4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو، مگر جو کچھ ہوچکا، بیشک یہ کھلی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا۔ مقت اور ممقوت، مبغوض اور نفرت انگیز شے یا فعل کو کہتے ہیں۔ باپ کی منکوحہ سے نکاح کے لیے زواج المقت کی تعبیر مشہور رہی ہے۔ اسی طرح اس شخص کو مقتی کہتے تھے جو اس فعلِ شنیع کا مرتکب ہوا ہو۔ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا کہ اس کو بنیاد قرار دے کر تمام پچھلے رشتوں کی تحقیق ہو اور اس کی روشنی میں جائش و ناجائز کے احکام صادر ہوں۔ یہ چیز عملاً ناممکن ہے۔ قانون اپنی فطرت ہی سے ایک ایسی چیز ہے کہ اس کا نفاذ حاضر و مستقبل ہی پر ہو۔ چناچہ ماضی سے درگزر کر کے ان برائیوں کی اصلاح کردی گئی جو بالفعل موجود تھیں اور آئندہ کے لیے اس بےحیائی کا سدِ باب کردیا گیا۔ زواج المقت :۔ آیت 19 کے تحت گزر چکا ہے کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ باپ کی منکوحات بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے ان سے زن و شو کے تعلقات قائم کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں محسوس کرتے تھے۔ اس آیت نے اس فعلِ شنیع کی حتمی ممانعت کردی۔ فرمایا کہ یہ فعل کھلی ہوئی بےحیائی و بدکاری، نہایت مبغوض اور نہایت برا رواج ہے۔ مخصوص طبقات کی برائیوں کا ذکر صیغہ عام سے :۔ یہ بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ اس قسم کی برائیوں اور بےحیائیوں کا ذکر قرآن میں عام صیغے سے جو آتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس میں لازماً پوری قوم مبتلا تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ برائی کسی خاص طبقے کے اندر محدود ہوتی ہے لیکن اس سے متعلق قانون چونکہ سب پر حاوی ہوتا ہے اس سے خطاب عام ہوتا ہے۔ یہاں اس برائی کے لیے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ خود شاہد ہیں کہ اس کا کھلی ہوئی بےحیائی اور مبغوض ہونا عرب کے شرفا کو بھی معلوم تھا۔ فصل 10:۔ آگے کا مضمون۔۔۔ آیات 23۔ 25۔ باپ کی منکوحات کے ساتھ نکاح کی ممانعت نے عورتوں میں جو حلال و حرام ہیں ان کے بیان کے لیے راہ ہموار کردی تاکہ اس پہلو سے معاشرے میں جو گندگیاں اور ناانصافیاں ہیں وہ واضح ہو کر سامنے آجائیں اور ان کی اصلاح ہو سکے۔ فرمایا
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری ساسیں اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلیں اور تمہاری مدخولہ بیویوں سے ہوں، اگر وہ تمہاری مدخولہ نہ رہی ہوں تو کچھ گناہ نہیں، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرو مگر جو گزر چکا۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا۔ اس آیت میں جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں وہ انسانی فطرت کے اس تقاضے پر مبنی ہیں کہ جہاں رحمی رشتے کی قربت قریبہ موجود ہو یا اس سے مشابہت پائی جاتی ہو وہاں باہمی ارتباط کی بنیاد صرف رحم، محبت اور رافت و شفقت کے اعلی جذبات ہی پر ہونی چاہئے، اس میں نہ تو نفس کی شہوات و رغبات کی کوئی آمیزش ہونی چاہئے نہ رشک و رقابت کو اس میں خلل انداز ہونے کا موقع دینا چاہئے۔ یہ چیز اس فطرت اصلیہ کے خلاف ہے جس پر فاطر کائنات نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس وجہ سے ان تمام عورتوں سے ازدواجی تعلق کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے جن کو بلا واسطہ یا بالواسطہ رحمی قربت قریبہ حاصل ہے۔ رضاعت کے رشتہ کو مادرانہ رشتے سے مشابہت حاصل ہے :۔ رضاعت کے تعلق کو لوگ ہمارے ہاں اس گہرے معنی میں نہیں لیتے جس معنی میں اس کو لوگ عرب میں لیتے تھے۔ اس کا سب محض رواج کا فرق ہے۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اس کو مادرانہ رشتے سے بڑی گہری مناسبت ہے۔ جو بچہ جس ماں کی آغوش میں، اس کی چھاتیوں کے دودھ سے پلتا ہے وہ اس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس کا دودھ اس کے رگ و پے میں جاری وساری ہے اس سے اس کے جذبات و احساسات متاثر نہ ہوں۔ اگر نہ متاثر ہوں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں بلکہ بگاڑ ہے اور اسلام، جو دین فطرت ہے، اس کے لیے ضروری تھا کہ اس بگاڑ کو درست کرے۔ رضاعت کے رشتے نے معاشرہ کے عظیم فائدے پہنچائے :۔ رضاعت کے تعلق کو اس کا صحیح مقام دینے سے معاشرت کو جو فوائد پہنچے ہیں ان کا صحیح اندازہ بھی عام طور پر نہیں کیا جاتا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس رشتے نے گدڑیوں اور چرواہوں کی ماؤں بہنوں کو سرداروں بلکہ تاجداروں کی مائیں بہنیں بنا دیا۔ اس رشتے کی برکت سے دیہاتیوں اور شہریوں، غریبوں اور امیروں کے مابین ایسے روابط قائم ہوگئے جن کو کوئی چیز بھی توڑ نہیں سکتی تھی۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ تعلق مجرد کسی اتفاقی واقعے سے قائم نہیں ہوجاتا۔ قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اس کو بیان کیا ہے، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں بلکہ اہتمام کے ساتھ، ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اس کا اعتبار ہے، اول تو فرمایا ہے ”تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے“۔ پھر اس کے لیے رضاعت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ارضاع جباب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اسی طرح ’ رضاعت ‘ کا لفظ بھی اس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی سے اس کے منہ سے لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔ ربیبہ کس صورت میں حرام ہے :۔ ’ ربیبہ ‘ بیوی کی اس لڑکی کو کہتے ہیں جو اس کے سابق شوہر سے ہو۔ اس کو چونکہ خود اپنی لڑکی سے مشابہت حاصل ہوجاتی ہے اس وجہ سے اس کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ ان لڑکیوں کی حرمت بیان کرتے ہوئے ان کو دو صفتوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ تمہارے آغوش تربیت میں پلی ہیں دوسری یہ کہ وہ تمہاری مدخولہ بیوی کے بطن سے ہیں۔ یہ دونوں صفتیں حرمت کے حکم کو مؤثر بنانے کے لیے مذکور ہوئی ہیں۔ عربی زبان میں ہر صفت کو لازماً قید و شرط کی حیثیت حاصل نہیں ہوجاتی کہ ان میں سے کوئی نہ پائی جائے تو وہ حکم کالعدم ہوجائے بلکہ اس کا انحصار قرینے پر ہوتا ہے۔ قرینہ بتاتا ہے کہ کون سی صفت قید اور شرط کا درجہ رکھتی ہے اور کون سی صفت محض تصویر حال کے لیے ہے۔ یہاں صرف قرینہ ہی نہیں بلکہ تصریح ہے کہ ربیبہ کی ماں اگر تمہاری مدخولہ نہ بنی ہو تو اس ربیبہ سے نکاح میں کوئی قباحت نہیں۔ اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ ربیبہ کی حرمت میں اصل مؤثر چیز اس کی ماں کا مدخولہ ہونا ہے۔ اگر وہ مدخولہ ہے تو اس کی لڑکی سے نکاح ناجائز ہوگا، قطع نظر اس سے کہ وہ آغوش تربیت میں پلی ہے یا نہیں۔ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اعلی عربی بالخصوص قرآن حکیم میں اثبات کے بعد نفی کے اسلوب یا نفی کے بعد اثبات کے اسلوب میں جو باتیں بیان ہوتی ہیں وہ محض سخن گسترانہ نہیں ہوتیں بلکہ کسی خاص فائدے کے لیے ہوتی ہیں۔ ان سے مقصود اکثر صورتوں میں رفع ابہام ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا خیال قرآن کے خلاف ہے جو ربیبہ کے ساتھ نکاح صرف اس صورت میں حرام سمجھتے ہیں جب وہ نکاح کرنے والے کے آغوش میں تربیت میں پلی ہو۔ بصورتِ دیگر وہ اس کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھتے ہیں۔ جمع بین الاختین کی ممانعت کی علت :۔ جمع بین الاختین کی ممانعت بھی اسی اصول حکمت پر مبنی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ قرآن حکیم انسانی فطرت کے اس تقاضے کو ابھارنا چاہتا ہے کہ جہاں باہمی ارتباط کی فطری بنیاد رافت و رحمت ہی ہونی چاہئے۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان اسباب کو دبا دیا جائے جو رحمی رشتوں کے اندر رشک و رقابت کا زہر گھولنے والے ہوں۔ چونکہ دو بہنوں کے بیک وقت کسی کی قید نکاح میں ہونے کی صورت میں اس کا غالب امکان ہے کہ دو بہنیں، بہنیں ہوتے ہوئے بھی، سوکنوں کے جلاپے اور رشک و رقابت کے جذبات میں مبتلا ہوجائیں اس وجہ سے اس کا دروازہ بند کردیا گیا۔ چونکہ یہی صورت خالہ اور بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی کے جمع کرنے کی شکل میں بھی موجود تھی۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے، جیسا کہ حدیثوں سے واضح ہے، ان کے جمع کرنے کی بھی ممانعت فرما دی۔ صلبی اور متبنی بیٹوں کی بیویں کے معاملے میں قرآن نے جو فرق کیا ہے اس پر تفصیلی بحث کے لیے موزوں مقام سورة احزاب میں آئے گا۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ بیٹوں کے ساتھ مِن اَصلابِکُم کی قید نے متبنی بیٹوں کی بیویوں کو اس حکم سے خارج کردیا۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو قید نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ تمہاری ملک یمین بن جائیں۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے۔ ان کے ماسوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں، اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو، ان کو قید نکاح میں لے کر، نہ بدکاری کے طور پر۔ پس ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہو تو ان کو ان کے مہر دو ، فریضہ کی حیثیت سے، مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ علیم و حکیم ہے

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ ۭ فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِيْضَةً ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ ’ احصان ‘ کا مفہوم :۔ احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظ و حمایت میں لینے کے بھی ہیں اور کسی کی حفاظت و حمایت میں ہونے کے بھی۔ اسی سے ’ محصنات ‘ کا لفظ ہے جو ان عورتوں کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی کی قید نکاح میں ہوں۔ نیز یہ لونڈیوں کے مقابل لفظ کی حیثیت سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اطلاق حرائر اور شریف زادیوں پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ ان دونوں ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں پہلے معنی میں، بعد والی آیت میں دوسرے مفہوم میں۔ ’ سفح ‘ اور ’ مسافحت ‘ کا مفہوم :۔ سفح کے لغوی معنی بہانے کے ہیں۔ اسی سے مسافحت ہے جس کے معنی عیاشی اور بدکاری کے ہیں اس لیے کہ اس میں بھی عورت اور مرد دونوں محض تلذذ کو مقصد قرار دے کر اپنا مادہ منی برباد کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سابق الذکر محرمات کی فہرست میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو کسی کی قید نکاح میں ہوں اس لیے کہ کوئی عورت بیک وقت دو مردوں کی زوجیت میں نہیں ہوسکتی۔ صرف ملک یمین اس سے مستثنی ہے، اس کا کسی کی ملکیت میں آجانا ہی اس کے سابق نکاح کو، جو دار الحرب میں ہوا، کالعدم قرار دے دیتا ہے۔ نکاح کے لیے دو بنیادی شرطیں :۔ ان عورتوں کے ماسوا عورتوں سے نکاح جائز ہے مگر اس کے ساتھ دو شرطیں ہیں اور یہ دونوں شرطیں بیک وقت مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ نکاح مال یعنی مہر کے ساتھ ہو۔ دوسری یہ کہ اس نکاح سے مقصود عورت کو اپنی حمایت و حفاظت میں لینا ہو نہ کہ وقتی طور پر شہوت رانی کر کے محض ہیجان نفس کو تسکین دے لینا۔ مہر کی شرط کا اصلی مقصد :۔ مال اور مہر کی شرط لگانے سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ عورتوں کے معاملے میں اکراہ یا توارث کے ان امکانات کا بالکل سدِّ باب ہوجائے جن کی طرف اوپر اشارہ گزرا۔ ہرچند اس کا بہت کچھ سدباب رحمی رشتوں کو حرام قرار دینے سے بھی ہوگیا تھا لیکن اس شرط نے اس کو اور بھی مسدود کردیا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ نکاح کے معاملے کو ایک سنجیدہ معاہدے کی حیثیت حاصل ہوجائے، اس کو لڑکوں کا کھیل نہ بنایا جاسکے۔ جس معاملے کے ساتھ ادائے مال کی شرط لگی ہو اور اس ادائے مال کی حیثیت محض ایک تبرّع اور احسان کی نہ ہو بلکہ ایک فریضہ کی ہو، یہاں تک کہ اگر وہ مذکورہ نہ بھی ہو جب بھی لازماً مضمر سمجھا جائے اور عورت کی حیثیت عرفی کے اعتبار سے اس کی ادائیگی واجب قرار پائے، شرعاً و عرفاً ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔ کوئی بھی ذی ہوش آدمی ایسے معاہدے میں ایک پارٹی بننے کی جرات نہ کرے گا جب تک وہ سو بار سوچ کر اس میں شرکت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرے۔ ان مصالح سے مہر کی شرط ضروری ہوئی۔ جن لوگوں کی نظر ان مصالح کی طرف نہیں گئی وہ سمجھتے ہیں کہ اس شرط نے عورت کو ایک خریدنی و فروختنی شے کے درجے تک گرا دیا ہے۔ یہ خیال محض ناسمجھی کا نتیجہ ہے۔ یہ شرط تو ایک آگاہی ہے کہ جو بھی عورت کے حرم میں قدم رکھنا چاہے وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم رکھے۔ نکاح و طلاق کے معاملے میں کسی مذاق کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں مذاق بھی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ع۔ ہشدار کہ رہ بردم تیغ است قدم را۔ احصان کی شرط متعہ کی نفی ہے :۔ ’ احصان ‘ کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ نکاح کو ’ سفاح ‘ سے ممیز کردیا جائے۔ نکاح کا اصل مقصد اسی شکل میں پورا ہوتا ہے جب اس کے ساتھ ’ احصان ‘ پایا جائے۔ یعنی ایک مرد ایک عورت کو سنجیدہ ارادے اور زندگی بھر کے سنجوگ کے عزم کے ساتھ اپنی حفاظت و حمایت میں لے اور عورت اسی شعور و ارادے کے ساتھ اس کے حصن حمایت میں داخل ہو۔ اس احصان کے بغیر عورت اور مرد کے تعلق سے وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا جو قدرت نے اس سے پورا کرنا چاہا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے ایک وقتی اور عارضی تعلق پیدا کرتا ہے تو گو اس کے لیے اس نے نکاح کی رسم بھی پوری کی ہو اور اس کو مال بھی دیا ہو لیکن یہ احصان نہیں ہوا۔ یہ محض پیشاب کرنے کے لیے ایک پیشاب خانہ تلاش کیا گیا ہے جس سے مقصود محض وقتی طور پر مثانے کے بوجھ کو ہلکا کرلینا ہے۔ قرآن نے یہ شرط لگا کر متعہ کے اس مکروہ رواج کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا جو جاہلیت میں رائج تھا۔ آگے فرمایا کہ مقرر شدہ مہر ایک فریضہ کی حیثیت سے ادا کیا جائے۔ البتہ مہر کے مقرر کرنے کے بعد میاں بیوی باہمی رضامندی سے اگر اس میں کوئی کمی بیشی کرلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر میں علیم و حکیم کی صفات کا حوالہ اس قانون کی عظمت اور حکمت کے اظہار کے لیے ہے کہ جس نے یہ قانون اتارا ہے وہ علیم و حکیم ہے اس وجہ سے اس کی ہر بات بےخطا علم اور اتھاہ حکمت پر مبنی ہے۔ دوسروں کے لیے نہ یہ جائز ہے کہ اس کی خلاف ورزی کریں، نہ یہ جائز ہے کہ اس میں ترمیم و اصلاح کی کوشش کریں۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو تم میں سے آزاد مومنات سے نکاح کرنے کی مقدرت نہ رکھتا ہو تو وہ مومنہ کنیزوں میں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں ان سے نکاح کرے اور اللہ تمہارے ایمان سے خوب باخبر ہے۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو۔ سو ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو۔ اور دستور کے مطابق ان کو ان کے مہر دو۔ ان کو قید نکاح میں لا کر نہ کہ بدکاری کرنے والیاں اور آشنائی گانٹھنے والیاں ہوں۔ پس جب وہ قید نکاح میں آجائیں تو اگر وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو آزاد عورتوں کے لیے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اجازت تم میں سے ان کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہو اور یہ کہ تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے

وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِكُمْ ۭ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ ۭ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ :۔ ’ طول ‘ کے معنی قدرت، غنیٰ اور فضل کے ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِكُمْ ، یعنی عز و شرف کی اصلی بنیاد ایمان پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک عورت لونڈی ہوتے ہوئے اپنے ایمان کے اعتبار سے بڑے بڑے شریف زادوں اور شریف زادیوں پر فوقیت حاصل کرے۔ اس وجہ سے مجرد اس خیال کی بناء پر کہ ایک عورت لونڈی ہے اس کے اندر شرف کے امکان کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اور ایمان ایک ایسی چیز ہے جس کے ناپنے اور تولنے کا حقیقی پیمانہ اللہ ہی کے پاس ہے، دوسرے اس کا صحیح صحیح اندازہ نہیں کرسکتے۔ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لونڈی اور غلام ہونا تو ایک حالت عارضی ہے۔ نسل کے اعتبار سے تو جتنے غلام اور آزاد اور جتنی بانویں اور باندیاں ہیں سب ایک ہی آدم اور ایک ہی حوّا کی نسل سے ہیں۔ لفظ ’ فاحشۃ ‘ کی تنکیر :۔ ’ فاحشۃ ‘ سے مراد زنا ہے۔ اس کی تنکیر اظہار کراہت و نفرت کے لیے ہے جیسا کہ اسی سورة کی آیت 47 میں ’ نطمس وجوھا ‘ آیا ہے، وہاں ہم اس نکرہ کی وضاحت کریں گے۔ ’ عنت ‘ کے معنی زحمت و مشقت کے ہیں لیکن اس کا استعمال ایسی زحمتوں اور مشقتوں کے لیے ہوتا ہے جو آدمی کے لیے وجہ ابتلا اور مزلّہ قدم بن جائیں۔ دوسرے مالکوں کی لونڈیوں سے نکاح کی اجازت احتیاط کے ساتھ :۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی شریف زادی سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا تو وہ کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے۔ عزت و شرافت کی اصل بنیاد ایمان ہے اور ایمان کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ جہاں تک جنس و نسل کا تعلق ہے، اس اعتبار سے سب ایک ہی ہیں اسلیے کہ سب ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ پس لونڈی سے نکاح میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ یہ شرط ہے کہ یہ نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے ہو اور ان لونڈیوں کو دستور کے مطابق مہر دیا جائے۔ نیز یہ لونڈیاں بھی قید احصان کی پابند ہو کر رہیں محض وقتی تلذذ اور یاری آشنائی پیش نظر نہ ہو۔ اس قید احصان میں آجانے کے بعد اگر یہ زنا کی مرتکب ہوں تو سورة میں جو سزا شریف زادیوں کے لیے بیان ہوئی ہے یعنی سو کوڑے، اس کی نصف سزا ان کو بھی دی جائے گی۔ آخر میں فرمایا کہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے یہ اجازت ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ اندیشہ ہو کہ اگر انہوں نے کہیں نکاح نہ کیا تو وہ مبتلائے معصیت ہوجائیں گے۔ جو لوگ اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکتے ہوں ان کے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اسلامی معاشرہ میں لونڈیوں اور غلاموں درجہ :۔ یہ خیال ہم اس سے پہلے کئی مقامات میں ظاہر کرچکے ہیں کہ غلام اور لونڈیاں اسلام کے اپنے نظام معاشرت کا کوئی جزو نہیں ہیں بلکہ یہ چیز اس وقت کے بین الاقوامی حالات اور اسیرانِ جنگ کے مسئلے کے ایک حل کی حیثیت سے پہلے سے موجود تھی جس کو اسلام نے گوارا کرلیا۔ اسلام اس کو اگر یک طرفہ طور پر اپنے ہاں ختم کردیتا تو اس سے مسلمانوں کے معاشرے کے اندر بھی نہایت سخت قسم کی افراتفری پھیل جانے کا اندیشہ تھا اور دشمن قومیں بھی اس سے غلط قسم کا فائدہ اٹھا سکتی تھیں۔ اس کو مکمل طور پر ختم کردینے کے لیے ضروری تھا کہ پہلے بین الاقوامی سطح پر لوگوں کے اندر انسانی مساوات کا شعور بیدار ہو۔ چناچہ اسلام نے خود اپنے نظام میں ایسے قواعد و ضوابط رکھ دیے جن سے اس پست حال طبقہ سے متعلق لوگوں کے اندر انسانی مساوات کا شعور بھی بیدار ہو اور بالتدریج یہ ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے اتنا بلند ہوجائے کہ اسلامی معاشرے ٰمیں اپنا صحیح مقام حاصل کرلے۔ غلاموں اور لونڈیوں کا درجہ اونچا کرنے کے بعض احکام :۔ مکاتَب اور ام الولد وغیرہ کے مسئلے پر ہم دوسرے مقام پر بحث کرتے ہوئے لکھ چکے ہیں کہ اس طرح اسلام نے تمام ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی ایک نہایت کشادہ راہ کھول دی تھی۔ اب اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں اس پست حال طبقہ کے بلند کرنے کے لیے نہایت اہم حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو یاد دلا ہے کہ عزت و شرف کی بنیاد اسلام پر ہے اور یہ چیز ایسی ہے کہ جس طرح ایک آزاد اس سے بہرہ ور ہوسکتا ہے اسی طرح ایک غلام بھی ہوسکتا ہے۔ رہا نسل و نسب کا معاملہ تو اس اعتبار سے آزاد و غلام بلکہ تمام انسان برابر ہیں۔ پھر یہ حقیر کیوں سمجھے جائیں ؟ دوسری چیز یہ ہے کہ لونڈیوں کے لیے بھی مہر اور احصان کی وہی شرطیں مقرر ہوئیں جو آزاد عورتوں کے لیے تھیں تاکہ سوسائٹی کے اندر ان کا معیار اونچا ہو۔ ارتکاب زنا کی صورت میں ان کے لیے بھی سزا مقرر ہوئی تاکہ بالتدریج ان کا اخلاقی معیار سوسائٹی کے معیار پر آجائے۔ سزا میں ان کے لیے آزاد عورتوں کے بالمقابل جو رعایت رکھی گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو وہ تحفظ حاصل نہیں تھا جو قدرتی طور پر خاندانی عورتوں کو حاصل تھا۔ دوسرے مالکوں کی لونڈیوں کے ساتھ مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دی گئی اور اس سے بھی مقصود لونڈیوں کے معاشرتی معیار کو اونچا کرنا تھا لیکن چونکہ اس صورت میں حقوق ملکیّت اور حقوق نکاح میں تصادم کے اندیشے تھے اس وجہ سے اس طرح کے نکاح میں احتیاط کی تاکید فرمائی گئی۔ رجم کی سزا کا ماخذ :۔ اس آیت کے تعلق سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیت سورة نور کی بیان کردہ حد زنا کو ہر قسم کے زانیوں کے لیے، شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، عام کردیتی ہے تو زنا کے لیے رجم کی سزا کا ماخذ کیا ہے ؟ اس سوال پر انشاء اللہ ہم سورة مائدہ اور سورة نور میں بحث کریں گے۔
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم پر اپنی آیتیں واضح کردے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ علیم و حکیم ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور وہ لوگ جو اپنی شہوات کی پیروی کر رہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ حق سے بالکل ہی بھٹک کر رہ جاؤ

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کمزور بنایا گیا ہے

تفسیر آیات 26 تا 28: فصل 12: آیات 26۔۔۔ 28 کا مضمون : معاشرتی اصلاح سے متعلق احکام و ہدایات کے بیچ میں یہ تین آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی ہیں۔ جن سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو ان احکام کی عظیم قدر و قیمت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ تمہاری طرف تمام انبیاء و صالحین کی وراثت منتقل کر رہا ہے تو اس کی سچے دل سے قدر کرو اور حمت الٰہی کے مستحق بنو، دوسری طرف اس طوفان مخالفت سے آگاہ کرنا ہے جو ان اصلاحات کی مخالفت میں اس مفاد پرست طبقہ کی طرف سے اٹھ رہا تھا جو یتیموں، بیواؤ، کمزوروں اور غلاموں کے حقوق پر غاصبانہ تسلط جمائے بیٹھا تھا اور کسی طرح بھی اپنے اس تسلط سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھا، اس روشنی میں ان آیات کی تلاوت فرمائیے۔ يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ لفظ ’ ارادہ ‘ کا مفہوم : يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوْبَ عَلَيْكُمْ کے اسلوب پر غور کیجیے تو دونوں میں ایک نمایاں فرق نظر آئے گا کہ ایک جگہ یرید کے بعد ’ ل ‘ ہے اور دوسری جگہ ’ اَن ‘ یہ فرق بےفائدہ نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ان دونوں اسلوبوں کے تتبع سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ارادہ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو قطعی فیصلہ اور حتمی ارادہ کے معنی میں، دوسرے چاہنے کے معنی میں۔ جب پہلے معنی مراد ہوتے ہیں تو اس کے بعد ’ ل ‘ آتا ہے اور جب مجرد چاہنے کے معنی میں آتا ہے تو اس کے بعد اَنْ آتا ہے۔ مثلاً ”انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت : اللہ کا ارادہ تو بد یہ ہے، اے اہل بیت نبی ! کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے“ (احزاب :33)۔ ”یرید اللہ لیطھرکم ولیتم نعمتہ علیکم : ارادہ الٰہی یہ ہے کہ تم کو ناپاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کردے“ (مائدہ :6)۔ ”انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا : اللہ تو بس یہ ارادہ کیے ہوئے کہ اس کے ذریعے سے ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب دے“ (توبہ :55)۔ اس اسلوب کی وضاحت کے بعد زیر بحث آیات کے مطلب پر غور فرمائیے۔ پہلے یہ واضح فرمایا کہ اللہ نے اپنے علم و حکمت سے تمہیں اس مقصد کے لیے منتخب فرمایا ہے کہ تمہارے لیے اپنی آیتیں اور اپنے احکام و ہدایات واضح فرمائے اور انبیاء و صالحین کے ذریعے سے ایمان و عمل صالح کی جو راہیں دنیا کے لیے کھولی گئی تھیں اور جواب گم کردی گئی تھیں ان کی تمہیں از سرِ نو ہدایت بخشے تاکہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو اور اللہ تم پر رحمت کی نظر فرمائے۔ اس بات کو ایک فیصلہ الٰہی کی حیثیت سے ظاہر فرمایا ہے اس لیے کہ آخری بعثت کے ذریعہ سے ایک ایسی امت کا برپا کرنا جو پورے دین و شریعت کی حامل اور تمام اولین و آخرین کی وارث ہو پہلے سے اللہ تعالیٰ کی سکیم میں طے تھا اور سابق انبیا نے اس کی خبر بھی دے دی تھی اور اس کا برپا ہونا خدا کے علم و حکمت کا مقتضی بھی تھا اس لیے کہ وہ علیم و حکیم اس بات کو پسند نہیں کرسکتا تھا کہ وہ اپنی پید ا کی ہوئی مخلوق کو یوں ہی گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دے، اس کی ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہ فرمائے۔ اس بات کو ایک حتمی فیصلہ کی حیثیت سے ظاہر کرنے کا مقصد ایک تو مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے دوسرے اسلام کے ان معاندین و مخالفین کی ہمت شکنی جو ان معاشرتی اصلاحات کی وجہ سے، جو اس سورة میں مذکور ہوئی ہیں، جھاڑ کے کانٹے کی طرح مسلمانوں کے پیچھے پڑگئی تھے۔ معاشرتی اصلاحات کو عام طور پر مفاد پرست طبقہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرتا۔ اس وجہ سے یہود و نصار، مشرکین سب میں ان اصلاحات سے ایک آگ سی لگ گئی۔ جنہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ان کی زد ان کے بےلگام آزادیوں اور بےقید شہوت پرستیوں پر پڑ رہی ہے وہ اس ارادے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے کہ ان تمام اصلاحات کو ناکام کر کے خلق خدا کو پھر اسی تاریکی کے گڑھے میں دکیل دیں جس سے نجات دینے کے لیے اسلام نے یہ روشنی دکھائی تھی۔ اسی طرح جن لوگوں نے اپنے اوپر اپنی خود ساختہ شریعتوں اور خانہ ساز رسموں اور رواجوں کے بوجھ لاد رکھے تھے انہوں نے جب دیکھا کہ یہ بوجھ لوگوں کے سر سے اتر رہا ہے اور اصر و اغلال کی غیر فطری بیڑیاں کٹ رہی ہیں تو چیخنے لگے کہ اسلاف کا سارا سرمایہ معرض خطر میں ہے۔ قرآن نے ان سب کے جواب میں مسلمانوں کو بتایا کہ تم ان مخالفوں کی ہفوات کی پروا نہ کرو۔ انبیائے سابقین اور اسلاف صالحین کی اصلی وراثت یہی ہے جو تمہاری طرف منتقل ہو رہی ہے۔ خدا نے تمہیں رحمت سے نوازنا چاہا ہے لیکن یہ اشرار و مفسدین یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اس رحمت سے محروم کردیں۔ آخری آیت میں یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ ان اصلاحات سے جو بیڑیاں کاٹی جا رہی ہیں وہ اس لیے کاٹی جا رہی ہیں کہ یہ غیر فطری اور خود ساختہ تھیں۔ قدرت نے انسان کو جس فطرت سلیم پر پیدا کیا ہے وہ فطرت ان غیر فطری بوجھوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ آگے اسی سورة میں آیت 43 سے ان تمام مخالفتوں کی تفصیل آرہی ہے۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو، اپنے مال آپس میں باطل ذریعے سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی مال باہمی رضامندانہ تجارت کی راہ سے حاصل ہوجائے اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اللہ تم پر بڑا مہربان ہے

فصل 14۔ آیات 29۔۔۔ 33 کا مضمون :۔ سابقہ آیات میں ضمنی تذکیر و تنبیہ کے بعد اب ان آیات میں اصلاح معاشرہ ہی سے متعلق احکام و ہدایات کا مضمون پھر شروع ہوگیا اور چند ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے پچھلی اصلاحات کی تائید و توثیق بھی ہو رہی ہے اور ان اصلاحات کا دائرہ وسیع بھی ہو رہا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۣوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۔ حرمتِ مال اور حرمت جان میں نہایت گہرا رشتہ ہے :۔ اس آیت میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور قتل نفس کو حرام ٹھہرایا ہے اور ان دونوں حرمتوں کو ایک ساتھ جمع کردیا ہے۔ ان کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ان دونوں میں بڑا گہرا رشتہ ہے۔ مال کی حرص اس کے حصول کے جائز و ناجائز طریقوں کی تمیز اٹھا دیتی ہے اور پھر یہ بیماری لوگوں کو اس طرح اندھا کردیتی ہے کہ اس کے لیے قتل و خون تک نوبت آجاتا ہے۔ سماجی فسادات اور خون ریزیوں کے اسباب کا سراغ لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ حرص مال کو ان میں سب سے زیادہ دخل ہے۔ اسلام نے ان دونوں چیزوں کے اس گہرے باہمی رشتے کی وجہ سے ایک دوسرے کے مال اور ایک دوسرے کی جان دونوں چیزوں کی حرمت کی یکساں تاکید فرمائی ہے حرمۃ مالہ کحرمۃ دمہ (مومن کا مال بھی اسی طرح محترم ہے جس طرح اس کی جان محترم ہے) کسی معاملت کے لیے فریقین کی حقیقی نیاز مندی شرط ہے :۔ باطل طریقہ سے مراد لین دین، کاروبار اور تجارت کے وہ طریقے ہیں جن میں معاملت کے دونوں فریقوں کی حقیقی رضامندی یکساں طور پر نہیں پائی جاتی بلکہ اس میں ایک کا مفاد محفوظ ہوتا ہے، دوسرا ضرر یا غرر کا ہدف بنتا ہے۔ قرآن نے اس مفہوم کی طرف خود اشارہ فرمادیا ہے۔ چناچہ باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے کی نہی کے بعد یہ جو فرمایا ہے کہ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ، یہ مثبت پہلو سے اسی اجمال کی وضاحت ہے جو پہلے ٹکڑے میں پایا جاتا ہے۔ اس ٹکڑے نے واضح کردیا کہ معاملت اور لین دین کی بنیاد جب حقیقی باہمی رضامنید پر ہو تب ہی اس سے جو منافع ہوتا ہے وہ جائز ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی دھوکا پایا جاتا ہے یا اس میں ایک فریق کی بےبسی اور مجبوری کو دخل ہے تو اگرچہ وہ بظاہر اس پر راضی بھی ہو لیکن یہ اکل اموال بالباطل کے حکم میں داخل ہے۔ اسی بنا پر معاملت اور تجارت کی وہ تمام شکلیں اسلام میں ناجائز قرار پائیں جن میں ضرر یا غرر کا شائبہ ہے۔ ربوا اس کاروبار کی ایک قبیح ترین شکل ہے۔ بقرہ کی تفسیر میں ربوا اور تجارت کے فرق پر ہم جو بحث لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ کا مفہوم : َلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ بالکل لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل کا ہم وزن ٹکڑا ہے یعنی نہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرو نہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کے معنی خود کشی کے لینے کا نہ کوئی موقع و محل یہاں ہے نہ ان الفاظ میں اس مفہوم کی کوئی گنجائش ہے۔ اگر خود کشی کے مفہوم کو ادا کرنا چاہیں گے تو اس کے لیے اسلوب بالکل مختلف ہوگا۔ انفسکم کا لفظ اس حقیقت کے اظہار ہوتا ہے اس لیے کہ معاشرہ کے تمام افراد اپنے ہی بھائی بند ہیں، المسلم اخوا المسلم اور المسلمون کلہم اخوۃ، کے اصول پر ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے ایک کے قاتل کو سب کا قاتل قرار دیا ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۔ خدا کی صفت رحمت کے تقاضے :۔ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا درحقیقت علت بیان ہوئی ہے ان ممانعتوں کی جن کا ذکر اوپر ہوا۔ یعنی جب تمہارا رب تمہارے اوپر مہربان اور رحیم ہے تو وہ کس طرح یہ پسند کرسکتا ہے کہ تم ایک دوسرے کے مال ہڑپ کرو اور ایک دوسرے کو قتل کرو، رؤوف و رحیم رب تو یہی چاہے گا کہ تم آپس میں رحماء بینہم بن کر رہو۔ پھر یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ اگر اس کے برخلاف لوگ آپس میں ظلم وعدوان کے مرتکب ہوں تو یہ عین اس کی رافت و رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ وہ عدل و انصاف کا ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں کو کیفر کردار کو پہنچائے جو اس کے مرتکب ہوئے ہوں۔ چناچہ آگے والی آیت اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو لوگ تعدی اور ظلم کی راہ سے ایسا کریں گے ہم ان کو جلد ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے

وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔ ذٰلِکَ کا اشارہ ان دونوں ہی چیزوں کی طرف ہے جن کا ذکر سابقہ آیت میں ہوا ہے۔ ’ عدوان ‘ اور ’ ظلم ‘ کا خاص مفہوم : ’ عدوان ‘ اور ’ ظلم ‘ کے الفاظ جب ایک ساتھ آئیں تو جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں لکھ چکے ہیں، یہ گناہ کی دو الگ الگ صورتوں پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ کوئی شخص زور و زبردستی سے دوسرے کے جان یا مال پر دست درازی کرے، دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی شخص دھاندلی سے کسی کا حق واجب ادا نہ کرے بلکہ اس کو دبا بیٹھے۔ پہلی صورت عدوان کی ہے دوسری ظلم کی۔ اگر یہ الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کے مضمون پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ نَارًا کا لفظ نکرہ تفخیم کے لیے استعمال ہوا ہے یعنی ایسے لوگوں کو ایک سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں ہم ڈالیں گے، ایک لطیف نکتہ : وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا (یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے) ایک مخفی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ جو لوگ خدا کو مانتے ہیں لیکن خدا کی سفات عدل و رحم کا صحیح تصور نہیں رکھتے وہ اپنے آپ کو الاؤنس دینے میں بڑے فیاض ہوتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے جرائم کرتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ ود کی طرح توقع یہی رکھتے ہیں کہ خدا ان پر بڑا مہربان ہے اس لیے سب بخش دے گا۔ قرآن نے یہود کا قول سیغفرلنا جو نقل کیا ہے وہ اسی ذہنیت کی غمازی کر رہا ہے۔ درحقیقت اس قماش کے لوگ شہ تو حاصل کرتے ہیں اس ڈھیل اور مہلت سے جو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے کے مطابق عطا فرماتا لیکن ان کی حیلہ جو طبیعت آڑ ڈھونڈتی ہے خدا کی رحمت کی۔ حالانکہ خدا رحیم ہے تو آخر وہ ظالموں پر کیوں رحم فرمائے گا۔ اس کی رحمت کے اصلی مستحق تو وہ مظلوم ہیں جو ان کے ہاتھوں زندگی بھر ستائے گئے اور آہ بھی نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی ذہنیت رکھنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ جو لوگ ظلم وعدوان کی زندگی بسر کر رہے ہیں ان کو جہنم میں جھونک دینا خدائے رحیم پر ذرا بھی شاق نہیں گزرے گا۔ اس لیے کہ وہ جس طرح رحیم ہے اسی طرح عادل بھی ہے اور یہ عدل بھی اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

تم جن باتوں سے روکے جا رہے ہو اگر ان کے بڑے گناہوں سے تم بچتے رہے تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں جھاڑ دیں گے اور تمہیں ایک عزت کے مقام میں داخل کریں گے

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا۔ کبائر اور صغائر سے مراد :۔ سیئات کا لفظ چونکہ یہاں کبائر کے مقابل میں آیا ہے اس وجہ سے اس سے مراد صغائر یعنی چھوٹے گناہ ہیں جس طرح نیکیاں جن کا حکم دیا گیا ہے، بڑی بھی ہیں اور چھوٹی بھی، اسی طرح بدیاں، جن سے روکا گیا ہے، چھوٹی بھی ہیں بڑی بھی، یہ چھوٹا اور بڑا ہونا اگرچہ حالات اور نسبتوں کے بدلنے سے تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے اس وجہ سے ان کی منطقی حد بندی ذرا مشکل ہے تاہم یہ ایسی چیز نہیں جس کا سمجھنا دشوار ہو۔ جس طرح ہجرت اور جہاد بھی نیکی ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کردینا بھی نیکی ہے لیکن دونوں میں بڑا فرق ہے اور اس فرق کو ہر شخص سمجھتا ہے، اسی طرح کسی کا گھر لوٹ لینا بھی برائی ہے اور راستے میں کوئی گندی چیز پھینک دینا اور کسی غلط جگہ تھوک دینا بھی برائی ہے لیکن دونوں برائیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس فرق کو بھی ہر شخص سمجھتا ہے۔ درحقیقت نیکیوں اور بدیوں دونوں کی بڑائی چھٹٓئی کے ناپنے کے لیے پیمانہ ان کے اثرات و نتائج ہیں اگر ہماری نگاہ دور رس ہو اور ہم خواہشات نفس کی جانبداری سے بالا تر ہو کر حقائق پر غور کریں تو اس کے سمجھنے میں کوئی التباس پیش نہیں آسکتا۔ لیکن بسا اوقات ہوتا یہ ہے کہ عقل پر خواہشات نفس کا ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ پر بت رائی بن جاتا ہے رائی ربت۔ شریعت نے اس التباس سے بچنے کے لیے حرام بھی واضح کردئیے اور حلال بھی۔ لیکن ان کے درمیان کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں التباس پیش آسکتا ہے۔ ایسی چیزوں کے باب میں تقوی کا تقاضا تو یہی ہے کہ آدمی احتیاط کے پہلو کو اختیار کرے لیکن اگر بشری کمزوری سے کوئی غلطی صادر ہوگئی تو حدود حرام و حلال کے ملحوظ رکھنے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ اس کا میل جمنے نہیں دیتا۔ جنت کی راہ :۔ اس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خدائی گرفت سے بچنے اور اس کی جنت میں داخل ہونے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو بڑی فراخ دلی سے الاؤنس دیتے چلو بلکہ اس کا راستہ یہ ہے کہ جن چیزوں سے انس نے روکا ہے ان کے کبائر سے پرہیز رکھو۔ اگر کبائر سے پرہیز رکھو گے تو صغائر کو وہ اپنے فضل و رحمت سے خود دور فرما دے گا ورنہ کبائر و صغائر سب تمہارے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور سب کا تمہیں حساب دینا ہوگا۔ صغائر سے بچنے کی راہ بھی کبائر سے اجتناب ہے :۔ یہاں یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ صغائر سے بچنے کی راہ بھی یہی ہے کہ آدمی کبائر سے اجتناب کرے۔ جو آدمی اپنے ہزاروں کے قرضے چکاتا رہتا ہے۔ وہ اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوتا کہ کسی کے پانچ روپے دبا کرنا دہند کہلانے کی ذلت گوارا کرے۔ برعکس اس کے جو لوگ کبائر کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا بڑا اہتمام کرتے ہیں ان کا حال زندگی بھر یہ رہتا ہے کہ مچھر کو چھانتے رہتے ہیں اور اونٹ کو نگلتے رہتے ہیں۔ دوسروں کو تو یہ زیر ہے اور سونف تک کی زکوۃ کا حساب سمجھاتے ہیں لیکن خود یتیموں کے مال اور اوقاف ج کی آمدنیوں سے اپنی کوٹھیاں بنواتے اور ان کو سجاتے ہیں۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

جس چیز میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہے اس کی تمنّا نہ کرو، مردوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ ۭ وَسْـــَٔـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِـــيْمًا۔ تنافس کا اصلی میدان اکتسابی صفات کا میدان ہے :۔ معاشرے میں بیشمار کشمکشیں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے کہ کون سا میدان قسمت آزمائی اور جد و جہد کا ہے اور کون سا نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط ارمان اور ایک اندھا بہرا حوصلہ لوگوں کو ایسے میدانوں میں ڈال دیتا ہے جن میں آدمی کی ساری جدوجہد اور اس کی تمام قابلیت و صلاحیت ایک لا حاصل تصادم اور بےفائدہ تنازع کی نذر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو ان کی خلقی صفات کے لحاظ سے بعض لوگوں پر ترجیح دی ہے۔ مثلاً بعض کو خوب صورت پیدا کیا، بعض کو بدصورت، بعض کو سلیم الاعضا پیدا کیا بعض کو ناقص الاعضاء بعض کو امیر گھرانوں میں پیدا کیا بعض کو غریب گھرانوں میں۔ ظاہر ہے کہ یہ چیزیں خلقی ہیں۔ ان میں مقابلے اور تنافس کی الگ ڈاٹ تلخی اور ناگواری کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی۔ اسی طرح کسی کو مرد بنایا، کسی کو عورت یہ چیز بھی خلقی ہے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے یا مرد، عورت، تو یہ بھی نری حماقت ہے۔ علی ہذا القیاس خدا نے اپنے قانون میں ہر ایک کے لیے حدود و حقوق معین کردیے ہیں۔ یہ حقوق و حدود فطرت اور حکمت پر مبنی ہیں۔ اگر مساوات طلبی کے غلط ہوش میں ان حقوق اور حدود کو لانگنے کی کوشش کی جائے، عورت چاہے کہ مجھے مرد کے برابر حصہ ملے، اقربا چاہٰں کہ سب کا ایک ہی درجہ قرار پائے تو یہ بھی فطرت اور خدا کی حکمت سے جنگ ہے جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ سارا نظام تلپٹ ہو کر رہ جائے۔ آج دنیا میں جو ابتری و انتشار، جو تصادم و تنافس اور جو قتل و نہب ہے زیادہ تر اسی غلط اندیشی اور حد ناشناسی کا نتیجہ ہے۔ قرآن نے اس آیت میں یہی بتایا ہے کہ تنافس کا میدان خلقی صفات یا فطری ترجیحات کا نہیں بلکہ اکتسابی صفات کا میدان ہے۔ یہ میدان نیکی، تقوی، عبادت، ریاضت، توبہ، انابت یا جامع الفاظ میں ایمان و عمل صالح کا میدان ہے۔ اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی روک نہیں ہے ؟ مرد بڑھے وہ اپنی جدو جہد کو پورا پورا ثمرہ پائے گا، عورت بڑھے وہ اپنی سعی کا پھل پائے گی، آزاد، غلام، بانو، باندی، شریف، وضیع، اعمی، بصیر سب کے لیے یہ میدان یکساں کھلا ہوا ہے۔ اگر کسی میں کچھ فطری اور خلقی رکاوٹیں ہیں تو اس کے کسر کا جبر بھی یہاں موجود ہے۔ خدا نے خلقی طور پر جو فضیلتیں بانٹی ہیں ان سے ہزارہا اور لکھو کھا درجے زیادہ اس کا فضل یہاں ہے تو جو فضیلت کے طالب ہیں وہ اس میدان میں اتریں اور خدا کے فضل کے طالب بنیں (واسئلوا للہ من فضلہ) دینے والا سب کی طلب، سب کے ذوق و شوق اور سب کی نیت اور سب کے اخلاص واقف ہے اور اس کے خزانے میں نہ کمی ہے، نہ وہ دینے میں بخیل ہے تو غلط میدان میں اپنی محنت برباد کرنے سے کیا حاصل ہے جس کو قسمت آزمائی کرنی ہو اس میدان میں کرے۔ وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں ہر ایک کے لیے وارث ٹھہرا دیے ہیں اور جن سے تم نے کوئی پیمان باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دو ، بیشک اللہ ہر چیز سے آگاہ ہے

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا۔ لفظ ’ مولی ‘ کا مفہوم : لفظ ’ مولی ‘ عربی میں بہت وسیع معنوں میں آتا ہے۔ زیادہ تر اس کا تعین موقع و محل اور قرینے سے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد ہر مورث کے ورثہ ہیں۔ خدا کے مقرر کردہ وارث ہی اصلی وارث ہیں : اس آیت میں اشارہ تقسیم وراثت کے اس ضابطے کی طرف ہے جو آیت 7 میں مذکور ہے۔ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا ترک الوالدان والاقربون و للنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون الایہ، اس حوالے مقصود اس کو مزید موکد کرنا ہے کہ ہر مورث کے جو وارث خدا نے ٹھہرا دیے ہیں وہی اصلی وارث ہیں۔ اب ان میں اپنے ذاتی رجحانات کی بنا پر نہ کسی ترمیم و تبدیلی کی گنجائش ہے اور نہ ان کے مقررہ حصوں میں کسی کمی بیشی کی، اگر کسی نے کسی غیر وارث سے کچھ دینے دلانے کا وعدہ کر رکھا ہے تو اس کو وہ حصہ دے جو اس کا ہے، اس کا حصہ سے مراد ظاہر ہے کہ وہی حصہ ہوسکتا ہے جس کی مورث کو وصیت کی اجازت ملی ہوئی ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تقسیم سے علیحدہ کر رکھا ہے۔ یہ حصہ درحقیقت ایسے ہی لوگوں کے لیے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھوڑا گیا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے نصیبہم کا لفظ استعمال ہوا۔ آخر میں اپنی صفت علی کل شیء شہیدا کا حوالہ بطور تنبیہ دیا ہے کہ بےجا جانبداری کی مخفی سے مخفی کوشش بھی اللہ کے علم سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر اور ہر جلی و خفی سے آگاہ ہے
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں کے سرپرست ہیں، بوجہ اس کے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے۔ پس جو نیک بیبیاں ہیں وہ فرمانبرداری کرنے والی، رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں بوجہ اس کے کہ خدا نے بھی رازوں کی حفاظت فرمائی ہے اور جن سے تمہیں سرتابی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑو اور ان کو سزا دو پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف راہ نہ ڈھونڈو، بیشک اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے

فصل 16۔ آیات 34، 35 کا مضمون : خاندان کی تعلیم کے لیے ہدایات : اوپر ولا تتمنوا، الایہ، میں عورت مرد دونوں کو اپنے اپنے فطری اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے حصول سعادت و کمال کی جدو جہد کی جو ہدایت فرمائی تھی اسی ہدایت کو خدا ندانی زندگی کی تشکیل و تنظیم کے لیے رہنما اصول قرار دے کر اب یہ خاندان کی تنظیم کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ معاشرہ خاندانوں سے مرکب ہوتا ہے اور معاشرے ہی سے ریاست وجود میں آتی ہے۔ گویا خاندان ہی وہ چیز ہے جو معاشرہ اور پھر ریاست کی بنیادی اینٹ ہے۔ اس وجہ سے نہایت ضروری ہے کہ یہ پہلی اینٹ نہایت صحیح رکھی جائے۔ اگر یہ ذرا بھی کج ہوگئی تو، ع، تا ثریا می رود دیوار کج۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت کیجیے۔ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ۭ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاهْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا۔ ’ قام علی ‘ کا مفہوم : عربی میں ’ قام ‘ کے بعد ’ علی ‘ آتا ہے تو اس کے اندر نگرانی، محافظت، کفالت اور تولیت کا مضمون پیدا ہوجاتا ہے، قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاءِ میں بالا تری کا مفہوم بھی ہے اور کفالت و تولیت کا بھی اور یہ دونوں باتیں کچھ لازم و ملزوم سی ہیں۔ گھر کی ریاست کا سربراہ مرد ہے : گھر کی چھوٹی سی وحدت بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کی محتاج ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اس ریاست میں سربراہی کا مقام مرد کو حاصل ہو یا عورت کو ؟ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ مقام مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔ مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق حاصل ہے جن کی بنا پر وہی سزاوار ہے کہ قوامیّت کی ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے۔ مثلاً محافظت و مدافعت کی جو قوت و صلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد و ہمت اس کے اندر ہے، وہ عورت کے اندر نہیں ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قومیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں لیکن ان کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے۔ مثلاً عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے وہ مرد نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے۔ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے۔ دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔ یعنی بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعاً نہیں اٹھائی ہے بلکہ اس وجہ سے اٹھائی ہے کہ یہ ذمہ داری اسی کے اٹھانے کی ہے۔ وہی اس کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور وہی اس کا حق ادا کرسکتا ہے۔ بیک بیبیاں وہ ہیں جو قوّام کی اطاعت گزار اور راز دار ہیں : مرد کو قوامیت کے منصب پر سرفراز کرنے کے بعد نیک بیبیوں کا رویہ بتایا کہ وہ نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اپنے قوام کی اطاعت کرتی، اس کے رازوں اور اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتی ہیں اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو عورتیں، اس کے بالکل برعکس آج اس بات کے لیے زور لگا رہی ہیں کہ وہ عورت بن کر نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں مرد بن کر رہیں گی وہ صالحات نہیں بلکہ فاسقات ہیں اور انہوں نے اس نظام کو بالکل تلپٹ کردینا چاہا ہے جس پر عائلی زندگی کی تمام برکتوں اور خوشحالیوں کا انحصار ہے۔ حافظات للغیت، کا مطلب : حافظات للغیب کا مطلب میں نے یہ لیا ہے کہ وہ رازوں کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ یہ معنی لینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ غیب کا لفظ راز کے مفہوم کے لیے مشہور ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ترکیب کلام ایسی ہے کہ پیٹھ پیچھے کے معنی لینے کی گنجائش نہیں، تیسری یہ کہ عورت اور مرد کے درمیان رازوں کی امات داری کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مسئلہ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی امین ہیں۔ بالخصوص عورت کا مرتبہ تو یہ ہے کہ وہ مرد کے محاسن و معائب، اس کے گھر در، اس کے اموال و املاک اور اس کی عزت و ناموس ہر چیز کی ایسی راز دان ہے کہ اگر وہ اس کا پردہ چاک کرنے پہ آجائے تو مرد بالکل ہی ننگا ہو کر رہ جائے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ اس کے ساتھ بما حفظ اللہ کا جو اضافہ ہے اس سے اس صفت کی عالی نسبی کا اظہار مقصود ہے کہ ان کی اس صفت پر خدا کی صفت کا ایک پرتو ہے اس لیے کہ خدا نے بھی اپنے بندوں اور بندیوں کے رازوں کی حفاظت فرمائی ہے ورنہ وہ لوگوں کا پردہ چاک کرنے پر آجاتا تو کون ہے جو کہیں منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا۔ ’ نشوز ‘ کی حقیقت : نشوز کے معنی سر اٹھانے کے ہیں لیکن اس لفظ کا غالب استعمال اس سرتابی و سرکشی کے لیے ہوتا ہے جو کسی عورت کی طرف سے اس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو۔ اگر کسی عورت کے رویے سے ظاہر ہو کہ وہ سرکشی کی راہ پر چل پڑی ہے تو تو مرد چونہ قوّام ہے اس وجہ سے اس کو عورت کی تادیب کے لیے بعض تادیبی اختیارات دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہ اختیارات صرف اس صورت کے لیے دیے ہیں جب ’ نشوز ‘ کا اندیشہ ہو۔ نشوز، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، عورت کی ہر کوتاہی یا غفلت یا بےپروائی یا اپنی شخصیت اور اپنی رائے اور ذوق کے اظہار کی قدرتی خواہش کو نہیں کہتے۔ نشوز یہ ہے کہ عورت کوئی ایسا قدم اٹھاتی نظر آئے جو مرد کی قوّامیت کو چیلنج کرنے والا اور جس سے گھر کی مملکت میں بدامنی و اختلال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوتی نظر آئے تو مرد تین صورتیں اختیار کرسکتا ہے اور قرآن کا انداز بیان دلیل ہے کہ ان تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ ہے۔ نشوز کی صورت میں مرد کے تادیبی اختیارات : پہلا مرحلہ یہ ہے کہ نصیحت و ملامت کرے۔ قرآن میں ’ وعظ ‘ کا لفظ ہے جس کے اندر فی الجملہ زجر و توبیخ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اگر اس سے کام چلتا نظر نہ آئے تو دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ان سے بےتکلفانہ توبیخ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اگر اس سے کام چلنا نظر نہ آئے تو دورا مرحلہ یہ ہے کہ ان سے بےتکلفانہ قسم کا خلا ملا ترک کردے تاکہ انہیں اندازہ ہوجائے کہ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کے نتائج دور رس ہوسکتے ہیں۔ اگر معاملہ اس سے بھی بنتا نظر نہ آئے تو آخری درجے میں مرد کو جسمانی سزا دینے کا بھی اختیار ہے۔ لیکن یہ صرف اس حد تک ہونی چاہیے جس حد تک ایک معلم و مودب اپنے کسی زیر تربیت شاگرد کو دے سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ’ غیر مبرح ‘ کے الفاظ سے اس کی حد واضح فرما دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سزا ایسی نہ ہو کہ وہ کوئی پائدار اثر چھوڑ جائے۔ اصلاح کے بعد پچھلی کدورتیں بھلا دی جائیں : مرد کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے۔ اگر اس کا نتیجہ مفید مطلب برآمد ہو، عورت بغاوت کے بجائے اطاعت کی راہ پر آجائے، تو پچھلی کدورتیں بھلا دینی چاہئیں۔ اس سے انتقام لینے کے بہانے نہیں ڈھونڈنے چاہئیں۔ مرد کو اپنی قوامیت کے زعم میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سب سے بلند اور سب سے بڑا خدا ہ۔ جب وہ قیم السموات والارض ہو کر ہم سب کے نشوز سے درگزر فرماتا اور توبہ و اصلاح کے بعد سب کی نافرمانیوں کو معاف کردیتا ہے تو بندے اپنی قوامیت کی لے حد سے آگے کیوں بڑھائیں۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک پنچ مرد کے لوگوں میں سے مقرر کرو اور ایک پنچ عورت کے لوگوں میں سے۔ اگر دونوں اصلاح کے طالب ہوئے تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا کردے گا، بیشک اللہ علیم وخبیر ہے

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِــيْمًا خَبِيْرًا۔ اصلاح احوال کی ایک اور تدبیر : اگر مرد وہ سارے جتن، جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئے، کرنے کے بعد بھی عورت کے ’ نشوز ‘ پر قابو نہ پا سکا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ خلیج اختلاف بہت وسیع ہے اور تعلقات ٹوٹنے کی حد پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن اس حد پر پہنچ جانے کے بعد بھی شریعت نے مرد کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ بیوی کو طلاق دے کر اس سے پیچھا چھڑا لے۔ اسلام، میاں بیوی کے رشتے کو معاشرے کے استحکام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے ٹوٹنے کو صرف اسی صورت میں گوارا کرتا ہے جب اصلاح کی تمام ممکن تدبیریں اختیار کر چکنے کے بعد یہ ثابت ہوجائے کہ اب اس کا جڑا رہنا ناممن یا مزید فساد کا باعث ہے۔ چناچہ شوہر کی کوششوں کی ناکامی کے بعد اصلاحِ احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی۔ یہ ہدایت میاں بیوی کے قبیلہ برادری اور ان کے رشتہ داروں اور خیر خواہوں کو دی گئی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے اثرات سے کام لے کر اس بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اس کی عملی شکل یہ بتائی کہ ایک پنچ میاں کے رشتہ داروں میں سے منتخب کیا جائے، دوسرا بیوی کے خاندان میں سے، یہ دونوں مل کر اصلاح کی کوشش کریں۔ بسا اوقات فریقین جس جھگڑے کو خود طے کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے دوسرے خیرخواہوں کی مداخلت سے وہ طے ہوجاتے ہیں۔ فریقین کو ان کی غیر جانبداری اور خیر خواہی کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے اور بےضد پر دوسروں کی ملامت کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ شکل زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ میاں اور بیوی کو ترغیب مصلحت : اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا میں مراد اگرچہ حکمین بھی ہوسکتے ہیں لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ اس سے مراد میاں بیوی ہی ہیں یعنی اگر یہ دونوں اپنی ضد چھوڑ کر اصلاحِ احوال کے طالب ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان میں سازگاری پیدا کردے گا۔ یہ درحقیقت نہایت بلیغ اسلوب سے میاں بیوی کو تشویق و ترغیب ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائٰیں اور افتراق کے بجائے خدائے کریم و کارساز کی طرف سے ساز گاری کے طالب بنیں۔ اس آیت میں ہمارے نزدیک خطاب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، میاں بیوی کے خویش و اقارب اور ان کی قوم و قبیلہ کے بڑے بوڑھوں سے ہے اور ان پنچوں کا اختیار تمام تر اصلاحِ حال کی کوشش ہی تک محدود ہے۔ اس کوشش کی ناکامی کے بعد شوہر اپنے شرعی اختیارات کے مطابق خود بھی کوئی قدم اٹھا سکتا ہے اور معاملہ عدالتی نوعیت کا ہو تو عدالت میں بھی جاسکتا ہے۔ البتہ اس بات کی گنجائش ہے کہ کوئی معاملہ عدالت میں جانے کے بعد عدالت کی طرف سے کسی پنچایت کے حوالہ کردیا جائے اور عدالت پنچایت کو فیصلہ کا اختیار بھی تفویض کردے۔ آخر میں علیم وخبیر کی صفات کے حوالے سے مقصود ہر ایک کو تنبیہ کرنا ہے کہ خدا اچھی طرح باخبر ہے کہ اس قضیے میں کس کا رول کیا رہا ہے اور اسی کے مطابق وہ اس کے ساتھ معاملہ کرے گا۔