4. Surah An-Nisaa
النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف و مضامین سورة نساء الف۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق : یہ سورة اپنی سابق سورة ، آل عمران کے بعد اس طرح شروع ہوگئی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہوجاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آل عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ جس اہم مضمون پر آل عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورة نساء کی تمہید استوار ہوئی ہے۔ گویا آل عمران کی آخری آیت يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفردی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورة کو دیکھئے تو اسی اتَّقُوا اللّٰهَ کے مضمون سے شروع ہوگئی ہے۔ (یا ایہا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ (سابق اور لاحق سورة میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جو اپنے مواقع پر بیان ہوں گی) ثابت قدمی، بالخصوص اجتماعی ثابت قدمی، بغیر مضبوط جماعتی اتصال کے ممکن نہیں ہے اور جماعتی اتصال کوئی اتفاق سے پیدا ہوجانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بنیاد کا بھی محتاج ہے، مثبت تدابیر کا بھی متقاضی ہے اور اس کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کو درہم برہم کرسکتے ہوں۔ چناچہ اس سورة میں وہ ساری چیزیں بیان ہوئیں جو اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے اور اس کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ اس سورة کے مطالب پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اس کا آغاز اس حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ مرد اور عورت سب کا خالق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے، اسی نے سب کو ایک آدم و حوا سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے خدا اور رحم سب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس کے بعد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور عناصر یتیموں اور عورتوں کے حقوق معین فرمائے ہیں اور ان کو ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ پھر اسی تعلق سے وراثت کی تقسیم سے متعلق قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ پھر مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض پر زور دیتے ہوئے اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت پر سب کو مجتمع و متفق رہنے کی تاکید فرمائی، اس لیے کہ اسی چیز پر اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ منافقین کی قلعی کھولی ہے جو اسلامی معاشرے کے اندر ناسور کی حیثیت رکھتے اور مسلمانوں کے اندر ان کے دشمنوں، یہود و نصاری کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس روشنی میں غور کیجئے تو اس سورة میں گویا اس ارتباط باہمی کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں جس کی ہدایت پر سابق سورة ختم ہوئی تھی۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : یہ سورة کے عمود اور ماسبق سورة کے ساتھ اس کے تعلق کی طرف ایک اجمالی اشارہ تھا۔ اب ہم اس کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں تاکہ پوری سورة کے مضامین پر ایک سرسری نگاہ پڑجائے۔ (آیات 1 تا 6) ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی ہدایت جس نے سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ تمام مرد اور تمام عورتیں ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں اس وجہ سے خدا اور رشتہ رحم کا احترام ملحوظ رکھیں۔ انہی دو بنیادوں پر اسلامی معاشرہ کی عمارت قائم ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اور اس بات کی ممانعت کہ زور آور سرپرست اپنے رشتہ دار یتیموں کے اچھے مال اپنے برے مال سے بدلنے یا اپنے مال کے ساتھ ملا کر اس کو ہڑپ کرنے کی تدبیریں کریں۔ یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے نقطہ نظر سے ان کی ماؤں سے نکاح کی اجازت اور اس کے لیے چار تک کی قید، عدل اور ادائے مہر کے شرائط کے ساتھ تعدد ازواج کی رخصت۔ سرپرستوں کو اس بات کی ہدایت کہ وہ اس وقت تک یتیموں کے مال و جائداد ان کے حوالہ نہ کریں جب تک ان کے اندر معاملات کا سوجھ بوجھ نہ پیدا ہوجائے لیکن اس دوران میں ان کی ضروریات اور ان کی دلداری کا پورا خیال رکھیں۔ جب ان میں معاملات کی سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے تو ان کا مال ان کے حوالہ کردیا جائے۔ اس تولیت کے دوران میں اگر کوئی سرپرست غریب ہو تو یتیم کے مال میں سے بقدر کفاف لے سکتا ہے لیکن اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ یتیم کے بڑے ہوجانے کے اندیشے سے اس کے بڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی ساری املاک و جائداد ٹھکانے لگا دینے کی کوشش کرے۔ (7 تا 14) ۔ تقسیم وراثت کے ضابطے کی تفصیل تاکہ ضعیف و قوی سب کے حقوق معین ہوجائیں اور معاشرے میں ظلم و حق تلفی اور نزاع و مخاصمت کے دروازے بند ہوجائیں۔ (15 تا 18) ۔ معاشرے کو فواحش سے پاک رکھنے کے لیے ایک ابتدائی حکم اور اس کے تعلق سے اس امر کی وضاحت کہ کن لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے، کن کی نہیں ؟ (19 تا 21) ۔ اس امر کا بیان کہ عورت مال وراثت نہیں ہے کہ باپ کی منکوحہ بیٹے کو وراثت میں ملے۔ عورتوں سے اپنا دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ایک عورت کو چھوڑنا اور دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو محض مال اینٹھنے کے لیے پہلی کو تہمت اور بہتان کا ہدف نہ بنائے۔ (22 تا 25) ۔ باپ کی منکوحہ کے ساتھ بیٹے کو نکاح کی ممانعت اور ان عورتوں کی تفصیل جن کے ساتھ نکاح ناجائز ہے۔ نیز شرائط نکاح کا بیان تاکہ معاشرہ بدکاری و بےحیائی اور ظلم و زیادتی کے مفاسد سے پاک رہے۔ جو لوگ اس وقت آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کو مسلمان لونڈیوں سے بعض شرائط کے ساتھ نکاح کی اجازت اور قید نکاح میں آجانے کے بعد اگر ان لونڈیوں سے بدکاری کا صدور ہو تو ان کے لیے تعزیر کا ضابطہ۔ (26 تا 28) ۔ مسلمانوں کو آگاہی کہ اللہ تعالیٰ ان احکام و ہدایات کے ذڑیعے سے تمہاری رہنمائی ایمان و وعمل صالح اور توبہ و اصلاح کی اس شاہ راہ کی طرف فرما رہا ہے جو اس نے ہمیشہ سے اپنے صالح بندوں کے لیے پسند فرمائی ہے۔ ان احکام و ہدایات میں اس نے وہ سہولت بھی ملحوط رکھی ہے جو لوگوں کی طبعی کمزوری کے پیش نظر ضروری تھی تو خبردار ان نفس پرستوں کے ورغلانے میں نہ آجانا جو تمہیں پاکیزگی کی اس شاہ راہ سے ہٹا کر شہوات کی وادیوں میں بھٹکا دینے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔ (29 تا 31) ۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مال ناجائز و ذرائع سے کھانے اور ایک دوسرے کا خون بہانے کی ممانعت۔ خدا رحیم ہے اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحیم ہوں جو لوگ معاشرے میں ظلم وعدوان کی تخم ریزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے۔ البتہ جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ (32 تا 33) ۔ شریعت میں عورت اور مرد دونوں کے لیے جو حدود و حقوق معین کردئیے گئے ہیں سب ان کے اندر رہیں۔ اپنے اپنے حدود کے اندر ہر ایک خدا کے ہاں اپنی محنت کا اجر پائے گا۔ اس لیے ایک دوسرے کی ریس اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خدا نے حقوق بھی معین فرم ادئیے ہیں اور فرائض بھی اور وہ سب کو دیکھ بھی رہا ہے۔ (34 تا 35) ۔ خاندان اور معاشرے میں سربراہی اور قوامیت کا مقام مرد کو حاصل ہے۔ اپنی خلقی صفات اور کفالتی ذمہ داریوں کے لحاظ سے وہی اس کے لیے موزوں ہے۔ نیک بیبیاں اس حق کا احترام کرتی ہیں۔ جن عورتوں سے سرکشی کا اندیشہ ہو ان کو ان کے شوہر نصیحت کریں اور اگر ضرورت محسوس کریں تو ایک حد مناسب تک ان کو تنبیہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر محسوس ہو کہ فریقین کے اختلاف کی نوعیت کچھ زیادہ شدید ہے تو اس کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جائے کہ میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک پنچ مقرر کردیا جائے، جو حالات کی اصلاح کی کوشش کریں۔ (36 تا 40) ۔ خدا، والدین، اقربا، یتامی، مسا کی، پڑوسی (عام اس سے کہ قرابت مند ہو یا غیر قرابت مند، مستقل ہو یا عارضی اور وقتی) مسافر اور غلام، سب کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے کی تاکید، خدا کو وہی بندے پسند ہیں جو متواضع اور نرم مزاج ہوں، وہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اکڑنے والے، فخر کرنے والے، بخیل اور بخل کا مشورہ دینے والے ہوں، جو اول تو ادائے حقوق میں خرچ ہی نہ کریں اور اگر کریں تو محض ریا و نمائش کے لیے ادائے حقوق اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے گھاٹے میں رہنے والے نہیں۔ ان کے لیے خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔ (41 ۔ 42) ۔ ان لوگوں کے حال پر اظہار افسوس جو آخرت سے بالکل بےپروا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے ہوئے تھے، ایمان و عمل صالح کی صحیح راہ خود اختیار کرتے تھے نہ دوسروں کو اختیار کرنے دینا چاہتے تھے۔ْ (43 ۔ 45) ۔ خدا کے سب سے بڑے حق، نماز کے بعض آداب و شرائط اور اس کے بعض مفسدات کا بیان اور ان مفسدات کے ازالہ کی تدبیر۔ (46 ۔ 47) ۔ یہود کی بعض شرارتوں کا حوالہ جو وہ اسلام اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی نگاہوں سے گرانے کے لیے کر رہے تھے اور اس شرارت کے آخری نتائج سامنے آنے سے پہلے ان کو توبہ اور اصلاح کی دعوت۔ (48 ۔ 57) ۔ یہود اپنی پاکی و برتری کے جھوٹے دعوے کر کے مسلمانوں کو گرانے کی جو کوشش کر رہے تھے، یہاں تک کہ مشرکین کو بھی ان پر ترجیح دیتے تھے، اس کی تردید کہ یہ ساری باتیں محض ان کے حسد کا نتیجہ ہیں لیکن ان کے حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے نبی خاتم اور ان کی امت کے لیے یہ فیصلہ فرما لیا ہے کہ وہ ان کو کتاب و حکمت اور ایک عظیم حکومت عطا فرمائے گا اور یہ حاسد یہود ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ یہ حکومت گویا اسلام معاشرے کا قدرتی ثمرہ ہے۔ (58 ۔ 59) ۔ مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کہ اب اہل کتاب سے چھین کر شریعت الٰہی کی یہ امانت تمہارے سپرد جو کی جا رہی ہے تو تم یہود کی طرح اس امانت میں خیانت کرنے والے نہ بن جانا بلکہ اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے بننا اور ہر حال میں عدل پر قائم رہنا۔ نیز اللہ اور رسول اور اپنے اولو الامر کی اطاعت کرتے رہنا، نیز اللہ اور رسول اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرتے رہنا، اس کے بغیر اس امانت کی ذمہ داریاں ادا نہیں ہوسکتیں اور اگر کسی امر میں اختلاف واقع ہو تو ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو اللہ ور سول ہی کی طرف لوٹانا تاکہ اس نزاع کا صحیح فیصلہ ہوسکے اور وہ تمہارے شیرازے کو درہم برہم نہ کرنے پائے۔ (60 تا 70) ۔ منافقین کو ملامت کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے میل جول رکھتے ہیں اور اس کو بڑی دانش مندانہ سیاست سمجھتے ہیں حالانکہ اس وقت تک ان کا ایمان ہی معتبر نہیں ہے جب تک وہ پورے طور پر اپنے آپ کو پیغمبر کے حوالہ نہ کردیں اور ہر معاملے میں ان کی اطاعت نہ کریں۔ (77 ۔ 76) ۔ مسلمانوں کو اپنی مدافعت اور دار الکفر میں گھرے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے لیے جہاد کی تاکید۔ ان منافقین کو ملامت جو جہاد سے جی چراتے تھے، مسلمانوں کی ہمتیں پست کرتے تھے، مال غنیمت میں حصہ داری کے تو متمنی و مدعی تھے لیکن خطرہ کوئی بھی مول لینے کے لیے تیار نہ تھے۔ (77 ۔ 80) منافقین کی اس متضاد روش پر ملامت کہ جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کے لیے جہاد کے لیے بڑی بےقراری کا اظہار کرتے تھے لیکن اب کہ جہاد کا حکم دے دیا گیا تو جس طرح خدا سے ڈرنا چاہئے، اس طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اسلام کے دشمنوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ موت سے کہیں بھی مفر نہیں۔ ان کی کج فہمی کا یہ حال کہ اگر کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کو تو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ابتلا پیش آجائے تو اس کو پیغمبر کی بےتدبیری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ خیر و شر سب خدا ہی کی طرف سے ہے البتہ شر جو پیش آتا ہے تو ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جو تمہاری اطاعت کریں وہی درحقیقت خدا کی اطاعت کرنے والے ہیں، جو تمہاری اطاعت سے گریز اختیار کریں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو، تم پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (81 ۔۔ 85) ۔ منافقین کی روش کی مزید تفصیل کہ جب پیغمبر کے سامنے ہوتے ہیں تب تو ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن جب وہاں سے ہٹتے ہیں تو ہر بات میں میں میکھ نکالنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ پیغمبر جو کچھ بھی کہتے ہیں سب خدا ہی کی طرف سے ہے۔ قرآن کی کامل ہم آہنگی شاہد ہے کہ اس میں کوئی چیز بھی غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ پھر منافقین کی اس شرارت کی طرف اشارہ کہ اگر ان کو امن یا خطرے کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو سنسنی پیدا کرنے کے لیے اس کو فوراً پھیلا دیتے ہیں حالانکہ صحیح روش یہ ہے کہ اس کو رسول اور ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ اس پر غور کر کے اس کے تدارک کے لیے صحیح قدم اٹھاتے لیکن یہ مسلمانوں کے دل بٹھانے کے لیے یہ شرارت کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو کسی حق کی تائید میں کوئی کلمہ خیر کہے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کسی حق کی مخالفت میں کلمہ شر زبان سے نکالے گا تو اس کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ (86 ۔ 87) ۔ منافقین کی مزکورہ بالا روش کے باوجود مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ معاشرہ کے اندر ان کو نکّو بنانے کی کوشش نہ کیا جائے بلکہ ظاہری سلوک ان کے ساتھ وہی رکھا جائے جو مسلمانوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ یعنی ان کے ساتھ سلام کلام باقی رکھا جائے۔ (88 ۔۔ 91) ۔ جو منافقین دار الکفر میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کی ساری ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہیں، دار الاسلام کے مسلمانوں کو ان کے ساتھ اس وقت تک دوستی و حمایت کا تعلق پیدا نہیں کرنا چاہئے جب تک وہ دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کر آئیں، اگر وہ ہجرت نہ کریں تو ان کے ساتھ بھی اسی طرح جنگ جائز ہے جس طرح دشمن کے ساتھ۔ اس سے صرف وہ مستثنی ہوں گے جن کا تعلق یا تو کسی ایسی قوم سے ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے یا جن کے متعلق یہ عہم ہے کہ یہ اپنی کمزوری کی وجہ سے نہ تو اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنا چاہے۔ نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنے کی ہمت رکھتے۔ مگر جن کے متعلق معلوم ہے کہ ان کے اوپر خود ان کی قوم کا یا دوسرے کفار کا دباؤ پر جائے گا تو وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں گے تو وہ دشمن ہی کے حکم میں ہیں، ان سے جنگ جائز ہے۔ (92 ۔۔ 94) ۔ دار الحرب میں پڑے ہوئے مسلمانوں کے جان و مال کے احترام سے متعلق بعض احکام۔ (95 ۔۔ 100) ۔ دار الحرب کے مسلمانوں کو ہجرت اور جہاد کی تاید تاکہ وہ کفر کے ماحول سے نکل کر اسلامی معاشرہ میں آئیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو قوت بہم پہنچائیں۔ (101 ۔۔ 104) ۔ جہاد کے لیے ہر وقت مستعد رہنے کے حکم کے تعلق سے خطرے کی حالت میں نماز کا طریقہ۔ (105 ۔۔ 126) ۔ ان مسلمانوں کو تنبیہ جو کھلے ہوئے منافقین کے معاملے میں بھی مداہنت برتتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی طرف سے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ فرمایا کہ پیغمبر کے خلاف منافقین کی سرگوشیاں اور سرگرمیاں اور اسلام کی راہ چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرنے کی کوشش کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔ یہ چیز اپنی فطرت کے لحاظ سے شرک ہے اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف فرمانے والا نہیں ہے۔ خدا کے ہاں جھوٹی آرزوئیں کام آنے والی نہیں ہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کام آنے والا ہے۔ (127 ۔۔ 130) ۔ ابتدائے سورة میں جو احکام، یتیموں، ان کی ماؤں اور عورتوں سے متعلق بیان ہوئے ان کے متعلق بعد میں پیدا ہونے والے بعض سوالوں کے جواب۔ (131 ۔۔ 147) ۔ مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ اس بات کی تاکید کہ جو کچھ حکم دیا جا رہا ہے اس پر بےچون و چرا عمل کرو، اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ اختیار کرو اور منافقین کی کفر دوستی سے پوری شدت کے ساتھ اظہار بیزاری اور یہ تنبیہ کہ منافقین اور کفار دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (148 ۔۔ 149) ۔ مسلمانوں کو اس بات کی نصیحت کہ ہرچند منافقین ہر ملامت کے سزا وار ہیں لیکن بےضرورت بد زبانی و سخت کلامی ان کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ (150 ۔۔ 162) ۔ اہل کتاب بالخصوص یہود کو، جو اس مرحلے میں طرح طرح کی سازشوں اور مختلف قسم کے اعتراضات سے مخالفت کے محاذ کو تقویت پہنچا رہے تھے سرزنش اور ان کے اعتراضات کے جواب (163 ۔۔ 175) ۔ قرآنی دعوت کے مرتبہ و مقام کی وضاحت اور اہل کتاب بالخصوص نصاری کو دعوت و نصیحت کہ اس روشنی کی، جو اللہ نے اتاری ہے، قدر کریں اور اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتے نہ پھریں۔ (176) ۔ ایک آیت مبینہ جو شروع میں بیان کردہ احکام کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی۔ مذکورہ بالا تجزیے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ آیت 40 تک تو معاشرہ سے متعلق احکام وقوانین بیان ہوئے ہیں اور ضمناً کہیں کہیں اس ردّ عمل کی طرف بھی اشارہ ہوگیا ہے جو ان احکام کا کا مخالفین پر ہوا لیکن آیت 40 کے بعد کلام کا رخ بالتدریج اسلامی نظام حکومت کی اساسات کی وضاحت اور اسلام کے مخالفین کی طرف مڑ گیا ہے اور اس رویے پر تفصل کے ساتھ تنقید کی گئی ہے جو اس نظام حق کی مزاحمت کے لیے اہل کتاب اور منافقین نے اختیار کیا۔ منافقین اس میں خاص طور پر زد میں آئے ہیں۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے سورة کے دیباچہ میں ظاہر کی، یہ ہے کہ معاشرے اور حکومت کے استحکام کے نقطہ نظر سے اس مار آستین گروہ کی بیخ کنی ضروری تھی۔ قرآن مجید کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ یہ صرف فقہی احکام کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ دعوت کا صحیفہ بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے اس رد عمل سے تعرض ناگزیر ہے جس سے ان احکام کی تعلیم کے دوران میں سابقہ پیش آیا۔ چناچہ قرآن ہر جگہ ان احکام کے پہلو بہ پہلو ان حالات بھی بحث کرتا ہے جو مخالفین نے اس وقت بالواسطہ یا بلا واسطہ پیدا کیے اور ان سے بحث کرنا تعلیم و دعوت کے نقطہ نظر سے نہایت ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ قرآن کی اس خصوصیت سے واقف نہیں ہیں وہ اس بات سے حیران ہوتے ہیں کہ ان فقہی احکام کے ساتھ منافقین و معاندین کے اس تفصیلی ذکر کا کیا موقع تھا۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader
اے لوگو، اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہمدگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے۔ بیشک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے
وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader
اور یتیموں کے مال ان کے حوالہ کرو، نہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے بدلو اور نہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈ مڈ کر کے اس کو ہڑپ کرو، بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے
وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرلو اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کرسکو گے تو ایک پر بس کرو یا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری ملک میں ہو۔ یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader
اور ان عورتوں کو ان کے مہر دو مہر کی حیثیت سے، پس اگر وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو کھاؤ کہ وہ تمہیں راس اور ساز گار ہے
وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader
اور تم وہ مال جس کو خدا نے تمہارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے، نادان یتیموں کے حوالہ نہ کرو، ہاں اس سے ان کو فراغت کے ساتھ کھلاؤ، پہناؤ اور دستور کے موافق ان کی دلداری کرتے رہو
وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader
اور ان یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اسراف اور جلد بازی کرکے ان کا مال ہڑپ نہ کرو اور جو غنی ہو اس کو چاہئے کہ وہ پرہیز کرے اور جو محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اس سے فائدہ اٹھائے پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو، ویسے اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader
والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک مقررہ حصہ
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader
اور اگر تقسیم کے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آموجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے دستور کے مطابق بات کرو
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader
ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے جو اپنے پیچھے اگر ناتواں بچے چھورتے تو ان کے معاملہ میں بہت اندیشہ ناک ہوتے پس انہیں چاہئیے کہ اللہ سے دریں اور سیدھی بات زبان سے نکالیں
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader
جو لوگ ظلم و ناانصافی سے یتیموں کے مال ہڑپ کر رہے ہیں وہ تو بس اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader
اللہ تمہاری اولاد کے باب میں تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے جو مورچ نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اسکے اولاد نہ وہ اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اس کے بھائی بہنیں ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کرجاتا ہے تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمہارے لیے سب سے زیادہ نافع کو ہوگا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بیشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے
وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader
اور تمہارے لیے اس ترکے کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں، اگر ان کے اولاد نہیں اور اگر ان کے اولاد تو ان کے ترکے میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے۔ بعد اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کرجائیں۔ اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے کا، اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے بعد جو تم کر جاؤ۔ اور اکگر کسی مرد یا عورت کی واراثت اس حال میں تقسیم ہو کہ نہ اس کے اصول میں کوئی ہو، نہ فروع میں، اور ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹٓ حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد، بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔ یہ اللہ کی طرف سے وصیت ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader
یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اس کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں گے، ان کو ایسی آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں رہیں گے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader
اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں کے اندر محبوس کردو، یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کرے یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader
اور جو دونوں تم میں سے اس بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو ایذا پہنچاؤ، پس اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader
اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انہی کے لیے ہے جو جہالت سے مغلوب ہو کر برائی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں، وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader
اور ان لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو برابر برائی کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولا کہ اب میں نے توبہ کرلی اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر ہی پر مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader
اے ایمان والو، تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان کے ساتھ معقول طریقے کا برتاؤ کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کردے
وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کر کے اس کو لوگے ؟
وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader
اور کس طرح اس کو لو گے جب کہ تم ایک دوسرے کے آگے بےحجاب ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے