Ayah 4:36آگلی آیات 36 تا 43 کا مضمون : اب آگے یہ خاتمہ باب کی آیات ہیں۔ معاشرتی احکام و ہدایات کا سلسلہ جو شروع سے چلا آرہا تھا وہ ان آیات پر ختم ہو رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرتے رہنے کی ہدایت سے اس باب کا آغاز فرمایا تھا اسی طرح اللہ کی عبادت کرتے رہنے کی ہدایت پر اس کو ختم کیا۔ اللہ تعالیٰ کا حق سب سے بڑا ہے۔ جو لوگ اس حق کو کما حقہ ادا کرتے رہیں گے درحقیقت وہی دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق پائیں گے۔ چناچہ اس حق کی یاد دہانی کے بعد بالاجمال والدین، اقربا، یتامی، مساکین، پڑوسی، مسافر اور لونڈی غلام سب کے حقوق کی یاد دہانی فرما دی۔ اللہ کا حق اس کی عبادت ہے اور اس کو باطل کرنے والی چیز شرک ہے اس وجہ سے اس حق کی یاد دہانی کے ساتھ شرک کی نفی کردی۔ بندوں کا سب سے بڑا حق ان کے ساتھ احسان اور ان کے لیے انفاق ہے۔ بخل، تکبر اور ریا اس کے ہادم ہیں اس وجہ سے احسان وا نفاق کی تاکید کے ساتھ ان چیزوں کی نفی کردی۔ اس کے بعد انفاق کی حوصلہ افزائی کے لیے فرمایا کہ یہ سودا خسارے کا سودا نہیں۔ جو ایک خرچ کرے گا، دس پائے گا۔ پھر تنبیہ فرما دی کہ اس رسول کے ذریعے سے انذار و تبلیغ کا حق ادا ہوچکا ہے، جو اب بھی نہیں سنیں گے وہ سوچ لیں کہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس دن اللہ سب رسولوں کو ان کی امتوں پر گواہ ٹھہرا کر پوچھے گا کہ تم نے اپنی اپنی امتوں کو کیا دعوت دی اور انہوں نے کیا جواب دیا۔ پھر یہی سوال اس آخری امت کے متعلق اس آخری رسول سے بھی ہوگا۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ نہ کسی کے لیے کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ کوئی شخص کوئی بات چھپا سکے گا۔
آخر میں اللہ کی عبادت، جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزرا، کے سب سے بڑے مظہر، نماز کے بعض آداب و شرائط کا ذکر فرمایا۔ ان آداب و شرائط کے ذکر سے مقصود نماز کو اسی طرح مفسدات سے پاک کرنا ہے جس طرح اوپر انفاق کو اس کے موانع و مفسدات سے پاک کیا ہے۔ اب اس روشنی میں آیت 36 تا 43 کی تلاوت فرمائیے۔
وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَا
بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا میں ’ ب ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں احسان کا لفظ ’ بر ‘ کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ احسان ادائے حقوق کے ساتھ ہو۔ محض چھدا اتارنے کی کوشش نہ ہو۔ ’ ب ‘ کا استعمال لفظ ’ بر ‘ کے ساتھ ہی مناسبت رکھتا ہے۔ چناچہ سورة مریم میں ہے ”وبرا بوالدیہ ولم یکن جبارا عصیا : اور اپنے والدین کا فرماں بردار تھا، سرکش اور نافرمان نہ تھا“۔ اردو ترجمے میں اس طرح کے اسالیب کے ترجمے کا حق مشکل ہی سے ادا ہوتا ہے۔
پڑوسی کی تین قسمیں : ’ الْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى‘ یعنی پڑوسی بھی ہے اور اس کے ساتھ رشتہ داری کا بھی تعلق ہے۔ ’ الْجَارِ الْجُنُبِ ‘ جُنُب کے معنی اجنبی کے ہیں یعنی پڑوسی ہے لیکن رشتہ داری اور قرابت کا تعلق اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ’ الصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ ‘ ’ جَنْب ‘ کے معنی پہلو کے ہیں، جو شخص وقتی اور عارضی طور پر بھی کسی مجلس، کسی حلقے، کسی سواری، کسی دکان، کسی ہوٹل میں آپ کا ہم نشین و ہم رکاب ہوجائے، وہ ’ الصاحب بالجنب ‘ ہے۔ اسلامی معاشرہ میں ان تینوں قسم کے لوگوں کو ایک دوسرے پر حقوق جوار حاصل ہوجاتے ہیں۔
خدا کا حق سب سے بڑا ہے : ان آیات میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا حق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے کہ خالق ومالک اور رب ہونے کی وجہ سے اس کا حق سب سے بڑا ہے اور اسی حق کی ادائیگی پر دوسرے حقوق کی ادائیگی کا انحصار ہے۔ جو لوگ خدا کا حق ادا نہیں کرتے وہ دوسروں کے حقوق بھی صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ خدا کا حق عبادت ہے اور ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ عبادت میں پرستش اور اطاعت دونوں چیزیں شامل ہیں۔ اس عبادت کے لیے یہ شرط ہے کہ اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اس لیے کہ خدا کی خدائی میں کوئی دوسرا ساجھی نہیں ہے۔ اگر اس حق میں کسی دوسرے کو شریک کردیا جائے تو یہ عبادت باطل ہو کر رہ جاتی ہے۔
خدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے : خدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے اس لیے کہ اللہ انہی کو آدمی کے وجود میں آنے اور اس کی پرورش کا ذریعہ بناتا ہے۔ لیکن ان کا حق عبادت نہیں بلکہ برّ و احسان ہے۔ اس کے بعد قرابت مندوں کے حقوق ہیں جو درحقیقت اسی حق سے پیدا ہوتے ہیں۔
قرابت مندوں، مساکین، اور پڑوسیوں کے حقوق : پھر یتامی، مساکین اور پڑوسیوں کے حقوق ہیں۔ پڑوسی تین طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو پڑوسی بھی ہے اور قرابت مند بھی، دوسرا وہ جو پڑوسی تو ہے اگرچہ قرابت مند نہیں ہے، تیسرا وہ جو وقتی طور پر کسی سفر یا حضر میں ساتھی اور ہم نشین بن گیا ہے۔ ان سب کے ساتھ احسان کی ہدایت ہوئی۔ پھر مسافر اور غلاموں اور لونڈیوں کا ذکر ہے۔ لونڈیوں اور غلاموں کے متعلق ہم ذکر کرچکے ہیں کہ غلامی، اسلام کے نظام کا کوئی جزو نہیں ہے اسلام نے وقت کے بین الاقوامی حالات کے تحت اس کو گوارا کیا تھا اور خود اپنے نظام میں غلاموں کی ترقی و بہبود کی ایسی شکلیں تجویز کردی تھیں جن سے وہ بالتدریج اسلامی معاشرے میں مساوی درجے کے رکن بن جائیں۔ اس آیت میں ان کو بھی احسان کے مستحقوں میں شامل کیا ہے اور مقصود اس سے یہی ہے کہ ان کے متعلق لوگوں کا زاویہ نگاہ بدلے اور لوگ نیکی اور احسان کے مواقع میں ان کی اصلاح و ترقی کو ایک مستقل مسئلے کی حیثیت سے پیش نظر رکھیں۔
ادائے حقوق کے منافی ذہنیت : اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَا۔ یہ ادائے حقوق اور احسان کے منافی ذہنیت کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسباب ووسائل کی فراوانی کو اللہ کا انعام و احسان سمجھتے ہیں ان کے اندر تو شکر گزاری اور تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے اور یہ جذبہ ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا ہے اسی طرح یہ دوسروں پر احسان کریں چناچہ وہ لوگوں پر احسان کرتے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے سزوار بنتے ہیں۔ برعکس اس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو خود اپنی قوت و قابلیت اور اپنی تدبیر و حکمت کا کرشمہ سمجھنے لگتے ہیں ان کے اندر تواضع اور شکر گزاری کے جذبے کے بجائے گھمنڈ اور فخر پیدا ہوجاتا ہے اور وہ لوگوں پر احسان کرنے کے بجائے ان پر دھونس اور رعبت جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ناشکروں اور کم ظرفوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ”دوست نہیں رکھتا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔
Ayah 4:37الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا
اکڑنے اور فخر کرنے والوں کی یہ چند مزید خصوصیات بیان ہوئی ہیں جو ہم بالترتیب واضح کریں گے :
اترانے اور فخر کرنے والوں کی چند مزید خصوصیات : پہلی کہ یہ یہ خود بھی بخیل ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔ ’ بخیل ‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں تنگ دل ہو۔ جو شخص دوسروں کے حقوق فیاضی اور کشادہ دلی کے ساتھ ادا کرتا ہے لیکن خود اپنی ذات کے معاملے میں احتیاط اور تنگی برتتا ہے اس کو بخیل نہیں کہتے۔ بخالت کا بڑا سب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مال و اسباب کو خدا کی دین سمجھنے کے بجائے خود اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے اندر تواضع اور شکر گزاری کا وہ جذبہ ہی مردہ ہوجاتا ہے جو فیضای اور جود و کرم کا اصل محرک ہے۔ بخیل آدمی دوسروں کو بھی بخالت کا مشورہ دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کی فیاضی سے خود اس کی بخالت کا راز فاش ہوتا ہے۔ اپنے اس عیب پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح وہ دوسروں کے حقوق دبائے بیٹھا ہے اسی طرح دوسرے بھی بیٹھے رہیں کہ نہ کوئی ناک والا ہوگا، نہ اس کو نکو بننا پڑے گا، قاعدہ ہے کہ جو آدمی بزدل ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی بزدلی ہی کا درس دیتا ہے تاکہ خود اس کی بزدلی کا بھانڈا نہ پھوٹے۔
بخیل مالداروں کا ایک نفسیاتی پہلو : دوسری یہ کہ یہ اللہ کے اس فضل کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے ان کو دے رکھا ہے۔ یہ بخیل مالداروں کے ایک نہایت مخفی نفسیاتی پہلو کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ بخیل مالداروں کی خواہش ایک طرف تو یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص پر ان کی ریاست و امارت کی دھونس جمی رہے، دوسری طرف یہ کوشش بھی وہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی شخص ادائے حقوق کے معاملے میں ان کو کوئی ملامت نہ کرسکے۔ چناچہ یہ ہر ملنے جلنے والے اور ہر طالب وسائل کے سامنے اپنے سیع اخراجات، کاروبار میں نقصانات، اپنی پھیلی ہوئی ذمہ داریوں اور طالبوں اور سائلوں کی کثرت کا دکھڑا روتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ ہے تو یہ شخص گنی و ریا دل لیکن بےچارہ کیا کرے، بڑی بھاری ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس وجہ سے ہزاروں لاکھوں کی آمدنی رکھنے کے باوجود اس کے پاس بچتا بچاتا کچھ بھی نہیں ہے۔
وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا : ایسے ناشکروں کافرِ نعمتوں کے لیے فرمایا کہ ہم نے ذلیل کرنے ولا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ذلیل کرنے ولا عذاب اس وجہ سے کہ یہ اللہ کی نعمت پا کر اس کے شکر گزار اور حق گزار بندے بننے کے بجائے اکڑنے اور اترانے والے اور اس کے فضل کو چھپانے والے بنے۔
Ayah 4:38وَالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَهٗ قَرِيْنًا فَسَاۗءَ قَرِيْنًا۔
دکھاوے کا انفاق کاروباری خرچ ہے : یہ بھی اسی سلسلے کی بات ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ یعنی یہ اگر خرچ کرتے ہیں تو محض دکھاوے کے لیے۔ دکھاوے کا خرچ ایک کاروباری خرچ ہوتا ہے۔ اول تو اس کا فائدہ شاذ و نادر ہی ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو اصلی حقدار ہوتے ہیں اس لیے کہ اصلی حقداروں کے معاملے میں نمائز اور دکھاوے کا کچھ زیادہ موقع نہیں ہوتا۔ پھر منافق کی نماز کی طرح نمائش کے انفاق کا بھی کوئی تعلق اللہ سے نہیں ہوتا۔ اس طرح کے لوگ خدا اور آخرت پر ایمان کے تو مدعی ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں نہ ان کا ایمان خدا پر ہوتا ہے نہ آخرت پر، اور انفاق اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف وہ معتبر ہوتا ہے جو خدا اور آخرت پر ایمان کے ساتھ ہو اس لیے کہ وہی انفاق اس دنیا کے لیے بھی باعث خیر و برکت ہے اور وہی آخرت میں بھی موجب خیر و برکت ہوگا۔ جو لوگ خدا اور آخرت پر ایمان سے خالی ہوتے ہیں ان کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے اس کے لیے خیر و برکت کا کوئی کام کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ ”ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا“ (بنی اسرائیل :27)
Ayahs 4:39–40تفسیر آیت 39- 40۔ وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا
یہ ان تنگ دلوں اور بخیلوں کی بدقسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ یہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خود اسی کی بخشی ہوئی دولت کو خرچ کرنے میں بڑا خسارہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ سر تا سر نفع ہی نفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کے عمل سے بیخبر ہے، نہ ذرہ برابر وہ کسی کی حق تلفی کرنے والا ہے بلکہ کسی کی کوئی نیکی ہوگی تو وہ اس کو بڑھا کر کئی گنی کرے گا اور اس پر مزید وہ خود اپنی طرف سے ایک بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
Ayahs 4:41–42تفسیر آیت 41 تا 42:۔ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا۔ يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ ۭ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا
قیامت میں انبیاء کی شہادت اپنی امتوں پر : مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے سے ان کو اپنے دین سے آگاہ کردیا اور ان پر حجّت تمام کردی۔ اب دین و شریعت سے آگاہ کرنے کے معاملے میں کوئی کسر نہیں رہ گئی ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ اور رسول سے منحرف ہی رہے تو آج تو یہ اپنے کفر و نفاق کو چھپا سکتے ہیں لیکن کل کو یہ کیا کریں گے جب میدانِ حشر میں اللہ تمام امتوں اور ان کے پیغمبروں کو جمع کر کے پیغمبروں سے گواہی دلوادے گا کہ انہوں لے گوں کو دین پہنچا دیا تھا اور اسی طرح کی گواہی تم (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے) اس امت کے لوگوں پر دینے کے لیے کھڑے کیے جاؤ گے۔ اس دن وہ سارے لوگ جنہوں نے کفر اور نافرمانی رسول کا ارتکاب کیا ہوگا یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ زمین میں دھنس جائیں اور زمین ان کے سمیت برابر کردی جائے۔ اس دن کوئی شخص خدا سے کوئی بات چھپا نہ سکے گا۔
لَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا۔ میں نفی فعل، عدم استطاعت فعل کے مفہوم میں ہے۔ کسی بات کو نہ چھپا سکنے کی وجہ بول اٹھیں گے۔ اس حقیقت کو قرآن نے دوسرے مقام میں یوں واضح فرمایا ہے ”حَتَّى إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ : یہاں تک کہ جب وہ حاضر ہوں گے تو ان کے خلاف گواہی دیں گے ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے رونگٹے“ (فصلت :20)۔ یہاں اس لفظ کے اندر ایک لطیف تعریض بھی پوشیدہ ہے۔ یہ لوگ اللہ کے اس فضل کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے ان کو دے رکھا ہے ”ویکتمون ما اتاھم اللہ من فضلہ“ یہاں فرمایا کہ اس دن اللہ سے کوئی چیز بھی چھپا نہ سکیں گے۔ ہر چیز خود بےنقاب اور گواہی دینے کے لیے ناطق ہوجائے گی۔
یہ بات کہ انبیاء قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں پر گواہ کی حیثیت سے کھڑے کیے جائیں گے قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے بھی ثابت ہے۔ سورة مائدہ میں ہے ”يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ : جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرلے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں۔ غیب کی باتوں کا جاننے والا تو ہی ہے“ (مائدہ :109)۔ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں سے قیامت کے دن سوال فرمائے گا کہ جب تم نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا دین پہنچایا تو انہوں نے دین کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ رسول جواب دیں گے کہ ہم نے تو تیرا دین بےکم وکاست لوگوں کو پہنچا دیا تو انہوں نے اس دین کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اس کا علم تیرے ہی پاس ہے اس لیے کہ غیب کا جاننے والا تو ہی ہے
اس شہادت کی پوری حقیقت سیدنا مسیح کی شہادت سے واضح ہوجاتا ہے جو سورة مائدہ میں یوں مذکور ہے۔ ”وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ (116) مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (117): جب کہ اللہ پوچھے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ، کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی معبود ٹھہراؤ ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ مجھ سے کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں اگر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو تجھ کو اس کا علم ہوگا، تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے، میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔ غیب کی باتوں کو جاننے والا تو ہی ہے۔ میں نے ان سے نہیں کہی مگر وہی بات جس کا تو نے مجھے حکم دیا یہ کہ اللہ ہی کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ میں جب تک ان کے اندر رہا اسی بات کی گواہی دینے والا رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دی تو ان کا نگران حال تو رہا اور تو ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے“ (المائدہ :116۔ 117)
نساء کی اس آیت سے متعلق روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نبی ﷺ کو قرآن سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو حضور شدت تاثر سے آبدیدہ ہوگئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے لیے ایک عظیم شرف کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ذمہ داری کی بھی حامل ہے۔
Ayah 4:43يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا۔
صلوۃ کے معنی نماز کے ہیں لیکن جس طرح کبھی ظرف بولتے ہیں اور مظروف اس کے مفہوم میں آپ سے آپ شامل ہوتا ہے اسی طرح کبھی مظروج، اگر قرائن موجود ہوں، ظرف پر بھی مشتمل ہوجاتا ہے۔ یہاں دو قرینے موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ صلوۃ کا لفظ موضع صلوۃ یعنی مسجد پر بھی مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ فرمایا نشے اور جنابت کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ ظاہر ہے کہ اگر صلوۃ سے مراد مجرد نماز ہوتی تو اس کے لیے نماز نہ پڑھو کہہ دینا کافی تھا۔ لاتقربوا کے الفاظ سے اس مطلب کو ادا کرنے کا کوئی خاص فائدہ سمجھ میں نہیں آیا۔ دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ الا عابری سبیل کا استثنا بھی ہے۔ یعنی اگر نماز کی جگہ سے مجرد گزر جانا مد نظر ہو تو اس میں مضائقہ نہیں۔ یہ گزر جانا، نماز کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا بلکہ اس کی واضح مناسبت ہوسکتی ہے تو موضع نماز ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں نے اسی عدم مناسبت سے بچنے کے لیے عابری سبیل سے مراد حالت سفر کو لیا ہے لیکن یہ محض تکلف ہے۔ اول تو سفر کے لیے یہ تعبیر بالکل اجنبی ہے، دوسرے یہ کہ حالت سفر کے لیے جو رخصت ہے وہ اسی آیت میں او علی سفر کے الفاظ سے متصلا بیان ہوئی ہے۔ پھر یہاں اس کے ذکر کی کیا ضرورت تھی۔
سکری سکران، شراب کے نشہ میں دھت کو کہتے ہیں نشے کی حالت میں نماز اور موضع نماز سے روک کر اسلام نے تحریم شراب کی راہ میں یہ ابتدائی قدم اٹھایا۔ یہود کے ہاں شراب کی ممانعت صرف اوقاتِ عبادت میں اماموں کے لیے تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس راہ میں اسلام کا پہلا قدم بھی ان کے آخری قدم سے آگے ہے۔
نشہ اور جنابت دونوں کو ایک ساتھ ذکر کر کے اور دونوں کو یکساں مفسد نماز قرار دے کر قرآن نے اس حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ یہ دونوں حالتیں نجاست کی ہیں، بس فرق یہ ہے کہ نشہ عقل کی نجاست ہے اور جنابت جسم کی۔ شراب کو قرآن نے جو ’ رجس ‘ کہا ہے یہ اس کی وضاحت ہوگئی۔
جُنُب کا لفظ جس طرح اجنبی کے لیے آتا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، اسی طرح جُنبی کے لیے بھی آتا ہے اور واحد، جمع، مذکر، مونث سب میں اس کی شکل ایک ہی رہتی ہے۔
تیمم کے معنی قصد اور روخ کرنے کے ہیں۔ صعید، سطح ارض کو کہتے ہیں۔ مرض، سفر اور پانی نہ ملنے کی صورت میں طہارت حاصل کرنے کے لیے یہ ہدایت ہوئی کہ کوئی پاک صاف جگہ دیکھ کر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو، اگرچہ یہ مسح پاکیزگی کے حصول کے نقطہ نظر سے کوئی اہمیت نہیں رکھا لیکن اصل طریقہ طہارت کی یاد داشت ذہن میں قائم رکھنے کے پہلو سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ شریعت کے اکثر عبادات میں یہ امر ملحوظ رکھا ہے کہ جب اصلی صورت میں ان کی تعمیل ناممکن یا دشوار ہو تو شبہی صورت میں ان کی یادگار باقی رکھی جائے تاکہ جب حالات درست ہوجائیں، ان کی طرف پلٹنے کے لیے طبیعت میں آمادگی باقی رہے۔
تیمم کے تین مواقع : تیمم کے یہاں تین مواقع بیان ہوئے ہیں۔ مرض، سفر اور پانی کی نایابی۔ اس سے یہ بات خود بخود نکلتی ہے کہ مرض اور سفر کی حالت میں پانی موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کرسکتا ہے۔ مرض میں وضو یا غسل سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ رعایت ہوئی ہے۔ اسی طرح سفر میں مختلف حالت ایسی پیش آسکتی ہیں کہ آدمی کو تیمم ہی پر قناعت کرنی پڑے۔ مثلا یہ کہ پانی نایاب تو نہ ہو لیکن کمیاب ہو۔ اندیشہ ہو کہ اگر غسل وغیرہ کے کام میں لایا گیا تو پینے کے لیے پانی تھڑ جائے گا یا یہ ڈر ہو کہ اگر نہانے کے اہتمام میں لگے تو قافلے کے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں گے۔ یا ریل اور جہاز کا ایسا سفر ہو کہ غسل کرنا شدید زحمت کا باعث ہو۔
حدث اور جنابت، دونوں حالتوں میں تیمم کی اجازت : نجاست کی یہاں دو حالتیں مذکور ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ او جاء احد منکم من الغائط (یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آئے) لفظ غائط اصلاً نشیبی زمین کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ قضائے حاجت سے کنایہ ہے۔ اس لیے کہ سادہ دیہاتی زندگی میں لوگ رفع حاجت کے لیے عموم نشیبی زمینوں اور جھاڑیوں ہی میں جاتے ہیں۔ دوسری اولامستم النساء (یا تم نے عورتوں سے ملاقات کی ہو) ملامست، کے معنی اصلا چھونے اور ہاتھ لگانے کے ہیں لیکن یہاں یہ کنایہ ہے مباشرت سے۔ نجاست کی ان دونوں حالتوں کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ تیمم ہر قسم کی نجاست میں کفایت کرتا ہے۔ اگر یہ وضاحت نہ ہوتی تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ معمولی حدث میں تو تیمم جائز ہے لیکن دوسری صورت میں جائز نہیں ہے۔
آیت کا موقع و محل اور نظم : اجزاء کی وضاحت کے بعد آیت کے موقع اور اس کے نظم کو ایک مرتبہ پھر سمجھ لیجئے۔ آیت 36 میں اللہ ہی کی عبادت اور والدین و اقربا وغیرہ کے ساتھ احسان و انفاق کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ جو چیزیں عبادت اور احسان و انفاق کو باطل کردینے والی ہیں مثلاً شرک اور ریا وغیرہ ان کا ذکر فرمایا۔ اب یہ عبادت الٰہی کے سب سے بڑے مظہر۔ نماز کے ان مفسدات کا ذکر فرمایا جو نماز کو باطل کردینے والے ہیں۔ اوپر شرک کا ذکر ہوچکا ہے۔ جو عقائدی نجاست ہے۔ اس آیت میں ظاہری نجاستوں اور ان کے ازالہ کی تدابیر کی طرف رہنمائی فرمائی۔ فرمایا کہ نشے اور جنابت کی حالت میں نماز اور جائے نماز کے پاس نہ جاؤ۔ نشے کی حالت میں، جب کہ آدمی کو کچھ ہوش نہیں کہ زبان سے کیا کلمات نکال رہا ہے اور کس کام کے کرنے اور نہ کرنے کا اللہ سے عہد کر رہا ہے، نماز پڑھنا ایک کار عبث ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی جب شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس حکم نے گویا لوگوں کو متنبہ کردیا کہ اب شراب کی قطعی حرمت کے لیے لوگ اپنی تربیت کریں۔ اسی طرح منع فرمایا کہ جنابت کی حالت میں بھی نماز اور جائے نماز کے پاس نہ جاؤ۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح شراب کا نشہ مبطل نماز ہے، اسی طرح جناب کا کسل اور انقباض بھی اس انشراح اور حضور قلب کے منافی ہے جو نماز کے لیے مطلوب ہے۔ اس ممانعت کے ساتھ اتنا استثناء رکھ دیا کہ اس حالت میں کوئی شخص اگر کسی ضرورت سے نماز کی جگہ سے گزر جانا چاہے تو اس کی رخصت ہے۔ جنابت کے لیے طہارت غسل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بیماری یا سفر میں ہے یا اسے پانی نہیں مل رہا ہے تو وہ تیمم کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ قضائے حاجت اور مباشرت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ تیمم ہر قسم کی نجاست میں جائز ہے۔ تیمم کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ کوئی پاک جگہ دیکھ کر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ یعنی بندوں کے ساتھ اس نے یہ جو رعایت فرمائی ہے تو اس لیے کہ وہ عفو اور غفور ہے۔
Ayah 4:44اگلی آیات 44 تا 57 کا مضمون : آیت 43 پر، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، اصلاح معاشرہ سے متعلق احکام کا باب ختم ہوگیا۔ آگے اس رد عمل کا بیان آ رہا ہے جو ان اصلاحات کے مخالفین کی طرف سے ظاہر ہوا اور ساتھ ہی مسلمانوں کو ایک عظیم ملکت کی بشارت سنائی جا رہی ہے جو معاشرہ کے بلوغ اور کمال کا قدرتی نتیجہ ہے۔ مخالفین میں سب سے پہلے یہود کو لیا اس لیے کہ حامل کتاب ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ انہی کو ان اصلاح کا حامی ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ مخالفت انہی کی طرف سے ہوئی۔ چناچہ ان کی مخالفانہ شرارتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کو براہ راست خطاب کر کے دھمکی دی کہ اے اہل کتاب، اگر تم اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو یاد رکھو کہ تمہارے لیے وقت آگیا ہے کہ اصحاب سبت کی طرح تم پر لعنت کردی جائے اور تمہارے چہرے مسخ کردیے جائیں۔
اس کے بعد یہود کے بعض مشرکانہ اعمال و عقائد اور ان کے اس زعم پر ان کو سرزنش کی ہے کہ یہ اپنے آپ کو ایک برگزیدہ امت سمجھے بیٹھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خواہ کچھ ہوں، یہ خدا کے محبوبوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں جا براجیں گے۔ فرمایا کہ ان کے اس زعم باطل نے، جو سر تا سر اللہ پر افترا ہے، ان کو ایمان و عمل کی ذمہ داریوں سے بالکل بےفکر کردیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بندگی کے دائرے سے نکال کر الوہیت کے دائرہ میں شامل کر رکھا ہے۔
اس کے بعد اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ایک طرف تو تقدس اور برتری کا یہ ادعا ہے، دوسری طرف ذہنی اور اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ اہل کتاب ہو کر جبت و طاغوت پر ایمان رکھتے اور مسلمانوں کے خلاف حسد میں ایسے اندھے ہوگئے ہیں کہ کفار و مشرکین تک کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر یہ حسد سے اندھے ہو رہے ہیں تو ہوجائیں، اب تو تقدیر الٰہی کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ اللہ اولاد اسماعیل کو کتاب و حکمت اور ایک عظیم خلافت کا وارث بنا کے رہے گا۔
اس کے بعد اولاد اسماعیل میں سے جن لوگوں نے یہ دعوت قبول کرلی تھی ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور جو لوگ اس کی مخالفت پر اڑے ہوئے تھے ان کو آخرت کے عذاب کی دھمکی دی۔ اس روشنی میں ان آیات کی تلاوت فرمائیے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِيْلَ۔ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں نسبت جزو اور کل کی ہے : اَلَمْ تَرَ کا خطاب، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں لکھ چکے ہیں، عموماً جمع اور اظہارِ تعجب و افسوس کے لیے آتا ہے۔ یہاں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ سے مراد یہود ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ پچھلے آسمانی صحیفوں اور قرآن عظیم میں نسبت جزو اور کل کی ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کامل کتاب ہے، دوسرے آسمانی صحیفے اس کے اجزا و حصص کی حیثیت رکھتے ہیں، اس وجہ سے جو لوگ اس کتاب کامل کے اجزا و حصص کے حامل بنائے گئے تھے ان سے سب سے زیادہ توقع اس بات کی ہوسکتی تھی کہ جب یہ کتاب کامل ان کے پاس آئے گی تو وہ اس کا آگے بڑھ کر خیر مقدم کریں گے لیکن ان کا عجیب حال ہے کہ وہ اس ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کو قبول کرنا تو الگ رہا، دل و جان سے ان کی کوشش یہ ہے کہ تم بھی اس پائی ہوئی صراط مستقیم کو کھو بیٹھو۔ اوپر آیت 27 میں یہ اشارہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اس کتاب کے ذریعے سے پچھلے انبیاء و صالحین کے طریقوں کی طرف رہنمائی فرما رہا ہے لیکن خواہشات نفس کے پیرو یہ کوشش کر رہے کہ تم راہ حق سے بالکل ہی دور ہٹجاؤ۔ اب یہ اسی اشارے کی تفصیلات آرہی ہیں
Ayah 4:45وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَاۗىِٕكُمْ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّـۢا ڭ وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا۔ یہ مسلمانوں کے لیے تسکین و تسلی کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ان دشمنوں سے بیخبر نہیں ہے۔ ان سے اور ان کی چالوں اور شرارتوں سے خوب واقف ہے، وہ ان کی ہر شرارت کو ناکام بنا دے گا۔ جس کا حامی و ناصر اللہ ہو اس کے لیے اللہ کی حمایت و نصرت کافی ہے۔ پس اپنی راہ پر آگے بڑھے چلو اور اللہ کی کارسزی اور مدد پر بھروسہ رکھو۔
Ayah 4:46مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّــۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَھُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔
اس آیت کے تمام الفاظ سورة بقرہ کی تفسیر میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ یہ ان شرارتوں کی طرف اجمالاً اشارہ ہے جو یہودی اشرار نبی کریم ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں سے گرانے اور اسلام کو بےوزن اور حقیر بنانے کے لیے کرتے تھے۔
یہود کی ایک شرارت، اچھے مجلسی الافط کا استعمال طنز کے طور پر کرنا : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، اسْمَعْ اور رَاعِنَا وغیرہ الفاظ، جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہی، عرب کے مجلسی الفاظ میں سے تھے جو متکلم کی تحسین و قدر افزائی، سامع کے اظہار ذوق و شوق اور مخاطب کے اعتراف و قبول پر دلیل ہوتے تھے۔ جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں۔ بجا ارشاد ہے۔ سرتسلیم خم ہے۔ سنیے، کیا خوب بات فرمائی ہے۔ نادر نکتہ ہے۔ مکرر ارشاد ہو۔ پھر فرمائیے۔ اسی طرح عرب میں بھی مذکورہ الفاظ و کلمات رائج تھے۔ یہ الفاظ اصلاً تو اظہار تحسین یا اعتراف و قبول کے لیے ہیں لیکن اگر کوئی گروہ شرارت اور بدتمیزی کرنا چاہے تو ذرا زبان کو توڑ مروڑ کر، تلفظ کو بگاڑ کر، یا لب و لہجہ میں ذرا مصنوعی انداز پیدا کر کے بڑی آسانی سے تحسین کو تقبیح اور اعتراف و اقرار کو طنز و استہزا بنا سکتا ہے۔ اس سے متکلم کے وقار کو کوئی نقصان پہنچے یا نہ پہنچے لیکن شرارت پسند اشخاص اس طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرکے خوش ہوجاتے ہیں۔ اب ان الفاظ کو کسی قدر وضاحت کے ساتھ سمجھ لیجیے۔
سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کا مفہوم : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کے لفظی معنی ہیں، ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اہل عرب یہ اس موقع پر بولتے تھے جب اپنے کسی بڑے، کسی سردار، کسی بادشاہ کے حکم و ارشاد پر اپنی طرف سے امتثال امر کے لیے آمادگی اور مستعدی کا اظہار کرنا چاہتے۔ عربی میں اس کے لیے طاعۃ کا لفظ بھی ہے جو قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہودی اشرار آنحضرت ﷺ کی مجالس میں جاتے تو اپنی سعادت مندی اور وفاداری کی نمائش کے لیے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا تو بات بات پر کہتے لیکن لب و لہجہ کے تصرف سے اس کو ادا اس طرح کرتے کہ اطعنا کو عصینا بنا لیتے۔ چونکہ دونوں کے حروف ہم آہنگ اور قریب المخرج ہیں اس وجہ سے اس تحریف میں ان کو کامیابی ہوجاتی اس طرح تسلیم و اطاعت کے جملہ کو نافرمانی اور سرکشی کے قالب میں ڈھال دیتے اور سمجھنے والے ان کی اس شرارت پر کوئی گرفت بھی نہ کرسکتے اس لیے کہ وہ بڑی آسانی سے یہ بہانہ بنا سکتے تھے کہ ہم نے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں شریف اور خود دار آدمی بات کو سن اور سمجھ کر بھی خاموشی سے ٹال دینے ہی کو بہتر خیال کرتا ہے۔
اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ کا مفہوم : اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ کے لفظی معنی ہیں، سنو وہ بات جو پہلے سنائی نہیں گئی۔ اس فقرے کا اچھا محل یہ ہے کہ مجلس میں متکلم یا خطیب کی کوئی حکیمانہ بات سن کر ایک سامع دوسرے سامع کو متوجہ کرے کہ یہ دانشمندانہ اور حکیمانہ بات سنیے، یہ بات پہلی بار ہمارے کانوں نے سنی ہے، اس سے پہلے یہ بات کبھی ہم نے نہیں سنی، ظاہر ہے کہ یہ بات نہ صرف متکلم اور خطیب کی قدردانی کی دلیل ہے بلکہ دوسروں کو اس کی قدردانی کے لیے تشویق و ترگیب بھی ہے لیکن کوئی شخص ہوٹنگ کے انداز میں بانداز تمسخر یہی بات کہے تو اس کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ذرا اس کی ناشنیدنی سنو، یہ کیسی بےپر کی اڑا رہا ہے، ایسی بات کا ہے کو کبھی کسی نے سنی ہوگی ! ظاہر ہے کہ محض انداز اور لب و لہجہ کی تبدیلی نے اس نہایت اعلی فقرے کو طعن و طنز کا ایک زہر آلود نشتر بنا دیا لیکن اس پر بھی کوئی گرفت نہیں ہوسکتی اس لیے کہ گرفت ہو تو کہنے والا صفائی پیش کرسکتا ہے کہ میں نے تو طنز کے طور پر نہیں بلکہ تحسین کے طور پر کہا ہے۔ چونکہ اس فقرے میں طنز کا پہلو غَيْرَ مُسْمَعٍ کے الفاظ سے پیدا ہوتا تھا اس لیے قرا ان نے اس کی یہ نوک توڑ دی، اور ہدایت کی کہ صرف اسْمَعْ کہا جائے۔
رَاعِنَا کا مفہوم : ”رَاعِنَا“ کے لفظی معنی ہیں، ذرا ہماری رعایت فرمائیے۔ اس لفظ کا اچھا محل استعمال یہ ہے کہ اگر مخاطب نے متکلم کی بات اچھی طرح سنی یا سمجھی نہ ہو یا بات ایسی لطیف اور حکیمانہ ہو کہ خود متکلم کی زبان سے اس کو مکرر سننا چاہے تو اس کو دوبارہ متوجہ کرنے کے لیے جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں، پھر ارشاد ہو، پھر فرمائیے، اسی طرح عربی میں راعنا کہتے ہیَ یہ لفظ سامع کے ذوق و شوق اور اس کی رغبت علم کی دلیل ہے۔ لیکن یہودی اشرار ’ لیّ لسان ‘ یعنی زبان کے توڑ مروڑ کے ذریعہ سے اس کو بھی طنز کے قالب میں ڈھال لیتے تھے۔ اس کی شکل یہ ہوتی کہ ’ راعنا ‘ میں ’ ع ‘ کے کسرہ کو ذرا دبا دیجیے تو یہ لفظ ’ رَاعِیْنَا ‘ بن جائے گا اور اس کے معنی ہوں گے ’ ہمارا چرواہا ‘۔ قرآن نے یہود کی اس شرارت کی وجہ سے اس لفظ کو سرے سے مسلمانوں کے مجلسی الفاظ ہی سے خارج کردیا اور اسکی جگہ ’ انظرنا ‘ کے استعمال کی ہدایت فرمائی جس کے معنی ہیں ذرا ہمیں مہلت عنایت ہو، ذرا پھر توجہ فرمائیے۔ یعنی مفہوم کے لحاظ سے یہ ٹھیک ٹھیک ’ راعنا ‘ کا قائم مقام ہے اور اس میں لہجہ کے بگاڑ سے کسی بگاڑ کے پیدا کیے جانے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ (اس لفظ پر آیت 104 کے تحت سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجئے۔ وہاں ہم نے اس مجلسی اصلاح کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے)
آخر میں فرمایا کہ حامل کتاب گروہ ہو کر یہ جسارت اور بدتمیزی جو آخری پیغمبر کے ساتھ یہ لوگ کر رہے ہیں، یہ یونہی نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی لعنت کا نتیجہ ہے جو ان کے کفر کے سبب سے ان پر ہوئی ہے۔ خدا نے ان کو اپنے دروازے سے دھتکار دیا ہے۔ اب مشکل ہی سے ان میں سے کچھ لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوگی۔
نبی پر طعن خود دین پر طعن ہے : اس آیت میں ایک اور نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ یہود کی یہ تمام شرارتیں تھیں تو نبی ﷺ پر طنز کی نوعیت کی لیکن قرآن نے ان کو طَعْنًا فِي الدِّيْنِ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ نبی درحقیقت مجسمہ دین اور مظہر شریعت ہوتا ہے اس وجہ سے اس پر طعن خود دین پر طعن ہے۔ اس نکتے پر انشاء اللہ ہم سورة حدید کی تفسیر میں بحث کریں گے۔
Ayahs 4:47–50يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔
چہروں کو مسخ کردینے کی علت : ’ طمس الشیء ‘ کے معنی ہیں کسی شے کے آثار و علامات کو مٹا دینا۔ چہروں کو مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ، کان، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیے جائیں اس لیے کہ اللہ نے یہ قوتیں نہایت اعلی مقصد سے بخشی تھیں لیکن جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ عطا ہوئیں تھیں بلکہ اس کے بالکل برعکس یہ سب چیزیں ٹھوکر کھانے کے گڑھے بن کر رہ گئی ہیں تو آخر یہ گڑھے کیوں باقی رکھے جائیں، یہ یہ بھر کیوں نہ دیے جائیں ؟ یہ ملحوظ رہے کہ سورة بقرہ میں ان لوگوں کو صم، بکم، عمی کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سب کچھ رکھتے ہوئے یہ گونگے، بہرے اور اندھے بن چکے ہیں تو یہ اسی کے سزاوار ہیں کہ یہ نشانات بھی مٹا ہی دیے جائیں۔
’ وجوھا ‘ کے نکرہ لانے کی بلاغت : ’ وجوھا ‘ کی تنکیر میں بھی بڑی بلاغت ہے۔ یہ تنکیر نفرت و کراہت کے اظہار کے لیے ہے۔ اوپر والی آیت میں ان پر لعنت کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس تنکیر سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ یہ معلوم چہرے اس درجہ قابل نفرت ہیں کہ متکلم تعین کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ چناچہ وجوھَھُم نہیں کہا بلکہ ان سے منہ پھیر کر وجوھاً کہا۔ اس قسم کی تنکیر افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا (محمد :24) میں لفظ قلوب میں بھی ہے۔ اس کی بلاغت پر ہم اس کے محل میں انشاء اللہ بحث کریں گے۔
فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ کا مفہوم : اسی اوپر والی بات کی تفصیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کے چہرے اور گدی میں کوئی فرق ہی نہیں، جس طرح پیچھے کا حصہ سپاٹ ہے اسی طرح عملاً آگے کا حصہ بھی سپاٹ ہے اسی طرح عملاً آگے کا حصہ بھی سپاٹ ہی ہے تو یہ آگے کا حصہ بھی پیچھے ہی کی طرف کیوں نہ موڑ دیا جائے۔
اصحاب سبت، پر لعنت کی وجہ اور اس کے اثرات پر بقرہ کی آیات 65-66 کے تحت مفصل بحث گزر چکی ہے۔
یہ
یہود کو آخری دھمکی : یہ آیت یوہد کے لیے دعوت کی نہیں بلکہ تہدید و وعید کی آیت ہے۔ دعوت کا ذکر اس میں محض اتمام حجت کے طور پر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب یہ آخری موقع ہے کہ تم سنبھلنا چاہو تو سنبھل جاؤ۔ یہ موقع نکل گیا تو پھر یہ کبھی میسر نہ آئے گا۔ بہتر ہے کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جو تمہاری اپنی کتاب کی پیشین گوء یوں کی تصدیق کرتی ہوئی اتری ہے۔ ورنہ یاد رکھو کہ اب تمہارے لیے وہ وقت آپہنچا ہے کہ تمہارے چہرے بگاڑ دیے جائیں یا تمہارے اوپر بھی اسی طرح کی لعنت کردی جائے جس طرح کی لعنت سبت والوں پر کردی گئی کہ وہ ذلیل بندر ہو کر رہ گئے۔
وہ لعنت جس کے یہود مستحق تھے۔ رحمت کی طرح لعنت اور نقمت کے بھی مختلف مدارج ہوتے ہیں۔ یہاں ان کو جس درجے کی لعنت کی دھمکی دی گئی ہے یہ وہ لعنت ہے جس کے فی الواقع وہ اپنی شرارتوں کی وجہ سے مستحق بن چکے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس سے کم درجے کی لعنت ان پر کی تو یہ ان کو گویا تھوڑی سی مہلت دی گئی اور ہر مہلت جو کسی قوم کو ملتی ہے اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتی تو یہ اس کے اخروی عذاب میں زیادتی کا باعث ہوتی ہے۔
عمل اور سزا میں مشابہت : یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال ہوتا ہے کہ چہروں کو بگاڑ دینے کی دھمکی جو ان کو دی گئی اس میں عمل اور سزا کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اوپر والی آیت میں ان کی یہ حرکت جو بیان ہوئی ہے کہ پیغمبر کا مذاق اڑانے کے لیے منہ بنا بنا کر اور لہجے بگاڑ بگار کر الفاظ کو کچھ سے کچھ کردیتے ہیں اور اس منہ بنانے اور الفاط کے بگاڑنے کو انہوں نے ہنر سمجھ رکھا ہے اس کی بنا پر وہ مستحق ہوئے کہ واقعی ان کے چہرے مسخ ہی کردیے جائیں۔ علی ہذا القیاس جنہوں نے حق سے منہ مورنے ہی کو شیوہ بنا لیا ہے تو وہ سزوار ہیں کہ ان کے پیوٹے پیچھے ہی کی طرف الٹ دیے جائیں۔
وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آدمیوں کے چہروں کو گدیوں کی طرح سپاٹ کردینا، ان کو الٹ دینا یا ان کو مسخ کر کے بندروں کی شکل کا کردینا خدا کے لیے کوئی مشکل کام ہے۔ اس کے کسی حکم اور اس کے وقوع میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ دھر حکم ہوا ادھر اس کا نتیجہ موجود۔
Ayah 4:51اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰٓؤُلَاۗءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا۔
جبت اور طاغوت کا مفہوم : جبت سے مراد اعمال سفلیہ، مثلا سحر، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، رمل جفر، فال گیری، نجوم، آگ پر چلنا اور اس قسم کی دوسری خرافات ہیں۔ ہاتھ کی لکیروں کا علم بھی اسی میں شامل ہے۔
سورة بقرہ کی تفسیر میں آیات 286، 288 کے تحت ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ یہود اپنے دور زوال میں کتاب الٰہی کو پسِ پشت ڈال کر بس انہی چیزوں کے ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کے انبیاء نے نہایت درد انگیز الفاظ میں ان کی اس حالت پر نوحہ کیا ہے۔ اس سے متعلق ضروری حوالے وہاں نقل ہوئے ہیں۔ یہاں اعادے میں طوالت ہوگی۔
طاغوت پر تفصیلی بحث بقرہ کی آیت 256 کے تحت گزر چکی ہے۔
دین کی بنیاد توحید پر ہے : دین کی بنیاد توحید پر ہے۔ یہ صرف عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ہی نہیں ہے بلکہ سارے دین کے قیام و بقا کا انحصار اسی پر ہے۔ جو لوگ ہر پہلو سے اس کی حفاظت کرتے ہیں وہی اپنی دوسری کوتاہیوں کے باوجود اپنے اصلی دین کی حفاظت کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جو لوگ توحید میں رخنہ پیدا کردیتے ہیں وہ اصلی دین کو ہدم کردیتے ہیں۔ چناچہ ان کے دوسرے کام بھی، جو بظاہر دینداری کے ہوں، بالکل بےسود ہو کر رہا جاتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرمائے گا لیکن دوسرے گناہوں کو جن لیے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ ’ جن کے لیے چاہے گا ‘ کی قید اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرے گناہوں کے معاملے میں بھی کسی کو دلیر نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ان کی معافی بھی اللہ ہی کی مشیت پر منحصر ہے۔ اس کی مشیت میں نہ تو کسی دوسرے کو کوئی دخل ہے، نہ اس کی کوئی مشیت حکمت سے خالی ہے۔ علاوہ ازیں گناہوں کے معاملے میں دیدہ دلیری اور ڈھٹائی بجائے خود بھی شرک کی ایک قسم ہے۔
شرک کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا : یہ تمہید اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے بیان ہوئی ہے کہ یہود جو لعنت کے مستحق قرار پائے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حامل کتاب ہوتے ہوئے انہوں نے دین کی جو بنیاد ہے وہی اکھاڑ دی ہے اور اس کی جگہ انہوں نے شرک کو اختیار کرلیا ہے۔ ’ شرک ‘ اللہ پر ایک افترائے عظیم ہے جس کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف فرمانے والا نہیں ہے۔ شرک کو افترا کہنے کی وجہ ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں کہ شرک کرنے والے اپنی تمام مشرکانہ حرکات کو دین کی سند دینے کے لیے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان باتوں کا حکم ان کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر صریح تہمت ہے۔ اور اگر کوئی گروہ جو اللہ کے دین کی گواہی دینے پر مامور ہو، وہ خدا پر تہمت باندھنے کا پیشہ اختیار کرلے تو وہ لعنت کے سوا اور کس چیز کا مستحق ہوسکتا ہے !
اس تمہید کے بعد یہاں ان کے تین قسم کے شرک گنائے ہیں۔
یہود کے مشرکانہ اعمال و عقائد : ایک یہ کہ یہ اپنے آپ کو ایک برتر اور برگزیدہ گروہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اللہ کے محبوبوں کی اولاد اور خود خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے خدا کے ہاں کوئی باز پرس یا سزا نہیں ہے۔ ان کے اعمال و اخلاق خواۃ کچھ ہوں، اول تو یہ دوزخ میں ڈالے ہی نہیں جائیں گے، اگر ڈالے بھی گئے تو محض تھوڑی مدت کے لیے۔ اس گھمنڈ نے ان کو عمل اور اطاعت کی ذمہ داریوں سے بالکل فارغ کردیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بندگی کے دائرے سے نکال کر الوہیت کے زمرے میں داخل کرلیا ہے حالانکہ کہیں بھی اللہ نے ان کو برگزیدگی کی یہ سند عطا نہیں فرمائی ہے جس کسی کو بزرگی عطا ہوتی ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور خدا نے اس چیز کو ایمان و عمل اور نیکی وتقوی سے وابستہ کیا ہے کہ نسل و نسب سے۔ ہر شخص جو کرے گا وہ بھرے گا۔ اللہ ان کے ساتھ ذرہ برابر بھی ناانصافی کرنے والا نہیں۔ اپنی برتری کا یہ عقیدہ جو انہوں نے گھڑا ہے، یہ ان کا اپنا طبع زاد ہے۔ اس کو خدا سے جو وہ منسوب کرتے ہیں تو یہ خدا پر جھوٹا افترا ہے اور ان کے مجرم ہونے کے لیے، دوسرے جرائم سے قطع نظر، یہی جرم کافی ہے۔
اعمال سفلیہ اور ارواح خبیثہ : دوسرا یہ کہ حامل کتاب ہوتے ہوئے یہ جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے اور اعمال سفلیہ کے قائل اور ان پر عامل ہیں۔ اعمال سفلیہ کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا تعلق بیشتر شیطانی قوتوں اور ارواحِ خبیثہ سے ہوتا ہے۔ انہی کو یہاں طاغوت کہا گیا ہے۔ جو لوگ ان اعمال کے درپے ہوتے ہیں اول تو وہ ارواح خبثہ کو بالذات مؤثر مانتے ہیں پھر ان سے تعلق پیدا کرنے اور ان کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کے لیے ان کو نہ صرف خلاف شرع بلکہ صریح مشرکانہ اعمال کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے جس سے عقیدہ اور عمل دونوں یک قلم تباہ ہو کے رہ جاتے ہیں۔ تفسیر سورة بقرہ میں اس پر جو کچھ لکھا جا چکا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
تیسرا یہ کہ یہ لوگ اہل ایمان کے مقابل میں کفار و مشرکین کی حمایت کرتے اور ان کو مسلمانوں سے زیادہ حق و ہدایت پر سمجھتے ہیں۔ یہ بات سورة بقرہ اور آل عمران میں بھی گزر چکی ہے۔
اہل ایمان کے بالمقابل مشرکین کی حمایت : یہود اسلام کی مخالفت میں اتنے اندھے ہوگئے تھے کہ کھلم کھلا مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر ترجیح دیتے تھے اور اپنی اس مخالفت کے لیے آڑ اسلام کی ان تعلیمات اور رخصتوں کو بناتے تھے جو ان کی بدعات یا ان کی شریعت کے تشددات کے خلاف تھیں۔ مثلا حدث اور جنابت کی حالت میں، اسلام نے پانی میسر نہ آنے کی صورت میں، تیمم کی اجازت دی تو اس کو بھی انہوں نے فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ بھلا جو مذہب جنابت کی حالت میں زمین پر ہاتھ مار کر نماز تک پڑھ لینے کی اجازت دیتا ہو وہ بھی کوئی خدائی مذہب ہوسکتا ہے، ان سے زیادہ اچھا مذہب تو ان بت پرستوں کا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ طہارت کے باب میں یہود کے فقہاء نے اتنے تشددات پیدا کرلیے تھے کہ آدمی حالت جنابت میں بالکل ہی اچھوت بن کے رہ جاتا تھا۔ جنابت تو درکنار انجیل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودی فقہاء حضرت مسیح کے صحابہ پر اس بات کے لیے بھی معترض ہوتے تھے کہ یہ لوگ بعض اوقات ہاتھ دھوئے بغیر ہی کھانا کھالیتے ہیں۔ سیدنا مسیح نے ان کی اسی طرح کی خردہ گیریوں پر ان کو سفیدی پھری ہوئی قبروں سے تشبیہ دی تھی کہ جس طرح قبروں کے اوپر سفیدی پھری ہوئی ہوتی ہے لیکن اندر سڑی گلی ہوئی ہڈیاں ہوتی ہیں اسی طرح یہ لوگ اوپر سے تو بڑے اجلے اور صاف معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر لوٹ کا مال بھرا ہوا ہے۔ یہود کی یہی ذہنیت مسلمانوں کے خلاف نمایاں ہوئی۔ وہ مشرکین تک کو گوارا کرنے کے لیے تیار تھے۔ نہیں تیار تھے تو مسلمانوں کو گوارا کرنے کے لیے ! ظاہر ہے کہ جس طرح حق کی حمایت حق پرستی ہے اسی طرح شرک کی حمایت شرک پرستی ہے۔
Ayah 4:52اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے ان کا کوئی مددگار ان کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ جس پر خدا کی لعنت ہوجائے خدا کے ہاں سے اس کی جڑ جاتی ہے اور جس درخت کی جڑی کٹ جائے اسے کوئی لاکھ پانی دے اس کا ہرا ہونا ممکن نہیں۔
Ayah 4:53اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا۔ ملک سے مراد یہاں خدائی اقتدار و اختیار ہے اور الناس سے مراد یہاں مسلمان ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ کیا خدا کے اقتدار و اختیار میں کچھ ان کی بھی حصہ داری ہے کہ اس کے فضل انعام میں سے یہ جس کو چاہیں حصہ دیں، جس کو چاہیں محروم کردیں، چناچہ اپنے اسی اختیار کی بنا پر وہ مسلمانوں کو خدا کے فضل و کرم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس تمام بوالفضولی سے کیا حاصل ؟ تقدیر الٰہی سے پنجہ آزمائی کر کے کون جیتا ہے جو یہ جیت سکیں گے !