم سے لگتی ہے اور جس طرح کلق اس کی گواہ ہوتی ہے اسی طرح خالق بھی اس کا گواہ ہوتا ہے۔ پھر اس کے میثاق غلیظ ہونے میں کیا شبہ رہا ؟ یہاں اس رشتے کو اس لفظ سے تعبیر فرما کر قرآن نے اس کی اصلی عظمت واضح فرمائی ہے کہ مرد کو کسی حال میں بھی یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ بیوی کے ساتھ اس کا تعلق کچے دھاگے سے نہیں بندھا ہے بلکہ یہ رشتہ نہایت محکم رشتہ ہے اور اس کے تحت جس طرح مرد کے حقوق ہیں اسی طرح بیوی کے بھی حقوق ہیں جن سے مرد کے لیے فرار کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر وہ ان سے بھاگنے کی کوشش کرے گا تو اپنی فتوت کو بھی رسوا کرے گا اور اپنے خدا کو بھی ناراض کرے گا۔