4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو، حق پر جمے رہو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے۔ اگرچہ یہ شہادت خود تمہاری اپنی ذات، تمہارے والدین اور تمہارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ کوئی امیر ہو یاغریب، اللہ ہی دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے تو تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر کج کروگے یا اعراض کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 135 تا 152:۔ آگے پہلے مسلمانوں کو اس فریضہ منصبی کی یاد دہانی فرمائی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل کتاب کو معزول کرکے، مامور فرمایا ہے، پھر منافقین کے خطرات سے ان کو ہوشیار بھی کیا ہے اور منافقین کو تنبیہ بھی کی ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۔ كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ۔ " قسط " کے لفظ پر آل عمران کی آیات 18 اور 21 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اس سے مراد حق و عدل کی وہ میزان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی شکل میں عطا فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارا ہر قول و فعل اسی باٹ اور اسی ترازو سے تولا ہوا ہو اور تم اسی پر قائم رہنے والے اور اسی کو قائم کرنے والے بنو۔ شہداء اللہ، یعنی مجرد اس پر قائم رہنا ہی تمہاری ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تم دنیا کے سامنے اللہ کی طرف سے اس کے داعی اور گواہ بھی ہو جیسا کہ فرمایا ہے۔ وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا (اور اسی طرح ہم نے تم کو وسط شاہرا پر قائم رہنے والی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہی دے " عدل پر قائم رہو خواہ اپنے حق میں ہو یا اپنے خلاف : وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ، یعنی یہ میزان عدل صرف لینے ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ دینے کے لیے بھی ہے۔ اگر اس کا فیصلہ کسی معاملے میں تمہارے، تمہارے والدین اور تمہارے اقربا کے خلاف ہو جب بھی تمہیں اسی پر قائم رہنا اور اسی کی گواہی دینا ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ یہود کو جو کتاب دی گئی تو وہ اس کی وہ باتیں تو مانتے تھے جو اپنی خواہشوں کے مطابق پاتے لیکن جو باتیں ان کی خواہشوں کی خلاف پڑتیں ان سے کسی کنی کاٹ جاتے۔ امیر اور غریب دونوں کے لیے ایک ہی باٹ اور ایک ہی ترازو : اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا۔ یعنی یہ جائز نہیں ہے کہ امیر کے لیے اور باٹ سے تولو، غریب کے لیے اور باٹ سے، قوی اور بااثر کے لیے الگ قانون و شریعت ہو، کمزور و بےاثر کے لی الگ حکم و فتوی بلکہ سب کو اللہ کے ایک ہی قانونِ عدل کے تحت ہونا چاہیے اس لیے کہ اللہ کا حق سب پر یکساں قائم ہے اور یہ حق دوسرے تمام حقوق سے بڑا ہے۔ اگر کوئی شخص امیر اور با اثر ہے تو اس وجہ سے وہ خدا کے حق سے بری الذمہ نہیں ہوجاتا کہ وہ خدا کے قانون کی ذمہ داریوں سے بری کردیا جائے اور اس کے ساتھ کسی اور قانون کے تحت معاملہ کیا جائے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنے کے لیے حضور کے اس ارشاد کو سامنے رکھیے جو حضرت عائشہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں " جب ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی تو اس کے معاملے کی قریش کو بڑی فکر ہوئی۔ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ کون شخص ایسا ہوسکتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کرے۔ بالآخر یہ طے پایا کہ اس کی جرات صرف اسامہ بن زید کرسکتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بڑے چہیتے ہیں۔ لوگوں کے کہنے پر اسامہ نے حضور سے اس کی سفارش کی۔ حضور نے فرمایا، اسامہ، تم اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں سفارش کرنے آئے ہو، پھر آپ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا، لوگو، تم سے پہلے قوموں کو اسی چیز نے تباہ کیا کہ ان کا حال یہ ہوگیا تھا کہ اگر ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم میں ایسا نہیں کرنے کا۔ میں تو اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ (متفق علیہ) " " اتباع ہوا "، " ہدی اللہ " کی ضد ہے : فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا۔ ھوی، ھدی اللہ کی ضد ہے یعنی اگر تم نے اللہ کی یہ ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشوں اور بدعتوں کی پیروی کی تو تم اس قسط سے ہٹ جاؤگے جس پر اللہ تعالیٰ نے تم کو قائم کیا ہے اور جس کی دعوت اور شہادت پر تم مامور کیے گئے ہو۔ نظام قسط کو بگارنے کی دو صورتیں : َاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا۔ اس میں اس نظام قسط کو بگاڑنے کی دو شکلوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کو کج کرنے، بگاڑنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ یہود نے کیا اور جس کا ذکر آل عمران کی آیت 78 یلوون السنتہم بالکتاب الایۃ میں ہوا ہے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو بگاڑنے کی کوشش تو نہ کی جائے، اس کی شکل باقی رہے لیکن زندگی کے معاملات میں اس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ فرمایا کہ ان میں سے جو ظلم بھی کروگے خدا اس سے بیخبر نہیں رہے گا میں اس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔ فرمایا کہ ان میں سے جو ظلم بھی کروگے خدا اس سے بیخبر نہیں رہے گا اور جب بیخبر نہیں رہے گا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس جرم عظیم کی سزا دیے بغیر بھی نہ چھوڑے گا۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو، ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری۔ اور جو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ زبان کا ایک اسلوب : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا۔ ہم دوسرے مقام پر زبان کا یہ اسلوب واضح کرچکے ہیں کہ فعل اپنے ابتدائی اور ظاہری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اپنے حقیقی اور کامل معنی میں بھی۔ یہاں مسلمان من حیث الجماعت مخاطب ہیں جن میں خام و پختہ، ناقص و کامل اور مخلص و منافق ہر قسم کے عناصر شامل تھے۔ ان سب کو خطاب کر کے تنبیہ فرمائی ہے کہ اے ایمان کا دعوی کرنے والو، سچے اور پکے مومن بن جاؤ، گویا خطاب تو عام ہے لیکن روئے سخن خام کاروں اور مدعیوں کی طرف ہے۔ قرآن سے پہلے اصل کتاب الٰہی کی حیثیت صرف تورات کو حاصل رہے : وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ، میں کتاب سے مراد تورات ہے۔ واحد سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سے پہلے اصل کتاب الٰہی کی حیثیت درحقیقت تورات ہی کو حاصل ہے، دوسرے انبیا کے صحیفوں کی حیثیت مستقل بالذات صحیفوں کی نہیں ہے اس لیے کہ ان انبیا میں سے سب تورات ہی کے داعی بن کر آئے۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح بھی درحقیقت تورات ہی کو قائم کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان انبیا کے صحیفوں میں جو تعلیم ہے وہ تورات سے کوئی الگ شے نہیں بلکہ اسی کے احیاء و تجدید کی دعوت اور اسی کے حکم و اسرار کا اظہار وبیان ہے۔ اس وجہ سے باعتبار حقیقت تو ایک ہی کتاب ہے لیکن ظاہر کا لحاظ کیا جائے تو جمع بھی قرار دے سکتے ہیں۔ قرآن نے دونوں طرح سے ذکر کیا ہے اور اس سے مقصود اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے تاکہ ظاہری تعدد کو جن نادانوں نے تفریق بین الرسل کا ذریعہ بنایا ان کو اپنی حماقت پر تنبہ ہو۔ " انزل " اور نزل " میں فرق : یہاں " نزل " اور " انزل " کا فرق بھی قابل توجہ ہے۔ جو لوگ عربی زبان کی باریکیوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ " انزل " کا مفہوم تو مجرد اتار دینا ہے لیکن " نزل " کے اندر اہتمام اور تدریج کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ لفظوں کا یہ فرق تورات اور قرآن دونوں کے اتارے جانے کی نوعیت کو واضح کر رہا ہے۔ یہاں یہ اشارہ کافی ہے۔ کسی موزوں محل میں ہم اس پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔ یہ آیت سابق اور لاحق کے درمیان بیچ کی کڑی ہے : اس آیت میں ایمان کے جو اجزا مذکور ہوئے ہیں ان سب پر تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ میں بحث ہوچکی ہے۔ یہاں جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ آیت اور پر کی آیت اور آگے کی آیات کے درمیان بیچ کی کڑی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف تو یہ اس کلمہ جامعہ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو امت و سط اور قائم بالقسط امت کا کلمہ ہے یعنی بلا تفریق تمام انبیاء و رسل اور تمام آسمانی صحیفوں پر ایمان جو اس بات کی شہادت ہے کہ یہ امت عدل و قسط پر قائم ہے، یہود و نصاری کی طرح تعصت و تخرب کے جنون میں مبتلا ہو کر اس نے حق و عدل کی شاہراہ نہیں چھوڑی۔ دوسری طرف یہ ان منافقین کے ذکر کی تمہید ہے۔ جو یا تو خود یہود میں سے تھے یا درپردہ ان کے زیر اثر تھے۔ اس وجہ سے بعینہ انہی گمراہیوں میں مبتلا تھے جو یہود کا ورثہ تھیں، چناچہ بعد کی آیات سے اس حقیقت کا پوری طرح انکشاف ہوگیا۔
Ayahs 4:137–138

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے گئے، اللہ نہ ا کی مغفرت فرمانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقوں کو خوش خبری دے دو کہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

137۔ 138:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَھُمْ وَلَا لِيَهْدِيَھُمْ سَبِيْلًا۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا۔ اہل کتاب کے اندر سے آئے ہوئے منافقین کا کردار : اہل ایمان کا صحیح موقف و مقام واضح کرنے کے بعد منافقین کی طرف توجہ فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر ہی بڑھتے گئے، یہ خدا کی مغفرت اور ہدایت کے سزوار نہیں ہیں، ان منافقین کو خدا کے دردناک عذاب کی بشارت پہنچا دو۔ یہ بات کہ یہاں ذکر منافقین ہی کا ہے خود قرآن کی ان آیات ہی سے واضح ہے۔ " بشر المنافقین " کے الفاظ سے خود یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ کن لوگوں کا کردار بیان ہوا ہے۔ البتہ یہ سوال قابل غور ہے کہ یہ ایمان پھر کفر، پھر ایمان، پھر کفر کی حالت جو ان کی بیان ہوئی ہے یہ محض ان کے تذبذب کی ایک تصویر ہے یا بیان واقعہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ بیان واقعہ ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ یہ منافقین زیادہ تر اہل کتاب بالخصوص یہود میں سے تھے اور انہی کے زیر اثر بھی تھے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ان کے ایمان و کفر کا ایک کھیل تو وہ ہے جو وہ تورات کے ساتھ پہلے کھیل چکے ہیں اور دوسرا کھیل یہ ہے جو وہ اسلام کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پہلے آگے بڑھ کر اس کے ماننے کا اقرار کیا اور اب رات دن اس کے خلاف سازشیں کرنے کے درپے ہیں۔ فرمایا کہ اب ان کو خدا نہ تو بخشنے کا ہے نہ ان کو کوئی اور راہ دکھانے کا ہے۔ کوئی اور راہ دکھانے سے مطلب یہ ہے کہ اب ان پر حجت تمام ہوچکی ہے، اب ان کے مزید امتحان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب ان کے لیے صرف جہنم کی راہ باقی رہ گئی ہے۔ آگے اس مضمون کو اس طرح واضح فرمادیا ہے " ان الذین کفروا وطلموا لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیھدیم طریقا الا طریق جہنم : جن لوگوں نے کفر کیا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، اللہ نہ تو ان کو بخشنے کا ہے اور نہ کوئی اور راستہ ان کو دکھانے کا ہے بجز جہنم کے راستے کے، اسی مضمون کو یہاں بشر المنافقین بان لہم عذابا الیما سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayahs 4:139–140

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

ان کے لیے جو مسلمانوں کے مقابل میں کافروں کو دوست بنائے ہوئے ہیں۔ کیا ان کے ہاں عزت و رسوخ چاہتے ہیں، عزت تو سراسر اللہ کے لیے ہے

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور وہ کتاب میں تم پر یہ ہدایت نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ آیات الٰہی کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو تاآنکہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں ورنہ تم بھی انہی کے مانند ہوجاؤگے۔ اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے

139۔ 140:۔ الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ ڮ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا۔ " وقد نزل علیکم فی الکتاب " میں سورة انعام آیت 68 کا حوالہ ہے : " وقد نزل علیکم فی الکتاب " میں حوالہ ہے سورة انعام کی آیت 68 کا۔ وہاں فرمایا ہے۔ واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین (اور جب تم ان کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں کج بحثیاں کر رہے ہیں تو ان سے اعراض کرو یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تمہیں شیطان یہ بات فراموش کرادے تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھو) پھر یہ مضمون اسی انعام کی آیت 70 میں بھی بیان ہوا ہے۔ مجالس میں اللہ کی آیات کا مذاق : الذین یتخذون الایۃ، یہ منافقین کی صفت بیان ہوئی ہے کہ یہ مسلمانوں کے بالمقابل کفار یعنی یہود کو اپنا دوست اور کارساز بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں عزت و سرخروئی حاصل کرنے کے آرزو مند ہیں حالانکہ عزت و ذلت سب خدا کے اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے۔ یہ ان کی مجالس میں حاضری دیتے ہیں جہاں اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں یہ صریح ہدایت نازل ہوچکی ہے کہ جب دیکھو کہ اللہ کی آیات کا کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ یہ مذاق اڑانے والے کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو یہ بھی انہیں کا ساتھی بن جاتا ہے اس لیے اللہ ایسے منافقوں کو انہی کافروں کے ساتھ دوزخ میں جمع کرے گا۔ جن مجلسوں میں اللہ کے دین اور اس کی شریعت کا تہتک ہو ان میں اگر کوئی مسلمان شریک ہو تو یہ اس کی بےحمیتی اور بےغیرتی کی دلیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان میں شرکت کو اپنے لیے وجہ عزت و شرف سمجھتے تو یہ صرف بےحمیتی کی ہی نہیں بلکہ اس کے مسلوب الایمان ہونے کی بھی دلیل ہے۔ اس قسم کے منافقوں کا حشر انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کے ساتھ خدا کے دین کے استہزا میں یہ شریک رہے ہیں۔ اس آیت سے دعوت دین کے بعض اہم اصول بھی نکلتے ہیں لیکن ان پر گفتگو کے لیے موزوں مقام سورة انعام میں آئے گا۔
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

ان کو جو تمہارے لیے گردشوں کے متنظر ہیں۔ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کی کوئی جیت ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر چھائے نہیں رہے اور ہم نے مسلمانوں سے تم کو بچایا نہیں ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اور اللہ کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭفَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۔ استحوذ علیہ کا مفہوم : استحوذ علیہ کے معنی ہیں احاطہ بہ، غلبہ، استولی علیہ اس کو گھیرے میں لے لیا۔ اس پر غالب آگیا۔ نر، مادہ کو جب اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے، کسی دوسرے نر کو اس کی طرف بڑھنے نہیں دیتا تو اس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یتربصون بکم یعنی یتربصون بکم الدوائر، تمہارے لیے گردشوں کے منتظر رہتے ہیں۔ منافقین کی دو طرف ساز باز : یہ انہی منافقین کے کردار کی مزید تفصیل ہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے نہایت بدخواہ ہیں۔ یہ ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہیں کوئی افتاد پیش آئے، کوئی ٹھوکر لگے، تم شکست کھاؤ۔ تمہیں فتح حاصل ہو تو کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کہیں دشمن کا پلہ بھاری ہوجائے تو ان کے پاس پہنچیں گے اور ان کو یقین دلائیں گے کہ یہ تو ہماری تدبیر تھی کہ تم مسلمانوں سے محفوظ رہے۔ ہم اس طرح تمہیں بچائے رہے کہ مسلمان تم پر کھل کر حملہ نہ کرسکے اور ان کا پورا دباؤ تم پر نہ پڑسکا۔ فرمایا کہ آج یہ ان سخن سازیوں سے کام چلا رہے ہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ سارے حالات بےنقاب ہوجائیں گے اس دن خدا تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے گا اور تمہارے مقابل میں ان کی کچھ پیش نہ جائے گی۔ اس دن یہ الم نکن معکم کا دعوی نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافقین خدا سے چالبازی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ چال وہ ان سے چل رہا ہے اور جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو الکسائے ہوئے اٹھتے ہیں محض لوگوں کے دکھانے کے لیے اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

درمیان ہی میں لٹک رہے ہیں، نہ ادھر ہیں نہ ادھر، اور جسے اللہ گمراہ کردے تو تم ان کے لیے کوئی راہ نہیں پا سکتے

142۔ 143:۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا۔ یخدعون اللہ و ھو خادعہم : کے ہر پہلو پر پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی آیت 9 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ منافقین کے تذبذب کی تصویر : مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ، ذَبْذَبَ الشیء کے معنی ہیں، چیز فضا میں ٹنگی ہوئی حرکت کرر رہی ہے۔ ذبذب الرجل کے معنی ہیں آدمی حیران و متردد ہے۔ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ، یعنی نہ مسلمانوں کے ساتھ نہ کفار کے ساتھ، دونوں کے بیچ میں حیران و درماندہ، کبھی مسلمانوں کے پاس جا کر ان کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، کبھی کفار کے پاس پہنچ کر ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں حالانکہ ساتھ کسی کے بھی نہیں، دو گلوں کے بیچ میں بھٹکنے والی بکری کے مانند کبھی اس گلے میں شامل ہوجاتے ہیں کبھی دوسرے گلے میں۔ یہ ملحوظ رہے کسالی، یراءون، اور مذبذبین، تینوں حال پڑے ہوئے ہیں۔ ان تینوں کو بیک وقت چشم تصور کے سامنے لائیے تب صحیح تصویر سامنے آئے گی۔ اللہ کے ساتھ دھوکا بازی کرنے والا خود دھوکے میں ہے : مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین صرف اللہ کے بندوں ہی کو دھوکا نہیں دے رہے ہیں بلکہ خدا کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ جو خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے وہ خدا کو دھوکا نہیں دیتا بلکہ خود اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے اس لیے کہ خدا اس کی رسی دراز کردیتا ہے جس سے وہ سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کو دھکا دے دیا ہے حالانکہ دھوکا اس نے خدا سے کھایا۔ واذا قامو الی الصلوۃ الایۃ، یہ ان کی اس دھوکا بازی کی مثال ہے یعنی نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو طبیعت پر جبر کر کے، الکسائے ہوئے، مارے باندھے محض اس ڈر سے اٹھتے ہیں کہ اگر شریک جماعت نہ ہوئے تو مسلمانوں کے رجسٹر سے نام ہی خارج ہوجائے گا۔ یہ محض دکھاوے کی نماز ہوتی ہے کہ مسلمان ان کو اپنے اندر شامل سمجھیں اس وجہ سے اس میں اللہ کا ذکر اتنا ہی ہوتا ہے جتنا مجبوری اور دکھاوے کی نماز ہوتی ہے کہ مسلمان ان کو اپنے اندر شامل سمجھیں اس وجہ سے اس میں اللہ کا ذکر اتنا ہی ہوتا ہے جتنا مجبور اور دکھاوے کی نماز میں ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ صریح دھوکہ بازی ہے۔ فرمایا یہ خدا کے راندے ہوئے ہیں، اس نے ان کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا ہے اور جن کو خدا نے بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا ہو اب ان کو راہ پر کون لا سکتا ہے۔ صدرِ اول میں مسجد کی حاضر ایمان اور کفر کے درمیان علامت فارق تھی : اس آیت سے یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ اس دور میں مسجد کی حاضری ایمان اور کفر کے درمیان ایک علامت فارق کی حیثیت رکھتی تھی۔ جو شخص بلا کسی عذر معلوم کے مسجد سے غیر حاضر رہتا اس کے لیے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرانا ہی ناممکن ہوجاتا۔ ایک یہ دور تھا یا اب یہ دور آیا ہے کہ جماعت کی حاضری تو درکنار سرے سے نماز پڑھنا ہی مسلمان سمجھے جانے بلکہ مسلمانوں کا لیڈر مانے جانے کے لیے بھی ضروری نہیں رہا۔ یا للعجب !
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو، مسلمانوں کے مقابل میں کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی صریح حجت قائم کرالو

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۔ " الکافرین " اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ مراد اس سے وہی اہل کتاب ہیں جن سے منافقین کا ساز باز تھا۔ " من دون المومنین " کی قید یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کفار کو دوست اور حلیف بنانا اسی حالت میں ممنوع ہے جب یہ مسلمانوں کے بالمقابل ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ " سلطانا مبینا " واضح اور قطعی حجت : مسلمانوں کے بالمقابل کفار سے دوستی دلیل کفر ہے : خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن منافقین ہی کی طرف ہے کہ مسلمانوں کے بالمقابل کفار کو اپنا دوست اور ساتھی نہ بناؤ۔ یہ جرم کو معمولی جرم نہیں ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کر کے تم اپنے خلاف اللہ کو ایک ایسی حجت قاطع دے دوگے کہ پھر تمہارے لیے کسی عذر کی گنجائش باقی نہ رہ جائے گی۔ تمہارا کفر بالکل قطعی اور تمہارا سزاوار دوزخ ہونا بالکل مبرہن ہوجائے گا
Ayahs 4:145–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہوں گے اور تم ان کا کوئی مددگار نہ پاؤگے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

البتہ جو توبہ اور اصلاح کرلیں گے اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑیں گے اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کرلیں گے وہ ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ ایمان والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

خدا کو تمہیں عذاب دینے سے کیا نفع ہے اگر تم شکر گزاری اختیار کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ تو بڑا قبول فرمانے والا اور جاننے والا ہے

145۔ 147:۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا۔ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَاَخْلَصُوْا دِيْنَھُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۔ الدرک الاسفل کا مفہوم : الدرک الاسفل، درک کے معنی اقصی قعر الشیء، یعنی کسی شے کا سب سے نچلا حصہ۔ دین بمعنی اطاعت : واخلصو دینہم : لفظ دین کے مختلف معانی پر ہم کہیں بحث کرچکے ہیں۔ ازاں جملہ اس کے معنی اطاعت کے بھی ہیں۔ مثلا قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصا لہ الدین : کہہ دو مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں اس کی مخلصانہ اطاعت کے ساتھ "۔ منافقین کا درجہ کفار سے بھی نیچے ہے : یہ منافقین کو آخری تنبیہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کفر صریح کے بالمقابل ان کا یہ مذبذب ایمان بھی تو بہر حال کچھ قیمت رکھتا ہی ہے۔ فرمایا کہ نہیں، یہ منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے یعنی ان کا درجہ کٹر اور معاند کفار کے درجے سے بھی نیچے ہے۔ توبہ کے سوا کوئی چیز بھی ان کو اس انجام سے نہیں بچا سکتی۔ اور اس توبہ کے لیے اصلاح، اعتصام باللہ اور اخلاص کی شرط ہے۔ اصلاح یعنی اپنے رویے کی اصلاح کریں، اعتصام یعنی اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑیں، اخلاص یعنی اللہ و رسول کی مخلصانہ اطاعت کریں، بغیر کسی تذبذب اور ریا کے۔ فرمایا کہ تب یہ آخرت میں مسلمانوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔ اور یہ اطمینان رکھیں کہ اللہ کے ہاں اہل ایمان کے لیے بڑا اجر ہے۔ اس کے بعد خود ان منافقین کو مخاطب کرکے، بانداز التفات فرمایا کہ خدا کو تمہیں عذاب دینے میں کوئی نفع نہیں ہے۔ اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان اختیار کرو تو اللہ بڑا قدر دان اور ہر ایک کے ایمان و عمل سے اچھی طرح باخبر ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ فلسفہ دین کے اعتبار سے شکر ہی سچے ایمان کا سرچشمہ ہے۔ نیز یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ بعض مرتبہ نسبت کے بدل جانے سے الفاظ کے معنی بدل جاتے ہیں۔ چناچہ شکر کی نسبت جب خدا کی طرف ہوتی ہے تو اس کے معنی قبول کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں باتوں پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کوئی مظلوم ہو۔ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم نیکی کو ظاہر کروگے یا اس کو چھپاؤ گے یا کسی برائی سے درگزر کروگے تو اللہ معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے

148۔ 149:۔ لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا۔ اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْۗءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا۔ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے : یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی ایک تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ آیت 86 میں گزرچکی ہے جس طرھ وہاں منافقین سے جب اعراض کا حکم ہوا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت کردی گئی کہ جو تمہیں سلام کرے تم اس کے سلام کا جواب دو اور مقصود اس سے یہ تھا کہ مبادا پرجوش مسلمان ان لوگوں سے لام کلام ہی بند کردیں جن پر ان کو منافقت کا شبہ ہوجائے۔ اسی طرح یہاں اوپر والی آیات میں منافقین کے لیے چونکہ فی الدرک الاسفل من النار تک کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے اس بات کا اندیشہ تھا کہ مسلمان علانیہ سخت الفاظ میں منافقین کی برائیوں کا اظہار و اعلان شروع کردیں گے اس وجہ سے یہ ہدایت کردی گئی کہ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے۔ دوسروں کے لیے اللہ اس کو پسند نہیں فرماتا۔ جماعتی زندگی کی ایک اہم ہدایت : یہ بات چونکہ جماعتی زندگی کے نہایت اہم مسائل میں سے ہے اس وجہ سے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ جماعتی زندگی میں کسی گروہ کے اندر اگر کوئی ایسی برائی جڑ پکڑ رہی ہو یا پکڑ چکی ہو جو پوری جماعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو تو اس کا تدارک ضروری ہوتا ہے اور اس تدارک کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس برائی کی قباحت و شناعت، اس کے نتائج بد اور اس کے مرتکبین کے انجام کو اچھی طرح واضح کردیا جائے تاکہ جماعت کے افراد اس کے شر سے محفوظ رہیں لیکن ساتھ ہی اس امر کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ جماعت کے عام افراد، عام صیغہ سے کہی ہوئی بات کو مجرد اپنے اندازے، قیاس اور گمان کی بنا پر معین اشخاص پر منطبق کرنا نہ شروع کردیں۔ اس سے نہ صرف اس بات کا اندیشہ ہے کہ بہت سے بےگناہ اشخاص تمہمتوں کے ہدف بن جائیں گے بلکہ جماعت میں انتشار و فساد پیدا ہوجانے کا خطرہ بھی ہے۔ یہاں منافقین سے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں، دیکھ لیجیے، بالکل عام صیغے سے بیان ہوئی ہیں اور مقصود یہ ہے کہ جو لوگ یہ حرکتیں کررہے ہیں وہ اگر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو اصلاح کرلیں اور اگر وہ اصلاح نہ کریں تو کم از کم مسلمان اپنے آپ کو ان فتنوں سے محفوظ رکھیں۔ اس حد تک یہ چیز نہ صرف یہ کہ ٹھیک ہے بلکہ جماعتی بقا کے لیے ناگزیر ہے لیکن اگر یہی چیز یہ شکل اختیار کرلے کہ اس کو دلیل بنا کر عام افراد تعین کے ساتھ ایک دوسرے کو ہدف مطاعن بنانا شروع کردیں کہ تو منافق ہے، تو کافر ہوگیا اور فلاں فی الدرک الاسفل من النار کا سزاوار ہے تو پوری جماعت میں ایک طوفان برپا ہوجائے گا۔ اس فتنے کے سدباب کے لیے یہ ہدایت فرمادی گئی کہ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار و اعلان صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جس پر شخصاً ظلم ہوا ہے۔ اس صورت میں ظلم، ظالم اور مظلوم تینوں معین ہوں گے اور قانون اس کا مداوا کرسکے گا۔ جب تک یہ شکل نہ ہو بات عام صیغے ہی سے کہنی چاہئے جس طرح قرآن نے کہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے علم میں بھی جب اس طرح کی کوئی برائی آتی تو آپ ہمیشہ عام صیغے ہی سے اس پر لوگوں کو ملامت فرماتے۔ آپ کا عام انداز کلام یہ ہوتا۔ ما بال قوم یفعلون کذا وکذا، ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو اس اس طرح کے کام کرتے ہیں۔ البتہ جب کوئی متعین شخص کسی متعین جرم کے ساتھ سامنے آتا تو اس پر قانون کے مطابق گرفت فرماتے۔ صفات الٰہی کے ذکر سے مقصود ان کا لازم ہے : وکان اللہ سمیعا علیما بطور تنبیہ ہے یعنی کوئی شخص اگر اس ہدایت کے خلاف روش اختیار کرے گا تو وہ یاد رکھے کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ہم ایک سے زیادہ مقامات پر یہ اصول بیان کرچکے ہیں کہ اس طرح جب صفاتِ الٰہی کا حوالہ اتا ہے تو مقصود اس سے ان کا لازم ہوتا ہے یعنی جب خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو اس پر وہ گرفت بھی لازماً فرمائے گا۔ پسندیدہ روش کا بیان : " ان تبدوا خیرا الایۃ " خدا کو جو روش ناپسند ہے اس کو بیان فرمانے کے بعد یہ پسندیدہ روش کا بیان ہے۔ فرمایا کہ پسندیدہ روش یہ ہے کہ آدمی اچھی بات کا اظہار کرے، اچھا جذبہ دل میں پرورش کرے اور دوسروں کی برائیوں سے درگزر کرے۔ اس کے بعد اپنی دو صفتوں۔ عفو اور قدیر۔ کا حوالہ دیا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہورہا ہے کہ خدا ہر طرح کی قدرت رکھنے کے باوجود لوگوں کی برائیوں سے درگزر فرماتا ہے۔ اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس کی ان صفات کا عکس اس کے بندوں کے اندر بھی پایا جائے۔ آدمی طاقت رکھتا ہے کہ وہ کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دے سکے لیکن اس کے باوجود وہ درگزر کرجائے تو یہ عفو ہے۔
Ayahs 4:150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ اور اس کے رسولوں کا کفر کر رہے ہیں اور چاہتے ہی کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی راہ نکالیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

یہی لوگ درحقیقت پکے کافر ہیں اور ہم نے ان کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی ان کو ان کا اجر دے گا اور اللہ بخشنے وال اور رحم کرنے والا ہے

150۔ 152:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ اہل کتاب کٹر کافر ہیں : ان آیات میں اہل کتاب کی جو فرد قرار داد جرم بیان ہوئی ہے اس کے ہر جزو پر مفصل بحث پچھلی سورتوں میں گزرچکی ہے۔ البتہ ان کا موقع و محل وضاحت طلب ہے۔ اوپر آیت 144 کے تحت یہ بات گزر چکی ہے کہ لاتتخذوا الکفرین اولیاء میں کافرین سے مراد اہل کتاب ہیں۔ اگرچہ اہل کتاب کا کفر بالکل واضح ہے لیکن حیلہ جو طبیعتیں، جو ان سے ساز باز رکھنا چاہتی تھیں، اپنے رواطب ان سے کاٹنے کے لیے تیار نہ تھیں، وہ اپنے اس رویے کو جائز ثابت کرنے کے لیے یہ حیلہ شرعی تراشتی تھیں کہ اہل کتاب بہرحال اہل کتاب ہیں، ان کے اندر دین کے نقطۂ نظر سے کچھ خرابیاں ہوسکتی ہیں اور ہیں لیکن ان خرابیوں کی بنا پر ان کو بالکل کفار کے صف میں کھڑا کردینا اور ان کے ساتھ وہی معاملہ کرنا قرین انصاف نہیں ہے۔ قرآن نے انہی حیلہ بازوں کے اس فریب کا ان آیات میں پردہ چاک کیا ہے اور نہایت صراحت کے ساتھ بتایا ہے کہ پکے کافر تو درحقیقت یہ اہل کتاب ہی ہیں اس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں، جن کو خدا نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے ان میں سے جس کو چاہتے ہیں مانتے ہیں جس کو چاہتے ہیں نہیں مانتے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا پر ایمان اپنے شرائط پر لانا چاہتے ہیں نہ کہ خدا کے شرائط پر، حالانکہ ایمان صرف وہ معتبر ہے جو خدا کے شرائط پر ہو۔ اگر ایمان کی شرطیں یہی مقرر کریں گے اور رسولوں کا انتخاب یہ اپنی ہی صواب دید پر کریں گے تو پھر خدا کی خدائی کہاں رہی۔ پھر تو خدا کا منصب انہوں نے خود ہی سنبھال لیا۔ فرمایا کہ ان کے کٹر کافر ہونے میں ذرا شبہ نہیں اور ایسے برخود غلط اور مغرور کافروں کے لیے ہم نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔ مومن صرف وہ لوگ شمار ہوں گے جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائے، ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی۔ یہ لوگ بیشک اپنا اجر پائیں گے۔ خدا غفور رحیم ہے۔ اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ کفر صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص صریح لفظوں میں خدا اور رسولوں کا انکار کرے بلکہ یہ بھی کفر اور صریح کفر ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولوں کو تومانے لیکن اپنی شرائط پر۔
Ayahs 4:153–155

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

اہل کتاب تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار دو۔ یہ تعجب کی بات نہیں، موسیٰ سے تو انہوں نے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں تم اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو۔ تو ان کو ان کی اس زیادتی کے باعث کڑک نے آدبوچا۔ پھر نہایت واضح نشانیاں آچکنے کے بعد انہوں نے گوسالے کو معبود بنا لیا۔ ہم نے اس سے درگزر کیا اور موسیٰ کو ہم نے نہایت واضح حجت عطا کی۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کیا ان کے عہد کے ساتھ اور ہم نے ان کو کہا کہ دروازے میں داخل ہو سرجھکائے ہوئے اور ان کو کہا سبت کے معاملے میں حکم عدولی نہ کرنا۔ اور ہم نے ان سے ایک مضبوط عہد لیا

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پس بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنے عہد کو توڑا، بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، بوجہ اس کے کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا اور بوجہ اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو بند ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر کردی ہے تو وہ کم ہی ایمان لائیں گے

آگے کا مضمون۔ آیات 153۔ 162:۔ آگے اہل کتاب۔ یہود اور نصاری۔ کو تنبیہ ہے اور یہ تنبیہ اتنی سخت و شدید ہے کہ لفظ لفظ سے جوش غضب ابلا بڑ رہا ہے۔ پوری تقریر از ابتدا تا انتہا صرف فرد قرار داد جرائم پر مشتمل ہے اور کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اس قسم کے پرجوش اور پر غضب کلام میں عموماً خیر حذف ہوجاتی ہے، گویا متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ تفسیر آیات 153 تا 155: يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ ۚ وَاٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۔ وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۔ فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَقَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۭ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ ان آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے جن واقعات کا حوالہ ہے وہ بلا استثنا سب کے سب سورة بقرہ کی تفسیر میں زیر بحث آچکے ہیں۔ ملاحظہ وہ تفسیر آیات 47 تا 96۔ " بظلمہم " کا مفہوم : بظلمہم، یعنی اس کڑک کو انہوں نے اپنی بدبختی سے خود دعوت دی۔ یہ اللہ نے ان کے اوپر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ انہوں نے ایک ایسے تجربے کے لیے ضد کی جس کی وہ تاب نہیں لاسکتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس کی زد میں آگئے۔ " سلطان مبین " سے مراد : سلطان مبین سے مراد وہ حجت قاطع ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو معجزات کی شکل میں عطا فرمائی۔ یہ معجزات ایسے مسکت اور قاہر تھے کہ ان کے بعد کسی انصاف پسند کے لیے کسی تردد کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ رفع طور اور میثاق : وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِهِمْ۔ میں " ب " میرے نزدیک تلبس کے مفہوم میں ہے۔ بقرہ آیات 63 کے تحت ہم نے رفع طور کی حقیقت بھی واضح کی ہے اور اس کا مقصد بیان کیا ہے کہ اس قدرت قاہرہ کے اظہار سے مقصود بنی اسرائیل پر یہ واضح کرنا تھا کہ جس خدا سے یہ معاہدہ کر رہے ہو اس کے ہاتھ میں یہ پہاڑ کو ہلا دینے والی طاقت بھی ہے۔ اگر معاہدہ کرچکنے کے بعد اس کو توڑا تو یاد رکھو کہ اس عہد شکنی کی سزا سے تمہیں کوئی نہ بچا سکے گا۔ یہاں اسی حقیقت کو اس طرح مصور کیا ہے کہ خدا نے ان کے اوپر کوہ طور کو بھی اٹھایا اور اس کے ساتھ معاہدہ کو بھی کہ یہ معاہدہ ہے اور یہ پہاڑ، اگر اس معاہدے کی بےحرمتی ہوئی تو اسی پتھر سے تمہارا سر کچل دیا جائے گا۔ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے قول " قلوبنا غلف " کا مفہوم اور اس جملہ معترضۃ کی بلاغت اور اس کی حقیقت سورة بقرہ میں بیان ہوچکی ہے۔ بلاغت کا ایک اسلوب : اس پورے رکوع میں بلاغت کا یہ اسلوب قابل توجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جرائم کی ایک طویل فہرست تو سنا دی گئی ہے لیکن الفاظ میں یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ اس فہرست کے سنانے سے مدعا کیا ہے۔ جرائم کی فہرست کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ آگیا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی پھر ان کے جرائم کے بیان کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس کے بعد اقتضائے کلام سے ایک اور طویل جملہ معترضہ آگیا ہے اور اس کے بند ہوتے ہی پھر فہسرت جرائم شروع ہوگئی۔ یہ اسلوب بیان، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، متکلم کے زور بیان اور جوش، سامع کی ذہانت اور ہوش، دعوے کی قوت اور وضاحت اور فیصلہ کے مستغنی عن البیان ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ خطبائے عرب کے خطبات میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔ قرآن میں بھی آگے اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ اس طرح کے پرزور کلام کو ایک صاحب ذوق سامع سمجھ تو سکتا ہے لیکن اس کے زور اور اس کی بلاغت کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کلام کا مدعا اپنے الفاظ میں : مطلب یہ ہے کہ یہود تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ قرآن اور تمہاری رسالت پر اس وقت ایمان لائیں گے جب تم ان کے اوپر آسمان سے اس طرح ایک کتاب اتارو کہ وہ اس کو اترتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ تم ان کے اس مطالبے پر تعجب نہ کرو۔ یہ جن کے اسلاف کے خلف ہیں وہ اپنے پیغمبر سے اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر مطالبہ کرچکے ہیں۔ یہ تو صرف کتاب ہی اترتے دیکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے تو یہ مطالبہ کیا تھا کہ تم ہمیں خدا کو کھلم کھلا دکھاؤ، جب تک تم خدا کو نہ دکھاؤگے ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ تم سے ہم کلام ہوتا ہے اور تم اس کے فرستادہ ہو۔ چناچہ اس طرح انہوں نے خود اپنی شامت بلائی اور ان کو ایک کڑک نے آدبوچا۔ پھر اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ انہوں نے نہایت واضح معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ لیکن ہم نے ان سے درگزر کیا اور موسیٰ کو نہایت واضح حجت عطا کی تاکہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ ہم نے ان سے میثاق لینے کے موقع پر ان کے سروں پر طور کو لٹکا دیا، ان کو خیمہ عبادت میں فروتنی کے ساتھ داخل ہونے کی ہدایت کی، ان کو حکم دیا کہ سبت کی بےحرمتی نہ کرنا اور ان سب باتوں کے لیے ان سے نہایت مضبوط میثاق لیا لیکن انہوں نے کسی عہد کی بھی پروا نہ کی بلکہ ہر عہد کو توڑا، اللہ کی آیات کا انکار کیا، انبیاء کو بےگناہ قتل کیا، اور کہا کہ ہمارے دلوں کے دروازے تو تمہاری باتوں کے لیے بند ہیں۔ یہ بند نہیں ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر مہر کردی ہے تو یہ شاذ و نادر ہی ایمان لائیں گے۔ ان باتوں کے حوالدہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جن کی تاریخ یہ ہے، جن کا قومی مزاج یہ ہے، ان سے کس خیر کی امید کی جاسکتی ہے ؟ ان کے ان مسلسل جرائم کے سبب سے، جن کا سلسلہ اسلاف سے لے کر اخلاف تک کہیں ٹوٹا نہیں ہے، خدا نے ان پر لعنت کردی ہے، اب کوئی سا معجزہ بھی تم ان کو دکھا دو ، معجزات دیکھنے کی تونس باقی ہی رہے گی، ایمان کی سعادت ان کو ہرگز حاصل نہیں ہوگی۔
Ayahs 4:156–158

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتان عظیم لگانے

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور بہ سبب ان کے اس دعوے کے کہ ہم نے مسیح بن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو انہوں نے اس کو قتل کیا، نہ سولی دی بلکہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کردیا گیا اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں وہ اس کے معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، ان کو اس بارے میں کوئی قطعی علم نہیں بس گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ قتل اس کو انہوں نے ہرگز نہیں کیا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکیم ہے

تفسیر آیات 156۔ 158: وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا۔ وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۔ " وبکفرہم " کا عطف : وبکفرہم کا عطف اوپر کے سلسلہ کلام پر ہے۔ بیچ میں جملہ معترضہ آگیا تھا اس کے ختم ہونے کے بعد پھر فہرست جرائم شروع ہوگئی : حضرت مریم پر بہتان کی نوعیت : " وقولہم علی مریم " میں جس بہتان عظیم کا ذکر ہے اس کے متعلق سورة آل عمران کی تفسیر میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ یہود نے یہ الزام سیدنا مسیح کے دور میں لگانے کی جرات نہیں کی۔ یہ تمام تر بعد کی ایجادات میں سے ہے۔ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ، رسول اللہ کا لفظ ہمارے نزدیک یہود کے قول کا جزو نہیں ہے بلکہ ان کے جرم کی سنگینی کو واضح تر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سیدنا مسیح کے مرتبہ کو واضح فرما دیا ہے۔ واقعہ قتل مسیح کی تردید کا مقصد : وما قتلوہ سے عزیزا حکیما تک جملہ معترضہ ہے۔ اس میں یہود کے دعوائے قتل مسیح کی فوری تردید کردی گئی ہے۔ اس فوری تردید سے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کے رسول اس کی حفاظرت میں ہوتے ہیں، ان کے خلاف اس کے دشمنوں کی چالیں خدا کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ اس وجہ سے یہود کا یہ دعوی کہ انہوں نے ان کو قتل کیا، یا سولی دی بالکل بےبنیاد ہے۔ وہ اپنی اس شرارت میں بالکل ناکام رہے۔ البتہ ایک جھوٹے دعوے کا بار اپنے سر لے کر ہمیشہ کے لیے مبغوض و ملعون بن گئے۔ دوسرا یہ کہ نہیں کہیں مسیح کے قتل کا واقعہ پیش آیا نہ سولی کا لیکن پال کے متبع نصاری نے اس فرضی افسانے کو لے کر اس پر ایک پوری دیومالا تصنیف کر ڈالی اور اس طرح پرائے شگون پر خود اپنی ناک کٹوا بیٹھے۔ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ کا مفہوم : وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ، یعنی یہود جو کچھ کرنا چاہتے تھے وہ تو وہ کر نہ پائے البتہ صورت حالات ایسی بنا دی گئی کہ وہ یہی سمجھے انہوں نے مسیح کو سولی دلوادی ہے۔ یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ اس کی شکل کیا ہوئی۔ جس واقعہ کے بارے میں خود ان لوگوں کے درمیان، جیسسا کہ انجیلوں سے ثابت ہے، شدید اختلاف ہو جو اس وقت موجود تھے اب دوہزار سال کے بعد اس کی شکل متعین کرنے کی کوشش کرنا محض اٹکل کے تیر تکے چلانا ہے۔ قطعی بات بس اتنی ہی ہے جو قرآن نے بتائی ہے کہ حضرت مسیح کو یہود نہ تو قتل کرسکے نہ سولی دے سکے بلکہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کردیا گیا۔ واقعہ کی نوعیت انجیلوں کی روشنی میں : واقعے کی جو روداد انجیلوں میں موجود ہے اس سے چند باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس وقت ملک پر رومیوں کی حکومت تھی اور وہی تمام سیاسی و تعزیری اختیارات کے مالک تھے۔ دوسری یہ کہ رومی حکام اور پولیس کو نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح کو سولی دینے سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ رومی حاکم پیلاطوس اور دوسرے حکام اس ظلم کی ذمہ داری کسی طرح بھی اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تیسری یہ کہ گرفتاری اور سزا کے وقت کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ ایسے ہنگامہ خیز ہیں کہ ایسے حالات کے اندر عوام کو ہر بات باور کرائی جاسکتی تھی اور وہ بڑی آسانی سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ مان سکتے تھے۔ چوتھی یہ کہ سولی کے مزعومہ واقعے کے بعد بھی انجیلوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کے شاگردوں نے ان کو دیکھا۔ پانچویں یہ کہ سیدنا مسیح کے وعظوں، ان کے معجزوں اور ان کے کارناموں کی تو بڑی دھوم تھی لیکن اس وقت تک صورۃً نہ وہ عوام ہی میں اچھی طرح متعارف تھے اور نہ رومی حکام اور ان کی پولیس کے آدمی ہی ان کو پہچانتے تھے۔ چھٹی یہ کہ خود نصاری میں بھی ایک جماعت شروع سے اس بات کی قائل رہی ہے کہ سولی حضرت مسیح کو نہیں دی گئی بلکہ ایک اور ہی شخص کو دی گئی لیکن مشہور یہ کردیا گیا کہ انہی کو سولی دی گئی۔ ان تمام باتوں کے دلائل خود انجیلوں میں موجود ہیں اور نہایت آسانی سے ہم ان کو جمع کرسکتے ہیں لیکن اس سے بس اتنی ہی بات ثابت ہوگی جو قرآن نے بتادی ہے کہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کردیا گیا۔ رہا یہ سوال کہ اس گھپلے کی شکل کیا ہوئی تو اس باب میں جو کچھ بھی کہا جائے گا اس کی حیثیت ظن و گمان سے کچھ زیادہ نہیں ہے اور ہم گمان کے پیچھے پڑنا پسند نہیں کرتے۔ مسیحی پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھے : وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ سے مراد نصاری ہیں۔ چناچہ واقعہ یہ ہے کہ نصاری میں نفس واقعے سے متعلق بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، بڑا اختلاف ہے اور اس پر جو دیومالا انہوں نے تصنیف کی ہے اس میں بھی بڑے اختلافات ہیں اور یہ اختلاف قدرتی نتیجہ ہے اس بات کا کہ انہوں نے اپنے سارے علم کلام کی بنیاد حقیقت کے بجائے محض ظن پر رکھی اور اس طرح جس سولی سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح کو محفوظ رکھا نصاری نے اس پر خود چڑھ کر خودکشی کرلی۔ رفع سے مجرد ترقی درجات لینا عربیت کے خلاف : بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۔ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ کے ٹکڑے پر ہم سورة آل عمران کی تفسیر میں بحچ کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس سے مجرد ترقی درجات و مراتب لینا عربیت کے خلاف ہے۔ عزیز و حکیم کی صفات کے حوالے سے مقصود یہاں یہ ہے کہ خدا جب کسی کام کو کرنا چاہے تو وہ اپنے ارادے پر غالب ہے۔ اس کے لیے کوئی راہ بھی بند نہیں ہے۔ وہ جہاں سے چاہے اپنی تدبیر و حکمت سے راہ کھول لیتا ہے۔ اصل سلسلہ کلام : یہ امر ملحوظ رہے کہ اصل مسئلہ زیر بحث ان آیات میں حضرت مسیح کے قتل یا سولی کی تردید یا ان کے ردوقبول کا نہیں ہے۔ یہ بات، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، محض ایک ضمنی بات کے طور پر، سلسلہ کلام کے بیچ میں آگئی ہے۔ اصل سلسلہ کلام جو یسئلک اھل الکتاب سے چل رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اہل کتاب قرآن اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان نہ لانے کے لیے جو بہانے بنا رہے ہیں وہ سب بہانے ان کی اس خوئے بد کے کرشمے ہیں جو ابتدا ہی سے ان کی سرشت میں داخل ہے۔ انہوں نے ایک سے ایک بڑھ کر ایک معجزے دیکھے لیکن کوئی معجزہ ان کو مطمئن نہ کرسکا۔ انہوں نے ہمیشہ عہد شکنی کی، ہمیشہ تکذیب کی اور ہر حق کا مقابلہ ضد اور مکابرت، تکبر اور سرکشی سے کیا۔ یہاں تک کہ مریم پر بہتان لگایا اور خدا کے رسول مسیح ابن مریم کے قتل کرنے کے خود مدعی ہیں۔۔ جب بات یہاں تک پہنچی تو ضمنی طور پر قتل اور سولی کے واقعہ کی تردید فرما دی اور ساتھ ہی نصاری کو بھی تنبیہ فرما دی کہ انہوں نے بھی بےسمجھے بوجھے اسی جھوٹ کو سچ مان کر اس پر پورے علم کلام کا محل تعمیر کردیا۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں ہے جو اس کی موت سے پہلے اس کا یقین نہ کرلے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا

وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا۔ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ سے مراد یہود و نصاری دونوں ہیں :۔ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ کا اسلوب بیان تعمیم کو ظاہر کررہا ہے، یعنی یہ یہود و نصاری دونوں گروہوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ اوپر سے ذکر یہود ہی کا چلا آرہا تھا لیکن چونکہ جملہ معترضہ میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نصاری کی حماقت کا بھی ذکر آگیا تھا اس وجہ سے ان کے حوالے کے لیے بھی تقریب پیدا ہوگئی اور یہاں جو بات بیان ہوئی ہے وہ دونوں گروہوں سے بحیثیت گروہ کے متعلق ہے، بحیثیت افراد کے نہیں۔ " ایمان " کا لفظ یقین کرنے کے معنی میں : لیؤمنن میں لام، تاکید اور قسم کا ہے اور ایمان کا لفظ یہاں یقین کرنے کے معنی میں ہے۔ دین میں معتبر ایمان صرف وہ ہے جو یقین، تصدیق اور اقرار تینوں اجزا پر مشتمل ہو۔ اس کے علاوہ ایک وہ ایمان ہے جس کے اندر یقین اور تصدیق کے اجزا تو نہیں پائے جاتے لیکن اظہار و اقرار کا جزو پایا جاتا ہے، یہ منافقین کا ایمان ہے۔ اسی طرح ایک وہ ایمان بھی ہے جس کے اندر یقین تو پایا جاتا ہے لیکن اس کے اندر تصدیق اور اقرار کے اجزا مفقود ہوتے ہیں یہ متکبرین اور متمردین کا ایمان ہے۔ ان پر حق کا حق ہونا تو بالکل واضح ہوجاتا ہے لیکن وہ اپنی رعونت اور شرارت کی وجہ سے اس کی تصدیق و اقرار سے گریز کرتے ہیں اور اپنی اس شرارت کو مختلف بہانوں کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورة نمل میں اسی گروہ کا ذکر ہوا ہے۔ وجحدو بھا واستیقنتہا انفسہم ظلما وعلوا : اور ان لوگوں نے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا۔ اسی کے تحت وہ ایمان بھی ہے جو غرق ہوتے وقت فرعون لایا تھا۔ ہرچند اس کے ایمان میں ایمان کے تمام اجزا موجود تھے لیکن جو ایمان پانی سر سے گزرچکنے کے بعد لایا جائے اس ایمان کا دین میں کوئی درجہ نہیں ہے۔ آیت زیر بحث میں ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ایمان سے مراد یقین ہے۔ " لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ " میں ضمیر کا مرجع : لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ اور قبل موتہ میں پہلی ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک قرآن مجید ہے اور دوسری کا مرجع آنحضرت ﷺ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آج یہ اہل کتاب قرآن اور نبی کی صداقت تسلیم کرنے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ وہ آسمان سے کتاب اترتی ہوئی دکھائیں تب وہ یقین کریں گے کہ قرآن فی الواقع اللہ کی کتاب ہے اور محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور اس حیلے سے وہ ان تمام عقلی، نقلی فطری اور تاریخی دلائل کو نظر انداز کر رہے ہیں جو قرآن اور پیغمبر کی صداقت کے ثبوت میں موجود ہیں لیکن وہ وقت بھی دور نہیں ہے جب یہ یہود اور نصاری قرآن اور پیغمبر کی کہی ہوئی ایک ایک بات کو واقعات کی شکل میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور قرآن ان کے لیے جس رسوائی و نامرادی اور جس ذلت و شکست کی خبر دے رہا ہے وہ پیغمبر کے دنیا سے اٹھنے سے پہلے پہلے اس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی کہ اس کو جھٹلانا ان کے لیے ممکن نہیں رہے گا اگرچہ ایمان کی سعادت ان کو یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوگی۔ یہ مجرد خبر نہیں بلکہ تہدید ہے : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ جملہ قسمیہ ہے اس وجہ سے اس کو مجرد خبر یہ جملہ کے مفہوم میں لینا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا صرف یہ مفہوم نہیں ہے کہ پیغمبر کے دنیا سے اٹھنے سے پہلے پہلے یہ لوگ قرآن کا یقین کرلیں گے بلکہ اس کے اندر تہدید اور وعید بھی ہے۔ یعنی آج جو باتیں دلیل سے انہیں سمجھائی جا رہی ہیں لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں کل واقعات کی شکل میں جب ان کے سامنے آجائیں گی تب یہ کیا کریں گے، اس وقت تو انہیں ماننی ہی پڑیں گی اگرچہ وہ زبانوں سے لاکھ انکار کرتے رہیں۔ عکرمہ کی رائے : یہاں یہ بات یاد رکھنئے کی ہے کہ سلف میں سے عکرمہ پہلی ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو مانتے ہیں لیکن عام طور پر لاگوں نے اس بعد کے سبب سے جو ایک طویل جملہ معترضہ نے پیدا کردیا ہے، اس قول کو اہمیت نہیں دی، حالانکہ جملہ معترضہ سے جو بعد پیدا ہوتا ہے وہ قابل لحاظ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اس سے صرفِ نظر کر کے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی شہادت دنیا اور آخرت دونوں میں : وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا، یہ اس شہادت کا ذکر ہے جو نبی ﷺ قیامت کے دن ان تمام لوگوں پر دیں گے جن پر آپ نے اس دنیا میں دین حق کی شہادت دی ہے۔ اس شہادت کا ذکر اسی سورة کی آیت 41 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم نے وضاحت کے ساتھ اس پر بحث کی ہے۔ یہ شہادت اگرچہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں پر دیں گے، چناچہ حضرت مسیح جو شہادت دیں گے اس کا ذکر بھی مائدہ کی آیات 116۔ 17 میں ہوا ہے لیکن آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ نے یہود، نصاری اور اہل عرب سب پر یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ کا اصل دین کیا ہے اس وجہ سے آپ ہی کا یہ منصب ہے کہ آپ قیامت کے دن یہ بتائیں کہ آپ نے لوگوں کو اللہ کی طرف سے کیا بتایا اور آپ کی اسی شہادت سے لوگوں پر حجت قائم ہوگی۔ یہ جملہ بھی ہمارے نزدیک اسی تہدید ووعید کا حامل ہے جس کا حامل پہلا جملہ ہے۔ یعنی پیغمبر ﷺ کی صداقت وحقانیت اس دنیا میں بھی ان اہل کتاب پر اس طرح واضح ہوجائے گی کہ ان کے لیے مجالِ انکار باقی نہ رہے گی اور آخرت میں بھی آپ شہادت دیں گے کہ یہود و نصاری کی ایک ایک ضلالت پر آپ نے ان کو اچھی طرح متنبہ کردیا تھا، ان تنبیہات کے بعد بھی اگر یہ اپنی انہی گمراہیوں میں پڑے رہے تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے، ان پر حجت تمام ہوچکی تھی۔